صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)
شخصیات اسلاف واخلاف

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)
مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں بہار آئی یعنی مبلغ دین خدا محافظ ناموس مصطفی گلِ سر سبدِ جامعۃ الرضا مفتی محمد سلمان ازہری حفظہ اللہ جل و علا کو تقریبا آٹھ دس ماہ بعد رہائی ملی جس سے ہر طرف خوشیوں کی لہر دوڑ گئی مرجھائے ہوئے چہرے گلابوں کی طرح کھل اٹھے ہر طرف عجب ہی رنگت چھائی ہوئی تھی جس کی نقشہ کشی حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی پورنوی غفر لہ المولی القدیر نے اس طرح سے کی
گلشن و گلزار کی پھر تازہ رنگت ہو گئی
چاند نکلا چاندنی سے دور ظلمت ہو گئی
شکر ہے اللہ تعالیٰ کا جسیم قادری
مفتی سلماں شیر دوراں کی ضمانت ہو گئی
جس پر بعض حضرات نے بطور طعن و تشنیع کہا کہ یہ شیر پھر دھاڑے گا اور اندر چلا جائے گا جس سے دلی تکلیف ہوئی اور میں گھنٹوں سوچتا رہا کہ سنی کہلانے والوں میں بھی اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے لوگ موجود ہیں کیا انھیں پتہ نہیں؟
دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
جس کے دل میں عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں ہو جس کے وجود میں حب نبی کا رنگ چڑھا ہو پھر وہ کسی اور رنگ کی طرف نظر نہیں کرتا کیونکہ
اُنہیں کی بُو مایۂ سمن ہے اُنہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنہیں سے گلشن مہک رہے ہیں اُنہیں کی رنگت گلاب میں ہے
اس عشق کا مزہ اسی کو ملے گا جس نے اپنی زندگی حضور کے لیے وقف کر دی ہو بیوی اولاد ماں باپ سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کو فوقیت دی ہو تو اس کی صدا یہی ہوتی ہے
جلی جلی بُو سے اُس کی پیدا ہے سوزش عشقِ چشم والا
کبابِ آہُو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے
جو لذت آشنا نہیں ہے عشق سرکار میں سرشار نہیں ہے مدینے والے کی محبت میں گرفتار نہیں ہے وہی کہتا ہے کہ شیر دھاڑے گا پھر اندر چلا جائے گا چلا جائے گا میں کہتا ہوں اگر چلا بھی گیا تو کیا ہوا یہ جان تو آقا کی محبت میں قربان ہونے کے لیے ہمیشہ تیار ہے بلکہ مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کے عشق کی زبان میں سنو
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں
ترے نام پر سب کو ورا کروں میں
نیز حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی زبان فیض ترجمان سے یوں سنو
کروں تیرے نام پہ جاں فدانہ بس ایک جاں دو جہاں فِدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروروں جہاں نہیں
عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک بار نہیں بلکہ ان کے عشق میں ہزار بار بھی جیل جانے کو تیار ہیں کیونکہ
زندگی جینا جسے ہے وہ جیے شوق سے پر
ہم تو پیدا ہی ہوئے آپ پہ مرنے کے لیے
پھر کس چیز کا خوف کس چیز کا ڈر ہمیں اپنی جان سے بھی پیاری ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہے
کسی کو دوستی پیاری کسی کو زندگی پیاری
خدا کا شکر ہے ہم کو ہے ناموس نبی پیاری
احقاق حقائق کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا یہ تو انبیاء کرام و اولیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنتیں ہیں
حضرت یوسف علیہ السلام اور قید خانہ ________
حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں قرآن مقدس سورۂ یوسف آیت نمبر ٣٣_٣٤_٣٥ میں ہے
یوسف نے عرض کی اے میرے رب مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا۔تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا بیشک وہی ہے سنتا جانتا ۔پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں۔ [کنز الایمان]
حضرت یوسف علیہ السلام سات سال یا اس سے زائد قید میں رہے پھر باہر تشریف لائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے قید و بند کی صعوبتیں کیوں برداشت کیں تو جواب یہی ہے کہ صرف رضائے الٰہی کے لیے
اس سے ثابت ہوتا ہے رضائے الٰہی کے لیے قید و بند اختیار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہے اسی لیے جب تک جان میں جان ہے ہے تو ناموس رسالت پر پہرا دیں گے اللہ کی رضا کے لیے جیں گے ایک بار کیا ہزار بار بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالیں گے تو جانے کے لیے تیار ہیں یہی
عاشقوں کی آواز صدائے دلنواز ہے
ناموس رسالت کی حفاظت کے واسطے
ہم جام شہادت کا بصد شان پییں گے
حضرت امام مالک اور حق گوئی_______
حق گوئی و بے با کی امام مالک رضی اللہ عنہ کا طرۂ امتیاز تھا، وہ جابر امرا اور خلفا کے رو برو حق بات کہنے سے باز نہ رہتے، بلکہ ان لوگوں سے ملنے کا بنیادی مقصد ان کی تنبیہ اور ان کے سامنے کلمۂ حق کا اعلان کرنا ہوتا ، ان سے پوچھا گیا، آپ اہل دول سے کیوں ملتے ہیں ، تو فرمایا کہ يرحمك الله فاين التكلم بالحق “ ان کے یہاں نہیں تو کہاں حق بات کہی جائے گی ؟ حق گوئی کے نتیجے میں آپ پر شاہی عتاب ہوا، مگر حق و صداقت کی راہ میں آپ کے قدموں میں لغزش نہ آئی، امام صاحب کے حاسدوں نے ایک مرتبہ ابو جعفر منصور کے پاس جا کر کہا، کہ مالک ! آپ لوگوں کی بیعت کو جائز نہیں سمجھتے ہیں اور عباسی خلافت کے منکر ہیں، یہ سن کر ابو جعفر منصور غصہ ہوا اور امام صاحب کے کپڑے اتروا کر کوڑے مارے اس میں آپ کا ہا تھ اکھڑ گیا اور بڑی زیادتی کی۔ (ابن خلکان ج ۲ ص ۳۰۱)
اتنے ظلم و ستم کے باوجود آپ خوف نہیں کھائے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے دوبارہ سزا دی جائے گی لہذا حق گوئی سے باز آجاتے ہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا
مرد حق باطل کے آگے مات کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں
حضرت امام احمد بن حنبل اور حق گوئی______
کتب سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اسحاق بن ابراہیم نے مامون کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، فقہا و محدثین اور اصحاب فتوی کو بلا کر دھمکی دی، کہ اگر انہوں نے خلق قرآن کے عقیدے کو نہ مانا تو انہیں شدید آلام و مصائب سے دوچار ہونا پڑے گا، چنانچہ سب نے بلا روک ٹوک یہ باطل نظریہ تسلیم کر لیا اور اعلانیہ خلق قرآن کے قائل ہو گئے۔
لیکن اس کڑی آزمائش میں صرف چار علمی شخصیتیں اپنے موقف پر جمی رہیں وہ حکم خداوندی پر قانع رہے، ان کے پایۂ ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی ، وہ چار بزرگ یہ تھے (۱) امام احمد بن خلیل (۲) محمد بن نوح (۳) قواریری (۴) سجادہ۔
ان چاروں کو بیڑیاں پہنا کر قید خانے میں بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے رات گزاری، جب صبح ہوئی، تو سجادہ نے معتزلہ کی دعوت پر لبیک کہہ دی اور وہ بیڑیوں سے آزاد کر دیا گیا، باقی اسی طرح مقید رہے، اگلے دن ان سے خلق قرآن کے بارے میں دریافت کیا گیا، قواریری کا عقیدہ متزلزل ہو گیا اور اس نے نظریۂ خلق قرآن قبول کر لیا، اسے بھی آزادی مل گئی ، اب صرف دو مردان حق قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے لیے باقی رہ گئے، جنہیں طوق و سلاسل میں جکڑ کر مامون کے پاس روانہ کیا گیا، جو اس وقت طرطوس میں مقیم تھا۔
یہ لوگ کوفہ کے علاقے میں تھے، تو بدووں کا ایک غلام جابر بن عامر ان کے پاس آیا اور اس نے سلام کیا اور کہنے لگا، آپ ارباب اقتدار کے پاس جانے والے ہیں، ان کے لیے منحوس نہ بنیں، آج آپ مسلمانوں کے سردار ہیں اور جس بات کی طرف آپ کو دعوت دیتے ہیں، اس کا جواب دینے سے بچیں، ورنہ قیامت کے دن آپ ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور اگر آپ اللہ سے محبت کرتے ہیں، تو آپ جس حالت میں ہیں، اس پر صبر کیجیے، آپ کے بعد جنت کے درمیان صرف آپ کا قتل ہونا ہی باقی ہے اور اگر آپ زندہ رہے، تو قابل تعریف حالت میں زندہ رہیں گے۔
(ابن کثیر ج ۱۰ ص ۸۸۵)
امام احمد کا بیان ہے، کہ اس غلام کی گفتگو نے میرے عقیدے اور عزم کو قوت عطا کی ، آپ کہتے ہیں:
سمعت كلمة منذ وقعت في هذا الأمر الذي وقعت فيه اقوى من كلمة اعرابي كلمنى فيها في رحبة طوق قال لي يا احمد ان يقتلك الحق مت شهيدا وان عشت عشت حميدا قال فقوی قلبی - (مناقب ص (۳۹)
جب سے میں اس آزمائش میں مبتلا کیا گیا اس اعرابی کی گفتگو سے زیادہ قوت دینے والی کوئی بات نہیں سنی ، جس نے مجھ سے اسیری کی حالت میں کہا ، احمد ! اگر حق پر قتل کیے جاؤ گے تو شہید ہو گے اور اگر زندہ رہے تو تمہاری ستائش کی جائے گی احمد کہتے ہیں اس بات نے میرے دل کو مضبوط کر دیا۔ راہ حق کے دونوں با عظمت قیدی جب خلیفہ کی قیام گاہ سے ایک دن کی مسافت پر تھے، تو ایک خادم اپنے آنسو پوچھتے ہوئے حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو عبد اللہ ! مجھ پر یہ بات گراں گزرتی ہے، کہ مامون نے ایک تلوار سونتی ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں سونتی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت داری کی قسم کھا کر کہتا ہے، کہ احمد بن حنبل نے اگر خلق قرآن کے قول کو قبول نہ کیا تو اسے اپنی تلوار سے قتل کر دے گا۔
امام صاحب اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا، اے میرے اللہ ! تیرے حلم نے اس فاجر کو فریب دیا ہے، حتی کہ اس نے تیرے اولیا کے ضرب و قتل پر جرات کی ہے، اے اللہ ! اگر قرآن جو تیرا کلام ہے، غیر مخلوق ہے، تو ہمیں اس کی مشقت سے کفایت کر۔
رات کے آخری پہر خبر آئی، کہ مامون مر گیا اور معتصم کو خلیفہ بنا دیا گیا۔
(ابن کثیر ج ۱۰ ص ۸۸۹ ماخوز از سیرت امام احمد بن حنبل)
یہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کی ذات مبارکہ ہے کہ قتل کی دھمکی سننے کے باوجود حق گوئی سے باز نہ آئے بلکہ دنیا کو بتا دیا
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
حضور تاج الشریعہ کی حق گوئی____
تیسری مرتبہ١٩٨٦ء/١٤٠٦ھ حج کے موقع پرسعودی حکومت نے حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کو بیجا گرفتار کرلیا اس موقع پر آپ نے حق گوئی و بے باکی کا جو مظاہرہ کیا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ سعودی مظالم کے متعلق حضور تاج الشریعہ خود فرماتے ہیں:
مختصر یہ کہ مسلسل سوالات کے باوجود میرا جرم میرے بار بار پوچھنے کے بعد بھی مجھے نہ بتایا بلکہ یہی کہتے رہے کہ ”میرا معاملہ اہمیت نہیں رکھتا۔” لیکن اس کے باوجود میری رہائی میں تاخیر کی گئی اور بغیر اظہار جرم مجھے مدینہ منورہ کی حاضری سے موقوف رکھا اور١١/ دنوں کے بعد جب مجھے جدہ روانہ کیا گیا تو میرے ہاتھوں میں جدہ ائیر پورٹ تک ہتھکڑی پہنائے رکھی اور راستے میں نماز ظہر کے لیے موقع بھی نہ دیا گیا اس وجہ سے میری نماز ظہر قضاہو گئی۔
[مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ :١٥٠/جلد :١]
اسی کی عکاسی کرتے ہوئے سرکار تاج الشریعہ نے فرمایا ۔
نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستم گر نے
ستم کیسا ہوا بلبل پہ یہ قید ستم گر میں
ستم سے اپنے مٹ جاؤ گے تم خود اے ستمگارو
سنو ہم کہہ رہے ہیں بے خطر دورِ ستم گر میں
مدینے سے رہیں خود دور اس کو روکنے والے
مدینے میں خود اختر ہے مدینہ چشم اختر میں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اسی مرد خدا قلندر بریلوی سیدنا سندنا مرشدنا سرکار تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کے تلمیذ رشید مفتی سلمان ازہری دام ظلہ العالی کو بغیر جرم کے تقریبا آٹھ دس مہینے تک جیل میں رکھا بالآخر بحمدہ تعالیٰ ١٤ ربیع الآخر ١٤٤٦ھ بمطابق ١٨ اکتوبر ٢٠٢٤ء بروز جمعہ ضمانت ملی اور ١٥ ربیع الآخر اپنے گھر تشریف لائے جس میں لوگوں نے اسقبالیہ نعرہ لگاتے ہوئے کہا شیر آیا شیر آیا تو اس کے جواب میں مفتی سلمان ازہری صاحب نے فرمایا شور بھی آئے گا جو اس بات کی طرف مشیر ہے کہ یہ شیر پھر دھاڑے گا اور اگر ایسی آزمائشیں لاکھوں بھی آ جائیں تو سب کو ہنستے ہوئے گلے سے لگا لے گا کیونکہ
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
دار ؤ سکندر سے وہ مرد فقیر اولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)
مہینوں بعد امید کی کرن پھوٹی غنچۂ دل کھل اٹھا پژمردہ چمن شاداب ہوا کشت ویراں میں بہار آئی یعنی مبلغ دین خدا محافظ ناموس مصطفی گلِ سر سبدِ جامعۃ الرضا مفتی محمد سلمان ازہری حفظہ اللہ جل و علا کو تقریبا آٹھ دس ماہ بعد رہائی ملی جس سے ہر طرف خوشیوں کی لہر دوڑ گئی مرجھائے ہوئے چہرے گلابوں کی طرح کھل اٹھے ہر طرف عجب ہی رنگت چھائی ہوئی تھی جس کی نقشہ کشی حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی پورنوی غفر لہ المولی القدیر نے اس طرح سے کی
گلشن و گلزار کی پھر تازہ رنگت ہو گئی
چاند نکلا چاندنی سے دور ظلمت ہو گئی
شکر ہے اللہ تعالیٰ کا جسیم قادری
مفتی سلماں شیر دوراں کی ضمانت ہو گئی
جس پر بعض حضرات نے بطور طعن و تشنیع کہا کہ یہ شیر پھر دھاڑے گا اور اندر چلا جائے گا جس سے دلی تکلیف ہوئی اور میں گھنٹوں سوچتا رہا کہ سنی کہلانے والوں میں بھی اس طرح کی ذہنیت رکھنے والے لوگ موجود ہیں کیا انھیں پتہ نہیں؟
دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
جس کے دل میں عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں ہو جس کے وجود میں حب نبی کا رنگ چڑھا ہو پھر وہ کسی اور رنگ کی طرف نظر نہیں کرتا کیونکہ
اُنہیں کی بُو مایۂ سمن ہے اُنہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
اُنہیں سے گلشن مہک رہے ہیں اُنہیں کی رنگت گلاب میں ہے
اس عشق کا مزہ اسی کو ملے گا جس نے اپنی زندگی حضور کے لیے وقف کر دی ہو بیوی اولاد ماں باپ سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کو فوقیت دی ہو تو اس کی صدا یہی ہوتی ہے
جلی جلی بُو سے اُس کی پیدا ہے سوزش عشقِ چشم والا
کبابِ آہُو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے
جو لذت آشنا نہیں ہے عشق سرکار میں سرشار نہیں ہے مدینے والے کی محبت میں گرفتار نہیں ہے وہی کہتا ہے کہ شیر دھاڑے گا پھر اندر چلا جائے گا چلا جائے گا میں کہتا ہوں اگر چلا بھی گیا تو کیا ہوا یہ جان تو آقا کی محبت میں قربان ہونے کے لیے ہمیشہ تیار ہے بلکہ مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کے عشق کی زبان میں سنو
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں
ترے نام پر سب کو ورا کروں میں
نیز حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی زبان فیض ترجمان سے یوں سنو
کروں تیرے نام پہ جاں فدانہ بس ایک جاں دو جہاں فِدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروروں جہاں نہیں
عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک بار نہیں بلکہ ان کے عشق میں ہزار بار بھی جیل جانے کو تیار ہیں کیونکہ
زندگی جینا جسے ہے وہ جیے شوق سے پر
ہم تو پیدا ہی ہوئے آپ پہ مرنے کے لیے
پھر کس چیز کا خوف کس چیز کا ڈر ہمیں اپنی جان سے بھی پیاری ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہے
کسی کو دوستی پیاری کسی کو زندگی پیاری
خدا کا شکر ہے ہم کو ہے ناموس نبی پیاری
احقاق حقائق کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا یہ تو انبیاء کرام و اولیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنتیں ہیں
حضرت یوسف علیہ السلام اور قید خانہ ________
حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں قرآن مقدس سورۂ یوسف آیت نمبر ٣٣_٣٤_٣٥ میں ہے
یوسف نے عرض کی اے میرے رب مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا۔تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا بیشک وہی ہے سنتا جانتا ۔پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں۔ [کنز الایمان]
حضرت یوسف علیہ السلام سات سال یا اس سے زائد قید میں رہے پھر باہر تشریف لائے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے قید و بند کی صعوبتیں کیوں برداشت کیں تو جواب یہی ہے کہ صرف رضائے الٰہی کے لیے
اس سے ثابت ہوتا ہے رضائے الٰہی کے لیے قید و بند اختیار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہے اسی لیے جب تک جان میں جان ہے ہے تو ناموس رسالت پر پہرا دیں گے اللہ کی رضا کے لیے جیں گے ایک بار کیا ہزار بار بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالیں گے تو جانے کے لیے تیار ہیں یہی
عاشقوں کی آواز صدائے دلنواز ہے
ناموس رسالت کی حفاظت کے واسطے
ہم جام شہادت کا بصد شان پییں گے
حضرت امام مالک اور حق گوئی_______
حق گوئی و بے با کی امام مالک رضی اللہ عنہ کا طرۂ امتیاز تھا، وہ جابر امرا اور خلفا کے رو برو حق بات کہنے سے باز نہ رہتے، بلکہ ان لوگوں سے ملنے کا بنیادی مقصد ان کی تنبیہ اور ان کے سامنے کلمۂ حق کا اعلان کرنا ہوتا ، ان سے پوچھا گیا، آپ اہل دول سے کیوں ملتے ہیں ، تو فرمایا کہ يرحمك الله فاين التكلم بالحق “ ان کے یہاں نہیں تو کہاں حق بات کہی جائے گی ؟ حق گوئی کے نتیجے میں آپ پر شاہی عتاب ہوا، مگر حق و صداقت کی راہ میں آپ کے قدموں میں لغزش نہ آئی، امام صاحب کے حاسدوں نے ایک مرتبہ ابو جعفر منصور کے پاس جا کر کہا، کہ مالک ! آپ لوگوں کی بیعت کو جائز نہیں سمجھتے ہیں اور عباسی خلافت کے منکر ہیں، یہ سن کر ابو جعفر منصور غصہ ہوا اور امام صاحب کے کپڑے اتروا کر کوڑے مارے اس میں آپ کا ہا تھ اکھڑ گیا اور بڑی زیادتی کی۔ (ابن خلکان ج ۲ ص ۳۰۱)
اتنے ظلم و ستم کے باوجود آپ خوف نہیں کھائے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے دوبارہ سزا دی جائے گی لہذا حق گوئی سے باز آجاتے ہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا
مرد حق باطل کے آگے مات کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں
حضرت امام احمد بن حنبل اور حق گوئی______
کتب سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اسحاق بن ابراہیم نے مامون کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، فقہا و محدثین اور اصحاب فتوی کو بلا کر دھمکی دی، کہ اگر انہوں نے خلق قرآن کے عقیدے کو نہ مانا تو انہیں شدید آلام و مصائب سے دوچار ہونا پڑے گا، چنانچہ سب نے بلا روک ٹوک یہ باطل نظریہ تسلیم کر لیا اور اعلانیہ خلق قرآن کے قائل ہو گئے۔
لیکن اس کڑی آزمائش میں صرف چار علمی شخصیتیں اپنے موقف پر جمی رہیں وہ حکم خداوندی پر قانع رہے، ان کے پایۂ ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی ، وہ چار بزرگ یہ تھے (۱) امام احمد بن خلیل (۲) محمد بن نوح (۳) قواریری (۴) سجادہ۔
ان چاروں کو بیڑیاں پہنا کر قید خانے میں بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے رات گزاری، جب صبح ہوئی، تو سجادہ نے معتزلہ کی دعوت پر لبیک کہہ دی اور وہ بیڑیوں سے آزاد کر دیا گیا، باقی اسی طرح مقید رہے، اگلے دن ان سے خلق قرآن کے بارے میں دریافت کیا گیا، قواریری کا عقیدہ متزلزل ہو گیا اور اس نے نظریۂ خلق قرآن قبول کر لیا، اسے بھی آزادی مل گئی ، اب صرف دو مردان حق قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے لیے باقی رہ گئے، جنہیں طوق و سلاسل میں جکڑ کر مامون کے پاس روانہ کیا گیا، جو اس وقت طرطوس میں مقیم تھا۔
یہ لوگ کوفہ کے علاقے میں تھے، تو بدووں کا ایک غلام جابر بن عامر ان کے پاس آیا اور اس نے سلام کیا اور کہنے لگا، آپ ارباب اقتدار کے پاس جانے والے ہیں، ان کے لیے منحوس نہ بنیں، آج آپ مسلمانوں کے سردار ہیں اور جس بات کی طرف آپ کو دعوت دیتے ہیں، اس کا جواب دینے سے بچیں، ورنہ قیامت کے دن آپ ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے اور اگر آپ اللہ سے محبت کرتے ہیں، تو آپ جس حالت میں ہیں، اس پر صبر کیجیے، آپ کے بعد جنت کے درمیان صرف آپ کا قتل ہونا ہی باقی ہے اور اگر آپ زندہ رہے، تو قابل تعریف حالت میں زندہ رہیں گے۔
(ابن کثیر ج ۱۰ ص ۸۸۵)
امام احمد کا بیان ہے، کہ اس غلام کی گفتگو نے میرے عقیدے اور عزم کو قوت عطا کی ، آپ کہتے ہیں:
سمعت كلمة منذ وقعت في هذا الأمر الذي وقعت فيه اقوى من كلمة اعرابي كلمنى فيها في رحبة طوق قال لي يا احمد ان يقتلك الحق مت شهيدا وان عشت عشت حميدا قال فقوی قلبی - (مناقب ص (۳۹)
جب سے میں اس آزمائش میں مبتلا کیا گیا اس اعرابی کی گفتگو سے زیادہ قوت دینے والی کوئی بات نہیں سنی ، جس نے مجھ سے اسیری کی حالت میں کہا ، احمد ! اگر حق پر قتل کیے جاؤ گے تو شہید ہو گے اور اگر زندہ رہے تو تمہاری ستائش کی جائے گی احمد کہتے ہیں اس بات نے میرے دل کو مضبوط کر دیا۔ راہ حق کے دونوں با عظمت قیدی جب خلیفہ کی قیام گاہ سے ایک دن کی مسافت پر تھے، تو ایک خادم اپنے آنسو پوچھتے ہوئے حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابو عبد اللہ ! مجھ پر یہ بات گراں گزرتی ہے، کہ مامون نے ایک تلوار سونتی ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں سونتی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت داری کی قسم کھا کر کہتا ہے، کہ احمد بن حنبل نے اگر خلق قرآن کے قول کو قبول نہ کیا تو اسے اپنی تلوار سے قتل کر دے گا۔
امام صاحب اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا، اے میرے اللہ ! تیرے حلم نے اس فاجر کو فریب دیا ہے، حتی کہ اس نے تیرے اولیا کے ضرب و قتل پر جرات کی ہے، اے اللہ ! اگر قرآن جو تیرا کلام ہے، غیر مخلوق ہے، تو ہمیں اس کی مشقت سے کفایت کر۔
رات کے آخری پہر خبر آئی، کہ مامون مر گیا اور معتصم کو خلیفہ بنا دیا گیا۔
(ابن کثیر ج ۱۰ ص ۸۸۹ ماخوز از سیرت امام احمد بن حنبل)
یہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کی ذات مبارکہ ہے کہ قتل کی دھمکی سننے کے باوجود حق گوئی سے باز نہ آئے بلکہ دنیا کو بتا دیا
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
حضور تاج الشریعہ کی حق گوئی____
تیسری مرتبہ١٩٨٦ء/١٤٠٦ھ حج کے موقع پرسعودی حکومت نے حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کو بیجا گرفتار کرلیا اس موقع پر آپ نے حق گوئی و بے باکی کا جو مظاہرہ کیا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ سعودی مظالم کے متعلق حضور تاج الشریعہ خود فرماتے ہیں:
مختصر یہ کہ مسلسل سوالات کے باوجود میرا جرم میرے بار بار پوچھنے کے بعد بھی مجھے نہ بتایا بلکہ یہی کہتے رہے کہ ”میرا معاملہ اہمیت نہیں رکھتا۔” لیکن اس کے باوجود میری رہائی میں تاخیر کی گئی اور بغیر اظہار جرم مجھے مدینہ منورہ کی حاضری سے موقوف رکھا اور١١/ دنوں کے بعد جب مجھے جدہ روانہ کیا گیا تو میرے ہاتھوں میں جدہ ائیر پورٹ تک ہتھکڑی پہنائے رکھی اور راستے میں نماز ظہر کے لیے موقع بھی نہ دیا گیا اس وجہ سے میری نماز ظہر قضاہو گئی۔
[مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ :١٥٠/جلد :١]
اسی کی عکاسی کرتے ہوئے سرکار تاج الشریعہ نے فرمایا ۔
نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستم گر نے
ستم کیسا ہوا بلبل پہ یہ قید ستم گر میں
ستم سے اپنے مٹ جاؤ گے تم خود اے ستمگارو
سنو ہم کہہ رہے ہیں بے خطر دورِ ستم گر میں
مدینے سے رہیں خود دور اس کو روکنے والے
مدینے میں خود اختر ہے مدینہ چشم اختر میں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اسی مرد خدا قلندر بریلوی سیدنا سندنا مرشدنا سرکار تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ کے تلمیذ رشید مفتی سلمان ازہری دام ظلہ العالی کو بغیر جرم کے تقریبا آٹھ دس مہینے تک جیل میں رکھا بالآخر بحمدہ تعالیٰ ١٤ ربیع الآخر ١٤٤٦ھ بمطابق ١٨ اکتوبر ٢٠٢٤ء بروز جمعہ ضمانت ملی اور ١٥ ربیع الآخر اپنے گھر تشریف لائے جس میں لوگوں نے اسقبالیہ نعرہ لگاتے ہوئے کہا شیر آیا شیر آیا تو اس کے جواب میں مفتی سلمان ازہری صاحب نے فرمایا شور بھی آئے گا جو اس بات کی طرف مشیر ہے کہ یہ شیر پھر دھاڑے گا اور اگر ایسی آزمائشیں لاکھوں بھی آ جائیں تو سب کو ہنستے ہوئے گلے سے لگا لے گا کیونکہ
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
دار ؤ سکندر سے وہ مرد فقیر اولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
69
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢