بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
بارگاہ شیخ بریلوی میں تاریخی حاضری
بارگاہ شیخ بریلوی میں تاریخی حاضری
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: مسجد ازہر، قاہرہ، مصر
واٹس ایپ: 9523788434
نمونۂ اسلاف، منظور نظر حضور مفتی اعظم ہند، اعلم علماء بلد، مستجاب الدعوات، فقیہہ فقید المثال، عابد شب زندہ دار، نکتہ رس، نکتہ دان، مرجع العلماء، و الفقہاء، نبض شناس، منبع زہد، و ورع، عظیم المرتبت، استاذی الکریم، حضرت علامہ، فہامہ، مفتی شیخ محمد صالح رضوی محدث بریلوی حفظہ اللہ القوی کی ذات بڑی با فیض ذات ہے، اس بارگاہ میں ایک پل بیٹھنے سے خشیت الٰہی سے بدن لرزہ بر اندام ہو جاتا ہے، دل یاد الٰہی میں غرقاب ہو جاتا ہے
بلکہ دل کے دھڑکنے سے عالم عناصر اربعہ میں ایک بجلی کڑکتی ہے جس سے یہ آواز نکلتی ہے
خودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm1
خودی ہے تیغ، فَساں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm2
یہ نغمہ فصلِ گُل و لالہ کا نہیں پابندm3
بہار ہو کہ خزاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm4
شرف ملاقات ــــــــــــــــــــ
جامعۃ الرضا کی علمی فضا میں پھولنے پھلنے والے جناب محمد جاوید مرکزی، جناب محمد جعفر حسین صدیقی مرکزی محدث بریلوی حضور شیخ صالح صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ کی بارگاہ میں حاضری دینے کی خواہش کا اظہار کیا فقیر نے کہا ٹھیک ہے چلتے ہیں بزرگوں کی بارگاہوں میں حاضری طریقۂ اسلاف بھی ہے اور ہماری سعادت مندی بھی۔
مؤرخہ ٢٧ رجب المرجب شریف ١٤٤٧ھ بمطابق ١٦ جنوری ٢٠٢٦ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب شیخ بریلوی کے کاشانۂ اقدس کے دروازے پر حاضر ہوئے دستک دی تو آپ کے صاحبزادے نے آکر خبر دی کہ ابھی شیخ صاحب قبلہ اوراد و وظائف میں مصروف ہیں شاید کہ یہ آواز شیخ کی سماعت سے ٹکرا گئی کہ چند لمحے ہی ابھی ہوئے تھے کہ شیخ بریلوی خود باہر تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی
خیریت دریافت کرنے کے بعد جامعہ سے متعلق چند گفتگو ہوئی کہ جاوید مرکزی صاحب نے دلائل الخیرات شریف کی اجازت کے بابت اشارہ کیا میں نے بارگاہ شیخ میں عرض کیا: حضور یہ دونوں حضرات دلائل الخیرات شریف کی اجازت کے متمنی ہیں۔
اجازت اور قیمتی نصیحت ــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی نے ہم تینوں کو اور جو ہمارے ہمدرس ہیں غائبانہ ان کو بھی دلائل الخیرات شریف پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا:
جب شروع کر دیں تو ناغہ نہیں ہونا چاہیے زمانۂ تعلم میں زیادہ اوراد و وظائف نہ کریں زمانۂ تعلم میں زیادہ مطالعہ کرنا، کتابیں یاد کرنا یہی سب سے بڑی عبادت ہے زمانۂ تعلم میں یہ سب نہیں ہونا چاہیے بس اجازت دے دی
حضور شیخ بریلوی کی ان ناصحانہ کلمات سے ان حضرات کو سبق لینا چاہیے جو اوراد و وظائف کے نام پر کئی کئی گھنٹیاں غیر حاضر رہ جاتے ہیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک طالب علم کی بڑی عبادت مطالعہ کرنا اور کتابیں پڑھنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ایک گھڑی علم حاصل کرنا پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے
[مسند الفردوس رقم الحدیث ٣٩١٧]
ایک حدیث میں ہے خیر الجلیس الکتاب بہترین ہمنشین کتاب ہے
یہاں پر ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا کہ زمانۂ تعلم میں علما اوراد و وظائف سے بھی منع کرتے ہیں تاکہ تعلیم زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں تو وہ حضرات جو زمانۂ تعلم میں خود کو موبائل میں مصروف رکھتے ہیں گیمز وغیرہ کھیلتے ہیں ان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھ کیسا کھلواڑ کر رہے ہیں؟ اور ان کا مستقبل کتنا روشن ہو سکتا ہے ؟
حکایت ــــــــــ
ایک طالب علم کے بارے میں یہ شکایت پہنچی کہ وہ موبائل میں گیمز کھیلتا رہتا ہے پڑھتا نہیں ہے راقم الحروف کے ایک قریبی دوست نے اس طالب علم کو تقریبا ایک گھنٹا بٹھا کر سمجھایا اور کہا کہ آئندہ مت کھیلنا ورنہ تمہارے والد صاحب کو کہ دوں گا اس نے کہا ٹھیک ہے نہیں کھیلوں گا اسی دن شام کو جب اس طالب علم کے کمرے کی طرف سے گزرنا ہوا تو دیکھا کہ وہی طالب علم اب ایک موبائل نہیں بلکہ دو دو موبائل لے کر گیم کھیل رہا ہے
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگرm1
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثرm2
تعلیقات بر دلائل الخیرات ـــــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی حفظہ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ آج کل بازار میں دلائل الخیرات شریف کے جو نسخے دستیاب ہیں سب ایک سے ہیں ایک نے کتابت میں یا کسی اور طرح سے غلطی کر دی تو سب اسی کی اشاعت کر رہے ہیں پھر کچھ غلطی نمونے کے طور پر کتاب سے دکھائی (جنھیں ہم آگے ذکر کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ) اور فرمایا:
میں نے کچھ نمونہ دکھایا، جو جو غلطی نظر آئے اصلاح کر لیں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ہم۔۔۔۔۔۔۔قرآن عظیم کی تلاوت کی طرح تلاوت نہیں ہے اس کو لکھا انھوں نے ہے اب ہمیں اس کو اپنا کلام مان کے پڑھنا ہے نا! انشاء ہماری طرف سے ہے ہم دعا مانگ رہے ہیں تو ہمیں اس میں ساری کتاب کی اور کوئی خطا کتابت والی یا کچھ اور نظر آ رہی ہے ہم اصلاح کر لیں بلا شبہ وہ درست ہے۔ اپنے دل میں ہمارے لیے جو انشاء کا طریقہ ہونا چاہیے اس طریقے سے کریں گے، انشاء ہے نا! یا تلاوت کر رہے ہیں قرآن شریف کی طرح ؟ تلاوت نہیں کر رہے ہیں۔ بزرگوں کے کلام میں بے وجہ من گھڑت کوئی الزام نہیں لگانا چاہیے یہ بھی ہے، برکت اسی میں ہے جو ان کا کلام ہے لیکن صحیح میں ہے، خطا میں تھوڑی ہے خطا میں تاویل یہی کی جائے گی انھوں نے اپنی سمجھ سے لکھا ہے ہمارے طور پہ یہ ہونا چاہیے .
مقام اول: ـــــــــــــــــــ
الحزب الثالث فی یوم الاربعاء یعنی بدھ کے حزب میں ہے :
اللهم صلي و سلم و بارك علي سيدنا محمد و علي آل سيدنا محمد اكرم الكرماء من عبادك.
[دلائل الخیرات شریف مکتبۃ الصفا مصر ص : ٧٠۔۔۔۔۔۔ہندی ایڈیشن جو عام طور پر دستیاب ہیں ص : ٢٨٢]
الحزب الرابع فی یوم الخمیس یعنی جمعرات کے حزب میں ہے:
اللهم اجعله اكرم الاكرمين عندك منزلا.
[دلائل الخیرات مصری ایڈیشن مکتبہ الصفا ص: ٨٥۔۔۔۔۔۔۔ہندی ایڈیشن ص: ٣٠٨]
قارئین ان دونوں اقتباس میں ملاحظہ فرمائیں کہ ایک میں ہے اکرم الکرماء اور دوسرے میں ہے اکرم الاکرمین اب ان دونوں پر شیخ بریلوی کی تعلیق دیکھیں
تعلیق بر اکرم الکرماء ــــــــ
یہ اطلاق صحیح ہے آگے صفحہ ٣٨ [مصری ص ٨٥] (منزل پنجشنبہ) میں جو اکرم الاکرمین چھپا ہوا ہے وہ غلط ہے کیونکہ اکرم الاکرمین صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ حضور کے لیے اس صیغہ کا اطلاق ممنوع ہے۔ محمد صالح غفر لہ
تعلیق بر اکرم الاکرمین ــــــــــــ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اکرم الاکرمین کہنے کی اجازت نہیں
[فتاوی رضویہ جلد ٦ ص : ١٩٠] محمد صالح
[الکرماء] جیسا کہ اس کتاب میں پیچھے ص ٢٨٢ [مصری ص ٧٠] پر گزرا سطر ٥۔ محمد صالح
یعنی الاکرمین کی جگہ الکرماء پڑھا جائے اور اس کی تائید اسی کتاب کے حزب یوم الاربعاء سے ہوتی ہے۔
نیز فرماتے ہیں: کھینچ تان کر کے کوئی اسے بھی صحیح کرے گا کھینچ تان نہیں کرنا چاہیے اکرم الکرماء پڑھنا چاہیے۔
فتاوی رضویہ شریف کی عبارت یہ ہے:
حضو ر اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اکرم الاکرمین کہنے کے اجازت نہیں ، یہ نام پاک عرف میں رب العزت کے لئے ہے ، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اکرم الاولین والآخرین ہیں [حوالہ سابق]
یہ ایسے ہی ہے جیسے عز و جل کا اطلاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں کرنا چاہیے یہ خاص ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حالانکہ حضور عزت مآب اور جلیل القدر بھی ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے :
وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَا یَعۡلَمُونَ [المنافقون ٨]
بس اطلاق ممنوع ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکرم الاکرمین بھی ہیں اور عز و جل بھی۔
مقام دوم: ــــــــــــــــ
اکثر نسخوں میں یہاں تک کہ بعض مصری نسخوں میں بھی ہے:
لما یجب لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی اداء حقه قبلنا اذ آمنا به و صدقناه.
[ہندی ص ٣٠٦_ مصری ص ٨٤]
اس میں جو لفظ قبلنا ہے وہ قبلنا نہیں علینا ہے ورنہ معنی صحیح نہ ہوگا لہذا اسے یوں پڑھا جائے:
لما یجب لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی اداء حقه علینا اذ آمنا به و صدقناه.
مقام سوم: ـــــــــــــــــــــ
هذه الصلاة تعظيما لحقك يا سيدنا محمد
[ہندی نسخہ ص ٣٠٠]
اس پر شیخ بریلوی کی تعلیق ہے: یا رسول اللہ ۔
فقیر نے مکتبۃ الصفا سے چھپا ہوا مصری نسخہ میں دیکھا:
هذه الصلاة تعظيما لحقك يا محمد
ایسے ہی ایک جگہ ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِحَبِيبِكَ المُصْطَفَى عِنْدَكَ، يَا حبیبنا یا محمد [مصری نسخہ صفحہ ١١١] ہندی نسخہ میں یا کے بعد سیدنا کا اضافہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی نے لفظ محمد سے پہلے سیدنا کا اضافہ کیا تاکہ یا سیدنا محمد کہنے میں کوئی قباحت نہ ہو لیکن فقیر نے حضور شیخ بریلوی سے عرض کیا کہ حضور اس میں یا سیدنا محمد لفظ تعظیم کے ساتھ ہے تو بولنا جائز ہونا چاہیے جیسا کہ بعض بزرگوں نے ایسا فرمایا ہے تو آپ نے فرمایا:
یہ مناظرانہ جواب ہےاور لفظ محمد کوئی کہ رہا ہے کہ یا محمد تو وہاں وہ یہ کہ رہا ہے کہ میں حضور کے نام ذاتی نہیں مراد لے رہا ہوں یہاں میں حضور کے نام صفتی کا ذکر کر رہا ہوں محمد تعریف کیے ہوئے یہ چلے گا ؟ یہ اگلے آدمی کو مطمئن کرنے کے لیے ہے ارے بھائی سیدھی سیدھی بات ہے اور اعلی حضرت سے زیادہ کون محبت والا ہوگا؟ ہمیں تو ان کی رہنمائی چاہیے بس
اس کے بعد پھر فقیر نے عرض کیا کہ حضور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر سیدنا کے ساتھ ہو جیسے یا سیدنا محمد تو جائز ہوگا۔
آپ نے فرمایا : ہاں تو وہ اپنی جگہ ہے مگر ہمیں اپنے امام کی پیروی چاہیے۔
فتاوی رضویہ شریف میں ہے :
ایک بات یہ یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک لے کر جدا نہ چاہیے بلکہ اس کی جگہ یا رسول اللہ ہو۔
[فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ٦ ص : ٧٣]
مقام چہارم: ــــــــــــــــ
ثم تدعو بهذا الدعاء فإنَّه مرجو الإجابة إن شاءَ اللهُ بَعْد الصلاة على النبي ﷺ
[ہندی نسخہ ص ٢٤٣ _ مصری نسخہ ص ٤٧]
یہ اقتباس ہندی اور مصری دونوں نسخوں میں دعا اور درود کے درمیان اس طرح لکھا ہے جو غیر عربی دان ہیں وہ یا تو دعا میں یا درود میں ملا کر پڑھیں گے حالانکہ یہ پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ہدایت ہے کہ درود شریف کے بعد درج ذیل دعا کے ذریعے دعا مانگنے سے دعا ان شاءاللہ تعالیٰ بارگاہ ایزدی میں قبول ہوگی۔
مقام پنجم ــــــــــــــــ
و ارفع فی اھل علیین درجته
[ہندی نسخہ ص ٢٩٦ مصری نسخہ ص ٧٨]
یہ اھل علیین نہیں بلکہ اعلی علیین ہے
مقام ششم ـــــــــــــــ
پنجشنبہ کے اخیر جز میں ہے :
، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْأَسْمَاءِ الْعِظَامِ الَّتِي سَمَّيْتَ بِهَا نَفْسَكَ، مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمَ.
یہاں پر حزب بند ہو گیا اور مالم اعلم پر حزب ختم ہو گیا یہ ادھورا جملہ ہے أَسْأَلُكَ کا مسئول کہاں ہے؟ نہیں ہے نا! تو اس لیے یا تو پڑھنے والا الزیتون پر ختم کر دے اور بعینہ وہی جملہ آگے آ رہا ہے جمعہ کے حزب میں تو جمعہ کے دن جمعہ کے حزب سے شروع کرے اس لیے کہ اس کا مسئول جمعہ والے حزب میں آگے مذکور ہے :
ان تصلی علی محمد نبیك عدد ما خلقته.........!
اور اگر اسے جمعرات والے حزب میں ہی پڑھنا چاہے تو آگے اس کا مسئول بڑھا دے جیسے:
وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْأَسْمَاءِ الْعِظَامِ الَّتِي سَمَّيْتَ بِهَا نَفْسَكَ، مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمَ. ان تصلي و تسلم و تُبارك علي عبدك الحبيب سيدنا محمد و علي آله الكرام و علي اصحابه العظام و جميع اهل بيته المكرمين ۔
مقام ہفتم: ـــــــــــ
اللَّهُمَّ آمِينَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ.
قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَرَأَ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَرَّةً وَاحِدَةً.............وَفِي رِوَايَةٍ
[ہندی نسخہ ٣٣٥_٣٣٦ مصری نسخہ ٩٠_٩٩]
یہ مکمل اقتباس ہندی نسخوں میں تقریبا دو صفحوں پر اور مصری نسخہ میں ایک صفحہ پر مشتمل ہے اسے وظیفے میں پڑھنا نہیں ہے لیکن لکھا اس طرح گیا ہے کہ پڑھنے والا اسے بھی پڑھتے ہوئے چلے جائے خاص کر عجمی عوام
مقام ہشتم : ـــــــــــــ
دعاك بها سيدنا اسمعیل عليه السلام۔
[شنبہ کا حزب ہندی نسخہ ص ٣٦٦ مصری نسخہ ص ١١٢]
اس اقتباس کے بعد حضور شیخ بریلوی کا نوٹ ملاحظہ فرمائیں:
نوٹ: حضرت لوط علیہ السلام کا اسم گرامی پوری کتاب دلائل الخیرات میں کہیں نہیں آیا ہے،۔ تو پڑھنے والے کو خود کسی نہ کسی جگہ پڑھ لینا چاہیے، مثلا یہیں کہ لے:
دعاك بها سيدنا لوط عليه السلام۔
مقام نہم: ـــــــــــــــ
الحزب السابع فی یوم الاحد یعنی اتوار کے دن کا حزب شروع ہوتا و ان تصلي سے تو اس جگہ واو کو حذف کر کے یوں پڑھیں گے
اللھم انی اسئلك ان تصلي............الخ
مقام دہم: ــــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی حفظہ اللہ القوی کو پہلی مرتبہ ۲۰۰۷ء میں اور دوسری مرتبہ ٢٠١٤ء میں حج بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سعادت سے اللہ تعالی نے مسعود فرمایا۔
[ذکری للذاکرین جلد اول ص ٥٦]
اسی لیے دلائل الخیرات شریف کے اخیر میں جو دعا مرقوم ہے
اس کا ایک اقتباس:
و یسر علینا زیارۃ حرمك و حرمه من قبل ان تميتنا
میں آپ نے اعادۃ کا اضافہ فرمایا یعنی اسے اس طرح پڑھتے:
و یسر علینا اعادۃ زیارۃ حرمك و حرمه من قبل ان تميتنا
معلوم ہوا جو حضرات حرمین شریفین کی زیارت سے شرف یاب ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اعادۃ کا اضافہ فرمائیں یہ بہتر ہے
اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری لفظی اور علامات الترقیم کی خطاؤں کی حضور شیخ بریلوی نے نشان دہی فرمائی ہے جنھیں طوالت کے خوف سے چھوڑ رہا ہوں کیونکہ وہ چیزیں ادنی توجہ سے بھی انسان سمجھ سکتا ہے لیکن عوام کے لیے بہر حال ان خطاؤں کے سمجھنے میں بھی مشقت ہے اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ ہندوستان میں جو نسخے عام طور پر دستیاب ہیں انھیں چھوڑ کر بیروت کا کوئی نسخہ پرنٹ کر کے اپنے پاس رکھ لیں اور اوپر جن غلطیوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہیں انھیں صحیح کر لیں پھر ان شاءاللہ تعالیٰ کوئی دقت نہیں ہوگی
اللہ جل جلالہ استاذنا المکرم حضور شیخ بریلوی کی عمر شریف میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے نیز ہمیں دلائل الخیرات شریف صحیح طریقے سے پڑھنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
<button id=copyBtn>📋 مضمون کاپی کریں</button>
✔ مضمون کاپی ہو گیا
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: مسجد ازہر، قاہرہ، مصر
واٹس ایپ: 9523788434
نمونۂ اسلاف، منظور نظر حضور مفتی اعظم ہند، اعلم علماء بلد، مستجاب الدعوات، فقیہہ فقید المثال، عابد شب زندہ دار، نکتہ رس، نکتہ دان، مرجع العلماء، و الفقہاء، نبض شناس، منبع زہد، و ورع، عظیم المرتبت، استاذی الکریم، حضرت علامہ، فہامہ، مفتی شیخ محمد صالح رضوی محدث بریلوی حفظہ اللہ القوی کی ذات بڑی با فیض ذات ہے، اس بارگاہ میں ایک پل بیٹھنے سے خشیت الٰہی سے بدن لرزہ بر اندام ہو جاتا ہے، دل یاد الٰہی میں غرقاب ہو جاتا ہے
بلکہ دل کے دھڑکنے سے عالم عناصر اربعہ میں ایک بجلی کڑکتی ہے جس سے یہ آواز نکلتی ہے
خودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm1
خودی ہے تیغ، فَساں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm2
یہ نغمہ فصلِ گُل و لالہ کا نہیں پابندm3
بہار ہو کہ خزاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm4
شرف ملاقات ــــــــــــــــــــ
جامعۃ الرضا کی علمی فضا میں پھولنے پھلنے والے جناب محمد جاوید مرکزی، جناب محمد جعفر حسین صدیقی مرکزی محدث بریلوی حضور شیخ صالح صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ کی بارگاہ میں حاضری دینے کی خواہش کا اظہار کیا فقیر نے کہا ٹھیک ہے چلتے ہیں بزرگوں کی بارگاہوں میں حاضری طریقۂ اسلاف بھی ہے اور ہماری سعادت مندی بھی۔
مؤرخہ ٢٧ رجب المرجب شریف ١٤٤٧ھ بمطابق ١٦ جنوری ٢٠٢٦ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب شیخ بریلوی کے کاشانۂ اقدس کے دروازے پر حاضر ہوئے دستک دی تو آپ کے صاحبزادے نے آکر خبر دی کہ ابھی شیخ صاحب قبلہ اوراد و وظائف میں مصروف ہیں شاید کہ یہ آواز شیخ کی سماعت سے ٹکرا گئی کہ چند لمحے ہی ابھی ہوئے تھے کہ شیخ بریلوی خود باہر تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی
خیریت دریافت کرنے کے بعد جامعہ سے متعلق چند گفتگو ہوئی کہ جاوید مرکزی صاحب نے دلائل الخیرات شریف کی اجازت کے بابت اشارہ کیا میں نے بارگاہ شیخ میں عرض کیا: حضور یہ دونوں حضرات دلائل الخیرات شریف کی اجازت کے متمنی ہیں۔
اجازت اور قیمتی نصیحت ــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی نے ہم تینوں کو اور جو ہمارے ہمدرس ہیں غائبانہ ان کو بھی دلائل الخیرات شریف پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا:
جب شروع کر دیں تو ناغہ نہیں ہونا چاہیے زمانۂ تعلم میں زیادہ اوراد و وظائف نہ کریں زمانۂ تعلم میں زیادہ مطالعہ کرنا، کتابیں یاد کرنا یہی سب سے بڑی عبادت ہے زمانۂ تعلم میں یہ سب نہیں ہونا چاہیے بس اجازت دے دی
حضور شیخ بریلوی کی ان ناصحانہ کلمات سے ان حضرات کو سبق لینا چاہیے جو اوراد و وظائف کے نام پر کئی کئی گھنٹیاں غیر حاضر رہ جاتے ہیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک طالب علم کی بڑی عبادت مطالعہ کرنا اور کتابیں پڑھنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ایک گھڑی علم حاصل کرنا پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے
[مسند الفردوس رقم الحدیث ٣٩١٧]
ایک حدیث میں ہے خیر الجلیس الکتاب بہترین ہمنشین کتاب ہے
یہاں پر ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا کہ زمانۂ تعلم میں علما اوراد و وظائف سے بھی منع کرتے ہیں تاکہ تعلیم زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں تو وہ حضرات جو زمانۂ تعلم میں خود کو موبائل میں مصروف رکھتے ہیں گیمز وغیرہ کھیلتے ہیں ان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھ کیسا کھلواڑ کر رہے ہیں؟ اور ان کا مستقبل کتنا روشن ہو سکتا ہے ؟
حکایت ــــــــــ
ایک طالب علم کے بارے میں یہ شکایت پہنچی کہ وہ موبائل میں گیمز کھیلتا رہتا ہے پڑھتا نہیں ہے راقم الحروف کے ایک قریبی دوست نے اس طالب علم کو تقریبا ایک گھنٹا بٹھا کر سمجھایا اور کہا کہ آئندہ مت کھیلنا ورنہ تمہارے والد صاحب کو کہ دوں گا اس نے کہا ٹھیک ہے نہیں کھیلوں گا اسی دن شام کو جب اس طالب علم کے کمرے کی طرف سے گزرنا ہوا تو دیکھا کہ وہی طالب علم اب ایک موبائل نہیں بلکہ دو دو موبائل لے کر گیم کھیل رہا ہے
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگرm1
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثرm2
تعلیقات بر دلائل الخیرات ـــــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی حفظہ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ آج کل بازار میں دلائل الخیرات شریف کے جو نسخے دستیاب ہیں سب ایک سے ہیں ایک نے کتابت میں یا کسی اور طرح سے غلطی کر دی تو سب اسی کی اشاعت کر رہے ہیں پھر کچھ غلطی نمونے کے طور پر کتاب سے دکھائی (جنھیں ہم آگے ذکر کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ) اور فرمایا:
میں نے کچھ نمونہ دکھایا، جو جو غلطی نظر آئے اصلاح کر لیں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ہم۔۔۔۔۔۔۔قرآن عظیم کی تلاوت کی طرح تلاوت نہیں ہے اس کو لکھا انھوں نے ہے اب ہمیں اس کو اپنا کلام مان کے پڑھنا ہے نا! انشاء ہماری طرف سے ہے ہم دعا مانگ رہے ہیں تو ہمیں اس میں ساری کتاب کی اور کوئی خطا کتابت والی یا کچھ اور نظر آ رہی ہے ہم اصلاح کر لیں بلا شبہ وہ درست ہے۔ اپنے دل میں ہمارے لیے جو انشاء کا طریقہ ہونا چاہیے اس طریقے سے کریں گے، انشاء ہے نا! یا تلاوت کر رہے ہیں قرآن شریف کی طرح ؟ تلاوت نہیں کر رہے ہیں۔ بزرگوں کے کلام میں بے وجہ من گھڑت کوئی الزام نہیں لگانا چاہیے یہ بھی ہے، برکت اسی میں ہے جو ان کا کلام ہے لیکن صحیح میں ہے، خطا میں تھوڑی ہے خطا میں تاویل یہی کی جائے گی انھوں نے اپنی سمجھ سے لکھا ہے ہمارے طور پہ یہ ہونا چاہیے .
مقام اول: ـــــــــــــــــــ
الحزب الثالث فی یوم الاربعاء یعنی بدھ کے حزب میں ہے :
اللهم صلي و سلم و بارك علي سيدنا محمد و علي آل سيدنا محمد اكرم الكرماء من عبادك.
[دلائل الخیرات شریف مکتبۃ الصفا مصر ص : ٧٠۔۔۔۔۔۔ہندی ایڈیشن جو عام طور پر دستیاب ہیں ص : ٢٨٢]
الحزب الرابع فی یوم الخمیس یعنی جمعرات کے حزب میں ہے:
اللهم اجعله اكرم الاكرمين عندك منزلا.
[دلائل الخیرات مصری ایڈیشن مکتبہ الصفا ص: ٨٥۔۔۔۔۔۔۔ہندی ایڈیشن ص: ٣٠٨]
قارئین ان دونوں اقتباس میں ملاحظہ فرمائیں کہ ایک میں ہے اکرم الکرماء اور دوسرے میں ہے اکرم الاکرمین اب ان دونوں پر شیخ بریلوی کی تعلیق دیکھیں
تعلیق بر اکرم الکرماء ــــــــ
یہ اطلاق صحیح ہے آگے صفحہ ٣٨ [مصری ص ٨٥] (منزل پنجشنبہ) میں جو اکرم الاکرمین چھپا ہوا ہے وہ غلط ہے کیونکہ اکرم الاکرمین صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ حضور کے لیے اس صیغہ کا اطلاق ممنوع ہے۔ محمد صالح غفر لہ
تعلیق بر اکرم الاکرمین ــــــــــــ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اکرم الاکرمین کہنے کی اجازت نہیں
[فتاوی رضویہ جلد ٦ ص : ١٩٠] محمد صالح
[الکرماء] جیسا کہ اس کتاب میں پیچھے ص ٢٨٢ [مصری ص ٧٠] پر گزرا سطر ٥۔ محمد صالح
یعنی الاکرمین کی جگہ الکرماء پڑھا جائے اور اس کی تائید اسی کتاب کے حزب یوم الاربعاء سے ہوتی ہے۔
نیز فرماتے ہیں: کھینچ تان کر کے کوئی اسے بھی صحیح کرے گا کھینچ تان نہیں کرنا چاہیے اکرم الکرماء پڑھنا چاہیے۔
فتاوی رضویہ شریف کی عبارت یہ ہے:
حضو ر اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اکرم الاکرمین کہنے کے اجازت نہیں ، یہ نام پاک عرف میں رب العزت کے لئے ہے ، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اکرم الاولین والآخرین ہیں [حوالہ سابق]
یہ ایسے ہی ہے جیسے عز و جل کا اطلاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں کرنا چاہیے یہ خاص ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حالانکہ حضور عزت مآب اور جلیل القدر بھی ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے :
وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَا یَعۡلَمُونَ [المنافقون ٨]
بس اطلاق ممنوع ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکرم الاکرمین بھی ہیں اور عز و جل بھی۔
مقام دوم: ــــــــــــــــ
اکثر نسخوں میں یہاں تک کہ بعض مصری نسخوں میں بھی ہے:
لما یجب لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی اداء حقه قبلنا اذ آمنا به و صدقناه.
[ہندی ص ٣٠٦_ مصری ص ٨٤]
اس میں جو لفظ قبلنا ہے وہ قبلنا نہیں علینا ہے ورنہ معنی صحیح نہ ہوگا لہذا اسے یوں پڑھا جائے:
لما یجب لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی اداء حقه علینا اذ آمنا به و صدقناه.
مقام سوم: ـــــــــــــــــــــ
هذه الصلاة تعظيما لحقك يا سيدنا محمد
[ہندی نسخہ ص ٣٠٠]
اس پر شیخ بریلوی کی تعلیق ہے: یا رسول اللہ ۔
فقیر نے مکتبۃ الصفا سے چھپا ہوا مصری نسخہ میں دیکھا:
هذه الصلاة تعظيما لحقك يا محمد
ایسے ہی ایک جگہ ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِحَبِيبِكَ المُصْطَفَى عِنْدَكَ، يَا حبیبنا یا محمد [مصری نسخہ صفحہ ١١١] ہندی نسخہ میں یا کے بعد سیدنا کا اضافہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی نے لفظ محمد سے پہلے سیدنا کا اضافہ کیا تاکہ یا سیدنا محمد کہنے میں کوئی قباحت نہ ہو لیکن فقیر نے حضور شیخ بریلوی سے عرض کیا کہ حضور اس میں یا سیدنا محمد لفظ تعظیم کے ساتھ ہے تو بولنا جائز ہونا چاہیے جیسا کہ بعض بزرگوں نے ایسا فرمایا ہے تو آپ نے فرمایا:
یہ مناظرانہ جواب ہےاور لفظ محمد کوئی کہ رہا ہے کہ یا محمد تو وہاں وہ یہ کہ رہا ہے کہ میں حضور کے نام ذاتی نہیں مراد لے رہا ہوں یہاں میں حضور کے نام صفتی کا ذکر کر رہا ہوں محمد تعریف کیے ہوئے یہ چلے گا ؟ یہ اگلے آدمی کو مطمئن کرنے کے لیے ہے ارے بھائی سیدھی سیدھی بات ہے اور اعلی حضرت سے زیادہ کون محبت والا ہوگا؟ ہمیں تو ان کی رہنمائی چاہیے بس
اس کے بعد پھر فقیر نے عرض کیا کہ حضور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر سیدنا کے ساتھ ہو جیسے یا سیدنا محمد تو جائز ہوگا۔
آپ نے فرمایا : ہاں تو وہ اپنی جگہ ہے مگر ہمیں اپنے امام کی پیروی چاہیے۔
فتاوی رضویہ شریف میں ہے :
ایک بات یہ یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک لے کر جدا نہ چاہیے بلکہ اس کی جگہ یا رسول اللہ ہو۔
[فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ٦ ص : ٧٣]
مقام چہارم: ــــــــــــــــ
ثم تدعو بهذا الدعاء فإنَّه مرجو الإجابة إن شاءَ اللهُ بَعْد الصلاة على النبي ﷺ
[ہندی نسخہ ص ٢٤٣ _ مصری نسخہ ص ٤٧]
یہ اقتباس ہندی اور مصری دونوں نسخوں میں دعا اور درود کے درمیان اس طرح لکھا ہے جو غیر عربی دان ہیں وہ یا تو دعا میں یا درود میں ملا کر پڑھیں گے حالانکہ یہ پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ہدایت ہے کہ درود شریف کے بعد درج ذیل دعا کے ذریعے دعا مانگنے سے دعا ان شاءاللہ تعالیٰ بارگاہ ایزدی میں قبول ہوگی۔
مقام پنجم ــــــــــــــــ
و ارفع فی اھل علیین درجته
[ہندی نسخہ ص ٢٩٦ مصری نسخہ ص ٧٨]
یہ اھل علیین نہیں بلکہ اعلی علیین ہے
مقام ششم ـــــــــــــــ
پنجشنبہ کے اخیر جز میں ہے :
، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْأَسْمَاءِ الْعِظَامِ الَّتِي سَمَّيْتَ بِهَا نَفْسَكَ، مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمَ.
یہاں پر حزب بند ہو گیا اور مالم اعلم پر حزب ختم ہو گیا یہ ادھورا جملہ ہے أَسْأَلُكَ کا مسئول کہاں ہے؟ نہیں ہے نا! تو اس لیے یا تو پڑھنے والا الزیتون پر ختم کر دے اور بعینہ وہی جملہ آگے آ رہا ہے جمعہ کے حزب میں تو جمعہ کے دن جمعہ کے حزب سے شروع کرے اس لیے کہ اس کا مسئول جمعہ والے حزب میں آگے مذکور ہے :
ان تصلی علی محمد نبیك عدد ما خلقته.........!
اور اگر اسے جمعرات والے حزب میں ہی پڑھنا چاہے تو آگے اس کا مسئول بڑھا دے جیسے:
وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْأَسْمَاءِ الْعِظَامِ الَّتِي سَمَّيْتَ بِهَا نَفْسَكَ، مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمَ. ان تصلي و تسلم و تُبارك علي عبدك الحبيب سيدنا محمد و علي آله الكرام و علي اصحابه العظام و جميع اهل بيته المكرمين ۔
مقام ہفتم: ـــــــــــ
اللَّهُمَّ آمِينَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ.
قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَرَأَ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَرَّةً وَاحِدَةً.............وَفِي رِوَايَةٍ
[ہندی نسخہ ٣٣٥_٣٣٦ مصری نسخہ ٩٠_٩٩]
یہ مکمل اقتباس ہندی نسخوں میں تقریبا دو صفحوں پر اور مصری نسخہ میں ایک صفحہ پر مشتمل ہے اسے وظیفے میں پڑھنا نہیں ہے لیکن لکھا اس طرح گیا ہے کہ پڑھنے والا اسے بھی پڑھتے ہوئے چلے جائے خاص کر عجمی عوام
مقام ہشتم : ـــــــــــــ
دعاك بها سيدنا اسمعیل عليه السلام۔
[شنبہ کا حزب ہندی نسخہ ص ٣٦٦ مصری نسخہ ص ١١٢]
اس اقتباس کے بعد حضور شیخ بریلوی کا نوٹ ملاحظہ فرمائیں:
نوٹ: حضرت لوط علیہ السلام کا اسم گرامی پوری کتاب دلائل الخیرات میں کہیں نہیں آیا ہے،۔ تو پڑھنے والے کو خود کسی نہ کسی جگہ پڑھ لینا چاہیے، مثلا یہیں کہ لے:
دعاك بها سيدنا لوط عليه السلام۔
مقام نہم: ـــــــــــــــ
الحزب السابع فی یوم الاحد یعنی اتوار کے دن کا حزب شروع ہوتا و ان تصلي سے تو اس جگہ واو کو حذف کر کے یوں پڑھیں گے
اللھم انی اسئلك ان تصلي............الخ
مقام دہم: ــــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی حفظہ اللہ القوی کو پہلی مرتبہ ۲۰۰۷ء میں اور دوسری مرتبہ ٢٠١٤ء میں حج بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سعادت سے اللہ تعالی نے مسعود فرمایا۔
[ذکری للذاکرین جلد اول ص ٥٦]
اسی لیے دلائل الخیرات شریف کے اخیر میں جو دعا مرقوم ہے
اس کا ایک اقتباس:
و یسر علینا زیارۃ حرمك و حرمه من قبل ان تميتنا
میں آپ نے اعادۃ کا اضافہ فرمایا یعنی اسے اس طرح پڑھتے:
و یسر علینا اعادۃ زیارۃ حرمك و حرمه من قبل ان تميتنا
معلوم ہوا جو حضرات حرمین شریفین کی زیارت سے شرف یاب ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اعادۃ کا اضافہ فرمائیں یہ بہتر ہے
اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری لفظی اور علامات الترقیم کی خطاؤں کی حضور شیخ بریلوی نے نشان دہی فرمائی ہے جنھیں طوالت کے خوف سے چھوڑ رہا ہوں کیونکہ وہ چیزیں ادنی توجہ سے بھی انسان سمجھ سکتا ہے لیکن عوام کے لیے بہر حال ان خطاؤں کے سمجھنے میں بھی مشقت ہے اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ ہندوستان میں جو نسخے عام طور پر دستیاب ہیں انھیں چھوڑ کر بیروت کا کوئی نسخہ پرنٹ کر کے اپنے پاس رکھ لیں اور اوپر جن غلطیوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہیں انھیں صحیح کر لیں پھر ان شاءاللہ تعالیٰ کوئی دقت نہیں ہوگی
اللہ جل جلالہ استاذنا المکرم حضور شیخ بریلوی کی عمر شریف میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے نیز ہمیں دلائل الخیرات شریف صحیح طریقے سے پڑھنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
<button id=copyBtn>📋 مضمون کاپی کریں</button>
✔ مضمون کاپی ہو گیا
مزید علمی و تحقیقی مضامین پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ کو فالو کریں اور ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں!
بارگاہ شیخ بریلوی میں تاریخی حاضری
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
بارگاہ شیخ بریلوی میں تاریخی حاضری
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: مسجد ازہر، قاہرہ، مصر
واٹس ایپ: 9523788434
نمونۂ اسلاف، منظور نظر حضور مفتی اعظم ہند، اعلم علماء بلد، مستجاب الدعوات، فقیہہ فقید المثال، عابد شب زندہ دار، نکتہ رس، نکتہ دان، مرجع العلماء، و الفقہاء، نبض شناس، منبع زہد، و ورع، عظیم المرتبت، استاذی الکریم، حضرت علامہ، فہامہ، مفتی شیخ محمد صالح رضوی محدث بریلوی حفظہ اللہ القوی کی ذات بڑی با فیض ذات ہے، اس بارگاہ میں ایک پل بیٹھنے سے خشیت الٰہی سے بدن لرزہ بر اندام ہو جاتا ہے، دل یاد الٰہی میں غرقاب ہو جاتا ہے
بلکہ دل کے دھڑکنے سے عالم عناصر اربعہ میں ایک بجلی کڑکتی ہے جس سے یہ آواز نکلتی ہے
خودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm1
خودی ہے تیغ، فَساں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm2
یہ نغمہ فصلِ گُل و لالہ کا نہیں پابندm3
بہار ہو کہ خزاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm4
شرف ملاقات ــــــــــــــــــــ
جامعۃ الرضا کی علمی فضا میں پھولنے پھلنے والے جناب محمد جاوید مرکزی، جناب محمد جعفر حسین صدیقی مرکزی محدث بریلوی حضور شیخ صالح صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ کی بارگاہ میں حاضری دینے کی خواہش کا اظہار کیا فقیر نے کہا ٹھیک ہے چلتے ہیں بزرگوں کی بارگاہوں میں حاضری طریقۂ اسلاف بھی ہے اور ہماری سعادت مندی بھی۔
مؤرخہ ٢٧ رجب المرجب شریف ١٤٤٧ھ بمطابق ١٦ جنوری ٢٠٢٦ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب شیخ بریلوی کے کاشانۂ اقدس کے دروازے پر حاضر ہوئے دستک دی تو آپ کے صاحبزادے نے آکر خبر دی کہ ابھی شیخ صاحب قبلہ اوراد و وظائف میں مصروف ہیں شاید کہ یہ آواز شیخ کی سماعت سے ٹکرا گئی کہ چند لمحے ہی ابھی ہوئے تھے کہ شیخ بریلوی خود باہر تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی
خیریت دریافت کرنے کے بعد جامعہ سے متعلق چند گفتگو ہوئی کہ جاوید مرکزی صاحب نے دلائل الخیرات شریف کی اجازت کے بابت اشارہ کیا میں نے بارگاہ شیخ میں عرض کیا: حضور یہ دونوں حضرات دلائل الخیرات شریف کی اجازت کے متمنی ہیں۔
اجازت اور قیمتی نصیحت ــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی نے ہم تینوں کو اور جو ہمارے ہمدرس ہیں غائبانہ ان کو بھی دلائل الخیرات شریف پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا:
جب شروع کر دیں تو ناغہ نہیں ہونا چاہیے زمانۂ تعلم میں زیادہ اوراد و وظائف نہ کریں زمانۂ تعلم میں زیادہ مطالعہ کرنا، کتابیں یاد کرنا یہی سب سے بڑی عبادت ہے زمانۂ تعلم میں یہ سب نہیں ہونا چاہیے بس اجازت دے دی
حضور شیخ بریلوی کی ان ناصحانہ کلمات سے ان حضرات کو سبق لینا چاہیے جو اوراد و وظائف کے نام پر کئی کئی گھنٹیاں غیر حاضر رہ جاتے ہیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک طالب علم کی بڑی عبادت مطالعہ کرنا اور کتابیں پڑھنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ایک گھڑی علم حاصل کرنا پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے
[مسند الفردوس رقم الحدیث ٣٩١٧]
ایک حدیث میں ہے خیر الجلیس الکتاب بہترین ہمنشین کتاب ہے
یہاں پر ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا کہ زمانۂ تعلم میں علما اوراد و وظائف سے بھی منع کرتے ہیں تاکہ تعلیم زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں تو وہ حضرات جو زمانۂ تعلم میں خود کو موبائل میں مصروف رکھتے ہیں گیمز وغیرہ کھیلتے ہیں ان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھ کیسا کھلواڑ کر رہے ہیں؟ اور ان کا مستقبل کتنا روشن ہو سکتا ہے ؟
حکایت ــــــــــ
ایک طالب علم کے بارے میں یہ شکایت پہنچی کہ وہ موبائل میں گیمز کھیلتا رہتا ہے پڑھتا نہیں ہے راقم الحروف کے ایک قریبی دوست نے اس طالب علم کو تقریبا ایک گھنٹا بٹھا کر سمجھایا اور کہا کہ آئندہ مت کھیلنا ورنہ تمہارے والد صاحب کو کہ دوں گا اس نے کہا ٹھیک ہے نہیں کھیلوں گا اسی دن شام کو جب اس طالب علم کے کمرے کی طرف سے گزرنا ہوا تو دیکھا کہ وہی طالب علم اب ایک موبائل نہیں بلکہ دو دو موبائل لے کر گیم کھیل رہا ہے
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگرm1
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثرm2
تعلیقات بر دلائل الخیرات ـــــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی حفظہ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ آج کل بازار میں دلائل الخیرات شریف کے جو نسخے دستیاب ہیں سب ایک سے ہیں ایک نے کتابت میں یا کسی اور طرح سے غلطی کر دی تو سب اسی کی اشاعت کر رہے ہیں پھر کچھ غلطی نمونے کے طور پر کتاب سے دکھائی (جنھیں ہم آگے ذکر کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ) اور فرمایا:
میں نے کچھ نمونہ دکھایا، جو جو غلطی نظر آئے اصلاح کر لیں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ہم۔۔۔۔۔۔۔قرآن عظیم کی تلاوت کی طرح تلاوت نہیں ہے اس کو لکھا انھوں نے ہے اب ہمیں اس کو اپنا کلام مان کے پڑھنا ہے نا! انشاء ہماری طرف سے ہے ہم دعا مانگ رہے ہیں تو ہمیں اس میں ساری کتاب کی اور کوئی خطا کتابت والی یا کچھ اور نظر آ رہی ہے ہم اصلاح کر لیں بلا شبہ وہ درست ہے۔ اپنے دل میں ہمارے لیے جو انشاء کا طریقہ ہونا چاہیے اس طریقے سے کریں گے، انشاء ہے نا! یا تلاوت کر رہے ہیں قرآن شریف کی طرح ؟ تلاوت نہیں کر رہے ہیں۔ بزرگوں کے کلام میں بے وجہ من گھڑت کوئی الزام نہیں لگانا چاہیے یہ بھی ہے، برکت اسی میں ہے جو ان کا کلام ہے لیکن صحیح میں ہے، خطا میں تھوڑی ہے خطا میں تاویل یہی کی جائے گی انھوں نے اپنی سمجھ سے لکھا ہے ہمارے طور پہ یہ ہونا چاہیے .
مقام اول: ـــــــــــــــــــ
الحزب الثالث فی یوم الاربعاء یعنی بدھ کے حزب میں ہے :
اللهم صلي و سلم و بارك علي سيدنا محمد و علي آل سيدنا محمد اكرم الكرماء من عبادك.
[دلائل الخیرات شریف مکتبۃ الصفا مصر ص : ٧٠۔۔۔۔۔۔ہندی ایڈیشن جو عام طور پر دستیاب ہیں ص : ٢٨٢]
الحزب الرابع فی یوم الخمیس یعنی جمعرات کے حزب میں ہے:
اللهم اجعله اكرم الاكرمين عندك منزلا.
[دلائل الخیرات مصری ایڈیشن مکتبہ الصفا ص: ٨٥۔۔۔۔۔۔۔ہندی ایڈیشن ص: ٣٠٨]
قارئین ان دونوں اقتباس میں ملاحظہ فرمائیں کہ ایک میں ہے اکرم الکرماء اور دوسرے میں ہے اکرم الاکرمین اب ان دونوں پر شیخ بریلوی کی تعلیق دیکھیں
تعلیق بر اکرم الکرماء ــــــــ
یہ اطلاق صحیح ہے آگے صفحہ ٣٨ [مصری ص ٨٥] (منزل پنجشنبہ) میں جو اکرم الاکرمین چھپا ہوا ہے وہ غلط ہے کیونکہ اکرم الاکرمین صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ حضور کے لیے اس صیغہ کا اطلاق ممنوع ہے۔ محمد صالح غفر لہ
تعلیق بر اکرم الاکرمین ــــــــــــ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اکرم الاکرمین کہنے کی اجازت نہیں
[فتاوی رضویہ جلد ٦ ص : ١٩٠] محمد صالح
[الکرماء] جیسا کہ اس کتاب میں پیچھے ص ٢٨٢ [مصری ص ٧٠] پر گزرا سطر ٥۔ محمد صالح
یعنی الاکرمین کی جگہ الکرماء پڑھا جائے اور اس کی تائید اسی کتاب کے حزب یوم الاربعاء سے ہوتی ہے۔
نیز فرماتے ہیں: کھینچ تان کر کے کوئی اسے بھی صحیح کرے گا کھینچ تان نہیں کرنا چاہیے اکرم الکرماء پڑھنا چاہیے۔
فتاوی رضویہ شریف کی عبارت یہ ہے:
حضو ر اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اکرم الاکرمین کہنے کے اجازت نہیں ، یہ نام پاک عرف میں رب العزت کے لئے ہے ، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اکرم الاولین والآخرین ہیں [حوالہ سابق]
یہ ایسے ہی ہے جیسے عز و جل کا اطلاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں کرنا چاہیے یہ خاص ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حالانکہ حضور عزت مآب اور جلیل القدر بھی ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے :
وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَا یَعۡلَمُونَ [المنافقون ٨]
بس اطلاق ممنوع ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکرم الاکرمین بھی ہیں اور عز و جل بھی۔
مقام دوم: ــــــــــــــــ
اکثر نسخوں میں یہاں تک کہ بعض مصری نسخوں میں بھی ہے:
لما یجب لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی اداء حقه قبلنا اذ آمنا به و صدقناه.
[ہندی ص ٣٠٦_ مصری ص ٨٤]
اس میں جو لفظ قبلنا ہے وہ قبلنا نہیں علینا ہے ورنہ معنی صحیح نہ ہوگا لہذا اسے یوں پڑھا جائے:
لما یجب لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی اداء حقه علینا اذ آمنا به و صدقناه.
مقام سوم: ـــــــــــــــــــــ
هذه الصلاة تعظيما لحقك يا سيدنا محمد
[ہندی نسخہ ص ٣٠٠]
اس پر شیخ بریلوی کی تعلیق ہے: یا رسول اللہ ۔
فقیر نے مکتبۃ الصفا سے چھپا ہوا مصری نسخہ میں دیکھا:
هذه الصلاة تعظيما لحقك يا محمد
ایسے ہی ایک جگہ ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِحَبِيبِكَ المُصْطَفَى عِنْدَكَ، يَا حبیبنا یا محمد [مصری نسخہ صفحہ ١١١] ہندی نسخہ میں یا کے بعد سیدنا کا اضافہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی نے لفظ محمد سے پہلے سیدنا کا اضافہ کیا تاکہ یا سیدنا محمد کہنے میں کوئی قباحت نہ ہو لیکن فقیر نے حضور شیخ بریلوی سے عرض کیا کہ حضور اس میں یا سیدنا محمد لفظ تعظیم کے ساتھ ہے تو بولنا جائز ہونا چاہیے جیسا کہ بعض بزرگوں نے ایسا فرمایا ہے تو آپ نے فرمایا:
یہ مناظرانہ جواب ہےاور لفظ محمد کوئی کہ رہا ہے کہ یا محمد تو وہاں وہ یہ کہ رہا ہے کہ میں حضور کے نام ذاتی نہیں مراد لے رہا ہوں یہاں میں حضور کے نام صفتی کا ذکر کر رہا ہوں محمد تعریف کیے ہوئے یہ چلے گا ؟ یہ اگلے آدمی کو مطمئن کرنے کے لیے ہے ارے بھائی سیدھی سیدھی بات ہے اور اعلی حضرت سے زیادہ کون محبت والا ہوگا؟ ہمیں تو ان کی رہنمائی چاہیے بس
اس کے بعد پھر فقیر نے عرض کیا کہ حضور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر سیدنا کے ساتھ ہو جیسے یا سیدنا محمد تو جائز ہوگا۔
آپ نے فرمایا : ہاں تو وہ اپنی جگہ ہے مگر ہمیں اپنے امام کی پیروی چاہیے۔
فتاوی رضویہ شریف میں ہے :
ایک بات یہ یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک لے کر جدا نہ چاہیے بلکہ اس کی جگہ یا رسول اللہ ہو۔
[فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ٦ ص : ٧٣]
مقام چہارم: ــــــــــــــــ
ثم تدعو بهذا الدعاء فإنَّه مرجو الإجابة إن شاءَ اللهُ بَعْد الصلاة على النبي ﷺ
[ہندی نسخہ ص ٢٤٣ _ مصری نسخہ ص ٤٧]
یہ اقتباس ہندی اور مصری دونوں نسخوں میں دعا اور درود کے درمیان اس طرح لکھا ہے جو غیر عربی دان ہیں وہ یا تو دعا میں یا درود میں ملا کر پڑھیں گے حالانکہ یہ پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ہدایت ہے کہ درود شریف کے بعد درج ذیل دعا کے ذریعے دعا مانگنے سے دعا ان شاءاللہ تعالیٰ بارگاہ ایزدی میں قبول ہوگی۔
مقام پنجم ــــــــــــــــ
و ارفع فی اھل علیین درجته
[ہندی نسخہ ص ٢٩٦ مصری نسخہ ص ٧٨]
یہ اھل علیین نہیں بلکہ اعلی علیین ہے
مقام ششم ـــــــــــــــ
پنجشنبہ کے اخیر جز میں ہے :
، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْأَسْمَاءِ الْعِظَامِ الَّتِي سَمَّيْتَ بِهَا نَفْسَكَ، مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمَ.
یہاں پر حزب بند ہو گیا اور مالم اعلم پر حزب ختم ہو گیا یہ ادھورا جملہ ہے أَسْأَلُكَ کا مسئول کہاں ہے؟ نہیں ہے نا! تو اس لیے یا تو پڑھنے والا الزیتون پر ختم کر دے اور بعینہ وہی جملہ آگے آ رہا ہے جمعہ کے حزب میں تو جمعہ کے دن جمعہ کے حزب سے شروع کرے اس لیے کہ اس کا مسئول جمعہ والے حزب میں آگے مذکور ہے :
ان تصلی علی محمد نبیك عدد ما خلقته.........!
اور اگر اسے جمعرات والے حزب میں ہی پڑھنا چاہے تو آگے اس کا مسئول بڑھا دے جیسے:
وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْأَسْمَاءِ الْعِظَامِ الَّتِي سَمَّيْتَ بِهَا نَفْسَكَ، مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمَ. ان تصلي و تسلم و تُبارك علي عبدك الحبيب سيدنا محمد و علي آله الكرام و علي اصحابه العظام و جميع اهل بيته المكرمين ۔
مقام ہفتم: ـــــــــــ
اللَّهُمَّ آمِينَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ.
قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَرَأَ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَرَّةً وَاحِدَةً.............وَفِي رِوَايَةٍ
[ہندی نسخہ ٣٣٥_٣٣٦ مصری نسخہ ٩٠_٩٩]
یہ مکمل اقتباس ہندی نسخوں میں تقریبا دو صفحوں پر اور مصری نسخہ میں ایک صفحہ پر مشتمل ہے اسے وظیفے میں پڑھنا نہیں ہے لیکن لکھا اس طرح گیا ہے کہ پڑھنے والا اسے بھی پڑھتے ہوئے چلے جائے خاص کر عجمی عوام
مقام ہشتم : ـــــــــــــ
دعاك بها سيدنا اسمعیل عليه السلام۔
[شنبہ کا حزب ہندی نسخہ ص ٣٦٦ مصری نسخہ ص ١١٢]
اس اقتباس کے بعد حضور شیخ بریلوی کا نوٹ ملاحظہ فرمائیں:
نوٹ: حضرت لوط علیہ السلام کا اسم گرامی پوری کتاب دلائل الخیرات میں کہیں نہیں آیا ہے،۔ تو پڑھنے والے کو خود کسی نہ کسی جگہ پڑھ لینا چاہیے، مثلا یہیں کہ لے:
دعاك بها سيدنا لوط عليه السلام۔
مقام نہم: ـــــــــــــــ
الحزب السابع فی یوم الاحد یعنی اتوار کے دن کا حزب شروع ہوتا و ان تصلي سے تو اس جگہ واو کو حذف کر کے یوں پڑھیں گے
اللھم انی اسئلك ان تصلي............الخ
مقام دہم: ــــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی حفظہ اللہ القوی کو پہلی مرتبہ ۲۰۰۷ء میں اور دوسری مرتبہ ٢٠١٤ء میں حج بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سعادت سے اللہ تعالی نے مسعود فرمایا۔
[ذکری للذاکرین جلد اول ص ٥٦]
اسی لیے دلائل الخیرات شریف کے اخیر میں جو دعا مرقوم ہے
اس کا ایک اقتباس:
و یسر علینا زیارۃ حرمك و حرمه من قبل ان تميتنا
میں آپ نے اعادۃ کا اضافہ فرمایا یعنی اسے اس طرح پڑھتے:
و یسر علینا اعادۃ زیارۃ حرمك و حرمه من قبل ان تميتنا
معلوم ہوا جو حضرات حرمین شریفین کی زیارت سے شرف یاب ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اعادۃ کا اضافہ فرمائیں یہ بہتر ہے
اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری لفظی اور علامات الترقیم کی خطاؤں کی حضور شیخ بریلوی نے نشان دہی فرمائی ہے جنھیں طوالت کے خوف سے چھوڑ رہا ہوں کیونکہ وہ چیزیں ادنی توجہ سے بھی انسان سمجھ سکتا ہے لیکن عوام کے لیے بہر حال ان خطاؤں کے سمجھنے میں بھی مشقت ہے اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ ہندوستان میں جو نسخے عام طور پر دستیاب ہیں انھیں چھوڑ کر بیروت کا کوئی نسخہ پرنٹ کر کے اپنے پاس رکھ لیں اور اوپر جن غلطیوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہیں انھیں صحیح کر لیں پھر ان شاءاللہ تعالیٰ کوئی دقت نہیں ہوگی
اللہ جل جلالہ استاذنا المکرم حضور شیخ بریلوی کی عمر شریف میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے نیز ہمیں دلائل الخیرات شریف صحیح طریقے سے پڑھنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
<button id=copyBtn>📋 مضمون کاپی کریں</button>
✔ مضمون کاپی ہو گیا
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: مسجد ازہر، قاہرہ، مصر
واٹس ایپ: 9523788434
نمونۂ اسلاف، منظور نظر حضور مفتی اعظم ہند، اعلم علماء بلد، مستجاب الدعوات، فقیہہ فقید المثال، عابد شب زندہ دار، نکتہ رس، نکتہ دان، مرجع العلماء، و الفقہاء، نبض شناس، منبع زہد، و ورع، عظیم المرتبت، استاذی الکریم، حضرت علامہ، فہامہ، مفتی شیخ محمد صالح رضوی محدث بریلوی حفظہ اللہ القوی کی ذات بڑی با فیض ذات ہے، اس بارگاہ میں ایک پل بیٹھنے سے خشیت الٰہی سے بدن لرزہ بر اندام ہو جاتا ہے، دل یاد الٰہی میں غرقاب ہو جاتا ہے
بلکہ دل کے دھڑکنے سے عالم عناصر اربعہ میں ایک بجلی کڑکتی ہے جس سے یہ آواز نکلتی ہے
خودی کا سِرِّ نہاں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm1
خودی ہے تیغ، فَساں لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm2
یہ نغمہ فصلِ گُل و لالہ کا نہیں پابندm3
بہار ہو کہ خزاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہm4
شرف ملاقات ــــــــــــــــــــ
جامعۃ الرضا کی علمی فضا میں پھولنے پھلنے والے جناب محمد جاوید مرکزی، جناب محمد جعفر حسین صدیقی مرکزی محدث بریلوی حضور شیخ صالح صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ کی بارگاہ میں حاضری دینے کی خواہش کا اظہار کیا فقیر نے کہا ٹھیک ہے چلتے ہیں بزرگوں کی بارگاہوں میں حاضری طریقۂ اسلاف بھی ہے اور ہماری سعادت مندی بھی۔
مؤرخہ ٢٧ رجب المرجب شریف ١٤٤٧ھ بمطابق ١٦ جنوری ٢٠٢٦ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب شیخ بریلوی کے کاشانۂ اقدس کے دروازے پر حاضر ہوئے دستک دی تو آپ کے صاحبزادے نے آکر خبر دی کہ ابھی شیخ صاحب قبلہ اوراد و وظائف میں مصروف ہیں شاید کہ یہ آواز شیخ کی سماعت سے ٹکرا گئی کہ چند لمحے ہی ابھی ہوئے تھے کہ شیخ بریلوی خود باہر تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی
خیریت دریافت کرنے کے بعد جامعہ سے متعلق چند گفتگو ہوئی کہ جاوید مرکزی صاحب نے دلائل الخیرات شریف کی اجازت کے بابت اشارہ کیا میں نے بارگاہ شیخ میں عرض کیا: حضور یہ دونوں حضرات دلائل الخیرات شریف کی اجازت کے متمنی ہیں۔
اجازت اور قیمتی نصیحت ــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی نے ہم تینوں کو اور جو ہمارے ہمدرس ہیں غائبانہ ان کو بھی دلائل الخیرات شریف پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا:
جب شروع کر دیں تو ناغہ نہیں ہونا چاہیے زمانۂ تعلم میں زیادہ اوراد و وظائف نہ کریں زمانۂ تعلم میں زیادہ مطالعہ کرنا، کتابیں یاد کرنا یہی سب سے بڑی عبادت ہے زمانۂ تعلم میں یہ سب نہیں ہونا چاہیے بس اجازت دے دی
حضور شیخ بریلوی کی ان ناصحانہ کلمات سے ان حضرات کو سبق لینا چاہیے جو اوراد و وظائف کے نام پر کئی کئی گھنٹیاں غیر حاضر رہ جاتے ہیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک طالب علم کی بڑی عبادت مطالعہ کرنا اور کتابیں پڑھنا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ایک گھڑی علم حاصل کرنا پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے
[مسند الفردوس رقم الحدیث ٣٩١٧]
ایک حدیث میں ہے خیر الجلیس الکتاب بہترین ہمنشین کتاب ہے
یہاں پر ایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا کہ زمانۂ تعلم میں علما اوراد و وظائف سے بھی منع کرتے ہیں تاکہ تعلیم زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں تو وہ حضرات جو زمانۂ تعلم میں خود کو موبائل میں مصروف رکھتے ہیں گیمز وغیرہ کھیلتے ہیں ان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ساتھ کیسا کھلواڑ کر رہے ہیں؟ اور ان کا مستقبل کتنا روشن ہو سکتا ہے ؟
حکایت ــــــــــ
ایک طالب علم کے بارے میں یہ شکایت پہنچی کہ وہ موبائل میں گیمز کھیلتا رہتا ہے پڑھتا نہیں ہے راقم الحروف کے ایک قریبی دوست نے اس طالب علم کو تقریبا ایک گھنٹا بٹھا کر سمجھایا اور کہا کہ آئندہ مت کھیلنا ورنہ تمہارے والد صاحب کو کہ دوں گا اس نے کہا ٹھیک ہے نہیں کھیلوں گا اسی دن شام کو جب اس طالب علم کے کمرے کی طرف سے گزرنا ہوا تو دیکھا کہ وہی طالب علم اب ایک موبائل نہیں بلکہ دو دو موبائل لے کر گیم کھیل رہا ہے
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگرm1
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثرm2
تعلیقات بر دلائل الخیرات ـــــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی حفظہ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ آج کل بازار میں دلائل الخیرات شریف کے جو نسخے دستیاب ہیں سب ایک سے ہیں ایک نے کتابت میں یا کسی اور طرح سے غلطی کر دی تو سب اسی کی اشاعت کر رہے ہیں پھر کچھ غلطی نمونے کے طور پر کتاب سے دکھائی (جنھیں ہم آگے ذکر کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ) اور فرمایا:
میں نے کچھ نمونہ دکھایا، جو جو غلطی نظر آئے اصلاح کر لیں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ہم۔۔۔۔۔۔۔قرآن عظیم کی تلاوت کی طرح تلاوت نہیں ہے اس کو لکھا انھوں نے ہے اب ہمیں اس کو اپنا کلام مان کے پڑھنا ہے نا! انشاء ہماری طرف سے ہے ہم دعا مانگ رہے ہیں تو ہمیں اس میں ساری کتاب کی اور کوئی خطا کتابت والی یا کچھ اور نظر آ رہی ہے ہم اصلاح کر لیں بلا شبہ وہ درست ہے۔ اپنے دل میں ہمارے لیے جو انشاء کا طریقہ ہونا چاہیے اس طریقے سے کریں گے، انشاء ہے نا! یا تلاوت کر رہے ہیں قرآن شریف کی طرح ؟ تلاوت نہیں کر رہے ہیں۔ بزرگوں کے کلام میں بے وجہ من گھڑت کوئی الزام نہیں لگانا چاہیے یہ بھی ہے، برکت اسی میں ہے جو ان کا کلام ہے لیکن صحیح میں ہے، خطا میں تھوڑی ہے خطا میں تاویل یہی کی جائے گی انھوں نے اپنی سمجھ سے لکھا ہے ہمارے طور پہ یہ ہونا چاہیے .
مقام اول: ـــــــــــــــــــ
الحزب الثالث فی یوم الاربعاء یعنی بدھ کے حزب میں ہے :
اللهم صلي و سلم و بارك علي سيدنا محمد و علي آل سيدنا محمد اكرم الكرماء من عبادك.
[دلائل الخیرات شریف مکتبۃ الصفا مصر ص : ٧٠۔۔۔۔۔۔ہندی ایڈیشن جو عام طور پر دستیاب ہیں ص : ٢٨٢]
الحزب الرابع فی یوم الخمیس یعنی جمعرات کے حزب میں ہے:
اللهم اجعله اكرم الاكرمين عندك منزلا.
[دلائل الخیرات مصری ایڈیشن مکتبہ الصفا ص: ٨٥۔۔۔۔۔۔۔ہندی ایڈیشن ص: ٣٠٨]
قارئین ان دونوں اقتباس میں ملاحظہ فرمائیں کہ ایک میں ہے اکرم الکرماء اور دوسرے میں ہے اکرم الاکرمین اب ان دونوں پر شیخ بریلوی کی تعلیق دیکھیں
تعلیق بر اکرم الکرماء ــــــــ
یہ اطلاق صحیح ہے آگے صفحہ ٣٨ [مصری ص ٨٥] (منزل پنجشنبہ) میں جو اکرم الاکرمین چھپا ہوا ہے وہ غلط ہے کیونکہ اکرم الاکرمین صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ حضور کے لیے اس صیغہ کا اطلاق ممنوع ہے۔ محمد صالح غفر لہ
تعلیق بر اکرم الاکرمین ــــــــــــ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اکرم الاکرمین کہنے کی اجازت نہیں
[فتاوی رضویہ جلد ٦ ص : ١٩٠] محمد صالح
[الکرماء] جیسا کہ اس کتاب میں پیچھے ص ٢٨٢ [مصری ص ٧٠] پر گزرا سطر ٥۔ محمد صالح
یعنی الاکرمین کی جگہ الکرماء پڑھا جائے اور اس کی تائید اسی کتاب کے حزب یوم الاربعاء سے ہوتی ہے۔
نیز فرماتے ہیں: کھینچ تان کر کے کوئی اسے بھی صحیح کرے گا کھینچ تان نہیں کرنا چاہیے اکرم الکرماء پڑھنا چاہیے۔
فتاوی رضویہ شریف کی عبارت یہ ہے:
حضو ر اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اکرم الاکرمین کہنے کے اجازت نہیں ، یہ نام پاک عرف میں رب العزت کے لئے ہے ، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اکرم الاولین والآخرین ہیں [حوالہ سابق]
یہ ایسے ہی ہے جیسے عز و جل کا اطلاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں کرنا چاہیے یہ خاص ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حالانکہ حضور عزت مآب اور جلیل القدر بھی ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے :
وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِینَ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَا یَعۡلَمُونَ [المنافقون ٨]
بس اطلاق ممنوع ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکرم الاکرمین بھی ہیں اور عز و جل بھی۔
مقام دوم: ــــــــــــــــ
اکثر نسخوں میں یہاں تک کہ بعض مصری نسخوں میں بھی ہے:
لما یجب لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی اداء حقه قبلنا اذ آمنا به و صدقناه.
[ہندی ص ٣٠٦_ مصری ص ٨٤]
اس میں جو لفظ قبلنا ہے وہ قبلنا نہیں علینا ہے ورنہ معنی صحیح نہ ہوگا لہذا اسے یوں پڑھا جائے:
لما یجب لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی اداء حقه علینا اذ آمنا به و صدقناه.
مقام سوم: ـــــــــــــــــــــ
هذه الصلاة تعظيما لحقك يا سيدنا محمد
[ہندی نسخہ ص ٣٠٠]
اس پر شیخ بریلوی کی تعلیق ہے: یا رسول اللہ ۔
فقیر نے مکتبۃ الصفا سے چھپا ہوا مصری نسخہ میں دیکھا:
هذه الصلاة تعظيما لحقك يا محمد
ایسے ہی ایک جگہ ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِحَبِيبِكَ المُصْطَفَى عِنْدَكَ، يَا حبیبنا یا محمد [مصری نسخہ صفحہ ١١١] ہندی نسخہ میں یا کے بعد سیدنا کا اضافہ ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی نے لفظ محمد سے پہلے سیدنا کا اضافہ کیا تاکہ یا سیدنا محمد کہنے میں کوئی قباحت نہ ہو لیکن فقیر نے حضور شیخ بریلوی سے عرض کیا کہ حضور اس میں یا سیدنا محمد لفظ تعظیم کے ساتھ ہے تو بولنا جائز ہونا چاہیے جیسا کہ بعض بزرگوں نے ایسا فرمایا ہے تو آپ نے فرمایا:
یہ مناظرانہ جواب ہےاور لفظ محمد کوئی کہ رہا ہے کہ یا محمد تو وہاں وہ یہ کہ رہا ہے کہ میں حضور کے نام ذاتی نہیں مراد لے رہا ہوں یہاں میں حضور کے نام صفتی کا ذکر کر رہا ہوں محمد تعریف کیے ہوئے یہ چلے گا ؟ یہ اگلے آدمی کو مطمئن کرنے کے لیے ہے ارے بھائی سیدھی سیدھی بات ہے اور اعلی حضرت سے زیادہ کون محبت والا ہوگا؟ ہمیں تو ان کی رہنمائی چاہیے بس
اس کے بعد پھر فقیر نے عرض کیا کہ حضور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر سیدنا کے ساتھ ہو جیسے یا سیدنا محمد تو جائز ہوگا۔
آپ نے فرمایا : ہاں تو وہ اپنی جگہ ہے مگر ہمیں اپنے امام کی پیروی چاہیے۔
فتاوی رضویہ شریف میں ہے :
ایک بات یہ یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک لے کر جدا نہ چاہیے بلکہ اس کی جگہ یا رسول اللہ ہو۔
[فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ٦ ص : ٧٣]
مقام چہارم: ــــــــــــــــ
ثم تدعو بهذا الدعاء فإنَّه مرجو الإجابة إن شاءَ اللهُ بَعْد الصلاة على النبي ﷺ
[ہندی نسخہ ص ٢٤٣ _ مصری نسخہ ص ٤٧]
یہ اقتباس ہندی اور مصری دونوں نسخوں میں دعا اور درود کے درمیان اس طرح لکھا ہے جو غیر عربی دان ہیں وہ یا تو دعا میں یا درود میں ملا کر پڑھیں گے حالانکہ یہ پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ ایک ہدایت ہے کہ درود شریف کے بعد درج ذیل دعا کے ذریعے دعا مانگنے سے دعا ان شاءاللہ تعالیٰ بارگاہ ایزدی میں قبول ہوگی۔
مقام پنجم ــــــــــــــــ
و ارفع فی اھل علیین درجته
[ہندی نسخہ ص ٢٩٦ مصری نسخہ ص ٧٨]
یہ اھل علیین نہیں بلکہ اعلی علیین ہے
مقام ششم ـــــــــــــــ
پنجشنبہ کے اخیر جز میں ہے :
، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْأَسْمَاءِ الْعِظَامِ الَّتِي سَمَّيْتَ بِهَا نَفْسَكَ، مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمَ.
یہاں پر حزب بند ہو گیا اور مالم اعلم پر حزب ختم ہو گیا یہ ادھورا جملہ ہے أَسْأَلُكَ کا مسئول کہاں ہے؟ نہیں ہے نا! تو اس لیے یا تو پڑھنے والا الزیتون پر ختم کر دے اور بعینہ وہی جملہ آگے آ رہا ہے جمعہ کے حزب میں تو جمعہ کے دن جمعہ کے حزب سے شروع کرے اس لیے کہ اس کا مسئول جمعہ والے حزب میں آگے مذکور ہے :
ان تصلی علی محمد نبیك عدد ما خلقته.........!
اور اگر اسے جمعرات والے حزب میں ہی پڑھنا چاہے تو آگے اس کا مسئول بڑھا دے جیسے:
وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْأَسْمَاءِ الْعِظَامِ الَّتِي سَمَّيْتَ بِهَا نَفْسَكَ، مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمَ. ان تصلي و تسلم و تُبارك علي عبدك الحبيب سيدنا محمد و علي آله الكرام و علي اصحابه العظام و جميع اهل بيته المكرمين ۔
مقام ہفتم: ـــــــــــ
اللَّهُمَّ آمِينَ، يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ.
قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَرَأَ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَرَّةً وَاحِدَةً.............وَفِي رِوَايَةٍ
[ہندی نسخہ ٣٣٥_٣٣٦ مصری نسخہ ٩٠_٩٩]
یہ مکمل اقتباس ہندی نسخوں میں تقریبا دو صفحوں پر اور مصری نسخہ میں ایک صفحہ پر مشتمل ہے اسے وظیفے میں پڑھنا نہیں ہے لیکن لکھا اس طرح گیا ہے کہ پڑھنے والا اسے بھی پڑھتے ہوئے چلے جائے خاص کر عجمی عوام
مقام ہشتم : ـــــــــــــ
دعاك بها سيدنا اسمعیل عليه السلام۔
[شنبہ کا حزب ہندی نسخہ ص ٣٦٦ مصری نسخہ ص ١١٢]
اس اقتباس کے بعد حضور شیخ بریلوی کا نوٹ ملاحظہ فرمائیں:
نوٹ: حضرت لوط علیہ السلام کا اسم گرامی پوری کتاب دلائل الخیرات میں کہیں نہیں آیا ہے،۔ تو پڑھنے والے کو خود کسی نہ کسی جگہ پڑھ لینا چاہیے، مثلا یہیں کہ لے:
دعاك بها سيدنا لوط عليه السلام۔
مقام نہم: ـــــــــــــــ
الحزب السابع فی یوم الاحد یعنی اتوار کے دن کا حزب شروع ہوتا و ان تصلي سے تو اس جگہ واو کو حذف کر کے یوں پڑھیں گے
اللھم انی اسئلك ان تصلي............الخ
مقام دہم: ــــــــــــــــ
حضور شیخ بریلوی حفظہ اللہ القوی کو پہلی مرتبہ ۲۰۰۷ء میں اور دوسری مرتبہ ٢٠١٤ء میں حج بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سعادت سے اللہ تعالی نے مسعود فرمایا۔
[ذکری للذاکرین جلد اول ص ٥٦]
اسی لیے دلائل الخیرات شریف کے اخیر میں جو دعا مرقوم ہے
اس کا ایک اقتباس:
و یسر علینا زیارۃ حرمك و حرمه من قبل ان تميتنا
میں آپ نے اعادۃ کا اضافہ فرمایا یعنی اسے اس طرح پڑھتے:
و یسر علینا اعادۃ زیارۃ حرمك و حرمه من قبل ان تميتنا
معلوم ہوا جو حضرات حرمین شریفین کی زیارت سے شرف یاب ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اعادۃ کا اضافہ فرمائیں یہ بہتر ہے
اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری لفظی اور علامات الترقیم کی خطاؤں کی حضور شیخ بریلوی نے نشان دہی فرمائی ہے جنھیں طوالت کے خوف سے چھوڑ رہا ہوں کیونکہ وہ چیزیں ادنی توجہ سے بھی انسان سمجھ سکتا ہے لیکن عوام کے لیے بہر حال ان خطاؤں کے سمجھنے میں بھی مشقت ہے اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ ہندوستان میں جو نسخے عام طور پر دستیاب ہیں انھیں چھوڑ کر بیروت کا کوئی نسخہ پرنٹ کر کے اپنے پاس رکھ لیں اور اوپر جن غلطیوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہیں انھیں صحیح کر لیں پھر ان شاءاللہ تعالیٰ کوئی دقت نہیں ہوگی
اللہ جل جلالہ استاذنا المکرم حضور شیخ بریلوی کی عمر شریف میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے نیز ہمیں دلائل الخیرات شریف صحیح طریقے سے پڑھنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
<button id=copyBtn>📋 مضمون کاپی کریں</button>
✔ مضمون کاپی ہو گیا
مزید علمی و تحقیقی مضامین پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ کو فالو کریں اور ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں!
jamiaturrazastudents.com
[your_author_profile_shortcode]



















