صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
پہلے قطب: امامِ سلسلۂ برکاتیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

حضور صاحب البرکات شاہ برکت اللّٰہ عشقی علیہ الرحمۃ والرضوان

دین و دنیا کی مجھے برکات دے برکات سے
عشقِ حق دے عشقئؔ عشق انتما کے واسطے (آمین)
شاہِ برکات و برکات پیشینیاں
نَو بَہارِ طریقت پہ لاکھوں سلام
(✍🏻: سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضؔا خان علیہ الرحمۃ والرضوان)
نام و نسب:
آپ کا نام: حضرت سید شاہ ”برکت اللہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ القاب: سلطان المناظرین، سید المتکلمین، شہنشاہِ تقریر و تحریر، مایہ ناز ادیب، سلطان العاشقین، قدوۃ الواصلین، صاحب البرکات اور امامِ سلسلۂ برکاتیہ مشہور ہیں۔ تخلص: اردو و فارسی میں عشقیؔ جبکہ ہندی میں پیمیؔ ہے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے والد ماجد کا نام سید الراحمین حضرت سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (متوفی: ٢٠؍رجب المرجب ؁١٠٩٧ھ بمقام بلگرام شریف) ہے اور جد امجد کا اسمِ گرامی مقدام العارفین حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (ولادت: ٢٠؍رجب المرجب ؁٩٧٢ھ - متوفی: ٨؍صفر المظفر ؁١٠٥٧ھ بروز پیر بمقام مارہرہ مطہرہ) ہے۔ حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سند المحققین حضرت سید شاہ میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ (متوفی: ٣؍رمضان الکریم ؁١٠١٧ھ) کے سب سے بڑے شہزادے ہیں۔ (مکمل نسب شریف حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ میں مذکور ہے) حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے برادران کا نام حضرت سید شاہ عظمت اللّٰہ و حضرت سید شاہ رحمت اللّٰہ و حضرت سید شاہ رہبر ہے، رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔
ولادت باسعادت:
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت مبارکہ ٢٦؍جمادی الآخر ؁١٠٧٠ھ کو بلگرام شریف میں ہوئی۔
مارہرہ شریف آمد:
مارہرہ مطہرہ میں سب سے پہلے حضرت سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے۔ پھر آپ کے بڑے شہزادے سیدنا میر عبدالجلیل رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ اپنی سجادہ نشینی کو ترک فرماکر مارہرہ مطہرہ تشریف لے آئے اور بلگرام شریف میں حضرت سید میر محمد طیب بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ سید میر عبدالجلیل بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے شہزادے سیدنا میر محمد اویس قدس سرہ العزیز بلگرام شریف میں رہے اور وہیں وصالِ ظاہری ہوا۔ پھر سیدنا میر محمد اویس قدس سرہ العزیز کے شہزادے حضرت سیدنا شاہ برکت اللّٰہ عشؔقی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضرت اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمۃ کے زمانہ میں مارہرہ مطہرہ تشریف لائے۔ اس وقت چند افغانیوں کی مکان تھے جو قومِ گونڈل کہلاتے تھے۔ ان سب نے حضور صاحب البرکات کو بہت تکلیف دی یہاں تک کہ حضور صاحب البرکات کی دعا سے چند ہی دن میں سب ہلاک ہو گئے۔ حضور صاحب البرکات نے دوبارہ بلگرام شریف جانے کا ارادہ فرمایا تو فرید خان عامل مارہرہ کی اصرار پر ارادہ ترک فرما کر وہیں قیام فرما رہے۔ اس وقت مارہرہ شریف کے قطب حضرت سید جلال علیہ الرحمۃ تھے۔ بڑے کمال سالک تھے، ”خرؔد“ تخلص فرماتے تھے، ”بوستانِ خرد“ سید جلال کی مشہور تصنیف ہے۔
اجازت و خلافت:
سب سے پہلے حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اجازت و خلافت اپنے والد ماجد حضور میر اویس رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
فص الکلمات میں ہے: ایک رات حضور صاحب البرکات رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو حضور پیرانِ پیر سیدنا غوث الاعظم دستگیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ حضور محبوبِ سبحانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بشارت عطا فرمائی کہ آپ پشتہا پشت کے لیے مارہرہ مطہرہ کے قطب مقرر کیے گئے ہیں۔ جلد از جلد کسی مرید کو کلیر بھیجیں تاکہ آپ کو اس ولایت و قطبیت کی سند مع خلعت کے دی جائے۔ صبح حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی اطلاع حضرت سید جلال قدس سرہٗ کو دی تو سید جلال علیہ الرحمۃ نے فرمایا: ”جس جگہ جمال ہو وہاں جلال کی کیا ضرورت ؟ جب عاشق آئے تو عقل کیوں باقی کیسے باقی رہے ؟“ اسی کے ساتھ حضرت سید جلال علیہ الرحمۃ کا وصال ہوا۔ پھر حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے پیم نگر برکاتی نگری آباد فرمائی جو ابھی بستی پیر زادگان کے نام سے مشہور ہے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور سلطان الاولیاء غوث پاک رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے عشق میں سرشار رہتے تھے۔ کبھی سیرابی نہ ملتی۔ اسی عشق میں ڈوب کر کالپی شریف تشریف لے گئے اور شیخ طریقت ولئ نعمت حضور سید شاہ مخدوم فضل اللّٰہ کالپوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے۔ سرکار کالپی نے قطب مارہرہ شریف کا استقبال سینے سے لگا کر کیا اور اپنی ٹوپی عطا فرمائی اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ”دریا بہ دریا پیوست“ (دریا دریا سے مل گیا) پھر سلسلۂ قادریہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔ اور پھر اسی کلمے سے ہی حضور فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہمارے حضور سرکار صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلوک و تصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرا دی۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں:
روزِ اول نصیبۂ عشقؔی ز راہِ عشق
بادشاہِ کالپی ہمہ پیماں نوشتہ اند
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
اندراں صحرا کہ شہرِ آنرا گذر گاہیست بس
عشقؔیا راہش ز شاہِ کالپی پرسید نیست
محبتِ سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکارِ بغداد، سلطانُ الاولیاء، محبوبِ سبحانی، غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہِ اقدس سے بے انتہا عقیدت، محبت اور روحانی نسبت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ آپ کو سلاسلِ اربعہ؛ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ میں اجازت و خلافت حاصل تھی، تاہم آپ خاص طور پر سلسلۂ قادریہ ہی میں بیعت فرمایا کرتے اور اپنے مریدین کو بھی اسی چشمۂ فیض سے سیراب فرماتے تھے۔ آپ کی توجہات کا مرکز بھی زیادہ تر فیضانِ غوثیت ہی رہا۔ بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کو اور آپ کے مریدین و متوسلین کو ایک عظیم بشارت اور خصوصی سعادت عطا ہوئی۔ روایت ہے کہ حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے خاندان کے مریدوں اور متوسلوں کی شفاعت کا ذمہ دار ہوں۔ خدا کی قسم! میں جنت میں قدم نہیں رکھوں گا جب تک تمہارے خاندان کے مریدوں اور متوسلوں کو جنت میں داخل نہ کرا دوں۔“
یہ بشارت درحقیقت اس عظیم روحانی تعلق، قلبی وابستگی اور فیضانِ غوثیت کا روشن مظہر ہے جو حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خانوادۂ عالیہ کو بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل تھا۔
سات اقطاب کی بشارت:
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آل میں سات قطب پیدا ہونے کی بشارت فرماتے ہوئے حضرت بو علی شاہ پانی پتی رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے ذریعے اپنی تسبیح کے سات دانے اس بشارت کی تصدیق میں عطا فرمائے۔ ساتھ ہی سرکار غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ایسا جملہ ارشاد فرمایا جس پر صبح قیامت تک برکاتی غلام فخر بھی کریں گے اور مطمئن بھی رہیں گے۔ سرکار بغداد نے ارشاد فرمایا: ”برکت اللّٰہ! عبد القادر جب تک تیرے مریدوں کو جنت میں نہ داخل کرادے گا خود جنت میں داخل نہ ہوگا۔“
عبادت:
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عبادت و ریاضت کا عالم نرالا تھا۔ آپ نے سلوک و تصوف کی ان تمام منزلوں کو طے فرمایا جس کے بعد مقام محبوبیت اور تاج ولایت حاصل ہوتا ہے۔ عبادتوں کا یہ عالم تھا کہ تاریخ داں لکھتے ہیں کہ 26؍سال مسلسل حالت روزہ میں رہے اور کھجور اور قلیل غذا سے افطار فرماتے ہوئے بیشتر وقت یاد الٰہی میں غرق رہتے اور مدتوں رات بھر بیدار اور مشغول عبادت رہتے۔ حضور صاحب البرکات رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سلسلۂ قادریہ میں مرید فرماتے تھے۔
شیخ سدو کی حقیقت:
حضرت سیدنا شاہ اچھے میاں مارہروی قدس سرہٗ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ”آئینِ احمدی“ میں تحریر فرماتے ہیں: شیخ سدو انسانی نسل ہی کا ایک فرد تھا۔ اس کا زمانہ گیارہویں صدی ہجری کے آخری دور سے تعلق رکھتا ہے، جب برصغیر میں عادل و منصف بادشاہ حضرت محی الدین اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم تھی۔ وہ کلکتہ کے نواحی علاقے کا رہنے والا تھا اور ایک نہایت مؤثر عمل کا عامل مشہور تھا، جو اونٹ کے بالوں پر پڑھا جاتا تھا۔
شیخ سدو نہایت بدخصلت اور نفسانی خواہشات کا غلام تھا۔ گناہوں سے اسے اس قدر پیار ہو چکا تھا کہ دن رات برے افعال اور ناپسندیدہ حرکات میں مشغول رہتا۔ اپنی تسخیری قوت اور موکّلوں کے ذریعے وہ ہر روز کسی نئی عورت کو اپنے پاس بلواتا اور اپنی شہوانی خواہشات پوری کرتا۔ اگرچہ اس کے موکل اس کے ان خلافِ شرع افعال سے خوش نہ تھے، لیکن اس کے زیرِ اثر ہونے کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔
اس کا معمول تھا کہ جب کسی گناہ میں مبتلا ہوتا تو اپنے گرد ایک خاص حصار قائم کر لیتا اور احتیاطاً پانی بھی اپنے پاس رکھ لیتا۔ ایک روز اتفاقاً وہ پانی حصار میں رکھنا بھول گیا۔ جب اپنے فعلِ بد سے فارغ ہوا اور پانی طلب کیا تو موکلوں کو پکارا۔ موکل مدت سے اسی موقع کے منتظر تھے کہ کب اسے انجام تک پہنچائیں۔ چنانچہ انہوں نے فوراً اسے قابو کر لیا اور ایک بلند پہاڑی سے نیچے گرا کر ہلاک کر دیا۔
شیخ سدو اپنی تسخیری قوتوں اور شعبدہ بازیوں کے باعث عوام کے دلوں پر گہرا اثر جما چکا تھا۔ بہت سے لوگ اس کے معتقد بن گئے تھے۔ وہ اپنی عقیدت مندی کا اظہار اس کی نذر و نیاز، چڑھاووں اور مختلف رسموں کے ذریعے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کا اثر مارہرہ مطہرہ تک پہنچ گیا، کیونکہ وہاں کے بعض لوگوں کے رشتہ دار اس کے علاقوں میں آباد تھے اور انہی کے ذریعے یہ رسمیں وہاں رائج ہو گئی تھیں۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیضان:
جب حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ مارہرہ شریف تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ شیخ سدو کے نام کی نیازیں دلا رہے ہیں، کڑھائیاں چڑھا رہے ہیں اور طرح طرح کی رسمیں ادا کر رہے ہیں۔ آپ نے فوراً انہیں شریعتِ مطہرہ کا حکم بتایا اور سمجھایا کہ ایک بدکردار اور گمراہ شخص کے ساتھ عقیدت وابستہ رکھنا جائز نہیں۔ آپ کے مخلصانہ اور پراثر کلمات لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے اور رفتہ رفتہ وہ اس باطل رسم سے باز آنے لگے۔
شیخ سدو کا مقابلہ:
لوگوں کا رجحان اپنی طرف سے ہٹتا دیکھ کر شیخ سدو سخت پریشان ہوا۔ ایک دن وہ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: ”تم نہ خود میرے معتقد ہوئے ہو اور نہ دوسروں کو میرے پاس آنے دیتے ہو، لہٰذا میں تم سے مقابلہ کروں گا۔“ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلال بھرے انداز میں اسے ڈانٹا تو وہ خوف زدہ ہو کر فوراً بھاگ گیا۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ سال میں دو مرتبہ ایک مخصوص مقام پر جا کر اربعین فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ اسی مقام پر تشریف فرما تھے کہ غسل کی ضرورت پیش آئی۔ آپ دریا کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں شیخ سدو آ پہنچا اور نہایت غضب ناک لہجے میں کہنے لگا: ”تم نے مجھے بہت نقصان پہنچایا ہے، آج میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا اور تمہیں جلا کر خاک کر دوں گا۔“
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے نرمی سے سمجھایا اور فرمایا: ”فقیروں سے الجھنا تیرے حق میں بہتر نہیں۔“ لیکن جب وہ باز نہ آیا تو آپ نے فرمایا: ”اچھا! تو مجھے جلانا چاہتا ہے، پہلے اپنا انجام دیکھ لے۔“ یہ فرما کر آپ نے غسل فرمایا اور اپنی روحانی قوت سے اس پر ایک مضبوط حصار قائم کر فرمائی۔ پھر حصار کو بتدریج تنگ کرتے گئے، یہاں تک کہ وہ بے بس ہو گیا۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”میں چاہوں تو اسی وقت تجھے نیست و نابود کر سکتا ہوں۔“ یہ سن کر وہ چیخنے چلانے لگا، عاجزی و زاری کرنے لگا اور رہائی کی بھیک مانگنے لگا۔ آخرکار حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے عہد لیا کہ: (١) وہ کبھی آپ کے مریدوں اور متوسلین کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (٢) جہاں آپ یا آپ کی اولاد موجود ہوگی وہاں قدم نہیں رکھے گا۔ (٣) اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد کسی مقام پر تشریف لے جائے گا تو وہ وہاں سے اپنا اثر اور عمل دخل ختم کر دے گا۔
شیخ سدو نے یہ تمام شرائط قبول کر لیں۔ روایت ہے کہ وہ اس عہد پر قائم رہا اور آج تک اس کی نسبت یہی مشہور ہے کہ وہ حضرت صاحب البرکات اور ان کے خاندان کے زیرِ نسبت مقامات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔
قومِ گونڈل پر دعائے جلال کا اثر
جب مارہرہ مطہرہ کی روحانی قیادت اور قطبیت کا تاج حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرِ اقدس پر جلوہ گر ہوا اور آپ اس مقدس سرزمین میں تشریف لائے تو اپنے جدِ امجد حضرت سید عبدالجلیل قدس سرہٗ کی خانقاہِ مبارکہ میں قیام فرمایا۔ اس زمانے میں خانقاہ کے اطراف قومِ گونڈل کے مکانات آباد تھے اور پورا علاقہ ہنود سے بھرا ہوا تھا۔
قومِ گونڈل اپنی فطری شرارت، فساد پسندی اور بداعمالیوں کے باعث مشہور تھی۔ خصوصاً فسق و فجور اور بے راہ روی اس قوم میں اس قدر عام ہو چکی تھی کہ نصیحت و تنبیہ کا بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ آئے دن طرح طرح کی شرارتیں کرتے اور خفیہ انداز میں اہلِ خانقاہ کو تکلیف پہنچاتے۔ جب ان سے باز پرس کی جاتی تو صاف انکار کر جاتے اور اپنی حرکتوں سے مکر جاتے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدت تک ان کی ایذاؤں کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت فرمایا اور کبھی قصبے کے رؤساء و زعماء سے شکایت نہ کی۔ مگر جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی اور انہوں نے ایک روز عین اس وقت، جب حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز میں مشغول تھے، خانقاہِ معلیٰ کے اندر سَفَل (بھنگ) پھینک دی، تو آپ پر جلال طاری ہو گیا۔ آپ نے نہایت رنج و ملال کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”یہ لوگ اپنی شرارتوں سے کسی طرح باز نہیں آتے!“ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ کی زبانِ فیض ترجمان سے یہ کلمات ادا ہونا تھے کہ قومِ گونڈل پر آفات و مصائب کے دروازے کھل گئے۔ بلاؤں اور آزمائشوں کا ایسا دور شروع ہوا کہ برسوں تک ان کی حالت زار قابلِ عبرت بنی رہی۔ یہاں تک کہ ان میں سے جس شخص کی عمر تیس برس کے قریب پہنچتی، وہ موت کا شکار ہو جاتا۔ بہت سے خاندان بالکل نیست و نابود ہو گئے اور بعض گھرانے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ یہ سلسلہ مدتوں جاری رہا، یہاں تک کہ آخرکار قومِ گونڈل کے بعض افراد نے رجوع کیا اور نور العارفین حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی قدس سرہٗ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو گئے اور اپنے آپ کو ان کی نذر کر دیا۔
اس کے بعد ان پر سے یہ مصیبت ٹل گئی اور بلا کا زور کم ہو گیا، لیکن اس واقعہ نے اس مفسد قوم کو ایسا سبق دیا کہ ان کی سابقہ شوکت، قوت اور سرکشی ہمیشہ کے لیے ماند پڑ گئی اور ان کی شرارتوں کا باب بڑی حد تک بند ہو گیا۔
شاعری میں مہارت
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم و ادب، شعر و سخن اور فنونِ لطیفہ کے میدان میں اپنے عہد کی ایک منفرد اور ممتاز شخصیت تھے۔ آپ کی علمی وسعت اور ادبی عظمت کا یہ عالم تھا کہ عربی، فارسی اور اردو کے علاوہ ہندی اور سنسکرت زبانوں پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔ مختلف زبانوں کے علوم و فنون میں آپ کی مہارت اہلِ علم سے مسلم تھی اور آپ کی تصانیف و منظومات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں۔ آپ کی شاعرانہ عظمت اور ادبی مقام کا اعتراف بڑے بڑے محققین اور تذکرہ نگاروں نے کیا ہے۔ حضرت علامہ آزاد بلگرامی اپنی مشہور و معروف کتاب مآثر الکرام میں لکھتے ہیں کہ: ”شاہ برکت اللہ پیمی نے پیامی شاعری کی حیثیت سے عالمگیر شہرت حاصل کر لی۔“
شاعری کے میدان میں آپ فارسی و عربی کلام میں ”عشؔقی“ اور ہندی شاعری میں ”پیؔمی“ تخلص استعمال فرماتے تھے۔ آپ کا کلام عشقِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ، تصوف اور اخلاقی تعلیمات کا حسین مرقع ہے۔ عربی میں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
یا شفیع الوریٰ سلام علیک
یا نبی الهدیٰ سلام علیک
خاتم الانبیاء سلام علیک
سید الاصفیاء سلام علیک
اعظم الخلق اشرف الشفا
افضل الاذکیاء سلام علیک
ھذا قول غلامک عشؔقی
منه یا مصطفیٰ ﷺ سلام علیک
دیوانِ پیم پرکاش میں حضور تحریر فرماتے ہیں:
ابی بکر و عمر پن، عثمان علی بکھان
ست، نیتی اور لاج اتی بدیا بوجھ سبحان
مورکھ لوگ نہ بوجھی ہیں دھرم کرن کی چھین
ایک تو چاہیں ادھک کے ایک تو دیکھیں این
سرکار برکت اللّٰه عشقی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کی مشہور تصانیف میں چند تصانیف یہ ہیں: عوارفِ ہندی، دیوانِ عشقی (فارسی)، رسالہ چہار انواع، رسالہ سوال و جواب، رسالۂ تکسیر، پریم پرکاش (ہندی دیوان)، مثنوی ریاضِ عشق (فارسی دیوان)۔
چند مشہور خلفاء کے نام یہ ہیں: حضرت سید شاہ آل محمد، شاہ مشتاق البرکات، شاہ من اللّٰه (علی شیر خان)، شاہ راجو، شاہ صادق رحمۃ اللّٰه تعالیٰ علیہم۔
چند مشہور کارنامے یہ ہیں: ہندوستان میں سلسلۂ قادریہ کا فروغ، تصوف کی تعلیمات کو شاعری میں عام کرنا، سلسلۂ برکاتیہ کی بنیاد، لوگوں کو گمراہی سے بچانا۔
وصالِ ظاہری:
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٠؍محرم الحرام ؁١١٤٢ھ ٧٢؍سال کی عمر شریف میں ہوا اور جنت الفردوس تشریف لے گئے۔ نواب محمد خان بنگش مظفر جنگ والی فرخ آباد نے باہتمام شجاعت خان ١١٤٢ھ میں گنبد شریف تعمیر کیا۔
مزار اقدس: مارہرہ مطہرہ میں حضور صاحب البرکات رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کی قبر شریف کے ٹھیک اوپر خوبصورت سفید گنبد ہے۔
زوجہ و اولاد:
حضور سلطان العاشقین، صاحب البرکات سرکار امام سلسلۂ برکاتیہ سیدنا شاہ برکت اللّٰہ عشقی و پیمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ وافیہ بیگم قدس سرہا بنت حضرت سید مودود بلگرامی قدس سرہٗ سے ہوا۔ دو شہزادے (١) حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ اور (٢) حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ قدس سرہٗ اور تین شہزادیاں (١) بی بی بدھن (٢) ننھی بی (٣) نام معلوم نہیں۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں امامِ اہلسنّت سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان عرض کرتے ہیں:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
شاہِ برکات اے ابوالبرکات اے سلطانِ جود
بارک اللہ اے مبارک بادشاہ امداد کن
عشقی اے مقتولِ عشق اے خوں بہایت عین ذات
اے زِ جاں بگزشتہ جاناں واصلا امداد کن
بے خدا و با خدا آلِ محمد مصطفٰی
سیدا حق واجدا اے مقتدا امداد کن
✍🏻: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
پہلے قطب: امامِ سلسلۂ برکاتیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

حضور صاحب البرکات شاہ برکت اللّٰہ عشقی علیہ الرحمۃ والرضوان

دین و دنیا کی مجھے برکات دے برکات سے
عشقِ حق دے عشقئؔ عشق انتما کے واسطے (آمین)
شاہِ برکات و برکات پیشینیاں
نَو بَہارِ طریقت پہ لاکھوں سلام
(✍🏻: سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضؔا خان علیہ الرحمۃ والرضوان)
نام و نسب:
آپ کا نام: حضرت سید شاہ ”برکت اللہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ القاب: سلطان المناظرین، سید المتکلمین، شہنشاہِ تقریر و تحریر، مایہ ناز ادیب، سلطان العاشقین، قدوۃ الواصلین، صاحب البرکات اور امامِ سلسلۂ برکاتیہ مشہور ہیں۔ تخلص: اردو و فارسی میں عشقیؔ جبکہ ہندی میں پیمیؔ ہے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے والد ماجد کا نام سید الراحمین حضرت سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (متوفی: ٢٠؍رجب المرجب ؁١٠٩٧ھ بمقام بلگرام شریف) ہے اور جد امجد کا اسمِ گرامی مقدام العارفین حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ (ولادت: ٢٠؍رجب المرجب ؁٩٧٢ھ - متوفی: ٨؍صفر المظفر ؁١٠٥٧ھ بروز پیر بمقام مارہرہ مطہرہ) ہے۔ حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سند المحققین حضرت سید شاہ میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ (متوفی: ٣؍رمضان الکریم ؁١٠١٧ھ) کے سب سے بڑے شہزادے ہیں۔ (مکمل نسب شریف حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سیرتِ مبارکہ میں مذکور ہے) حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے برادران کا نام حضرت سید شاہ عظمت اللّٰہ و حضرت سید شاہ رحمت اللّٰہ و حضرت سید شاہ رہبر ہے، رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔
ولادت باسعادت:
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادت مبارکہ ٢٦؍جمادی الآخر ؁١٠٧٠ھ کو بلگرام شریف میں ہوئی۔
مارہرہ شریف آمد:
مارہرہ مطہرہ میں سب سے پہلے حضرت سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے۔ پھر آپ کے بڑے شہزادے سیدنا میر عبدالجلیل رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ اپنی سجادہ نشینی کو ترک فرماکر مارہرہ مطہرہ تشریف لے آئے اور بلگرام شریف میں حضرت سید میر محمد طیب بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ سید میر عبدالجلیل بلگرامی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے شہزادے سیدنا میر محمد اویس قدس سرہ العزیز بلگرام شریف میں رہے اور وہیں وصالِ ظاہری ہوا۔ پھر سیدنا میر محمد اویس قدس سرہ العزیز کے شہزادے حضرت سیدنا شاہ برکت اللّٰہ عشؔقی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضرت اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمۃ کے زمانہ میں مارہرہ مطہرہ تشریف لائے۔ اس وقت چند افغانیوں کی مکان تھے جو قومِ گونڈل کہلاتے تھے۔ ان سب نے حضور صاحب البرکات کو بہت تکلیف دی یہاں تک کہ حضور صاحب البرکات کی دعا سے چند ہی دن میں سب ہلاک ہو گئے۔ حضور صاحب البرکات نے دوبارہ بلگرام شریف جانے کا ارادہ فرمایا تو فرید خان عامل مارہرہ کی اصرار پر ارادہ ترک فرما کر وہیں قیام فرما رہے۔ اس وقت مارہرہ شریف کے قطب حضرت سید جلال علیہ الرحمۃ تھے۔ بڑے کمال سالک تھے، ”خرؔد“ تخلص فرماتے تھے، ”بوستانِ خرد“ سید جلال کی مشہور تصنیف ہے۔
اجازت و خلافت:
سب سے پہلے حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو اجازت و خلافت اپنے والد ماجد حضور میر اویس رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
فص الکلمات میں ہے: ایک رات حضور صاحب البرکات رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کو حضور پیرانِ پیر سیدنا غوث الاعظم دستگیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ حضور محبوبِ سبحانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بشارت عطا فرمائی کہ آپ پشتہا پشت کے لیے مارہرہ مطہرہ کے قطب مقرر کیے گئے ہیں۔ جلد از جلد کسی مرید کو کلیر بھیجیں تاکہ آپ کو اس ولایت و قطبیت کی سند مع خلعت کے دی جائے۔ صبح حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی اطلاع حضرت سید جلال قدس سرہٗ کو دی تو سید جلال علیہ الرحمۃ نے فرمایا: ”جس جگہ جمال ہو وہاں جلال کی کیا ضرورت ؟ جب عاشق آئے تو عقل کیوں باقی کیسے باقی رہے ؟“ اسی کے ساتھ حضرت سید جلال علیہ الرحمۃ کا وصال ہوا۔ پھر حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے پیم نگر برکاتی نگری آباد فرمائی جو ابھی بستی پیر زادگان کے نام سے مشہور ہے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور سلطان الاولیاء غوث پاک رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے عشق میں سرشار رہتے تھے۔ کبھی سیرابی نہ ملتی۔ اسی عشق میں ڈوب کر کالپی شریف تشریف لے گئے اور شیخ طریقت ولئ نعمت حضور سید شاہ مخدوم فضل اللّٰہ کالپوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے۔ سرکار کالپی نے قطب مارہرہ شریف کا استقبال سینے سے لگا کر کیا اور اپنی ٹوپی عطا فرمائی اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ”دریا بہ دریا پیوست“ (دریا دریا سے مل گیا) پھر سلسلۂ قادریہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔ اور پھر اسی کلمے سے ہی حضور فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہمارے حضور سرکار صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلوک و تصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرا دی۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں:
روزِ اول نصیبۂ عشقؔی ز راہِ عشق
بادشاہِ کالپی ہمہ پیماں نوشتہ اند
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
اندراں صحرا کہ شہرِ آنرا گذر گاہیست بس
عشقؔیا راہش ز شاہِ کالپی پرسید نیست
محبتِ سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سرکارِ بغداد، سلطانُ الاولیاء، محبوبِ سبحانی، غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہِ اقدس سے بے انتہا عقیدت، محبت اور روحانی نسبت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ آپ کو سلاسلِ اربعہ؛ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ میں اجازت و خلافت حاصل تھی، تاہم آپ خاص طور پر سلسلۂ قادریہ ہی میں بیعت فرمایا کرتے اور اپنے مریدین کو بھی اسی چشمۂ فیض سے سیراب فرماتے تھے۔ آپ کی توجہات کا مرکز بھی زیادہ تر فیضانِ غوثیت ہی رہا۔ بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کو اور آپ کے مریدین و متوسلین کو ایک عظیم بشارت اور خصوصی سعادت عطا ہوئی۔ روایت ہے کہ حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے خاندان کے مریدوں اور متوسلوں کی شفاعت کا ذمہ دار ہوں۔ خدا کی قسم! میں جنت میں قدم نہیں رکھوں گا جب تک تمہارے خاندان کے مریدوں اور متوسلوں کو جنت میں داخل نہ کرا دوں۔“
یہ بشارت درحقیقت اس عظیم روحانی تعلق، قلبی وابستگی اور فیضانِ غوثیت کا روشن مظہر ہے جو حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خانوادۂ عالیہ کو بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل تھا۔
سات اقطاب کی بشارت:
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آل میں سات قطب پیدا ہونے کی بشارت فرماتے ہوئے حضرت بو علی شاہ پانی پتی رحمتہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے ذریعے اپنی تسبیح کے سات دانے اس بشارت کی تصدیق میں عطا فرمائے۔ ساتھ ہی سرکار غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ایسا جملہ ارشاد فرمایا جس پر صبح قیامت تک برکاتی غلام فخر بھی کریں گے اور مطمئن بھی رہیں گے۔ سرکار بغداد نے ارشاد فرمایا: ”برکت اللّٰہ! عبد القادر جب تک تیرے مریدوں کو جنت میں نہ داخل کرادے گا خود جنت میں داخل نہ ہوگا۔“
عبادت:
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عبادت و ریاضت کا عالم نرالا تھا۔ آپ نے سلوک و تصوف کی ان تمام منزلوں کو طے فرمایا جس کے بعد مقام محبوبیت اور تاج ولایت حاصل ہوتا ہے۔ عبادتوں کا یہ عالم تھا کہ تاریخ داں لکھتے ہیں کہ 26؍سال مسلسل حالت روزہ میں رہے اور کھجور اور قلیل غذا سے افطار فرماتے ہوئے بیشتر وقت یاد الٰہی میں غرق رہتے اور مدتوں رات بھر بیدار اور مشغول عبادت رہتے۔ حضور صاحب البرکات رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سلسلۂ قادریہ میں مرید فرماتے تھے۔
شیخ سدو کی حقیقت:
حضرت سیدنا شاہ اچھے میاں مارہروی قدس سرہٗ اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ”آئینِ احمدی“ میں تحریر فرماتے ہیں: شیخ سدو انسانی نسل ہی کا ایک فرد تھا۔ اس کا زمانہ گیارہویں صدی ہجری کے آخری دور سے تعلق رکھتا ہے، جب برصغیر میں عادل و منصف بادشاہ حضرت محی الدین اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم تھی۔ وہ کلکتہ کے نواحی علاقے کا رہنے والا تھا اور ایک نہایت مؤثر عمل کا عامل مشہور تھا، جو اونٹ کے بالوں پر پڑھا جاتا تھا۔
شیخ سدو نہایت بدخصلت اور نفسانی خواہشات کا غلام تھا۔ گناہوں سے اسے اس قدر پیار ہو چکا تھا کہ دن رات برے افعال اور ناپسندیدہ حرکات میں مشغول رہتا۔ اپنی تسخیری قوت اور موکّلوں کے ذریعے وہ ہر روز کسی نئی عورت کو اپنے پاس بلواتا اور اپنی شہوانی خواہشات پوری کرتا۔ اگرچہ اس کے موکل اس کے ان خلافِ شرع افعال سے خوش نہ تھے، لیکن اس کے زیرِ اثر ہونے کی وجہ سے خاموش رہتے تھے۔
اس کا معمول تھا کہ جب کسی گناہ میں مبتلا ہوتا تو اپنے گرد ایک خاص حصار قائم کر لیتا اور احتیاطاً پانی بھی اپنے پاس رکھ لیتا۔ ایک روز اتفاقاً وہ پانی حصار میں رکھنا بھول گیا۔ جب اپنے فعلِ بد سے فارغ ہوا اور پانی طلب کیا تو موکلوں کو پکارا۔ موکل مدت سے اسی موقع کے منتظر تھے کہ کب اسے انجام تک پہنچائیں۔ چنانچہ انہوں نے فوراً اسے قابو کر لیا اور ایک بلند پہاڑی سے نیچے گرا کر ہلاک کر دیا۔
شیخ سدو اپنی تسخیری قوتوں اور شعبدہ بازیوں کے باعث عوام کے دلوں پر گہرا اثر جما چکا تھا۔ بہت سے لوگ اس کے معتقد بن گئے تھے۔ وہ اپنی عقیدت مندی کا اظہار اس کی نذر و نیاز، چڑھاووں اور مختلف رسموں کے ذریعے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کا اثر مارہرہ مطہرہ تک پہنچ گیا، کیونکہ وہاں کے بعض لوگوں کے رشتہ دار اس کے علاقوں میں آباد تھے اور انہی کے ذریعے یہ رسمیں وہاں رائج ہو گئی تھیں۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فیضان:
جب حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ مارہرہ شریف تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ شیخ سدو کے نام کی نیازیں دلا رہے ہیں، کڑھائیاں چڑھا رہے ہیں اور طرح طرح کی رسمیں ادا کر رہے ہیں۔ آپ نے فوراً انہیں شریعتِ مطہرہ کا حکم بتایا اور سمجھایا کہ ایک بدکردار اور گمراہ شخص کے ساتھ عقیدت وابستہ رکھنا جائز نہیں۔ آپ کے مخلصانہ اور پراثر کلمات لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے اور رفتہ رفتہ وہ اس باطل رسم سے باز آنے لگے۔
شیخ سدو کا مقابلہ:
لوگوں کا رجحان اپنی طرف سے ہٹتا دیکھ کر شیخ سدو سخت پریشان ہوا۔ ایک دن وہ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: ”تم نہ خود میرے معتقد ہوئے ہو اور نہ دوسروں کو میرے پاس آنے دیتے ہو، لہٰذا میں تم سے مقابلہ کروں گا۔“ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جلال بھرے انداز میں اسے ڈانٹا تو وہ خوف زدہ ہو کر فوراً بھاگ گیا۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ سال میں دو مرتبہ ایک مخصوص مقام پر جا کر اربعین فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ اسی مقام پر تشریف فرما تھے کہ غسل کی ضرورت پیش آئی۔ آپ دریا کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں شیخ سدو آ پہنچا اور نہایت غضب ناک لہجے میں کہنے لگا: ”تم نے مجھے بہت نقصان پہنچایا ہے، آج میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا اور تمہیں جلا کر خاک کر دوں گا۔“
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے نرمی سے سمجھایا اور فرمایا: ”فقیروں سے الجھنا تیرے حق میں بہتر نہیں۔“ لیکن جب وہ باز نہ آیا تو آپ نے فرمایا: ”اچھا! تو مجھے جلانا چاہتا ہے، پہلے اپنا انجام دیکھ لے۔“ یہ فرما کر آپ نے غسل فرمایا اور اپنی روحانی قوت سے اس پر ایک مضبوط حصار قائم کر فرمائی۔ پھر حصار کو بتدریج تنگ کرتے گئے، یہاں تک کہ وہ بے بس ہو گیا۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”میں چاہوں تو اسی وقت تجھے نیست و نابود کر سکتا ہوں۔“ یہ سن کر وہ چیخنے چلانے لگا، عاجزی و زاری کرنے لگا اور رہائی کی بھیک مانگنے لگا۔ آخرکار حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے عہد لیا کہ: (١) وہ کبھی آپ کے مریدوں اور متوسلین کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (٢) جہاں آپ یا آپ کی اولاد موجود ہوگی وہاں قدم نہیں رکھے گا۔ (٣) اگر آپ کے خاندان کا کوئی فرد کسی مقام پر تشریف لے جائے گا تو وہ وہاں سے اپنا اثر اور عمل دخل ختم کر دے گا۔
شیخ سدو نے یہ تمام شرائط قبول کر لیں۔ روایت ہے کہ وہ اس عہد پر قائم رہا اور آج تک اس کی نسبت یہی مشہور ہے کہ وہ حضرت صاحب البرکات اور ان کے خاندان کے زیرِ نسبت مقامات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔
قومِ گونڈل پر دعائے جلال کا اثر
جب مارہرہ مطہرہ کی روحانی قیادت اور قطبیت کا تاج حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرِ اقدس پر جلوہ گر ہوا اور آپ اس مقدس سرزمین میں تشریف لائے تو اپنے جدِ امجد حضرت سید عبدالجلیل قدس سرہٗ کی خانقاہِ مبارکہ میں قیام فرمایا۔ اس زمانے میں خانقاہ کے اطراف قومِ گونڈل کے مکانات آباد تھے اور پورا علاقہ ہنود سے بھرا ہوا تھا۔
قومِ گونڈل اپنی فطری شرارت، فساد پسندی اور بداعمالیوں کے باعث مشہور تھی۔ خصوصاً فسق و فجور اور بے راہ روی اس قوم میں اس قدر عام ہو چکی تھی کہ نصیحت و تنبیہ کا بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ وہ آئے دن طرح طرح کی شرارتیں کرتے اور خفیہ انداز میں اہلِ خانقاہ کو تکلیف پہنچاتے۔ جب ان سے باز پرس کی جاتی تو صاف انکار کر جاتے اور اپنی حرکتوں سے مکر جاتے۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدت تک ان کی ایذاؤں کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت فرمایا اور کبھی قصبے کے رؤساء و زعماء سے شکایت نہ کی۔ مگر جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی اور انہوں نے ایک روز عین اس وقت، جب حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز میں مشغول تھے، خانقاہِ معلیٰ کے اندر سَفَل (بھنگ) پھینک دی، تو آپ پر جلال طاری ہو گیا۔ آپ نے نہایت رنج و ملال کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”یہ لوگ اپنی شرارتوں سے کسی طرح باز نہیں آتے!“ حضور صاحب البرکات قدس سرہٗ کی زبانِ فیض ترجمان سے یہ کلمات ادا ہونا تھے کہ قومِ گونڈل پر آفات و مصائب کے دروازے کھل گئے۔ بلاؤں اور آزمائشوں کا ایسا دور شروع ہوا کہ برسوں تک ان کی حالت زار قابلِ عبرت بنی رہی۔ یہاں تک کہ ان میں سے جس شخص کی عمر تیس برس کے قریب پہنچتی، وہ موت کا شکار ہو جاتا۔ بہت سے خاندان بالکل نیست و نابود ہو گئے اور بعض گھرانے صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ یہ سلسلہ مدتوں جاری رہا، یہاں تک کہ آخرکار قومِ گونڈل کے بعض افراد نے رجوع کیا اور نور العارفین حضرت سید شاہ آلِ رسول احمدی قدس سرہٗ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو گئے اور اپنے آپ کو ان کی نذر کر دیا۔
اس کے بعد ان پر سے یہ مصیبت ٹل گئی اور بلا کا زور کم ہو گیا، لیکن اس واقعہ نے اس مفسد قوم کو ایسا سبق دیا کہ ان کی سابقہ شوکت، قوت اور سرکشی ہمیشہ کے لیے ماند پڑ گئی اور ان کی شرارتوں کا باب بڑی حد تک بند ہو گیا۔
شاعری میں مہارت
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم و ادب، شعر و سخن اور فنونِ لطیفہ کے میدان میں اپنے عہد کی ایک منفرد اور ممتاز شخصیت تھے۔ آپ کی علمی وسعت اور ادبی عظمت کا یہ عالم تھا کہ عربی، فارسی اور اردو کے علاوہ ہندی اور سنسکرت زبانوں پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔ مختلف زبانوں کے علوم و فنون میں آپ کی مہارت اہلِ علم سے مسلم تھی اور آپ کی تصانیف و منظومات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں۔ آپ کی شاعرانہ عظمت اور ادبی مقام کا اعتراف بڑے بڑے محققین اور تذکرہ نگاروں نے کیا ہے۔ حضرت علامہ آزاد بلگرامی اپنی مشہور و معروف کتاب مآثر الکرام میں لکھتے ہیں کہ: ”شاہ برکت اللہ پیمی نے پیامی شاعری کی حیثیت سے عالمگیر شہرت حاصل کر لی۔“
شاعری کے میدان میں آپ فارسی و عربی کلام میں ”عشؔقی“ اور ہندی شاعری میں ”پیؔمی“ تخلص استعمال فرماتے تھے۔ آپ کا کلام عشقِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ، تصوف اور اخلاقی تعلیمات کا حسین مرقع ہے۔ عربی میں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
یا شفیع الوریٰ سلام علیک
یا نبی الهدیٰ سلام علیک
خاتم الانبیاء سلام علیک
سید الاصفیاء سلام علیک
اعظم الخلق اشرف الشفا
افضل الاذکیاء سلام علیک
ھذا قول غلامک عشؔقی
منه یا مصطفیٰ ﷺ سلام علیک
دیوانِ پیم پرکاش میں حضور تحریر فرماتے ہیں:
ابی بکر و عمر پن، عثمان علی بکھان
ست، نیتی اور لاج اتی بدیا بوجھ سبحان
مورکھ لوگ نہ بوجھی ہیں دھرم کرن کی چھین
ایک تو چاہیں ادھک کے ایک تو دیکھیں این
سرکار برکت اللّٰه عشقی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کی مشہور تصانیف میں چند تصانیف یہ ہیں: عوارفِ ہندی، دیوانِ عشقی (فارسی)، رسالہ چہار انواع، رسالہ سوال و جواب، رسالۂ تکسیر، پریم پرکاش (ہندی دیوان)، مثنوی ریاضِ عشق (فارسی دیوان)۔
چند مشہور خلفاء کے نام یہ ہیں: حضرت سید شاہ آل محمد، شاہ مشتاق البرکات، شاہ من اللّٰه (علی شیر خان)، شاہ راجو، شاہ صادق رحمۃ اللّٰه تعالیٰ علیہم۔
چند مشہور کارنامے یہ ہیں: ہندوستان میں سلسلۂ قادریہ کا فروغ، تصوف کی تعلیمات کو شاعری میں عام کرنا، سلسلۂ برکاتیہ کی بنیاد، لوگوں کو گمراہی سے بچانا۔
وصالِ ظاہری:
حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٠؍محرم الحرام ؁١١٤٢ھ ٧٢؍سال کی عمر شریف میں ہوا اور جنت الفردوس تشریف لے گئے۔ نواب محمد خان بنگش مظفر جنگ والی فرخ آباد نے باہتمام شجاعت خان ١١٤٢ھ میں گنبد شریف تعمیر کیا۔
مزار اقدس: مارہرہ مطہرہ میں حضور صاحب البرکات رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کی قبر شریف کے ٹھیک اوپر خوبصورت سفید گنبد ہے۔
زوجہ و اولاد:
حضور سلطان العاشقین، صاحب البرکات سرکار امام سلسلۂ برکاتیہ سیدنا شاہ برکت اللّٰہ عشقی و پیمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ وافیہ بیگم قدس سرہا بنت حضرت سید مودود بلگرامی قدس سرہٗ سے ہوا۔ دو شہزادے (١) حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ اور (٢) حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ قدس سرہٗ اور تین شہزادیاں (١) بی بی بدھن (٢) ننھی بی (٣) نام معلوم نہیں۔
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں امامِ اہلسنّت سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان عرض کرتے ہیں:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
شاہِ برکات اے ابوالبرکات اے سلطانِ جود
بارک اللہ اے مبارک بادشاہ امداد کن
عشقی اے مقتولِ عشق اے خوں بہایت عین ذات
اے زِ جاں بگزشتہ جاناں واصلا امداد کن
بے خدا و با خدا آلِ محمد مصطفٰی
سیدا حق واجدا اے مقتدا امداد کن
✍🏻: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
89
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 28
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]

اہل سنت کے خلاف دیوبندی مدارس کی محاذ آرائی اور ہماری ذمہ داری

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢