صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ششم]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ششم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط ششم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مسلک اعلی حضرت اور فروعیات ـــــــــــــــــــــــــــ
مسلک اعلی حضرت جب مسلک اہل سنت، سواد اعظم کے مترادف ہے تو فرعیات میں اختلاف کرنے سے کوئی مسلک اعلی حضرت سے خارج نہیں ہوگا
چنانچہ خود اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرماتے ہیں:
اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ في النار کی وعید صرف دربارۂ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں صحابہ کرام سے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطلقا جمع زر کو حرام ٹھہرانا۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مسئلۂ ربا،
امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا مسئلۂ مدت رضاع۔
امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کا مسئلۂ متروک التسمیہ عمدا۔
امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا مسئلۂ طہارتِ سورِ کلب و تعبد غسلات سبع۔
امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسئلۂ نقض وضو بلحم جزور و غیر ذلک مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود شذ في النار [جہنم میں جانے] کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف اور نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاۤءَتۡ مَصِیرًا کا مستوجب ہوگا۔
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی تحریر صاف بتا رہی ہے کہ فروعیات میں اختلاف کرنے سے کوئی مسلک سے نہیں نکلتا ہے اور اس کی تائید فتاوی شامی سے بھی ہوتی ہے۔
رد المحتار علی الدر المختار میں علامہ ابن عابدین شامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قوله: ( عن معتقدنا) أي عما نعتقده من غير المسائل الفرعية مما يجب اعتقاده على كل مكلّف وهو ما عليه «أهل السُّنَّة والجماعة» وهم الأشاعرة والماتريدية، وهم متوافقون إلا في مسائل يسيرة أرجعها بعضهم إلى الخلاف اللفظي
[در المختار علی الرد المحتار، جلد اول ص: ١٣٩]
عقیدے سے مراد غیرِ مسائل فرعیہ ہیں اور وہ عقائد ہیں جن پر اعتقاد رکھنا ہر مکلف پر واجب ہے اور وہ وہی عقائد ہیں جن پر اہل سنت و جماعت قائم ہیں اور اہل سنت و جماعت اشاعرہ اور ماتریدیہ ہیں یہ حضرات چند مسائل کے سوا تمام عقائد پر باہم متفق ہیں بلکہ بعض نے فرمایا کہ بعض مسائل میں جو اشاعرہ اور ماتریدیہ کا قدرے اختلاف ہے تو وہ اختلاف بھی اختلافی لفظی ہے۔
فروعیات میں اختلاف کا مطلب ـــــــــــــــ
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت میں ایک بات قابل غور ہے آپ نے فرمایا:
صحابہ کرام سے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں
معلوم ہوا یہاں بات مجتہدین کی ہے اور جب بات مجتہدین کی ہے تو ظاہر ہے ہر مجتھد کو اپنی رائے پر عمل کرنا واجب ہے جیسا کہ مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ جاء الحق میں ارقام فرماتے ہیں:
مجتہد کو تقلید کرنا حرام ہے
[جاء الحق ص: ٢٤]
اسی لیے مجتہدین اگر فروعیات میں اختلاف کرے تو یہ ان کا حق ہے بلکہ ان کو اپنی رائے پر عمل چاہئیے ان کے لیے یہی صواب و درست ہے اور ان پر ان کو دو اجر و ثواب دیا جائے اگر وہ اپنی رائے پر صحیح ہیں ورنہ ایک اجر دیا جائے گا
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
إذا حكَم الحاكمُ فاجتَهَد ثمَّ أصاب فله أجرانِ وإذا حكَم فاجتَهَد ثمَّ أخطأ فله أجرٌ
[مسلم شریف رقم الحدیث ١٧١٦]
یعنی جب حاکم فیصلہ کرے تو اجتہاد کرے پھر اگر وہ اپنے اجتہاد میں درست ہوا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب فیصلہ کرنے میں اجتہاد میں خطا ہو گئی تو اس کے لیے ایک اجر ہے
مطلب یہ نکلا کہ فرعیات میں اگر مجتھد سے خطا بھی ہو جائے تو گناہ نہیں بلکہ ثواب ہی ہے
تو جو غیر مجتھد ہیں جیسے ہما و شما وہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی اس عبارت سے یہ نہ سمجھے کہ فروعیات میں اپنی رائے قائم کرنے کی ان کو اجازت مل گئی ہے فروعیات میں اختلاف کرنے کی وجہ سے مسلک سے نہ نکلنا یہ الگ بات ہے جو سب کے لیے مسلم ہے اور فرعیات میں اختلاف کرنا یہ ایک الگ مسئلہ ہے،
جو صاحب رائے نہیں ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے امام کی تقلید کرے جیسے اگر کوئی حنفی ہے تو وہ اپنے مذہب کے متفق علیہ، مفتی بہ، قول راجح مسئلہ پر عمل کرے۔
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قسم اول [حکم شرعی] میں پھر دو صورتیں ہیں، کتب میں اس کا حکم مصرح ہے یا حادثہ جدیدہ ہے کہ اس کا حکم نصوص فقہی سے نکالنا محتاجِ نظرِ تفقہ ہے پھر جس کا حکم مصرح ہے وہ ایک ہی حکم ہے جس سے تجاوز ناجائز یا دونوں طرح کے حکم ہیں اور مکلف کو روا ہے ان میں جس پر چاہے عمل کرے، پہلی صورت یہ کہ حکم واحد متفق علیہ ہو، یا اگرچہ اختلاف ہے مگر قول راجح و معتمد ایک ہی ہے خواہ یوں کہ فتوٰی ایک ہی جانب دیا گیا یا دوسرے جانب کی ترجیح ان وجوہ پر کہ خادم فقہ جانتا ہے ضعیف و مضمحل ہے بہر حال دوسرا قول ناقابل اخذ ہے،
فان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع درمختار عن تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم۔
[ تو بالتحقیق فتوی اور فیصلہ مرجوح قول پر کرنا جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہے،یہ درمختار میں علامہ قاسم کی تصحیح القدوری کے حوالہ سے ہے]
اس صورت میں اسی حکم کا اتباع واجب ہے خواہ وہ رائے صدر ہو یا رائے اراکین کل یا بعض ہو یا سب کے خلا ف ہو اذ لا حکم لاحد مع الشرع المطہر [شریعت مطہرہ کے مقابلہ میں کوئی حکم معتبر نہیں].
[فتاوی رضویہ شریف جلد ہفتم ص: ٤٨٦]
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ کسی مسئلے میں ایک حکم شرعی متفق علیہ ہو یا دو طرح کے حکم ہوں مگر ایک جانب راجح ہو تو اسی پر عمل کرنا واجب ہے
بعض حضرات کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ مسئلہ فروعی ہے تو اختلاف کر سکتے ہیں مسلک اعلی حضرت سے تو نہیں نکلیں گے کیونکہ مسلک اعلی حضرت تو عقائد کا نام ہے لہذا فروعی مسئلے میں اختلاف کر لیتے ہیں پھر وہ قلم چلانا شروع کر دیتے ہیں اور کئی کئی صفحات سیاہ کر دیتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا ایسے حضرات کو جاننا چاہیے اگر چہ وہ مسلک اعلی حضرت سے نہیں نکلیں گے مگر اب بھی وہ اصول کے پابند ہیں انھیں اپنے امام کی تقلید واجب ہے مثلا:
کوئی فرعی مسئلہ ہے مگر ائمہ کے نزدیک متفق علیہ مسئلہ ہے تو اگر چہ کوئی کتنا بھی بڑا عالم دین ہے اگر وہ مجتھد نہیں ہے تو اسے اس بات کی ہر گز اجازت نہیں ہے کہ وہ اس مسئلے کے خلاف اپنی رائے قائم کرے۔
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے فتاوی رضویہ شریف میں سوال ہوا کہ:
ایسا شخص جو خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا جائز سمجھے تو ایسا شخص کافر ہے یا مسلمان ؟
آپ رضی اللہ عنہ نے جوابا تحریر فرمایا:
غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمٰعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیں، علمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ:
من شك فی کفرہ فقد کفر ۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔
دربارۂ سجدہ حق و تحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرام، کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں۔
[ فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص : ٧٠]
قارئین ملاحظہ فرمائیں مسئلہ فرعی ہے اور متفق علیہ ہے اب اگر اس پر کوئی دلیل بھی پیش کرے تو اس کی بات نہیں سنی جائے گی کیونکہ وہ مجتھد نہیں یہ کام مجتہد کا ہے اور آج کوئی مجتھد نہیں ہے اس لیے ایسے مسائل جو کتب فقہ میں مصرح ہیں متفق علیہ ہیں کوئی دلائل و براہین قائم کر کے بھی اس کے خلاف حکم صادر نہیں کر سکتا ۔
اب اس میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک یہ کہ مسئلہ میں اختلاف کرنے والا عالم دین خیر خواہ متاؤل ہے تو اس کو متفق علیہ مسئلے میں اختلاف کرنے کی وجہ سے خاطی ضرور کہیں گے مگر تفسیق نہیں کی جائے گی،
جیسا کہ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے کہ سرکار تاج الشریعہ مرشدی الکریم علامہ اختر رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ:
اگر زید عالم نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں سجدہ تعظیمی کے جواز کا فتوی دیا اور دلیل میں حدیث پاک و دیگر علماء و محدثین کے اقوال بھی نقل کئے اور عدم جواز پر جو دلیلیں ملیں ان کی تاویلات بھی کیں اور تاویلات میں بھی نیت بخیر رہی ہو تو کیا ایسے عالم سے حسن عقیدت رکھنا، ان کی تعریف و توصیف کرنا قبر پر فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
آپ رضی اللہ عنہ اس سوال کے جواب میں ارقام فرماتے ہیں:
زید عالم نے اگر بے وجہ شرعی مخالفت جمہور کا فیصلہ نہ کیا بلکہ وہ اس میں متأول ہے تو اس کی تفسیق جائز نہیں بلکہ حسن ظن لازم ہے اوراس کے علم و فضل کی تعریف بے مبالغہ اور قبر پر فاتحہ خوانی جائز ہے اور مرغوب ہے مگر اس مسئلہ میں اسے غلطی پر جانے اور جمہور علماء کا اتباع کرے۔ در مختار میں ہے: علينا اتباع ما رجحوه ما صححوه كما لو افتو في حياتهم"
[ فتاوی تاج الشریعہ جلد اول ص: ٢٢٥-٢٢٦]
دوسرے یہ کہ اگر کوئی بنا تاویل کے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ سجدۂ تحیت حرام ہے جواز کا فتویٰ دے تو اس کی تفسیق کی جائے گی
جیسا کہ اسی فتاوی تاج الشریعہ میں حضور تاج الشریعہ بدر الطریقہ مرشدی علامہ اختر رضا خان ازہری قادری رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
ان عبارتوں سے صاف ظاہر کہ قول مرجوح پر فتوی دینا باطل و نا جائز و حرام اور خود سائل کی منقولہ عبارتوں سے سجدہ تحیت کا جواز مرجوح و نا صواب ہونا ظاہر، تو مذہب صحیح و معتمد سے صرف نظر کر کے سجدہ تحیت کے جواز کا فتوی دینا حرام اور اس کا مرتکب فاسق ۔
[فتاوی تاج الشریعہ جلد اول ص :٢٦٨]
قارئین دیکھیں دونوں جگہ سجدۂ تحیت کے جواز کے فتوے کی بات ہے لیکن ایک جگہ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عالم دین کی تفسیق نہیں کی جائے گی اور دوسری جگہ فرمایا کہ اس کا مرتکب فاسق ہے آخر ایسا کیوں؟
تو اس کا جواب یہی ہے کہ دونوں حضرات کی حالت میں فرق ہے ایک متأول ہے دوسرا نہیں ہے اس لیے ایک کی تفسیق نہیں دوسرے کی تفسیق ہوئی۔
اور یہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے چنانچہ
در مختار میں ہے:
الفتيا بالقول المرجوح جهل و خرق للاجماع
[ الدر المختار، ج ۱، ص ۱۷۶ ، ۱۷۷ ، المقدمه، دار الكتب العلميه، بيروت]
یعنی مذہب مرجوح پر فتوی دینا جہل اور اجماع کی مخالفت ہے
اس پر طحطاوی میں ہے:
”قوله (جهل) اى من القاضى والمفتى بما نصوا عليه من ان ذالك لا يعمل به قوله وخرق للاجماع فهو باطل و حرام
[حاشية الطحطاوي على الدر المختار ج ١ ، ص ٥٠ ، المقدمة مطبع دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت]
نیز فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
ہر عاقل مسلمان جانتاہے کہ نوع بشر میں عصمت خاصہ انبیاء ہے نبی کے سوا کوئی کیسے ہی عالی مرتبے والا ایسا نہیں جس سے کوئی نہ کوئی قول ضعیف خلاف دلیل یا خلاف جمہور نہ صاد ر ہواہو کل ماخوز من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی اﷲ تعلٰی علیہ وسلم
[ہر آدمی کی اس کے کہنے سے گرفت ہوگی،اور اس پر وہ قول لوٹا دیا جائے گا سوائے اس قبر والےکے کہ ان پر اﷲ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات اقدس پر] اتباع جمہور کا ہوگا علیکم بالسواد الاعظم
[لوگو! بڑی جماعت کو اختیار کرو]
اور قول شاذ ماننے والے پر شرعی الزام شدید عائد ہوگا نہ کہ معاذ اللہ، صاحب قول پر۔
تصحیح قدوری و در مختار اور بکر کی مسلم نہایت معتمد محقق منقح کتاب 'رد المحتار' میں ہے: الحکم و الفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للإجماع. قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہل ہے اور اجماع کا توڑنا اور قطعا معلوم کہ اجماع امت کا توڑنے والا، کم از کم فاسق.
ائمہ میں کون ایسا ہے حتی کہ صحابہ جس کا کوئی نہ کوئی قول مرجوح نہیں وہ معاذاﷲ نہ جاہل نہ فاسق لیکن جو قول جمہور کے خلاف ان میں کسی کے قول مرجوح پر حکم یا فتوٰی دے وہ ضرور جاہل و فاسق ہے۔
{فتاوی رضویہ شریف، کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد ٢٢ ص: ٥١٥}
آج کل بہت سے حضرات قسم ثانی میں آتے ہیں کہ جمہور کے خلاف فتویٰ صادر کرتے ہیں اور جو بھولے بھالے لوگ ہیں وہ ان کے دام فریب میں آ جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ فلاں صاحب نے بھی دلائل پیش کی ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دلائل ہیں تبھی تو اختلاف ہوا ہے جب یہ کہا جا رہا ہے جمہور کا قول یہ ہے تو اس کا صاف مطلب یہی نکلتا کہ کچھ اہل نظر ہیں جنھوں نے اس کے بر خلاف فتوی دیا ہے ظاہر ہے انھوں نے اس مسئلے پر دلائل و براہین بھی قائم کیے ہوں گے اور وہی دلائل اٹھا کر آج کے بعض حضرات رکھ دیتے ہیں اور قول مرجوح پر فتوی دے دیتے ہیں جب کہ ان پر واضح ہے کہ ہمارے علما کا جمہور کا یہ مذہب نہیں ہے اور ہم پر جمہور کا اتباع واجب ہے
پھر جب ان کی تردید کی جائے دلائل پیش کی جائیں تو ان دلائل کی تاویل کیے بغیر اپنی دلیل لیے بیٹھے رہتے ہیں اور اسی قول مرجوح پر فتوی صادر کرتے ہیں اور ابھی آپ نے پڑھا کہ قول مرجوح پر فتوی دینا حرام ہے اور اس کا مرتکب فاسق ہے
تو اسی فسق کی وجہ سے ہمارے علما ان کو اپنی حال پر چھوڑ دیتے ہیں تو اب وہ سمجھ بیٹھتے کہ مجھے مسلک سے نکال دیا اسی لیے میرے پاس فلاں حضرات نہیں آتے میری بات نہیں سنتے ہیں،
کیا کسی سے نہ ملنا ان سے بات نہ کرنا اسے مسلک سے نکالنے پر دلالت کرتا ہے کیا فسق کی وجہ سے میل جول بند کرنے کا حکم نہیں ہے دیکھیے قرآن میں ہے :
وَإِمَّا یُنسِیَنَّكَ ٱلشَّیۡطَـٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ [الأنعام ٦٨]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں کن کن لوگوں کے پاس نہ بیٹھنے کا حکم ہے تو دیکھیے تفسیرات احمدیہ ملا احمد جیون رضی اللہ عنہ اسی آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع
[تفسيرات احمدیه، ص ٢٥٥ ، مطبع رحيميه]
یعنی الظالمین میں گمراہ، فاسق، کافر تینوں شامل ہیں اور ان سب کے ساتھ بیٹھنا ممنوع ہے
تو جمہور کے خلاف جو فتوی دیتے ہیں اگر ان سے کوئی میل جول کلام سلام بند کرتا ہے تو گویا قرآن پر عمل کرتا ہے تو ایسے شخص کو چاہیے کہ جہاں وہ یہ غور کرتے ہیں کہ فلاں فلاں نے مجھے چھوڑ دیا وہی ایک لمحے کے لیے اس پر بھی غور فرما لیں کہ کیوں چھوڑ دیا ؟ تو مسئلہ حتی الامکان حل ہو سکتا ہے لیکن اس مقاطعہ سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسے مسلک سے ہی نکال دیا گیا ہر گز نہیں کبھی کوئی سنت کے خلاف کام کرتا ہے اور اسے منع کیا جائے پھر بھی وہ وہی کام کرے تو اس سے بھی سلام، کلام بند کر لیا جاتا ہے
جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَذْفِ، أَوْ كَانَ يَكْرَهُ الْخَذْفَ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَى بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَن"، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ أَوْ كَرِهَ الْخَذْفَ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا.
[ بخاری شریف / کتاب الذبائح و الصید/ رقم الحدیث ٥٤٧٩]
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کنکری پھینکتے دیکھا تو فرمایا کہ کنکری نہ پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے یا (انہوں نے بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنکری پھینکنے کو پسند نہیں کرتے تھے اور کہا کہ اس سے نہ شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے البتہ یہ کبھی کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔ اس کے بعد بھی انہوں نے اس شخص کو کنکریاں پھینکتے دیکھا تو کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمہیں سنا رہا ہوں کہ آپ نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا یا کنکری پھینکنے کو ناپسند کیا اور تم اب بھی پھینکے جا رہے ہو، میں تم سے اتنے اتنے دنوں تک کلام نہیں کروں گا۔
ابن ماجہ شریف میں لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا کی جگہ لَا أُكَلِّمُكَ ابدا ہے کہ تم سے کبھی بات نہ کروں گا
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ جو کنکری پھینک رہا تھا وہ راوی کے بھتیجے تھے کیونکہ ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں :
كانَ جالسًا إلى جنبِهِ ابنُ أخٍ لَهُ
اب بتائیں کیا حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ نے اپنے بھتیجے کو مسلک سواد اعظم سے نکال دیا؟ اسی لیے بات چیت بند کر دی اور وہ بھی تاکید کے ساتھ
اس کا جواب کیا ہوگا یہی نا! مسلک سواد اعظم، مسلک اہل سنت جسے اس دور میں پہچان کے لیے مسلک اعلی حضرت کہتے ہیں اس سے حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے کو نہیں نکالا بلکہ تعلیم اور اس کی ہدایت کے لیے فرمایا تاکہ وہ باز آ جائے اور حکم شرعی کی پیروی کرے۔
ایسے ہی جب کوئی جمہور کے خلاف فتویٰ دیتا ہے اور پھر سمجھانے پر وہ نہیں مانتا ہے تو ہمارے علما اسے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ اسی اپنی غلطی کا احساس ہو نہ یہ کہ اسے مسلک اعلی حضرت سے نکال دیا جاتا ہے جو ایسا سوچتا ہے یہ خود اس کے دماغ کا اختراع ہوتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تصلب اور تشدد ـــــــــــــــــــ
قارئین ذرا غور فرمائیں! اگر کوئی جمہور کے خلاف فتویٰ دے پھر اسے سمجھایا جائے پھر بھی وہ رجوع نہ کرے اور اس سے بات چیت بند کر دی جائے تو لوگ اسے تشدد کہتے ہیں پھر تو اس اعتبار سے سب سے بڑے متشدد حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہوئے معاذ اللہ
اگر اس زمانے میں حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ اپنے بھتیجے سے کہتے کہ میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا تو ضرور یہ لوگ انھیں بھی متشدد کہتے ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کنکری پھینکنے کی ممانعت تو باب اخلاقیات میں سے ہے کیونکہ اس میں اندیشہ ہے کہ کہیں کسی کی آنکھ میں نہ لگ جائے یا پھر زیادہ سے زیادہ باب استحباب سے ہوگا پھر بھی حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بات چیت بند کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن خلاف قول جمہور فتوی دینا تو باب حرمت سے ہے تو کیا یہاں بات چیت بند کرنا تشدد کی نشانی ہو جائے گی؟ اگر ہاں تو پھر بتائیں اس میں وجہ تفریق کیا ہے ؟
اگر نہیں تو یہ مانیں کہ جس طرح عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے تصلب اختیار کیا ایسے ہی ان علما نے تصلب اختیار کیا اور ان حضرات سے بات چیت بند کی، جنھوں نے خلاف جمہور فتوی دیا کیونکہ باب اخلاقیات سے زیادہ ضروری ہے کہ باب حرمت میں تصلب فی الدین اختیار کیا جانا اسے تشدد نہیں کہے گا مگر وہی جو معاند ہوگا
تمہارا بے وفا کہنا ہمیں منظور ہے لیکن
تمہارے ساتھ رہنے سے تصلب چھوٹ جائے گا

[تصرف مع یسیر]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ششم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط ششم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مسلک اعلی حضرت اور فروعیات ـــــــــــــــــــــــــــ
مسلک اعلی حضرت جب مسلک اہل سنت، سواد اعظم کے مترادف ہے تو فرعیات میں اختلاف کرنے سے کوئی مسلک اعلی حضرت سے خارج نہیں ہوگا
چنانچہ خود اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں ارقام فرماتے ہیں:
اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ في النار کی وعید صرف دربارۂ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں صحابہ کرام سے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطلقا جمع زر کو حرام ٹھہرانا۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مسئلۂ ربا،
امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا مسئلۂ مدت رضاع۔
امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کا مسئلۂ متروک التسمیہ عمدا۔
امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا مسئلۂ طہارتِ سورِ کلب و تعبد غسلات سبع۔
امام احمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسئلۂ نقض وضو بلحم جزور و غیر ذلک مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود شذ في النار [جہنم میں جانے] کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف اور نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاۤءَتۡ مَصِیرًا کا مستوجب ہوگا۔
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی تحریر صاف بتا رہی ہے کہ فروعیات میں اختلاف کرنے سے کوئی مسلک سے نہیں نکلتا ہے اور اس کی تائید فتاوی شامی سے بھی ہوتی ہے۔
رد المحتار علی الدر المختار میں علامہ ابن عابدین شامی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قوله: ( عن معتقدنا) أي عما نعتقده من غير المسائل الفرعية مما يجب اعتقاده على كل مكلّف وهو ما عليه «أهل السُّنَّة والجماعة» وهم الأشاعرة والماتريدية، وهم متوافقون إلا في مسائل يسيرة أرجعها بعضهم إلى الخلاف اللفظي
[در المختار علی الرد المحتار، جلد اول ص: ١٣٩]
عقیدے سے مراد غیرِ مسائل فرعیہ ہیں اور وہ عقائد ہیں جن پر اعتقاد رکھنا ہر مکلف پر واجب ہے اور وہ وہی عقائد ہیں جن پر اہل سنت و جماعت قائم ہیں اور اہل سنت و جماعت اشاعرہ اور ماتریدیہ ہیں یہ حضرات چند مسائل کے سوا تمام عقائد پر باہم متفق ہیں بلکہ بعض نے فرمایا کہ بعض مسائل میں جو اشاعرہ اور ماتریدیہ کا قدرے اختلاف ہے تو وہ اختلاف بھی اختلافی لفظی ہے۔
فروعیات میں اختلاف کا مطلب ـــــــــــــــ
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت میں ایک بات قابل غور ہے آپ نے فرمایا:
صحابہ کرام سے ائمۂ اربعہ رضی اللہ عنہم اجمعین تک کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں
معلوم ہوا یہاں بات مجتہدین کی ہے اور جب بات مجتہدین کی ہے تو ظاہر ہے ہر مجتھد کو اپنی رائے پر عمل کرنا واجب ہے جیسا کہ مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رضی اللہ عنہ جاء الحق میں ارقام فرماتے ہیں:
مجتہد کو تقلید کرنا حرام ہے
[جاء الحق ص: ٢٤]
اسی لیے مجتہدین اگر فروعیات میں اختلاف کرے تو یہ ان کا حق ہے بلکہ ان کو اپنی رائے پر عمل چاہئیے ان کے لیے یہی صواب و درست ہے اور ان پر ان کو دو اجر و ثواب دیا جائے اگر وہ اپنی رائے پر صحیح ہیں ورنہ ایک اجر دیا جائے گا
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
إذا حكَم الحاكمُ فاجتَهَد ثمَّ أصاب فله أجرانِ وإذا حكَم فاجتَهَد ثمَّ أخطأ فله أجرٌ
[مسلم شریف رقم الحدیث ١٧١٦]
یعنی جب حاکم فیصلہ کرے تو اجتہاد کرے پھر اگر وہ اپنے اجتہاد میں درست ہوا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب فیصلہ کرنے میں اجتہاد میں خطا ہو گئی تو اس کے لیے ایک اجر ہے
مطلب یہ نکلا کہ فرعیات میں اگر مجتھد سے خطا بھی ہو جائے تو گناہ نہیں بلکہ ثواب ہی ہے
تو جو غیر مجتھد ہیں جیسے ہما و شما وہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی اس عبارت سے یہ نہ سمجھے کہ فروعیات میں اپنی رائے قائم کرنے کی ان کو اجازت مل گئی ہے فروعیات میں اختلاف کرنے کی وجہ سے مسلک سے نہ نکلنا یہ الگ بات ہے جو سب کے لیے مسلم ہے اور فرعیات میں اختلاف کرنا یہ ایک الگ مسئلہ ہے،
جو صاحب رائے نہیں ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے امام کی تقلید کرے جیسے اگر کوئی حنفی ہے تو وہ اپنے مذہب کے متفق علیہ، مفتی بہ، قول راجح مسئلہ پر عمل کرے۔
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
قسم اول [حکم شرعی] میں پھر دو صورتیں ہیں، کتب میں اس کا حکم مصرح ہے یا حادثہ جدیدہ ہے کہ اس کا حکم نصوص فقہی سے نکالنا محتاجِ نظرِ تفقہ ہے پھر جس کا حکم مصرح ہے وہ ایک ہی حکم ہے جس سے تجاوز ناجائز یا دونوں طرح کے حکم ہیں اور مکلف کو روا ہے ان میں جس پر چاہے عمل کرے، پہلی صورت یہ کہ حکم واحد متفق علیہ ہو، یا اگرچہ اختلاف ہے مگر قول راجح و معتمد ایک ہی ہے خواہ یوں کہ فتوٰی ایک ہی جانب دیا گیا یا دوسرے جانب کی ترجیح ان وجوہ پر کہ خادم فقہ جانتا ہے ضعیف و مضمحل ہے بہر حال دوسرا قول ناقابل اخذ ہے،
فان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع درمختار عن تصحیح القدوری للعلامۃ قاسم۔
[ تو بالتحقیق فتوی اور فیصلہ مرجوح قول پر کرنا جہالت ہے اور اجماع کے خلاف ہے،یہ درمختار میں علامہ قاسم کی تصحیح القدوری کے حوالہ سے ہے]
اس صورت میں اسی حکم کا اتباع واجب ہے خواہ وہ رائے صدر ہو یا رائے اراکین کل یا بعض ہو یا سب کے خلا ف ہو اذ لا حکم لاحد مع الشرع المطہر [شریعت مطہرہ کے مقابلہ میں کوئی حکم معتبر نہیں].
[فتاوی رضویہ شریف جلد ہفتم ص: ٤٨٦]
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ کسی مسئلے میں ایک حکم شرعی متفق علیہ ہو یا دو طرح کے حکم ہوں مگر ایک جانب راجح ہو تو اسی پر عمل کرنا واجب ہے
بعض حضرات کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ مسئلہ فروعی ہے تو اختلاف کر سکتے ہیں مسلک اعلی حضرت سے تو نہیں نکلیں گے کیونکہ مسلک اعلی حضرت تو عقائد کا نام ہے لہذا فروعی مسئلے میں اختلاف کر لیتے ہیں پھر وہ قلم چلانا شروع کر دیتے ہیں اور کئی کئی صفحات سیاہ کر دیتے ہیں لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا ایسے حضرات کو جاننا چاہیے اگر چہ وہ مسلک اعلی حضرت سے نہیں نکلیں گے مگر اب بھی وہ اصول کے پابند ہیں انھیں اپنے امام کی تقلید واجب ہے مثلا:
کوئی فرعی مسئلہ ہے مگر ائمہ کے نزدیک متفق علیہ مسئلہ ہے تو اگر چہ کوئی کتنا بھی بڑا عالم دین ہے اگر وہ مجتھد نہیں ہے تو اسے اس بات کی ہر گز اجازت نہیں ہے کہ وہ اس مسئلے کے خلاف اپنی رائے قائم کرے۔
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے فتاوی رضویہ شریف میں سوال ہوا کہ:
ایسا شخص جو خدا کے سوا دوسرے کو سجدہ کرنا جائز سمجھے تو ایسا شخص کافر ہے یا مسلمان ؟
آپ رضی اللہ عنہ نے جوابا تحریر فرمایا:
غیر خدا کو سجدہ تحیت کا جائز کرنے والا ہرگز کافر نہیں اور اب جو اہل حدیث کہلاتے ہیں ضرور اسمٰعیلی وگمراہ ہیں اور دیوبندیہ ان سے گمراہ تر صریح مرتدین ہیں، علمائے حرمین شریفین نے ان کی نسبت تصریح فرمائی کہ:
من شك فی کفرہ فقد کفر ۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے بلکہ ان کے کفر میں شك ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔
دربارۂ سجدہ حق و تحقیق یہ ہے کہ غیر خدا کو سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرام، کتب فقہ میں اس کی تصریح ہے اور آج کوئی مجتہد نہیں کہ متفق علیہ ارشادات ائمہ کے خلاف دلیل سے مسئلہ نکالنا چاہے افراط وتفریط دونوں مذموم ہیں۔
[ فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص : ٧٠]
قارئین ملاحظہ فرمائیں مسئلہ فرعی ہے اور متفق علیہ ہے اب اگر اس پر کوئی دلیل بھی پیش کرے تو اس کی بات نہیں سنی جائے گی کیونکہ وہ مجتھد نہیں یہ کام مجتہد کا ہے اور آج کوئی مجتھد نہیں ہے اس لیے ایسے مسائل جو کتب فقہ میں مصرح ہیں متفق علیہ ہیں کوئی دلائل و براہین قائم کر کے بھی اس کے خلاف حکم صادر نہیں کر سکتا ۔
اب اس میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک یہ کہ مسئلہ میں اختلاف کرنے والا عالم دین خیر خواہ متاؤل ہے تو اس کو متفق علیہ مسئلے میں اختلاف کرنے کی وجہ سے خاطی ضرور کہیں گے مگر تفسیق نہیں کی جائے گی،
جیسا کہ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے کہ سرکار تاج الشریعہ مرشدی الکریم علامہ اختر رضا خان قادری بریلوی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ:
اگر زید عالم نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں سجدہ تعظیمی کے جواز کا فتوی دیا اور دلیل میں حدیث پاک و دیگر علماء و محدثین کے اقوال بھی نقل کئے اور عدم جواز پر جو دلیلیں ملیں ان کی تاویلات بھی کیں اور تاویلات میں بھی نیت بخیر رہی ہو تو کیا ایسے عالم سے حسن عقیدت رکھنا، ان کی تعریف و توصیف کرنا قبر پر فاتحہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
آپ رضی اللہ عنہ اس سوال کے جواب میں ارقام فرماتے ہیں:
زید عالم نے اگر بے وجہ شرعی مخالفت جمہور کا فیصلہ نہ کیا بلکہ وہ اس میں متأول ہے تو اس کی تفسیق جائز نہیں بلکہ حسن ظن لازم ہے اوراس کے علم و فضل کی تعریف بے مبالغہ اور قبر پر فاتحہ خوانی جائز ہے اور مرغوب ہے مگر اس مسئلہ میں اسے غلطی پر جانے اور جمہور علماء کا اتباع کرے۔ در مختار میں ہے: علينا اتباع ما رجحوه ما صححوه كما لو افتو في حياتهم"
[ فتاوی تاج الشریعہ جلد اول ص: ٢٢٥-٢٢٦]
دوسرے یہ کہ اگر کوئی بنا تاویل کے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ سجدۂ تحیت حرام ہے جواز کا فتویٰ دے تو اس کی تفسیق کی جائے گی
جیسا کہ اسی فتاوی تاج الشریعہ میں حضور تاج الشریعہ بدر الطریقہ مرشدی علامہ اختر رضا خان ازہری قادری رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
ان عبارتوں سے صاف ظاہر کہ قول مرجوح پر فتوی دینا باطل و نا جائز و حرام اور خود سائل کی منقولہ عبارتوں سے سجدہ تحیت کا جواز مرجوح و نا صواب ہونا ظاہر، تو مذہب صحیح و معتمد سے صرف نظر کر کے سجدہ تحیت کے جواز کا فتوی دینا حرام اور اس کا مرتکب فاسق ۔
[فتاوی تاج الشریعہ جلد اول ص :٢٦٨]
قارئین دیکھیں دونوں جگہ سجدۂ تحیت کے جواز کے فتوے کی بات ہے لیکن ایک جگہ حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عالم دین کی تفسیق نہیں کی جائے گی اور دوسری جگہ فرمایا کہ اس کا مرتکب فاسق ہے آخر ایسا کیوں؟
تو اس کا جواب یہی ہے کہ دونوں حضرات کی حالت میں فرق ہے ایک متأول ہے دوسرا نہیں ہے اس لیے ایک کی تفسیق نہیں دوسرے کی تفسیق ہوئی۔
اور یہ فقہا کی تصریحات کے عین مطابق ہے چنانچہ
در مختار میں ہے:
الفتيا بالقول المرجوح جهل و خرق للاجماع
[ الدر المختار، ج ۱، ص ۱۷۶ ، ۱۷۷ ، المقدمه، دار الكتب العلميه، بيروت]
یعنی مذہب مرجوح پر فتوی دینا جہل اور اجماع کی مخالفت ہے
اس پر طحطاوی میں ہے:
”قوله (جهل) اى من القاضى والمفتى بما نصوا عليه من ان ذالك لا يعمل به قوله وخرق للاجماع فهو باطل و حرام
[حاشية الطحطاوي على الدر المختار ج ١ ، ص ٥٠ ، المقدمة مطبع دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت]
نیز فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
ہر عاقل مسلمان جانتاہے کہ نوع بشر میں عصمت خاصہ انبیاء ہے نبی کے سوا کوئی کیسے ہی عالی مرتبے والا ایسا نہیں جس سے کوئی نہ کوئی قول ضعیف خلاف دلیل یا خلاف جمہور نہ صاد ر ہواہو کل ماخوز من قولہ ومردود علیہ الا صاحب ھذا القبر صلی اﷲ تعلٰی علیہ وسلم
[ہر آدمی کی اس کے کہنے سے گرفت ہوگی،اور اس پر وہ قول لوٹا دیا جائے گا سوائے اس قبر والےکے کہ ان پر اﷲ تعالٰی کی رحمت اور سلام ہو یعنی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات اقدس پر] اتباع جمہور کا ہوگا علیکم بالسواد الاعظم
[لوگو! بڑی جماعت کو اختیار کرو]
اور قول شاذ ماننے والے پر شرعی الزام شدید عائد ہوگا نہ کہ معاذ اللہ، صاحب قول پر۔
تصحیح قدوری و در مختار اور بکر کی مسلم نہایت معتمد محقق منقح کتاب 'رد المحتار' میں ہے: الحکم و الفتیا بالقول المرجوح جھل و خرق للإجماع. قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہل ہے اور اجماع کا توڑنا اور قطعا معلوم کہ اجماع امت کا توڑنے والا، کم از کم فاسق.
ائمہ میں کون ایسا ہے حتی کہ صحابہ جس کا کوئی نہ کوئی قول مرجوح نہیں وہ معاذاﷲ نہ جاہل نہ فاسق لیکن جو قول جمہور کے خلاف ان میں کسی کے قول مرجوح پر حکم یا فتوٰی دے وہ ضرور جاہل و فاسق ہے۔
{فتاوی رضویہ شریف، کتاب الحظر و الاباحۃ، جلد ٢٢ ص: ٥١٥}
آج کل بہت سے حضرات قسم ثانی میں آتے ہیں کہ جمہور کے خلاف فتویٰ صادر کرتے ہیں اور جو بھولے بھالے لوگ ہیں وہ ان کے دام فریب میں آ جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ فلاں صاحب نے بھی دلائل پیش کی ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دلائل ہیں تبھی تو اختلاف ہوا ہے جب یہ کہا جا رہا ہے جمہور کا قول یہ ہے تو اس کا صاف مطلب یہی نکلتا کہ کچھ اہل نظر ہیں جنھوں نے اس کے بر خلاف فتوی دیا ہے ظاہر ہے انھوں نے اس مسئلے پر دلائل و براہین بھی قائم کیے ہوں گے اور وہی دلائل اٹھا کر آج کے بعض حضرات رکھ دیتے ہیں اور قول مرجوح پر فتوی دے دیتے ہیں جب کہ ان پر واضح ہے کہ ہمارے علما کا جمہور کا یہ مذہب نہیں ہے اور ہم پر جمہور کا اتباع واجب ہے
پھر جب ان کی تردید کی جائے دلائل پیش کی جائیں تو ان دلائل کی تاویل کیے بغیر اپنی دلیل لیے بیٹھے رہتے ہیں اور اسی قول مرجوح پر فتوی صادر کرتے ہیں اور ابھی آپ نے پڑھا کہ قول مرجوح پر فتوی دینا حرام ہے اور اس کا مرتکب فاسق ہے
تو اسی فسق کی وجہ سے ہمارے علما ان کو اپنی حال پر چھوڑ دیتے ہیں تو اب وہ سمجھ بیٹھتے کہ مجھے مسلک سے نکال دیا اسی لیے میرے پاس فلاں حضرات نہیں آتے میری بات نہیں سنتے ہیں،
کیا کسی سے نہ ملنا ان سے بات نہ کرنا اسے مسلک سے نکالنے پر دلالت کرتا ہے کیا فسق کی وجہ سے میل جول بند کرنے کا حکم نہیں ہے دیکھیے قرآن میں ہے :
وَإِمَّا یُنسِیَنَّكَ ٱلشَّیۡطَـٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ [الأنعام ٦٨]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں کن کن لوگوں کے پاس نہ بیٹھنے کا حکم ہے تو دیکھیے تفسیرات احمدیہ ملا احمد جیون رضی اللہ عنہ اسی آیت کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع
[تفسيرات احمدیه، ص ٢٥٥ ، مطبع رحيميه]
یعنی الظالمین میں گمراہ، فاسق، کافر تینوں شامل ہیں اور ان سب کے ساتھ بیٹھنا ممنوع ہے
تو جمہور کے خلاف جو فتوی دیتے ہیں اگر ان سے کوئی میل جول کلام سلام بند کرتا ہے تو گویا قرآن پر عمل کرتا ہے تو ایسے شخص کو چاہیے کہ جہاں وہ یہ غور کرتے ہیں کہ فلاں فلاں نے مجھے چھوڑ دیا وہی ایک لمحے کے لیے اس پر بھی غور فرما لیں کہ کیوں چھوڑ دیا ؟ تو مسئلہ حتی الامکان حل ہو سکتا ہے لیکن اس مقاطعہ سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسے مسلک سے ہی نکال دیا گیا ہر گز نہیں کبھی کوئی سنت کے خلاف کام کرتا ہے اور اسے منع کیا جائے پھر بھی وہ وہی کام کرے تو اس سے بھی سلام، کلام بند کر لیا جاتا ہے
جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَذْفِ، أَوْ كَانَ يَكْرَهُ الْخَذْفَ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَى بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَن"، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ أَوْ كَرِهَ الْخَذْفَ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا.
[ بخاری شریف / کتاب الذبائح و الصید/ رقم الحدیث ٥٤٧٩]
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو کنکری پھینکتے دیکھا تو فرمایا کہ کنکری نہ پھینکو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے یا (انہوں نے بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنکری پھینکنے کو پسند نہیں کرتے تھے اور کہا کہ اس سے نہ شکار کیا جا سکتا ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے البتہ یہ کبھی کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے۔ اس کے بعد بھی انہوں نے اس شخص کو کنکریاں پھینکتے دیکھا تو کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمہیں سنا رہا ہوں کہ آپ نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا یا کنکری پھینکنے کو ناپسند کیا اور تم اب بھی پھینکے جا رہے ہو، میں تم سے اتنے اتنے دنوں تک کلام نہیں کروں گا۔
ابن ماجہ شریف میں لَا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا کی جگہ لَا أُكَلِّمُكَ ابدا ہے کہ تم سے کبھی بات نہ کروں گا
ابن ماجہ شریف میں ہے کہ جو کنکری پھینک رہا تھا وہ راوی کے بھتیجے تھے کیونکہ ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں :
كانَ جالسًا إلى جنبِهِ ابنُ أخٍ لَهُ
اب بتائیں کیا حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ نے اپنے بھتیجے کو مسلک سواد اعظم سے نکال دیا؟ اسی لیے بات چیت بند کر دی اور وہ بھی تاکید کے ساتھ
اس کا جواب کیا ہوگا یہی نا! مسلک سواد اعظم، مسلک اہل سنت جسے اس دور میں پہچان کے لیے مسلک اعلی حضرت کہتے ہیں اس سے حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجے کو نہیں نکالا بلکہ تعلیم اور اس کی ہدایت کے لیے فرمایا تاکہ وہ باز آ جائے اور حکم شرعی کی پیروی کرے۔
ایسے ہی جب کوئی جمہور کے خلاف فتویٰ دیتا ہے اور پھر سمجھانے پر وہ نہیں مانتا ہے تو ہمارے علما اسے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ اسی اپنی غلطی کا احساس ہو نہ یہ کہ اسے مسلک اعلی حضرت سے نکال دیا جاتا ہے جو ایسا سوچتا ہے یہ خود اس کے دماغ کا اختراع ہوتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تصلب اور تشدد ـــــــــــــــــــ
قارئین ذرا غور فرمائیں! اگر کوئی جمہور کے خلاف فتویٰ دے پھر اسے سمجھایا جائے پھر بھی وہ رجوع نہ کرے اور اس سے بات چیت بند کر دی جائے تو لوگ اسے تشدد کہتے ہیں پھر تو اس اعتبار سے سب سے بڑے متشدد حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ہوئے معاذ اللہ
اگر اس زمانے میں حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ اپنے بھتیجے سے کہتے کہ میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا تو ضرور یہ لوگ انھیں بھی متشدد کہتے ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کنکری پھینکنے کی ممانعت تو باب اخلاقیات میں سے ہے کیونکہ اس میں اندیشہ ہے کہ کہیں کسی کی آنکھ میں نہ لگ جائے یا پھر زیادہ سے زیادہ باب استحباب سے ہوگا پھر بھی حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بات چیت بند کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن خلاف قول جمہور فتوی دینا تو باب حرمت سے ہے تو کیا یہاں بات چیت بند کرنا تشدد کی نشانی ہو جائے گی؟ اگر ہاں تو پھر بتائیں اس میں وجہ تفریق کیا ہے ؟
اگر نہیں تو یہ مانیں کہ جس طرح عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے تصلب اختیار کیا ایسے ہی ان علما نے تصلب اختیار کیا اور ان حضرات سے بات چیت بند کی، جنھوں نے خلاف جمہور فتوی دیا کیونکہ باب اخلاقیات سے زیادہ ضروری ہے کہ باب حرمت میں تصلب فی الدین اختیار کیا جانا اسے تشدد نہیں کہے گا مگر وہی جو معاند ہوگا
تمہارا بے وفا کہنا ہمیں منظور ہے لیکن
تمہارے ساتھ رہنے سے تصلب چھوٹ جائے گا

[تصرف مع یسیر]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
17
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط ہفتم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط پنجم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢