صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف
تاثرات

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
تلمیذ و خلیفۂ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ سید شاہ ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ چودہویں صدی کے عظیم مفتی، فقیہ، مصنف، مناظر، محدث، مفسر، علم توقیت میں یکتائے روزگار، ماہر ہر فن گزرے ہیں
آپ رضی اللہ عنہ کے نگارشات تاریخ کے سنہرے اوراق میں آج بھی ثبت ہیں حضور ملک العلما کے اشہب قلم سے نکلنے والی ہر تحریر اہل فن کے لیے کسی سنگ میل سے کم نہیں ہے ستر سے زائد کتابیں آپ نے تصنیف فرما کر مسلمانوں پر عظیم احسان کیا صحیح البہاری، فتاوی ملک العلما میں وہ مقناطیسی جاذبیت ہے کہ اہل فن آج بھی ان کی طرف کھنچے جا رہے ہیں۔
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے جہاں تفسیر، حدیث، فقہ، توقیت، میں کتابیں ارقام فرمائی وہیں علم نحو و صرف میں بھی اپنے نگارشات چھوڑے ہیں جو عافیہ، وافیہ کے نام سے موسوم ہیں
عافیہ ـــــــــــــــــ
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے علم صرف میں عافیہ تصنیف فرمائی جو پہلی بار ١٩٢٨ء میں مطبع حسنی سے دوسری بار ٢٠١٤ء میں مخدوم جہاں اکیڈمی سے تیسری بار ٢٠١٦ء میں بزم فیضان سے چھپی۔
اور پانچویں بار جدید اسلوب اور حاشیہ کے ساتھ مخدوم جہاں اکیڈمی سے طباعت ہوئی، جس کا سہرا تلمیذ و خلیفۂ تاج الشریعہ متحرک و فعال شخصیت حضرت مفتی محمد ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی کے سر جاتا ہے آپ نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ حاشیہ اور علامات ترقیم کے اہتمام کا کام انجام دیا ہے، موصوف نے اس کے علاوہ اور بھی حضور ملک العلما کے کئی تصانیف پر محنت طلب کام انجام دے کر بہتوں پر سبقت لے گئے ہیں۔
چھٹی بار یہ کتاب مستطاب جماعت رضائے مصطفی یوکے سے شائع ہوئی جس کے ناشر متحرک و فعال شخصیت تلمیذ امام علم و فن حضرت علامہ محمد نظام الدین مصباحی حفظہ اللہ القوی ہیں
زبدۂ صرف ـــــــــــــ
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے عافیہ میں علم صرف کی ان تمام بحثوں کو اختصارا جمع فرما دیا ہے جو کئی کتابوں میں پھیلی ہوئی ہیں مثلا میزان و منشعب، فصول اکبری، پنج گنج وغیرہ کی بحثیں اختصارا اس میں شامل ہیں جو طلبا کو بآسانی سمجھ میں آ سکتیں ہیں نیز مشکل مقامات پر مفتی ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی نے حاشیہ تحریر فرما کر تسہیل کر دی ہے، علم صرف کے تمام اہم ابواب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کتاب کو علم صرف کا زبدہ اور نچوڑ کہنا بجا ہے
عافیہ حضور مفتی اعظم کی نظر میں ـــــــــــ
یہی وجہ ہے کہ حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ کو بھی یہ کتاب مستطاب بہت پسند آئی فن صرف میں بہتات کتاب ہونے کے باوجود سرکار مفتی اعظم رضی اللہ عنہ نے جب حضرت ساجد میاں قدس سرہ مہتمم مظہر اسلام کو علم صرف پڑھانا چاہا تو حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:
۷۸۶
بریلی ۱۲ شعبان ۵۵ ھ
مولانائے مکرم ذی الکرم زید مجدہ
السلام علیکم ورحمتہ وبر کاتہ
طالب خیر بہ خیر وعافیت ہے۔
عوافی مزاج گرامی مطلوب ۔ مدت سے خط کتابت کا سلسلہ منقطع ہے۔ نہ کسے میرود آں جا نہ کسے می آید ۔ اس وقت یہ خط اس غرض سے لکھ رہا ہوں کہ مجھے اپنے ایک عزیز نور چشم ساجد میاں سلمہ کے لیے عافیہ کی ضرورت ہے۔ اپنی عافیت کے ساتھ عافیہ بھی بھیج دیں۔ والسلام
مصطفی رضا قادری نوری عفی عنہ
[جہان مفتی اعظم ص: ١٠٩٩]
ہمزۂ وصلی اور قطعی ــــــــــــــــ
کتاب مطالعہ کرتے ہوئے جب باب افعال کے ہمزۂ قطعی پر پہنچا تو حضور ملک العلما کا ایک فتوی جو فتاوی ملک العلما میں موجود ہے جسے فقیر نے تقریبا آٹھ، نو سال قبل پڑھا تھا یاد آگیا میں چاہتا ہوں طلبا کے فائدے اور قارئین کے ذوق طبع کے لیے یہاں پیش کر دوں ۔
سوال و جواب من و عن ملاحظہ فرمائیں:
جناب مولانا دام مجده !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته
ضروری گزارش یہ ہے کہ
١۔ اہل صرف کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے، باب افعال کا ہمزہ قطعی ہے ۔ چنانچہ آپ بھی اپنے رسالہ ص ۲۴ [٢٠١٦ء والے ایڈیشن میں ص: ٩٥ ] میں تحریر فرماتے ہیں : ثلاثی مزید مطلق بے ہمزۂ وصل کے پانچ باب ہیں اور اس کے باب اول کا ہمزہ قطعی ہے، وصلی نہیں ۔ اس لئے حالت وصل میں نہیں گرتا ۔ باب اول افعال۔ پھر لکھتے ہیں :
علامت اس کی فا کلمہ کے قبل همزۂ قطعی ہوتا ہے۔ قطعیت ہمزہ کا مطلب تو یہی ہے کہ حالت وصل میں اس کا قائم رہنا واجب اور ضروری ہے۔ پھر ص ۳۳ [٢٠١٦ء والے ایڈیشن میں ص: ١١١] میں تحریر فرماتے ہیں:
قاعدہ: ہمزہ منفردہ متحرکہ ما قبل صحیح ساکن غیر نون انفعال و یائے تصغیر ہو تو حرکت اس کی نقل کر کے ماقبل کو دے کر اس کو گرا دینا جائز ہے۔ ایک کلمہ میں ہو تو جیسے لیسل یا دو کلمہ میں جیسے قدَ فلح کہ اصل میں قد افلح تھا اور یسأل تھا “ انتخاب ملخصا -
افلح باب افعال کا ماضی ہے مگر اس قاعدے کی رو سے قد کے لانے کے بعد اس کے ہمزہ کا گرا دینا جائز ہے تو پھر قطعیت ہمزہ کا کیا مطلب ہے؟
اور قد فلح قد افلح میں کیا فرق رہا ؟
اس صورت میں ہمزہ کی تقسیم قطعی اور وصلی کی طرف لغو بیکار ہو جاتی ہے ۔۔
٢۔ یہ لفظ قر آن مجید میں متعدد جگہوں میں آیا ہے۔ ہر جگہ باثبات ہمزہ ہے، باسقاط ہمزہ کہیں نہیں ہے۔ اگر کوئی محض آپ کی پیش کردہ مثال کی رو سے قرآن شریف میں قد افلح کی جگہ قد فلح پڑھے تو جائز ہے یا نہیں ؟
اور اس طرح کی قراءت قراء سبعہ میں سے کسی سے مروی ہے یا نہیں ؟
اگر قد فلح پڑھنا جائز ہے تو پھر اس قاعدے کی رو سے قرآن مجید میں جس جگہ اثبات ہمزہ ہے وہاں اسقاط ہمزہ جائز ہے یا نہیں؟
سل بنی اسرائیل کی جگہ اسئل بنی اسرائیل، فاسئلوا اهل الذكر، فسلوا اھل الذکر پڑھنا جائز ہے یا نہیں اگر نہیں جائز ہے تو کیوں ؟
مہربانی فرما کر جواب مع دلائل تحریر کر کے ذیل کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔
الجواب:
(١) ہمزہ وصل وہ ہے کہ وجہ کلام میں اس کا گرانا ضروری ہو، باقی رکھنا خطا ہے ۔ اس لئے قرآن شریف میں مطلقا ہر جگہ باتفاق جميع قراء تمامی همزۂ وصل گرا دیے جاتے ہیں۔ بخلاف ہمزۂ قطعی کے کہ وہ درجہ کی وجہ سے کلام سے نہ گرے گا بلکہ باقی رکھا جائے گا۔
رہا بقاعده تخفیف ہمزہ کا گرنا تو وہ کچھ اس قسم کے ہمزہ پر موقوف نہیں بلکہ اصلی ہمزہ بھی اس قاعدے سے گر جائے گا۔ جیسے یسئل کہ ہمزہ عین کلمہ ہے اور یقرأ کے آخر کا ہمزہ زائد نہیں ۔ پس اسی قاعدے سے یقر ہوگا، لم ار کہ اصل اس قاعدے سے لمر ہو جائے گا ۔ حالانکہ یہ علامات مضارع ہے غرض اس قاعدہ کی رو سے ہر طرح کا ہمزہ وصلی زائد قطعی زائد سب گر جائے گا اور وجہ کلام میں ہمزہ وصلی گر جائے گا ، ہمز قطعی نہ گرے گا کہ ہمزہ وصلی زائد محقق ہے۔ صرف بقدر ابتداء سکون کی وجہ سے لایا جاتا ہے تو جب کوئی کلمۂ اولی میں آئے گا ، یہ ہمزہ گر جائے گا ۔ قد فلح اور قد جتنب میں فرق ظاہر ہے۔ اول یہ کہ قد فلح پڑھنا جائز ہے اور قد جتنب پڑھنا واجب ہے ۔ قد افلح بھی پڑھ سکتے ۔ اس میں کوئی غلطی نہیں۔ جبکہ قرآن شریف میں ہماری قراءت میں اسی طرح وارد ہونے کی وجہ سے قد افلح ہی پڑھنا اولی ہے اور قد اجتنب پڑھنا غلط ہے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ قد فلح کا ہمزہ اس قاعدے سے گرا ہے، نہ فقط اول میں لفظ کے آنے سے ۔ بخلاف قد جتنب کے کہ اگر یہ قاعدہ سرے سے نہ ہوتا جب بھی فقط درج کلام اور اول اس کے کسی لفظ کا آ جانا ہی اس کے گرا دینے کو کافی ہے۔
تو معلوم ہوا کہ ہمزہ کی تقسیم قطعی اور اصلی کی طرف لغو اور بیکار نہیں ہے۔
٢۔ بے شبہ قد فلح پڑھنا جائز ہے اور اسی طرح کی قراءت قراء کی مروی اور منقول ہے۔
تیسیر علامہ ابو عمر و عثمان حرانی متوفی ٤٤٤ ھ مطبع مجتبائی دہلی ص ۳۰ میں فرماتے ہیں:
اعلم ان كان يلقى حركته المهمزة على الساكن يتحرك بحركتها وتسقط من اللفظ الح
پھر اس کی تین قسم کر کے اول و دوم کے بعد تیسری قسم کو بیان کرتے ہیں ۔

والثالث ان يكون سائر حروف المعجم نحو قوله تعالى من امن الخ
امام شاطبی شاطبیہ مطبوعہ مصرص ١٦ میں فرماتے ہیں :
وحرك لورش كل ساكن اخر
صحيح بشكل الهمز واحذفه مسهلا
نیز اسی مجموعہ قراءت میں رسالہ طیبہ حافظ محمد ابی جزری ص ۱۱۰ میں فرماتے ہیں:
وانقل في الآخر غير حرف مد
لورش الا كتابيه اسد
اس قاعدہ عامہ سےاستدلال اگر چہ اثبات مدعی میں تام ہے مگر خاص قد فلح کی تصریح بھی مفسرین نے فرمادی۔
تفسیر روح المعانی علامہ آلوسی بغدادی جلد ۵ ص ٤٨٠ سورہ مومنون میں ہے:
و قرأ ورش عن نافع قد فلح باستبقاء حركة الهمزة على الدال وحذف فيها لفظا لالتقاء الساكنين كما قال ابو البقاء وهي الهمزة الثالثة بعد نقل حركتهما والدال الساكنة بحذف الاصل لانه لا يعتد بحركتها العارضة.

اور بلا شبہ اسی قاعدہ کی رو سے، جس جگہ یہ قاعدہ پایا جاتا ہو اس جگہ ہمزہ کو گرادینا جائز ہے اگر چہ مروی اثبات ہو۔
تیسیر ص ۷۲ میں ہے:
ابن كثير والكسائي وسلوا الله من فضله وسل الذين اذا كان امرا مواجها وكان السين والواو والفاء بغير همزة حيث وقع الوجوه في أتمام القرأت العشرة.
حافظ شیخ محمد ص ۱۶۷ میں ہے: ونقل خلف و اسال و فاسئل وسلوا و فاسئلوا كالكسائي
معلوم ہوا کہ واسئلوا و وسلوا اور فاسئلوا و فسلوا پڑھنا صرف قاعدے کی رو سے جائز ہی نہیں ہے بلکہ عبد اللہ ابن کثیر دارمی مکی اور علی بن ہمزہ نحوی کسانی کوفی اور خلف ابن ہشام بزاز سے مروی و منقول ہے ۔
[فتاوی ملک العلما ص: ٤٧٨-٤٧٩]
وافیہ ـــــــــــــ
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وافیہ فن نحو میں اردو زبان میں نحو کی اولین کتابوں میں سے ہے جسے حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ نے تصنیف فرمائی یہ کتاب بڑے عرصے سے منتظر طباعت رہی جب جہان مفتی اعظم لکھی گئی تو اس میں محشی نے حاشیہ لگایا:
علم نحو میں آپ [ملک العلما] کی تصنیف وافیہ آج تک شائع نہ ہو سکی اس کے دو نسخے کتب خانے میں محفوظ ہیں۔
[جہان مفتی اعظم ص: ١٠٩٩]
پھر حضور ملک العلما کی اس نایاب کتاب کو شائع کرنے کے لیے مفتی ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی نے دن رات یک کر دیا مسودہ اتنا بوسیدہ تھا کہ پڑھنا بہت مشکل امر تھا باوجود اس کے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اس پر کام کیا اور مفہوم تک رسائی حاصل کی یہاں تک کہ مفتی صاحب قبلہ کی محنتوں سے پہلی بار اس کی اشاعت ٢٠٢١ میں ہوئی
بعدہ حضرت علامہ محمد نظام الدین مصباحی صاحب قبلہ یوکے کی محنتوں اور کاوشوں سے جماعت رضائے مصطفی یوکے سے بھی اس کی اشاعت ہوئی۔
یہ کتاب در حقیقت شرح جامی، ہدایۃ النحو، کافیہ ابن حاجب، شرح ابن عقیل، شرح شذور الذھب، اوضح المسالک، مغنی البیب جیسی اہم اور متداول کتابوں کا نچوڑ ہے جسے ہر قاری پڑھ کر بآسانی محسوس کر سکتا ہے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اہل سنت کے ان دونوں جیالے کو عمر طویل عطا فرمائے اور مزید دینی خدمات کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
تلمیذ و خلیفۂ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ سید شاہ ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ چودہویں صدی کے عظیم مفتی، فقیہ، مصنف، مناظر، محدث، مفسر، علم توقیت میں یکتائے روزگار، ماہر ہر فن گزرے ہیں
آپ رضی اللہ عنہ کے نگارشات تاریخ کے سنہرے اوراق میں آج بھی ثبت ہیں حضور ملک العلما کے اشہب قلم سے نکلنے والی ہر تحریر اہل فن کے لیے کسی سنگ میل سے کم نہیں ہے ستر سے زائد کتابیں آپ نے تصنیف فرما کر مسلمانوں پر عظیم احسان کیا صحیح البہاری، فتاوی ملک العلما میں وہ مقناطیسی جاذبیت ہے کہ اہل فن آج بھی ان کی طرف کھنچے جا رہے ہیں۔
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے جہاں تفسیر، حدیث، فقہ، توقیت، میں کتابیں ارقام فرمائی وہیں علم نحو و صرف میں بھی اپنے نگارشات چھوڑے ہیں جو عافیہ، وافیہ کے نام سے موسوم ہیں
عافیہ ـــــــــــــــــ
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے علم صرف میں عافیہ تصنیف فرمائی جو پہلی بار ١٩٢٨ء میں مطبع حسنی سے دوسری بار ٢٠١٤ء میں مخدوم جہاں اکیڈمی سے تیسری بار ٢٠١٦ء میں بزم فیضان سے چھپی۔
اور پانچویں بار جدید اسلوب اور حاشیہ کے ساتھ مخدوم جہاں اکیڈمی سے طباعت ہوئی، جس کا سہرا تلمیذ و خلیفۂ تاج الشریعہ متحرک و فعال شخصیت حضرت مفتی محمد ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی کے سر جاتا ہے آپ نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ حاشیہ اور علامات ترقیم کے اہتمام کا کام انجام دیا ہے، موصوف نے اس کے علاوہ اور بھی حضور ملک العلما کے کئی تصانیف پر محنت طلب کام انجام دے کر بہتوں پر سبقت لے گئے ہیں۔
چھٹی بار یہ کتاب مستطاب جماعت رضائے مصطفی یوکے سے شائع ہوئی جس کے ناشر متحرک و فعال شخصیت تلمیذ امام علم و فن حضرت علامہ محمد نظام الدین مصباحی حفظہ اللہ القوی ہیں
زبدۂ صرف ـــــــــــــ
حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ نے عافیہ میں علم صرف کی ان تمام بحثوں کو اختصارا جمع فرما دیا ہے جو کئی کتابوں میں پھیلی ہوئی ہیں مثلا میزان و منشعب، فصول اکبری، پنج گنج وغیرہ کی بحثیں اختصارا اس میں شامل ہیں جو طلبا کو بآسانی سمجھ میں آ سکتیں ہیں نیز مشکل مقامات پر مفتی ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی نے حاشیہ تحریر فرما کر تسہیل کر دی ہے، علم صرف کے تمام اہم ابواب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کتاب کو علم صرف کا زبدہ اور نچوڑ کہنا بجا ہے
عافیہ حضور مفتی اعظم کی نظر میں ـــــــــــ
یہی وجہ ہے کہ حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ کو بھی یہ کتاب مستطاب بہت پسند آئی فن صرف میں بہتات کتاب ہونے کے باوجود سرکار مفتی اعظم رضی اللہ عنہ نے جب حضرت ساجد میاں قدس سرہ مہتمم مظہر اسلام کو علم صرف پڑھانا چاہا تو حضور ملک العلما رضی اللہ عنہ کو خط لکھا:
۷۸۶
بریلی ۱۲ شعبان ۵۵ ھ
مولانائے مکرم ذی الکرم زید مجدہ
السلام علیکم ورحمتہ وبر کاتہ
طالب خیر بہ خیر وعافیت ہے۔
عوافی مزاج گرامی مطلوب ۔ مدت سے خط کتابت کا سلسلہ منقطع ہے۔ نہ کسے میرود آں جا نہ کسے می آید ۔ اس وقت یہ خط اس غرض سے لکھ رہا ہوں کہ مجھے اپنے ایک عزیز نور چشم ساجد میاں سلمہ کے لیے عافیہ کی ضرورت ہے۔ اپنی عافیت کے ساتھ عافیہ بھی بھیج دیں۔ والسلام
مصطفی رضا قادری نوری عفی عنہ
[جہان مفتی اعظم ص: ١٠٩٩]
ہمزۂ وصلی اور قطعی ــــــــــــــــ
کتاب مطالعہ کرتے ہوئے جب باب افعال کے ہمزۂ قطعی پر پہنچا تو حضور ملک العلما کا ایک فتوی جو فتاوی ملک العلما میں موجود ہے جسے فقیر نے تقریبا آٹھ، نو سال قبل پڑھا تھا یاد آگیا میں چاہتا ہوں طلبا کے فائدے اور قارئین کے ذوق طبع کے لیے یہاں پیش کر دوں ۔
سوال و جواب من و عن ملاحظہ فرمائیں:
جناب مولانا دام مجده !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته
ضروری گزارش یہ ہے کہ
١۔ اہل صرف کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے، باب افعال کا ہمزہ قطعی ہے ۔ چنانچہ آپ بھی اپنے رسالہ ص ۲۴ [٢٠١٦ء والے ایڈیشن میں ص: ٩٥ ] میں تحریر فرماتے ہیں : ثلاثی مزید مطلق بے ہمزۂ وصل کے پانچ باب ہیں اور اس کے باب اول کا ہمزہ قطعی ہے، وصلی نہیں ۔ اس لئے حالت وصل میں نہیں گرتا ۔ باب اول افعال۔ پھر لکھتے ہیں :
علامت اس کی فا کلمہ کے قبل همزۂ قطعی ہوتا ہے۔ قطعیت ہمزہ کا مطلب تو یہی ہے کہ حالت وصل میں اس کا قائم رہنا واجب اور ضروری ہے۔ پھر ص ۳۳ [٢٠١٦ء والے ایڈیشن میں ص: ١١١] میں تحریر فرماتے ہیں:
قاعدہ: ہمزہ منفردہ متحرکہ ما قبل صحیح ساکن غیر نون انفعال و یائے تصغیر ہو تو حرکت اس کی نقل کر کے ماقبل کو دے کر اس کو گرا دینا جائز ہے۔ ایک کلمہ میں ہو تو جیسے لیسل یا دو کلمہ میں جیسے قدَ فلح کہ اصل میں قد افلح تھا اور یسأل تھا “ انتخاب ملخصا -
افلح باب افعال کا ماضی ہے مگر اس قاعدے کی رو سے قد کے لانے کے بعد اس کے ہمزہ کا گرا دینا جائز ہے تو پھر قطعیت ہمزہ کا کیا مطلب ہے؟
اور قد فلح قد افلح میں کیا فرق رہا ؟
اس صورت میں ہمزہ کی تقسیم قطعی اور وصلی کی طرف لغو بیکار ہو جاتی ہے ۔۔
٢۔ یہ لفظ قر آن مجید میں متعدد جگہوں میں آیا ہے۔ ہر جگہ باثبات ہمزہ ہے، باسقاط ہمزہ کہیں نہیں ہے۔ اگر کوئی محض آپ کی پیش کردہ مثال کی رو سے قرآن شریف میں قد افلح کی جگہ قد فلح پڑھے تو جائز ہے یا نہیں ؟
اور اس طرح کی قراءت قراء سبعہ میں سے کسی سے مروی ہے یا نہیں ؟
اگر قد فلح پڑھنا جائز ہے تو پھر اس قاعدے کی رو سے قرآن مجید میں جس جگہ اثبات ہمزہ ہے وہاں اسقاط ہمزہ جائز ہے یا نہیں؟
سل بنی اسرائیل کی جگہ اسئل بنی اسرائیل، فاسئلوا اهل الذكر، فسلوا اھل الذکر پڑھنا جائز ہے یا نہیں اگر نہیں جائز ہے تو کیوں ؟
مہربانی فرما کر جواب مع دلائل تحریر کر کے ذیل کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔
الجواب:
(١) ہمزہ وصل وہ ہے کہ وجہ کلام میں اس کا گرانا ضروری ہو، باقی رکھنا خطا ہے ۔ اس لئے قرآن شریف میں مطلقا ہر جگہ باتفاق جميع قراء تمامی همزۂ وصل گرا دیے جاتے ہیں۔ بخلاف ہمزۂ قطعی کے کہ وہ درجہ کی وجہ سے کلام سے نہ گرے گا بلکہ باقی رکھا جائے گا۔
رہا بقاعده تخفیف ہمزہ کا گرنا تو وہ کچھ اس قسم کے ہمزہ پر موقوف نہیں بلکہ اصلی ہمزہ بھی اس قاعدے سے گر جائے گا۔ جیسے یسئل کہ ہمزہ عین کلمہ ہے اور یقرأ کے آخر کا ہمزہ زائد نہیں ۔ پس اسی قاعدے سے یقر ہوگا، لم ار کہ اصل اس قاعدے سے لمر ہو جائے گا ۔ حالانکہ یہ علامات مضارع ہے غرض اس قاعدہ کی رو سے ہر طرح کا ہمزہ وصلی زائد قطعی زائد سب گر جائے گا اور وجہ کلام میں ہمزہ وصلی گر جائے گا ، ہمز قطعی نہ گرے گا کہ ہمزہ وصلی زائد محقق ہے۔ صرف بقدر ابتداء سکون کی وجہ سے لایا جاتا ہے تو جب کوئی کلمۂ اولی میں آئے گا ، یہ ہمزہ گر جائے گا ۔ قد فلح اور قد جتنب میں فرق ظاہر ہے۔ اول یہ کہ قد فلح پڑھنا جائز ہے اور قد جتنب پڑھنا واجب ہے ۔ قد افلح بھی پڑھ سکتے ۔ اس میں کوئی غلطی نہیں۔ جبکہ قرآن شریف میں ہماری قراءت میں اسی طرح وارد ہونے کی وجہ سے قد افلح ہی پڑھنا اولی ہے اور قد اجتنب پڑھنا غلط ہے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ قد فلح کا ہمزہ اس قاعدے سے گرا ہے، نہ فقط اول میں لفظ کے آنے سے ۔ بخلاف قد جتنب کے کہ اگر یہ قاعدہ سرے سے نہ ہوتا جب بھی فقط درج کلام اور اول اس کے کسی لفظ کا آ جانا ہی اس کے گرا دینے کو کافی ہے۔
تو معلوم ہوا کہ ہمزہ کی تقسیم قطعی اور اصلی کی طرف لغو اور بیکار نہیں ہے۔
٢۔ بے شبہ قد فلح پڑھنا جائز ہے اور اسی طرح کی قراءت قراء کی مروی اور منقول ہے۔
تیسیر علامہ ابو عمر و عثمان حرانی متوفی ٤٤٤ ھ مطبع مجتبائی دہلی ص ۳۰ میں فرماتے ہیں:
اعلم ان كان يلقى حركته المهمزة على الساكن يتحرك بحركتها وتسقط من اللفظ الح
پھر اس کی تین قسم کر کے اول و دوم کے بعد تیسری قسم کو بیان کرتے ہیں ۔

والثالث ان يكون سائر حروف المعجم نحو قوله تعالى من امن الخ
امام شاطبی شاطبیہ مطبوعہ مصرص ١٦ میں فرماتے ہیں :
وحرك لورش كل ساكن اخر
صحيح بشكل الهمز واحذفه مسهلا
نیز اسی مجموعہ قراءت میں رسالہ طیبہ حافظ محمد ابی جزری ص ۱۱۰ میں فرماتے ہیں:
وانقل في الآخر غير حرف مد
لورش الا كتابيه اسد
اس قاعدہ عامہ سےاستدلال اگر چہ اثبات مدعی میں تام ہے مگر خاص قد فلح کی تصریح بھی مفسرین نے فرمادی۔
تفسیر روح المعانی علامہ آلوسی بغدادی جلد ۵ ص ٤٨٠ سورہ مومنون میں ہے:
و قرأ ورش عن نافع قد فلح باستبقاء حركة الهمزة على الدال وحذف فيها لفظا لالتقاء الساكنين كما قال ابو البقاء وهي الهمزة الثالثة بعد نقل حركتهما والدال الساكنة بحذف الاصل لانه لا يعتد بحركتها العارضة.

اور بلا شبہ اسی قاعدہ کی رو سے، جس جگہ یہ قاعدہ پایا جاتا ہو اس جگہ ہمزہ کو گرادینا جائز ہے اگر چہ مروی اثبات ہو۔
تیسیر ص ۷۲ میں ہے:
ابن كثير والكسائي وسلوا الله من فضله وسل الذين اذا كان امرا مواجها وكان السين والواو والفاء بغير همزة حيث وقع الوجوه في أتمام القرأت العشرة.
حافظ شیخ محمد ص ۱۶۷ میں ہے: ونقل خلف و اسال و فاسئل وسلوا و فاسئلوا كالكسائي
معلوم ہوا کہ واسئلوا و وسلوا اور فاسئلوا و فسلوا پڑھنا صرف قاعدے کی رو سے جائز ہی نہیں ہے بلکہ عبد اللہ ابن کثیر دارمی مکی اور علی بن ہمزہ نحوی کسانی کوفی اور خلف ابن ہشام بزاز سے مروی و منقول ہے ۔
[فتاوی ملک العلما ص: ٤٧٨-٤٧٩]
وافیہ ـــــــــــــ
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وافیہ فن نحو میں اردو زبان میں نحو کی اولین کتابوں میں سے ہے جسے حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ نے تصنیف فرمائی یہ کتاب بڑے عرصے سے منتظر طباعت رہی جب جہان مفتی اعظم لکھی گئی تو اس میں محشی نے حاشیہ لگایا:
علم نحو میں آپ [ملک العلما] کی تصنیف وافیہ آج تک شائع نہ ہو سکی اس کے دو نسخے کتب خانے میں محفوظ ہیں۔
[جہان مفتی اعظم ص: ١٠٩٩]
پھر حضور ملک العلما کی اس نایاب کتاب کو شائع کرنے کے لیے مفتی ابرار احمد قادری مصباحی حفظہ اللہ القوی نے دن رات یک کر دیا مسودہ اتنا بوسیدہ تھا کہ پڑھنا بہت مشکل امر تھا باوجود اس کے بڑی محنت اور عرق ریزی سے اس پر کام کیا اور مفہوم تک رسائی حاصل کی یہاں تک کہ مفتی صاحب قبلہ کی محنتوں سے پہلی بار اس کی اشاعت ٢٠٢١ میں ہوئی
بعدہ حضرت علامہ محمد نظام الدین مصباحی صاحب قبلہ یوکے کی محنتوں اور کاوشوں سے جماعت رضائے مصطفی یوکے سے بھی اس کی اشاعت ہوئی۔
یہ کتاب در حقیقت شرح جامی، ہدایۃ النحو، کافیہ ابن حاجب، شرح ابن عقیل، شرح شذور الذھب، اوضح المسالک، مغنی البیب جیسی اہم اور متداول کتابوں کا نچوڑ ہے جسے ہر قاری پڑھ کر بآسانی محسوس کر سکتا ہے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اہل سنت کے ان دونوں جیالے کو عمر طویل عطا فرمائے اور مزید دینی خدمات کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
21
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

افتتاح و اختتام کتاب اور فاتحہ خوانی

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢