ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا از: محمد جسیم اکرم مرکزی جامعۃ الرضا بریلی شریف انداز عشق سب کا الگ الگ ہوتا ہے کوئی قریب رہ کر بھی بہت دور ہوتا ہے کوئی دور ہو کر بھی بہت قریب ہوتا ہے آج کل مسلم قوم دور دراز کا سفر کرنا بڑی بڑی جگہوں میں حاضری دینا اپنے لیے ضروری سمجھتی ہے اور اسی کو محبت کی دلیل سمجھتی ہے حالانکہ محبت کی دلیل یہ نہیں ہے کہ سب کچھ نظر انداز کر کے آپ کبھی یہاں کا کبھی وہاں کا سفر طے کرتے رہیں بلکہ محبت کی دلیل یہ ہے جو آپ کی ذمہ داری ہے اسے پوری کی جائے اگر آپ کے گھر میں ماں بیمار ہے تو ماں کی تیمار داری کی جائے دیوہ شریف نہ جایا جائے اگر باپ کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے تو باپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں اجمیر کی گلیوں کی خاک نہ چھانی جائے اگر آپ کی بیوی، اولاد آپ کے بغیر نہ رہ پائیں تو ان کی پرورش کی جائے کلیر شریف کی نہر میں ڈبکی نہ لگائی جائے اگر ملک میں فتنہ بڑھ رہا ہو اور آپ عالم دین ہیں تو ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں قیام پذیر نہ رہیں بلکہ اپنے ملک کے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لیے لائحۂ عمل تیار کریں اگر آپ کو اللہ نے مال و دولت عطا کی ہے تو اسے اپنے پڑوس کے مسلمانوں کو روتا سسکتا چھوڑ کر کہیں اور خرچ نہ کریں بلکہ ان کی مدد کو پہنچیں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں کہ کس طرح فتنۂ ارتداد کا سد باب ہوگا کس طرح بلڈوزر کا خاتمہ ہوگا کس طرح گستاخ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان بند ہوگیایسا کیا کیا جائے گستاخان نبی کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے کیا آپ مجدد وقت کنز الکرامت جبل الاستقامت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کی زندگی نہیں دیکھتے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو حضور پُرنور سرکار غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے کیسی غایت درجہ محبت تھی ان کے نام کی شیرینی گر گئی تو اپنی زبان مبارک کو زمین سے لگا کر چاٹ لیا لیکن تاریخ گواہ ہے اتنی محبت و انسیت ہونے کے باوجود کبھی بغداد شریف حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضری نہیں دی اگر آپ چاہتے تو کہاں کہاں نہیں جا سکتے تھے لیکن آپ کے دل میں امت کا درد تھا کہیں ناموس رسالت پر حملہ ہو رہا تھا تو آپ اس کی حفاظت و صیانت کے لیے سینہ سپر رہے پورے ملک بیرون ملک کے سوالات کے جوابات دینے میں مصروف عمل رہے کہیں عقائد اسلام پر سائنسی ٹیکنالوجی سے حملہ کیا گیا تو آپ اس کا جواب دینے میں سرگرم عمل رہے اتنی مصروفیات میں آپ کہیں کیسے جا سکتے تھے آپ کی یہی خدمات حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے محبت کی سچی دلیل ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی کو خلق خدا کی خدمت ناموس رسالت کی حفاظت عقائد اسلام کی صیانت کے لیے وقف کر دی اور یہیں سے پہریداری کا حق انجام دیا اسی لیے فرماتے ہیں میری قسمت کے قسم کھائیں سگانِ بغدادہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیراکاش آج بھی کوئی امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے والا ہوتا جو اپنے ملک کے حالات کا جائزہ لیتا اور اس کی بہتری کے لیے تدبیر کرتا ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے سینہ سپر رہتایاد رہے کہ فقط چادر چومنے کا نام محبت نہیں ہے دست بوسی کا نام الفت نہیں بلکہ ان چیزوں کو دور کرنے کا نام محبت ہے جن سے محبوب کو اذیت و تکلیف پہنچتی ہے کیا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مریدین کے گھروں پر بلڈوزر چلایا جائے تو حضور غوث الاعظم خوش رہیں گے خوش تو تب ہوں گے جب آپ ان کے مریدین کی حمایت میں کھڑے رہیں گے کتنی مائیں ہیں جو آج بلک رہیں ہیں سسک رہیں ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اگر ماؤں کی محبت و خدمت کو چھوڑ کر اونچا مقام مل جاتا تو حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کبھی خیر التابعین نہ ہوتےمعلوم ہوا عشق نام ہے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و قوانین کو بجا لانے کا عشق نام ہے گستاخ رسول کو قوانین رسول کے مطابق سزا دینے کا عشق نام امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امداد و حمایت کا عشق نام ہے احکام خداوندی پر پہرا دینے کا اگر چہ کوئی اپنے محبوب سے میلوں دور کیوں نہ ہو اگر ان کے نقش قدم پر گامزن ہے تو وہ عاشق صادق ہے اور کوئی قریب ہی کیوں نہ ہو لیکن دل میں ابو جہلیت ابو لہبیت ہو تو قریب رہنے کا کوئی فایدہ نہیں فایدہ تو تب ہے کہہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As