استفتا بمتعلق مفتی عبید الرحمن رشیدی
✍️ Mufti Jasim Akram Markazi
عملی تشابہ میں آئے گا
قال ز
نہیں: منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا
قال ب
تو حضرت آپ کے بارے میں
قال ز
آں
قال ب
قال ز
پھلواری والے کہاں ہم سے کوئی بات چیت کیے ہیں ہم سے تو کوئی بات چیت نہیں
قال ب
وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہم اس کے قائل نہیں ہیں یعنی تکفیر نہیں کرتے ہیں تو حضرت بھی نہیں کرتے ہیں تکفیر
قال ز
نہیں نہیں: وہ نہیں کرتے ہیں یا کرتے ہیں تو اگر وہ نہیں کرتے ہیں تو کیا کافر کہہ دیں گے ان کو
قال ب
اور یہی [آگے بولنے نہ دیا گیا روکتے ہوئے خود کہنے لگے]
قال ز
اطلاع شرعی کے با وجود
قال ز
آں
قال ب
قال ز
اطلاع شرعی کیسے معلوم کہ ان کو اطلاع شرعی ہوئی کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی
قال ب
کیونکہ انھوں نے جو کتابیں لکھی ہیں پھلواری والے جو کتابیں لکھی ہیں [آگے بولنے نہ دیا گیا روکتے ہوئے خود کہنے لگے]
قال ز
نہیں نہیں: اطلاع شرعی کس ہو کہتے ہیں کتاب لکھی ہے یا نہیں لکھی ہے کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی
قال ب
ان تک وہ بات وہ کیا کہتے ہیں کہ جیسے [پھر مجھے روک دیا گیا]
قال ز
سوال یہ نہیں ہے سوال یہ ہے کہ پھلواری والوں پر آپ پر کفر کا فتوی کس بنا پر دیتے ہیں اگر اس بنا پر دیتے ہیں کہ حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہیں کرتے ہیں تو کیا اعلی حضرت نے حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہ کرنے پر کہیں بھی کھلم کھلا کافر کا لفظ استعمال کیا ہے وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ضرور منھم ہیں ضرور منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا ہے
قال ب
تو پھر اس کا کیا جواب ہوگا من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر جو ہے
قال ز
ویسے جیسے من شک من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفر ہے اب کوئی قصدا جان بوجھ نماز نہ پڑھے تو کافر ہو گیا وہ
قال ب
نہیں
قال ز
من شک سے مراد یہی ہوتا ہے کہ جو کوئی اطلاع شرعی یقینی حاصل ہو جانے کے بعد شک کرے گا تو کافر ہوگا وہ اگر اطلاع شرعی یقینی کی منزل میں نہیں پہنچا اور اس لیے شک ہے اس کو تو کیا کافر ہو جائے گا اور اطلاع شرعی یقینی کس کو کہتے ہیں اب اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے
اطلاع شرعی یقینی کا مطلب یہ ہے کہ قول صراحتا ضروریات دین کے انکار پر مشتمل ہو ایک
دوسرا یہ ہے کہ قائل متعین ہو
تیسرا یہ ہے کہ قائل نے ہوش و حواس میں وہ بات لکھی یا کہی ہو
ان تینوں احتمال فی الکلام احتمال فی التکلم احتمال فی المتکلم ان تینوں میں سے کسی میں بھی ادنی اگر احتمال ہو جائے گا تو اب وہ اطلاع شرعی یقینی نہیں ہے
قال ب
بائسی میں
قال ز
بائسی میں کونسی جگہ
قال ب
پانیصدرہ
قال ز
پانیصدرہ: پانیصدرہ میں تو پھلواری شریف ہی کے لوگ ہیں
قال ز
تو گھر وہیں ہوا پانیصدرہ میں
قال ب
جی پانیصدرہ میں
قال ز
قال ب
جی
قال ز
اور اس کی تصدیق یہ ہوتی ہے کہ مبارک پور میں جو الجامعۃ الاشرفیہ کے سنگ بنیاد کی کانفرنس تھی علامہ مشتاق نظامی صاحب سے بات ہوئی کہ کانفرنس تو ہو رہی ہے اور بہت سے علماء اہل سنت جمع ہوں گے میرے اس مسئلے کا کہ اسمعیل کی تکفیر اعلی حضرت کیوں نہیں کی اس پر گفتگو کر لیجیے ان علما کرام کے سامنے ہمیں لے جائیے میں پہنچا وہاں نظامی صاحب پہنچے ہوئے تھے وہاں پر میں نے اسے یاد دلایا کہ آپ نے کہا تھا علما کی جماعت میں میں لکھ کے لے گیا تھا اور لکھنے کے بعد ان کے سامنے رکھا اکابر علما مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن صاحب بھی مفتی رضوان الرحمن صاحب مفتی غلام محمد صاحب اشرفیہ کے اسٹاف کے علاوہ قاری شمس الدین صاحب [۔۔۔۔08:15۔۔۔۔۔یہاں کوئی ایک لفظ ہے جو سمجھ نہیں آیا] بہت سارے لوگ تھے کچھ دیر تک تو سکوت کا ماحول رہا خاموشی کا اس کے بعد مفتی رضوان الرحمن صاحب نے کہا کہ آپ نے بہت ساری باتیں درج کی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عبارتوں کے سیاق وسباق کو بھی دیکھ لیا جائے برائے تحقیق جو معنی آپ لے رہے ہیں کوئی ضروری نہیں جو آپ لے رہے ہیں وہی صحیح ہو اس لیے سیاق و سباق دیکھنے کے لیے ضرورت اس کی ہے کہ اس کی نقل آپ تیار کر کے ہم سب کو دے دیجیے پھر ہم لوگ اس کو دیکھ کر تب آپ کو جواب دیں گے
قال ب جی
قال ز
اس وقت تو یہ فوٹو اسٹیٹ کا دور تھا نہیں کاربن منگوایا کاربن پہ فرمایا مجھ سے کہا بھئی اس کی نقل کر کے سب کے حوالے کر دیا جائے ایک سال گزر گیا کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا پتہ ایڈریس وغیرہ سب دیا تھا پن کوڈ کے ساتھ دیا تھا اتفاق ہم چلے گئے ممبئی تو مجاہد ملت وہاں پہنچے ہوئے تھے مجاہد ملت نے ہم کو دیکھا تو ہم کو اشارے سے ہم دور میں تھے ہم کو اشارے سے بلایا بھئی یہ آپ مغرب کی نماز زکریا مسجد میں آ کے پڑھیے آپ سے کچھ بات کرنی ہے میں نے کہا ٹھیک میں پہنچ گیا زکریا مسجد پہنچنے کے بعد مغرب کے بعد امام صاحب کے حجرے میں ہم لوگ تھے انھوں نے کہا وہ سوال جو آپ نے کیا تھا اشرفیہ مبارک پور کی سنگ بنیاد کی کانفرنس کے موقع سے تو اس سوال کا جواب آیا آپ کو حالانکہ اس میں وہ بھی تھے میں نے ادبا نہیں کہا کہ آپ سے بھی کہا گیا تھا میں نے سوال دیا تھا آپ کو بھی آپ نے بھی کوئی جواب نہیں دیا یہ نہیں میں نے کہا اب تک کوئی جواب نہیں آیا ملا نہیں ہے تو پلٹ کر کے وہ مناظرانہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ پھر آپ نے کیا سوچا ہے اپنے سوال کا جواب آپ کے نظر میں کیا ہے یہ انھوں نے کہا میں نے کہا میرے پاس جو جواب ہے شاید کہ آپ حضرات اس سے اتفاق نہیں کریں گے انھوں نے کہا کیا جواب ہے بتاؤ میں نے ہی کہا کہ من شک کے مطلب کے سمجھنے میں لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہیں اصل میں من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کا مطلب وہ نہیں جو ظاہری عبارت کے ترجمے سے سمجھ میں آتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی کو بھی اطلاع شرعی یقینی حاصل ہو جائے پھر بھی وہ شک کرے گا تو کافر ہو جائے گا بس، بس تو نے صحیح سمجھا [۔۔۔۔۔۔۔11:07.40۔۔۔۔۔۔(یہاں ایک چھوٹا سا جملہ ہے سمجھ نہیں آیا غالبا کہا) بس اتنا کافی ہے] اس کی تائید انھوں نے فرمائی مجاہد ملت نے کہ تو نے صحیح سمجھا بات یہ ہے کہ اطلاع شرعی یقینی جس کو حاصل ہو جائے اب اس کے بعد بھی اگر وہ شک کرتا ہے اس کو کافر کہنے میں تو اس کے اوپر فقد کفر کا حکم لگے گا نہیں تو منھم کے درجے میں ہو گا سمجھے کہ نہیں جیسے کہ اعلی حضرت نے بہت ساری جگہوں میں اگر کوئی حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرے تو وہ ضرور منھم ہے تو ضرور منھم کی حد تک ہی فتوی ہوگا مگر کھلم کھلا اس پر کفر کا فتویٰ نہیں ہوگا سمجھے کہ نہیں
قال ز علیم اللہ صاحب وعلیکم السلام
قال ز کب آپ پہنچے؟
قال غ پڑسوں
قال ز سب لوگ ٹھیک ہیں
قال غ جی الحمدللہ
قال ز اس بار عید کی نماز آپ کو وہیں پڑھنی پڑی
قال غ جی
قال ز وہاں نہیں پڑھے
قال غ نہیں سیوان میں
قال ز ہاں
قال غ پانچ چھ سال سے جو ہے وہیں پہ پڑھانی پڑتی ہے چار پانچ سال سے عیدین کی نماز وہیں پڑھانی پڑتی ہے
قال ز ہوں: لوگ تو عید کے موقع پر گھر آ کر عید منانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگ جو ہیں نا گھر چھوڑ دیتے ہیں
قال غ آنے نہیں دیتے ہیں کیونکہ وہاں پہ کچھ اختلافی مسائل ہیں
قال غ کچھ اختلافی مسئلے ہیں وہاں پہ ایک جو مدرسہ اور چلتا ہے مولانا امجد القادری صاحب رضوی انھیں کے گھر کے جو ہیں سب لوگ رضوی ہیں باقی تو نائنٹی پرسنٹ [٪90] جو ہیں سب رشیدی ہیں وہاں
قال ز ہوں
قال غ تو معاملہ بہت ساری باتیں ہیں ان کے پیچھے لوگ نماز پڑھنا نہیں چاہتے ہیں
قال ز اچھا
قال غ جی وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لوگ نہیں رہیں گے تو مجبوراً پڑھنا پڑے گا ان کے پیچھے
قال ز خیر چلیے رشیدی اس لیے آپ کو رکنا پڑ رہا ہے
قال غ جی اب الگ جماعت ہو رہی ہے کچھ
قال ز اچھا یہ مولوی احسان جو بات کر رہے تھے کیا حال ہے ان کا
قال غ اس کا کڈنی کا مسئلہ ہے اک کڈنی جو ہے فیل ہے
قال ز تو پھر
قال غ علاج چل رہا ہے دلی کا جو ہے علاج چل رہا ہے
قال ز ایک کڈنی فیل ہے تو گاڑی چلنے والی ہے ایسا نہیں ہے کہ ایک کڈنی کی وجہ سے گاڑی چلے گی لیکن یہ ہے کہ احتیاط کرنی پڑے گی
قال غ جی کمزوری بہت زیادہ ہے کافی کمزور ہو گئے ہیں تھوڑی دور اگر چلتے ہیں تھکاوٹ ہو جاتی ہے زیادہ چل نہیں چل پھر نہیں پا رہے ہیں کمزوری ہے تھکاوٹ زیادہ ہے
قال ز احساس مرض نے ان کو اور کمزور کر دیا ہے مطلب یہ ہے کہ آدمی کو اتنا احساس نہیں کرنا چاہیے ایک تو مرض اپنی جگہ پر ہے اور احساس مرض اس سے بڑھ کے ہے اب ہم بچیں گے نہیں ہم بچیں گے نہیں یہ احساس کرے گا تو اور کیا ہوگا
قال غ گاؤں ہی کے وہ مولانا ہیں امجد القادری صاحب
قال ز معلوم ہے معلوم ہے
قال غ جی بہت زیادہ اختلاف پھیلا ہے ابھی جو ہے تین طرف کے لوگ ایک جانب ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی وہ مصلی چھوڑ نہیں رہے ہیں
قال غ ابھی کچھ جو ہے انصاری برادری کے لوگ بھی ادھر شامل ہو گئے ہیں
قال ز شامل ہو گئے ہیں ؟
قال غ جی [٪25] پچیس پرسنٹ لوگ ہیں
قال ز خیر جو جیسا کرتا ہے اس کا انجام اس کے ساتھ ہے سمجھے کہ نہیں
قال ز ہوں : کوئی بھی مذہب اگر باطل ہے اگر کفر کا فتویٰ نہیں ہے لیکن گمراہ تو ہیں لہذا علمی مسلمان اگر فاسق ہو تو ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور اگر ایک مسلمان ہے جو گمراہی کے درجے میں ہے یعنی اس پر کفر کا فتویٰ تو نہیں ہے مگر گمراہ ہے بد مذہب ہے یہ عقیدے کی خرابی اس عمل کی خرابی سے بڑھ کر ہے اس کے پیچھے نماز اور بدرجۂ اولی مکروہ تحریمی ہوگی تو پھلواری شریف والوں نے افراط اور تفریط کے درمیان راہ نکالنے کے لیے چاہیے تھا کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھتے احتیاط
کیونکہ نماز عبادت ہے اور عبادت کے معاملے میں احتیاط چاہیے جیسے ایک فرقہ ان کو کافر قرار دے رہا ہے جیسے بریلویوں کا فرقہ تو کم سے کم اگر کافر نہ سہی تو گمراہی میں تو کوئی شک نہیں گمراہی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو ان کے ساتھ مجالست مواکلت یعنی ایک ساتھ بیٹھنا یا کھانا پینا نہ کرو سمجھے کہ نہیں مگر ان لوگوں نے اس کی پروا نہیں کی اس کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیں گے اس کے ساتھ بیٹھیں گے بھی کھائیں گے پییں گے بھی اب اس سے جو ہے بہت زیادہ بدنامی کے [۔۔۔17:21.54۔۔۔(شاید یہاں آپ نے کہا:) پھٹکار] ملیں گے سمجھے کچھ
قال ز جیسے کہ معتزلہ فرقہ گمراہ ہے خوارج یہ بھی گمراہ ہے خارجی فرقہ اگر چہ ان پر جماعت اور فرقے کے اعتبار سے کفر کا حکم تو نہیں ہے مگر بدمذہبیت کا تو حکم ہے معتزلہ کے بارے میں بھی خوارج کے بارے میں بھی سمجھے کہ نہیں یہ بدمذہبیت سے اجتناب کروگے کہ نہیں اجتناب ہے
رہا یہ ہے کہ کسی بھی بدمذہب کا کوئی بھی مسئلہ یعنی کہ قول اگر صواب اور درست ہے تو ہم اس کو خوامخواہ بد مذہب ہونے کی وجہ پر اس درست قول کو نا درست کہیں یہ بھی ٹھیک نہیں مثلا زمخشری ہے جار اللہ زمخشری بہت بڑا نحوی بھی گزرا ہے سمجھے کہ نہیں اور ساتھ ساتھ یہ ہے کی مفسر بھی گزرا ہے وہ کشاف قرآن کی تفسیر لکھی اس نے معتزلی فرقے کا ماننے والا علم فقہ میں بھی ان کو کافی درک تھا زمخشری معتزلی تھا مگر تفسیروں میں جہاں پر نحو و صرف کی گفتگو قرآن میں آئی ہے تو زمخشری کے بھی حوالے ملتے ہیں اب جو بات معقول ان کی ہے ان کی بات کو لیتے ہیں لیکن اس کی بات کو لینے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم زمخشری کے مطلب اس کو کھلم کھلا مومن صالح مانتے ہوں سچا پکا مسلمان مانتے ہوں ایسا تو نہیں ہے کبھی کبھی بد مذہب کی بھی کوئی بات اچھی ہوتی ہے تو جو اچھی بات ہوتی ہے اس اچھی بات کو بات ہونے کے اعتبار سے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بات انھوں نے اچھی کہی ہے
قال ز ہوں: سمجھے کہ نہیں تو کسی کی بات کی تحسین بھی مطلقا کفر نہیں ہے بلکہ بد مذہب کوئی ایسی بات کہے تو سمجھے کہ نہیں ایسے ہی لبید شاعر تھا ابھی اسلام نہیں لایا تھا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر پر ان کی تحسین فرمائی جی اشعر الشعراء الشاعر لبید تمام شعرائے عرب میں سب سے اچھا شاعر لبید ہے انھوں نے یہ شعر کہا کہ
یعنی جو چیز اللہ کے ما سوا ہے باطل ہے اس شعر پر وہی تحسین فرمائی حضور نے حالانکہ وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے بعد میں اسلام لائے وہ تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بد مذہب ہو اگر کوئی اس کی بات اچھی ہے تو ہم اس کو یہ نہیں دشمنی میں یہ نہیں کہیں گے کہ وہ کوئی اچھی بات کہہ دے تو بھی وہ غلط ہے مگر کسی اچھی بات کے اچھا کہنے پر یہ لازم نہیں ہوتا ہے کہ کہنے والا بھی اچھا ہے سمجھے کہ نہیں ایک غیر مسلم ہی کہیں کوئی بات اچھی کہہ دیتا ہے کہیں اچھا فیصلہ کر دیتا ہے کہیں گے یہ فیصلہ اس نے اچھا کیا تاکہ جج جو ہے عدالت میں کہ ایسا انصاف پر مبنی کوئی فیصلہ کر دیا کہیں گے کہ یہ فیصلہ انھوں نے اچھا کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے حاکم کی تعریف کر دی تو اس لیے تعریف کی بنا پر ہم بھی اسلام سے خارج ہو گئے میں ان کی بات کی اچھائی کو بیان کیا سمجھے کہ نہیں یہ بات اس لیے حقیقی ہے سمجھ گیا نا ہوں
قول کا اچھا ہونا قائل کے اچھا ہونے پر دلیل نہیں ہے لازم نہیں سمجھے اس کو قرآن سے بھی ہم ثابت کر سکتے ہیں سورۂ منافقین سورۂ منافقون میں ہے پہلی ہی آیت میں یہ آیا ہے کہ یہ منافق جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے إِذَا جَاۤءَكَ ٱلۡمُنَـٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشۡهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۗ
اے رسول جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں بے شک کہہ کر منافق کہہ رہے ہیں بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ اللہ تو جانتا ہے کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں وَٱللَّهُ یَشۡهَدُ إِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَكَـٰذِبُونَ اور اللہ گواہی دیتا ہے اس بات پر یہ منافق اپنی بولی میں جھوٹے ہیں کیا ہے ان کی بولی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ غلط تھی؟ پھر جھوٹا کیسے ہو گئے وہ جو بولی وہ بول رہے ہیں وہ تو بالکل سچی ہے حضور کو کہنا کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ تو بالکل سچی بات ہے مگر اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید بھی فرمائی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ اللہ جانتا ہے مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں یعنی انك لرسول اللہ کہنے میں یہ جھوٹے ہیں بولی تو سچی ضرور ہے لیکن بولنے والا سچا نہیں ہے کسی کی بات اچھی ہو کوئی ضروری نہیں کہ یہ بات بولنے والا بھی اچھا سمجھا جائے کسی کی بات سچی ہو تو ضروری نہیں کہ بولنے والے کو سچا سمجھا جائے بولی کا اچھا ہونا بولی کا سچا ہونا بولنے والے کی اچھائی یا سچائی کی دلیل نہیں ہے
قال مرغوب جی
قال ز او ہیں آپ یہ ان لوگوں کا مسئلہ آپ ہی کو حل کرنا ہے
قال ب حضرت ہم یہ کہ رہے ہیں کہ آپ تک اطلاع شرعی یقینی موصول ہوئی ؟
قال غ حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے جی
قال ز یہ سب نہیں یہ سب ٹھیک نہیں ہے
قال غ مسئلہ بتا دیا گیا ہے آپ اس سے خود سمجھ لیجیے گا
قال ز ذیشان صاحب ہوئے یا کوئی بھی جن لوگوں نے مطلب یہ ہے کہ سکوت برتا ہے توقف کرنے والے وہ ہمی لوگوں کو ڈھال بنانا چاہتے ہیں بھئی آپ اپنی طرف سے تحقیق پیش کیجیے نا آپ میدان میں آئیے کہیے مجھے سوالوں کا جواب دیجیے جو لوگ آپ کے اوپر الزام لگا رہے ہیں جو آپ کو لوگ غلط قرار دے رہے ہیں تو آپ ان سے نقلیہ کیجیے اب خوامخواہ ہم کو بیچ میں لا کر کے اپنے لیے ڈھال کیوں بنانا چاہتے ہیں دیکھے
قال غ جی
قال ز آپ کو جانا چاہیے اور کسی کو دعا تعویذ کی ضرورت ہو تو کر دیجیے اس کے بعد تیار ہو جائیے اور وہ پانی ذرا سا دم کر دو ان کو نکاح پڑھانے کے لیے جانا ہے اور جمعہ بھی پڑھنا ہے جمعہ کے بعد نکاح ہے
[مفتی صاحب کی ان باتوں کی ریکارڈنگ راقم الحروف کے پاس موجود ہے]
jamiaturrazastudents.com
پتہ: بائسی پورنیہ بہار
رابطہ نمبر: 9523788434
استفتا بمتعلق مفتی عبید الرحمن رشیدی
مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi
عملی تشابہ میں آئے گا
قال ز
نہیں: منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا
قال ب
تو حضرت آپ کے بارے میں
قال ز
آں
قال ب
قال ز
پھلواری والے کہاں ہم سے کوئی بات چیت کیے ہیں ہم سے تو کوئی بات چیت نہیں
قال ب
وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہم اس کے قائل نہیں ہیں یعنی تکفیر نہیں کرتے ہیں تو حضرت بھی نہیں کرتے ہیں تکفیر
قال ز
نہیں نہیں: وہ نہیں کرتے ہیں یا کرتے ہیں تو اگر وہ نہیں کرتے ہیں تو کیا کافر کہہ دیں گے ان کو
قال ب
اور یہی [آگے بولنے نہ دیا گیا روکتے ہوئے خود کہنے لگے]
قال ز
اطلاع شرعی کے با وجود
قال ز
آں
قال ب
قال ز
اطلاع شرعی کیسے معلوم کہ ان کو اطلاع شرعی ہوئی کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی
قال ب
کیونکہ انھوں نے جو کتابیں لکھی ہیں پھلواری والے جو کتابیں لکھی ہیں [آگے بولنے نہ دیا گیا روکتے ہوئے خود کہنے لگے]
قال ز
نہیں نہیں: اطلاع شرعی کس ہو کہتے ہیں کتاب لکھی ہے یا نہیں لکھی ہے کس کو کہتے ہیں اطلاع شرعی
قال ب
ان تک وہ بات وہ کیا کہتے ہیں کہ جیسے [پھر مجھے روک دیا گیا]
قال ز
سوال یہ نہیں ہے سوال یہ ہے کہ پھلواری والوں پر آپ پر کفر کا فتوی کس بنا پر دیتے ہیں اگر اس بنا پر دیتے ہیں کہ حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہیں کرتے ہیں تو کیا اعلی حضرت نے حسام الحرمین کی تائید و تصدیق نہ کرنے پر کہیں بھی کھلم کھلا کافر کا لفظ استعمال کیا ہے وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ضرور منھم ہیں ضرور منھم سے کفر متعین نہیں ہوتا ہے
قال ب
تو پھر اس کا کیا جواب ہوگا من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر جو ہے
قال ز
ویسے جیسے من شک من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفر ہے اب کوئی قصدا جان بوجھ نماز نہ پڑھے تو کافر ہو گیا وہ
قال ب
نہیں
قال ز
من شک سے مراد یہی ہوتا ہے کہ جو کوئی اطلاع شرعی یقینی حاصل ہو جانے کے بعد شک کرے گا تو کافر ہوگا وہ اگر اطلاع شرعی یقینی کی منزل میں نہیں پہنچا اور اس لیے شک ہے اس کو تو کیا کافر ہو جائے گا اور اطلاع شرعی یقینی کس کو کہتے ہیں اب اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے
اطلاع شرعی یقینی کا مطلب یہ ہے کہ قول صراحتا ضروریات دین کے انکار پر مشتمل ہو ایک
دوسرا یہ ہے کہ قائل متعین ہو
تیسرا یہ ہے کہ قائل نے ہوش و حواس میں وہ بات لکھی یا کہی ہو
ان تینوں احتمال فی الکلام احتمال فی التکلم احتمال فی المتکلم ان تینوں میں سے کسی میں بھی ادنی اگر احتمال ہو جائے گا تو اب وہ اطلاع شرعی یقینی نہیں ہے
قال ب
بائسی میں
قال ز
بائسی میں کونسی جگہ
قال ب
پانیصدرہ
قال ز
پانیصدرہ: پانیصدرہ میں تو پھلواری شریف ہی کے لوگ ہیں
قال ز
تو گھر وہیں ہوا پانیصدرہ میں
قال ب
جی پانیصدرہ میں
قال ز
قال ب
جی
قال ز
اور اس کی تصدیق یہ ہوتی ہے کہ مبارک پور میں جو الجامعۃ الاشرفیہ کے سنگ بنیاد کی کانفرنس تھی علامہ مشتاق نظامی صاحب سے بات ہوئی کہ کانفرنس تو ہو رہی ہے اور بہت سے علماء اہل سنت جمع ہوں گے میرے اس مسئلے کا کہ اسمعیل کی تکفیر اعلی حضرت کیوں نہیں کی اس پر گفتگو کر لیجیے ان علما کرام کے سامنے ہمیں لے جائیے میں پہنچا وہاں نظامی صاحب پہنچے ہوئے تھے وہاں پر میں نے اسے یاد دلایا کہ آپ نے کہا تھا علما کی جماعت میں میں لکھ کے لے گیا تھا اور لکھنے کے بعد ان کے سامنے رکھا اکابر علما مجاہد ملت مولانا حبیب الرحمن صاحب بھی مفتی رضوان الرحمن صاحب مفتی غلام محمد صاحب اشرفیہ کے اسٹاف کے علاوہ قاری شمس الدین صاحب [۔۔۔۔08:15۔۔۔۔۔یہاں کوئی ایک لفظ ہے جو سمجھ نہیں آیا] بہت سارے لوگ تھے کچھ دیر تک تو سکوت کا ماحول رہا خاموشی کا اس کے بعد مفتی رضوان الرحمن صاحب نے کہا کہ آپ نے بہت ساری باتیں درج کی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عبارتوں کے سیاق وسباق کو بھی دیکھ لیا جائے برائے تحقیق جو معنی آپ لے رہے ہیں کوئی ضروری نہیں جو آپ لے رہے ہیں وہی صحیح ہو اس لیے سیاق و سباق دیکھنے کے لیے ضرورت اس کی ہے کہ اس کی نقل آپ تیار کر کے ہم سب کو دے دیجیے پھر ہم لوگ اس کو دیکھ کر تب آپ کو جواب دیں گے
قال ب جی
قال ز
اس وقت تو یہ فوٹو اسٹیٹ کا دور تھا نہیں کاربن منگوایا کاربن پہ فرمایا مجھ سے کہا بھئی اس کی نقل کر کے سب کے حوالے کر دیا جائے ایک سال گزر گیا کہیں سے کوئی جواب نہیں آیا پتہ ایڈریس وغیرہ سب دیا تھا پن کوڈ کے ساتھ دیا تھا اتفاق ہم چلے گئے ممبئی تو مجاہد ملت وہاں پہنچے ہوئے تھے مجاہد ملت نے ہم کو دیکھا تو ہم کو اشارے سے ہم دور میں تھے ہم کو اشارے سے بلایا بھئی یہ آپ مغرب کی نماز زکریا مسجد میں آ کے پڑھیے آپ سے کچھ بات کرنی ہے میں نے کہا ٹھیک میں پہنچ گیا زکریا مسجد پہنچنے کے بعد مغرب کے بعد امام صاحب کے حجرے میں ہم لوگ تھے انھوں نے کہا وہ سوال جو آپ نے کیا تھا اشرفیہ مبارک پور کی سنگ بنیاد کی کانفرنس کے موقع سے تو اس سوال کا جواب آیا آپ کو حالانکہ اس میں وہ بھی تھے میں نے ادبا نہیں کہا کہ آپ سے بھی کہا گیا تھا میں نے سوال دیا تھا آپ کو بھی آپ نے بھی کوئی جواب نہیں دیا یہ نہیں میں نے کہا اب تک کوئی جواب نہیں آیا ملا نہیں ہے تو پلٹ کر کے وہ مناظرانہ انداز میں کہہ رہے ہیں کہ پھر آپ نے کیا سوچا ہے اپنے سوال کا جواب آپ کے نظر میں کیا ہے یہ انھوں نے کہا میں نے کہا میرے پاس جو جواب ہے شاید کہ آپ حضرات اس سے اتفاق نہیں کریں گے انھوں نے کہا کیا جواب ہے بتاؤ میں نے ہی کہا کہ من شک کے مطلب کے سمجھنے میں لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہیں اصل میں من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کا مطلب وہ نہیں جو ظاہری عبارت کے ترجمے سے سمجھ میں آتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی کو بھی اطلاع شرعی یقینی حاصل ہو جائے پھر بھی وہ شک کرے گا تو کافر ہو جائے گا بس، بس تو نے صحیح سمجھا [۔۔۔۔۔۔۔11:07.40۔۔۔۔۔۔(یہاں ایک چھوٹا سا جملہ ہے سمجھ نہیں آیا غالبا کہا) بس اتنا کافی ہے] اس کی تائید انھوں نے فرمائی مجاہد ملت نے کہ تو نے صحیح سمجھا بات یہ ہے کہ اطلاع شرعی یقینی جس کو حاصل ہو جائے اب اس کے بعد بھی اگر وہ شک کرتا ہے اس کو کافر کہنے میں تو اس کے اوپر فقد کفر کا حکم لگے گا نہیں تو منھم کے درجے میں ہو گا سمجھے کہ نہیں جیسے کہ اعلی حضرت نے بہت ساری جگہوں میں اگر کوئی حسام الحرمین کی تصدیق نہ کرے تو وہ ضرور منھم ہے تو ضرور منھم کی حد تک ہی فتوی ہوگا مگر کھلم کھلا اس پر کفر کا فتویٰ نہیں ہوگا سمجھے کہ نہیں
قال ز علیم اللہ صاحب وعلیکم السلام
قال ز کب آپ پہنچے؟
قال غ پڑسوں
قال ز سب لوگ ٹھیک ہیں
قال غ جی الحمدللہ
قال ز اس بار عید کی نماز آپ کو وہیں پڑھنی پڑی
قال غ جی
قال ز وہاں نہیں پڑھے
قال غ نہیں سیوان میں
قال ز ہاں
قال غ پانچ چھ سال سے جو ہے وہیں پہ پڑھانی پڑتی ہے چار پانچ سال سے عیدین کی نماز وہیں پڑھانی پڑتی ہے
قال ز ہوں: لوگ تو عید کے موقع پر گھر آ کر عید منانا چاہتے ہیں مگر آپ لوگ جو ہیں نا گھر چھوڑ دیتے ہیں
قال غ آنے نہیں دیتے ہیں کیونکہ وہاں پہ کچھ اختلافی مسائل ہیں
قال غ کچھ اختلافی مسئلے ہیں وہاں پہ ایک جو مدرسہ اور چلتا ہے مولانا امجد القادری صاحب رضوی انھیں کے گھر کے جو ہیں سب لوگ رضوی ہیں باقی تو نائنٹی پرسنٹ [٪90] جو ہیں سب رشیدی ہیں وہاں
قال ز ہوں
قال غ تو معاملہ بہت ساری باتیں ہیں ان کے پیچھے لوگ نماز پڑھنا نہیں چاہتے ہیں
قال ز اچھا
قال غ جی وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لوگ نہیں رہیں گے تو مجبوراً پڑھنا پڑے گا ان کے پیچھے
قال ز خیر چلیے رشیدی اس لیے آپ کو رکنا پڑ رہا ہے
قال غ جی اب الگ جماعت ہو رہی ہے کچھ
قال ز اچھا یہ مولوی احسان جو بات کر رہے تھے کیا حال ہے ان کا
قال غ اس کا کڈنی کا مسئلہ ہے اک کڈنی جو ہے فیل ہے
قال ز تو پھر
قال غ علاج چل رہا ہے دلی کا جو ہے علاج چل رہا ہے
قال ز ایک کڈنی فیل ہے تو گاڑی چلنے والی ہے ایسا نہیں ہے کہ ایک کڈنی کی وجہ سے گاڑی چلے گی لیکن یہ ہے کہ احتیاط کرنی پڑے گی
قال غ جی کمزوری بہت زیادہ ہے کافی کمزور ہو گئے ہیں تھوڑی دور اگر چلتے ہیں تھکاوٹ ہو جاتی ہے زیادہ چل نہیں چل پھر نہیں پا رہے ہیں کمزوری ہے تھکاوٹ زیادہ ہے
قال ز احساس مرض نے ان کو اور کمزور کر دیا ہے مطلب یہ ہے کہ آدمی کو اتنا احساس نہیں کرنا چاہیے ایک تو مرض اپنی جگہ پر ہے اور احساس مرض اس سے بڑھ کے ہے اب ہم بچیں گے نہیں ہم بچیں گے نہیں یہ احساس کرے گا تو اور کیا ہوگا
قال غ گاؤں ہی کے وہ مولانا ہیں امجد القادری صاحب
قال ز معلوم ہے معلوم ہے
قال غ جی بہت زیادہ اختلاف پھیلا ہے ابھی جو ہے تین طرف کے لوگ ایک جانب ہو گئے ہیں لیکن پھر بھی وہ مصلی چھوڑ نہیں رہے ہیں
قال غ ابھی کچھ جو ہے انصاری برادری کے لوگ بھی ادھر شامل ہو گئے ہیں
قال ز شامل ہو گئے ہیں ؟
قال غ جی [٪25] پچیس پرسنٹ لوگ ہیں
قال ز خیر جو جیسا کرتا ہے اس کا انجام اس کے ساتھ ہے سمجھے کہ نہیں
قال ز ہوں : کوئی بھی مذہب اگر باطل ہے اگر کفر کا فتویٰ نہیں ہے لیکن گمراہ تو ہیں لہذا علمی مسلمان اگر فاسق ہو تو ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور اگر ایک مسلمان ہے جو گمراہی کے درجے میں ہے یعنی اس پر کفر کا فتویٰ تو نہیں ہے مگر گمراہ ہے بد مذہب ہے یہ عقیدے کی خرابی اس عمل کی خرابی سے بڑھ کر ہے اس کے پیچھے نماز اور بدرجۂ اولی مکروہ تحریمی ہوگی تو پھلواری شریف والوں نے افراط اور تفریط کے درمیان راہ نکالنے کے لیے چاہیے تھا کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھتے احتیاط
کیونکہ نماز عبادت ہے اور عبادت کے معاملے میں احتیاط چاہیے جیسے ایک فرقہ ان کو کافر قرار دے رہا ہے جیسے بریلویوں کا فرقہ تو کم سے کم اگر کافر نہ سہی تو گمراہی میں تو کوئی شک نہیں گمراہی کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو ان کے ساتھ مجالست مواکلت یعنی ایک ساتھ بیٹھنا یا کھانا پینا نہ کرو سمجھے کہ نہیں مگر ان لوگوں نے اس کی پروا نہیں کی اس کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیں گے اس کے ساتھ بیٹھیں گے بھی کھائیں گے پییں گے بھی اب اس سے جو ہے بہت زیادہ بدنامی کے [۔۔۔17:21.54۔۔۔(شاید یہاں آپ نے کہا:) پھٹکار] ملیں گے سمجھے کچھ
قال ز جیسے کہ معتزلہ فرقہ گمراہ ہے خوارج یہ بھی گمراہ ہے خارجی فرقہ اگر چہ ان پر جماعت اور فرقے کے اعتبار سے کفر کا حکم تو نہیں ہے مگر بدمذہبیت کا تو حکم ہے معتزلہ کے بارے میں بھی خوارج کے بارے میں بھی سمجھے کہ نہیں یہ بدمذہبیت سے اجتناب کروگے کہ نہیں اجتناب ہے
رہا یہ ہے کہ کسی بھی بدمذہب کا کوئی بھی مسئلہ یعنی کہ قول اگر صواب اور درست ہے تو ہم اس کو خوامخواہ بد مذہب ہونے کی وجہ پر اس درست قول کو نا درست کہیں یہ بھی ٹھیک نہیں مثلا زمخشری ہے جار اللہ زمخشری بہت بڑا نحوی بھی گزرا ہے سمجھے کہ نہیں اور ساتھ ساتھ یہ ہے کی مفسر بھی گزرا ہے وہ کشاف قرآن کی تفسیر لکھی اس نے معتزلی فرقے کا ماننے والا علم فقہ میں بھی ان کو کافی درک تھا زمخشری معتزلی تھا مگر تفسیروں میں جہاں پر نحو و صرف کی گفتگو قرآن میں آئی ہے تو زمخشری کے بھی حوالے ملتے ہیں اب جو بات معقول ان کی ہے ان کی بات کو لیتے ہیں لیکن اس کی بات کو لینے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم زمخشری کے مطلب اس کو کھلم کھلا مومن صالح مانتے ہوں سچا پکا مسلمان مانتے ہوں ایسا تو نہیں ہے کبھی کبھی بد مذہب کی بھی کوئی بات اچھی ہوتی ہے تو جو اچھی بات ہوتی ہے اس اچھی بات کو بات ہونے کے اعتبار سے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بات انھوں نے اچھی کہی ہے
قال ز ہوں: سمجھے کہ نہیں تو کسی کی بات کی تحسین بھی مطلقا کفر نہیں ہے بلکہ بد مذہب کوئی ایسی بات کہے تو سمجھے کہ نہیں ایسے ہی لبید شاعر تھا ابھی اسلام نہیں لایا تھا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر پر ان کی تحسین فرمائی جی اشعر الشعراء الشاعر لبید تمام شعرائے عرب میں سب سے اچھا شاعر لبید ہے انھوں نے یہ شعر کہا کہ
یعنی جو چیز اللہ کے ما سوا ہے باطل ہے اس شعر پر وہی تحسین فرمائی حضور نے حالانکہ وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے بعد میں اسلام لائے وہ تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بد مذہب ہو اگر کوئی اس کی بات اچھی ہے تو ہم اس کو یہ نہیں دشمنی میں یہ نہیں کہیں گے کہ وہ کوئی اچھی بات کہہ دے تو بھی وہ غلط ہے مگر کسی اچھی بات کے اچھا کہنے پر یہ لازم نہیں ہوتا ہے کہ کہنے والا بھی اچھا ہے سمجھے کہ نہیں ایک غیر مسلم ہی کہیں کوئی بات اچھی کہہ دیتا ہے کہیں اچھا فیصلہ کر دیتا ہے کہیں گے یہ فیصلہ اس نے اچھا کیا تاکہ جج جو ہے عدالت میں کہ ایسا انصاف پر مبنی کوئی فیصلہ کر دیا کہیں گے کہ یہ فیصلہ انھوں نے اچھا کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے حاکم کی تعریف کر دی تو اس لیے تعریف کی بنا پر ہم بھی اسلام سے خارج ہو گئے میں ان کی بات کی اچھائی کو بیان کیا سمجھے کہ نہیں یہ بات اس لیے حقیقی ہے سمجھ گیا نا ہوں
قول کا اچھا ہونا قائل کے اچھا ہونے پر دلیل نہیں ہے لازم نہیں سمجھے اس کو قرآن سے بھی ہم ثابت کر سکتے ہیں سورۂ منافقین سورۂ منافقون میں ہے پہلی ہی آیت میں یہ آیا ہے کہ یہ منافق جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے إِذَا جَاۤءَكَ ٱلۡمُنَـٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشۡهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۗ
اے رسول جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں بے شک کہہ کر منافق کہہ رہے ہیں بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں وَٱللَّهُ یَعۡلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ اللہ تو جانتا ہے کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں وَٱللَّهُ یَشۡهَدُ إِنَّ ٱلۡمُنَـٰفِقِینَ لَكَـٰذِبُونَ اور اللہ گواہی دیتا ہے اس بات پر یہ منافق اپنی بولی میں جھوٹے ہیں کیا ہے ان کی بولی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ غلط تھی؟ پھر جھوٹا کیسے ہو گئے وہ جو بولی وہ بول رہے ہیں وہ تو بالکل سچی ہے حضور کو کہنا کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ تو بالکل سچی بات ہے مگر اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید بھی فرمائی کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں یہ اللہ جانتا ہے مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں یعنی انك لرسول اللہ کہنے میں یہ جھوٹے ہیں بولی تو سچی ضرور ہے لیکن بولنے والا سچا نہیں ہے کسی کی بات اچھی ہو کوئی ضروری نہیں کہ یہ بات بولنے والا بھی اچھا سمجھا جائے کسی کی بات سچی ہو تو ضروری نہیں کہ بولنے والے کو سچا سمجھا جائے بولی کا اچھا ہونا بولی کا سچا ہونا بولنے والے کی اچھائی یا سچائی کی دلیل نہیں ہے
قال مرغوب جی
قال ز او ہیں آپ یہ ان لوگوں کا مسئلہ آپ ہی کو حل کرنا ہے
قال ب حضرت ہم یہ کہ رہے ہیں کہ آپ تک اطلاع شرعی یقینی موصول ہوئی ؟
قال غ حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے جی
قال ز یہ سب نہیں یہ سب ٹھیک نہیں ہے
قال غ مسئلہ بتا دیا گیا ہے آپ اس سے خود سمجھ لیجیے گا
قال ز ذیشان صاحب ہوئے یا کوئی بھی جن لوگوں نے مطلب یہ ہے کہ سکوت برتا ہے توقف کرنے والے وہ ہمی لوگوں کو ڈھال بنانا چاہتے ہیں بھئی آپ اپنی طرف سے تحقیق پیش کیجیے نا آپ میدان میں آئیے کہیے مجھے سوالوں کا جواب دیجیے جو لوگ آپ کے اوپر الزام لگا رہے ہیں جو آپ کو لوگ غلط قرار دے رہے ہیں تو آپ ان سے نقلیہ کیجیے اب خوامخواہ ہم کو بیچ میں لا کر کے اپنے لیے ڈھال کیوں بنانا چاہتے ہیں دیکھے
قال غ جی
قال ز آپ کو جانا چاہیے اور کسی کو دعا تعویذ کی ضرورت ہو تو کر دیجیے اس کے بعد تیار ہو جائیے اور وہ پانی ذرا سا دم کر دو ان کو نکاح پڑھانے کے لیے جانا ہے اور جمعہ بھی پڑھنا ہے جمعہ کے بعد نکاح ہے
[مفتی صاحب کی ان باتوں کی ریکارڈنگ راقم الحروف کے پاس موجود ہے]
jamiaturrazastudents.com
پتہ: بائسی پورنیہ بہار
رابطہ نمبر: 9523788434
- 1 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]
- 2 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]
- 3 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]
- 4 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]
- 5 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط سوم]
- 6 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط دوم]
- 7 صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
- 8 خائن کی حقیقت کا انکشاف
- 9 کوہِ طور کا یادگار سفر
- 10 _______کون حضور رئیس العلماء؟_______
- 11 ______کون حضور رئیس الحفاظ؟______
- 12 شیخ جامعۃ الرضا سے ملاقات
- 13 بیان و بدیع کی اہمیت پر حضرت شمس بریلوی لکھتے ہیں
- 14 استاد مکرم مفتی صاحب سے ملاقات
- 15 اختلاط نعت و منقبت در تناظر حدیث رسالت
- 16 لنگر اور کتاب
- 17 عرس کی آڑ میں شکم پروری
- 18 کیا قوم مَلِک سید ہے؟
- 19 تعلیم یافتہ کتا
- 20 کشور دل پر کڑکتی بجلی
- 21 کائنات حسن
- 22 مفتیِ_دیوبند_اور_جامعۃ_الرضا_کا_امتحانی_پرچہ
- 23 درد درون دل
- 24 استاذنا المکرم خلیفۂ تاج شریعت پیکر خلوص و محبت حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد شاعر رضا رضوی دارجلنگوی حفظہ اللہ القوی کی کتاب مستنیر
- 25 رد مولائیت
- 26 کیا غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟_______
- 27 فرقۂ ضالہ “مولائی” کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں
- 28 بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ
- 29 گلابی وہابی مولانا عبد القیوم مجیںی (بڑے مولانا صاحب) کی حقیقت
- 30 منطقی اور فقیہ کا دلچسپ لطیفہ
- 31 حضور غوث الاعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں
- 32 ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا [اعتراض اور اس کا جواب]
- 33 جامعۃ الرضا اور حسام الحرمین
- 34 بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں
- 35 عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات
- 36 حضرت امام شافعی در بارگاہ سیدہ نفیسہ
- 37 رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم
- 38 ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا
- 39 آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی (قید و بند، اسلاف، سلمان ازہری)
- 40 نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
- 41 فرضی قبر بنا کر عرس منانا کیسا؟
- 42 اشک فشاں گفت و شنید
- 43 تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں
- 44 اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات
- 45 سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی
- 46 سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
- 47 ایثار علامہ شاہ تراب الحق_
- 48 نوجوانوں میں ابھرتا فتنۂ ارتداد – اسباب و علاج
- 49 حب الوطن من الایمان
- 50 رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]
- 51 بول بالے مری سرکاروں کے
- 52 زندوں کی قدر
- 53 یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی
- 54 یوم آزادی میں علمائے اہل سنت کا کردار
- 55 کتاب بہترین ہمنشیں ہے
- 56 یاد ساحل میں سفر شہسرام
- 57 فخر اہل سنت ایوارڈ و ناموس صحابہ و اہل بیت ایوارڈ
- 58 یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]
- 59 تمرن مناظرہ کی ایک جھلک______
- 60 تاج الشریعہ ایوارڈ بخدمت علامہ شہزاد
- 61 استفتا بمتعلق مفتی عبید الرحمن رشیدی
- 62 تقریب افتتاح درجۂ عالمیت- مرکز الدراسات الاسلامیہ للبنات
- 63 حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
- 64 عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے
- 65 امام اعظم اور قیاس سے استدلال [ایک جائزہ]
- 66 اسلامی خواتین میں بڑھتا ارتداد اور اس کا علاج
- 67 انعامی مقابلہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
- 68 موبائل سے استفاضۂ خبر اور بیرون ممالک
- 69 بارگاہ شیخ بریلوی میں تاریخی حاضری
- 70 بہاری اور کوفی حقیقت کے آئینے میں
- 71 توجہ خاص بر مصرع آسی علیہ الرحمہ
- 72 ناموس رسالت جان ایمان ہے
- 73 رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ
- 74 شامِ جدائی آ گئی ٹوٹ گئے سبوئے جام جامعۃ الرضا سلام جامعۃ الرضا سلام
- کوئی کلام شائع نہیں ہوا۔
تاج الشریعہ ایوارڈ بخدمت علامہ شہزاد
تاج الشریعہ ایوارڈ بخدمت علامہ شہزاد اللہ وحدہٗ لاشریک اور حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا کرم ہے کہ علماء کرام دین متین کی ترویج و اشاعت کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے...
تقریب افتتاح درجۂ عالمیت- مرکز الدراسات الاسلامیہ للبنات
تقریب افتتاح درجۂ عالمیت- مرکز الدراسات الاسلامیہ للبنات @تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی رابطہ نمبر: 9523788434 @ دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالی کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی بتاریخ 16 اپریل...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 29

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔
Explore Top Platform Insights & Outstanding Creators
All Authors
Explore the complete directory of our talented scholars and writers.
Top Authors
Learn about famous scholars, writers, and highly active personalities.
All Articles
Read the newest research, articles, and comprehensive scholarly publications.
Featured Articles
Discover the most read and trending topics actively engaging the community.
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













زاد راہ علم
مؤلف: مولانا محمد جاوید رضا مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us