صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مرزا کذاب اور الہامی کتاب
رد بدمذہباں

مرزا کذاب اور الہامی کتاب

✍️ Md Maruf Raza Markazi

مرزا کذاب اور الہامی کتاب
آج سے چند دن قبل سوشل میڈیا پر مشہور زمانہ ملعون، کذاب اعظم مرزا جہلمی کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ حضور جان جانا کے تعلق سے اہل کتاب کا سہارا لے کر نعوذ باللہ یہ کہہ رہا تھا اہل کتاب حضور کو اپنی کتابوں میں د ج ا ل لکھتے ہیں
جو کہ حضور خاتم النبیین کی 100 فیصد توہین اور گستاخی ہے حضور خاتم النبیین پر جاں فدا کرنے والے عشاق محبوب کریم کے بارے میں ایسے الفاظ کا اپنی زبان سے ادا کرنا تو کجا بلکہ اپنے وہم و گمان میں لانا بھی بے ادبی تصور کریں گے جو شخص حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسا لفظ بولے وہ فقہا و محدثین کے نزدیک اجتماعی طور پر کافر و مرتد ہو جاتا ہے۔
اس کا دعوی ہے کہ اہل کتاب حضور کے بارے میں معاذ اللہ ایسا بولتے ہیں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب اس کے بارے میں لکھتے ہیں اگر مسیحی برادران میں سے بالفرض معاذ اللہ کوئی ایسی گستاخی کر بھی رہا ہو تو کسی مسلمان کے لیے پھر بھی جائز نہیں کہ وہ اس کو اپنی
طرف سے بیان کرے یا کسی شرعی مسئلہ کی وضاحت میں اس گستاخی کو کوٹ کرے۔ یہ بھی توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور کفر ہے
۔ بحوالہ فتوی ڈاکٹر آصف اشرف جلالی ،تاریخ 24 اگست فتوی نمبر108
اس بیان کے بعد تمام یہودی اور عیسائی علماء جو اپنی کتابوں کے ماہرین ہیں انہوں نے اس بات کی وضاحت دی کہ نہ ہمارے علماء محمد عربی (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) کے بارے میں ایسے لفظ استعمال کرتے ہیں نہ میری کتابوں کے اندر ایسی چیز موجود ہے، یہ اس کی طرف سے ایک جھوٹ اور ہماری طرف منسوب کر کے حضور جانے جانا کی توہین اور سراسر گستاخی ہے۔
آسمانی کتب میں توریت، زبور، انجیل، ان مذاہب کے نزدیک بہت ہی مقدس اور معتبر مانی جاتی ہیں ان کتب آسمانی میں حضور کے مبشرات اورآپ کے بارے میں بے شمار پیشن گوئیاں کی گئی ہیں ان میں بھی حضور کو بڑے ہی احترام اور ادب سے یاد کیا گیا ہے ان مذاہب کی مقدس اور معتبر کتابیں فقیر قادری کے مطالعے کے میز کی زینت بن چکی ہے میں نے بھی ان ادیان کی بعض کتب کا بذات خود مطالعہ کیا اپنی قلت مطالعہ کے باوجود بھی میں نے ان کتابوں میں حضور کے تعلق سےایسے قبیح الفاظ کا استعمال نہیں پایا۔
بقول مشتشرق مورس بوگائے کے ان کتابوں میں محمد عربی کو جن القابات اور احترام کے ساتھ یاد کیا گیا ہے اس سے قبل کسی بھی انبیاء کے لیے یہ اسلوب اور یہ انداز اختیار نہیں کیا گیا
واضح رہے کہ مارکیٹ میں دستیاب اناجیل کے اندر بھی پانچ انجیل بہت ہی مقدس اور معتبر تسلیم کی جاتی ہے انجیل متی، انجیل لوقا، انجیل مرکش، انجیل یوحنا، اور انجیل برناباس ان اناجیل کے اندر بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے غیر مناسب الفاظ کے ساتھ یاد نہیں کیا گیا بلکہ زبور شریف کے باب 45 میں حضور پاک کے شمائل و خصائص اور توریت کے نسخوں میں تو نبی کریم کی ہجرت آپ کی جنگی مہارت اپ کے اصحاب اور آپ کی امتیوں کا بحسن خوبی ذکر موجود ہے آب کی تعریف و توصیف سے تو یہ کتاب عبارت ہے ان کی مقدس کتابوں میں حضور کو جن الفاظ کے ساتھ یاد کیا گیا ہے، میں اب یہاں ان ادیان کے مقدس کتب کی چند عبارات زینت قرطاس کرتا ہوں

انجیل

لیکن جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زورآور ہے میں اسکی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں [ انجیل متی باب 3 ایت نمبر 11]
اس کے علاوہ انجیل کے دیگر ابواب میں بھی حضور کوبہت ہی ادب و احترام کے ساتھ یاد کیا جیسے
انجیل متی باپ 4 ایت نمبر 16
انجیل یوحنا باب 16 ایت نمبر 7 تا 13
انجیل رسولوں کے اعمال باب 3 ایت نمبر 21
انجیل مرکس باب1 آیت نمبر 6تا 8
انجیل کے ان تمام ابواب میں حضور اکرم جن خوبصورت الفاظ کے ساتھ یاد کیا گیا ہے یہ انداز کسی اور نبی کے لیے اختیار نہیں کیا گیا

توریت

خداوند نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا : میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تجھ ساایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام ان کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا ، وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا، تو میں اُس کا حساب اُس سے لوں گا۔ ( توریت مطبوعہ مرزا پور ۶۱۸۷۰ ، باب ۱۸ - آیت ۱۸ تا ۲۰ ) توریت سعیدہ باب 42
سبحان الله کیسی واضح بشارت ہے۔ بنی اسرائیل کے بھائی بنی اسمعیل کے سوا اور کون ہو سکتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ وہ نبی بنی اسمعیل میں ہوگا اور تجھ سا ایک نبی، سوائے پیغمبر عربی اور کسی پر صادق ہی نہیں آتا۔ کیونکہ بنی اسرائیل میں کوئی نبی حضرت موسی کے مانند ہوا ہی نہیں ۔ جیسا کہ خود تورات کا بیان ہے کہ : پھر قائم نہ ہوا کوئی نبی بنی اسرائیل میں موسیٰ کے مانند جس نے پہچانو ہو اللہ کو دو بدو (تورات کتاب استثنا ۲ باب ٣٤ - درس ۱۰)

زبور

حضرت سید نا داؤد علیہ السلام ایک آنے والے نبی کا مشتاقانہ ذکر اور اس کی ثنا و توصیف کا بیان کچھ اس طرح فرماتے ہیں:
(1) تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطف بٹایا گیا ہے اسی لیے خدا نے تجھے ابد تک مبارک کیا۔
(2) اے پہلوان اپنی تلوار کو جو تیری حشمت اور بزرگواری ہے ، حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا
(3) اور اپنی بزرگواری سے سوار ہو اور سچائی اور ملائمت اور صداقت کے واسطے اقبال مندی سے آگے بڑھ ۔
(4) تو صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہے
(5) میں ساری پشتوں کو تیرا نام یا دلاؤں گا۔ پس سارے لوگ ابد الآباد تیری ستایش کریں گے۔
زبور شریف باب 45 ملتقطاً
اس کے علاوہ بھی زبور باب 84 آیت 615 ، زبور باب 118 آیت 221
یہ دی گئی بشارتیں کس قدر صاف اور حرفا حرفا سرور دو عالم صلی الہ علیہ وسلم پر صادق ہے۔ حضرت داؤد علیہ السّلام کے بعد ایسا کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جو باطنی فضل و کمال کے ساتھ ظاہری حسن و جمال میں بھی یکتائے زمانہ و یگانہ عالم ہو اور حشمت و شوکت ، حکومت و سلطنت اور تیر و تلوار کا بھی مالک ہوا ہو سوائے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نہیں، یہ بات بھی آپ پہ عیاں ہوں کہ حسن و جمال اور امور سلطنت کے معاملے میں حضرت یوسف علیہ السلام کا نام سر فہرست ہے لیکن سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام کا زمانہ حضرت داؤد علیہ السلام سے بہت پہلے گزر چکا ہے۔
ان تمام قدیم الہامی کتب کے نسخے اور ان کے ابواب میں حضور کے لیے اس طرح کے الفاظ قطعا استعمال نہیں کیے گئیں۔ یہودی اور مسیحی برادران کی مقدس کتب کی عبارات آپ کے سامنے ہیں اب حضور اکرم کے تعلق سے ان مذاہب کے علماؤں کی آراء بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
ایک عیسائی عالم جان ڈیون پورٹ صاحب آپ کے شکل و شمائل اور آپ کے حلیہ مبارک کے بارے اپنی کتاب آپا لوجی فار محمد اینڈ دی قرآن میں لکھتے ہیں :
" آپ کی شکل شاہانہ تھی ، خط و خال با قاعدہ اور دل پسند تھے۔ آنکھیں سیاہ اور منور تھیں۔ بینی ذرا اٹھی ہوئی ، دہن خوب صورت تھا۔ دانت موتی کی طرح چمکتے تھے ، رخسار سرخ تھے۔ آپ کی صحت نہایت اچھی تھی،آپ کا تبسم دل آویزا اور آواز شیری و دلکش تھی حضور پاک کے فضاحت و بلاغت کے تعلق سے سرولیم میور صاحب با وجودیکہ نہایت متعصب عیسائی ہیں ، لکھتے ہیں :آن حضرت کی گفتگو جزیرہ نمائے عرب کی خوشنما زبان کا خالص ترین نمونہ تھی

ٹامس کاروائ

ٹامس کارلائل انیسویں صدی کا ایک نامور انگریز مصنف ، مورخ اور مفکر تھا۔ اس کے لکچروں کا مجموعہ ہیرو اینڈ ہیر دور شپ بہت مشہور ہے۔ جس میں ایک لکچر حضور رسالت مآب کے متعلق بھی ہے وہ لکھتا ہے ۔

حضرت محمد میرے خیال میں یقینا پیغمبر صادق ہیں

اس شخص کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ آج بارہ سو برس سے اٹھارہ کروڑ انسانوں کے حق میں شمع ہدایت کا کام دے رہے ہیں ۔ یہ اٹھارہ کروڑ انسان بھی ہماری طرح خدائے تعالیٰ کے دست قدرت کا نمونہ ہیں۔ بندگان خدا کی بیشتر تعداد آج بھی کسی اور شخص کی بہ نسبت محمد (صلیٰ اللہ علیہ وسلم) کے اقوال پر ایمان رکھتی ہے۔ کیا ہم کسی طرح اسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ یہ سب روحانی بازی گری کا ایک ادنی کرشمہ تھا۔ جس پر اتنے بندگان خدا ایمان لائے

ایڈورڈ گبن صاحب کہتے ہیں :

حضرت محمّد صلی علیہ وسلم کا مذہب شکوک و شبہات سے پاک ، وصاف ہے قرآن خدا کی وحدانیت پر ایک عمدہ شہادت ہے۔ مکہ کے پیغمبر نے بتوں کی ، انسانوں کی اور ستاروں کی پرستش کو معقول دلائل سے رد کر دیا ۔ وہ اصول اول یعنی ذات باری تعالیٰ جس کی بناء عقل و وحی پر ہے ، محمد اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے استحکام کو پہنچی۔ چنانچہ اس کے معتقد ہندوستان سے لے کر مراکش تک موحد کے لقب سے ممتازہ ہیں ۔
اس طرح کی بے شمار روایتیں اور ان علماؤں کی ارا موجود ہیں جس سے یہاں ذکر کرنا طوا لت کا باعث بن سکتاہے اہل کتاب میں مجود عہد قدیم سے لے کر عصر جدید تک کے علماؤں کی آرا حضور کے متعلق بہتر اور سنجیدہ رہی ہے اس پر ان کی تقریریں #لیکچرز اور وہ کتب موجود ہیں جن میں ان کے مذاہب کی طرف سے حضور کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جن پر انہوں نے بری خوبصورتی کے ساتھ حضور کے اخلاق اور حضور کی شخصیت کو انوکھے انداز میں پیش کیا
مشہور زمانہ کتاب، the hundred holy man جس کے اندر دنیا کے سو محترم شخصیات کاذکرہے جن میں حضور اکرم کو پہلے نمبر پر رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حضور کی اعلی شخصیت اور آپ کے لائے ہوئے مذہب و مشن کا وہ دل سے احترام کرتے ہیں۔
آسمانی کتابوں اور یہودی و عیسائی اسکالرز کی نظریات کے ذکر کے بعد اگر کسی عیسائی یا یہودی کتاب میں نبی ﷺ کی شان میں نا زیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہوں یا گستاخی کی گئی ہو تو ہمارے لیے ان الفاظ کو اپنی زبان پر لانا یا بیان کرنا قطعاً جائز نہیں بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے لیکن کچھ شر پسند عناصر جو اپنی اشتعال انگیزی کی بنا پر اپنے متنازعہ بیان کے باعث سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنے دجالی مشن میں لوگوں کو علماؤں سے بدظن کرنا اور سلف و صالحین پر اپنی زبان کھولنا پھر تابعین تبع تابعین اور صحابہ کرام پر تبرا بازی کرنا حتی کہ انبیاء سابقین کو بھی زبان درازی سے محفوظ نہ رکھنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ان تمام نفوس قدسیہ کے تعلق سے دل میں ایک الگ احساس رکھتا ہے جو کہ ان کی سراسر گستاخی اور بے ادبی ہے، اس گستاخی اور بد کلامی کے سفر میں اس کی جرات اتنی بڑھ گئی کہ اپنے دل میں چھپی ہوئی قدوت کو ظاہر کرتے ہوئے غیروں کا سہارا لے کر حضور جان جانا کی بھی گستاخی کرنے کی ناکام کوش کی مگر یہ اپنے گندے اور گھناونے مشن میں ناکام رہا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور یہ ناکام ہوں کیوں نہ کیونکہ آپ کی ذات گرامی ان اکمل موجودات میں سے ہیں
جن کی ناموس و عزت پر پہرہ دینے کے لیے کروڑ عشاق ہمیشہ اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، جن کی معجزات نبوی رہ نوردان با دیہ ضلالت کے لیے تا حشر خضر راہ ثابت ہوتی رہی ہیں اور غواصان بحر تحقیقی اس دریائے معرفت سے ابد الآباد تک گوہر مقصود حاصل کرتے رہےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور سرور کائنات کے خصائل حمیدہ مخالفین سے اپنی اکملیت ہمیشہ ہمیش تسلیم کراتے رہے ہیں اور رہتی دنیا تک منکرین سے اپنی اولیت و افضلیت منواتی رہیں گی۔
وہ وقت آپہنچا ہے کہ اب ہر اسیر گنبد خضرہ ان کی ناموس و عزت پر پہرہ دینے کے ساتھ ساتھ حرا کی وادی سے لائے ہوئے ان کے خوبصورت اور نوری پیغام کوکرہ ارض کے وہ حصے ، جہاں جہالت کی گھنگھور گھٹائیں چھا رہی ہیں اور دنیا کے وہ ممالک جہاں ابر ضلالت سطح افلاک کو گھیرے ہونے ہے ، وہاں بھی اب ہلال گنبد خضرا کی چاندنی چھٹکے گی اور وہاں کے زمین و آسمان بھی انوار ماہتاب رسالت سے منور ہونگے۔
اب انکے کفے پا سے لگے ہوئے غبار و نعلین کو اپنے سرکا تاج بنانے والے پروانے یہ تحیہ کر چکے ہیں کہ تا دم حیات ان کی ناموس پر پہرہ دیتے ہوئے ان کے نظام کو اقوام عالم تک پہنچائیں گے اور اپنی نسلوں میں ان کی الفت و محبت کو اس طرح پروان چڑھائیں گے کہ ہماری نسلیں بھی ان کی اسیری کو اپنے لیے باعث فخر اور ان کی بے ادبی و گستاخی کو اپنے لیے باعث ملامت و شرمندگی تصور کریں گی وہ دن دور نہیں کہ پورا عالم حضور کے نام لیواؤں سے بھرا پڑا ہوگا اور بدر نسل لوگ ان کی گستاخی کرنے سے پہلے ہزار بارسوچیں گے ۔

مرزا کذاب اور الہامی کتاب

مضمون نگار: Md Maruf Raza Markazi

مرزا کذاب اور الہامی کتاب
آج سے چند دن قبل سوشل میڈیا پر مشہور زمانہ ملعون، کذاب اعظم مرزا جہلمی کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ حضور جان جانا کے تعلق سے اہل کتاب کا سہارا لے کر نعوذ باللہ یہ کہہ رہا تھا اہل کتاب حضور کو اپنی کتابوں میں د ج ا ل لکھتے ہیں
جو کہ حضور خاتم النبیین کی 100 فیصد توہین اور گستاخی ہے حضور خاتم النبیین پر جاں فدا کرنے والے عشاق محبوب کریم کے بارے میں ایسے الفاظ کا اپنی زبان سے ادا کرنا تو کجا بلکہ اپنے وہم و گمان میں لانا بھی بے ادبی تصور کریں گے جو شخص حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسا لفظ بولے وہ فقہا و محدثین کے نزدیک اجتماعی طور پر کافر و مرتد ہو جاتا ہے۔
اس کا دعوی ہے کہ اہل کتاب حضور کے بارے میں معاذ اللہ ایسا بولتے ہیں ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب اس کے بارے میں لکھتے ہیں اگر مسیحی برادران میں سے بالفرض معاذ اللہ کوئی ایسی گستاخی کر بھی رہا ہو تو کسی مسلمان کے لیے پھر بھی جائز نہیں کہ وہ اس کو اپنی
طرف سے بیان کرے یا کسی شرعی مسئلہ کی وضاحت میں اس گستاخی کو کوٹ کرے۔ یہ بھی توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور کفر ہے
۔ بحوالہ فتوی ڈاکٹر آصف اشرف جلالی ،تاریخ 24 اگست فتوی نمبر108
اس بیان کے بعد تمام یہودی اور عیسائی علماء جو اپنی کتابوں کے ماہرین ہیں انہوں نے اس بات کی وضاحت دی کہ نہ ہمارے علماء محمد عربی (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) کے بارے میں ایسے لفظ استعمال کرتے ہیں نہ میری کتابوں کے اندر ایسی چیز موجود ہے، یہ اس کی طرف سے ایک جھوٹ اور ہماری طرف منسوب کر کے حضور جانے جانا کی توہین اور سراسر گستاخی ہے۔
آسمانی کتب میں توریت، زبور، انجیل، ان مذاہب کے نزدیک بہت ہی مقدس اور معتبر مانی جاتی ہیں ان کتب آسمانی میں حضور کے مبشرات اورآپ کے بارے میں بے شمار پیشن گوئیاں کی گئی ہیں ان میں بھی حضور کو بڑے ہی احترام اور ادب سے یاد کیا گیا ہے ان مذاہب کی مقدس اور معتبر کتابیں فقیر قادری کے مطالعے کے میز کی زینت بن چکی ہے میں نے بھی ان ادیان کی بعض کتب کا بذات خود مطالعہ کیا اپنی قلت مطالعہ کے باوجود بھی میں نے ان کتابوں میں حضور کے تعلق سےایسے قبیح الفاظ کا استعمال نہیں پایا۔
بقول مشتشرق مورس بوگائے کے ان کتابوں میں محمد عربی کو جن القابات اور احترام کے ساتھ یاد کیا گیا ہے اس سے قبل کسی بھی انبیاء کے لیے یہ اسلوب اور یہ انداز اختیار نہیں کیا گیا
واضح رہے کہ مارکیٹ میں دستیاب اناجیل کے اندر بھی پانچ انجیل بہت ہی مقدس اور معتبر تسلیم کی جاتی ہے انجیل متی، انجیل لوقا، انجیل مرکش، انجیل یوحنا، اور انجیل برناباس ان اناجیل کے اندر بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے غیر مناسب الفاظ کے ساتھ یاد نہیں کیا گیا بلکہ زبور شریف کے باب 45 میں حضور پاک کے شمائل و خصائص اور توریت کے نسخوں میں تو نبی کریم کی ہجرت آپ کی جنگی مہارت اپ کے اصحاب اور آپ کی امتیوں کا بحسن خوبی ذکر موجود ہے آب کی تعریف و توصیف سے تو یہ کتاب عبارت ہے ان کی مقدس کتابوں میں حضور کو جن الفاظ کے ساتھ یاد کیا گیا ہے، میں اب یہاں ان ادیان کے مقدس کتب کی چند عبارات زینت قرطاس کرتا ہوں

انجیل

لیکن جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زورآور ہے میں اسکی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں [ انجیل متی باب 3 ایت نمبر 11]
اس کے علاوہ انجیل کے دیگر ابواب میں بھی حضور کوبہت ہی ادب و احترام کے ساتھ یاد کیا جیسے
انجیل متی باپ 4 ایت نمبر 16
انجیل یوحنا باب 16 ایت نمبر 7 تا 13
انجیل رسولوں کے اعمال باب 3 ایت نمبر 21
انجیل مرکس باب1 آیت نمبر 6تا 8
انجیل کے ان تمام ابواب میں حضور اکرم جن خوبصورت الفاظ کے ساتھ یاد کیا گیا ہے یہ انداز کسی اور نبی کے لیے اختیار نہیں کیا گیا

توریت

خداوند نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا : میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تجھ ساایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام ان کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا ، وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا، تو میں اُس کا حساب اُس سے لوں گا۔ ( توریت مطبوعہ مرزا پور ۶۱۸۷۰ ، باب ۱۸ - آیت ۱۸ تا ۲۰ ) توریت سعیدہ باب 42
سبحان الله کیسی واضح بشارت ہے۔ بنی اسرائیل کے بھائی بنی اسمعیل کے سوا اور کون ہو سکتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ وہ نبی بنی اسمعیل میں ہوگا اور تجھ سا ایک نبی، سوائے پیغمبر عربی اور کسی پر صادق ہی نہیں آتا۔ کیونکہ بنی اسرائیل میں کوئی نبی حضرت موسی کے مانند ہوا ہی نہیں ۔ جیسا کہ خود تورات کا بیان ہے کہ : پھر قائم نہ ہوا کوئی نبی بنی اسرائیل میں موسیٰ کے مانند جس نے پہچانو ہو اللہ کو دو بدو (تورات کتاب استثنا ۲ باب ٣٤ - درس ۱۰)

زبور

حضرت سید نا داؤد علیہ السلام ایک آنے والے نبی کا مشتاقانہ ذکر اور اس کی ثنا و توصیف کا بیان کچھ اس طرح فرماتے ہیں:
(1) تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطف بٹایا گیا ہے اسی لیے خدا نے تجھے ابد تک مبارک کیا۔
(2) اے پہلوان اپنی تلوار کو جو تیری حشمت اور بزرگواری ہے ، حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا
(3) اور اپنی بزرگواری سے سوار ہو اور سچائی اور ملائمت اور صداقت کے واسطے اقبال مندی سے آگے بڑھ ۔
(4) تو صداقت کا دوست اور شرارت کا دشمن ہے
(5) میں ساری پشتوں کو تیرا نام یا دلاؤں گا۔ پس سارے لوگ ابد الآباد تیری ستایش کریں گے۔
زبور شریف باب 45 ملتقطاً
اس کے علاوہ بھی زبور باب 84 آیت 615 ، زبور باب 118 آیت 221
یہ دی گئی بشارتیں کس قدر صاف اور حرفا حرفا سرور دو عالم صلی الہ علیہ وسلم پر صادق ہے۔ حضرت داؤد علیہ السّلام کے بعد ایسا کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جو باطنی فضل و کمال کے ساتھ ظاہری حسن و جمال میں بھی یکتائے زمانہ و یگانہ عالم ہو اور حشمت و شوکت ، حکومت و سلطنت اور تیر و تلوار کا بھی مالک ہوا ہو سوائے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی نہیں، یہ بات بھی آپ پہ عیاں ہوں کہ حسن و جمال اور امور سلطنت کے معاملے میں حضرت یوسف علیہ السلام کا نام سر فہرست ہے لیکن سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام کا زمانہ حضرت داؤد علیہ السلام سے بہت پہلے گزر چکا ہے۔
ان تمام قدیم الہامی کتب کے نسخے اور ان کے ابواب میں حضور کے لیے اس طرح کے الفاظ قطعا استعمال نہیں کیے گئیں۔ یہودی اور مسیحی برادران کی مقدس کتب کی عبارات آپ کے سامنے ہیں اب حضور اکرم کے تعلق سے ان مذاہب کے علماؤں کی آراء بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
ایک عیسائی عالم جان ڈیون پورٹ صاحب آپ کے شکل و شمائل اور آپ کے حلیہ مبارک کے بارے اپنی کتاب آپا لوجی فار محمد اینڈ دی قرآن میں لکھتے ہیں :
" آپ کی شکل شاہانہ تھی ، خط و خال با قاعدہ اور دل پسند تھے۔ آنکھیں سیاہ اور منور تھیں۔ بینی ذرا اٹھی ہوئی ، دہن خوب صورت تھا۔ دانت موتی کی طرح چمکتے تھے ، رخسار سرخ تھے۔ آپ کی صحت نہایت اچھی تھی،آپ کا تبسم دل آویزا اور آواز شیری و دلکش تھی حضور پاک کے فضاحت و بلاغت کے تعلق سے سرولیم میور صاحب با وجودیکہ نہایت متعصب عیسائی ہیں ، لکھتے ہیں :آن حضرت کی گفتگو جزیرہ نمائے عرب کی خوشنما زبان کا خالص ترین نمونہ تھی

ٹامس کاروائ

ٹامس کارلائل انیسویں صدی کا ایک نامور انگریز مصنف ، مورخ اور مفکر تھا۔ اس کے لکچروں کا مجموعہ ہیرو اینڈ ہیر دور شپ بہت مشہور ہے۔ جس میں ایک لکچر حضور رسالت مآب کے متعلق بھی ہے وہ لکھتا ہے ۔

حضرت محمد میرے خیال میں یقینا پیغمبر صادق ہیں

اس شخص کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ آج بارہ سو برس سے اٹھارہ کروڑ انسانوں کے حق میں شمع ہدایت کا کام دے رہے ہیں ۔ یہ اٹھارہ کروڑ انسان بھی ہماری طرح خدائے تعالیٰ کے دست قدرت کا نمونہ ہیں۔ بندگان خدا کی بیشتر تعداد آج بھی کسی اور شخص کی بہ نسبت محمد (صلیٰ اللہ علیہ وسلم) کے اقوال پر ایمان رکھتی ہے۔ کیا ہم کسی طرح اسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ یہ سب روحانی بازی گری کا ایک ادنی کرشمہ تھا۔ جس پر اتنے بندگان خدا ایمان لائے

ایڈورڈ گبن صاحب کہتے ہیں :

حضرت محمّد صلی علیہ وسلم کا مذہب شکوک و شبہات سے پاک ، وصاف ہے قرآن خدا کی وحدانیت پر ایک عمدہ شہادت ہے۔ مکہ کے پیغمبر نے بتوں کی ، انسانوں کی اور ستاروں کی پرستش کو معقول دلائل سے رد کر دیا ۔ وہ اصول اول یعنی ذات باری تعالیٰ جس کی بناء عقل و وحی پر ہے ، محمد اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے استحکام کو پہنچی۔ چنانچہ اس کے معتقد ہندوستان سے لے کر مراکش تک موحد کے لقب سے ممتازہ ہیں ۔
اس طرح کی بے شمار روایتیں اور ان علماؤں کی ارا موجود ہیں جس سے یہاں ذکر کرنا طوا لت کا باعث بن سکتاہے اہل کتاب میں مجود عہد قدیم سے لے کر عصر جدید تک کے علماؤں کی آرا حضور کے متعلق بہتر اور سنجیدہ رہی ہے اس پر ان کی تقریریں #لیکچرز اور وہ کتب موجود ہیں جن میں ان کے مذاہب کی طرف سے حضور کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جن پر انہوں نے بری خوبصورتی کے ساتھ حضور کے اخلاق اور حضور کی شخصیت کو انوکھے انداز میں پیش کیا
مشہور زمانہ کتاب، the hundred holy man جس کے اندر دنیا کے سو محترم شخصیات کاذکرہے جن میں حضور اکرم کو پہلے نمبر پر رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حضور کی اعلی شخصیت اور آپ کے لائے ہوئے مذہب و مشن کا وہ دل سے احترام کرتے ہیں۔
آسمانی کتابوں اور یہودی و عیسائی اسکالرز کی نظریات کے ذکر کے بعد اگر کسی عیسائی یا یہودی کتاب میں نبی ﷺ کی شان میں نا زیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہوں یا گستاخی کی گئی ہو تو ہمارے لیے ان الفاظ کو اپنی زبان پر لانا یا بیان کرنا قطعاً جائز نہیں بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے لیکن کچھ شر پسند عناصر جو اپنی اشتعال انگیزی کی بنا پر اپنے متنازعہ بیان کے باعث سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنے دجالی مشن میں لوگوں کو علماؤں سے بدظن کرنا اور سلف و صالحین پر اپنی زبان کھولنا پھر تابعین تبع تابعین اور صحابہ کرام پر تبرا بازی کرنا حتی کہ انبیاء سابقین کو بھی زبان درازی سے محفوظ نہ رکھنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ان تمام نفوس قدسیہ کے تعلق سے دل میں ایک الگ احساس رکھتا ہے جو کہ ان کی سراسر گستاخی اور بے ادبی ہے، اس گستاخی اور بد کلامی کے سفر میں اس کی جرات اتنی بڑھ گئی کہ اپنے دل میں چھپی ہوئی قدوت کو ظاہر کرتے ہوئے غیروں کا سہارا لے کر حضور جان جانا کی بھی گستاخی کرنے کی ناکام کوش کی مگر یہ اپنے گندے اور گھناونے مشن میں ناکام رہا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اور یہ ناکام ہوں کیوں نہ کیونکہ آپ کی ذات گرامی ان اکمل موجودات میں سے ہیں
جن کی ناموس و عزت پر پہرہ دینے کے لیے کروڑ عشاق ہمیشہ اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، جن کی معجزات نبوی رہ نوردان با دیہ ضلالت کے لیے تا حشر خضر راہ ثابت ہوتی رہی ہیں اور غواصان بحر تحقیقی اس دریائے معرفت سے ابد الآباد تک گوہر مقصود حاصل کرتے رہےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور سرور کائنات کے خصائل حمیدہ مخالفین سے اپنی اکملیت ہمیشہ ہمیش تسلیم کراتے رہے ہیں اور رہتی دنیا تک منکرین سے اپنی اولیت و افضلیت منواتی رہیں گی۔
وہ وقت آپہنچا ہے کہ اب ہر اسیر گنبد خضرہ ان کی ناموس و عزت پر پہرہ دینے کے ساتھ ساتھ حرا کی وادی سے لائے ہوئے ان کے خوبصورت اور نوری پیغام کوکرہ ارض کے وہ حصے ، جہاں جہالت کی گھنگھور گھٹائیں چھا رہی ہیں اور دنیا کے وہ ممالک جہاں ابر ضلالت سطح افلاک کو گھیرے ہونے ہے ، وہاں بھی اب ہلال گنبد خضرا کی چاندنی چھٹکے گی اور وہاں کے زمین و آسمان بھی انوار ماہتاب رسالت سے منور ہونگے۔
اب انکے کفے پا سے لگے ہوئے غبار و نعلین کو اپنے سرکا تاج بنانے والے پروانے یہ تحیہ کر چکے ہیں کہ تا دم حیات ان کی ناموس پر پہرہ دیتے ہوئے ان کے نظام کو اقوام عالم تک پہنچائیں گے اور اپنی نسلوں میں ان کی الفت و محبت کو اس طرح پروان چڑھائیں گے کہ ہماری نسلیں بھی ان کی اسیری کو اپنے لیے باعث فخر اور ان کی بے ادبی و گستاخی کو اپنے لیے باعث ملامت و شرمندگی تصور کریں گی وہ دن دور نہیں کہ پورا عالم حضور کے نام لیواؤں سے بھرا پڑا ہوگا اور بدر نسل لوگ ان کی گستاخی کرنے سے پہلے ہزار بارسوچیں گے ۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Maruf Raza Markazi

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
32
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 4
Kalam 0
Md Maruf Raza Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]

سید المحققین علامہ ابنِ ہُمام رحمہ اللہ: حیات و خدمات

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢