صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یاد ساحل میں سفر شہسرام
شخصیات اسلاف واخلاف

یاد ساحل میں سفر شہسرام

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

یاد ساحل میں سفر شہسرام
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
فراق و ہجر میں روتی ہیں زار زار آنکھیں
تمہاری دید کو ساحل ہیں بے قرار آنکھیں
بروز جمعرات ٨ ربیع الاول ١٤٤٦ھ بمطابق ١٢ ستمبر ٢٠٢٤ء محب گرامی وقار شیر محمد صاحب کی معیت میں شہر تربیت شہسرام کے لیے روانہ ہوا ٩ ربیع الاول بروز جمعہ صبح کاذب بھبوا اسٹیشن پہنچا وہاں سے تقریبا ٣٠ کلو میٹر دور صبح صادق شیر محمد صاحب کے دولت خانہ میں پہنچا وضو کیا اور محلے کی مسجد میں بالجماعت نماز فجر ادا کی امامت مولانا رستم علی فیضی نے کی بعد نماز فجر و صلاۃ و سلام امام صاحب کے حجرے میں گیا اور امام صاحب سے کچھ دیر گفت و شنید ہوئی رات بھر کا جاگا ہوا تھکا ہوا تھا امام صاحب ہی کے حجرے میں لیٹ گیا
ایک انوکھا خواب___________
قسمت کا ستارہ چمکا مقدر نے انگڑائی لی سر کی آنکھیں کیا بند ہوئیں کہ دل کی آنکھیں کھل گئیں سامنے سے حجابات اٹھا دیے گئے اور میں نے خواب دیکھا کہ میں پیکر و اخلاص و وفا زینت مسند افتاء ماہر جزئیات فقہیہ خلیفۂ تاج الشریعہ صاحب تصانیف کثیرہ حامل زید و تقی عاشق احمد رضا پروردۂ جامعہ اشرفیہ معتمد خانقاہ صغرویہ نوردیدۂ مارہرہ حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد رضوی قادری ضیائی مصباحی علیگ ساحل شہسرامی کے مزار پر انوار پر حاضر ہوں ہر طرف چہل پہل ہے خوشگوار ہوا چل رہی ہے میں نے تفتیش کی کہ آخر اتنی چہل پہل اور فضا معطر معطر کیوں ہے تو پتہ چلا کہ محبوب خدا خاتم الانبیاء صاحبِ تاجِ قاب قوسین او ادنی جلوۂ والضحی جان جود و عطا شہنشاہ ہر دوسرا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم علامہ ساحل شہسرامی کی قبر پاک میں تشریف لائیں ہیں یہ جان کی میری خوشی کی انتہا نہ رہی گویا کہ قمست کی معراج ہو گئی
اس کے بعد دیکھتا ہوں کہ علامہ ساحل شہسرامی اپنی قبر پاک سے باہر ایک کرسی میں تشریف فرما ہیں لوگ آتے ہیں ملتے ہیں چلے جاتے ہیں میں بھی وہیں قریب کھڑا تھا ان کی نگاہ مجھ پر پڑی تو میں بے ساختہ رو پڑا وہ بھی رونے لگے میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ جسیم نے لکھی ہے میرے ہاتھ سے لے لی دیکھتے ہیں یہ کتاب تو طارق ابن زیاد ہے تو وہ مجھ سے فرمانے لگے کہ تم بھی ایسی کتاب یعنی طارق ابن زیاد کی سوانح عمری لکھ سکتے ہو البتہ تمہارا نہج الگ ہوگا پھر چند لوگوں نے اپنی اپنی کتابیں حضرت کی بارگاہ میں پیش کی حضرت نے دیکھ کر سب کے بارے میں چند کلمات بھی فرمائے [مفہوما خواب مکمل ہوا]
حجرے میں شیر محمد صاحب داخل ہوئے جس کی آہٹ سے میری آنکھ کھل گئی وہ میرے پاس کرسی میں بیٹھے میں نے ان کو اپنا خواب سنایا پھر دونوں گھر گئے اور ناشتہ کیے بعدہ غسل اور دیگر ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ مسجد آئے اذان اول ہو چکی تھی سنت ادا کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ امام مسجد مولانا رستم علی ضیائی تقریر کرنے کا حکم دیا حقیر فقیر سراپا تقصیر غفر لہ المولی القدیر نے تقریبا ٢٥ منٹ تک حسن مصطفی اور ناموس مصطفی پر تقریر کی پھر بعد نماز جمعہ مدرسے میں نشست لگی جس میں مقتدیوں نے ایمان و کفر، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیز گاؤں میں نماز جمعہ وغیرہ سے متعلق سوالات کیے راقم الحروف نے سب کے جوابات دیے جنھیں سن کر سائلین بہت خوش ہوئے اور مطمئن ہوئے
شہسرام کا سفر___________
بریلی، ممبئی، مارہرہ، بلگرام، اجمیر
کہاں کہاں تجھے ڈھونڈے یہ سوگوار آنکھیں
درون دل سے ندا آئی شہسرام چلیں
وہیں پہ ٹوٹے گی زنجیر انتظار آنکھیں
دو پہر کا کھانا کھایا اور تھوڑی دیر قیلولہ کے بعد شہر شہسرام کے لیے شیر محمد صاحب کے ساتھ روانہ ہوگیا راستے میں رمجھم رمجھم رحمت کی بارش ہو رہی تھی جس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سب سے پہلے مدرسہ خیریہ پہنچا وہاں وضو کرکے مسجد میں نماز عصر ادا کی مسجد میں ایک بزرگ اوراد و وظائف میں مشغول تھے ان سے سلام و مصافحہ کیا اور علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کا تذکرہ کیا تو آپ نے دوران گفتگو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جس کام کے لیے چن لیا تھا وہ اپنے حصے کا کام کر کے چلے گئے پھر ان سے کہا کہ ہمیں مزار شریف پر جانا ہے تو انھوں نے مدرسے کے ایک طالب کو ساتھ دے دیا ہم اس کے ساتھ مزار پر انوار پر پہنچے وہاں پر ایک بوڑھا شخص تھا اس نے بتایا کہ مفتی صاحب جو چند دنوں پہلے وفات کیے ان کا مزار شریف یہ ہے نظر پڑتے ہی آنکھیں اشکبار ہو گئیں گلے میں ہچکی سی بندھ گئی
گیا تو ناگہاں اشکوں کا بندھ ٹوٹ گیا
جو دیکھیں سامنے ان کی بنی مزار آنکھیں
کچھ دیر تک ساکت و جامد کھڑے ہو کر مزار شریف کو دیکھتا ہی رہا دل کہہ رہا تھا ایک وقت تھا جب سامنے آتے تھے مسکراتے ہوئے ملتے تھے مصافحہ کرتے تھے علمی گفتگو سے مشام جان کو سرشار کرتے تھے ان کے انداز تکلم سے بہرور ہوتے تھے قیمتی باتوں سے فیضیاب ہوتے تھے جب وہ کسی سوال کا جواب دیتے تو لگتا کہ بحر ذخار موجیں مار رہا ہو لیکن آج وہ سمندر تھم گیا تھا روانی نہیں دکھ رہی تھی میں بول رہا تھا لیکن کوئی آواز مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی وہ محو خواب تھے جنت الفردوس کی بھینی بھینی ہواؤں سے مستفیض ہو رہے تھے میں نے اپنے دل کو سمجھایا
آنکھیں رو رو کے سجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے
خود کو سنبھالا اور مزار شریف کے ایک کنارے میں بیٹھ گیا محبوب کی تربت پر چند محبت کے پھول ڈالے فاتحہ پڑھی دعائیں کی آج وہ لمحات یاد آ رہے تھے کہ جب شب قدر آتی یا شب برات آتی تو حضرت مجھے مسیج کرتے کہ بیٹا اس رات میں میرے لیے بھی خصوصی دعا کرنا آہ آج وہ تہ مزار چلے گئے اور میں ان کے لیے دعا کر رہا ہے تھا گویا اپنی قسمت سنوار رہا تھا
تجھ پہ لازم تھا بجا آوری کرنا جاناں
آ گیا جب کہ ترے پاس خدا کا ارشاد
پھر حسرت بھری نگاہوں سے مزار شریف کو دیکھتا ہوا واپس ہو گیا دل کی دنیا میں عجب کہرام برپا تھا آنکھیں نم تھیں جگر شکستہ تھا
دلِ جسیم پہ کیا گزری اس گھڑی دیکھو
بتا رہی ہے مری دونوں اشکبار آنکھیں
علامہ ساحل شہسرامی کے والد ماجد سے ملاقات _______
قریبی دکانداروں سے علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے گھر کے بارے میں پوچھا تو ایک دکاندار نے کرم فرمائی کی ہمیں اپنے ساتھ حضرت کے گھر پر لے گئے اندر سے ایک ضعیف و ناتواں گورا رنگ قدرے اونچا قد سفید ریش شخص قیمتی جوہر کے جوہری یعنی علامہ ساحل شہسرامی کے والد گرامی اشفاق صاحب قبلہ دام ظلہ العالی بر آمد ہوئے انھوں نے ہمارے بارے دریافت کیا تو شیر محمد صاحب نے انھیں سب کچھ بتایا کہ ہم جامعۃ الرضا سے آئے ہیں اور قدرے تعارف کرایا تو انھوں نے اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہم اندر پہنچے یہ وہی جگہ تھی جہاں علامہ ساحل شہسرامی صاحب تشریف فرما ہوتے تھے وہاں حضرت کی چند کتابیں رکھی ہوئیں تھیں اور دو ایوارڈ تھے جنھیں دیکھ کر حضرت کے والد ماجد اپنی آنکھوں کو تسکین بخشتے رہتے ہیں اب وہ تو نہیں رہے لیکن ان کی یادگاریں قیانت تک باقی رہیں گی وہ خدمات دینیہ کے طفیل ہمیشہ عوام و خواص کے دلوں میں زندہ رہیں گے نیز محسوس ہو رہا تھا کہ گھر کے افراد بیمار ہیں حضرت کے والد ماجد سے خیریت دریافت کی تو فرمایا کہ ابھی تو گھر کے حالات ایسے ہیں کہ کھانے پینے کا دل نہیں کرتا ہے ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) گھر کے بڑے لڑکے تھے ساری ذمہ داری انھیں کے سر تھی انھیں گھر چلانا اچھی طرح آتا تھا اب جو وہ چلے گئے تو بڑی دقتیں آ گئیں ہیں سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا کروں ؟
اتنی مشکلات میں ہونے باوجود خندان پیشانی کے ساتھ ملے اعلی اخلاق کا مظاہرہ کیا ایسا لگا کہ ان سے ہماری برسوں کی جان پہچان ہے ہمیں عمدہ ناشتہ کرایا میں نے منع کیا کہ رہنے دیں آپ تکلیف نہ اٹھائیں تو انھوں نے فرمایا کہ گھر میں یونہی اداس بیٹھا رہتا ہوں آپ حضرات آئے تو بہت خوشی ہوئی اچھا لگا اب آپ حضرات ہی ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی یادگار ہیں
پھر حضرت کی کتابوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ وہ کتابیں جس کا کام باقی رہ گیا ہے یا لکھتے لکھتے ادھوری رہ گئیں ہیں تو وہ سب لیپ ٹاپ میں ہے اور وہ تو مجھے چلانے نہیں آتا ہے مفتی شبیر صاحب نے کہا تھا کہ جن کتابوں میں حضرت کام کر رہے تھے اور وہ ادھوری رہ گئی ہیں تو ہم ان کی تکمیل کریں گے اور اگر چھپی نہیں ہیں تو ہم چھاپیں گے ابھی تو ذہنی طور پر پریشان ہیں تھوڑا وقت گزر جائے پھر دیکھیں گے
ساحل کی تعلیمی کہانی ان کے والد کی زبانی_________
پھر شیر محمد صاحب نے پوچھا کیا حضرت حافظ بھی تھے ؟ تو حضرت کے والد ماجد نے جواب دیا کہ ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) نے پندرہ پارہ حفظ کیا تھا اس نے تعلیم حاصل کرنے میں بڑی مشقتیں اٹھائی ہیں درس نظامی کے دوران کیسے حافظ بنتا پھر بھی پندرہ پارہ تک کوشش کی اس کی ابتدائی تعلیم کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ ایک بار شہسرام میں جلسہ ہوا اس میں ایک عالم دین بہت ہی اچھی تقریر کی جو عوام کو بہت پسند آئی بعض حضرات نے دوسرے دن سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور ان کی دوبارہ تقریر ہوئی جس کو سن لوگ بہت متاثر ہوئے وہیں سے ایک کیمیٹی بنی کہ ہر سال وہ کمیٹی جلسہ کرائے گی ایک سال کمیٹی والوں نے محدث اعظم مراد آبادی حضور حافظ ملت علامہ مفتی عبد العزیز رحمہ اللہ کو مدعو کیا آپ علیہ الرحمہ تشریف لائے اور پر مغز خطاب فرمایا جس میں دوران خطاب آپ نے فرمایا کہ
آج ملک میں ہر طرف فتنے پیر پھیلا رہے ہیں اسے روکنے کے لیے ہم نے کیا لائحۂ عمل تیار کیا ؟ کیا تمام علماء کرام متحد ہو کر تبلیغ کریں تو یہ فتنے ختم ہو جائیں گے؟ پھر آپ نے فرمایا میرے نزدیک اسے روکنے کا بہتر طریقہ یہ ہے ہر گھر میں ہر باپ کم از کم اپنے ایک بیٹے کو عالم دین بنائے اکثر دیکھا جاتا ہے جو گھر میں کند ذہن ہوتا ہے اسی کو والدین مدرسے میں ڈال دیتے حلانکہ ہونا یہ چاہئے کہ ذہین و فطین بیٹے کو مدرسے میں پڑھنے کے لیے دیں تاکہ وہ صحیح طور تبلیغ دین کے فرائض انجام دے سکے
یہ بات میرے ذہن و دماغ میں نقش کر گئی میں نے ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کا مدرسہ خیریہ شہسرام میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ کر دیا
شہسرام میں لعل محمد صاحب کے یہاں حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی آمد و رفت رہتی تھی حافظ ملت سے لعل محمد صاحب کے تعلقات اچھے تھے میں نے ان سے کہا کہ میرے بیٹے ارشاد کا داخلہ جامعہ اشرفیہ میں کروا دیجیے انھوں نے کہا ٹھیک ہے کروا دوں گا
ارشاد کو اپنے ساتھ لعل محمد صاحب جامعہ اشرفیہ لے گئے داخلے کی کاروائی کی تاریخ ختم ہو چکی تھی پھر بھی حضور حافظ ملت کے صاحب زادے سے ملے وہاں چند علما اور بھی تشریف فرما تھے ان کی موجودگی میں لعل محمد نے انھیں ساری باتیں کہہ سنائی تو انھوں نے کہا ٹھیک ہے اور ارشاد سے پوچھا بیٹا کیا پڑھتے ہو تو ارشاد نے کہا گلستاں بوستاں تو نشست میں موجود علماء کرام ارشاد کی کم عمری کو دیکھ کر مسکرانے لگے کہ اتنا چھوٹا بچہ گلستاں بوستاں پڑھتا ہوگا ہو سکتا ہے اس نے فارسی کی پہلی دوسری کو گلستاں بوستاں سمجھ رکھا ہو تو انھوں نے دوبارہ ارشاد سے پوچھا بیٹا کیا پڑھتے ہو پھر ارشاد نے کہا گلستاں بوستاں تو انھوں نے کہا کیا پڑھ کر سنا دوگے ارشاد نے کہا ہاں سنا دوں گا ایک طالب علم سے کہا بیٹا جاؤ گلستاں بوستاں لے آؤ وہ لے آیا اور ارشاد سے کہا چلو پڑھ کر سناؤ جب ارشاد نے پڑھ کر سنایا تو سب دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کے منہ تکنے لگے کہ اتنا چھوٹا بچہ اور اتنی اچھی فارسی پڑھتا ہے
ایں سعادت زور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
اس کے بعد ارشاد کا جامعہ اشرفیہ میں داخلہ ہو گیا وہ بڑی محنت و جفا کشی کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ دوران تعلیم اس کی ماں کا انتقال ہو گیا جس کے غم و الم سے وہ بہت نڈھال ہوا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ارشاد کو اب گھر میں ہی رکھیے اور اپنے کام کاج میں ان سے سہارا لیجیے اگر چہ اس وقت میرا ہاتھ تنگ تھا لیکن اس کے باوجود میں نے کہا نہیں میں ایسا نہیں کروں گا میں اپنے لخت جگر نور نظر کو پڑھاؤں گا پھر بحمدہ تعالیٰ اس نے درس نظامی کی تکمیل کی دستار فضیلت کے حسین و پر بہار موقع پر میں بھی جامعہ اشرفیہ گیا تھا پھر وہیں سے تحقیق و افتا کی پڑھائی کی اس کی لیاقت و صلاحیت کو دیکھتے ہوئے جامعہ اشرفیہ ہی میں بحیثیت مدرس رکھ لیا گیا

روح کا گھر میں آنا اور ایک مجذوب کی حکایت_______

اب اس کی روح آتی ہے تو مجھے ایک قسم کی خوشبو محسوس ہوتی جس سے میں سمجھ لیتا ہوں کہ میرے بیٹے کی روح گھر آئی ہے میرے عہد طفولیت میں ایک مجذوب بزرگ شہسرام میں تھے جن کا نام شاہ عبد اللہ تھا انھیں کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں رہتی تھی اگر کسی نے کھلا دیا تو کھا لیا کسی نے پلا دیا تو پی لیا نہیں تو اپنے دھن میں رہتے تھے ان کے کپڑے خوب میلے مٹیالے ہوتے تھے تیل اور میل کے ملنے کی وجہ سے کپڑوں میں گانٹھ پڑ جاتا تھا لیکن کبھی ان کے جسم سے بدبو نہیں آتی تھی بلکہ خوشبو آتی تھی میں نے ان کا سر دبایا ہے اور بھی لوگ ان کی خدمت کیا کرتے تھے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایک دن میں نے کتاب میں پڑھا کہ ایک بزرگ سے کسی نے کہا کہ ولی را ولی می شناسد ولی ولی کو پہچان لیتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جو ولی نہ ہو وہ کیسے کسی ولی کو پہچانے گا ؟ تو بزرگ نے جواب دیا اگر کوئی ولی ہوگا تو اس کے جسم سے خوشبو آئے گی اور اگر خوشبو نہ آئے تو کبھی بھی اس کے بدن سے بدبو نہیں آئے گی تب مجھے یاد آیا کہ حضرت شاہ عبد اللہ کے بدن سے جو خوشبو آتی تھی وہ در حقیقت ولایت کی خوشبو تھی آج جب ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی وفات ہوئی تو مجھے ویسے ہی خوشبو محسوس ہوتی ہے علاوہ ازیں اور بھی بہت ساری گفتگو ہوئی
بعدہ علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے والد ماجد سے واپسی کی اجازت چاہی تو آپ نے دعائیں دیں کہ اللہ جل جلالہ آپ کو ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی طرح دین کی خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ان کی باقیات کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے پھر اس کے بعد واپسی کی اجازت مرحمت فرمائی سلام و مصافحہ کے بعد ہم لوگ گھر سے باہر نکلے ابھی گلی میں ہی تھے کہ وہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ آپ نے اپنا نام کیا بتایا میں نے کہا جسیم اکرم تو آپ نے فرمایا جسیم میں نے کہا ہاں تو فرمایا کہ ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) آپ کا کبھی کبھی تذکرہ کرتے تھے جسیم کہہ کر تو مجھے ابھی یاد آیا اس لیے میں کہنے کے لیے آیا اس محبت بھرے جملے نے اور ان کی شفقتانہ کردار نے میرے وجود کو بے انتہا مسرت و شادمانی فراہم کی میں اس بے لوث محبت کو الفاظ کا جامہ پہنانے سے قاصر ہوں بس اللہ جل جلالہ وحدہ لاشریک کی بارگاہ بے نیاز میں دعا گو ہوں کہ اللہ جل و علا حضرت کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو خصوصاً والد ماجد اشفاق صاحب قبلہ کو اور کے تمام محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

یاد ساحل میں سفر شہسرام

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

یاد ساحل میں سفر شہسرام
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
فراق و ہجر میں روتی ہیں زار زار آنکھیں
تمہاری دید کو ساحل ہیں بے قرار آنکھیں
بروز جمعرات ٨ ربیع الاول ١٤٤٦ھ بمطابق ١٢ ستمبر ٢٠٢٤ء محب گرامی وقار شیر محمد صاحب کی معیت میں شہر تربیت شہسرام کے لیے روانہ ہوا ٩ ربیع الاول بروز جمعہ صبح کاذب بھبوا اسٹیشن پہنچا وہاں سے تقریبا ٣٠ کلو میٹر دور صبح صادق شیر محمد صاحب کے دولت خانہ میں پہنچا وضو کیا اور محلے کی مسجد میں بالجماعت نماز فجر ادا کی امامت مولانا رستم علی فیضی نے کی بعد نماز فجر و صلاۃ و سلام امام صاحب کے حجرے میں گیا اور امام صاحب سے کچھ دیر گفت و شنید ہوئی رات بھر کا جاگا ہوا تھکا ہوا تھا امام صاحب ہی کے حجرے میں لیٹ گیا
ایک انوکھا خواب___________
قسمت کا ستارہ چمکا مقدر نے انگڑائی لی سر کی آنکھیں کیا بند ہوئیں کہ دل کی آنکھیں کھل گئیں سامنے سے حجابات اٹھا دیے گئے اور میں نے خواب دیکھا کہ میں پیکر و اخلاص و وفا زینت مسند افتاء ماہر جزئیات فقہیہ خلیفۂ تاج الشریعہ صاحب تصانیف کثیرہ حامل زید و تقی عاشق احمد رضا پروردۂ جامعہ اشرفیہ معتمد خانقاہ صغرویہ نوردیدۂ مارہرہ حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد رضوی قادری ضیائی مصباحی علیگ ساحل شہسرامی کے مزار پر انوار پر حاضر ہوں ہر طرف چہل پہل ہے خوشگوار ہوا چل رہی ہے میں نے تفتیش کی کہ آخر اتنی چہل پہل اور فضا معطر معطر کیوں ہے تو پتہ چلا کہ محبوب خدا خاتم الانبیاء صاحبِ تاجِ قاب قوسین او ادنی جلوۂ والضحی جان جود و عطا شہنشاہ ہر دوسرا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم علامہ ساحل شہسرامی کی قبر پاک میں تشریف لائیں ہیں یہ جان کی میری خوشی کی انتہا نہ رہی گویا کہ قمست کی معراج ہو گئی
اس کے بعد دیکھتا ہوں کہ علامہ ساحل شہسرامی اپنی قبر پاک سے باہر ایک کرسی میں تشریف فرما ہیں لوگ آتے ہیں ملتے ہیں چلے جاتے ہیں میں بھی وہیں قریب کھڑا تھا ان کی نگاہ مجھ پر پڑی تو میں بے ساختہ رو پڑا وہ بھی رونے لگے میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ جسیم نے لکھی ہے میرے ہاتھ سے لے لی دیکھتے ہیں یہ کتاب تو طارق ابن زیاد ہے تو وہ مجھ سے فرمانے لگے کہ تم بھی ایسی کتاب یعنی طارق ابن زیاد کی سوانح عمری لکھ سکتے ہو البتہ تمہارا نہج الگ ہوگا پھر چند لوگوں نے اپنی اپنی کتابیں حضرت کی بارگاہ میں پیش کی حضرت نے دیکھ کر سب کے بارے میں چند کلمات بھی فرمائے [مفہوما خواب مکمل ہوا]
حجرے میں شیر محمد صاحب داخل ہوئے جس کی آہٹ سے میری آنکھ کھل گئی وہ میرے پاس کرسی میں بیٹھے میں نے ان کو اپنا خواب سنایا پھر دونوں گھر گئے اور ناشتہ کیے بعدہ غسل اور دیگر ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ مسجد آئے اذان اول ہو چکی تھی سنت ادا کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ امام مسجد مولانا رستم علی ضیائی تقریر کرنے کا حکم دیا حقیر فقیر سراپا تقصیر غفر لہ المولی القدیر نے تقریبا ٢٥ منٹ تک حسن مصطفی اور ناموس مصطفی پر تقریر کی پھر بعد نماز جمعہ مدرسے میں نشست لگی جس میں مقتدیوں نے ایمان و کفر، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیز گاؤں میں نماز جمعہ وغیرہ سے متعلق سوالات کیے راقم الحروف نے سب کے جوابات دیے جنھیں سن کر سائلین بہت خوش ہوئے اور مطمئن ہوئے
شہسرام کا سفر___________
بریلی، ممبئی، مارہرہ، بلگرام، اجمیر
کہاں کہاں تجھے ڈھونڈے یہ سوگوار آنکھیں
درون دل سے ندا آئی شہسرام چلیں
وہیں پہ ٹوٹے گی زنجیر انتظار آنکھیں
دو پہر کا کھانا کھایا اور تھوڑی دیر قیلولہ کے بعد شہر شہسرام کے لیے شیر محمد صاحب کے ساتھ روانہ ہوگیا راستے میں رمجھم رمجھم رحمت کی بارش ہو رہی تھی جس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سب سے پہلے مدرسہ خیریہ پہنچا وہاں وضو کرکے مسجد میں نماز عصر ادا کی مسجد میں ایک بزرگ اوراد و وظائف میں مشغول تھے ان سے سلام و مصافحہ کیا اور علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کا تذکرہ کیا تو آپ نے دوران گفتگو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جس کام کے لیے چن لیا تھا وہ اپنے حصے کا کام کر کے چلے گئے پھر ان سے کہا کہ ہمیں مزار شریف پر جانا ہے تو انھوں نے مدرسے کے ایک طالب کو ساتھ دے دیا ہم اس کے ساتھ مزار پر انوار پر پہنچے وہاں پر ایک بوڑھا شخص تھا اس نے بتایا کہ مفتی صاحب جو چند دنوں پہلے وفات کیے ان کا مزار شریف یہ ہے نظر پڑتے ہی آنکھیں اشکبار ہو گئیں گلے میں ہچکی سی بندھ گئی
گیا تو ناگہاں اشکوں کا بندھ ٹوٹ گیا
جو دیکھیں سامنے ان کی بنی مزار آنکھیں
کچھ دیر تک ساکت و جامد کھڑے ہو کر مزار شریف کو دیکھتا ہی رہا دل کہہ رہا تھا ایک وقت تھا جب سامنے آتے تھے مسکراتے ہوئے ملتے تھے مصافحہ کرتے تھے علمی گفتگو سے مشام جان کو سرشار کرتے تھے ان کے انداز تکلم سے بہرور ہوتے تھے قیمتی باتوں سے فیضیاب ہوتے تھے جب وہ کسی سوال کا جواب دیتے تو لگتا کہ بحر ذخار موجیں مار رہا ہو لیکن آج وہ سمندر تھم گیا تھا روانی نہیں دکھ رہی تھی میں بول رہا تھا لیکن کوئی آواز مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی وہ محو خواب تھے جنت الفردوس کی بھینی بھینی ہواؤں سے مستفیض ہو رہے تھے میں نے اپنے دل کو سمجھایا
آنکھیں رو رو کے سجانے والے
جانے والے نہیں آنے والے
خود کو سنبھالا اور مزار شریف کے ایک کنارے میں بیٹھ گیا محبوب کی تربت پر چند محبت کے پھول ڈالے فاتحہ پڑھی دعائیں کی آج وہ لمحات یاد آ رہے تھے کہ جب شب قدر آتی یا شب برات آتی تو حضرت مجھے مسیج کرتے کہ بیٹا اس رات میں میرے لیے بھی خصوصی دعا کرنا آہ آج وہ تہ مزار چلے گئے اور میں ان کے لیے دعا کر رہا ہے تھا گویا اپنی قسمت سنوار رہا تھا
تجھ پہ لازم تھا بجا آوری کرنا جاناں
آ گیا جب کہ ترے پاس خدا کا ارشاد
پھر حسرت بھری نگاہوں سے مزار شریف کو دیکھتا ہوا واپس ہو گیا دل کی دنیا میں عجب کہرام برپا تھا آنکھیں نم تھیں جگر شکستہ تھا
دلِ جسیم پہ کیا گزری اس گھڑی دیکھو
بتا رہی ہے مری دونوں اشکبار آنکھیں
علامہ ساحل شہسرامی کے والد ماجد سے ملاقات _______
قریبی دکانداروں سے علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے گھر کے بارے میں پوچھا تو ایک دکاندار نے کرم فرمائی کی ہمیں اپنے ساتھ حضرت کے گھر پر لے گئے اندر سے ایک ضعیف و ناتواں گورا رنگ قدرے اونچا قد سفید ریش شخص قیمتی جوہر کے جوہری یعنی علامہ ساحل شہسرامی کے والد گرامی اشفاق صاحب قبلہ دام ظلہ العالی بر آمد ہوئے انھوں نے ہمارے بارے دریافت کیا تو شیر محمد صاحب نے انھیں سب کچھ بتایا کہ ہم جامعۃ الرضا سے آئے ہیں اور قدرے تعارف کرایا تو انھوں نے اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہم اندر پہنچے یہ وہی جگہ تھی جہاں علامہ ساحل شہسرامی صاحب تشریف فرما ہوتے تھے وہاں حضرت کی چند کتابیں رکھی ہوئیں تھیں اور دو ایوارڈ تھے جنھیں دیکھ کر حضرت کے والد ماجد اپنی آنکھوں کو تسکین بخشتے رہتے ہیں اب وہ تو نہیں رہے لیکن ان کی یادگاریں قیانت تک باقی رہیں گی وہ خدمات دینیہ کے طفیل ہمیشہ عوام و خواص کے دلوں میں زندہ رہیں گے نیز محسوس ہو رہا تھا کہ گھر کے افراد بیمار ہیں حضرت کے والد ماجد سے خیریت دریافت کی تو فرمایا کہ ابھی تو گھر کے حالات ایسے ہیں کہ کھانے پینے کا دل نہیں کرتا ہے ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) گھر کے بڑے لڑکے تھے ساری ذمہ داری انھیں کے سر تھی انھیں گھر چلانا اچھی طرح آتا تھا اب جو وہ چلے گئے تو بڑی دقتیں آ گئیں ہیں سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا کروں ؟
اتنی مشکلات میں ہونے باوجود خندان پیشانی کے ساتھ ملے اعلی اخلاق کا مظاہرہ کیا ایسا لگا کہ ان سے ہماری برسوں کی جان پہچان ہے ہمیں عمدہ ناشتہ کرایا میں نے منع کیا کہ رہنے دیں آپ تکلیف نہ اٹھائیں تو انھوں نے فرمایا کہ گھر میں یونہی اداس بیٹھا رہتا ہوں آپ حضرات آئے تو بہت خوشی ہوئی اچھا لگا اب آپ حضرات ہی ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی یادگار ہیں
پھر حضرت کی کتابوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ وہ کتابیں جس کا کام باقی رہ گیا ہے یا لکھتے لکھتے ادھوری رہ گئیں ہیں تو وہ سب لیپ ٹاپ میں ہے اور وہ تو مجھے چلانے نہیں آتا ہے مفتی شبیر صاحب نے کہا تھا کہ جن کتابوں میں حضرت کام کر رہے تھے اور وہ ادھوری رہ گئی ہیں تو ہم ان کی تکمیل کریں گے اور اگر چھپی نہیں ہیں تو ہم چھاپیں گے ابھی تو ذہنی طور پر پریشان ہیں تھوڑا وقت گزر جائے پھر دیکھیں گے
ساحل کی تعلیمی کہانی ان کے والد کی زبانی_________
پھر شیر محمد صاحب نے پوچھا کیا حضرت حافظ بھی تھے ؟ تو حضرت کے والد ماجد نے جواب دیا کہ ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) نے پندرہ پارہ حفظ کیا تھا اس نے تعلیم حاصل کرنے میں بڑی مشقتیں اٹھائی ہیں درس نظامی کے دوران کیسے حافظ بنتا پھر بھی پندرہ پارہ تک کوشش کی اس کی ابتدائی تعلیم کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ ایک بار شہسرام میں جلسہ ہوا اس میں ایک عالم دین بہت ہی اچھی تقریر کی جو عوام کو بہت پسند آئی بعض حضرات نے دوسرے دن سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور ان کی دوبارہ تقریر ہوئی جس کو سن لوگ بہت متاثر ہوئے وہیں سے ایک کیمیٹی بنی کہ ہر سال وہ کمیٹی جلسہ کرائے گی ایک سال کمیٹی والوں نے محدث اعظم مراد آبادی حضور حافظ ملت علامہ مفتی عبد العزیز رحمہ اللہ کو مدعو کیا آپ علیہ الرحمہ تشریف لائے اور پر مغز خطاب فرمایا جس میں دوران خطاب آپ نے فرمایا کہ
آج ملک میں ہر طرف فتنے پیر پھیلا رہے ہیں اسے روکنے کے لیے ہم نے کیا لائحۂ عمل تیار کیا ؟ کیا تمام علماء کرام متحد ہو کر تبلیغ کریں تو یہ فتنے ختم ہو جائیں گے؟ پھر آپ نے فرمایا میرے نزدیک اسے روکنے کا بہتر طریقہ یہ ہے ہر گھر میں ہر باپ کم از کم اپنے ایک بیٹے کو عالم دین بنائے اکثر دیکھا جاتا ہے جو گھر میں کند ذہن ہوتا ہے اسی کو والدین مدرسے میں ڈال دیتے حلانکہ ہونا یہ چاہئے کہ ذہین و فطین بیٹے کو مدرسے میں پڑھنے کے لیے دیں تاکہ وہ صحیح طور تبلیغ دین کے فرائض انجام دے سکے
یہ بات میرے ذہن و دماغ میں نقش کر گئی میں نے ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کا مدرسہ خیریہ شہسرام میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ کر دیا
شہسرام میں لعل محمد صاحب کے یہاں حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی آمد و رفت رہتی تھی حافظ ملت سے لعل محمد صاحب کے تعلقات اچھے تھے میں نے ان سے کہا کہ میرے بیٹے ارشاد کا داخلہ جامعہ اشرفیہ میں کروا دیجیے انھوں نے کہا ٹھیک ہے کروا دوں گا
ارشاد کو اپنے ساتھ لعل محمد صاحب جامعہ اشرفیہ لے گئے داخلے کی کاروائی کی تاریخ ختم ہو چکی تھی پھر بھی حضور حافظ ملت کے صاحب زادے سے ملے وہاں چند علما اور بھی تشریف فرما تھے ان کی موجودگی میں لعل محمد نے انھیں ساری باتیں کہہ سنائی تو انھوں نے کہا ٹھیک ہے اور ارشاد سے پوچھا بیٹا کیا پڑھتے ہو تو ارشاد نے کہا گلستاں بوستاں تو نشست میں موجود علماء کرام ارشاد کی کم عمری کو دیکھ کر مسکرانے لگے کہ اتنا چھوٹا بچہ گلستاں بوستاں پڑھتا ہوگا ہو سکتا ہے اس نے فارسی کی پہلی دوسری کو گلستاں بوستاں سمجھ رکھا ہو تو انھوں نے دوبارہ ارشاد سے پوچھا بیٹا کیا پڑھتے ہو پھر ارشاد نے کہا گلستاں بوستاں تو انھوں نے کہا کیا پڑھ کر سنا دوگے ارشاد نے کہا ہاں سنا دوں گا ایک طالب علم سے کہا بیٹا جاؤ گلستاں بوستاں لے آؤ وہ لے آیا اور ارشاد سے کہا چلو پڑھ کر سناؤ جب ارشاد نے پڑھ کر سنایا تو سب دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کے منہ تکنے لگے کہ اتنا چھوٹا بچہ اور اتنی اچھی فارسی پڑھتا ہے
ایں سعادت زور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
اس کے بعد ارشاد کا جامعہ اشرفیہ میں داخلہ ہو گیا وہ بڑی محنت و جفا کشی کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ دوران تعلیم اس کی ماں کا انتقال ہو گیا جس کے غم و الم سے وہ بہت نڈھال ہوا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ارشاد کو اب گھر میں ہی رکھیے اور اپنے کام کاج میں ان سے سہارا لیجیے اگر چہ اس وقت میرا ہاتھ تنگ تھا لیکن اس کے باوجود میں نے کہا نہیں میں ایسا نہیں کروں گا میں اپنے لخت جگر نور نظر کو پڑھاؤں گا پھر بحمدہ تعالیٰ اس نے درس نظامی کی تکمیل کی دستار فضیلت کے حسین و پر بہار موقع پر میں بھی جامعہ اشرفیہ گیا تھا پھر وہیں سے تحقیق و افتا کی پڑھائی کی اس کی لیاقت و صلاحیت کو دیکھتے ہوئے جامعہ اشرفیہ ہی میں بحیثیت مدرس رکھ لیا گیا

روح کا گھر میں آنا اور ایک مجذوب کی حکایت_______

اب اس کی روح آتی ہے تو مجھے ایک قسم کی خوشبو محسوس ہوتی جس سے میں سمجھ لیتا ہوں کہ میرے بیٹے کی روح گھر آئی ہے میرے عہد طفولیت میں ایک مجذوب بزرگ شہسرام میں تھے جن کا نام شاہ عبد اللہ تھا انھیں کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں رہتی تھی اگر کسی نے کھلا دیا تو کھا لیا کسی نے پلا دیا تو پی لیا نہیں تو اپنے دھن میں رہتے تھے ان کے کپڑے خوب میلے مٹیالے ہوتے تھے تیل اور میل کے ملنے کی وجہ سے کپڑوں میں گانٹھ پڑ جاتا تھا لیکن کبھی ان کے جسم سے بدبو نہیں آتی تھی بلکہ خوشبو آتی تھی میں نے ان کا سر دبایا ہے اور بھی لوگ ان کی خدمت کیا کرتے تھے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ایک دن میں نے کتاب میں پڑھا کہ ایک بزرگ سے کسی نے کہا کہ ولی را ولی می شناسد ولی ولی کو پہچان لیتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جو ولی نہ ہو وہ کیسے کسی ولی کو پہچانے گا ؟ تو بزرگ نے جواب دیا اگر کوئی ولی ہوگا تو اس کے جسم سے خوشبو آئے گی اور اگر خوشبو نہ آئے تو کبھی بھی اس کے بدن سے بدبو نہیں آئے گی تب مجھے یاد آیا کہ حضرت شاہ عبد اللہ کے بدن سے جو خوشبو آتی تھی وہ در حقیقت ولایت کی خوشبو تھی آج جب ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی وفات ہوئی تو مجھے ویسے ہی خوشبو محسوس ہوتی ہے علاوہ ازیں اور بھی بہت ساری گفتگو ہوئی
بعدہ علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے والد ماجد سے واپسی کی اجازت چاہی تو آپ نے دعائیں دیں کہ اللہ جل جلالہ آپ کو ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی طرح دین کی خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ان کی باقیات کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے پھر اس کے بعد واپسی کی اجازت مرحمت فرمائی سلام و مصافحہ کے بعد ہم لوگ گھر سے باہر نکلے ابھی گلی میں ہی تھے کہ وہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ آپ نے اپنا نام کیا بتایا میں نے کہا جسیم اکرم تو آپ نے فرمایا جسیم میں نے کہا ہاں تو فرمایا کہ ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) آپ کا کبھی کبھی تذکرہ کرتے تھے جسیم کہہ کر تو مجھے ابھی یاد آیا اس لیے میں کہنے کے لیے آیا اس محبت بھرے جملے نے اور ان کی شفقتانہ کردار نے میرے وجود کو بے انتہا مسرت و شادمانی فراہم کی میں اس بے لوث محبت کو الفاظ کا جامہ پہنانے سے قاصر ہوں بس اللہ جل جلالہ وحدہ لاشریک کی بارگاہ بے نیاز میں دعا گو ہوں کہ اللہ جل و علا حضرت کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو خصوصاً والد ماجد اشفاق صاحب قبلہ کو اور کے تمام محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
59
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

کتاب بہترین ہمنشیں ہے

فخر اہل سنت ایوارڈ و ناموس صحابہ و اہل بیت ایوارڈ

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢