صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا [اعتراض اور اس کا جواب]
سیرت النبی ﷺ

ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا [اعتراض اور اس کا جواب]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
[اعتراض اور اس کا جواب]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی ہند رابطہ نمبر: 9523788434
عین المعارف المعروف دیوان آسی از غوث العالمین قطب العارفین سرکار عبد العلیم آسی رشیدی سکندر پوری ثم غازی پوری قدس سرہ السامی کے صفحہ ١٠ میں ایک شعر ہے
پوچھتے ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
اور ایک شعر فرش پر عرش از محدث اعظم ہند سراج العلما تاج العرفا شاہ ابو المحامد سید محمد اشرفی جیلانی قدس سرہ السامی کے صفحہ ١١ پر ہے
مرتبہ حضرت صدیق کا یہ ہے سید
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
بعض حضرات کو یہ شبہ گزرا کہ حضور محدث اعظم کا شعر جو افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہے اس میں رد و بدل کر کے حضور سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شان میں کر لیا گیا ہے جس کی وجہ سے بعض حضرات یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ یہ شعر محدث اعظم کا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہے
لیکن میں واضح کر دوں کہ دونوں شعر دو عارف باللہ کے الگ الگ ہیں کسی میں رد و بدل نہیں کیا گیا ہے ہاں سوال یہ ہو سکتا ہے کہ تضمین کس نے کی تو قرین قیاس یہ ہے کہ حضور محدث اعظم نے سرکار آسی غازی پوری کے مصرع ثانی میں تضمین کی ہے کیونکہ سرکار آسی غازی پوری کی پیدائش 1834ء میں ہوئی اور وفات 1917ء میں ہوئی اور حضور محدث اعظم کی پیدائش 1893ء میں ہوئی اور وفات 1963ء میں ہوئی اس اعتبار سے جس وقت سرکار آسی پوری کی وفات ہوئی اس وقت حضور محدث اعظم کی عمر 24/چوبیس سال کی تھی حضور محدث اعظم نے سترہ سال کی عمر میں تعلیم سے فراغت حاصل کی حضور سرکار آسی علیہ الرحمہ 83 سال عمر مبارک پائے یعنی 68 سال کے حضور محدث اعظم سے بڑے ہوئے تو ظاہر ہے کہ حضور محدث اعظم نے ایک سن رسیدہ عارف باللہ کے مصرع کی تضمین کی ہے جو کہ فخر کی بات ہے لیکن اگر یہیں یہ کہا جائے سرکار آسی نے محدث اعظم ہند کے مصرع کی تضمین کی ہے تو یہ بات بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے اگر چہ امکان موجود ہے اگر اس ممکنہ صورت کو مان بھی لیا جائے پھر بھی کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ کسی دوسرے شاعر کے کسی مصرع پر تضمین کرنا شائع و ذائع ہے بلکہ یہ محاسن کلام میں سے ہے فن شاعری پر مہارت کی دلیل ہے جیسا کہ حضور مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کا ایک شعر ہے
وصل مولی چاہتے ہو تو وسیلہ ڈھونڈ لو
بے وسیلہ نجدیو ہر گز خدا ملتا نہیں
اس شعر کے مصرع ثانی کی تضمین سرکار تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے یوں کی ہے
ابتغو فرما کے گویا رب نے یہ فرما دیا
بے وسیلہ نجدیو ہر گز خدا ملتا نہیں
اور اگر اس صورت پر بھی کوئی اعتراض کرے اور کہے کہ حضور محدث اعظم رضی اللہ عنہ تک سرکار آسی غازی پوری کا کلام پہنچا ہی نہیں تو پھر وہ کس طرح تضمین کیے ہوں گے؟
تو اب یہاں تیسری صورت ماننی پڑے گی اور وہ ہے توارد یعنی بسا اوقات اتفاقا شاعر کا کوئی ایک شعر یا چند شعر بغیر اختلاف کے کسی دوسرے شاعر کے موافق ہو جاتا ہے جو کہ کمال فن جولانیت علم کی طرف رہنمائی کرتا ہے جیسا کہ بحر الفصاحت میں ہے:
ایسا بھی اتفاق ہوتا ہے کہ کسی شاعر کا کوئی شعر یا چند اشعار بغیر اختلاف لفظ و معنی کے ہو بہو دوسرے شاعر کے کلام کے مطابق ہو جاتے ہیں یا مضمون بالکل مطابق ہوتا ہے اور قصد سرقہ کا نہیں ہوتا ۔ اس کو توارد کہتے ہیں۔ اور ایسا بعض اساتذہ کے کلام میں پایا جاتا ہے ۔ اگر چہ یہ بات کمال جودت پر دلالت کرتی ہے۔ اور اتفاقی ہے۔
توارد و سرقہ میں فرق یہ ہے کہ توارد نا دانستہ ہوتا ہے اور سرقہ دانستہ اور جو کلام کبھی نظر سے نہ گزرا ہو اور کانوں تک نہ پہنچا ہو اس میں اکثر توارد نہیں ہوتا ۔ اور اگر کہیں احیانا ہو جاتا ہے تو مذموم نہیں ۔ بلکہ پچھلے شاعر کی علو طبیعت پر دلالت کرتا ہے۔ کہ اس کی فکر استاد کی فکر سے جا ملی لیکن بد گمانوں کی زبانوں سے چھٹکارا کہاں کہ وہ اس بلند پروازی اور عنقا شکاری کو سرقے پر حمل کرتے ہیں اور سنان طعن و تشنیع سے طلسم نگاروں کے دلوں کو چھید تے ہیں ۔
نقل ایک مرتبہ لشکر گوالیار میں مشاعرہ ہوا اور یہ طرح ہوئی ۔
کیا جانے لکھ دیا اسے کیا اضطراب میں
مولوی سید اکبر بیخود بریلوی مسکن بدایونی موطن کا مطلع تھا۔
ساقی کا عکس رخ نہیں جام شراب میں
ہے آفتاب جلوہ نما آفتاب میں
انھیں دنوں میں چودھری سعید الدین حسین صاحب رئیس کھیڑہ بدایوں نے مجلس مشاعرہ ترتیب دی تھی اور وہاں بھی یہی طرح ہوئی تھی ۔ مولوی احمد حسن صاحب وحشت بدایونی جو پرانے شاعر اور ایک نامی آدمی ہیں ان کا بھی مطلع غزل یہی تھا۔
ساقی کا عکس رخ نہیں جام شراب میں
ہے آفتاب جلوہ نما آفتاب میں
ایک کو دوسرے کے شعر سے اطلاع تو در کنار نام سے بھی واقفیت نہیں تھی۔ اور اتنا زمانہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ان کا شعر ان تک پہنچا یعنی ایک ہی ہفتے میں دونوں جگہ مشاعرہ ہوا تھا۔ [ج 2 ص 1590_1591]
اب آتے ہیں شعر مذکور کے دوسرے رخ کی طرف بعض حضرات کو یہ بھی الجھن ہے کہ علامہ آسی غازی پوری علیہ الرحمہ کا یہ فرمانا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ حضور غوث اعظم شیخ اکبر رضی اللہ عنہ نبوت کے سوا ہر فضیلت کے جامع ہیں کیونکہ یہ شان تو حضرت ابو بکر صدیق کی ہے جیسا کہ حضور محدث اعظم کے شعر سے مستفاد ہوتا ہے تو دیکھیے

تفریح الخاطر میں ہے:

فاذا أراد أن يضع قدميه على رقبتي سأل الله تعالى عنى فألهمه. هذا ولدك اسمه عبد القادر لولا اني ختمت النبوة بك لكان هو أهلا لها بعد فشكر الله تعالى عليه وقال لى جدى صلى الله عليه وسلم يا بني طوبي لك رأيتني و وجدت نعمتى ثم طوبى لمن رآك أو رأى من رآك أو رأى من رأى من رأى من رآك الى سبعة وعشرين وجعلتك وزيرى في الدنيا والآخرة ووضعت قدمى هذه على رقبتك وقدماك على رقاب جميع الاولیا بلا تفاخر ولا مباهاة ولو كانت النبوة بعدى لنلها ولانبوۃ بعدی
تو جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے میرے کندھوں پر اپنے پاؤں مبارک رکھنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالی سے میرے بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ آپ کی اولاد میں سے ہے اس کا نام عبدالقادر ہے۔ اے محبوب اگر آپ خاتم النبین نہ ہوتے تو آپ کے بعد عہدۂ نبوت اسے عطا کیا جاتا ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اور میرے جد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اے میرے بیٹے تجھے مبارک ہو تو نے مجھے دیکھا اور میری نعمت سے سرفراز ہوا۔ پھر اس کو مبارک ہو جو تجھے دیکھے اور تیرے دیکھنے والے کو دیکھے یا دیکھنے والے کے دیکھنے والے کو دیکھے اسی طرح آپ نے ستائیس تک فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں دنیا و آخرت میں اپنا وزیر بنایا۔ اور میں نے اپنا یہ قدم تیری گردن پر رکھا۔ اور تیرا قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر بغیر فخر کے ہوگا ۔ اگر میرے بعد نبوت ہوتی تو تم نبی ہوتے لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا [ص 9/10]

بہجۃ الاسرار شریف میں ہے:

وكل ولى على قدم النبي وانا على قدم جدى صلى الله عليه وسلم و ما رفع المصطفى صلى الله عليه وسلم قدما الأوضعت انا قدمي في الموضع الذي رفع منه الا ان يكون قدما من اقدام النبوۃ فانہ لا سبیل ان ینالہ غیر نبی [ص 22]
ہر ولی کسی نہ کسی نبی کے قدم مبارک پر ہے اور میں اپنے جد امجد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پر ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں جہاں اپنا قدم مبارک رکھا میں نے وہاں وہاں اپنا قدم رکھا سوائے نبوت کے کیوں کہ اس تک کسی غیر نبی کی رسائی نہیں
اسی کی روشنی میں مجدد دین و ملت سیدنا سرکار اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
اُلُوْہِیَّت نُبُوَّت کے سوا تو
تمام اَفضال کا قابل ہے یا غوث
نبی کے قدموں پر ہے جُز نُبُوَّت
کہ ختم اس راہ میں حائل ہے یاغوث
اُلُوْہِیَّت ہی احمد نے نہ پائی
نُبُوَّت ہی سے تو عاطِل ہے یا غوث
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نبوت کے سوا تمام فضائل کے جامع ہیں لیکن ایک سوال یہ ہوگا کہ کیا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے حضور کو دیکھا تو دیکھیے زبدۃ الآثار تلخیص بہجۃ الاسرار از عبد الحق محدث دہلوی رضی اللہ عنہ میں ہے :
شیخ جلیل شریف ابو عباس احمد بن شیخ عبد اللہ ازہر حسینی نے خبر دی کہ ایک بار میں شیخ عبد القادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کی مجلس میں قریباً دس ہزار افراد موجود تھے۔ شیخ علی بن ہیتی حضرت غوث الاعظم کے سامنے ذکر مقری کے پاس بیٹھے تھے انھیں ذرا اونگھ آئی حضرت غوث پاک لوگوں کو فرمانے لگے : خاموش رہو۔ جب سارے خاموش ہو گئے تو لوگوں کی سانس کی آواز کے بغیر کچھ سنائی نہ دیتا تھا ۔ پھر آپ منبر سے نیچے اترے اور شیخ علی ہیتی کے پاس مؤدب کھڑے ہو گئے اور غور سے دیکھنے لگے۔ علی ہیتی کی آنکھ کھلی۔ آپ نے علی ہیتی سے پوچھا تم نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے جب اس نے کہا کہ ہاں۔ تو آپ نے فرمایا : میں رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی آمد پر تمھارے سامنے ادبا کھڑارہا۔ شیخ علی ہیتی نے کہا کہ حضور نے مجھے نصیحت کی ہے کہ میں حضرت شیخ عبد القادر کی مجلس میں حاضر رہا کروں۔ حضرت شیخ نے فرمایا : جو تمھیں خواب میں نظر آئے میں اُنھیں بیداری میں دیکھ رہا تھا۔ راوی نے مزید بیان کیا کہ اس دن مجلس میں سات آدمی فوت ہوئے تھے۔ [ص 49 یہ واقعہ مدارج النبوۃ جلد اول 131 میں بھی ہے]
واضح رہے کہ بہجۃ الاسرار ایسی مستند معتبر کتاب ہے جس کے بارے میں امام احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
كتب مناقب اولیاء میں باعتبار صحت اسانید اس کا وہ مرتبہ ہے ، جو کتب حدیث میں صحیح بخاری شریف کا بلکہ صحاح میں بعض شاذ بھی ہوتی ہیں اور اس میں کوئی حدیث ( روایت ) شاذ بھی نہیں (فتاویٰ رضویہ جلد ۲۸، صفحه ٢٨٠)
اب بہجۃ الاسرار شریف کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ حضور غوث الاعظم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت بیداری میں دیکھا اور یہ کسی سے مخفی نہیں کہ جس نے حضور کو ظاہری حیات میں بحالت ایمان دیکھا اور اپنے ایمان کے ساتھ دنیا سے گیا تو وہ اصطلاحی حقیقی صحابی ہے لیکن اب حضور پر نور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو بقید ظاہری حیات ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں تو اگر کسی نے ظاہری حیات کے بعد بحالت ایمان حالت بیداری میں حضور کی زیارت کی تو اس کا کیا حکم ہوگا تو بعض فقہا کی عبارت سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ان کو فضیلت صحابیت حاصل ہوگی لیکن صحابی نہیں کہا جائے گا اس لیے کہ وہ حکمی صحابی ہیں اصطلاحی نہیں
اور واضح رہے کہ اصطلاحی حقیقی صحابی ہونا ایک الگ شی ہے اور حکما صحابی ہونا ایک لگ شی شق اول کے حامل کو صحابی کہا جائے گا اور شق ثانی کے حامل کو صحابی نہیں کہا جائے گا بس فضیلت حاصل ہوگی
مثلا ایک شہید حقیقی ہے اور ایک شہید حکمی ہے شہید حقیقی کو تو شہید کہا جائے گا لیکن شہید حکمی کو شہید نہیں کہا جائے گا شہید حکمی اس لیے کہتے ہیں کہ اسے شہید جیسا ثواب ملتا ہے بس لیکن وہ اصطلاحا حقیقتا شہید نہیں کہلاتا ہے ایسے ہی حدیث میں جس نے اپنی ماں کے چہرے کو دیکھا تو اسے ایک حج مبرور کا ثواب ملے گا لیکن اس ثواب کے ملنے سے اسے حاجی نہیں کہا جائے گا
حالت بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضور غوث الاعظم نے دیکھا اس واقعے کو ذکر کرنے کے بعد محقق علی الاطلاق حضور عبد الحق محدث دہلوی رضی اللہ عنہ مدارج النبوۃ ہی میں رقم طراز ہیں:
' و لازم نمی آید کہ ایشاں را در اصطلاح صحابی گویند و لیکن در بعضے وجوہ حکم صحابی داشتہ باشند" [ج 1 ص 132]
یعنی حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو اگر چہ اصطلاحا صحابی نہیں کہا جا جائے گا لیکن بعض ایسی صورتیں ہیں جن کی وجہ سے وہ حکما صحابی ہیں
اس توضیح کے بعد سرکاری آسی غازی پوری قدس سرہ السامی کے شعر کا مطلب یہ ہوگا
اے آسی تم شاہ جیلاں پیر پیراں میر میراں محبوب یزداں ابن زہرا حضور پُرنور سرکار غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شان و فضیلت کے بارے میں پوچھتے ہو تو سنو کہ وہ ایسی ذات ہے جو الوہیت اور نبوت کے سوا تمام فضائل کے جامع ہیں
پوچھتے ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
سردار اولیا کے لیے زبان ولایت سے نکلا ہوا یہ شعر اپنے اندر ایسے رنگا رنگ محاسن کلام اور خوبیاں سمیٹے ہوئے ہے جس کی گہرائی میں ڈوبنا چاہیں تو ڈوبتے ہی چلے جائیں
اسی لیے سرکار آسی غازی پوری فرماتے ہیں
شعر گوئی نہ سمجھنا کہ مرا کام ہے یہ
قالبِ شعر میں آسی فقط الہام ہے یہ

ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا [اعتراض اور اس کا جواب]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
[اعتراض اور اس کا جواب]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی ہند رابطہ نمبر: 9523788434
عین المعارف المعروف دیوان آسی از غوث العالمین قطب العارفین سرکار عبد العلیم آسی رشیدی سکندر پوری ثم غازی پوری قدس سرہ السامی کے صفحہ ١٠ میں ایک شعر ہے
پوچھتے ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
اور ایک شعر فرش پر عرش از محدث اعظم ہند سراج العلما تاج العرفا شاہ ابو المحامد سید محمد اشرفی جیلانی قدس سرہ السامی کے صفحہ ١١ پر ہے
مرتبہ حضرت صدیق کا یہ ہے سید
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
بعض حضرات کو یہ شبہ گزرا کہ حضور محدث اعظم کا شعر جو افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہے اس میں رد و بدل کر کے حضور سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شان میں کر لیا گیا ہے جس کی وجہ سے بعض حضرات یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ یہ شعر محدث اعظم کا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہے
لیکن میں واضح کر دوں کہ دونوں شعر دو عارف باللہ کے الگ الگ ہیں کسی میں رد و بدل نہیں کیا گیا ہے ہاں سوال یہ ہو سکتا ہے کہ تضمین کس نے کی تو قرین قیاس یہ ہے کہ حضور محدث اعظم نے سرکار آسی غازی پوری کے مصرع ثانی میں تضمین کی ہے کیونکہ سرکار آسی غازی پوری کی پیدائش 1834ء میں ہوئی اور وفات 1917ء میں ہوئی اور حضور محدث اعظم کی پیدائش 1893ء میں ہوئی اور وفات 1963ء میں ہوئی اس اعتبار سے جس وقت سرکار آسی پوری کی وفات ہوئی اس وقت حضور محدث اعظم کی عمر 24/چوبیس سال کی تھی حضور محدث اعظم نے سترہ سال کی عمر میں تعلیم سے فراغت حاصل کی حضور سرکار آسی علیہ الرحمہ 83 سال عمر مبارک پائے یعنی 68 سال کے حضور محدث اعظم سے بڑے ہوئے تو ظاہر ہے کہ حضور محدث اعظم نے ایک سن رسیدہ عارف باللہ کے مصرع کی تضمین کی ہے جو کہ فخر کی بات ہے لیکن اگر یہیں یہ کہا جائے سرکار آسی نے محدث اعظم ہند کے مصرع کی تضمین کی ہے تو یہ بات بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے اگر چہ امکان موجود ہے اگر اس ممکنہ صورت کو مان بھی لیا جائے پھر بھی کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ کسی دوسرے شاعر کے کسی مصرع پر تضمین کرنا شائع و ذائع ہے بلکہ یہ محاسن کلام میں سے ہے فن شاعری پر مہارت کی دلیل ہے جیسا کہ حضور مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کا ایک شعر ہے
وصل مولی چاہتے ہو تو وسیلہ ڈھونڈ لو
بے وسیلہ نجدیو ہر گز خدا ملتا نہیں
اس شعر کے مصرع ثانی کی تضمین سرکار تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے یوں کی ہے
ابتغو فرما کے گویا رب نے یہ فرما دیا
بے وسیلہ نجدیو ہر گز خدا ملتا نہیں
اور اگر اس صورت پر بھی کوئی اعتراض کرے اور کہے کہ حضور محدث اعظم رضی اللہ عنہ تک سرکار آسی غازی پوری کا کلام پہنچا ہی نہیں تو پھر وہ کس طرح تضمین کیے ہوں گے؟
تو اب یہاں تیسری صورت ماننی پڑے گی اور وہ ہے توارد یعنی بسا اوقات اتفاقا شاعر کا کوئی ایک شعر یا چند شعر بغیر اختلاف کے کسی دوسرے شاعر کے موافق ہو جاتا ہے جو کہ کمال فن جولانیت علم کی طرف رہنمائی کرتا ہے جیسا کہ بحر الفصاحت میں ہے:
ایسا بھی اتفاق ہوتا ہے کہ کسی شاعر کا کوئی شعر یا چند اشعار بغیر اختلاف لفظ و معنی کے ہو بہو دوسرے شاعر کے کلام کے مطابق ہو جاتے ہیں یا مضمون بالکل مطابق ہوتا ہے اور قصد سرقہ کا نہیں ہوتا ۔ اس کو توارد کہتے ہیں۔ اور ایسا بعض اساتذہ کے کلام میں پایا جاتا ہے ۔ اگر چہ یہ بات کمال جودت پر دلالت کرتی ہے۔ اور اتفاقی ہے۔
توارد و سرقہ میں فرق یہ ہے کہ توارد نا دانستہ ہوتا ہے اور سرقہ دانستہ اور جو کلام کبھی نظر سے نہ گزرا ہو اور کانوں تک نہ پہنچا ہو اس میں اکثر توارد نہیں ہوتا ۔ اور اگر کہیں احیانا ہو جاتا ہے تو مذموم نہیں ۔ بلکہ پچھلے شاعر کی علو طبیعت پر دلالت کرتا ہے۔ کہ اس کی فکر استاد کی فکر سے جا ملی لیکن بد گمانوں کی زبانوں سے چھٹکارا کہاں کہ وہ اس بلند پروازی اور عنقا شکاری کو سرقے پر حمل کرتے ہیں اور سنان طعن و تشنیع سے طلسم نگاروں کے دلوں کو چھید تے ہیں ۔
نقل ایک مرتبہ لشکر گوالیار میں مشاعرہ ہوا اور یہ طرح ہوئی ۔
کیا جانے لکھ دیا اسے کیا اضطراب میں
مولوی سید اکبر بیخود بریلوی مسکن بدایونی موطن کا مطلع تھا۔
ساقی کا عکس رخ نہیں جام شراب میں
ہے آفتاب جلوہ نما آفتاب میں
انھیں دنوں میں چودھری سعید الدین حسین صاحب رئیس کھیڑہ بدایوں نے مجلس مشاعرہ ترتیب دی تھی اور وہاں بھی یہی طرح ہوئی تھی ۔ مولوی احمد حسن صاحب وحشت بدایونی جو پرانے شاعر اور ایک نامی آدمی ہیں ان کا بھی مطلع غزل یہی تھا۔
ساقی کا عکس رخ نہیں جام شراب میں
ہے آفتاب جلوہ نما آفتاب میں
ایک کو دوسرے کے شعر سے اطلاع تو در کنار نام سے بھی واقفیت نہیں تھی۔ اور اتنا زمانہ بھی نہیں گزرا تھا کہ ان کا شعر ان تک پہنچا یعنی ایک ہی ہفتے میں دونوں جگہ مشاعرہ ہوا تھا۔ [ج 2 ص 1590_1591]
اب آتے ہیں شعر مذکور کے دوسرے رخ کی طرف بعض حضرات کو یہ بھی الجھن ہے کہ علامہ آسی غازی پوری علیہ الرحمہ کا یہ فرمانا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ حضور غوث اعظم شیخ اکبر رضی اللہ عنہ نبوت کے سوا ہر فضیلت کے جامع ہیں کیونکہ یہ شان تو حضرت ابو بکر صدیق کی ہے جیسا کہ حضور محدث اعظم کے شعر سے مستفاد ہوتا ہے تو دیکھیے

تفریح الخاطر میں ہے:

فاذا أراد أن يضع قدميه على رقبتي سأل الله تعالى عنى فألهمه. هذا ولدك اسمه عبد القادر لولا اني ختمت النبوة بك لكان هو أهلا لها بعد فشكر الله تعالى عليه وقال لى جدى صلى الله عليه وسلم يا بني طوبي لك رأيتني و وجدت نعمتى ثم طوبى لمن رآك أو رأى من رآك أو رأى من رأى من رأى من رآك الى سبعة وعشرين وجعلتك وزيرى في الدنيا والآخرة ووضعت قدمى هذه على رقبتك وقدماك على رقاب جميع الاولیا بلا تفاخر ولا مباهاة ولو كانت النبوة بعدى لنلها ولانبوۃ بعدی
تو جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے میرے کندھوں پر اپنے پاؤں مبارک رکھنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالی سے میرے بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ آپ کی اولاد میں سے ہے اس کا نام عبدالقادر ہے۔ اے محبوب اگر آپ خاتم النبین نہ ہوتے تو آپ کے بعد عہدۂ نبوت اسے عطا کیا جاتا ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اور میرے جد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اے میرے بیٹے تجھے مبارک ہو تو نے مجھے دیکھا اور میری نعمت سے سرفراز ہوا۔ پھر اس کو مبارک ہو جو تجھے دیکھے اور تیرے دیکھنے والے کو دیکھے یا دیکھنے والے کے دیکھنے والے کو دیکھے اسی طرح آپ نے ستائیس تک فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں دنیا و آخرت میں اپنا وزیر بنایا۔ اور میں نے اپنا یہ قدم تیری گردن پر رکھا۔ اور تیرا قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر بغیر فخر کے ہوگا ۔ اگر میرے بعد نبوت ہوتی تو تم نبی ہوتے لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا [ص 9/10]

بہجۃ الاسرار شریف میں ہے:

وكل ولى على قدم النبي وانا على قدم جدى صلى الله عليه وسلم و ما رفع المصطفى صلى الله عليه وسلم قدما الأوضعت انا قدمي في الموضع الذي رفع منه الا ان يكون قدما من اقدام النبوۃ فانہ لا سبیل ان ینالہ غیر نبی [ص 22]
ہر ولی کسی نہ کسی نبی کے قدم مبارک پر ہے اور میں اپنے جد امجد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پر ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں جہاں اپنا قدم مبارک رکھا میں نے وہاں وہاں اپنا قدم رکھا سوائے نبوت کے کیوں کہ اس تک کسی غیر نبی کی رسائی نہیں
اسی کی روشنی میں مجدد دین و ملت سیدنا سرکار اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
اُلُوْہِیَّت نُبُوَّت کے سوا تو
تمام اَفضال کا قابل ہے یا غوث
نبی کے قدموں پر ہے جُز نُبُوَّت
کہ ختم اس راہ میں حائل ہے یاغوث
اُلُوْہِیَّت ہی احمد نے نہ پائی
نُبُوَّت ہی سے تو عاطِل ہے یا غوث
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نبوت کے سوا تمام فضائل کے جامع ہیں لیکن ایک سوال یہ ہوگا کہ کیا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے حضور کو دیکھا تو دیکھیے زبدۃ الآثار تلخیص بہجۃ الاسرار از عبد الحق محدث دہلوی رضی اللہ عنہ میں ہے :
شیخ جلیل شریف ابو عباس احمد بن شیخ عبد اللہ ازہر حسینی نے خبر دی کہ ایک بار میں شیخ عبد القادر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کی مجلس میں قریباً دس ہزار افراد موجود تھے۔ شیخ علی بن ہیتی حضرت غوث الاعظم کے سامنے ذکر مقری کے پاس بیٹھے تھے انھیں ذرا اونگھ آئی حضرت غوث پاک لوگوں کو فرمانے لگے : خاموش رہو۔ جب سارے خاموش ہو گئے تو لوگوں کی سانس کی آواز کے بغیر کچھ سنائی نہ دیتا تھا ۔ پھر آپ منبر سے نیچے اترے اور شیخ علی ہیتی کے پاس مؤدب کھڑے ہو گئے اور غور سے دیکھنے لگے۔ علی ہیتی کی آنکھ کھلی۔ آپ نے علی ہیتی سے پوچھا تم نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے جب اس نے کہا کہ ہاں۔ تو آپ نے فرمایا : میں رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی آمد پر تمھارے سامنے ادبا کھڑارہا۔ شیخ علی ہیتی نے کہا کہ حضور نے مجھے نصیحت کی ہے کہ میں حضرت شیخ عبد القادر کی مجلس میں حاضر رہا کروں۔ حضرت شیخ نے فرمایا : جو تمھیں خواب میں نظر آئے میں اُنھیں بیداری میں دیکھ رہا تھا۔ راوی نے مزید بیان کیا کہ اس دن مجلس میں سات آدمی فوت ہوئے تھے۔ [ص 49 یہ واقعہ مدارج النبوۃ جلد اول 131 میں بھی ہے]
واضح رہے کہ بہجۃ الاسرار ایسی مستند معتبر کتاب ہے جس کے بارے میں امام احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
كتب مناقب اولیاء میں باعتبار صحت اسانید اس کا وہ مرتبہ ہے ، جو کتب حدیث میں صحیح بخاری شریف کا بلکہ صحاح میں بعض شاذ بھی ہوتی ہیں اور اس میں کوئی حدیث ( روایت ) شاذ بھی نہیں (فتاویٰ رضویہ جلد ۲۸، صفحه ٢٨٠)
اب بہجۃ الاسرار شریف کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ حضور غوث الاعظم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت بیداری میں دیکھا اور یہ کسی سے مخفی نہیں کہ جس نے حضور کو ظاہری حیات میں بحالت ایمان دیکھا اور اپنے ایمان کے ساتھ دنیا سے گیا تو وہ اصطلاحی حقیقی صحابی ہے لیکن اب حضور پر نور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو بقید ظاہری حیات ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں تو اگر کسی نے ظاہری حیات کے بعد بحالت ایمان حالت بیداری میں حضور کی زیارت کی تو اس کا کیا حکم ہوگا تو بعض فقہا کی عبارت سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ان کو فضیلت صحابیت حاصل ہوگی لیکن صحابی نہیں کہا جائے گا اس لیے کہ وہ حکمی صحابی ہیں اصطلاحی نہیں
اور واضح رہے کہ اصطلاحی حقیقی صحابی ہونا ایک الگ شی ہے اور حکما صحابی ہونا ایک لگ شی شق اول کے حامل کو صحابی کہا جائے گا اور شق ثانی کے حامل کو صحابی نہیں کہا جائے گا بس فضیلت حاصل ہوگی
مثلا ایک شہید حقیقی ہے اور ایک شہید حکمی ہے شہید حقیقی کو تو شہید کہا جائے گا لیکن شہید حکمی کو شہید نہیں کہا جائے گا شہید حکمی اس لیے کہتے ہیں کہ اسے شہید جیسا ثواب ملتا ہے بس لیکن وہ اصطلاحا حقیقتا شہید نہیں کہلاتا ہے ایسے ہی حدیث میں جس نے اپنی ماں کے چہرے کو دیکھا تو اسے ایک حج مبرور کا ثواب ملے گا لیکن اس ثواب کے ملنے سے اسے حاجی نہیں کہا جائے گا
حالت بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضور غوث الاعظم نے دیکھا اس واقعے کو ذکر کرنے کے بعد محقق علی الاطلاق حضور عبد الحق محدث دہلوی رضی اللہ عنہ مدارج النبوۃ ہی میں رقم طراز ہیں:
' و لازم نمی آید کہ ایشاں را در اصطلاح صحابی گویند و لیکن در بعضے وجوہ حکم صحابی داشتہ باشند" [ج 1 ص 132]
یعنی حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو اگر چہ اصطلاحا صحابی نہیں کہا جا جائے گا لیکن بعض ایسی صورتیں ہیں جن کی وجہ سے وہ حکما صحابی ہیں
اس توضیح کے بعد سرکاری آسی غازی پوری قدس سرہ السامی کے شعر کا مطلب یہ ہوگا
اے آسی تم شاہ جیلاں پیر پیراں میر میراں محبوب یزداں ابن زہرا حضور پُرنور سرکار غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شان و فضیلت کے بارے میں پوچھتے ہو تو سنو کہ وہ ایسی ذات ہے جو الوہیت اور نبوت کے سوا تمام فضائل کے جامع ہیں
پوچھتے ہو شہ جیلاں کے فضائل آسی
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
سردار اولیا کے لیے زبان ولایت سے نکلا ہوا یہ شعر اپنے اندر ایسے رنگا رنگ محاسن کلام اور خوبیاں سمیٹے ہوئے ہے جس کی گہرائی میں ڈوبنا چاہیں تو ڈوبتے ہی چلے جائیں
اسی لیے سرکار آسی غازی پوری فرماتے ہیں
شعر گوئی نہ سمجھنا کہ مرا کام ہے یہ
قالبِ شعر میں آسی فقط الہام ہے یہ
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
48
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

حضور غوث الاعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں

جامعۃ الرضا اور حسام الحرمین

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢