صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
آرٹیفیشل جیولری اور عموم بلوی: ایک تحقیقی جائزہ (قسط اول)
تحقیق و تعاقب

آرٹیفیشل جیولری اور عموم بلوی: ایک تحقیقی جائزہ (قسط اول)

✍️ Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

آرٹیفیشل جیولری اور عموم بلوی: ایک تحقیقی جائزہ (قسط اول)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

عموم بلوی کی حقیقت، شرائط اور حدود

آج کل آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں ایک صاحب کی جانب سے عموم بلوی کی بنیاد پر جواز کا دعوی پیش کیا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ استدلال اصول فقہ کے ایک نہایت اہم قاعدہ سے متعلق ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کسی جزئی مسئلہ پر گفتگو سے پہلے عموم بلوی کی حقیقت، اس کی شرائط اور اس کی شرعی حدود کو سمجھ لیا جائے۔ کیونکہ کسی بھی فقہی قاعدہ کا صحیح اطلاق اسی وقت ممکن ہے جب پہلے اس کی حقیقت اور محل استعمال واضح ہو جائے۔

عموم بلوی کا مفہوم

لغت میں عموم کے معنی عام ہونے اور ہر طرف پھیل جانے کے ہیں، جبکہ بلوی کے معنی آزمائش، ابتلا اور مشقت کے ہیں۔
اصطلاح میں عموم بلوی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں کسی معاملہ میں عوام و خواص اس طرح مبتلا ہو جائیں کہ اس سے بچنا معتد بہ مشقت اور حرج کا باعث ہو، اور شریعت نے بھی اس معاملہ میں رخصت کی گنجائش رکھی ہو۔
فقیہ العصر مفتی آل مصطفی رحمہ اللہ (استاذ جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی) لکھتے ہیں: غیر اختیاری یا اختیاری اسباب کے تحت ارتکاب ممنوع کے لئے پیش آنے والی وہ حالت، جس میں لوگ عام طور پر مبتلا ہوں اور اس سے احتراز معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو۔(اسباب ستہ اور عموم بلوی کی توضیح و تنقیح، ص 110)
یہ تعریف اس بات کو واضح کرتی ہے کہ صرف کسی چیز کا عام ہو جانا عموم بلوی نہیں، بلکہ اس سے بچنا بھی واقعی دشوار ہونا چاہیے۔
فتاویٰ حافظ ملت میں رقم ہے : اس کے پیش نظر اس میں ابتلائے عوام تو ہے لیکن عموم بلوی یا ابتلائے عام نہیں۔ عموم بلوی وہاں صادق آتا ہے جہاں عوام و خواص دونوں مبتلا ہوں اور گناہ سے بچنا دشوار ہو، اسی کو ابتلائے عام بھی کہا جاتا ہے۔(فتاوی حافظ ملت، جلد 2، ص 75)

اس عبارت سے چند اہم اصول سامنے آتے ہیں :

صرف عوام کا کسی کام میں مبتلا ہونا کافی نہیں۔
عوام و خواص دونوں کا مبتلا ہونا ضروری ہے۔
اس کام سے بچنا واقعی دشوار ہو۔
محض رواج یا کثرت استعمال کو عموم بلوی نہیں کہا جا سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ ہر عام رواج کو عموم بلوی قرار دینا فقہی اعتبار سے درست نہیں۔

عموم بلوی کی شرعی حدود :

فقہائے احناف نے عموم بلوی کو ایک معتبر فقہی اصول ضرور قرار دیا ہے، لیکن اس کے لئے واضح شرائط بھی مقرر فرمائی ہیں۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی صریح شرعی نص موجود نہ ہو۔

چنانچہ امام شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وإنما تعتبر البلوى فيما ليس فيه نص بخلافه، فأما مع وجود النص لا معتبر به. ترجمہ: عموم بلوی کا اعتبار صرف وہاں ہوگا جہاں اس کے خلاف کوئی نص موجود نہ ہو، لیکن جہاں نص موجود ہو وہاں عموم بلوی معتبر نہیں۔ (مبسوط سرخسی، جلد 4، ص 10، دار الکتب العلمیہ، بیروت، نیز تبیین الحقائق، جلد 2، ص 80)
علامہ ابن نجیم اور علامہ حموی رحمہما اللہ بھی فرماتے ہیں:
ولا اعتبار بالبلوى في موضع النص... والمشقة والحرج إنما يعتبران في موضع لا نص فيه. ترجمہ: جہاں نص موجود ہو وہاں عموم بلوی، مشقت اور حرج کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (غمز عیون الابصار شرح الاشباہ والنظائر، جلد 1، ص 284)
علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وما قيل إن البلوى لا تعتبر في موضع النص... بل تعتبر إذا تحققت بالنص النافي للحرج. ترجمہ: عموم بلوی کا اعتبار بھی انہی مواقع پر ہوگا جہاں خود شریعت نے حرج دور کرنے کی گنجائش دی ہو، نہ کہ نصوص شرعیہ کے مقابلہ میں۔(فتح القدیر، جلد 1، ص 189)
ان تصریحات سے واضح ہوگیا کہ عموم بلوی کوئی ایسا اصول نہیں جس کے ذریعہ ہر رائج چیز کو جائز قرار دیا جا سکے، بلکہ یہ صرف انہی صورتوں میں معتبر ہے جن کی اجازت خود شریعت کے اصول دیتے ہوں۔
فقہائے کرام نے عموم بلوی کہاں معتبر مانا؟
فقہائے احناف نے عموم بلوی کا اعتبار چند مخصوص مواقع پر کیا ہے، مثلاً راستوں کے کیچڑ میں نجاست کا یقینی علم نہ ہونے کی صورت میں تخفیف، بعض طہارت کے مسائل، بلی کے جھوٹے کے حکم میں تخفیف، اور بیع سلم جیسے معاملات میں، جہاں خود شریعت یا اصول شرعیہ اس کی گنجائش دیتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ عموم بلوی کا مقصد لوگوں سے غیر معمولی مشقت کو دور کرنا ہے، نہ کہ قطعی احکام میں تبدیلی کرنا یا ہر عام رائج چیز کو جائز قرار دینا۔

حاصل کلام :

مندرجہ بالا تصریحات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ عموم بلوی ایک مسلمہ فقہی اصول ضرور ہے، لیکن اس کا اطلاق ہر اس چیز پر نہیں ہوتا جو معاشرے میں عام ہو جائے۔ اس کے لئے مخصوص شرائط ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ اس کے خلاف کوئی صریح نص موجود نہ ہو، اور واقعی ایسا عمومی ابتلا ہو جس سے بچنا عوام و خواص دونوں کے لئے دشوار ہو۔
ان شاء اللہ دوسری قسط میں انہی اصولوں کی روشنی میں آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا، اور یہ دیکھا جائے گا کہ آیا اس پر عموم بلوی کی شرائط منطبق ہوتی ہیں یا نہیں۔
ایک اہم نکتہ، جس پر اگلی قسط میں گفتگو ہوگی
ایک بات یہاں واضح طور پر قابل غور ہے کہ جب پلاسٹک اور کانچ کی چوڑیوں کے پہننے کے جواز کا حکم علمائے کرام کے فتاوی سے ظاہر ہوتا ہے اور انہیں اس مخصوص مصنوعی زیورات کی ممانعت کے دائرے میں شمار نہیں کیا گیا، تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوہے، پیتل، تانبے وغیرہ سے بنے ہوئے مصنوعی زیورات کو محض اس بنیاد پر کہ ان کا استعمال عام ہوگیا ہے، عموم بلوی قرار دے کر جائز کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟
اگر پلاسٹک اور کانچ کی چوڑیوں کے بارے میں شرعی حکم الگ ہے، تو محض یہ کہہ دینا کہ لوہے، پیتل اور تانبے وغیرہ کے مصنوعی زیورات کا استعمال عام ہوگیا ہے، ان کے جواز کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ کثرت استعمال اور عموم بلوی ایک ہی چیز نہیں، بلکہ عموم بلوی کے لیے وہ تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے جن کی تفصیل اس قسط میں گزر چکی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
لہذا یہ امر بھی تحقیقی طور پر واضح ہونا ضروری ہے کہ آیا مذکورہ دھاتوں سے بنے مصنوعی زیورات واقعی اس حکم میں داخل ہیں یا نہیں، اور اگر داخل ہیں تو کیا ان پر عموم بلوی کی شرعی شرائط پوری ہوتی ہیں؟
ان شاء اللہ الرحمن اگلی قسط میں اسی اہم نکتے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔
رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی 25 صفر المظفر 1448ھ، 9 اگست 2026ء بانی و صدر: محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن، لہوریا شریف، ضلع سیتامڑھی، بہار( خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی)

آرٹیفیشل جیولری اور عموم بلوی: ایک تحقیقی جائزہ (قسط اول)

مضمون نگار: Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

آرٹیفیشل جیولری اور عموم بلوی: ایک تحقیقی جائزہ (قسط اول)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

عموم بلوی کی حقیقت، شرائط اور حدود

آج کل آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں ایک صاحب کی جانب سے عموم بلوی کی بنیاد پر جواز کا دعوی پیش کیا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ استدلال اصول فقہ کے ایک نہایت اہم قاعدہ سے متعلق ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کسی جزئی مسئلہ پر گفتگو سے پہلے عموم بلوی کی حقیقت، اس کی شرائط اور اس کی شرعی حدود کو سمجھ لیا جائے۔ کیونکہ کسی بھی فقہی قاعدہ کا صحیح اطلاق اسی وقت ممکن ہے جب پہلے اس کی حقیقت اور محل استعمال واضح ہو جائے۔

عموم بلوی کا مفہوم

لغت میں عموم کے معنی عام ہونے اور ہر طرف پھیل جانے کے ہیں، جبکہ بلوی کے معنی آزمائش، ابتلا اور مشقت کے ہیں۔
اصطلاح میں عموم بلوی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں کسی معاملہ میں عوام و خواص اس طرح مبتلا ہو جائیں کہ اس سے بچنا معتد بہ مشقت اور حرج کا باعث ہو، اور شریعت نے بھی اس معاملہ میں رخصت کی گنجائش رکھی ہو۔
فقیہ العصر مفتی آل مصطفی رحمہ اللہ (استاذ جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی) لکھتے ہیں: غیر اختیاری یا اختیاری اسباب کے تحت ارتکاب ممنوع کے لئے پیش آنے والی وہ حالت، جس میں لوگ عام طور پر مبتلا ہوں اور اس سے احتراز معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو۔(اسباب ستہ اور عموم بلوی کی توضیح و تنقیح، ص 110)
یہ تعریف اس بات کو واضح کرتی ہے کہ صرف کسی چیز کا عام ہو جانا عموم بلوی نہیں، بلکہ اس سے بچنا بھی واقعی دشوار ہونا چاہیے۔
فتاویٰ حافظ ملت میں رقم ہے : اس کے پیش نظر اس میں ابتلائے عوام تو ہے لیکن عموم بلوی یا ابتلائے عام نہیں۔ عموم بلوی وہاں صادق آتا ہے جہاں عوام و خواص دونوں مبتلا ہوں اور گناہ سے بچنا دشوار ہو، اسی کو ابتلائے عام بھی کہا جاتا ہے۔(فتاوی حافظ ملت، جلد 2، ص 75)

اس عبارت سے چند اہم اصول سامنے آتے ہیں :

صرف عوام کا کسی کام میں مبتلا ہونا کافی نہیں۔
عوام و خواص دونوں کا مبتلا ہونا ضروری ہے۔
اس کام سے بچنا واقعی دشوار ہو۔
محض رواج یا کثرت استعمال کو عموم بلوی نہیں کہا جا سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ ہر عام رواج کو عموم بلوی قرار دینا فقہی اعتبار سے درست نہیں۔

عموم بلوی کی شرعی حدود :

فقہائے احناف نے عموم بلوی کو ایک معتبر فقہی اصول ضرور قرار دیا ہے، لیکن اس کے لئے واضح شرائط بھی مقرر فرمائی ہیں۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی صریح شرعی نص موجود نہ ہو۔

چنانچہ امام شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وإنما تعتبر البلوى فيما ليس فيه نص بخلافه، فأما مع وجود النص لا معتبر به. ترجمہ: عموم بلوی کا اعتبار صرف وہاں ہوگا جہاں اس کے خلاف کوئی نص موجود نہ ہو، لیکن جہاں نص موجود ہو وہاں عموم بلوی معتبر نہیں۔ (مبسوط سرخسی، جلد 4، ص 10، دار الکتب العلمیہ، بیروت، نیز تبیین الحقائق، جلد 2، ص 80)
علامہ ابن نجیم اور علامہ حموی رحمہما اللہ بھی فرماتے ہیں:
ولا اعتبار بالبلوى في موضع النص... والمشقة والحرج إنما يعتبران في موضع لا نص فيه. ترجمہ: جہاں نص موجود ہو وہاں عموم بلوی، مشقت اور حرج کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (غمز عیون الابصار شرح الاشباہ والنظائر، جلد 1، ص 284)
علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وما قيل إن البلوى لا تعتبر في موضع النص... بل تعتبر إذا تحققت بالنص النافي للحرج. ترجمہ: عموم بلوی کا اعتبار بھی انہی مواقع پر ہوگا جہاں خود شریعت نے حرج دور کرنے کی گنجائش دی ہو، نہ کہ نصوص شرعیہ کے مقابلہ میں۔(فتح القدیر، جلد 1، ص 189)
ان تصریحات سے واضح ہوگیا کہ عموم بلوی کوئی ایسا اصول نہیں جس کے ذریعہ ہر رائج چیز کو جائز قرار دیا جا سکے، بلکہ یہ صرف انہی صورتوں میں معتبر ہے جن کی اجازت خود شریعت کے اصول دیتے ہوں۔
فقہائے کرام نے عموم بلوی کہاں معتبر مانا؟
فقہائے احناف نے عموم بلوی کا اعتبار چند مخصوص مواقع پر کیا ہے، مثلاً راستوں کے کیچڑ میں نجاست کا یقینی علم نہ ہونے کی صورت میں تخفیف، بعض طہارت کے مسائل، بلی کے جھوٹے کے حکم میں تخفیف، اور بیع سلم جیسے معاملات میں، جہاں خود شریعت یا اصول شرعیہ اس کی گنجائش دیتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ عموم بلوی کا مقصد لوگوں سے غیر معمولی مشقت کو دور کرنا ہے، نہ کہ قطعی احکام میں تبدیلی کرنا یا ہر عام رائج چیز کو جائز قرار دینا۔

حاصل کلام :

مندرجہ بالا تصریحات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ عموم بلوی ایک مسلمہ فقہی اصول ضرور ہے، لیکن اس کا اطلاق ہر اس چیز پر نہیں ہوتا جو معاشرے میں عام ہو جائے۔ اس کے لئے مخصوص شرائط ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ اس کے خلاف کوئی صریح نص موجود نہ ہو، اور واقعی ایسا عمومی ابتلا ہو جس سے بچنا عوام و خواص دونوں کے لئے دشوار ہو۔
ان شاء اللہ دوسری قسط میں انہی اصولوں کی روشنی میں آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا، اور یہ دیکھا جائے گا کہ آیا اس پر عموم بلوی کی شرائط منطبق ہوتی ہیں یا نہیں۔
ایک اہم نکتہ، جس پر اگلی قسط میں گفتگو ہوگی
ایک بات یہاں واضح طور پر قابل غور ہے کہ جب پلاسٹک اور کانچ کی چوڑیوں کے پہننے کے جواز کا حکم علمائے کرام کے فتاوی سے ظاہر ہوتا ہے اور انہیں اس مخصوص مصنوعی زیورات کی ممانعت کے دائرے میں شمار نہیں کیا گیا، تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوہے، پیتل، تانبے وغیرہ سے بنے ہوئے مصنوعی زیورات کو محض اس بنیاد پر کہ ان کا استعمال عام ہوگیا ہے، عموم بلوی قرار دے کر جائز کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟
اگر پلاسٹک اور کانچ کی چوڑیوں کے بارے میں شرعی حکم الگ ہے، تو محض یہ کہہ دینا کہ لوہے، پیتل اور تانبے وغیرہ کے مصنوعی زیورات کا استعمال عام ہوگیا ہے، ان کے جواز کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ کثرت استعمال اور عموم بلوی ایک ہی چیز نہیں، بلکہ عموم بلوی کے لیے وہ تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے جن کی تفصیل اس قسط میں گزر چکی ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
لہذا یہ امر بھی تحقیقی طور پر واضح ہونا ضروری ہے کہ آیا مذکورہ دھاتوں سے بنے مصنوعی زیورات واقعی اس حکم میں داخل ہیں یا نہیں، اور اگر داخل ہیں تو کیا ان پر عموم بلوی کی شرعی شرائط پوری ہوتی ہیں؟
ان شاء اللہ الرحمن اگلی قسط میں اسی اہم نکتے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔
رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی 25 صفر المظفر 1448ھ، 9 اگست 2026ء بانی و صدر: محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن، لہوریا شریف، ضلع سیتامڑھی، بہار( خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی)
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

جان ہے عشقِ مصطفٰی روز فزوں کرے خدا جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں
66
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 5
Kalam 0
Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi
زمرہ جات

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط دوم)

ماہ صفر: حقیقت یا نحوست

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢