صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم اعظم! فضائل وخصائل
شخصیات اسلاف واخلاف

امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم اعظم! فضائل وخصائل

✍️ صاحبزادہ محمد حسام احمد رضا خان قادری

امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم اعظم! فضائل وخصائل
خلیفہ ثانی، قائد اسلام، مرادرسولﷺ، متمم الأربعین، فاروق اعظم، اعدل الاصحاب، مزين المنبر والمحراب، عز الاسلام والمسلمين، إمام الأشجعين ، غیظ المنافقين، امام المجاہدین، امیر المومنین، حضرت سیدنا ومولانا الامام ابو حفص عمر بن الخطاب العدوی القرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کی ولادت با سعادت عام الفیل کے 13 برس بعد تقریباً 583ء میں ہجرت سے تقریباً 40 برس قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی ۔ آپ حضرت سید ناصدیق اکبر کے بعد تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے افضل ہیں ۔ آپ کا شجرہ نسب آٹھویں پشت پر حضور اکرم ﷺ کے شجرہ نسب سے مل جاتا ہے۔ آپ اشراف قریش میں اپنی ذاتی اور خاندانی وجاہت کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز تھے۔
حضور خاتم المرسلین ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ اسلام کو خاص عمر بن الخطاب کے ذریعہ غلبہ و قوت عطا فرما، حضور ﷺ کی دعا کی برکت سے اعلان نبوت کے چھٹے سال انتالیس (39) لوگوں کے بعد ایمان لائے ۔ ( آپ چالیسویں مسلمان ہیں ) آپ کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی اور ان کو قوت مل گئی ، آپ فرماتے ہیں : جب میں نے اسلام قبول کیا تو دار ارقم میں موجود مسلمانوں نے اتنے زور سے تکبیر بلند کی کہ اس کو تمام اہل مکہ نے سنا۔
آپ کے اسلام قبول کرنے کے بعد حضور صلی السلام نے صحابۂ کرام کے ساتھ حرم میں نماز ادا فرمائی ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں جس نے اپنا اسلام سب سے پہلے علی الاعلان ظاہر کیا وہ حضرت عمر ہیں، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حضرت عمر ایمان لائے تو اسلام ظاہر ہوا اس سے پہلے لوگ اپنا اسلام ظاہر نہیں کرتے تھے، ان کے ایمان لانے کے بعد لوگوں کو کھلم کھلا اسلام کی طرف بلایا جانے لگا ، ہم بیت اللہ شریف کے قریب مجلسیں قائم کرنے ، اس کا علانیہ طواف کرنے ، کافروں سے بدلہ لینے اور ان کا جواب دینے کے قابل ہو گئے ۔
اس کے بعد حضور سرور عالم ﷺ کی تمام اسلامی تحریکات اور صلح و جنگ وغیرہ کی تمام منصوبہ بندیوں میں وزیر و مشیر کی حیثیت سے وفادار و رفیق کار ر ہے اور تمام غزوات میں ثابت قدم رہے، سیدنا فاروق اعظم کے سوا کسی نے بھی علانیہ ہجرت نہیں کی، جب آپ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو تلوار لی ، کاندھے پر تیر لٹکایا، تیروں کا ترکش ہاتھ میں لے کر حرم روانہ ہوئے، کعبہ مشرفہ کے صحن میں قریش کا ایک گروہ موجود تھا، آپ نے اطمینان سے طواف کیا اور نماز پڑھی پھر فرمایا : (اے گروہ کفار !) جسے اپنی ماں کو نوحہ کرنے والی، بیوی کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کرنا ہو تو وہ اس پہاڑ کے پیچھے ( حرم سے باہر ) آکر مجھ سے دو دو ہاتھ ( مقابلہ ) کر سکتا ہے۔
سید ناصدیق اکبر نے اپنے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اور اپنا جانشین منتخب فرمایا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ نے تخت خلافت پر رونق افروز ہو کر جانشین مصطفی علیہ السلام کی تمام تر ذمہ داریوں کو بطریق احسن سر انجام دیا۔ آپ کی خلافت تقریباً 10 سال 6 ماہ اور 4 روز رہی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی وہ پہلے خلیفہ ہیں جنہیں امیر المومنین سے موسوم کیا گیا ، آپ ہی نے سب سے پہلے گھوڑوں پر زکوۃ وصول فرمائی، آپ ہی نے سن ہجری کو جاری فرمایا، آپ ہی نے ماہ رمضان میں نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ باقاعدہ قائم فرمایا ، آپ ہی نے لوگوں کی خبر گیری کے لئے راتوں کو گشت فرمایا ، آپ ہی نے شرابی کو اسی (۸۰) کوڑے لگوائے۔
آپ ہی نے سب سے پہلے دفاتر قائم کیے، آپ ہی نے با قاعدہ شہروں میں قاضی مقرر کیے، آپ ہی نے مقام ابراہیم کو اس جگہ قائم کیا جہاں وہ آج ہے ، آپ ہی نے کوفہ، بصرہ، جزیرہ موصل کے شہر آباد کئے، آپ ہی نے مسجد نبوی کی توسیع کی اور اس میں ٹاٹ کا فرش بچھایا ، آپ ہی نے مسجدوں میں قندیلیں روشن کرائیں، آپ ہی نے عشر و خراج کا نظام نافذ کیا اور جیل خانے وضع کیے۔
حضرت حزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں : جب سیدنا فاروق اعظم کسی کو گورنر مقرر کرتے تو اس سے چند شرائط لکھوا لیتے کہ وہ اعلی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا، باریک کپڑے نہ پہنے گا، چھنا ہوا آٹا نہ کھائے گا، ضرورت مندوں کے لئے اپنے دروازے بند نہیں کرے گا اور دربان نہیں رکھے گا پھر جو شخص ان شرائط کی پابندی نہیں کرتا تھا، اس کے ساتھ یہ نہایت سختی سے پیش آتے تھے ۔
منصب خلافت سنبھالنے کے بعد سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا: اے لوگو! مجھے تم سے آزمایا جا رہا ہے اور تمہیں مجھ سے! میں اپنے دونوں پیش روؤں ( رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) کے بعد تم میں جانشین بن رہا ہوں، جو چیز ہمارے سامنے (مدینہ میں) ہوگی اسے ہم خود انجام دیں گے اور جو چیز غائب ( دوسری جگہ ) ہوگی تو اس کے لئے قوی وامین لوگوں کو مامور کریں گے، جو اچھا کام کرے گا اس پر احسان بھی زیادہ ہوگا اور جو برا کام کرے گا اس کو سزادی جائے گی، پھر اپنے مقرر کردہ عمال اور گورنروں سے مخاطب ہو کر فرمایا: یا درکھو میں نے تمہیں لوگوں پر ظلم و جبر کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا کہ تم لوگوں پر سختی کرو بلکہ میں نے تمہیں لوگوں کا امام بنا کر بھیجا ہے تاکہ لوگ تمہاری اتباع کریں، اس لئے تم پر لازم ہے کہ لوگوں کے حقوق ادا کرو، ان کو زد و کوب نہ کرو کہ ان کی عزت نفس مجروح ہو جائے اور نہ ان کی بے جا تعریف کرو کہ وہ غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں، ان پر اپنے دروازے بند نہ کرو کہ طاقتور کمزوروں کو کھا جائیں اور ان پر اپنے آپ کو کسی بات میں ترجیح نہ دو کہ ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی زبان اقدس پر اکثر اللہ اکبر جاری رہتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے بچوں سے اپنے لئے دعا کرایا کرتے تھے کہ دعا کرو عمر بخشا جائے ۔ آپ ہی کے زمانے میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں ، آپ نے سوائے اپنی خلافت کے پہلے سال (۱۳ھ) کے اپنے زمانہ خلافت میں ہر سال حج فرمایا، جس سال آپ شہید ہوئے اس سال بھی آپ نے حج فرمایا تھا۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آ گیا اور زمین زوروں کے ساتھ کانپنے لگی، امیر المومنین سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے جلال میں زمین پر ایک درہ مارا اور بلند آواز سے فرمایا : اے زمین ٹھہر جا کیا میں نے تیرے اوپر عدل نہیں کیا ؟ آپ کا فرمان سنتے ہی زمین ساکن ہوگی اور زلزلہ ختم ہوگیا۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی راویت کردہ احادیث کی تعداد 537 ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے خوف سے اتنا روتے تھے کہ ان کے چہرہ مبارک پر بہت رونے کی وجہ سے دو کالے نشان پڑ گئے تھے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی عمر کے آخری دو سالوں میں مسلسل روزے رکھنا شروع کر دیئے تھے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت اور اپنے رسول ﷺ کے شہر میں موت نصیب فرما، آپ کی دعا اس طرح پوری ہوئی کہ 26 ذو الحجۃ الحرام 23ھ بروز بدھ آپ نماز فجر کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے، آپ نے فرمایا : صفیں سیدھی کرلو ( یہ آپ کی عادت کریمہ تھی ) جب ابولولو ( مجوسی غلام ) نے آپ کی آواز سنی تو آپ کے بالکل قریب آکر کھڑا ہو گیا، آپ نے جیسے میں تکبیر تحریمہ کہی، اس نے آپ پر خنجر سے حملہ کر دیا، کندھے اور پہلو پر وار کئے، جس سے آپ بوجہ ضعف زمین پر تشریف لے آئے ، اس کے بعد اس نے تیرہ نمازیوں کو زخمی کیا جن میں سے چھ شہید ہو گئے، اس وقت جب وہ لوگوں کو زخمی کر رہا تھا، ایک عراقی مسلمان نے اس پر اپنی چادر ڈال دی، جب اس کو یقین ہوگیا کہ پکڑا جاؤں گا تو اس نے خود کشی کر لی۔
سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کو نماز کے لئے آگے بڑھادیا، انہوں نے دو مختصر سورتوں کے ساتھ نماز پڑھائی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر لے جایا گیا، آپ نے دریافت کیا: اے ابن عباس مجھ پر کس نے حملہ کیا، انہوں نے عرض کیا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے ! آپ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھ نہ کی جو اسلام کا دعوی کرتا ہو۔ پہلے آپ کو کھجور کا شربت پلایا گیا جو زخموں کے راستے باہر نکل گیا، پھر دودھ پلایا گیا وہ بھی زخموں سے نکل گیا پھر آپ نے حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت طلحہ حضرت زبیر ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کی انتخابِ خلیفہ کے لئے ایک کمیٹی بنادی اور فرمایا کہ انہیں میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔
اس کے بعد اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: مجھ پر کتنا قرض ہے؟ انہوں نے حساب کر کے بتایا کہ چھیاسی ہزار (86000) درہم قرض ہے، فرمایا: یہ قرض آل عمر کے مال سے ادا کر دینا، اگر اس سے ادا نہ ہو تو بنو عدی سے مانگنا اور اگر اس سے بھی ادا نہ ہو تو قریش سے لینا اور ان کے علاوہ کسی سے نہ لینا پھر فرمایا: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ، ان سے کہو کہ عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ اپنے دونوں دوستوں کے پاس دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں، حضرت عبداللہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، سلام عرض کیا اور اپنے والد کی خواہش کو ظاہر کیا، ام المومنین نے فرمایا: یہ جگہ تو میں نے اپنے لئے محفوظ کر رکھی تھی مگر میں آج اپنی ذات پر ( سیدنا) عمر کو ترجیح دیتی ہوں ۔
حضرت فاروق اعظم کو یہ خبر ملی تو آپ نے خدا کا شکر ادا کیا اور فرمایا: یہ میرے نزدیک سب سے اہم ہے پھر فرمایا: جب میں وفات پا جاؤں تو مجھے ام المومنین کے پاس لے جانا، سلام کرنا اور ایک بار پھر تدفین کی اجازت طلب کرنا ، اگر دے دیں تو مجھے اندر داخل کرنا ورنہ قبرستان میں دفن کردینا۔ ۲۶ ذی الحجہ بدھ کے دن آپ شدید زخمی ہوئے اور تین دن کے بعد 63 برس کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا۔
آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے غسل دیا اور کفنایا، آپ کے جسد اطہر کو حضور اکرم ﷺ کی مقدس چار پائی پر رکھا گیا اور حضرت صہیب بن سنان الرومی رضی اللہ عنہ وارضاہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ یکم محرم الحرام 24 ھ بروز اتوار روضہ رسول صلی اللہ میں حضور اقدس ﷺ اور سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلوئے انور میں آرام فرما ہوئے، قبر میں آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ، حضرت عثمان بن عفان، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعید بن زید اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہم نے اتارا۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ ضرور عمر بن خطاب ہوتے اور فرمایا: بے شک اللہ نے عمر کی زبان و قلب پر حق کو جاری فرمادیا ہے اور فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ جن و انس کے شیاطین عمر کے خوف سے بھاگتے ہیں اور فرمایا : اے ابن خطاب ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا ہوا دیکھتا ہے تو وہ تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور فرمایا: عمر مجھ سے ہے اور میں عمر سے ہوں اور عمر جس جگہ بھی ہوتا ہے حق اس کے ساتھ ہوتا ہے اور فرمایا: میرے بعد ابو بکر و عمر کی پیروی کرنا اور فرمایا: ابوبکر و عمر انبیاء ومرسلین (علیہم السلام) کے علاوہ اولین و آخرین جنتی ادھیڑ عمروں کے سردار ہیں ۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیم نے فرمایا: جس شخص نے عمر سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور اللہ تعالیٰ نے عرفہ والوں پر عموماً اور عمر پر خصوصاً فخر و مباہات کی ہے، جتنے انبیا دنیا میں مبعوث ہوئے سب کی امت میں ایک محدث ضرور ہوتا ہے اور اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہیں، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی کہ محدث کون ہوتا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: جس کی زبان سے ملائکہ بات کریں وہ محدث ہوتا ہے۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ حضرت ابوبکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ احد پہاڑ پر تھے، یکایک وہ ہلنے لگا تو حضور ﷺ نے فرمایا: اے احد ٹھہر جا تجھ پر نہیں ہیں مگر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ! حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: میں سو رہا تھا تو خواب دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور مجھ کو دکھائے جارہے ہیں، وہ سب کرتے پہنے ہوئے تھے جن میں سے کچھ لوگوں کے کرتے صرف سینے تک تھے اور کچھ کے اس سے نیچے تک پھر عمر بن خطاب کو پیش کیا گیا جو اتنا لمبا کرتا پہنے ہوئے تھے کہ زمین پر گھسیٹتے ہوئے چل رہے تھے، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے حضور ﷺ نے فرمایا: دین۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کا مسلمان ہونا اسلام کی فتح تھی، ان کی ہجرت اللہ کی نصرت تھی اور ان کی خلافت رحمت خداوندی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر کسی معاملہ میں لوگوں کی رائے دوسری ہوتی اور حضرت عمر کی رائے دوسری تو قرآن مجید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق نازل ہوتا تھا، حضرت امام مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی معاملہ میں جو کچھ مشورہ دیتے تھے، قرآن شریف کی آیتیں اسی کے موافق نازل ہوتی تھیں۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضلیت چار باتوں سے ظاہر ہے : بدر کے قیدیوں کے سلسلہ میں آیت مبارکہ نازل ہوئی، جس سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید کی گئی، آپ نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے پردے کی متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا جس پر آیت نازل ہوئی اور آپ کی رائے کی تائید فرمائی گئی۔ حضور ﷺ نے آپ کے متعلق دعا فرمائی: اے اللہ عمر کو مسلمان بنا کر اسلام کو غلبہ عطا فرما اور آپ نے سب سے پہلے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس دنیا نہیں آئی نہ انہوں نے اس کی تمنا کی مگر حضرت عمر کے پاس دنیا بہت آئی لیکن انہوں نے اس کو قبول نہ کیا بلکہ ٹھکرادیا۔ (صحیح البخاری، جامع الترمذی، اسد الغابہ، طبقات ابن سعد، تاریخ الخلفاء، موطا امام مالک، المعجم الاوسط ، مدارج النبوة )۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
فارق حق و باطل امام الهدی
تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام
ترجمان نبی ‌ ہم زبان نبی
جان شان عدالت پہ لاکھوں سلام
✍️ محمد حسام احمد رضا خان قادری بریلوی

امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم اعظم! فضائل وخصائل

مضمون نگار: صاحبزادہ محمد حسام احمد رضا خان قادری

امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم اعظم! فضائل وخصائل
خلیفہ ثانی، قائد اسلام، مرادرسولﷺ، متمم الأربعین، فاروق اعظم، اعدل الاصحاب، مزين المنبر والمحراب، عز الاسلام والمسلمين، إمام الأشجعين ، غیظ المنافقين، امام المجاہدین، امیر المومنین، حضرت سیدنا ومولانا الامام ابو حفص عمر بن الخطاب العدوی القرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کی ولادت با سعادت عام الفیل کے 13 برس بعد تقریباً 583ء میں ہجرت سے تقریباً 40 برس قبل مکہ مکرمہ میں ہوئی ۔ آپ حضرت سید ناصدیق اکبر کے بعد تمام صحابۂ کرام علیہم الرضوان سے افضل ہیں ۔ آپ کا شجرہ نسب آٹھویں پشت پر حضور اکرم ﷺ کے شجرہ نسب سے مل جاتا ہے۔ آپ اشراف قریش میں اپنی ذاتی اور خاندانی وجاہت کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز تھے۔
حضور خاتم المرسلین ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ اسلام کو خاص عمر بن الخطاب کے ذریعہ غلبہ و قوت عطا فرما، حضور ﷺ کی دعا کی برکت سے اعلان نبوت کے چھٹے سال انتالیس (39) لوگوں کے بعد ایمان لائے ۔ ( آپ چالیسویں مسلمان ہیں ) آپ کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی اور ان کو قوت مل گئی ، آپ فرماتے ہیں : جب میں نے اسلام قبول کیا تو دار ارقم میں موجود مسلمانوں نے اتنے زور سے تکبیر بلند کی کہ اس کو تمام اہل مکہ نے سنا۔
آپ کے اسلام قبول کرنے کے بعد حضور صلی السلام نے صحابۂ کرام کے ساتھ حرم میں نماز ادا فرمائی ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں جس نے اپنا اسلام سب سے پہلے علی الاعلان ظاہر کیا وہ حضرت عمر ہیں، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حضرت عمر ایمان لائے تو اسلام ظاہر ہوا اس سے پہلے لوگ اپنا اسلام ظاہر نہیں کرتے تھے، ان کے ایمان لانے کے بعد لوگوں کو کھلم کھلا اسلام کی طرف بلایا جانے لگا ، ہم بیت اللہ شریف کے قریب مجلسیں قائم کرنے ، اس کا علانیہ طواف کرنے ، کافروں سے بدلہ لینے اور ان کا جواب دینے کے قابل ہو گئے ۔
اس کے بعد حضور سرور عالم ﷺ کی تمام اسلامی تحریکات اور صلح و جنگ وغیرہ کی تمام منصوبہ بندیوں میں وزیر و مشیر کی حیثیت سے وفادار و رفیق کار ر ہے اور تمام غزوات میں ثابت قدم رہے، سیدنا فاروق اعظم کے سوا کسی نے بھی علانیہ ہجرت نہیں کی، جب آپ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو تلوار لی ، کاندھے پر تیر لٹکایا، تیروں کا ترکش ہاتھ میں لے کر حرم روانہ ہوئے، کعبہ مشرفہ کے صحن میں قریش کا ایک گروہ موجود تھا، آپ نے اطمینان سے طواف کیا اور نماز پڑھی پھر فرمایا : (اے گروہ کفار !) جسے اپنی ماں کو نوحہ کرنے والی، بیوی کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کرنا ہو تو وہ اس پہاڑ کے پیچھے ( حرم سے باہر ) آکر مجھ سے دو دو ہاتھ ( مقابلہ ) کر سکتا ہے۔
سید ناصدیق اکبر نے اپنے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اور اپنا جانشین منتخب فرمایا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ نے تخت خلافت پر رونق افروز ہو کر جانشین مصطفی علیہ السلام کی تمام تر ذمہ داریوں کو بطریق احسن سر انجام دیا۔ آپ کی خلافت تقریباً 10 سال 6 ماہ اور 4 روز رہی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی وہ پہلے خلیفہ ہیں جنہیں امیر المومنین سے موسوم کیا گیا ، آپ ہی نے سب سے پہلے گھوڑوں پر زکوۃ وصول فرمائی، آپ ہی نے سن ہجری کو جاری فرمایا، آپ ہی نے ماہ رمضان میں نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ باقاعدہ قائم فرمایا ، آپ ہی نے لوگوں کی خبر گیری کے لئے راتوں کو گشت فرمایا ، آپ ہی نے شرابی کو اسی (۸۰) کوڑے لگوائے۔
آپ ہی نے سب سے پہلے دفاتر قائم کیے، آپ ہی نے با قاعدہ شہروں میں قاضی مقرر کیے، آپ ہی نے مقام ابراہیم کو اس جگہ قائم کیا جہاں وہ آج ہے ، آپ ہی نے کوفہ، بصرہ، جزیرہ موصل کے شہر آباد کئے، آپ ہی نے مسجد نبوی کی توسیع کی اور اس میں ٹاٹ کا فرش بچھایا ، آپ ہی نے مسجدوں میں قندیلیں روشن کرائیں، آپ ہی نے عشر و خراج کا نظام نافذ کیا اور جیل خانے وضع کیے۔
حضرت حزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں : جب سیدنا فاروق اعظم کسی کو گورنر مقرر کرتے تو اس سے چند شرائط لکھوا لیتے کہ وہ اعلی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا، باریک کپڑے نہ پہنے گا، چھنا ہوا آٹا نہ کھائے گا، ضرورت مندوں کے لئے اپنے دروازے بند نہیں کرے گا اور دربان نہیں رکھے گا پھر جو شخص ان شرائط کی پابندی نہیں کرتا تھا، اس کے ساتھ یہ نہایت سختی سے پیش آتے تھے ۔
منصب خلافت سنبھالنے کے بعد سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا: اے لوگو! مجھے تم سے آزمایا جا رہا ہے اور تمہیں مجھ سے! میں اپنے دونوں پیش روؤں ( رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) کے بعد تم میں جانشین بن رہا ہوں، جو چیز ہمارے سامنے (مدینہ میں) ہوگی اسے ہم خود انجام دیں گے اور جو چیز غائب ( دوسری جگہ ) ہوگی تو اس کے لئے قوی وامین لوگوں کو مامور کریں گے، جو اچھا کام کرے گا اس پر احسان بھی زیادہ ہوگا اور جو برا کام کرے گا اس کو سزادی جائے گی، پھر اپنے مقرر کردہ عمال اور گورنروں سے مخاطب ہو کر فرمایا: یا درکھو میں نے تمہیں لوگوں پر ظلم و جبر کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا کہ تم لوگوں پر سختی کرو بلکہ میں نے تمہیں لوگوں کا امام بنا کر بھیجا ہے تاکہ لوگ تمہاری اتباع کریں، اس لئے تم پر لازم ہے کہ لوگوں کے حقوق ادا کرو، ان کو زد و کوب نہ کرو کہ ان کی عزت نفس مجروح ہو جائے اور نہ ان کی بے جا تعریف کرو کہ وہ غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں، ان پر اپنے دروازے بند نہ کرو کہ طاقتور کمزوروں کو کھا جائیں اور ان پر اپنے آپ کو کسی بات میں ترجیح نہ دو کہ ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی زبان اقدس پر اکثر اللہ اکبر جاری رہتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے بچوں سے اپنے لئے دعا کرایا کرتے تھے کہ دعا کرو عمر بخشا جائے ۔ آپ ہی کے زمانے میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں ، آپ نے سوائے اپنی خلافت کے پہلے سال (۱۳ھ) کے اپنے زمانہ خلافت میں ہر سال حج فرمایا، جس سال آپ شہید ہوئے اس سال بھی آپ نے حج فرمایا تھا۔ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آ گیا اور زمین زوروں کے ساتھ کانپنے لگی، امیر المومنین سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے جلال میں زمین پر ایک درہ مارا اور بلند آواز سے فرمایا : اے زمین ٹھہر جا کیا میں نے تیرے اوپر عدل نہیں کیا ؟ آپ کا فرمان سنتے ہی زمین ساکن ہوگی اور زلزلہ ختم ہوگیا۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی راویت کردہ احادیث کی تعداد 537 ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے خوف سے اتنا روتے تھے کہ ان کے چہرہ مبارک پر بہت رونے کی وجہ سے دو کالے نشان پڑ گئے تھے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی عمر کے آخری دو سالوں میں مسلسل روزے رکھنا شروع کر دیئے تھے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت اور اپنے رسول ﷺ کے شہر میں موت نصیب فرما، آپ کی دعا اس طرح پوری ہوئی کہ 26 ذو الحجۃ الحرام 23ھ بروز بدھ آپ نماز فجر کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے، آپ نے فرمایا : صفیں سیدھی کرلو ( یہ آپ کی عادت کریمہ تھی ) جب ابولولو ( مجوسی غلام ) نے آپ کی آواز سنی تو آپ کے بالکل قریب آکر کھڑا ہو گیا، آپ نے جیسے میں تکبیر تحریمہ کہی، اس نے آپ پر خنجر سے حملہ کر دیا، کندھے اور پہلو پر وار کئے، جس سے آپ بوجہ ضعف زمین پر تشریف لے آئے ، اس کے بعد اس نے تیرہ نمازیوں کو زخمی کیا جن میں سے چھ شہید ہو گئے، اس وقت جب وہ لوگوں کو زخمی کر رہا تھا، ایک عراقی مسلمان نے اس پر اپنی چادر ڈال دی، جب اس کو یقین ہوگیا کہ پکڑا جاؤں گا تو اس نے خود کشی کر لی۔
سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کو نماز کے لئے آگے بڑھادیا، انہوں نے دو مختصر سورتوں کے ساتھ نماز پڑھائی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر لے جایا گیا، آپ نے دریافت کیا: اے ابن عباس مجھ پر کس نے حملہ کیا، انہوں نے عرض کیا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے ! آپ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں، جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھ نہ کی جو اسلام کا دعوی کرتا ہو۔ پہلے آپ کو کھجور کا شربت پلایا گیا جو زخموں کے راستے باہر نکل گیا، پھر دودھ پلایا گیا وہ بھی زخموں سے نکل گیا پھر آپ نے حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت طلحہ حضرت زبیر ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کی انتخابِ خلیفہ کے لئے ایک کمیٹی بنادی اور فرمایا کہ انہیں میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔
اس کے بعد اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: مجھ پر کتنا قرض ہے؟ انہوں نے حساب کر کے بتایا کہ چھیاسی ہزار (86000) درہم قرض ہے، فرمایا: یہ قرض آل عمر کے مال سے ادا کر دینا، اگر اس سے ادا نہ ہو تو بنو عدی سے مانگنا اور اگر اس سے بھی ادا نہ ہو تو قریش سے لینا اور ان کے علاوہ کسی سے نہ لینا پھر فرمایا: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ، ان سے کہو کہ عمر آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ اپنے دونوں دوستوں کے پاس دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں، حضرت عبداللہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، سلام عرض کیا اور اپنے والد کی خواہش کو ظاہر کیا، ام المومنین نے فرمایا: یہ جگہ تو میں نے اپنے لئے محفوظ کر رکھی تھی مگر میں آج اپنی ذات پر ( سیدنا) عمر کو ترجیح دیتی ہوں ۔
حضرت فاروق اعظم کو یہ خبر ملی تو آپ نے خدا کا شکر ادا کیا اور فرمایا: یہ میرے نزدیک سب سے اہم ہے پھر فرمایا: جب میں وفات پا جاؤں تو مجھے ام المومنین کے پاس لے جانا، سلام کرنا اور ایک بار پھر تدفین کی اجازت طلب کرنا ، اگر دے دیں تو مجھے اندر داخل کرنا ورنہ قبرستان میں دفن کردینا۔ ۲۶ ذی الحجہ بدھ کے دن آپ شدید زخمی ہوئے اور تین دن کے بعد 63 برس کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا۔
آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے غسل دیا اور کفنایا، آپ کے جسد اطہر کو حضور اکرم ﷺ کی مقدس چار پائی پر رکھا گیا اور حضرت صہیب بن سنان الرومی رضی اللہ عنہ وارضاہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ یکم محرم الحرام 24 ھ بروز اتوار روضہ رسول صلی اللہ میں حضور اقدس ﷺ اور سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلوئے انور میں آرام فرما ہوئے، قبر میں آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ، حضرت عثمان بن عفان، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعید بن زید اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہم نے اتارا۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ ضرور عمر بن خطاب ہوتے اور فرمایا: بے شک اللہ نے عمر کی زبان و قلب پر حق کو جاری فرمادیا ہے اور فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ جن و انس کے شیاطین عمر کے خوف سے بھاگتے ہیں اور فرمایا : اے ابن خطاب ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا ہوا دیکھتا ہے تو وہ تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور فرمایا: عمر مجھ سے ہے اور میں عمر سے ہوں اور عمر جس جگہ بھی ہوتا ہے حق اس کے ساتھ ہوتا ہے اور فرمایا: میرے بعد ابو بکر و عمر کی پیروی کرنا اور فرمایا: ابوبکر و عمر انبیاء ومرسلین (علیہم السلام) کے علاوہ اولین و آخرین جنتی ادھیڑ عمروں کے سردار ہیں ۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیم نے فرمایا: جس شخص نے عمر سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور اللہ تعالیٰ نے عرفہ والوں پر عموماً اور عمر پر خصوصاً فخر و مباہات کی ہے، جتنے انبیا دنیا میں مبعوث ہوئے سب کی امت میں ایک محدث ضرور ہوتا ہے اور اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہیں، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی کہ محدث کون ہوتا ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: جس کی زبان سے ملائکہ بات کریں وہ محدث ہوتا ہے۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ حضرت ابوبکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ احد پہاڑ پر تھے، یکایک وہ ہلنے لگا تو حضور ﷺ نے فرمایا: اے احد ٹھہر جا تجھ پر نہیں ہیں مگر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ! حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: میں سو رہا تھا تو خواب دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور مجھ کو دکھائے جارہے ہیں، وہ سب کرتے پہنے ہوئے تھے جن میں سے کچھ لوگوں کے کرتے صرف سینے تک تھے اور کچھ کے اس سے نیچے تک پھر عمر بن خطاب کو پیش کیا گیا جو اتنا لمبا کرتا پہنے ہوئے تھے کہ زمین پر گھسیٹتے ہوئے چل رہے تھے، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے حضور ﷺ نے فرمایا: دین۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کا مسلمان ہونا اسلام کی فتح تھی، ان کی ہجرت اللہ کی نصرت تھی اور ان کی خلافت رحمت خداوندی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اگر کسی معاملہ میں لوگوں کی رائے دوسری ہوتی اور حضرت عمر کی رائے دوسری تو قرآن مجید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق نازل ہوتا تھا، حضرت امام مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی معاملہ میں جو کچھ مشورہ دیتے تھے، قرآن شریف کی آیتیں اسی کے موافق نازل ہوتی تھیں۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضلیت چار باتوں سے ظاہر ہے : بدر کے قیدیوں کے سلسلہ میں آیت مبارکہ نازل ہوئی، جس سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید کی گئی، آپ نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے پردے کی متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا جس پر آیت نازل ہوئی اور آپ کی رائے کی تائید فرمائی گئی۔ حضور ﷺ نے آپ کے متعلق دعا فرمائی: اے اللہ عمر کو مسلمان بنا کر اسلام کو غلبہ عطا فرما اور آپ نے سب سے پہلے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس دنیا نہیں آئی نہ انہوں نے اس کی تمنا کی مگر حضرت عمر کے پاس دنیا بہت آئی لیکن انہوں نے اس کو قبول نہ کیا بلکہ ٹھکرادیا۔ (صحیح البخاری، جامع الترمذی، اسد الغابہ، طبقات ابن سعد، تاریخ الخلفاء، موطا امام مالک، المعجم الاوسط ، مدارج النبوة )۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
فارق حق و باطل امام الهدی
تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام
ترجمان نبی ‌ ہم زبان نبی
جان شان عدالت پہ لاکھوں سلام
✍️ محمد حسام احمد رضا خان قادری بریلوی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

صاحبزادہ محمد حسام احمد رضا خان قادری

Student - Khamesa | Jamiatur Raza
32
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 1
Kalam 0
صاحبزادہ محمد حسام احمد رضا خان قادری
زمرہ جات

انسانی لبادے میں خونخوار درندے

Jamiatur Raza Students Portal Launched at Urs-e-Razvi

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢