صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]
عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
جیسے بظاہر کفریہ مصرع کو بے غبار بتانے کے لیے بعض ارباب فقہ و افتا، اہل نقد و نظر نے حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے شعر کو مثال میں پیش کیا اور یہ جتانے کی جرأت کی کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے شعر کا ظاہر بھی کفر ہے -معاذ اللہ- لکھتے ہیں: ہمیشہ کسی شعر کے ظاہری معنی و مفہوم کو لے کر ، شاعر کی حیثیت وحالت سے صرف نظر کرتے ہوئے حکم شرع بیان کرنا غلط ہوگا
مثلاً امام اہل سنت اعلی حضرت قدس سرہ کے قصیدہ ٔ معراجیہ کا یہ شعر:
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل وفرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے۔
اول وہلہ میں ذہن اس معنی سو کی طرف جاتاہے کہ شب معراج رسول خدا ﷺ کی جو ملاقات رب تبارک وتعالی سے ہوئی تھی اسے شاعرنے جنم جنم کے بچھڑے ہوئے دو دوستوں کی ملاقات سے تعبیر کی ہے،جوکہ شان الوہیت ورسالت کے منافی عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہے۔
ناقد صاحب کے بقول اول وہلہ میں مذکور بالا شعرِ رضا پڑھنے سے جو چند باتیں ذہن میں آتی ہیں وہ یہ ہیں۔ اول: شعر میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی بات ہے دوم: شاعر نے اس ملاقات کو جنم جنم کے بچھڑے ہوئے دو دوستوں کی ملاقات سے تعبیر کی ہے ۔ سوم: یہ مفہوم عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہے ۔ چہارم: اور یہ شان الوہیت و رسالت کے منافی ہے۔
قارئین ان چار چیزوں کو ذہن میں رکھیں ان شاءاللہ تعالیٰ ان چاروں کا جواب آگے آئے گا۔ اب ناقد صاحب شعر میں دقیق نظر فرما کر شعر کا صحیح مفہوم پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
لیکن اس شعرکے معنی میں دقیق نظر ڈالی جائے تو اس میں ایک لطیف عارفانہ نکتے کی طرف اشارہ ہے، وہ یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ صفت رسالت و عبدیت سے متصف ہیں اور آپ کی یہ دونوں صفتیں منتہاے کمال پہ ہیں،آپ جیسا کوئی رسول نہیں اور آپ جیساکوئی ’’عبد‘‘ نہیں۔دونوں صفتوں کے الگ الگ تقاضے بھی ہیں،صفت عبدیت مولا کا قرب ووصل چاہتی ہے اور صفت رسالت بعد وفرقت،اگردربار مولاسے مخلوق کی طرف آنا اور مخلوق کے ساتھ رہنا نہ ہوگا تومقصد رسالت فوت ہوگا،عبدیت چوں کہ قرب ووصل چاہتی ہے اسی لئے جب رب تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول کو معراج کراکر اپنے پاس بلایا تو یوں فرمایا: سبحن الذی اسری بعبدہِ۔اسری برسولہِ نہیں فرمایا،حالاں کہ صفت رسالت بھی وہاں موجود ہے۔جب رسول پاک ﷺ رب تبارک وتعالی کے قرب خاص مقام دنیٰ میں پہنچے توآپ کے ساتھ صفت رسالت بھی تھی اور صفت عبدیت بھی اوردونوں صفتوں کے تقاضے وصل (تقاضاے عبدیت)اورفرقت (تقاضاے رسالت) بھی ساتھ ساتھ تھے،حالاں کہ وصل و فرقت دونوں متضاد چیزیں ہیں،یہ دونوں لفظ جنم جنم کے بچھڑے ہوئے تھے لیکن شب معراج مقام دنیٰ میں دونوں آپس میں گلے مل رہے تھے۔’’عجب گھڑی تھی کہ وصل وفرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے‘‘اس ایک مصرعے میں ایک جہان معانی کو سمو دیا گیا ہے جس کی تفصیل ایک مصرعے میں ممکن نہیں۔
ناقد صاحب کے اس دقیق نکتے کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم صفت عبدیت و رسالت سے متصف ہیں اور صفت عبدیت کا تقاضا یہ قرب باری تعالیٰ کا حصول کرے اور صفت رسالت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی قوم کے درمیان رہ کر اپنی شریعت کی اشاعت کرے تقاضائے عبدیت وصل اور تقاضائے رسالت فرقت ہے اور وصل و فرقت دو متضاد چیزیں ہیں جو جنم جنم کی بچھڑی ہوئیں آج آپس میں گلے مل رہی ہیں قارئین بآسانی مفہوم سمجھ گئے ہوں گے کہ ناقد صاحب کیا کہنا چاہتے ہیں؟
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تقاضا اس وقت موجود نہیں تھا جب حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تشریف فرما تھے ؟
کیا وہی تقاضا لا مکاں میں جانے کے بعد باقی نہیں رہا کہ تقاضائے رسالت قوم کی طرف آنے کا ہے؟
زمین پر آئے تقاضائے عبدیت قرب میں جانے کا ہے؟ پھر ملا کیسے ؟
کیا زمین پر صفت عبدیت و رسالت سے متصف نہیں تھے ؟ ظاہر ہے جواب اس کا یہی ہوگا کہ لا محالہ زمین پر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم صفت عبدیت و رسالت سے متصف تھے اور بقول ناقد صاحب کے تقاضائے عبدیت، وصل ہے اور تقاضائے رسالت، فرقت ہے تو جب حضور زمین پر صفت عبدیت و رسالت سے متصف تھے تو تقاضائے عبدیت و رسالت یعنی وصل و فرقت موجود تو اس میں کونسی جدت پائی گئی؟ جو زمین پر وہی سدرۃ المنتھی سے اوپر ؟ تو اسے خاص معراج میں بیان کرنے کیا حاجت؟
نیز صفت عبدیت و رسالت سے تمام رسولان عظام متصف تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا انفرادیت؟
رہی بات جب تقاضا کو ہی ناقد صاحب نے وصل و فرقت مانا ہے خواہ تقاضائے عبدیت ہو یا تقاضائے رسالت تو دو تقاضے کو ملنے کے لیے آسمان پر جانا یا لا مکاں پہنچنا ضروری نہیں وہ زمین پر بھی رہ کر مل سکتے ہیں کیونکہ تقاضا کا مطلب عمل تقاضا نہیں ہے فتدبر!
مزید ناقد صاحب کو سمجھنا چاہیے کہ مفہوم مکمل شعر کا بیان کیا جاتا ہے کیونکہ مصرع ثانی مصرع اولیٰ سے مربوط ہوتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو شعر دو لخت ہو جائے گا جو فن شاعری میں عیب جلی مانا جاتا ہے لیکن ناقد صاحب نے صرف مصرع ثانی کا مفہوم بیان کیا اور مصرع اولیٰ کو یک لخت چھوڑ دیا اس میں کیا حکمت ہو سکتی ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر مصرع اول کی تشریح کی جاتی تو یہ تشریح نہیں ہو پاتی جو ناقد صاحب نے کی ہے کیونکہ مصرع اولیٰ ہے : حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے اب ناقد صاحب سے سوال ہے کہ جب مصرع ثانی میں وصل و فرقت سے مراد تقاضائے عبدیت و رسالت ہے تو مصرع اولیٰ میں کس چیز سے حجاب اٹھنے کی بات کی جا رہی ہے ؟ ناقد صاحب کی تشریح کے مطابق ظاہر ہے یہ حجاب بھی تقاضائے عبدیت و رسالت کے درمیان سے ہی اٹھے گا ورنہ دونوں مصرعے مربوط نہیں ہوں گے ؟
اب سوال یہ پیدا ہوگا کہ عبدیت و رسالت کے تقاضے کے درمیان کونسے پردے تھے ؟ اور پھر جلوے کونسے تھے؟ اور اگر تھے بھی تو معراج میں ان پردوں کے اٹھنے کی بات کیوں ہوگی؟ زمین پر رہتے ہوئے بھی ہو سکتی ہے۔
نیز ایسا ہو نہیں سکتا کہ کسی رسول علیہ السلام سے رسالت ملنے کے بعد یک لحظہ کو بھی ان سے صفت رسالت دور ہو زائل ہو اگر کوئی یک لحظہ کو بھی کسی رسول سے رسالت یا نبی سے نبوت کا زوال مانے تو وہ کافر ہو جائے گا تو یہ کہنے کی حاجت کیوں پڑی کہ صفت رسالت کے ساتھ گئے؟ کیا زوال ممکن ہے؟
اب ناقد صاحب خود بتائیں کیا ایسے مفاہیم کو بوصیری ثانی حسان الہند اعلی حضرت رضی اللہ عنہ اپنے شعر میں لائیں گے جو محل کے مطابق ہی نہیں ہو؟
اسی لیے ناقد صاحب بقول آپ کے ہی: نثری اسلوب اور ہے،شعری اسلوب اور شعر سمجھنے کے لیے دقیق نظری کے ساتھ ساتھ شعر فہمی کا ملکہ بھی ہونا چاہیے۔

شعر رضا کی تشریح

قارئین پہلے ایک بات ذہن نشین فرما لیں کہ حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے جو قصیدہ معراجیہ ارقام فرمایا ہے تو اس میں معراج شریف کے واقعے کو بالترتیب بیان فرمایا ہے پہلے کعبہ شریف، براق، نماز اقصی، آسمان، سدرۃ المنتھی، عرش، پھر لا مکاں کی طرف جانا جب لا مکاں کی طرف بڑھے تو جو ندا آئی اسے شعر میں اعلی حضرت نے یوں پرویا
بڑھ اے محمد قریں ہو احمد قریب آ سرور ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے
پھر کئی شعر بعد یہ شعر ہے:
سراغ این و متی کہاں تھا نشان کیف و الی کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے
کیونکہ اب دنیائے حجابات کا سفر تھا اب حجاب اٹھ رہے تھے تو فرمایا حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے جب آپ نے یہ بات ذہن نشین فرما لی تو اب آتے ہیں شعر رضا کی تشریح کی طرف۔
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا فرمایا:
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے
سوال یہ ہے کہ یہ حجاب کس سے اٹھا ؟ کیا اللہ جل جلالہ سے ؟ تو ایسا ہر گز نہیں کیونکہ محجوب ہونا جسم و جسمانیت کا تقاضا کرتا ہے جہت و مکان کا مقتضی ہے اور اللہ جل جلالہ جسم و جسمانیت، جہت و مکان سے پاک و منزہ ہے
تو اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت یہ حجاب مخلوق کے حق میں ہے اور حضور صلی اللہ علیہ سے حجاب اٹھنے لگے تو حضور نے لاکھوں کروڑوں حجابات میں اللہ جل جلالہ کے لاکھوں کروڑوں جلوے دیکھے اور یہ خصوصیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی جو کسی کو نہیں ہوئی
کیونکہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جل جلالہ کو دیکھنے کی تمنا کی تو اللہ نے فرمایا تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے پھر فرمایا میں اپنا جلوہ پہاڑ پر اتارتا ہوں اگر پہاڑ صحیح سلامت مستقر رہ جائے تو تم مجھے دیکھ لوگے فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكࣰّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقࣰاۚ {سورۂ اعراف آیت نمبر ١٤٣}
ترجمۂ کنز الایمان: پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بے ہوش،
حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک بار جلوۂ الہی کو دیکھا اور دیکھ کر بے ہوش ہو کر زمین پر تشریف لائے لیکن نگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم یہ ہے کہ لاکھوں حجابات سے لاکھوں پردے اٹھ رہے ہیں اور لاکھوں پردے میں اللہ جل جلالہ کے لاکھوں بے شمار جلوے دیکھ رہے ہیں اور ایک بار نہیں بار بار دیکھ رہے ہیں اور کیفیت و سرور میں آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں یہی وہ جلوے تھے جنھیں دیکھنے کی تاب حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی نہیں لا سکتے تھے اسی لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا تھا
گر یک سر موئے بر تر پرم
فروغ تجلی بسوزد پرم
یہ خصوصیت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اب اس مصرع کو پڑھیے اور بحر سرور کیف میں غرقاب ہو جائیے حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
اب رہا مصرع ثانی:
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے
مصرع ثانی میں جو وصل و فرقت ہے اس کا تعلق پہلے مصرع سے ہے اور اسی کو شعر کا مربوط ہونا کہتے ہیں جو شاعروں سے مخفی نہیں ہے اب فرقت کیسے ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حجاب کے اعتبار سے فرقت ہے اور یہ عوام و خواص سب پر واضح ہے کہ حجاب فرقت کا متقاضی ہے اور یہ حجابات جلوۂ الہی کے حامل ہیں اور جلوہ وصل ہے اور وصل و فرقت ایک دوسرے کی نقیض ہے اور نقیض ایک ساتھ نہیں پائی جاتی ہے لیکن یہاں مسئلہ کچھ اور ہے کہ حجابات یعنی فرقت، جلوۂ الہی، یعنی وصل حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں جو کبھی اپنی وضع کے بعد نہیں ملے تھے کیونکہ یہ ایک دوسرے کی نقیض ہے اسی ملنے کو جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے سے تعبیر کی ہے۔
جیسا کہ ٢٠١٣ / ٩ جون کو حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا :
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے، ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے؛
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے۔ اس کی شرح تفصیلا فرما دیں اور آج بے علمی عام ہے تو کیا عوام الناس کی عام محفل میں اس شعر کو نہ پڑھیں تو کوئی حرج تو نہیں۔
تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا:
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے" حقیقتا اللہ تبارک و تعالیٰ پر کوئی حجاب نہیں ہے اس لیے کہ حجاب محجوب ہونا یہ جسمت کی صفت ہے جو مکان میں ہر جہت میں منحصر ہے آگے پیچھے دائیں بائیں جہت اس جسم کو گھیرتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ کوئی چیز اس کو گھیرے یا کوئی اس کو روکے یا چھپائے وہ ظاہر ہے اور ایسا ظاہر ہے کہ پتے پتے میں ذرے ذرے میں اس کا جلوہ نمایاں ہے اور غایت ظہور کی وجہ سے وہ ایسا باطن ہے کہ اس کی حقیقت کو کوئی مخلوق نہیں جانتی ہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات و صفات کا عرفان اور ان کی معرفت کائنات میں دلائل قائم کر کے بندوں کو بخشا ہے اور اس میں سب سے بڑا حصہ معرفت کا حصہ اور سب سے پہلا حصہ، پہلی مخلوق، فاتح باب وجود خاتم دور رسالت، جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تبارک و تعالیٰ علیہ وسلم کو اللہ نے عطا فرمایا تو حقیقتا حجاب اس پر نہیں ہے حقیقتا حجاب مخلوق کے حق میں ہے
اسی کو فرما رہے ہیں کہ حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے
کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج سے نوازا اور آسمانوں کی سیر کرائی سدرۃ المنتھی تک حضور کی رسائی ہوئی اس کے بعد سدرۃ المنتھی کے آگے بھی خود تشریف لے گئے اب یہاں سے جبرئیل امین نے ساتھ چھوڑ دیا اور کہا اگر ایک کورے برابر بھی میں اپنے اس مقام سے آگے جاؤں تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا پردۂ جلالت کا عالم یہ ہے کہ میں جل جاؤں گا تو حضور آگے تشریف لے گئے اور ان سب حجابات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھوں بے شمار اللہ تعالیٰ کے جلوے دیکھے وہی کہہ رہے ہیں ۔
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
اب اس کے آگے کہتے ہیں کہ جب حجاب بھی ہے اور جلوہ بھی ہے حجاب کے اعتبار سے فرقت ہے جدائی ہے اور حجاب اللہ تبارک و تعالیٰ کے جلوؤں کا حامل جلوؤں کے اعتبار سے یہ وصل ہے اور وصل و فرقت آپس میں دو مختلف نقیضین ہیں کہ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ یہیں یہ وصل بھی ہے اور فرقت بھی ہے کہہ رہے ہیں کہ عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے" انتھی [آڈیو ریکارڈنگ تاج الشریعہ]
اب قارئین خود بتائیں جو ناقد صاحب نے اول وہلہ میں چار چیزیں بیان کی تھی کیا ان میں سے کوئی ایک بھی پائی جا رہی ہے
کیا شعر میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی بات ہے؟
کیا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے خدا سے ملاقات کو جنم جنم کے بچھڑے ہوئے دو دوستوں کی ملاقات سے تعبیر کی ہے؟
کیا شعر مذکور کا مفہوم عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہے ؟
کیا شعر مذکور شان رسالت کے منافی ہے؟
مذکورہ تشریحات پڑھنے کے بعد ہر منصف مزاج بے ساختہ پکار اٹھے گا کہ حاشا للہ حاشا للہ ہر گز ہر گز نہیں شعر مذکور تو ناقد کے اختراعات تفہیمات سے بالا تر بے غبار ہے واقع کے مطابق ہے اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو شان رسالت کے خلاف ہو یا عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہو بلکہ یہ تو حجابات اور جلوے اور دید جلوۂ الہی کی بات ہے
اسی لیے اعلی حضرت کی زبان میں یہ کہنا بالکل بجا ہے:
جو کہے شعر و پاسِ شرع، دونوں کا حسن کیونکر آئے
لا اسے پیشِ جلوہ زمزمۂ رضا کہ یوں
[ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ]
تو اب قارئین خود ہی بتائیں کیا مبحوث عنہ مصرع
[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا] کو اعلی حضرت کے فصیح و بلیغ واضح المفہوم شعر کے ساتھ تشبیہ دینا صحیح ہوگا اور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے شعر کی بے تکی تشریح کرنا صحیح ہوگا؟ جب بات نہیں بن پڑ رہی ہے تو اچھے اچھے اشعار ایک مذموم شعر کے تشبیہ دے کر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے خدا خیر کرے!
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
میں نے پہلی قسط میں دلائل و براہین کی روشنی میں وضاحت کے ساتھ لکھا ہے ہے کہ نثر ہو یا نظم اگر کوئی بات کسی صوفی سے حالت جذب میں ادا ہو تو اس پر کوئی حکم نہیں لگے وہ شجرۂ موسی کی طرح ہیں لیکن ان کے کہے ہوئے الفاظ جیسے انا الحق یا اس مفہوم کے اشعار وغیرہ جو خوش ہو کر پڑھے گا جس میں مبحوث عنہ مصرع بھی شامل ہے تو اس پر شریعت حکم ضرور لگے گا ۔
جیسے نثر میں شریعت کا اہتمام ضروری ہے ایسے ہی نظم پڑھنے میں لکھنے میں بھی شرعیت کا اہتمام ضروری ہے جس طرح ممبر رسول پر کھڑے ہو کر کوئی انا الحق کا نعرہ نہیں لگا سکتا ہے یا نثر میں کوئی کفریہ جملہ نہیں بول سکتا ایسے ہی ممبر رسول پر کوئی نظم میں بھی انا الحق یا کوئی اور کفریہ شعر نہیں پڑھ سکتا ہے ورنہ شرعی گرفت ضرور ہوگی
خود اپنے دل سے فیصلہ لیں کیا آپ ممبر رسول پر انا الحق کے نعرے لگانے کی اجازت دیں گے؟
اگر نہیں تو پھر ایسے اشعار پڑھنے کی اجازت کیوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا ( شعر و شرع ) [قسط چہارم]
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
جیسے بظاہر کفریہ مصرع کو بے غبار بتانے کے لیے بعض ارباب فقہ و افتا، اہل نقد و نظر نے حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے شعر کو مثال میں پیش کیا اور یہ جتانے کی جرأت کی کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے شعر کا ظاہر بھی کفر ہے -معاذ اللہ- لکھتے ہیں: ہمیشہ کسی شعر کے ظاہری معنی و مفہوم کو لے کر ، شاعر کی حیثیت وحالت سے صرف نظر کرتے ہوئے حکم شرع بیان کرنا غلط ہوگا
مثلاً امام اہل سنت اعلی حضرت قدس سرہ کے قصیدہ ٔ معراجیہ کا یہ شعر:
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل وفرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے۔
اول وہلہ میں ذہن اس معنی سو کی طرف جاتاہے کہ شب معراج رسول خدا ﷺ کی جو ملاقات رب تبارک وتعالی سے ہوئی تھی اسے شاعرنے جنم جنم کے بچھڑے ہوئے دو دوستوں کی ملاقات سے تعبیر کی ہے،جوکہ شان الوہیت ورسالت کے منافی عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہے۔
ناقد صاحب کے بقول اول وہلہ میں مذکور بالا شعرِ رضا پڑھنے سے جو چند باتیں ذہن میں آتی ہیں وہ یہ ہیں۔ اول: شعر میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی بات ہے دوم: شاعر نے اس ملاقات کو جنم جنم کے بچھڑے ہوئے دو دوستوں کی ملاقات سے تعبیر کی ہے ۔ سوم: یہ مفہوم عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہے ۔ چہارم: اور یہ شان الوہیت و رسالت کے منافی ہے۔
قارئین ان چار چیزوں کو ذہن میں رکھیں ان شاءاللہ تعالیٰ ان چاروں کا جواب آگے آئے گا۔ اب ناقد صاحب شعر میں دقیق نظر فرما کر شعر کا صحیح مفہوم پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
لیکن اس شعرکے معنی میں دقیق نظر ڈالی جائے تو اس میں ایک لطیف عارفانہ نکتے کی طرف اشارہ ہے، وہ یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ صفت رسالت و عبدیت سے متصف ہیں اور آپ کی یہ دونوں صفتیں منتہاے کمال پہ ہیں،آپ جیسا کوئی رسول نہیں اور آپ جیساکوئی ’’عبد‘‘ نہیں۔دونوں صفتوں کے الگ الگ تقاضے بھی ہیں،صفت عبدیت مولا کا قرب ووصل چاہتی ہے اور صفت رسالت بعد وفرقت،اگردربار مولاسے مخلوق کی طرف آنا اور مخلوق کے ساتھ رہنا نہ ہوگا تومقصد رسالت فوت ہوگا،عبدیت چوں کہ قرب ووصل چاہتی ہے اسی لئے جب رب تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول کو معراج کراکر اپنے پاس بلایا تو یوں فرمایا: سبحن الذی اسری بعبدہِ۔اسری برسولہِ نہیں فرمایا،حالاں کہ صفت رسالت بھی وہاں موجود ہے۔جب رسول پاک ﷺ رب تبارک وتعالی کے قرب خاص مقام دنیٰ میں پہنچے توآپ کے ساتھ صفت رسالت بھی تھی اور صفت عبدیت بھی اوردونوں صفتوں کے تقاضے وصل (تقاضاے عبدیت)اورفرقت (تقاضاے رسالت) بھی ساتھ ساتھ تھے،حالاں کہ وصل و فرقت دونوں متضاد چیزیں ہیں،یہ دونوں لفظ جنم جنم کے بچھڑے ہوئے تھے لیکن شب معراج مقام دنیٰ میں دونوں آپس میں گلے مل رہے تھے۔’’عجب گھڑی تھی کہ وصل وفرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے‘‘اس ایک مصرعے میں ایک جہان معانی کو سمو دیا گیا ہے جس کی تفصیل ایک مصرعے میں ممکن نہیں۔
ناقد صاحب کے اس دقیق نکتے کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم صفت عبدیت و رسالت سے متصف ہیں اور صفت عبدیت کا تقاضا یہ قرب باری تعالیٰ کا حصول کرے اور صفت رسالت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی قوم کے درمیان رہ کر اپنی شریعت کی اشاعت کرے تقاضائے عبدیت وصل اور تقاضائے رسالت فرقت ہے اور وصل و فرقت دو متضاد چیزیں ہیں جو جنم جنم کی بچھڑی ہوئیں آج آپس میں گلے مل رہی ہیں قارئین بآسانی مفہوم سمجھ گئے ہوں گے کہ ناقد صاحب کیا کہنا چاہتے ہیں؟
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تقاضا اس وقت موجود نہیں تھا جب حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تشریف فرما تھے ؟
کیا وہی تقاضا لا مکاں میں جانے کے بعد باقی نہیں رہا کہ تقاضائے رسالت قوم کی طرف آنے کا ہے؟
زمین پر آئے تقاضائے عبدیت قرب میں جانے کا ہے؟ پھر ملا کیسے ؟
کیا زمین پر صفت عبدیت و رسالت سے متصف نہیں تھے ؟ ظاہر ہے جواب اس کا یہی ہوگا کہ لا محالہ زمین پر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم صفت عبدیت و رسالت سے متصف تھے اور بقول ناقد صاحب کے تقاضائے عبدیت، وصل ہے اور تقاضائے رسالت، فرقت ہے تو جب حضور زمین پر صفت عبدیت و رسالت سے متصف تھے تو تقاضائے عبدیت و رسالت یعنی وصل و فرقت موجود تو اس میں کونسی جدت پائی گئی؟ جو زمین پر وہی سدرۃ المنتھی سے اوپر ؟ تو اسے خاص معراج میں بیان کرنے کیا حاجت؟
نیز صفت عبدیت و رسالت سے تمام رسولان عظام متصف تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا انفرادیت؟
رہی بات جب تقاضا کو ہی ناقد صاحب نے وصل و فرقت مانا ہے خواہ تقاضائے عبدیت ہو یا تقاضائے رسالت تو دو تقاضے کو ملنے کے لیے آسمان پر جانا یا لا مکاں پہنچنا ضروری نہیں وہ زمین پر بھی رہ کر مل سکتے ہیں کیونکہ تقاضا کا مطلب عمل تقاضا نہیں ہے فتدبر!
مزید ناقد صاحب کو سمجھنا چاہیے کہ مفہوم مکمل شعر کا بیان کیا جاتا ہے کیونکہ مصرع ثانی مصرع اولیٰ سے مربوط ہوتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو شعر دو لخت ہو جائے گا جو فن شاعری میں عیب جلی مانا جاتا ہے لیکن ناقد صاحب نے صرف مصرع ثانی کا مفہوم بیان کیا اور مصرع اولیٰ کو یک لخت چھوڑ دیا اس میں کیا حکمت ہو سکتی ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر مصرع اول کی تشریح کی جاتی تو یہ تشریح نہیں ہو پاتی جو ناقد صاحب نے کی ہے کیونکہ مصرع اولیٰ ہے : حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے اب ناقد صاحب سے سوال ہے کہ جب مصرع ثانی میں وصل و فرقت سے مراد تقاضائے عبدیت و رسالت ہے تو مصرع اولیٰ میں کس چیز سے حجاب اٹھنے کی بات کی جا رہی ہے ؟ ناقد صاحب کی تشریح کے مطابق ظاہر ہے یہ حجاب بھی تقاضائے عبدیت و رسالت کے درمیان سے ہی اٹھے گا ورنہ دونوں مصرعے مربوط نہیں ہوں گے ؟
اب سوال یہ پیدا ہوگا کہ عبدیت و رسالت کے تقاضے کے درمیان کونسے پردے تھے ؟ اور پھر جلوے کونسے تھے؟ اور اگر تھے بھی تو معراج میں ان پردوں کے اٹھنے کی بات کیوں ہوگی؟ زمین پر رہتے ہوئے بھی ہو سکتی ہے۔
نیز ایسا ہو نہیں سکتا کہ کسی رسول علیہ السلام سے رسالت ملنے کے بعد یک لحظہ کو بھی ان سے صفت رسالت دور ہو زائل ہو اگر کوئی یک لحظہ کو بھی کسی رسول سے رسالت یا نبی سے نبوت کا زوال مانے تو وہ کافر ہو جائے گا تو یہ کہنے کی حاجت کیوں پڑی کہ صفت رسالت کے ساتھ گئے؟ کیا زوال ممکن ہے؟
اب ناقد صاحب خود بتائیں کیا ایسے مفاہیم کو بوصیری ثانی حسان الہند اعلی حضرت رضی اللہ عنہ اپنے شعر میں لائیں گے جو محل کے مطابق ہی نہیں ہو؟
اسی لیے ناقد صاحب بقول آپ کے ہی: نثری اسلوب اور ہے،شعری اسلوب اور شعر سمجھنے کے لیے دقیق نظری کے ساتھ ساتھ شعر فہمی کا ملکہ بھی ہونا چاہیے۔

شعر رضا کی تشریح

قارئین پہلے ایک بات ذہن نشین فرما لیں کہ حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ نے جو قصیدہ معراجیہ ارقام فرمایا ہے تو اس میں معراج شریف کے واقعے کو بالترتیب بیان فرمایا ہے پہلے کعبہ شریف، براق، نماز اقصی، آسمان، سدرۃ المنتھی، عرش، پھر لا مکاں کی طرف جانا جب لا مکاں کی طرف بڑھے تو جو ندا آئی اسے شعر میں اعلی حضرت نے یوں پرویا
بڑھ اے محمد قریں ہو احمد قریب آ سرور ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے
پھر کئی شعر بعد یہ شعر ہے:
سراغ این و متی کہاں تھا نشان کیف و الی کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے
کیونکہ اب دنیائے حجابات کا سفر تھا اب حجاب اٹھ رہے تھے تو فرمایا حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے جب آپ نے یہ بات ذہن نشین فرما لی تو اب آتے ہیں شعر رضا کی تشریح کی طرف۔
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا فرمایا:
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے
سوال یہ ہے کہ یہ حجاب کس سے اٹھا ؟ کیا اللہ جل جلالہ سے ؟ تو ایسا ہر گز نہیں کیونکہ محجوب ہونا جسم و جسمانیت کا تقاضا کرتا ہے جہت و مکان کا مقتضی ہے اور اللہ جل جلالہ جسم و جسمانیت، جہت و مکان سے پاک و منزہ ہے
تو اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت یہ حجاب مخلوق کے حق میں ہے اور حضور صلی اللہ علیہ سے حجاب اٹھنے لگے تو حضور نے لاکھوں کروڑوں حجابات میں اللہ جل جلالہ کے لاکھوں کروڑوں جلوے دیکھے اور یہ خصوصیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی جو کسی کو نہیں ہوئی
کیونکہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جل جلالہ کو دیکھنے کی تمنا کی تو اللہ نے فرمایا تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے پھر فرمایا میں اپنا جلوہ پہاڑ پر اتارتا ہوں اگر پہاڑ صحیح سلامت مستقر رہ جائے تو تم مجھے دیکھ لوگے فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكࣰّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقࣰاۚ {سورۂ اعراف آیت نمبر ١٤٣}
ترجمۂ کنز الایمان: پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بے ہوش،
حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک بار جلوۂ الہی کو دیکھا اور دیکھ کر بے ہوش ہو کر زمین پر تشریف لائے لیکن نگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم یہ ہے کہ لاکھوں حجابات سے لاکھوں پردے اٹھ رہے ہیں اور لاکھوں پردے میں اللہ جل جلالہ کے لاکھوں بے شمار جلوے دیکھ رہے ہیں اور ایک بار نہیں بار بار دیکھ رہے ہیں اور کیفیت و سرور میں آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں یہی وہ جلوے تھے جنھیں دیکھنے کی تاب حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی نہیں لا سکتے تھے اسی لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا تھا
گر یک سر موئے بر تر پرم
فروغ تجلی بسوزد پرم
یہ خصوصیت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اب اس مصرع کو پڑھیے اور بحر سرور کیف میں غرقاب ہو جائیے حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
اب رہا مصرع ثانی:
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے
مصرع ثانی میں جو وصل و فرقت ہے اس کا تعلق پہلے مصرع سے ہے اور اسی کو شعر کا مربوط ہونا کہتے ہیں جو شاعروں سے مخفی نہیں ہے اب فرقت کیسے ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حجاب کے اعتبار سے فرقت ہے اور یہ عوام و خواص سب پر واضح ہے کہ حجاب فرقت کا متقاضی ہے اور یہ حجابات جلوۂ الہی کے حامل ہیں اور جلوہ وصل ہے اور وصل و فرقت ایک دوسرے کی نقیض ہے اور نقیض ایک ساتھ نہیں پائی جاتی ہے لیکن یہاں مسئلہ کچھ اور ہے کہ حجابات یعنی فرقت، جلوۂ الہی، یعنی وصل حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں جو کبھی اپنی وضع کے بعد نہیں ملے تھے کیونکہ یہ ایک دوسرے کی نقیض ہے اسی ملنے کو جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے سے تعبیر کی ہے۔
جیسا کہ ٢٠١٣ / ٩ جون کو حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا :
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے، ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے؛
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے۔ اس کی شرح تفصیلا فرما دیں اور آج بے علمی عام ہے تو کیا عوام الناس کی عام محفل میں اس شعر کو نہ پڑھیں تو کوئی حرج تو نہیں۔
تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا:
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے" حقیقتا اللہ تبارک و تعالیٰ پر کوئی حجاب نہیں ہے اس لیے کہ حجاب محجوب ہونا یہ جسمت کی صفت ہے جو مکان میں ہر جہت میں منحصر ہے آگے پیچھے دائیں بائیں جہت اس جسم کو گھیرتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ کوئی چیز اس کو گھیرے یا کوئی اس کو روکے یا چھپائے وہ ظاہر ہے اور ایسا ظاہر ہے کہ پتے پتے میں ذرے ذرے میں اس کا جلوہ نمایاں ہے اور غایت ظہور کی وجہ سے وہ ایسا باطن ہے کہ اس کی حقیقت کو کوئی مخلوق نہیں جانتی ہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات و صفات کا عرفان اور ان کی معرفت کائنات میں دلائل قائم کر کے بندوں کو بخشا ہے اور اس میں سب سے بڑا حصہ معرفت کا حصہ اور سب سے پہلا حصہ، پہلی مخلوق، فاتح باب وجود خاتم دور رسالت، جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تبارک و تعالیٰ علیہ وسلم کو اللہ نے عطا فرمایا تو حقیقتا حجاب اس پر نہیں ہے حقیقتا حجاب مخلوق کے حق میں ہے
اسی کو فرما رہے ہیں کہ حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے
کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج سے نوازا اور آسمانوں کی سیر کرائی سدرۃ المنتھی تک حضور کی رسائی ہوئی اس کے بعد سدرۃ المنتھی کے آگے بھی خود تشریف لے گئے اب یہاں سے جبرئیل امین نے ساتھ چھوڑ دیا اور کہا اگر ایک کورے برابر بھی میں اپنے اس مقام سے آگے جاؤں تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا پردۂ جلالت کا عالم یہ ہے کہ میں جل جاؤں گا تو حضور آگے تشریف لے گئے اور ان سب حجابات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھوں بے شمار اللہ تعالیٰ کے جلوے دیکھے وہی کہہ رہے ہیں ۔
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
اب اس کے آگے کہتے ہیں کہ جب حجاب بھی ہے اور جلوہ بھی ہے حجاب کے اعتبار سے فرقت ہے جدائی ہے اور حجاب اللہ تبارک و تعالیٰ کے جلوؤں کا حامل جلوؤں کے اعتبار سے یہ وصل ہے اور وصل و فرقت آپس میں دو مختلف نقیضین ہیں کہ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ یہیں یہ وصل بھی ہے اور فرقت بھی ہے کہہ رہے ہیں کہ عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے" انتھی [آڈیو ریکارڈنگ تاج الشریعہ]
اب قارئین خود بتائیں جو ناقد صاحب نے اول وہلہ میں چار چیزیں بیان کی تھی کیا ان میں سے کوئی ایک بھی پائی جا رہی ہے
کیا شعر میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی بات ہے؟
کیا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے خدا سے ملاقات کو جنم جنم کے بچھڑے ہوئے دو دوستوں کی ملاقات سے تعبیر کی ہے؟
کیا شعر مذکور کا مفہوم عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہے ؟
کیا شعر مذکور شان رسالت کے منافی ہے؟
مذکورہ تشریحات پڑھنے کے بعد ہر منصف مزاج بے ساختہ پکار اٹھے گا کہ حاشا للہ حاشا للہ ہر گز ہر گز نہیں شعر مذکور تو ناقد کے اختراعات تفہیمات سے بالا تر بے غبار ہے واقع کے مطابق ہے اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو شان رسالت کے خلاف ہو یا عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہو بلکہ یہ تو حجابات اور جلوے اور دید جلوۂ الہی کی بات ہے
اسی لیے اعلی حضرت کی زبان میں یہ کہنا بالکل بجا ہے:
جو کہے شعر و پاسِ شرع، دونوں کا حسن کیونکر آئے
لا اسے پیشِ جلوہ زمزمۂ رضا کہ یوں
[ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ]
تو اب قارئین خود ہی بتائیں کیا مبحوث عنہ مصرع
[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا] کو اعلی حضرت کے فصیح و بلیغ واضح المفہوم شعر کے ساتھ تشبیہ دینا صحیح ہوگا اور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے شعر کی بے تکی تشریح کرنا صحیح ہوگا؟ جب بات نہیں بن پڑ رہی ہے تو اچھے اچھے اشعار ایک مذموم شعر کے تشبیہ دے کر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے خدا خیر کرے!
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
میں نے پہلی قسط میں دلائل و براہین کی روشنی میں وضاحت کے ساتھ لکھا ہے ہے کہ نثر ہو یا نظم اگر کوئی بات کسی صوفی سے حالت جذب میں ادا ہو تو اس پر کوئی حکم نہیں لگے وہ شجرۂ موسی کی طرح ہیں لیکن ان کے کہے ہوئے الفاظ جیسے انا الحق یا اس مفہوم کے اشعار وغیرہ جو خوش ہو کر پڑھے گا جس میں مبحوث عنہ مصرع بھی شامل ہے تو اس پر شریعت حکم ضرور لگے گا ۔
جیسے نثر میں شریعت کا اہتمام ضروری ہے ایسے ہی نظم پڑھنے میں لکھنے میں بھی شرعیت کا اہتمام ضروری ہے جس طرح ممبر رسول پر کھڑے ہو کر کوئی انا الحق کا نعرہ نہیں لگا سکتا ہے یا نثر میں کوئی کفریہ جملہ نہیں بول سکتا ایسے ہی ممبر رسول پر کوئی نظم میں بھی انا الحق یا کوئی اور کفریہ شعر نہیں پڑھ سکتا ہے ورنہ شرعی گرفت ضرور ہوگی
خود اپنے دل سے فیصلہ لیں کیا آپ ممبر رسول پر انا الحق کے نعرے لگانے کی اجازت دیں گے؟
اگر نہیں تو پھر ایسے اشعار پڑھنے کی اجازت کیوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
35
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط پنجم]

مرزا کذاب اور الہامی کتاب

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢