صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
دوسرے قطب: سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ
و حضرت سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

برہان الموحدین شاہ آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

حب اہل بیت دے ”آل محمد“ کے لیے
کر شہیدِ عشقِ حمزہ پیشوا کے واسطے (آمین)
سید آل محمد امام الرشید
گلِ روضِ ریاضت پہ لاکھوں سلام
(✍🏻: سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان)
نام و نسب:
آپ کا نام سید شاہ ”آل محمد“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ کنیت ابوالبرکات ہے۔ القاب: سرکار کلاں، برہان الموحدین، قدوۃ العارفین، اسوۃ الواسلین ہیں۔ حضور برہان الموحّدین رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں دوسرے قطب ہیں جن کی بشارت پیرانِ پیر، روشن ضمیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دی تھی۔ سرکار شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے برادر کا نام سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ ہے۔
ولادت مبارکہ:
حضور برہان الموحّدین رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی ولادت مبارکہ ١٨؍رمضان المبارک ؁١١١١ھ بروز جمعرات بمقام بلگرام شریف ہوئی۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سنِ تولد ”ظہور“ سے نکالا اور سید خیراللہ بلگرامی نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ ان ابیات میں تاریخِ ولادت کہی:
از بسکہ زشادیش بیالد ہر کس
چسپاں شدہ جامہائے مردم ببدن
تاریخِ تولدش چو بستم از دل
”حق حافظ او باد“ خرد گفت بمن
اجازت و خلافت:
بیعت و اجازت و خلافت والد ماجد حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہے۔ علاوہ اس کے سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی قدس سرہ العزیز سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہوئی۔
فضائل:
سرکارِ کلاں حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلسلۂ عالیہ قادریہ کے چونتیسویں امام و شیخِ طریقت ہیں۔ پوری زندگی بزرگوں کے سائے میں اور ان سے فیض حاصل کرنے میں گزری۔ والد ماجد کے نہایت چہیتے فرزند۔ عادات و اخلاق میں اپنے اسلاف کے صحیح ترجمان۔
سجادہ نشینی:
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہی حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا۔ اگر کوئی طالب آپ کے پدر بزرگوار حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں پہنچتا تو سرکار برکت اللہ عشقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے: آل محمد کے پاس جاؤ اس نے میرے سر سے بہت سا بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور راحت بخشی ہے۔ پھر حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام خدماتِ راہِ سلوک و معرفت اپنے شہزادے کو ہی عطا فرما دی۔ حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اکثر و بیشتر وقت کتبِ تصوف بالخصوص والد ماجد کی کتابوں کے مطالعے میں گزرتا تھا۔
وقت سجادگی شاہ آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف ٣٠؍سال تھی۔ خاندانی روایت کے مطابق حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی چہلم کے روز ؁١١٤٢ھ میں حضور آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سجادہ نشین بنے۔
عبادت و ریاضت:
عبادت و ریاضت کو جس پر ناز ہو سرکار آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ ان بزرگوں میں سے ہیں۔ سرکار آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی عبادت و ریاضت اور مجاہدہ اور سلوک کی راہیں پانے والی مشقت کسی نے نہ فرمائی۔ ١٨؍سال عبادات میں مشغول رہے، تین سال مکمل اعتکاف فرمایا۔ جو کی روٹی سے افطار فرماتے۔ کبھی باجرہ کی خشک روٹی تناول فرماتے۔ روایت میں آتا ہے کہ عبادات کی وجہ سے سر مبارک میں گڑھا پڑ گیا تھا اور تالو تک گر گیا تھا۔
حضور حمزہ عینی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت زیادہ محبت تھی، یہاں تک کہ شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی شرعی بنا پر نماز میں باجماعت شریک نہ ہو پاتے تو حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے: آج مجھے نماز میں حلاوت نہ ملی۔“
بے نیازی شان:
حضور آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں۔ جو یادِ الٰہی کی خواہش لے کر آتا وہ یاد الٰہی کی لذت حاصل کرکے لوٹتا۔
حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان بے نیازی و استغناء کا یہ عالم تھا کہ بادشاہوں اور نوابوں سے اکثر دور رہتے اور ان کو اپنے پاس تک آنے نہیں دیتے۔ نواب نجیب الدولہ و نواب علی محمد خان، نواب نمازی الدین خاں عماد الملک اور نواب عبد المنصور خال صفدر جنگ شابان عهد نے ہر چند کوشش کی کہ انہیں قدمبوسی یا کم از کم ندرانے بھیجنے کی اجازت مل جائے مگر آپ صاف کہدیا کرتے کہ فقیر یہیں سے دعا کر رہا ہے، آنے کی ضرورت نہیں البتہ نواب احمد خاں غالب جنگ والی فرخ آباد ساخته پرداخته اسی سرکار کا تھا، اس لئے وہ دعا کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
آپ کی دعا سے بادشاہی کا حصول
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ آپ دنیا دار حکمرانوں، نوابوں اور امراء کو اپنی خدمتِ اقدس میں بآسانی حاضری کا موقع نہیں دیتے تھے۔ تاہم بعض خوش نصیب افراد ایسے بھی تھے جنہیں خصوصی سعادت نصیب ہو جاتی تھی۔ انہی میں ایک نواب احمد خاں غالب جنگ بھی تھے، جن کے بارے میں اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ کبھی فرخ آباد کے فرمانروا بنیں گے۔
ایک مرتبہ نواب احمد خاں غالب جنگ نے بڑی کوششوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد بارگاہِ عالیہ میں حاضری کی سعادت حاصل کی اور حضور سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دعا کی درخواست کی۔ آپ نے شفقت فرماتے ہوئے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ قدرتِ الٰہی سے اس دعا کی ایسی برکت ظاہر ہوئی کہ وہی احمد خاں غالب جنگ بعد میں فرخ آباد کے والی اور حکمران بن گئے۔
اس عظیم نعمت اور روحانی احسان کے اعتراف میں نواب احمد خاں غالب جنگ نے 1185ھ میں ایک شاندار درگاہ اور عظیم الشان خانقاہ کی تعمیر کروائی۔ مزید برآں خانقاہ کے اخراجات کے لیے بارہ مسلم آباد دیہات وقف کر دیے اور چار سو روپے سالانہ نذرانہ بھی مقرر کیا تاکہ خانقاہی نظام احسن طریقے سے جاری رہ سکے۔ بعد ازاں 1189ھ میں نے بھی عقیدت و احترام کے اظہار کے طور پر پانچ مزید گاؤں عطا کیے اور انہیں خانقاہ کے نذرانے میں شامل کر دیا۔ اس طرح مختلف ادوار میں سلاطین، نوابوں اور امراء کی جانب سے مجموعی طور پر پچیس گاؤں وقف و نذر کیے گئے۔
ان جائیدادوں اور اوقاف کی آمدنی کا مقصد یہ تھا کہ درگاہ و خانقاہ کے انتظامات، مہمان نوازی، دینی خدمات اور دیگر مذہبی و اصلاحی امور خوش اسلوبی سے انجام پاتے رہیں اور کسی قسم کی معاشی دشواری ان مقدس خدمات کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
چند مشہور خلفاء: سید شاہ حمزہ عینی، سید شاہ محمد حقانی، سید بزرگ مارہروی، حضرت مفتی جلال الدین، حضرت شاہ محمد شاکر، شاہ ظہور اللہ کشمیری، شاہ واصل، شاہ عبدالہادی، سید فخر الدین احمد، شاہ رحمت اللہ، شاہ غلام اترولوی، شاہ حفظ اللہ، شاہ بیرنگ مخدوب علیہم الرحمۃ والرضوان۔
چند مشہور کارنامے: سرکار آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ طالبوں کو علومِ ظاہر و باطن سے آراستہ فرماتے، حضور صاحب البرکات کے متوسلین کے مجاہدوں کی تکمیل کرتے، سرکار آل محمد قدس سرہٗ کی ہی دعا سے نواب احمد بخش فرخ آباد کا والی بنا، پورے ١٨؍سال تک مجاہدہ فرمایا اور تین سال تک معتکف رہے۔
وصالِ ظاہری:
حضور برہان الموحّدین سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا ظاہری وصال ١٦؍رمضان المبارک ؁١١٦٣ھ بروز پیر مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ قطعہ تاریخ:
چراغِ آل عبا شمع دودمانِ علا
فزودہ جلوۂ او رونق حریم بہشت
انا دہ کرد بمن سال رحلتش ہاتف
نصیب آل محمد بود نعیم بہشت
حضور نظؔمی میاں علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
شاہ آل محمد از دنیا
نقل فرمود سوئے دارِ جناں
گفت تاریخ وصل ہاتف غیب
شمس گردید زیرِ ابرِ نہاں
مزار شریف: حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ سے داہنی طرف شاہ حمزہ عینیؔ قدس سرہٗ کے روزے کے بعد ایک الگ کمرہ ہے جہاں تین مزارات ہیں، درمیان حضور آل محمد رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ آرام فرما ہیں۔
زوجہ و اولادِ امجاد:
حضرت سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا نکاح حضرت سیدہ غنیمت فاطمہ بنت حضرت سید شاہ عظمت اللّٰه بن سید میر محمد اویس رضی اللّٰه تعالیٰ عنہم (یعنی چچازاد بہن) سے ہوا۔ سیدنا سرکار کلاں رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے دو شہزادے ہوئے: (١) حضرت سید شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ و (٢) حضرت سید شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ۔

حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ

آپ کا نام حضرت سید ”نجات اللہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے اور حضور برہان الموحّدین رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔
ولادت: ٢٥؍جمادی الآخر ؁١١١٧ھ بلگرام شریف میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔
والد ماجد سے علوم حاصل کیے۔ اپنے بھائی کی مرضی سے سجادہ نشین بھی مقرر ہوئے اور اپنی الگ سرکار منتخب فرمائی جو چھوٹی سرکار کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اس میں مسجد و خانقاہ بھی بنائی۔ بہت زیادہ اچھی عادتوں کے مالک تھے، حَسین و جمیل تھے۔
نکاح و اولادِ امجاد: حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ قدس سرہٗ کا نکاح سید لطف اللہ بن سید کافی کی تیسری شہزادی سے ہوا۔ جن سے دو شہزادے سید شاہ ایمان عرف شاہ گدا اور سید شاہ مقبول عالم عرف شاہ سوندھا اور ایک شہزادی بوبو صاحبہ ہوئیں جو اپنے بڑے چچا کے چھوٹے شہزادے حضرت سید شاہ حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے منسوب تھیں مگر نکاح کی نوبت نہ آئی اور طبعی عمر کو پہنچ کر انتقال کیا۔
وصالِ ظاہری: سید شاہ نجات اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا وصال ۲۹؍شعبان ؁١١٩٠ھ میں ہوا۔ مزار شریف: اور اپنے بڑے بھائی حضرت سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔

سید ایمان عرف شاہ گدا علیہ الرحمۃ

حضرت سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ کی ولادت ؁١١٣٨ھ میں ہوئی۔ آپ کا نکاح سید عظیم الدین بن سید نجابت بن سید عبد اللّٰہ کی بیٹی سے ہوا اور دو صاحبزادے سید شاہ برکات بخش بھکاری صاحب اور سید شاه نجات بخش فقیر صاحب پیدا ہوئے۔

سید شاہ مقبول عالم عرف شاه سوندھا علیہ الرحمۃ

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ ولادت ؁١١٤٠ھ میں ہوئی۔ آپ کا نکاح سید محمد یحییٰ بن سید محبوب اللّٰہ کی تیسری صاحبزادی سے ہوا جن سے ایک صاحبزادے سید مخدوم عالم پیارے صاحب اور ایک صاحبزادی پیدا ہوئیں۔
✍️: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
دوسرے قطب: سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ
و حضرت سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

برہان الموحدین شاہ آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

حب اہل بیت دے ”آل محمد“ کے لیے
کر شہیدِ عشقِ حمزہ پیشوا کے واسطے (آمین)
سید آل محمد امام الرشید
گلِ روضِ ریاضت پہ لاکھوں سلام
(✍🏻: سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان)
نام و نسب:
آپ کا نام سید شاہ ”آل محمد“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ کنیت ابوالبرکات ہے۔ القاب: سرکار کلاں، برہان الموحدین، قدوۃ العارفین، اسوۃ الواسلین ہیں۔ حضور برہان الموحّدین رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں دوسرے قطب ہیں جن کی بشارت پیرانِ پیر، روشن ضمیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دی تھی۔ سرکار شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے برادر کا نام سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ ہے۔
ولادت مبارکہ:
حضور برہان الموحّدین رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی ولادت مبارکہ ١٨؍رمضان المبارک ؁١١١١ھ بروز جمعرات بمقام بلگرام شریف ہوئی۔ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سنِ تولد ”ظہور“ سے نکالا اور سید خیراللہ بلگرامی نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ ان ابیات میں تاریخِ ولادت کہی:
از بسکہ زشادیش بیالد ہر کس
چسپاں شدہ جامہائے مردم ببدن
تاریخِ تولدش چو بستم از دل
”حق حافظ او باد“ خرد گفت بمن
اجازت و خلافت:
بیعت و اجازت و خلافت والد ماجد حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہے۔ علاوہ اس کے سید العارفین شاہ لدھا بلگرامی قدس سرہ العزیز سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہوئی۔
فضائل:
سرکارِ کلاں حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلسلۂ عالیہ قادریہ کے چونتیسویں امام و شیخِ طریقت ہیں۔ پوری زندگی بزرگوں کے سائے میں اور ان سے فیض حاصل کرنے میں گزری۔ والد ماجد کے نہایت چہیتے فرزند۔ عادات و اخلاق میں اپنے اسلاف کے صحیح ترجمان۔
سجادہ نشینی:
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں ہی حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا۔ اگر کوئی طالب آپ کے پدر بزرگوار حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں پہنچتا تو سرکار برکت اللہ عشقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے: آل محمد کے پاس جاؤ اس نے میرے سر سے بہت سا بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور راحت بخشی ہے۔ پھر حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام خدماتِ راہِ سلوک و معرفت اپنے شہزادے کو ہی عطا فرما دی۔ حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اکثر و بیشتر وقت کتبِ تصوف بالخصوص والد ماجد کی کتابوں کے مطالعے میں گزرتا تھا۔
وقت سجادگی شاہ آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف ٣٠؍سال تھی۔ خاندانی روایت کے مطابق حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی چہلم کے روز ؁١١٤٢ھ میں حضور آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سجادہ نشین بنے۔
عبادت و ریاضت:
عبادت و ریاضت کو جس پر ناز ہو سرکار آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ ان بزرگوں میں سے ہیں۔ سرکار آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی عبادت و ریاضت اور مجاہدہ اور سلوک کی راہیں پانے والی مشقت کسی نے نہ فرمائی۔ ١٨؍سال عبادات میں مشغول رہے، تین سال مکمل اعتکاف فرمایا۔ جو کی روٹی سے افطار فرماتے۔ کبھی باجرہ کی خشک روٹی تناول فرماتے۔ روایت میں آتا ہے کہ عبادات کی وجہ سے سر مبارک میں گڑھا پڑ گیا تھا اور تالو تک گر گیا تھا۔
حضور حمزہ عینی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ”حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت زیادہ محبت تھی، یہاں تک کہ شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی شرعی بنا پر نماز میں باجماعت شریک نہ ہو پاتے تو حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے: آج مجھے نماز میں حلاوت نہ ملی۔“
بے نیازی شان:
حضور آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں۔ جو یادِ الٰہی کی خواہش لے کر آتا وہ یاد الٰہی کی لذت حاصل کرکے لوٹتا۔
حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان بے نیازی و استغناء کا یہ عالم تھا کہ بادشاہوں اور نوابوں سے اکثر دور رہتے اور ان کو اپنے پاس تک آنے نہیں دیتے۔ نواب نجیب الدولہ و نواب علی محمد خان، نواب نمازی الدین خاں عماد الملک اور نواب عبد المنصور خال صفدر جنگ شابان عهد نے ہر چند کوشش کی کہ انہیں قدمبوسی یا کم از کم ندرانے بھیجنے کی اجازت مل جائے مگر آپ صاف کہدیا کرتے کہ فقیر یہیں سے دعا کر رہا ہے، آنے کی ضرورت نہیں البتہ نواب احمد خاں غالب جنگ والی فرخ آباد ساخته پرداخته اسی سرکار کا تھا، اس لئے وہ دعا کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
آپ کی دعا سے بادشاہی کا حصول
حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ آپ دنیا دار حکمرانوں، نوابوں اور امراء کو اپنی خدمتِ اقدس میں بآسانی حاضری کا موقع نہیں دیتے تھے۔ تاہم بعض خوش نصیب افراد ایسے بھی تھے جنہیں خصوصی سعادت نصیب ہو جاتی تھی۔ انہی میں ایک نواب احمد خاں غالب جنگ بھی تھے، جن کے بارے میں اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ کبھی فرخ آباد کے فرمانروا بنیں گے۔
ایک مرتبہ نواب احمد خاں غالب جنگ نے بڑی کوششوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد بارگاہِ عالیہ میں حاضری کی سعادت حاصل کی اور حضور سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دعا کی درخواست کی۔ آپ نے شفقت فرماتے ہوئے ان کے حق میں دعا فرمائی۔ قدرتِ الٰہی سے اس دعا کی ایسی برکت ظاہر ہوئی کہ وہی احمد خاں غالب جنگ بعد میں فرخ آباد کے والی اور حکمران بن گئے۔
اس عظیم نعمت اور روحانی احسان کے اعتراف میں نواب احمد خاں غالب جنگ نے 1185ھ میں ایک شاندار درگاہ اور عظیم الشان خانقاہ کی تعمیر کروائی۔ مزید برآں خانقاہ کے اخراجات کے لیے بارہ مسلم آباد دیہات وقف کر دیے اور چار سو روپے سالانہ نذرانہ بھی مقرر کیا تاکہ خانقاہی نظام احسن طریقے سے جاری رہ سکے۔ بعد ازاں 1189ھ میں نے بھی عقیدت و احترام کے اظہار کے طور پر پانچ مزید گاؤں عطا کیے اور انہیں خانقاہ کے نذرانے میں شامل کر دیا۔ اس طرح مختلف ادوار میں سلاطین، نوابوں اور امراء کی جانب سے مجموعی طور پر پچیس گاؤں وقف و نذر کیے گئے۔
ان جائیدادوں اور اوقاف کی آمدنی کا مقصد یہ تھا کہ درگاہ و خانقاہ کے انتظامات، مہمان نوازی، دینی خدمات اور دیگر مذہبی و اصلاحی امور خوش اسلوبی سے انجام پاتے رہیں اور کسی قسم کی معاشی دشواری ان مقدس خدمات کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
چند مشہور خلفاء: سید شاہ حمزہ عینی، سید شاہ محمد حقانی، سید بزرگ مارہروی، حضرت مفتی جلال الدین، حضرت شاہ محمد شاکر، شاہ ظہور اللہ کشمیری، شاہ واصل، شاہ عبدالہادی، سید فخر الدین احمد، شاہ رحمت اللہ، شاہ غلام اترولوی، شاہ حفظ اللہ، شاہ بیرنگ مخدوب علیہم الرحمۃ والرضوان۔
چند مشہور کارنامے: سرکار آل محمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ طالبوں کو علومِ ظاہر و باطن سے آراستہ فرماتے، حضور صاحب البرکات کے متوسلین کے مجاہدوں کی تکمیل کرتے، سرکار آل محمد قدس سرہٗ کی ہی دعا سے نواب احمد بخش فرخ آباد کا والی بنا، پورے ١٨؍سال تک مجاہدہ فرمایا اور تین سال تک معتکف رہے۔
وصالِ ظاہری:
حضور برہان الموحّدین سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا ظاہری وصال ١٦؍رمضان المبارک ؁١١٦٣ھ بروز پیر مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ قطعہ تاریخ:
چراغِ آل عبا شمع دودمانِ علا
فزودہ جلوۂ او رونق حریم بہشت
انا دہ کرد بمن سال رحلتش ہاتف
نصیب آل محمد بود نعیم بہشت
حضور نظؔمی میاں علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
شاہ آل محمد از دنیا
نقل فرمود سوئے دارِ جناں
گفت تاریخ وصل ہاتف غیب
شمس گردید زیرِ ابرِ نہاں
مزار شریف: حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ سے داہنی طرف شاہ حمزہ عینیؔ قدس سرہٗ کے روزے کے بعد ایک الگ کمرہ ہے جہاں تین مزارات ہیں، درمیان حضور آل محمد رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ آرام فرما ہیں۔
زوجہ و اولادِ امجاد:
حضرت سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا نکاح حضرت سیدہ غنیمت فاطمہ بنت حضرت سید شاہ عظمت اللّٰه بن سید میر محمد اویس رضی اللّٰه تعالیٰ عنہم (یعنی چچازاد بہن) سے ہوا۔ سیدنا سرکار کلاں رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے دو شہزادے ہوئے: (١) حضرت سید شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ و (٢) حضرت سید شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ۔

حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ

آپ کا نام حضرت سید ”نجات اللہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے شہزادے اور حضور برہان الموحّدین رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔
ولادت: ٢٥؍جمادی الآخر ؁١١١٧ھ بلگرام شریف میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔
والد ماجد سے علوم حاصل کیے۔ اپنے بھائی کی مرضی سے سجادہ نشین بھی مقرر ہوئے اور اپنی الگ سرکار منتخب فرمائی جو چھوٹی سرکار کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اس میں مسجد و خانقاہ بھی بنائی۔ بہت زیادہ اچھی عادتوں کے مالک تھے، حَسین و جمیل تھے۔
نکاح و اولادِ امجاد: حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ قدس سرہٗ کا نکاح سید لطف اللہ بن سید کافی کی تیسری شہزادی سے ہوا۔ جن سے دو شہزادے سید شاہ ایمان عرف شاہ گدا اور سید شاہ مقبول عالم عرف شاہ سوندھا اور ایک شہزادی بوبو صاحبہ ہوئیں جو اپنے بڑے چچا کے چھوٹے شہزادے حضرت سید شاہ حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے منسوب تھیں مگر نکاح کی نوبت نہ آئی اور طبعی عمر کو پہنچ کر انتقال کیا۔
وصالِ ظاہری: سید شاہ نجات اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا وصال ۲۹؍شعبان ؁١١٩٠ھ میں ہوا۔ مزار شریف: اور اپنے بڑے بھائی حضرت سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔

سید ایمان عرف شاہ گدا علیہ الرحمۃ

حضرت سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ کی ولادت ؁١١٣٨ھ میں ہوئی۔ آپ کا نکاح سید عظیم الدین بن سید نجابت بن سید عبد اللّٰہ کی بیٹی سے ہوا اور دو صاحبزادے سید شاہ برکات بخش بھکاری صاحب اور سید شاه نجات بخش فقیر صاحب پیدا ہوئے۔

سید شاہ مقبول عالم عرف شاه سوندھا علیہ الرحمۃ

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضرت سید شاہ نجات اللّٰہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ ولادت ؁١١٤٠ھ میں ہوئی۔ آپ کا نکاح سید محمد یحییٰ بن سید محبوب اللّٰہ کی تیسری صاحبزادی سے ہوا جن سے ایک صاحبزادے سید مخدوم عالم پیارے صاحب اور ایک صاحبزادی پیدا ہوئیں۔
✍️: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
86
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 28
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

سفر بلگرام کچھ یادیں کچھ باتیں

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢