صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
جنگِ آزادی میں علمائے اہلِ سنت کا کردار
احوال وطن

جنگِ آزادی میں علمائے اہلِ سنت کا کردار

✍️ Tauqeer Raza Ashrafi

جنگِ آزادی میں علمائے اہلِ سنت کا کردار
جنگ ازادی ہندوستانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،15 اگست 1947 عیسوی کو عرصہ دراز تک انگریز کی غلامی میں رہنے کے بعد علمائے کرام کی محنت و مشقت اور قائدانہ کردار کے سبب ہمارا دیش انگریزوں کے چنگل سے ازاد ہوا۔ تب سے لے کر آج تک جشن ازادی کی خوشی منائی جاتی ہے، پورے ملک کو ان دنوں میں دلہن کی طرح آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے افسوس! کیا اپ نے کبھی تأمل کیا کہ جنگ ازادی میں شرکت فرمانے والے کتنے مسلمان تھے؟ شاید کبھی نہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ کن کن علمائے کرام نے حصہ لیا واے رے حسرتاں دیگر حضرات کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے افسوس صد افسوس ہمارے ان علمائے اہل سنت کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ جنہوں نے صرف جنگ ازادی میں شرکت ہی نہیں فرمائی بلکہ اپنی پیاری سی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ بھارت کے مسلمانوں نے اپنی قوم اپنے ملک وطن کی ازادی کی خاطر جانوں کی قربانیاں بھی دیں جب انگریز کا تسلط پورے ہندوستان پر ہوا تب انگریزوں کو سات سمندر پار واپس بھیجنے کا معاملہ ایا تو مسلمانوں نے اپنا تن من دھن سب کچھ داؤ پر لگا دیا حضرت علامہ فضل حق خیرابادی نے سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا۔ علماء سے فرضیت جہاد پر فتوی لیا ،جس پر اسی وقت دہلی کے 33 علمائے حق نے فتوی پر دستخط تحریر کیے، جن کے نتیجے میں 1857 عیسوی کی جنگ ازادی رونما ہوئی، جسے انگریزوں نے غدر کہا ،جس میں مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت شامل تھی ،جن میں اکابر علمائے کرام کو ظلم و تشدد سے دوچار کر دیے، دیش کی ازادی میں جن علماے اہل سنت نے حصہ لیا ان کا نام تک بھلا دیا جاتا ہے ۔
(١) علامہ فضل حق خیرابادی(متولد 1212ھ /1797ء متوفی 1278ھ /1861ء فرزند علامہ فضل امام فاروق خیر ابادی صدر الصدور دہلی ..
علامہ فضل ہے خیرابادی نے 13 سال کی عمر میں تکمیل علوم و فنون کے بعد درس و تدریس میں مصروف ہو گئے ، 1815 عیسوی میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی ،درس و تدریس تصنیف و تالیف کا سلسلہ آپ نے برابر جاری رکھا جس کی شہادت اپ کی کتب و رسائل اور مقتدر شاگردوں سے ملتی ہے، علامہ جب بریلی سے 14 ہزار فوج لے کر دہلی پہنچے تو منشی ذکاء اللہ کے بیان کے مطابق جامع مسجد دہلی میں بعد نماز جمعہ علمائے کرام کے سامنے تقریر کی اور انگریز کے خلاف جہاد کا فتوی جاری کیے اس فتوی کے شائع ہوتے ہی ملک میں عام سورش بڑھ گئی ۔
انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی اپ کے اشارہ پر تیار ہوا اور اس پر اپ کے دستخط تھے۔ کردار اتنا بلند تھا کہ اس جرم کی پاداش میں جب مقدمہ چلا تو گواہ بھی اسے ثابت نہ کر سکے مگر علامہ نے خود اس کا اقرار کر لیا اس حق گوئی کی بنا پر جزیرۂ انڈمان بھیجے گئے اور وہیں وفات پائی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
(٢) علامہ صدر الدین ازردہ دہلوی کے اباؤ اجداد کشمیر کے تھے مگر اپ کی ولادت دہلی میں ہوئی مفتی صدر الدین ازردہ دہلوی تمام علوم و فنون میں ید طولی رکھتے تھے، درس بھی دیتے تھے۔ آپ 1827 سے 1857 تک دہلی کے صدر امین اور صدر الصدور رہے ۔اپ کا دولت کدہ اس وقت کے علماء اور فضلا و ادبا و شعرا کا مرکز تھا۔اپ ایک طرف عالم دین تھے تو دوسری طرف ابروے شہر تھے۔ اپ کی بصیرت و قیادت اور علمی استعداد کا سکہ پورے ملک میں قائم تھا۔
مفتی ازردہ دہلی کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ تقریبا 1846ء میں انہوں نے اپنے خط کے ساتھ مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی (متوفی 1247ھ/1858 ء کو اگرہ بھیجا ،جہاں انہوں نے مجلس علماء قائم کر کے انگریز سے ہندوستان کو پاک کرنے کی مسلسل ترغیب دلائی اور انقلاب 1857 عیسوی میں ان علماء نے مختلف میدان میں انگریزوں سے جم کر مقابلہ کیا 81 سال کی عمر میں 24 ربیع الاول 128 ہجری 16 جولائی 1868 عیسوی میں دہلی کے اندر مفتی ازردہ جان بحق ہو گئے اور چراغ دہلی میں اپ کو سپرد خاک کیا گیا انا للہ وانا الیہ راجعون
(٣) مولانا شاہ احمد اللہ مدراسی رحمت اللہ علیہ کو ہی دیکھ لیں اپ عالم ہی نہیں شیخ طریقت بھی تھے اپ کے ہزاروں مریدین تھے اپ نے اپنے بے شمار مریدین کو اکٹھا کیا سب کو فوجی ترتیب دی انگریزوں کے خلاف جہاد کیا جہاد کرتے کرتے لکھنؤ پہنچ گئے ادھا لکھنو پر قابض بھی ہوئے لیکن یہاں پھر وہی معاملہ ایا کہ ایک نااہل شخص کو جو انگریزوں کے ساتھ مل چکا تھا اس کی وجہ سے مولانا کو ادھے مقبوضہ لکھنو سے بھی ہاتھ دھونا پڑا اور اپ شیدا ہو گئے
(٤) مفتی عنایت احمد کا کوروی رحمت اللہ علیہ بیوا میں پیدا ہوئے دیوا اور کاکوروی میں ابتدائی تعلیم کے بعد رام پور پہنچ کر مختلف علوم و فنون کی تعلیم حاصل کی مفتی عنایت صاحب بھی اہل سنت والجماعت کے جلیل القدر عالم دین گزرے ہیں اپ نے قیام بریلی کے دوران انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا تھا وہی فتوی بغاوت سرد ہونے کے بعد جب انگریزوں تک پہنچا تھا تو انگریزوں نے اپ کو بھی گرفتار کر لیا اور کالا پانی کی سزا دی اپ کالا پانی میں ہی علم الصیغہ کی تصنیف فرمائی جو اب بھی درس میں پڑھائی جاتی ہے
(٥) مولانا سید کفایت علی کافی مراد ابادی خانوادہ سادات سے تھے علمائ بدایوں و بریلی سے اقتصاب علم کیا جنگ ازادی 1897 1857 عیسوی میں مرد دانہ وار حصہ لیا مراد اباد کے صدر الشریعہ بنائے گئے اپ کی کئی تصنیفات ہیں مثلا ترجمہ شمائل ترمذی مجموعہ چہل حدیث نسیم میں جنت نسیم جنت ہوں گے مولود بہار جذبہ عشق دیوان کافی اپ کی نعتیہ شاعری اور جذبہ عشق کے رسول میں کو اپ کی نعتیہ شاعری اور جذبہ عشق رسول کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے امام احمد رضا بریلوی کہتے ہیں
مہکا ہے میری بوئے دہن سے عالم
یا نغمہ شیری نہیں تلخی سے بہم
کافی سلطان نعت گویاں ہے رضا
ان شاءاللہ میں وزیراعظم
مولانا سید کفایت علی کافی کو جب انگریزوں نے پھانسی کی سزا دینے کے لیے تختہ دار پر لے گیا تو انہوں نے کہا اپ کی اخری خواہش کیا ہے اپ نے کہا کاغذ اور قلم لاؤ پھر اپ نے عشق میں عشق نبی میں ڈوب کر یہ نعت پاک تحریر کیا ۔
کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا
ہم صفیر و باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی ،سونا چمن رہ جائے گا
جو پڑھے صاحب لولاک کے اوپر درود
اگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہو جائیں گے کافی ولیکن حشر تک
نعت حضرت کا زباں پر سخن رہ جائے گا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہ چند علماے کرام کا تعارف تھا تحریک ازادی میں شرکت کرنے والے علماء کرام کی ایک لمبی فہرست اس مختصر مضمون میں پیش کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے میں نے چند ہی نام پر خامہ فرسائی کی ہے ۔
آزادیِ ہند کی تاریخ میں علمائے کرام کی قربانیوں اور قائدانہ کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس مختصر تحریر میں تحریکِ آزادی میں حصہ لینے والے چند علمائے اہلِ سنت کے کردار اور قربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
از قلم: محمد توقیر رضا اشرفی
جماعت: سابعہ (فاضل اول)
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پورنیہ بہار

جنگِ آزادی میں علمائے اہلِ سنت کا کردار

مضمون نگار: Tauqeer Raza Ashrafi

جنگِ آزادی میں علمائے اہلِ سنت کا کردار
جنگ ازادی ہندوستانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،15 اگست 1947 عیسوی کو عرصہ دراز تک انگریز کی غلامی میں رہنے کے بعد علمائے کرام کی محنت و مشقت اور قائدانہ کردار کے سبب ہمارا دیش انگریزوں کے چنگل سے ازاد ہوا۔ تب سے لے کر آج تک جشن ازادی کی خوشی منائی جاتی ہے، پورے ملک کو ان دنوں میں دلہن کی طرح آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے افسوس! کیا اپ نے کبھی تأمل کیا کہ جنگ ازادی میں شرکت فرمانے والے کتنے مسلمان تھے؟ شاید کبھی نہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ کن کن علمائے کرام نے حصہ لیا واے رے حسرتاں دیگر حضرات کا نام عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے افسوس صد افسوس ہمارے ان علمائے اہل سنت کا نام تک نہیں لیا جاتا۔ جنہوں نے صرف جنگ ازادی میں شرکت ہی نہیں فرمائی بلکہ اپنی پیاری سی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ بھارت کے مسلمانوں نے اپنی قوم اپنے ملک وطن کی ازادی کی خاطر جانوں کی قربانیاں بھی دیں جب انگریز کا تسلط پورے ہندوستان پر ہوا تب انگریزوں کو سات سمندر پار واپس بھیجنے کا معاملہ ایا تو مسلمانوں نے اپنا تن من دھن سب کچھ داؤ پر لگا دیا حضرت علامہ فضل حق خیرابادی نے سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا۔ علماء سے فرضیت جہاد پر فتوی لیا ،جس پر اسی وقت دہلی کے 33 علمائے حق نے فتوی پر دستخط تحریر کیے، جن کے نتیجے میں 1857 عیسوی کی جنگ ازادی رونما ہوئی، جسے انگریزوں نے غدر کہا ،جس میں مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت شامل تھی ،جن میں اکابر علمائے کرام کو ظلم و تشدد سے دوچار کر دیے، دیش کی ازادی میں جن علماے اہل سنت نے حصہ لیا ان کا نام تک بھلا دیا جاتا ہے ۔
(١) علامہ فضل حق خیرابادی(متولد 1212ھ /1797ء متوفی 1278ھ /1861ء فرزند علامہ فضل امام فاروق خیر ابادی صدر الصدور دہلی ..
علامہ فضل ہے خیرابادی نے 13 سال کی عمر میں تکمیل علوم و فنون کے بعد درس و تدریس میں مصروف ہو گئے ، 1815 عیسوی میں سرکاری ملازمت اختیار کر لی ،درس و تدریس تصنیف و تالیف کا سلسلہ آپ نے برابر جاری رکھا جس کی شہادت اپ کی کتب و رسائل اور مقتدر شاگردوں سے ملتی ہے، علامہ جب بریلی سے 14 ہزار فوج لے کر دہلی پہنچے تو منشی ذکاء اللہ کے بیان کے مطابق جامع مسجد دہلی میں بعد نماز جمعہ علمائے کرام کے سامنے تقریر کی اور انگریز کے خلاف جہاد کا فتوی جاری کیے اس فتوی کے شائع ہوتے ہی ملک میں عام سورش بڑھ گئی ۔
انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی اپ کے اشارہ پر تیار ہوا اور اس پر اپ کے دستخط تھے۔ کردار اتنا بلند تھا کہ اس جرم کی پاداش میں جب مقدمہ چلا تو گواہ بھی اسے ثابت نہ کر سکے مگر علامہ نے خود اس کا اقرار کر لیا اس حق گوئی کی بنا پر جزیرۂ انڈمان بھیجے گئے اور وہیں وفات پائی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون
(٢) علامہ صدر الدین ازردہ دہلوی کے اباؤ اجداد کشمیر کے تھے مگر اپ کی ولادت دہلی میں ہوئی مفتی صدر الدین ازردہ دہلوی تمام علوم و فنون میں ید طولی رکھتے تھے، درس بھی دیتے تھے۔ آپ 1827 سے 1857 تک دہلی کے صدر امین اور صدر الصدور رہے ۔اپ کا دولت کدہ اس وقت کے علماء اور فضلا و ادبا و شعرا کا مرکز تھا۔اپ ایک طرف عالم دین تھے تو دوسری طرف ابروے شہر تھے۔ اپ کی بصیرت و قیادت اور علمی استعداد کا سکہ پورے ملک میں قائم تھا۔
مفتی ازردہ دہلی کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ تقریبا 1846ء میں انہوں نے اپنے خط کے ساتھ مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی (متوفی 1247ھ/1858 ء کو اگرہ بھیجا ،جہاں انہوں نے مجلس علماء قائم کر کے انگریز سے ہندوستان کو پاک کرنے کی مسلسل ترغیب دلائی اور انقلاب 1857 عیسوی میں ان علماء نے مختلف میدان میں انگریزوں سے جم کر مقابلہ کیا 81 سال کی عمر میں 24 ربیع الاول 128 ہجری 16 جولائی 1868 عیسوی میں دہلی کے اندر مفتی ازردہ جان بحق ہو گئے اور چراغ دہلی میں اپ کو سپرد خاک کیا گیا انا للہ وانا الیہ راجعون
(٣) مولانا شاہ احمد اللہ مدراسی رحمت اللہ علیہ کو ہی دیکھ لیں اپ عالم ہی نہیں شیخ طریقت بھی تھے اپ کے ہزاروں مریدین تھے اپ نے اپنے بے شمار مریدین کو اکٹھا کیا سب کو فوجی ترتیب دی انگریزوں کے خلاف جہاد کیا جہاد کرتے کرتے لکھنؤ پہنچ گئے ادھا لکھنو پر قابض بھی ہوئے لیکن یہاں پھر وہی معاملہ ایا کہ ایک نااہل شخص کو جو انگریزوں کے ساتھ مل چکا تھا اس کی وجہ سے مولانا کو ادھے مقبوضہ لکھنو سے بھی ہاتھ دھونا پڑا اور اپ شیدا ہو گئے
(٤) مفتی عنایت احمد کا کوروی رحمت اللہ علیہ بیوا میں پیدا ہوئے دیوا اور کاکوروی میں ابتدائی تعلیم کے بعد رام پور پہنچ کر مختلف علوم و فنون کی تعلیم حاصل کی مفتی عنایت صاحب بھی اہل سنت والجماعت کے جلیل القدر عالم دین گزرے ہیں اپ نے قیام بریلی کے دوران انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا تھا وہی فتوی بغاوت سرد ہونے کے بعد جب انگریزوں تک پہنچا تھا تو انگریزوں نے اپ کو بھی گرفتار کر لیا اور کالا پانی کی سزا دی اپ کالا پانی میں ہی علم الصیغہ کی تصنیف فرمائی جو اب بھی درس میں پڑھائی جاتی ہے
(٥) مولانا سید کفایت علی کافی مراد ابادی خانوادہ سادات سے تھے علمائ بدایوں و بریلی سے اقتصاب علم کیا جنگ ازادی 1897 1857 عیسوی میں مرد دانہ وار حصہ لیا مراد اباد کے صدر الشریعہ بنائے گئے اپ کی کئی تصنیفات ہیں مثلا ترجمہ شمائل ترمذی مجموعہ چہل حدیث نسیم میں جنت نسیم جنت ہوں گے مولود بہار جذبہ عشق دیوان کافی اپ کی نعتیہ شاعری اور جذبہ عشق کے رسول میں کو اپ کی نعتیہ شاعری اور جذبہ عشق رسول کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے امام احمد رضا بریلوی کہتے ہیں
مہکا ہے میری بوئے دہن سے عالم
یا نغمہ شیری نہیں تلخی سے بہم
کافی سلطان نعت گویاں ہے رضا
ان شاءاللہ میں وزیراعظم
مولانا سید کفایت علی کافی کو جب انگریزوں نے پھانسی کی سزا دینے کے لیے تختہ دار پر لے گیا تو انہوں نے کہا اپ کی اخری خواہش کیا ہے اپ نے کہا کاغذ اور قلم لاؤ پھر اپ نے عشق میں عشق نبی میں ڈوب کر یہ نعت پاک تحریر کیا ۔
کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا
پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا
ہم صفیر و باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا
بلبلیں اڑ جائیں گی ،سونا چمن رہ جائے گا
جو پڑھے صاحب لولاک کے اوپر درود
اگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا
سب فنا ہو جائیں گے کافی ولیکن حشر تک
نعت حضرت کا زباں پر سخن رہ جائے گا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہ چند علماے کرام کا تعارف تھا تحریک ازادی میں شرکت کرنے والے علماء کرام کی ایک لمبی فہرست اس مختصر مضمون میں پیش کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے میں نے چند ہی نام پر خامہ فرسائی کی ہے ۔
آزادیِ ہند کی تاریخ میں علمائے کرام کی قربانیوں اور قائدانہ کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس مختصر تحریر میں تحریکِ آزادی میں حصہ لینے والے چند علمائے اہلِ سنت کے کردار اور قربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
از قلم: محمد توقیر رضا اشرفی
جماعت: سابعہ (فاضل اول)
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پورنیہ بہار
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Tauqeer Raza Ashrafi

Student - Sabea | Jamiatur Raza
72
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 2
Kalam 0
Tauqeer Raza Ashrafi
زمرہ جات

یوم آزادی اور جماعت اہلسنت کے مجاہدین

تاج الشريعة: حياته وخدماته

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢