صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کوہِ طور کا یادگار سفر
تحقیق و تعاقب

کوہِ طور کا یادگار سفر

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

کوہِ طور کا یادگار سفر
کائنات کا اپنے نظم و نسق کے ساتھ موجود ہونا ہی اس بات کی بین دلیل ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے اور وہ اللہ جل جلالہ کی ذات لا شریک ہے اگر کوئی کائنات کے نشیب و فراز، پہاڑ، پودے، درخت، حیوان، جن، فرشتہ، انسان پر غور و فکر کرے تو ایمان مزید مضبوط ہو جائے اور اس پر ایسے ایسے عجائب کا انکشاف ہو کہ عقل حیران و پریشاں ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ یہ فقط قدرت الہی ہی کا خاصہ ہے ورنہ اس طرح کے عجائب و غرائب کا رونما ہونا ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے ۔
اسی لیے اللہ جل و جلالہ اپنے بندوں سے فرماتا ہے:
﴿أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ۝١٧ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ۝١٨ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ۝١٩ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ۝٢٠﴾ [الغاشية ١٧-٢٠]ترجمۂ کنز الایمان:تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا۔ اور آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا۔ اور پہاڑوں کو کیسے قائم کئے گئے، اور زمین کو کیسے بچھائی گئی۔
اور ان پر غور و خوص کرنے کے لیے زمین کی سیر و سیاحت زیادہ مؤثر ہے اسی لیے اللہ جل جلالہ نے اس کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا :
وَمَاۤ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالࣰا نُّوحِیۤ إِلَیۡهِم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰۤۗ أَفَلَمۡ یَسِیرُوا۟ فِی ٱلۡأَرۡضِ فَیَنظُرُوا۟ كَیۡفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِهِمۡۗ وَلَدَارُ ٱلۡـَٔاخِرَةِ خَیۡرࣱ لِّلَّذِینَ ٱتَّقَوۡا۟ۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ [يوسف ١٠٩]
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا اور بے شک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔ نیز فرمایا: ﴿قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُمۡ سُنَنࣱ فَسِیرُوا۟ فِی ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُوا۟ كَیۡفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِینَ ۝١٣٧﴾ [آل عمران ١٣٧]
ترجمۂ کنز الایمان: تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔
لہذا عبرت و نصیحت کے لیے زمین کی سیر و سیاحت ایک عاقل کے لیے بہت مفید اور کار آمد ہے اگر کسی جگہ عذاب نازل ہوا تو اسے دیکھنے سے دل و دماغ میں خوف طاری ہوگا اور اگر کسی با برکت جگہ کو دیکھا تو اس سے روح فرحت و انبساط سے لبریز ہو جائے گی۔
جن چیزوں میں غور کرنے مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ترغیب ہے ہم دیکھتے ہیں کوہ طور کے سفر میں وہ سب موجود ہے کوہ طور پر عام طور اونٹ بھی دستیاب ہے، طور کی اونچائی اور اس اٹھان وہی اچھی طرح سمجھے گا جو ایک بار کوہ طور کی چوٹی پر گیا ہو نیز کوہ طور سے آسمان کا نظارہ ہی کچھ اور ہے چاند تو ایسا چمکتا ہے جیسے زمین پہ رکھی ہوئی لائٹ ہو اور اگر ایک طرف سے زمین پر رکھے پہاڑوں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے زمین پر پہاڑوں کی میخیں بالترتیب گاڑ دی گئی ہوں۔

کوہ طور ــــــــــــــــ

میری نظر میں کوہ طور کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے اس کی قسم یاد فرمائی نیز اس پر اپنی تجلی کا نزول فرمایا اور یہ ساری برکتیں کوہ طور کو پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے توسل سے حاصل ہوئیں جس کا ذکر درج ذیل قرآنی آیات میں ہے :
وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ [سورۂ طور] ترجمۂ کنز الایمان: طور کی قسم۔اور اس نَوِشْتَہ کی۔ جو کھلے دفتر میں لکھا ہے۔
والتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُورِ سِينِينَ وَهَٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ [سورۂ تین] ترجمۂ کنز الایمان:انجیر کی قسم اور زیتون ۔اور طورِ سینا ۔اور اس امان والے شہر کی ۔
نیز اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
ولَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗۙ-قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ-قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ-فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًاۚ-فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ [آیت ١٤٣ الاعراف]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا عرض کی اے رب میرے مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بے ہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔
ارنیگوئے سر طور سے پوچھے کوئی
کس طرح غش میں گراتا ہے تجلا تیرا
[ذوق نعت]

کوہ طور کی چوٹی تک ـــــــــــــــــــــــ

ہم نے آج تک فقط کتابوں میں کوہ طور کے بارے پڑھا تھا لیکن کبھی حاشیۂ خیال میں بھی نہیں آیا تھا کہ راقم الحروف کو اس مقدس پہاڑ کی زیارت اور اس میں چڑھنے کا شرف حاصل ہوگا لیکن خدا کی قدرت سے کچھ بعید نہیں وہ فقیر کو بادشاہ، بادشاہ کو فقیر بنا دیتا ہے، کہیں پہ جوش لن ترانی، کہیں تقاضے وصال کے ہوتے ہیں، یوسف علیہ السلام کو برسوں بعد یعقوب علیہ السلام سے ملاتا ہے یعنی جس کی امید انسان کو نہیں اسے وہ عطا فرما دیتا ہے بس اسی ذات بابرکت کی رحمت تھی کہ راقم الحروف کا قافلہ شام تقریبا گیارہ بجے کوہ طور کے قدموں کا بوسہ لیا ۔
راقم الحروف ضروریات سے فارغ ہو کر وضو کیا اور ساڑھے گیارہ بجے قافلے والوں سے جا ملا لیکن تب تک زیادہ تر حضرات آگے بڑھ چکے تھے، دو دلیل یعنی راستہ دکھانے والا ایک قافلہ کے آگے آگے اور دوسرا پیچھے پیچھے تھا جو پیچھے تھا اس نے عربی میں کہا کہ آپ کے دو ساتھی ابھی نہیں آئے ہیں آپ لوگ آگے بڑھئے ہم ان دونوں کو لے آئیں گے لیکن پیچھے رہنے والے دونوں حضرات اونٹ پر سوار ہو کر آ گئے جس کی وجہ سے پیچھے والا دلیل پیچھے ہی رہ گیا اور ہم پانچ لوگ بچے جس کے پیچھے بھی کوئی نہیں اور آگے بھی دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا کیونکہ آگے والے حضرات بہت آگے نکل چکے تھے اس پتھریلی راستے کو ہم پانچ افراد ساتھ ساتھ عبور کر رہے تھے
فاضل نوجوان حضرۃ العلام محمد مبشر ازہری مرکزی صاحب جو جامعہ ازہر شریف سے اسی سال کلیہ سے فارغ ہوئے ہیں دوسرے فاضل اجل، شفیق و مہربان حضرت محمد رضا صدیقی عرف محمد میاں مرکزی ازہری تیسرے برادر من عالم و فاضل حضرت محمد شاداب مرکزی ازہری چوتھے رفیق گرامی وقار محمد غفران صاحب پانچواں خود فقیر راقم الحروف تھا۔
کچھ دیر چلنے کے بعد عجیب و غریب آواز سنائی دینے لگی جس سے معلوم ہو رہا تھا یہ کسی خطرناک جانور کی آواز ہے لیکن اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے پھر وہی آواز آنے لگی جس کی وجہ سے اور تیز چلنے لگے لیکن اس ہماہمی میں ہم سب دوسرے راستے پر چل پڑے اور راستہ بھول گئے پہاڑ کا راستہ گھوم گھوم کر بنا ہوا ہے یوں تو اس کی اونچائی زمین سے تقریبا آٹھ ہزار / ٨٠٠٠ فٹ ہے یعنی تقریبا ڈھائی / ٢.٥٠ کلو میٹر لیکن راستے کے گھماؤ کی وجہ سے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے والا راستہ تقریبا چھبیس ہزار \ ٢٦٠٠٠ فٹ یعنی تقریبا آٹھ /٨ کلو میٹر ہو جاتا ہے رات کے پچھلے پہر میں جب راستہ بھول گئے تو فقیر راقم الحروف نے اذان دی اور اس کی برکت سے فورا راستہ مل گیا پھر ہم چل پڑے لیکن چلتے چلتے اس قدر تھک گئے کہ اب پیروں کا کام کرنا بہت مشکل ہو چکا تھا لیکن دلوں میں شوق دید طور مچل رہا تھا کہ کسی طرح پہنچنا ہے اور اس انچائی پہ جانا ہے جہاں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ جل جلالہ سے ہمکلام ہوتے تھے، بس اسی شوق میں پھر آگے بڑھتے، پھر تھک کر بیٹھ جاتے، تھوڑی راحت ملتی کہ پھر چل پڑتے، سانس پھولنے لگی لیکن دم نہیں ہارے اور چلتے رہے بعض اوقات جب زیادہ تھک جاتے تو محمد میاں ایسی باتیں بولتے کہ جس سے روح کو نئی تازگی ملتی پھر چلنے کے لیے تیار ہو جاتے اور چل پڑتے لیکن جسم کی تھکاوٹ برقرار رہنے کی وجہ سے پھر جلد تھک جاتے رات کا پچھلا پہر سنسان پہاڑ پر چلنا یہ جہاں بہت لطف اندوز تھا تو وہیں بہت خوفناک بھی، لیکن مبشر ازہری صاحب کے بھی حوصلہ افزا کلمات ساتھ دیتے اور چلنے کی ہمت بڑھ جاتی آج یہ واقعی پتہ چلا کہ حوصلہ افزا کلمات میں کتنا دم ہوتا ہے کہ بے جان انسان پر بھی جان پڑ جاتی ہے راستے کے بیچ بیچ میں قہوہ خانے بنے ہوئے ہیں ایک دو کلو میٹر کی دوری میں جب وہاں پہنچتے تو ایسا لگتا ہے کہ مرتے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہو۔
اس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ منزل قریب ہے لیکن راستہ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا بہت دور راستہ طے کرنے کے بعد ایک اونٹ والا ملا اس نے کہا کہ اونٹ پر چڑھ جائیے تو اس سے پوچھا کتنا لوگے بولا پانچ سو پاؤنڈ واضح رہے اگر کوئی نیچے سے اونٹ پر چڑھتا ہے تو اونٹ والا آٹھ سو پاؤنڈ لیتا ہے مطلب انڈین تقریبا سولہ سو روپے محمد میاں نے ان سے کہا کہ سو پاؤنڈ دیں گے تو اس نے مذاق میں کچھ کہا اور آگے چلا گیا ویسے بھی ہم لوگوں کو اونٹ پر بیٹھنا نہیں تھا کیونکہ ہم لوگ یہ کہتے ہوئے کوہ طور پر چڑھ رہے تھے کہ طور پہاڑ پر پیدل چڑھنا یہ سنت موسی علیہ السلام ہے اور اونٹ میں بیٹھ جاتے تو یہ سنت ادا نہیں ہوتی دوسری بات یہ کہ اونٹ چوٹی تک نہیں لے جاتا ہے بلکہ تقریبا آٹھ سو سیڑھیاں پہلے ہی چھوڑ دیتا ہے پھر وہاں سے پیدل ہی جانا ہوتا ہے۔
آمدم بر سر مطلب ہم پانچوں کسی نہ کسی طرح آگے بڑھتے رہے راستے میں ایک کیرلا کے رہنے والے سے ملاقات ہوئی جو اونٹ سے سوار ہو کر آئے تھے اور جہاں اونٹ والے نے ان کو چھوڑا تھا وہیں سو گئے تھے ہم نے ان سے پوچھا آگے نہیں چلنا تو وہ بولے ہم تھوڑی دیر بعد جائیں گے لیکن اوپر وہ نظر نہیں آئے اس سے معلوم ہوتا ہے وہ وہیں سے واپس ہو گئے ہوں گے
اب ہمارا جسم بالکل ٹوٹ چکا تھا پیر جواب دے چکا تھا یہاں تک محمد میاں صاحب اپنے پیر پر کپڑے باندھ کر چل رہے تھے تاکہ درد کم ہو لیکن دل کا حوصلہ اب بھی نہیں ٹوٹا تھا ہمارے پیر نہیں اب ہمارے حوصلے کوہ طور کی جانب ہمیں کھینچ کر لے جا رہے تھے لیکن پھر ایک بار ہم راستہ بھول گئے پھر شاداب صاحب نے اذان دی اور پھر فورا ہی راستہ پا گئے اس پہاڑ پہ اپنی آنکھوں سے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتیں دیکھ رہا تھا کہ حدیث میں ہے راستہ بھول جاتے وقت اذان دینے سے راستہ مل جاتا ہے واللہ تاللہ ہم کوہ طور پر راستہ بھولتے اذان دیتے اور راستہ مل جاتا۔
اب کچھ ہی دور کوہ طور کی چوٹی تھی لیکن تھکن ایسی کہ کچھ سیڑھی چڑھتے اور سیڑھی ہی پر آدھا ایک منٹ کے لیے سو جاتے تھے پھر اٹھتے تھوڑی دیر چلتے کہ پھر آدھا ایک منٹ کے لیے سو جاتے اس وقت مجھے یہ شعر یاد آ رہا تھا
گر پڑ کر یہاں پہنچا مر مر کے تجھے پایا
چھوٹے نہ الہی اب سنگ در جانانہ
واقعی حالات ایسے ہی تھے اور سوچ رہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہاں کیسے تشریف لاتے ہوں گے تو اس کا ایک ہی جواب دل سے نکلتا تھا کہ وہ ان کا معجزہ تھا یا ان پر اللہ جل جلالہ سے کلام کرنے کا شوق اتنا غالب تھا کہ یہ مسافت ان کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ سو طور بھی ہوتا تو موسی علیہ السلام اسے بھی پار کر لیتے
پھر نمایاں جو سر طور ہو جلوہ تیرا
آگ لینے کو چلے عاشق شیدا تیرا
[ذوق نعت]
بالآخر ساڑھے گیارہ بجے سے مسلسل چلتے رہے پھر کہیں نیم جان ہو کر تقریبا ساڑھے تین بجے کوہ طور کی چوٹی پر پہنچے

طور کی چوٹی کا حسین منظرــــــــــــــــــــــــ

گرتے، پڑتے، سنبھلتے، پھسلتے ساڑھے تین بجے رات جب کوہ طور کی چوٹی پر پہنچے تو دل کی خوشی کی انتہا نہ رہی ایسا لگا کہ برسوں کی کھوئی ہوئی چیز آج واپس مل گئی جسم و ذہن پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی افکار و خیالات میں موسوی جلال کے نظارے چھائے ہوئے تھے،
پہاڑ کی چوٹی کا موسم بڑا سہانا اور پر لطف موسم تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اس مقام پر جو حضرات آتے ہیں وہ گرم کپڑے یا چادر ساتھ لاتے ہیں تاکہ ٹھنڈی سے بچ سکے لیکن اتفاق سے راقم الحروف چادر تک لے جانا بھول گیا۔
جو وہاں گرم کپڑے ساتھ نہیں لے جاتے ہیں ان کے لیے کرایے میں کمبل کا انتظام رہتا ہے جو کہ فی کمبل سو پاؤنڈ یعنی انڈین تقریبا دو سو روپے میں صرف اوڑھنے کے لیے ملتا ہے اس پر کمبل کی خصوصیت یہ کہ اسے سالوں سے کسی نے دھویا بھی نہیں ہوتا ہے اس سے آپ کمبل کی کیفیت سمجھ سکتے ہیںراقم الحروف نے نہ کمبل کرایے میں لیا نہ کوئی گرم کپڑا پہنا بلکہ موسوی موسم کا پورا پورا لطف اٹھایا
پہاڑ کی چوٹی کے بیچ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی چلہ گاہ ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام عبادت کرتے تھے اس کی بناوٹ سرنگ جیسی ہے اندر کی جانب بیٹھ تو سکتے ہیں لیکن کھڑے نہیں ہو سکتے اور تھوڑا باہر کی جانب آئیں تو ایک شخص کھڑے ہو کر بآرام نماز ادا کر سکتا ہے اور اوپر آسمان کھلا ہوا رہتا ہے یعنی آدھے غار میں چھت ہے اور آدھے میں اس طرح کہ دعا کریں تو نظر کے سامنے آسمان رہتا ہے۔
راقم الحروف مع اپنے رفقا کے چلہ گاہ میں دو رکعت نفل نماز ادا کی اور کچھ دیر دعاؤں میں مشغول رہا جس سے دل و دماغ کو عجیب ہی مسرت و شادمانی حاصل ہوئی ۔فجر کی نماز پڑھ کر مسجد میں کچھ دیر بیٹھ گیا یہ مسجد چلہ گاہ کے اوپر ہے جس میں دس پندرہ لوگ آرام سے نماز پڑھ سکتے ہیں اسی پوربی جانب ایک کلیسا ہے جو مسجد سے کچھ بڑا ہےاس چوٹی پر یہودی، عیسائی بھی آتے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں بھی یہ متبرک جگہ ہے
اس چوٹی پر کھڑے ہونے کے بعد چاروں جانب صرف پہاڑ ہی پہاڑ دکھائی دیتا ہے اور اوپر آسمان اب تھوڑی دیر کے لیے تصور میں ڈوب جائیں اور سوچیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا اس پہاڑ کی چوٹی پر تشریف لے جاتے اور اللہ جل و علا سے ہمکلام ہوتے تو کیا لطف آتا ہوگا کہ وہاں تیسرا کوئی نہیں ہوتا کیا راز و نیاز کی گفتگو ہوئی ہوگی یہ محبوب و محب کی بات ہے محبوب و محب ہی جانے۔
طور پر جلوہ دکھایا ہے تمنائی کو
کون کہتا ہے کہ اپنوں سے ہے پردہ تیرا

جبل موسی، جبل تجلی ــــــــــــــــــــــــ۔

جس پہاڑ کے اوپر عبادت گاہِ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہے اسی کو جبل موسی اور مرکز طور کہتے ہیں اسی پہاڑ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ہمکلام ہوئے تھے
اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کرنے سے پہلے پورے طور کو رحمت کے فرشتوں سے ڈھانک دیا، جتنے جانور وغیرہ تھے کوہ طور سے نکال دیا صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا پہاڑ پر تھے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو فرشتے تھے انھیں بھی ان سے الگ کر کے کوہ طور سے باہر کر دیا اور آسمان کھول دیا گیا یہاں تک حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرش، کرسی سب کو دیکھا بلکہ لوح پر قلم کے چلنے کی آواز بھی سنی ۔
اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا کلام میں ایسی لذت و چاشنی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں دیدار کا شوق پیدا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جل جلالہ سے تمنائے دید الہی کا اظہار کیا تو رب نے فرمایا تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے محبوب نے محبوب سے کسی چیز کی مانگ کی ہے تو محبوب کے دل کی تسکین کے لیے اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے میں اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالتا ہوں اگر پہاڑ سلامت، مستقر رہ جائے تو تم مجھے دیکھ لوگے پھر اللہ جل جلالہ نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی، تجلی پڑتے ہی پہاڑ پاش پاش ہو گیا ریزہ ریزہ ہو گیا موسی علیہ السلام تجلی دیکھ کر کوہ طور پر ہی بے ہوش گئے۔
جس پہاڑ پر تجلی پڑی اس پہاڑ کو جبل تجلی کہتے ہیں لیکن جو حضرات کوہ طور کا سفر کیے ان کو بخوبی معلوم ہے کہ کوہ طور کی چوٹی سے یعنی جبل موسی سے جبل تجلی نظر نہیں آتا ہے یہ بہت نیچے اترنے کے بعد نظر آتا ہے تو فقیر راقم الحروف کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ جل جلالہ نے فرمایا انظر الی الجبل پہاڑ کی طرف دیکھو اب جبل موسی سے پہاڑ تبھی دکھے گا جب پہاڑ اونچا ہوگا یہ برابر ہوگا یا قدرے نیچا ہوگا تاکہ کم از کم دکھ سکے لیکن جبل موسی سے جبل تجلی نہیں دکھتا ہے اس کا مطلب یہ کہ جبل تجلی پہلے اونچا تھا اور حضرت موسی علیہ السلام نے جبل تجلی کو جبل موسی سے دیکھا پھر جب اللہ تعالیٰ کی تجلی پڑی تو جبل تجلی پاش پاش ہو کر بکھر گیا جس کی وجہ سے جبل تجلی اب سیاہ رنگ اور وہاں پر موجود دیگر پہاڑوں کی بنسبت چھوٹا پہاڑ دکھتا ہے وہاں کے بدوی لوگوں سے پوچھنے پر بھی یہی پتہ چلا کہ جبل تجلی وہی ہے جو سیاہ رنگ کا ہے راقم الحروف نے وہاں پہ موجود ارد گرد کے پہاڑوں کو بنظر عمیق دیکھا لیکن جبل تجلی کا رنگ سب سے منفرد پایا جس سے قلب بھی اس بات کی گواہی دیتا کہ یہی وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ جل جلالہ کی تجلی اتری۔
دوسری بات یہ کہ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ جب کوئی یہ دعویٰ کرے مجھے کوئی ہرا نہیں سکتا اور ایک طبقہ یہ کہے کہ تجھے ہرانا بہت آسان ہے تو ظاہر ہے کسی جنگجو کو ہرانے کے لیے جو مقابل منتخب ہوگا کم از کم اس کے پایہ کا ہوگا یا پھر یہ ان لوگوں میں موجود جو تمام پہلوان میں سب سے زیادہ طاقت ور پہلوان ہوگا اسی کو جنگجو کے مقابل بھیجے گا ہر کس و ناکس کو نہیں بھیجے گا کوئی بھی اپنی طاقت کو آزمانے کے لیے کسی کمزور کا نہیں بلکہ کسی طاقت ور کا ہی انتخاب کرے گا یہ تو عقلی باتیں ہیں لیکن بلا تمثیل ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ نے اپنی تجلی جو اتاری تو وہ وہاں موجود بڑے مضبوط پہاڑ پر اتاری تاکہ یہ زیادہ اثر پذیر ہو کہ جب اتنا بڑا مضبوط پہاڑ اللہ جل جلالہ کی تجلی کو برداشت نہ کر سکا تو ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ لیکن واضح رہے کہ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط با حوصلہ با قوت ہیں کیونکہ پہاڑ تجلی برداشت نہیں کر سکا اور پاش پاش ہو کر بکھر گیا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کوئی عضو تلف نہیں ہوا بلکہ آنکھوں کی روشنی اور بڑھ گئی جس کی وجہ سے کوسوں میل دور چیونٹی کو بھی رات کے اندھیرے میں آپ دیکھ لیتے تھے۔
بعض روایات کے مطابق جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور سے واپس ہوئے تو جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے ہوش کر گر جاتا تھا بلکہ بعض دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر جاتا تھا دیکھیے تفسیر نعیمی سُورۃ الاعراف تحت آیت نمبر ١٤٣۔

سورج طلوع ہونے کا حسین منظرـــــــــــــــ

کوہ طور کی چوٹی پر نماز فجر ادا کرنے کے بعد مسجد میں کچھ دیر بیٹھا پھر باہر آ کر سورج طلوع ہونے کا انتظار کرنے لگا سب کی نظریں شفق پر ٹکی ہوئی تھیں بعض مصری بھی سورج کے طلوع ہونے کا حسین منظر دیکھنے کے لیے بے تاب تھے میں نے زندگی میں پہلی بار بادلوں کے اوٹ سے نہیں بلکہ سورج جہاں سے طلوع ہوتا ہے وہاں سے طلوع ہوتے ہوئے دیکھا اور اس پر طرۂ امتیاز یہ کہ جبل موسی پہ کھڑے ہو کر اس حسین منظر کا معاینہ کیا بہت دیر تک تو آسمان کی پوربی لالی پھیلی ہوئی رہی لیکن جب سورج طلوع ہونا شروع ہوا پانچ سے چھ منٹ کے اندر پورا سورج طلوع ہو گیا جب سورج کے طلوع ہونے کا حسین منظر سب نے اپنی نگاہوں سے دیکھ لیا تو اب نیچھے اترنے کی تیاری کرنے لگے۔

طور کی چوٹی سے واپسی ــــــــــــــــــــــ

کوہ طور پر چڑھنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں زیادہ اترنا مشکل ہے کیونکہ چڑھنے میں جسم تھک جاتا ہے لیکن گرنے کا خوف کم ہوتا ہے لیکن اترنے میں ایسا لگتا ہے کہ پیر خود بخود نیچے کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پیر پھسل نہ جائے اگر یہ خوف نکال دیا جائے جیسا کہ راقم الحروف نے نکال دیا تھا تو اترنا بہت آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں تھکاوٹ کم ہوتی ہے اور دن ہونے کی وجہ سے کہیں کہیں راستہ چھوڑ کر بیچ پہاڑ سے ہی اتر جاتے ہیں تاکہ جلدی نیچے اتر جائیں یہ جوکھم بھرا فیصلہ ضرور ہوتا ہے لیکن احتیاط کرنے سے راستہ عبور ہو جاتا ہے۔
پورے پہاڑ میں واحد ایسی جگہ دکھی کہ جہاں دو درخت تھے تھوڑی ہریالی تھی کہنے والوں نے کہا کہ وہاں ایک کنواں بھی ہے لیکن نیچے اتر کر نہیں دیکھا کیونکہ سورج اگر شباب میں آنے لگ جائے تو اترنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ شدت کی دھوپ پڑتی ہے اسی لیے قافلہ رات کو چڑھتا ہے اور صبح ہوتے ہی اتر جاتا ہے ۔

شجرۂ نور ــــــــــــــــــــــــــ

یہ وہ درخت سے جس سے ندا آئی إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ جس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اہلیہ ان کے ساتھ امید سے تھی سخت سردی پڑ رہی تھی آگ لانے کے لیے آگے بڑھے تو ایک درخت میں روشنی دکھائی دی جب اس درخت کے قریب جانے لگے تو درخت سے آواز آئی :
يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي [سورۂ طہ]
ترجمۂ کنز الایمان: اے موسیٰ۔ بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال بیشک تو پاک جنگل طُویٰ میں ہے اور میں نے تجھے پسند کیا اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔
اسی درخت کو شجرۂ نور کہتے ہیں جو کوہ طور کے نیچے ایک کلیسا کے اندر موجود ہے کلیسا اتوار کے علاوہ دن میں ایک گھنٹا کھلا رہتا ہے پھر بند کر دیا جاتا ہے اتفاقا جس دن ہم کوہ طور سے نیچے اترے وہ اتوار کا دن تھا جس کی وجہ سے کلیسا بند تھا پھر ہم دوسری جانب سے اندر پہنچے وہاں ایک اور دروازہ لگا تھا دربان مسلمان تھا اس سے گزارش کی دروازہ تھوڑی دیر کے لیے کھول دیجیے تو اس نے کہا : راہب یعنی پادری بہت سختی سے منع کیا ہوا ہے اس لیے ہم دروازہ نہیں کھول سکتے پھر ہم وہاں سے درخت کی زیارت کیے بغیر واپس آ گئے ہمارے ساتھ حضرۃ العلام محمد مبشر ازہری مرکزی صاحب قبلہ بھی تھے جو اس سے قبل بھی ایک بار آ چکے تھے انھوں نے بتایا کہ اس کے اندر شجرۂ نور بھی ہے بیر موسی یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کنواں بھی ہے ان شاءاللہ تعالیٰ کبھی دوبارہ جانا ہوا تو زیارت ہوگی۔

مزار حضرت ہارون و حضرت صالح علیھما السلام ــــــــــــ

کوہ طور کے نیچے کچھ دوری پر حضرت ہارون علیہ السلام سے منسوب ایک مزار ہے جس میں حاضری کا شرف حاصل ہوا یہ زندگی میں کا پہلا سفر تھا جس میں کسی نبی علیہ السلام کے مزار میں حاضری دینے کا شرف حاصل ہوا قطع نظر اس سے کہ یہ انتساب واقعی صحیح ہے یا نہیں لیکن جب منسوب ہے تو ہم اپنی عقیدت کا مرکز مانتے ہیں اور ہم اس کی ایسے ہی تعظیم کرتے ہیں جیسے ایک نبی علیہ السلام کی بارگاہ کی تعظیم ہوتی ہے ۔
بعدہ بس میں سوار ہوئے کچھ دیر بس چل کر رکی اور کہنے والے نے کہا کہ یہ سڑک کے قریب ہی حضرت صالح علیہ السلام کا مزار شریف ہے فقیر راقم الحروف حضرت صالح علیہ السلام سے منسوب مزار پر حاضری دینے کا شرف حاصل کیا اور فیوض و برکات سے دامن مراد پر کر کے واپس ہوا ۔

خلاصۂ کلام ـــــــــــــ

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ راقم الحروف کو زندگی کا وہ لمحہ میسر ہوا جو کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا کوہ طور جبل موسی، جبل تجلی، چلہ گاہِ موسی، مزار ہارون علیہ السلام، مزار صالح علیہ السلام میں حاضری کا شرف حاصل ہوا رفقاء عظام حضرۃ العلام مبشر ازہری مرکزی، فاضل اجل محمد میاں صدیقی ازہری مرکزی ، فاضل نوجوان محمد شاداب ازہری مرکزی، محب گرامی وقار محمد غفران صاحب کے ساتھ میری زندگی کا یادگار سفر رہا۔
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: قاہرہ مصر

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

کوہِ طور کا یادگار سفر

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

کوہِ طور کا یادگار سفر
کائنات کا اپنے نظم و نسق کے ساتھ موجود ہونا ہی اس بات کی بین دلیل ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے اور وہ اللہ جل جلالہ کی ذات لا شریک ہے اگر کوئی کائنات کے نشیب و فراز، پہاڑ، پودے، درخت، حیوان، جن، فرشتہ، انسان پر غور و فکر کرے تو ایمان مزید مضبوط ہو جائے اور اس پر ایسے ایسے عجائب کا انکشاف ہو کہ عقل حیران و پریشاں ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ یہ فقط قدرت الہی ہی کا خاصہ ہے ورنہ اس طرح کے عجائب و غرائب کا رونما ہونا ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے ۔
اسی لیے اللہ جل و جلالہ اپنے بندوں سے فرماتا ہے:
﴿أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ۝١٧ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ۝١٨ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ۝١٩ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ۝٢٠﴾ [الغاشية ١٧-٢٠]ترجمۂ کنز الایمان:تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا۔ اور آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا۔ اور پہاڑوں کو کیسے قائم کئے گئے، اور زمین کو کیسے بچھائی گئی۔
اور ان پر غور و خوص کرنے کے لیے زمین کی سیر و سیاحت زیادہ مؤثر ہے اسی لیے اللہ جل جلالہ نے اس کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا :
وَمَاۤ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالࣰا نُّوحِیۤ إِلَیۡهِم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰۤۗ أَفَلَمۡ یَسِیرُوا۟ فِی ٱلۡأَرۡضِ فَیَنظُرُوا۟ كَیۡفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِهِمۡۗ وَلَدَارُ ٱلۡـَٔاخِرَةِ خَیۡرࣱ لِّلَّذِینَ ٱتَّقَوۡا۟ۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ [يوسف ١٠٩]
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے تو کیا یہ لوگ زمین میں چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا اور بے شک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔ نیز فرمایا: ﴿قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُمۡ سُنَنࣱ فَسِیرُوا۟ فِی ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُوا۟ كَیۡفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِینَ ۝١٣٧﴾ [آل عمران ١٣٧]
ترجمۂ کنز الایمان: تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔
لہذا عبرت و نصیحت کے لیے زمین کی سیر و سیاحت ایک عاقل کے لیے بہت مفید اور کار آمد ہے اگر کسی جگہ عذاب نازل ہوا تو اسے دیکھنے سے دل و دماغ میں خوف طاری ہوگا اور اگر کسی با برکت جگہ کو دیکھا تو اس سے روح فرحت و انبساط سے لبریز ہو جائے گی۔
جن چیزوں میں غور کرنے مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ترغیب ہے ہم دیکھتے ہیں کوہ طور کے سفر میں وہ سب موجود ہے کوہ طور پر عام طور اونٹ بھی دستیاب ہے، طور کی اونچائی اور اس اٹھان وہی اچھی طرح سمجھے گا جو ایک بار کوہ طور کی چوٹی پر گیا ہو نیز کوہ طور سے آسمان کا نظارہ ہی کچھ اور ہے چاند تو ایسا چمکتا ہے جیسے زمین پہ رکھی ہوئی لائٹ ہو اور اگر ایک طرف سے زمین پر رکھے پہاڑوں کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے زمین پر پہاڑوں کی میخیں بالترتیب گاڑ دی گئی ہوں۔

کوہ طور ــــــــــــــــ

میری نظر میں کوہ طور کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے اس کی قسم یاد فرمائی نیز اس پر اپنی تجلی کا نزول فرمایا اور یہ ساری برکتیں کوہ طور کو پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے توسل سے حاصل ہوئیں جس کا ذکر درج ذیل قرآنی آیات میں ہے :
وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ [سورۂ طور] ترجمۂ کنز الایمان: طور کی قسم۔اور اس نَوِشْتَہ کی۔ جو کھلے دفتر میں لکھا ہے۔
والتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُورِ سِينِينَ وَهَٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ [سورۂ تین] ترجمۂ کنز الایمان:انجیر کی قسم اور زیتون ۔اور طورِ سینا ۔اور اس امان والے شہر کی ۔
نیز اللہ جل جلالہ نے فرمایا:
ولَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗۙ-قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ-قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ-فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًاۚ-فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ [آیت ١٤٣ الاعراف]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا عرض کی اے رب میرے مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بے ہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔
ارنیگوئے سر طور سے پوچھے کوئی
کس طرح غش میں گراتا ہے تجلا تیرا
[ذوق نعت]

کوہ طور کی چوٹی تک ـــــــــــــــــــــــ

ہم نے آج تک فقط کتابوں میں کوہ طور کے بارے پڑھا تھا لیکن کبھی حاشیۂ خیال میں بھی نہیں آیا تھا کہ راقم الحروف کو اس مقدس پہاڑ کی زیارت اور اس میں چڑھنے کا شرف حاصل ہوگا لیکن خدا کی قدرت سے کچھ بعید نہیں وہ فقیر کو بادشاہ، بادشاہ کو فقیر بنا دیتا ہے، کہیں پہ جوش لن ترانی، کہیں تقاضے وصال کے ہوتے ہیں، یوسف علیہ السلام کو برسوں بعد یعقوب علیہ السلام سے ملاتا ہے یعنی جس کی امید انسان کو نہیں اسے وہ عطا فرما دیتا ہے بس اسی ذات بابرکت کی رحمت تھی کہ راقم الحروف کا قافلہ شام تقریبا گیارہ بجے کوہ طور کے قدموں کا بوسہ لیا ۔
راقم الحروف ضروریات سے فارغ ہو کر وضو کیا اور ساڑھے گیارہ بجے قافلے والوں سے جا ملا لیکن تب تک زیادہ تر حضرات آگے بڑھ چکے تھے، دو دلیل یعنی راستہ دکھانے والا ایک قافلہ کے آگے آگے اور دوسرا پیچھے پیچھے تھا جو پیچھے تھا اس نے عربی میں کہا کہ آپ کے دو ساتھی ابھی نہیں آئے ہیں آپ لوگ آگے بڑھئے ہم ان دونوں کو لے آئیں گے لیکن پیچھے رہنے والے دونوں حضرات اونٹ پر سوار ہو کر آ گئے جس کی وجہ سے پیچھے والا دلیل پیچھے ہی رہ گیا اور ہم پانچ لوگ بچے جس کے پیچھے بھی کوئی نہیں اور آگے بھی دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا کیونکہ آگے والے حضرات بہت آگے نکل چکے تھے اس پتھریلی راستے کو ہم پانچ افراد ساتھ ساتھ عبور کر رہے تھے
فاضل نوجوان حضرۃ العلام محمد مبشر ازہری مرکزی صاحب جو جامعہ ازہر شریف سے اسی سال کلیہ سے فارغ ہوئے ہیں دوسرے فاضل اجل، شفیق و مہربان حضرت محمد رضا صدیقی عرف محمد میاں مرکزی ازہری تیسرے برادر من عالم و فاضل حضرت محمد شاداب مرکزی ازہری چوتھے رفیق گرامی وقار محمد غفران صاحب پانچواں خود فقیر راقم الحروف تھا۔
کچھ دیر چلنے کے بعد عجیب و غریب آواز سنائی دینے لگی جس سے معلوم ہو رہا تھا یہ کسی خطرناک جانور کی آواز ہے لیکن اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے پھر وہی آواز آنے لگی جس کی وجہ سے اور تیز چلنے لگے لیکن اس ہماہمی میں ہم سب دوسرے راستے پر چل پڑے اور راستہ بھول گئے پہاڑ کا راستہ گھوم گھوم کر بنا ہوا ہے یوں تو اس کی اونچائی زمین سے تقریبا آٹھ ہزار / ٨٠٠٠ فٹ ہے یعنی تقریبا ڈھائی / ٢.٥٠ کلو میٹر لیکن راستے کے گھماؤ کی وجہ سے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے والا راستہ تقریبا چھبیس ہزار \ ٢٦٠٠٠ فٹ یعنی تقریبا آٹھ /٨ کلو میٹر ہو جاتا ہے رات کے پچھلے پہر میں جب راستہ بھول گئے تو فقیر راقم الحروف نے اذان دی اور اس کی برکت سے فورا راستہ مل گیا پھر ہم چل پڑے لیکن چلتے چلتے اس قدر تھک گئے کہ اب پیروں کا کام کرنا بہت مشکل ہو چکا تھا لیکن دلوں میں شوق دید طور مچل رہا تھا کہ کسی طرح پہنچنا ہے اور اس انچائی پہ جانا ہے جہاں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ جل جلالہ سے ہمکلام ہوتے تھے، بس اسی شوق میں پھر آگے بڑھتے، پھر تھک کر بیٹھ جاتے، تھوڑی راحت ملتی کہ پھر چل پڑتے، سانس پھولنے لگی لیکن دم نہیں ہارے اور چلتے رہے بعض اوقات جب زیادہ تھک جاتے تو محمد میاں ایسی باتیں بولتے کہ جس سے روح کو نئی تازگی ملتی پھر چلنے کے لیے تیار ہو جاتے اور چل پڑتے لیکن جسم کی تھکاوٹ برقرار رہنے کی وجہ سے پھر جلد تھک جاتے رات کا پچھلا پہر سنسان پہاڑ پر چلنا یہ جہاں بہت لطف اندوز تھا تو وہیں بہت خوفناک بھی، لیکن مبشر ازہری صاحب کے بھی حوصلہ افزا کلمات ساتھ دیتے اور چلنے کی ہمت بڑھ جاتی آج یہ واقعی پتہ چلا کہ حوصلہ افزا کلمات میں کتنا دم ہوتا ہے کہ بے جان انسان پر بھی جان پڑ جاتی ہے راستے کے بیچ بیچ میں قہوہ خانے بنے ہوئے ہیں ایک دو کلو میٹر کی دوری میں جب وہاں پہنچتے تو ایسا لگتا ہے کہ مرتے کو تنکے کا سہارا مل گیا ہو۔
اس سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ منزل قریب ہے لیکن راستہ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا بہت دور راستہ طے کرنے کے بعد ایک اونٹ والا ملا اس نے کہا کہ اونٹ پر چڑھ جائیے تو اس سے پوچھا کتنا لوگے بولا پانچ سو پاؤنڈ واضح رہے اگر کوئی نیچے سے اونٹ پر چڑھتا ہے تو اونٹ والا آٹھ سو پاؤنڈ لیتا ہے مطلب انڈین تقریبا سولہ سو روپے محمد میاں نے ان سے کہا کہ سو پاؤنڈ دیں گے تو اس نے مذاق میں کچھ کہا اور آگے چلا گیا ویسے بھی ہم لوگوں کو اونٹ پر بیٹھنا نہیں تھا کیونکہ ہم لوگ یہ کہتے ہوئے کوہ طور پر چڑھ رہے تھے کہ طور پہاڑ پر پیدل چڑھنا یہ سنت موسی علیہ السلام ہے اور اونٹ میں بیٹھ جاتے تو یہ سنت ادا نہیں ہوتی دوسری بات یہ کہ اونٹ چوٹی تک نہیں لے جاتا ہے بلکہ تقریبا آٹھ سو سیڑھیاں پہلے ہی چھوڑ دیتا ہے پھر وہاں سے پیدل ہی جانا ہوتا ہے۔
آمدم بر سر مطلب ہم پانچوں کسی نہ کسی طرح آگے بڑھتے رہے راستے میں ایک کیرلا کے رہنے والے سے ملاقات ہوئی جو اونٹ سے سوار ہو کر آئے تھے اور جہاں اونٹ والے نے ان کو چھوڑا تھا وہیں سو گئے تھے ہم نے ان سے پوچھا آگے نہیں چلنا تو وہ بولے ہم تھوڑی دیر بعد جائیں گے لیکن اوپر وہ نظر نہیں آئے اس سے معلوم ہوتا ہے وہ وہیں سے واپس ہو گئے ہوں گے
اب ہمارا جسم بالکل ٹوٹ چکا تھا پیر جواب دے چکا تھا یہاں تک محمد میاں صاحب اپنے پیر پر کپڑے باندھ کر چل رہے تھے تاکہ درد کم ہو لیکن دل کا حوصلہ اب بھی نہیں ٹوٹا تھا ہمارے پیر نہیں اب ہمارے حوصلے کوہ طور کی جانب ہمیں کھینچ کر لے جا رہے تھے لیکن پھر ایک بار ہم راستہ بھول گئے پھر شاداب صاحب نے اذان دی اور پھر فورا ہی راستہ پا گئے اس پہاڑ پہ اپنی آنکھوں سے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتیں دیکھ رہا تھا کہ حدیث میں ہے راستہ بھول جاتے وقت اذان دینے سے راستہ مل جاتا ہے واللہ تاللہ ہم کوہ طور پر راستہ بھولتے اذان دیتے اور راستہ مل جاتا۔
اب کچھ ہی دور کوہ طور کی چوٹی تھی لیکن تھکن ایسی کہ کچھ سیڑھی چڑھتے اور سیڑھی ہی پر آدھا ایک منٹ کے لیے سو جاتے تھے پھر اٹھتے تھوڑی دیر چلتے کہ پھر آدھا ایک منٹ کے لیے سو جاتے اس وقت مجھے یہ شعر یاد آ رہا تھا
گر پڑ کر یہاں پہنچا مر مر کے تجھے پایا
چھوٹے نہ الہی اب سنگ در جانانہ
واقعی حالات ایسے ہی تھے اور سوچ رہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہاں کیسے تشریف لاتے ہوں گے تو اس کا ایک ہی جواب دل سے نکلتا تھا کہ وہ ان کا معجزہ تھا یا ان پر اللہ جل جلالہ سے کلام کرنے کا شوق اتنا غالب تھا کہ یہ مسافت ان کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ سو طور بھی ہوتا تو موسی علیہ السلام اسے بھی پار کر لیتے
پھر نمایاں جو سر طور ہو جلوہ تیرا
آگ لینے کو چلے عاشق شیدا تیرا
[ذوق نعت]
بالآخر ساڑھے گیارہ بجے سے مسلسل چلتے رہے پھر کہیں نیم جان ہو کر تقریبا ساڑھے تین بجے کوہ طور کی چوٹی پر پہنچے

طور کی چوٹی کا حسین منظرــــــــــــــــــــــــ

گرتے، پڑتے، سنبھلتے، پھسلتے ساڑھے تین بجے رات جب کوہ طور کی چوٹی پر پہنچے تو دل کی خوشی کی انتہا نہ رہی ایسا لگا کہ برسوں کی کھوئی ہوئی چیز آج واپس مل گئی جسم و ذہن پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی افکار و خیالات میں موسوی جلال کے نظارے چھائے ہوئے تھے،
پہاڑ کی چوٹی کا موسم بڑا سہانا اور پر لطف موسم تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اس مقام پر جو حضرات آتے ہیں وہ گرم کپڑے یا چادر ساتھ لاتے ہیں تاکہ ٹھنڈی سے بچ سکے لیکن اتفاق سے راقم الحروف چادر تک لے جانا بھول گیا۔
جو وہاں گرم کپڑے ساتھ نہیں لے جاتے ہیں ان کے لیے کرایے میں کمبل کا انتظام رہتا ہے جو کہ فی کمبل سو پاؤنڈ یعنی انڈین تقریبا دو سو روپے میں صرف اوڑھنے کے لیے ملتا ہے اس پر کمبل کی خصوصیت یہ کہ اسے سالوں سے کسی نے دھویا بھی نہیں ہوتا ہے اس سے آپ کمبل کی کیفیت سمجھ سکتے ہیںراقم الحروف نے نہ کمبل کرایے میں لیا نہ کوئی گرم کپڑا پہنا بلکہ موسوی موسم کا پورا پورا لطف اٹھایا
پہاڑ کی چوٹی کے بیچ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی چلہ گاہ ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام عبادت کرتے تھے اس کی بناوٹ سرنگ جیسی ہے اندر کی جانب بیٹھ تو سکتے ہیں لیکن کھڑے نہیں ہو سکتے اور تھوڑا باہر کی جانب آئیں تو ایک شخص کھڑے ہو کر بآرام نماز ادا کر سکتا ہے اور اوپر آسمان کھلا ہوا رہتا ہے یعنی آدھے غار میں چھت ہے اور آدھے میں اس طرح کہ دعا کریں تو نظر کے سامنے آسمان رہتا ہے۔
راقم الحروف مع اپنے رفقا کے چلہ گاہ میں دو رکعت نفل نماز ادا کی اور کچھ دیر دعاؤں میں مشغول رہا جس سے دل و دماغ کو عجیب ہی مسرت و شادمانی حاصل ہوئی ۔فجر کی نماز پڑھ کر مسجد میں کچھ دیر بیٹھ گیا یہ مسجد چلہ گاہ کے اوپر ہے جس میں دس پندرہ لوگ آرام سے نماز پڑھ سکتے ہیں اسی پوربی جانب ایک کلیسا ہے جو مسجد سے کچھ بڑا ہےاس چوٹی پر یہودی، عیسائی بھی آتے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں بھی یہ متبرک جگہ ہے
اس چوٹی پر کھڑے ہونے کے بعد چاروں جانب صرف پہاڑ ہی پہاڑ دکھائی دیتا ہے اور اوپر آسمان اب تھوڑی دیر کے لیے تصور میں ڈوب جائیں اور سوچیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا اس پہاڑ کی چوٹی پر تشریف لے جاتے اور اللہ جل و علا سے ہمکلام ہوتے تو کیا لطف آتا ہوگا کہ وہاں تیسرا کوئی نہیں ہوتا کیا راز و نیاز کی گفتگو ہوئی ہوگی یہ محبوب و محب کی بات ہے محبوب و محب ہی جانے۔
طور پر جلوہ دکھایا ہے تمنائی کو
کون کہتا ہے کہ اپنوں سے ہے پردہ تیرا

جبل موسی، جبل تجلی ــــــــــــــــــــــــ۔

جس پہاڑ کے اوپر عبادت گاہِ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہے اسی کو جبل موسی اور مرکز طور کہتے ہیں اسی پہاڑ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ہمکلام ہوئے تھے
اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کرنے سے پہلے پورے طور کو رحمت کے فرشتوں سے ڈھانک دیا، جتنے جانور وغیرہ تھے کوہ طور سے نکال دیا صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا پہاڑ پر تھے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو فرشتے تھے انھیں بھی ان سے الگ کر کے کوہ طور سے باہر کر دیا اور آسمان کھول دیا گیا یہاں تک حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرش، کرسی سب کو دیکھا بلکہ لوح پر قلم کے چلنے کی آواز بھی سنی ۔
اللہ جل جلالہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا کلام میں ایسی لذت و چاشنی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں دیدار کا شوق پیدا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جل جلالہ سے تمنائے دید الہی کا اظہار کیا تو رب نے فرمایا تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے محبوب نے محبوب سے کسی چیز کی مانگ کی ہے تو محبوب کے دل کی تسکین کے لیے اللہ نے فرمایا ٹھیک ہے میں اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالتا ہوں اگر پہاڑ سلامت، مستقر رہ جائے تو تم مجھے دیکھ لوگے پھر اللہ جل جلالہ نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی، تجلی پڑتے ہی پہاڑ پاش پاش ہو گیا ریزہ ریزہ ہو گیا موسی علیہ السلام تجلی دیکھ کر کوہ طور پر ہی بے ہوش گئے۔
جس پہاڑ پر تجلی پڑی اس پہاڑ کو جبل تجلی کہتے ہیں لیکن جو حضرات کوہ طور کا سفر کیے ان کو بخوبی معلوم ہے کہ کوہ طور کی چوٹی سے یعنی جبل موسی سے جبل تجلی نظر نہیں آتا ہے یہ بہت نیچے اترنے کے بعد نظر آتا ہے تو فقیر راقم الحروف کو یہ بات سمجھ میں آئی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ جل جلالہ نے فرمایا انظر الی الجبل پہاڑ کی طرف دیکھو اب جبل موسی سے پہاڑ تبھی دکھے گا جب پہاڑ اونچا ہوگا یہ برابر ہوگا یا قدرے نیچا ہوگا تاکہ کم از کم دکھ سکے لیکن جبل موسی سے جبل تجلی نہیں دکھتا ہے اس کا مطلب یہ کہ جبل تجلی پہلے اونچا تھا اور حضرت موسی علیہ السلام نے جبل تجلی کو جبل موسی سے دیکھا پھر جب اللہ تعالیٰ کی تجلی پڑی تو جبل تجلی پاش پاش ہو کر بکھر گیا جس کی وجہ سے جبل تجلی اب سیاہ رنگ اور وہاں پر موجود دیگر پہاڑوں کی بنسبت چھوٹا پہاڑ دکھتا ہے وہاں کے بدوی لوگوں سے پوچھنے پر بھی یہی پتہ چلا کہ جبل تجلی وہی ہے جو سیاہ رنگ کا ہے راقم الحروف نے وہاں پہ موجود ارد گرد کے پہاڑوں کو بنظر عمیق دیکھا لیکن جبل تجلی کا رنگ سب سے منفرد پایا جس سے قلب بھی اس بات کی گواہی دیتا کہ یہی وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ جل جلالہ کی تجلی اتری۔
دوسری بات یہ کہ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ جب کوئی یہ دعویٰ کرے مجھے کوئی ہرا نہیں سکتا اور ایک طبقہ یہ کہے کہ تجھے ہرانا بہت آسان ہے تو ظاہر ہے کسی جنگجو کو ہرانے کے لیے جو مقابل منتخب ہوگا کم از کم اس کے پایہ کا ہوگا یا پھر یہ ان لوگوں میں موجود جو تمام پہلوان میں سب سے زیادہ طاقت ور پہلوان ہوگا اسی کو جنگجو کے مقابل بھیجے گا ہر کس و ناکس کو نہیں بھیجے گا کوئی بھی اپنی طاقت کو آزمانے کے لیے کسی کمزور کا نہیں بلکہ کسی طاقت ور کا ہی انتخاب کرے گا یہ تو عقلی باتیں ہیں لیکن بلا تمثیل ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ نے اپنی تجلی جو اتاری تو وہ وہاں موجود بڑے مضبوط پہاڑ پر اتاری تاکہ یہ زیادہ اثر پذیر ہو کہ جب اتنا بڑا مضبوط پہاڑ اللہ جل جلالہ کی تجلی کو برداشت نہ کر سکا تو ہم کیسے کر سکتے ہیں؟ لیکن واضح رہے کہ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط با حوصلہ با قوت ہیں کیونکہ پہاڑ تجلی برداشت نہیں کر سکا اور پاش پاش ہو کر بکھر گیا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کوئی عضو تلف نہیں ہوا بلکہ آنکھوں کی روشنی اور بڑھ گئی جس کی وجہ سے کوسوں میل دور چیونٹی کو بھی رات کے اندھیرے میں آپ دیکھ لیتے تھے۔
بعض روایات کے مطابق جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور سے واپس ہوئے تو جو ان کو دیکھتا تھا وہ بے ہوش کر گر جاتا تھا بلکہ بعض دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر جاتا تھا دیکھیے تفسیر نعیمی سُورۃ الاعراف تحت آیت نمبر ١٤٣۔

سورج طلوع ہونے کا حسین منظرـــــــــــــــ

کوہ طور کی چوٹی پر نماز فجر ادا کرنے کے بعد مسجد میں کچھ دیر بیٹھا پھر باہر آ کر سورج طلوع ہونے کا انتظار کرنے لگا سب کی نظریں شفق پر ٹکی ہوئی تھیں بعض مصری بھی سورج کے طلوع ہونے کا حسین منظر دیکھنے کے لیے بے تاب تھے میں نے زندگی میں پہلی بار بادلوں کے اوٹ سے نہیں بلکہ سورج جہاں سے طلوع ہوتا ہے وہاں سے طلوع ہوتے ہوئے دیکھا اور اس پر طرۂ امتیاز یہ کہ جبل موسی پہ کھڑے ہو کر اس حسین منظر کا معاینہ کیا بہت دیر تک تو آسمان کی پوربی لالی پھیلی ہوئی رہی لیکن جب سورج طلوع ہونا شروع ہوا پانچ سے چھ منٹ کے اندر پورا سورج طلوع ہو گیا جب سورج کے طلوع ہونے کا حسین منظر سب نے اپنی نگاہوں سے دیکھ لیا تو اب نیچھے اترنے کی تیاری کرنے لگے۔

طور کی چوٹی سے واپسی ــــــــــــــــــــــ

کوہ طور پر چڑھنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں زیادہ اترنا مشکل ہے کیونکہ چڑھنے میں جسم تھک جاتا ہے لیکن گرنے کا خوف کم ہوتا ہے لیکن اترنے میں ایسا لگتا ہے کہ پیر خود بخود نیچے کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں پیر پھسل نہ جائے اگر یہ خوف نکال دیا جائے جیسا کہ راقم الحروف نے نکال دیا تھا تو اترنا بہت آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں تھکاوٹ کم ہوتی ہے اور دن ہونے کی وجہ سے کہیں کہیں راستہ چھوڑ کر بیچ پہاڑ سے ہی اتر جاتے ہیں تاکہ جلدی نیچے اتر جائیں یہ جوکھم بھرا فیصلہ ضرور ہوتا ہے لیکن احتیاط کرنے سے راستہ عبور ہو جاتا ہے۔
پورے پہاڑ میں واحد ایسی جگہ دکھی کہ جہاں دو درخت تھے تھوڑی ہریالی تھی کہنے والوں نے کہا کہ وہاں ایک کنواں بھی ہے لیکن نیچے اتر کر نہیں دیکھا کیونکہ سورج اگر شباب میں آنے لگ جائے تو اترنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ شدت کی دھوپ پڑتی ہے اسی لیے قافلہ رات کو چڑھتا ہے اور صبح ہوتے ہی اتر جاتا ہے ۔

شجرۂ نور ــــــــــــــــــــــــــ

یہ وہ درخت سے جس سے ندا آئی إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ جس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اہلیہ ان کے ساتھ امید سے تھی سخت سردی پڑ رہی تھی آگ لانے کے لیے آگے بڑھے تو ایک درخت میں روشنی دکھائی دی جب اس درخت کے قریب جانے لگے تو درخت سے آواز آئی :
يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي [سورۂ طہ]
ترجمۂ کنز الایمان: اے موسیٰ۔ بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال بیشک تو پاک جنگل طُویٰ میں ہے اور میں نے تجھے پسند کیا اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔
اسی درخت کو شجرۂ نور کہتے ہیں جو کوہ طور کے نیچے ایک کلیسا کے اندر موجود ہے کلیسا اتوار کے علاوہ دن میں ایک گھنٹا کھلا رہتا ہے پھر بند کر دیا جاتا ہے اتفاقا جس دن ہم کوہ طور سے نیچے اترے وہ اتوار کا دن تھا جس کی وجہ سے کلیسا بند تھا پھر ہم دوسری جانب سے اندر پہنچے وہاں ایک اور دروازہ لگا تھا دربان مسلمان تھا اس سے گزارش کی دروازہ تھوڑی دیر کے لیے کھول دیجیے تو اس نے کہا : راہب یعنی پادری بہت سختی سے منع کیا ہوا ہے اس لیے ہم دروازہ نہیں کھول سکتے پھر ہم وہاں سے درخت کی زیارت کیے بغیر واپس آ گئے ہمارے ساتھ حضرۃ العلام محمد مبشر ازہری مرکزی صاحب قبلہ بھی تھے جو اس سے قبل بھی ایک بار آ چکے تھے انھوں نے بتایا کہ اس کے اندر شجرۂ نور بھی ہے بیر موسی یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کنواں بھی ہے ان شاءاللہ تعالیٰ کبھی دوبارہ جانا ہوا تو زیارت ہوگی۔

مزار حضرت ہارون و حضرت صالح علیھما السلام ــــــــــــ

کوہ طور کے نیچے کچھ دوری پر حضرت ہارون علیہ السلام سے منسوب ایک مزار ہے جس میں حاضری کا شرف حاصل ہوا یہ زندگی میں کا پہلا سفر تھا جس میں کسی نبی علیہ السلام کے مزار میں حاضری دینے کا شرف حاصل ہوا قطع نظر اس سے کہ یہ انتساب واقعی صحیح ہے یا نہیں لیکن جب منسوب ہے تو ہم اپنی عقیدت کا مرکز مانتے ہیں اور ہم اس کی ایسے ہی تعظیم کرتے ہیں جیسے ایک نبی علیہ السلام کی بارگاہ کی تعظیم ہوتی ہے ۔
بعدہ بس میں سوار ہوئے کچھ دیر بس چل کر رکی اور کہنے والے نے کہا کہ یہ سڑک کے قریب ہی حضرت صالح علیہ السلام کا مزار شریف ہے فقیر راقم الحروف حضرت صالح علیہ السلام سے منسوب مزار پر حاضری دینے کا شرف حاصل کیا اور فیوض و برکات سے دامن مراد پر کر کے واپس ہوا ۔

خلاصۂ کلام ـــــــــــــ

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ راقم الحروف کو زندگی کا وہ لمحہ میسر ہوا جو کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا کوہ طور جبل موسی، جبل تجلی، چلہ گاہِ موسی، مزار ہارون علیہ السلام، مزار صالح علیہ السلام میں حاضری کا شرف حاصل ہوا رفقاء عظام حضرۃ العلام مبشر ازہری مرکزی، فاضل اجل محمد میاں صدیقی ازہری مرکزی ، فاضل نوجوان محمد شاداب ازہری مرکزی، محب گرامی وقار محمد غفران صاحب کے ساتھ میری زندگی کا یادگار سفر رہا۔
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: قاہرہ مصر
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
68
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۲)

سیرت نبوی اور عدل و انصاف (۱)

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢