صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
محسن اہلسنت حضور قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ
شخصیات اسلاف واخلاف

محسن اہلسنت حضور قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ

✍️ Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

محسن اہلسنت حضور قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ
ماضی قریب کے عہد شباب میں ایسی تاریخ ساز ہستیاں تشریف رکھتی تھیں جن کے علم وادب فضل وکمال تقوی طہارت ، متانت وسنجیدگی ، نفاست و سادگی بے مثال تھی
سرکار مفتئ اعظم کے وجود مسعود نے خستہ حال دور کو عہد آفریں بنایا اور آپ کی شفقت عنایت فضل وکرم نے ہزاروں حجر کو لعل یمن بنادیا جن کے علم وفضل کی روشنی عالم اسلام کو منور وتاباں کررہی ہے اسی عہد گل کی سرکار مفتئ اعظم ہند کی دست کرم کی ایک کرامت جس کو زمانہ صدر المفتیین رئیس الفقہاء خلیفہ ومعتمد حضور مفتی اعظم ہند قاضی ملت قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ کے نام سے جانتا پہچانتا ہے
ولادت یکم جولائ 1935ء کو گاؤں جبجّوا پوسٹ ہلور ڈمریا گنج بستی موجودہ سدھارتھ نگر یوپی کے ایک مذھبی علمی روحانی گھرانے میں آپ کی ولادت ہوئ
سلسلہ نسب آپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول افضل البشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تک سلسلہ ذھب ہے
سکونت آپ کے مورث اعلی آشوب زمانہ سے تنگ آکر مدینہ منورہ سے بغداد شریف ،وہاں سے لاہور ہوتے ہوئے دہلی پھر بارہ بنکی ضلع میں سکونت پذیر ہوئے پھر بعض خاندان کے افراد گورکھپور میں قیام پذیر ہوئے
صدیقی جاہ وجلال ،فضل وکمال شرافت وجاہت کی بنیاد پر خاندان کے کسی بزرگ کو عہدہ قضاۃ کا منصب ملا جس کی بنیاد پر یہ گھرانہ قاضی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔
لقب قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ کے نام کے ساتھ قاضی کا لقب محض لفاظی اور عرفی نہیں تھا بلکہ آپ حقیقتا قاضی تھے تادم آخر شہر بریلی شریف میں منصب قضاء پر فائز رہے
حضرت قاضی ملت کا پورا خاندان ہمیشہ گہوارہ علم وفن رہا ہے
آپ کے پردادا عربی فارسی سے خوب آشنا تھے اور کاتب قرآن بھی تھے آپ کے دادا جن کا نام احمد اللہ تھا اچھی صلاحیت کے مالک تھے اور طبیب حاذق تھے فن حکمت میں حکومت تھی ،دینی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ رسوائے زمانہ اسمعیل دہلوی کی کتاب تفویہ الایمان پر یہ نوٹ لگا دیا تھا کہ اس کتاب کا کوئ شخص بھولے سے بھی مطالعہ نہ کرے ورنہ اس کے ایمان میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے
الغرض آپ کے دادا ، پردادا، اور خاندان کے اکثر وبیشتر افراد علم وہنر ، فکر وفن زہد و اتقاء ، عجز و انکساری شریفانہ عادات واطوار اور نوری کردار کے حامل تھے آپ کے چچیرے دادا مولانا مولوی حکیم قاضی محمد علی نقی شاہ فضل رحمانی علیہ الرحمہ عالم ربانی ،صاحب کشف و کرامت بزرگ اور طبیب حاذق تھے ۔
خلافت و اجازت حضرت شاہ فضل الرحمان گنج مرادآبادی علیہ الرحمہ کی بارگاہ سے آپ کو خلافت و اجازت سن 1900 میں حاصل ہوئ یعنی سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ تھے جس میں داخل سلسلہ بھی فرماتے تھے آپ کے وصال کے بعد اس کی جانشینی حضرت قاضی ملت کے سپرد تھی آپ کو بھی سلسہ نقشبندیہ کی اجازت حاصل تھی ۔
درس و تدریس دار العلوم فضل رحمانیہ پچپڑوا میں درس نظامی کی تعلیم میں 5 سال صرف فرمائے بعد ازاں بریلی شریف کی جانب پھر وہاں سے امام النحو صدر العلماء سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ کی خدمت میں میرٹھ حاضر ہوکر فیض حاصل کیا اور درس نظامی کی تکمیل فرمائ
اساتذہ کرام حضور مفتی اعظم ہند ، صدر العلماء امام النحو ، سید افضل حسین مونگیری ، ریحان ملت علیھم الرحمہ والرضوان جیسی عظیم المرتبت رفیع الدرجات شخصیات سے اکتساب فیض کیا اور ان نفوس قدسیہ کی عنایت وشفقت نے آپ کو گوہر نایاب بنادیا
سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے خلافت و اجازت
16 ربیع الاول 1386ھ کو سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دامن کرم سے وابسطہ ہوگئے اسی سال کے ماہ رجب میں آپ کے مرشد گرامی نے خلافت اجازت سے بھی سرفراز فرمایا آپ نے خود فرمایا کہ میں خوشخط تھا اس لئے حضور مفتئ اعظم جب کسی کو خلافت عطا فرماتے تو فرماتے قاضی جی خلافت نامہ لکھ دیجئے پھر میں لکھ کر حضرت کو دے دیتا حضرت اس پر ماذون کا نام وپتہ لکھ کر اسے عنایت فرماتے
ایک بار حضرت نے فرمایا قاضی جی خلافت نامہ لکھ کر لے آئیے میں نے حکم کی تعمیل کی حضرت کے سامنے لکھ کر پیش کیا حضرت نے مجھے دیکھا تبسم فرمایا اور کہا قاضی جی کیا لکھوں میں باادب چپ کھڑا رہا حضرت نے میرا نام لکھ کر خلافت عطا فرمادیا اور جملہ مشاغل، اوراد وظائف،احادیث کتب اور افتاء کی بھی اجازت عطا فرمائ اور عملی طور سے حدیث مصافحہ اور حدیث ماء و تمر وغیرہ براوں شریف میں عطا فرمایا ۔
تکمیل درس کے بعد سے ہی بحکم صدر العلماء آپ مظہر اسلام میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے چونکہ بریلی ہمیشہ سے مرجع فتوی رہا سرکار مفتئ اعظم کی خدمت میں استفتاء بکثرت آتے تھے دن بدن اضافہ ہوتا جاتا اس لئے سرکار مفتئ اعظم ہند نے قاضی ملت کی عارفانہ ،فقیہانہ صلاحیت کے پیش نظر فتوی نویسی کے فرائض آپ کے سپرد کئے
آپ بڑی محنت و جانفشانی کے ساتھ تقریبا نو سال تک رضوی دار الافتاء میں فتوی نویسی کی خدمت انجام دیتے رہے دن میں تحریر فرماتے رات کو 2 بجے تک سرکار مفتئ اعظم کی بارگاہ میں اصلاح لیتے رہتےـ
ایک طبیب حاذق کے مطب میں جب سات سال اس طرح محنت وعرق ریزی کے ساتھ گزر گئے اور آپ کے جواب کو آپ کے مرشد نے مدلل ومبرہن پایا تو فرمایا اب آپ کے ہر مسئلے کو دیکھنا ضروری نہیں جو اہم مسئلہ ہو وہ دکھا لیا کریں ـ
پھر عرض مرض کی بنیاد پر آپ نے بریلی شریف چھوڑ دیا اور گھر پر رہے سرکار مفتئ اعظم عیادت کو تشریف لے گئے اور یوں فرمایا اللہ تعالی آپ کو جلد صحتیاب فرمائے اور بریلی شریف پہنچائے قطب الاقطاب کے زبان مبارک کا اثر کہ بہت جلد ہی مکمل صحت یابی کے ساتھ بریلی شریف جلوہ گر ہوئے
مظہر اسلام کے بعد آپ کا تقرر منظر اسلام میں 1971 میں بحیثیت صدر مفتی ہوا بعد قیام مرکزی دار الافتاء آپ ہمیشہ وہاں کے صدر مفتی کی حیثیت سے رہے
سرکار تاج شریعت علیہ الرحمہ قاضی ہندوستان تھے اور آپ اس وقت بھی شہر بریلی شریف کے قاضی تھے پھر آخر وقت تک مرکزی دار الافتاء میں فتوی نویسی ، اصلاح فتوی، تصحیح نقول اور مفتیان کرام کی تربیت کے فرائض انجام دیتے رہے
آپ کی فقہی جلالت علمی کرامت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے نوک قلم سے سے معرض وجود میں آنے والے فتاوی جات 150 ضخیم رجسٹر میں قید ہیں اور جابجا فتاوی تاج الشریعہ میں سرکار تاج شریعت کے فتاوی پر آپ کی تصدیقی مہر اس بات کا بین ثبوت ہے کہ فقہ و فتاوی میں کمال حاصل تھا ذہانت و فطانت اور قوت حافظہ ، اللہ کی خاص عطا تھی جزئیات پر دسترس حاصل تھی ایک مرتبہ خواجہ مقبول احمد صاحب نے ایک مسئلے پر جزئیہ تلاش کیا نا مل سکا تو مفتی افضل حسین اور مفتی شریف الحق امجدی علیھما الرحمہ والرضوان سے دریافت کیا ان دونوں صاحبان علم وفضل نے مفتئ اعظم علیہ الرحمہ کی طرف بھیج دیا ۔
حضرت سے استفسار ہوا تو حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا قاضی جی سے پوچھو وہ بتائیں گے حضرت قاضی ملت کی بارگاہ میں مسئلہ آیا تو آپ نے الاتحاف والبصائر سے جزئیہ نکال کر انھیں دکھایا ،خواجہ صاحب متعجب ہوئے دوڑے آئے مفتی اعظم کی بارگاہ میں جزئیہ دکھایا ، حضرت نے مسکراتے ہوئے خواجہ صاحب سے فرمایا قاضی جی کی دست بوسی و قدم بوسی کرو ۔
آپ نے رد المحتار پر امام اہلسنت کے گراں قدر حاشیہ جد الممتار کی نقل فرماکر ضائع ہونے سے محفوظ فرمالیا نیز عالمگیری (کتاب الطلاق) مجموعہ فوائد کتب فقہ ، حدیث ،حاشیہ فتح الباری ، حاشیہ صحیح البخاری ، حاشیہ عمدۃ القاری ، حاشیہ مواہب لدنیہ و ملا جلال وغیرہ کو نقل فرماکر خرد برد ہونے سے محفوظ کیا اور امام اہلسنت کی مایہ ناز تصانیف ہم تک پہنچائ ـ
عملیات میں بڑے ماہر تھے چنانچہ جب شمع شبستان رضا وجود میں آئی اور اس میں امام اہلسنت کی جانب بہت سے تعویذاتی نسخے غلط منسوب تھے تو حضور مفتئ اعظم نے آپ کو یہ ذمہ داری عطا کی کہ اصل نقوش و تعویذات کو جمع کیجئے
آپ نے نہایت جانفشانی اور لگن کے ساتھ اس کام کو انجام دیا اور بہت سے نقوش میں موکلین کے سہارے سے آپنے مجموعہ اعمال رضا کو ترتیب دیا ۔ اس کے علاؤہ مسلکی عقائد ونظریات کی تشہیر کے لئے بریلی شریف میں قادری بکڈپو کے نام سے ایک کتب خانہ قائم فرمایا جس میں اعلی حضرت کے 70 سے زائد رسائل طبع کراکر خواص و عوام کو رضوی خدمات سے روشناس کرایا ۔
آپ کے پانچ صاحبزادے اور دو صاحبزادیان ہیں جن میں سے ایک محترم جناب قاضی غلام مجتبی صاحب حفظہ اللہ تعالی( استاذ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعہ الرضا بریلی شریف ) ہیں جن سے فقیر راقم الحروف کو شرف تلمذ حاصل ہے فالحمد للہ علی ذلک -
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آپ کا وصال ظاہری 4 رمضان المبارک 1431ھ بمطابق 15 اگست 2010 کو بریلی شریف میں عین ظہر کی جماعت کے وقت ہوا
نماز جنازہ حضور قائد ملت حضرت علامہ مفتی عسجد رضا صاحب قبلہ نے ادا فرمائ ـ
آپ کا مزار پر انوار ضلع بستی کے اسی گاؤں میں مرجع خلائق ہے ۔

محسن اہلسنت حضور قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ

مضمون نگار: Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

محسن اہلسنت حضور قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ
ماضی قریب کے عہد شباب میں ایسی تاریخ ساز ہستیاں تشریف رکھتی تھیں جن کے علم وادب فضل وکمال تقوی طہارت ، متانت وسنجیدگی ، نفاست و سادگی بے مثال تھی
سرکار مفتئ اعظم کے وجود مسعود نے خستہ حال دور کو عہد آفریں بنایا اور آپ کی شفقت عنایت فضل وکرم نے ہزاروں حجر کو لعل یمن بنادیا جن کے علم وفضل کی روشنی عالم اسلام کو منور وتاباں کررہی ہے اسی عہد گل کی سرکار مفتئ اعظم ہند کی دست کرم کی ایک کرامت جس کو زمانہ صدر المفتیین رئیس الفقہاء خلیفہ ومعتمد حضور مفتی اعظم ہند قاضی ملت قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ کے نام سے جانتا پہچانتا ہے
ولادت یکم جولائ 1935ء کو گاؤں جبجّوا پوسٹ ہلور ڈمریا گنج بستی موجودہ سدھارتھ نگر یوپی کے ایک مذھبی علمی روحانی گھرانے میں آپ کی ولادت ہوئ
سلسلہ نسب آپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول افضل البشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تک سلسلہ ذھب ہے
سکونت آپ کے مورث اعلی آشوب زمانہ سے تنگ آکر مدینہ منورہ سے بغداد شریف ،وہاں سے لاہور ہوتے ہوئے دہلی پھر بارہ بنکی ضلع میں سکونت پذیر ہوئے پھر بعض خاندان کے افراد گورکھپور میں قیام پذیر ہوئے
صدیقی جاہ وجلال ،فضل وکمال شرافت وجاہت کی بنیاد پر خاندان کے کسی بزرگ کو عہدہ قضاۃ کا منصب ملا جس کی بنیاد پر یہ گھرانہ قاضی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔
لقب قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ کے نام کے ساتھ قاضی کا لقب محض لفاظی اور عرفی نہیں تھا بلکہ آپ حقیقتا قاضی تھے تادم آخر شہر بریلی شریف میں منصب قضاء پر فائز رہے
حضرت قاضی ملت کا پورا خاندان ہمیشہ گہوارہ علم وفن رہا ہے
آپ کے پردادا عربی فارسی سے خوب آشنا تھے اور کاتب قرآن بھی تھے آپ کے دادا جن کا نام احمد اللہ تھا اچھی صلاحیت کے مالک تھے اور طبیب حاذق تھے فن حکمت میں حکومت تھی ،دینی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ رسوائے زمانہ اسمعیل دہلوی کی کتاب تفویہ الایمان پر یہ نوٹ لگا دیا تھا کہ اس کتاب کا کوئ شخص بھولے سے بھی مطالعہ نہ کرے ورنہ اس کے ایمان میں خلل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے
الغرض آپ کے دادا ، پردادا، اور خاندان کے اکثر وبیشتر افراد علم وہنر ، فکر وفن زہد و اتقاء ، عجز و انکساری شریفانہ عادات واطوار اور نوری کردار کے حامل تھے آپ کے چچیرے دادا مولانا مولوی حکیم قاضی محمد علی نقی شاہ فضل رحمانی علیہ الرحمہ عالم ربانی ،صاحب کشف و کرامت بزرگ اور طبیب حاذق تھے ۔
خلافت و اجازت حضرت شاہ فضل الرحمان گنج مرادآبادی علیہ الرحمہ کی بارگاہ سے آپ کو خلافت و اجازت سن 1900 میں حاصل ہوئ یعنی سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگ تھے جس میں داخل سلسلہ بھی فرماتے تھے آپ کے وصال کے بعد اس کی جانشینی حضرت قاضی ملت کے سپرد تھی آپ کو بھی سلسہ نقشبندیہ کی اجازت حاصل تھی ۔
درس و تدریس دار العلوم فضل رحمانیہ پچپڑوا میں درس نظامی کی تعلیم میں 5 سال صرف فرمائے بعد ازاں بریلی شریف کی جانب پھر وہاں سے امام النحو صدر العلماء سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ کی خدمت میں میرٹھ حاضر ہوکر فیض حاصل کیا اور درس نظامی کی تکمیل فرمائ
اساتذہ کرام حضور مفتی اعظم ہند ، صدر العلماء امام النحو ، سید افضل حسین مونگیری ، ریحان ملت علیھم الرحمہ والرضوان جیسی عظیم المرتبت رفیع الدرجات شخصیات سے اکتساب فیض کیا اور ان نفوس قدسیہ کی عنایت وشفقت نے آپ کو گوہر نایاب بنادیا
سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے خلافت و اجازت
16 ربیع الاول 1386ھ کو سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دامن کرم سے وابسطہ ہوگئے اسی سال کے ماہ رجب میں آپ کے مرشد گرامی نے خلافت اجازت سے بھی سرفراز فرمایا آپ نے خود فرمایا کہ میں خوشخط تھا اس لئے حضور مفتئ اعظم جب کسی کو خلافت عطا فرماتے تو فرماتے قاضی جی خلافت نامہ لکھ دیجئے پھر میں لکھ کر حضرت کو دے دیتا حضرت اس پر ماذون کا نام وپتہ لکھ کر اسے عنایت فرماتے
ایک بار حضرت نے فرمایا قاضی جی خلافت نامہ لکھ کر لے آئیے میں نے حکم کی تعمیل کی حضرت کے سامنے لکھ کر پیش کیا حضرت نے مجھے دیکھا تبسم فرمایا اور کہا قاضی جی کیا لکھوں میں باادب چپ کھڑا رہا حضرت نے میرا نام لکھ کر خلافت عطا فرمادیا اور جملہ مشاغل، اوراد وظائف،احادیث کتب اور افتاء کی بھی اجازت عطا فرمائ اور عملی طور سے حدیث مصافحہ اور حدیث ماء و تمر وغیرہ براوں شریف میں عطا فرمایا ۔
تکمیل درس کے بعد سے ہی بحکم صدر العلماء آپ مظہر اسلام میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے چونکہ بریلی ہمیشہ سے مرجع فتوی رہا سرکار مفتئ اعظم کی خدمت میں استفتاء بکثرت آتے تھے دن بدن اضافہ ہوتا جاتا اس لئے سرکار مفتئ اعظم ہند نے قاضی ملت کی عارفانہ ،فقیہانہ صلاحیت کے پیش نظر فتوی نویسی کے فرائض آپ کے سپرد کئے
آپ بڑی محنت و جانفشانی کے ساتھ تقریبا نو سال تک رضوی دار الافتاء میں فتوی نویسی کی خدمت انجام دیتے رہے دن میں تحریر فرماتے رات کو 2 بجے تک سرکار مفتئ اعظم کی بارگاہ میں اصلاح لیتے رہتےـ
ایک طبیب حاذق کے مطب میں جب سات سال اس طرح محنت وعرق ریزی کے ساتھ گزر گئے اور آپ کے جواب کو آپ کے مرشد نے مدلل ومبرہن پایا تو فرمایا اب آپ کے ہر مسئلے کو دیکھنا ضروری نہیں جو اہم مسئلہ ہو وہ دکھا لیا کریں ـ
پھر عرض مرض کی بنیاد پر آپ نے بریلی شریف چھوڑ دیا اور گھر پر رہے سرکار مفتئ اعظم عیادت کو تشریف لے گئے اور یوں فرمایا اللہ تعالی آپ کو جلد صحتیاب فرمائے اور بریلی شریف پہنچائے قطب الاقطاب کے زبان مبارک کا اثر کہ بہت جلد ہی مکمل صحت یابی کے ساتھ بریلی شریف جلوہ گر ہوئے
مظہر اسلام کے بعد آپ کا تقرر منظر اسلام میں 1971 میں بحیثیت صدر مفتی ہوا بعد قیام مرکزی دار الافتاء آپ ہمیشہ وہاں کے صدر مفتی کی حیثیت سے رہے
سرکار تاج شریعت علیہ الرحمہ قاضی ہندوستان تھے اور آپ اس وقت بھی شہر بریلی شریف کے قاضی تھے پھر آخر وقت تک مرکزی دار الافتاء میں فتوی نویسی ، اصلاح فتوی، تصحیح نقول اور مفتیان کرام کی تربیت کے فرائض انجام دیتے رہے
آپ کی فقہی جلالت علمی کرامت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے نوک قلم سے سے معرض وجود میں آنے والے فتاوی جات 150 ضخیم رجسٹر میں قید ہیں اور جابجا فتاوی تاج الشریعہ میں سرکار تاج شریعت کے فتاوی پر آپ کی تصدیقی مہر اس بات کا بین ثبوت ہے کہ فقہ و فتاوی میں کمال حاصل تھا ذہانت و فطانت اور قوت حافظہ ، اللہ کی خاص عطا تھی جزئیات پر دسترس حاصل تھی ایک مرتبہ خواجہ مقبول احمد صاحب نے ایک مسئلے پر جزئیہ تلاش کیا نا مل سکا تو مفتی افضل حسین اور مفتی شریف الحق امجدی علیھما الرحمہ والرضوان سے دریافت کیا ان دونوں صاحبان علم وفضل نے مفتئ اعظم علیہ الرحمہ کی طرف بھیج دیا ۔
حضرت سے استفسار ہوا تو حضرت نے مسکراتے ہوئے فرمایا قاضی جی سے پوچھو وہ بتائیں گے حضرت قاضی ملت کی بارگاہ میں مسئلہ آیا تو آپ نے الاتحاف والبصائر سے جزئیہ نکال کر انھیں دکھایا ،خواجہ صاحب متعجب ہوئے دوڑے آئے مفتی اعظم کی بارگاہ میں جزئیہ دکھایا ، حضرت نے مسکراتے ہوئے خواجہ صاحب سے فرمایا قاضی جی کی دست بوسی و قدم بوسی کرو ۔
آپ نے رد المحتار پر امام اہلسنت کے گراں قدر حاشیہ جد الممتار کی نقل فرماکر ضائع ہونے سے محفوظ فرمالیا نیز عالمگیری (کتاب الطلاق) مجموعہ فوائد کتب فقہ ، حدیث ،حاشیہ فتح الباری ، حاشیہ صحیح البخاری ، حاشیہ عمدۃ القاری ، حاشیہ مواہب لدنیہ و ملا جلال وغیرہ کو نقل فرماکر خرد برد ہونے سے محفوظ کیا اور امام اہلسنت کی مایہ ناز تصانیف ہم تک پہنچائ ـ
عملیات میں بڑے ماہر تھے چنانچہ جب شمع شبستان رضا وجود میں آئی اور اس میں امام اہلسنت کی جانب بہت سے تعویذاتی نسخے غلط منسوب تھے تو حضور مفتئ اعظم نے آپ کو یہ ذمہ داری عطا کی کہ اصل نقوش و تعویذات کو جمع کیجئے
آپ نے نہایت جانفشانی اور لگن کے ساتھ اس کام کو انجام دیا اور بہت سے نقوش میں موکلین کے سہارے سے آپنے مجموعہ اعمال رضا کو ترتیب دیا ۔ اس کے علاؤہ مسلکی عقائد ونظریات کی تشہیر کے لئے بریلی شریف میں قادری بکڈپو کے نام سے ایک کتب خانہ قائم فرمایا جس میں اعلی حضرت کے 70 سے زائد رسائل طبع کراکر خواص و عوام کو رضوی خدمات سے روشناس کرایا ۔
آپ کے پانچ صاحبزادے اور دو صاحبزادیان ہیں جن میں سے ایک محترم جناب قاضی غلام مجتبی صاحب حفظہ اللہ تعالی( استاذ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعہ الرضا بریلی شریف ) ہیں جن سے فقیر راقم الحروف کو شرف تلمذ حاصل ہے فالحمد للہ علی ذلک -
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آپ کا وصال ظاہری 4 رمضان المبارک 1431ھ بمطابق 15 اگست 2010 کو بریلی شریف میں عین ظہر کی جماعت کے وقت ہوا
نماز جنازہ حضور قائد ملت حضرت علامہ مفتی عسجد رضا صاحب قبلہ نے ادا فرمائ ـ
آپ کا مزار پر انوار ضلع بستی کے اسی گاؤں میں مرجع خلائق ہے ۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

Graduate - 2025 | Jamiatur Raza
40
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 13
Kalam 0
Mufti Hishamuddin Quadri Markazi
زمرہ جات

فیصلہ کرنے سے پہلے

خاندان اعلیٰ حضرت اور فتویٰ نویسی پر اجرت

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢