مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
چوتھے قطب: حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ
”اچھے“ پیارے شمسِ دیں بدرالعُلیٰ کے واسطے (آمین)
نام و کام و تن و جان و حال و مقال
سب میں اچھے کی صورت پہ لاکھوں سلام
(سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ)
آپ کا نام حضرت سید ”آل احمد“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ تاریخی نام ”سلطانِ مشائخِ جہاں“ ہے۔ کنیت ”ابوالفضل“ ہے۔ القاب: قدوۃ الکاملین، قطب العارفین، عاشقِ خدا، معشوقِ سرکارِ مصطفیٰ ﷺ، سید فخر الاولیاء، شمس ملت والدّین، شمس مارہرہ، نائب غوث اعظم، مظہرِ غوث اعظم، قطب زمانہ، اچھے میاں ہیں۔ حضور آل احمد اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور سیدنا سرکار حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں چوتھے قطب ہیں جن کی بشارت حضور غوث پاک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی۔ سرکار اچھے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے برادران حضور ستھرے میاں اور حضور سچے میاں اور سید محمد علی علیہم الرحمۃ والرضوان ہیں۔
حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ مبارکہ ٢٨؍رمضان الکریم ١١٦٠ھ کو مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔ جس کا مادۂ تاریخ ”سلطانِ مشائخِ جہاں“ ہے۔
سرکار اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت سے قبل حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بشارت عطا فرمائی کہ ہمارے خاندان میں ایسے شہزادے پیدا ہوں گے جن سے خاندان کی شان و شوکت میں چار چاند لگ جائیں گے پھر حضور صاحب البرکات نے اپنا خرقہ آپ کی دادی کو عطا فرمایا۔ حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا جان حضور آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ نے سرکار شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بِسْمِ اللہِ خوانی کے موقع پر وہ خرقۂ غوثیہ منگا کر فرمایا کہ یہ خرقہ ان صاحبزادے کے لیے ہے جن کی بشارت والد ماجد نے دی تھی۔
حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے علومِ ظاہری و باطنی اور منازلِ سلوک کی تکمیل اپنے والد ماجد حضور شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمائی اور سبحان اللہ تعالیٰ! روحانی معلم سلطان الاولیاء سیدنا سرکار غوث الاعظم دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ فن طب سرکار شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کلیم نصر اللہ صاحب مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل فرمایا۔ مگر اس علم سے سوائے ستر تصرفات کا کام نہ لیا جاتا تھا بظاہر مریض کو معمولی دوا یا کسی درخت کے پتے تجویز فرماتے مگر حقیقتاً حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود چارہ سازی فرماتے۔
حضور شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیعت و خلافت والد ماجد حضور اسد العارفین سید شاہ حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہے اور حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو سرکار غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہِ اقدس سے بھی بے شمار فیوض و برکات ملے۔
فخرُ الاولیاء حضرت سید شاہ آل احمد المعروف اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے عظیم پیشوا، امامِ طریقت اور شیخِ وقت ہیں۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت بلند پایہ عارف باللہ، صاحبِ کمال اور صاحبِ تصرف بزرگ ہیں۔ کرامات و خوارقِ عادات میں اپنی مثال آپ ہیں اور علومِ ظاہر و باطن میں ایسا مقام رکھتے ہیں کہ اہلِ علم و معرفت آپ کے فضل و کمال کے معترف ہیں۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے راہِ سلوک میں سخت ترین ریاضتیں اور مجاہدات اختیار فرمائے اور منازلِ قرب و معرفت طے کرتے ہوئے ولایت و عرفان کے اعلیٰ مدارج حاصل فرمائے۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کا ایک نمایاں وصف شفقت، خدمتِ خلق اور تربیتِ مریدین تھا۔ اپنے غلاموں، خدام اور وابستگان کی خبر گیری اور کفالت بنفسِ نفیس فرماتے۔ اخلاقِ نبوی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پیکر تھے اور حضور نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اوصافِ کریمانہ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ مخلوقِ خدا پر حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہِ شفقت ہر وقت سایہ فگن رہتی، لیکن بدایوں کے باشندوں اور اپنے خدام پر آپ کی خصوصی عنایات اور نوازشیں ہوا کرتی تھیں۔ آپ اکثر ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”بدایوں ہماری جاگیر ہے، اور یہ جاگیر ہمیں حضورِ غوثیت مآب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ سے عطا ہوئی ہے۔“
علومِ ظاہر و باطن میں حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام اس قدر بلند تھا کہ بڑے بڑے علماء و فضلاء آپ کی خدمت میں حاضر رہتے اور علمی مشکلات میں آپ سے رجوع کرتے تھے۔ پیچیدہ سے پیچیدہ علمی اور فقہی مسائل کو حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسی عمدگی اور وضاحت کے ساتھ حل فرماتے کہ اہلِ علم حیرت زدہ رہ جاتے۔
ایک مرتبہ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آخری زمانۂ حیات میں حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلیل القدر خلیفہ حضرت مولانا شاہ عبدالمجید عین الحق بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک دقیق علمی مسئلہ دریافت کیا۔ عرض کیا: اس مسئلہ میں متعدد علماء نے گفتگو کی ہے اور مختلف جوابات بھی دیے ہیں، لیکن دل کو اطمینان حاصل نہیں ہوا، حضور ہی اس کی حقیقت بیان فرما دیں۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ ایسا شافی جواب عطا فرمایا کہ تمام اشکالات رفع ہو گئے اور حاضرین آپ کے تبحرِ علمی پر عش عش کر اٹھے۔ آپ کے فضائل، مناقب، علمی عظمت اور روحانی مقامات کا تذکرہ اکابرِ امت نے بڑے احترام کے ساتھ کیا ہے۔ بالخصوص حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی معروف تصنیف ”ملفوظاتِ عزیزی“ میں آپ کے بلند مراتب، علمی کمالات اور روحانی مقامات کو نہایت وقیع اور عظیم الشان الفاظ میں بیان فرمایا ہے، جو آپ کی جلالتِ قدر اور رفعتِ شان پر روشن دلیل ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ایک صاحب نے بغداد شریف میں حضرت نقیب الاشراف قدس سرہٗ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر مسئلۂ وحدۃ الوجود کی حقیقت سمجھنے کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت نقیب الاشراف نے انہیں ارشاد فرمایا کہ اس مسئلے کی تشفی بخش توضیح کے لیے ہندوستان کا سفر اختیار کرو۔ چنانچہ وہ مختلف علماء اور مشائخِ کرام سے ملاقات کرتے ہوئے دہلی پہنچے اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے اپنا مدعا بیان کیا اور مسئلے کی وضاحت چاہی، مگر ان کے دل کو مکمل اطمینان حاصل نہ ہو سکا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اگر اس مسئلے کی حقیقی تسکین اور شرح چاہتے ہو تو مارہرہ (شریف) جاؤ اور حضرت اچھے میاں قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہو۔ وہ تمہارے اشکال کو اس طرح دور فرما دیں گے کہ دل کو کامل اطمینان حاصل ہو جائے گا۔“ یہ واقعہ سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علمی رسوخ، عرفانی بصیرت اور دقائقِ تصوف پر گہری نظر کا روشن ثبوت ہے۔
حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبادت، مجاہدہ اور ریاضت کے میدان میں بھی اپنے زمانے کے ممتاز اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیشتر وقت ذکرِ الٰہی، مراقبہ، وظائف، اشغالِ روحانی اور عبادات میں گزرتا تھا۔ شب و روز یادِ الٰہی میں مستغرق رہنا حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا۔ فرائضِ خمسہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوافل، اذکار، اوراد، صیام، مجاہداتِ نفس اور ریاضاتِ باطنیہ کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی طاعت و بندگی، زہد و تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کا حسین نمونہ تھی۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ایک طاعت سے فارغ ہوتے تو دوسری طاعت میں مشغول ہو جاتے، اور ذکر و فکر، مراقبہ و مجاہدہ کا سلسلہ برابر جاری رہتا۔
حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روحانی محنتیں ہی تھیں جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلند مقاماتِ ولایت، عظیم روحانی فیوض و برکات اور بے شمار قلوب کی اصلاح و تربیت کا شرف عطا فرمایا۔
سرکار عین الحق عبدالمجید قادری بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان سرکار غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ایماء پر حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے، اس طرح بدایوں شریف میں فیضانِ پیر خانہ پہنچا۔
حضور قدوۃ السالکین، حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شب و روز کے معمولات نہایت منظم، روحانیت سے بھرپور اور اتباعِ سنت کا حسین نمونہ تھے۔
حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہوتے، ضروری حاجات سے فارغ ہو کر وضو فرماتے اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ نمازِ تہجد ادا فرماتے۔ تہجد کے بعد بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر دینِ اسلام کی سربلندی، امتِ مسلمہ کی فلاح اور اپنے مریدین و متوسلین کی مغفرت و نجات کے لیے دعائیں فرماتے۔
جب دعا سے فراغت ہوتے تو حاضرینِ خانقاہ اور فقراء بلند آواز سے گیارہ مرتبہ کلمۂ طیبہ کا ذکر کرتے۔ اس وقت دروازے بند کر دیے جاتے تھے اور کسی غیر شخص کو خلوتِ خاص میں حاضری کی اجازت نہ ہوتی تھی۔
اس کے بعد حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ محل سرا میں تشریف لے جاتے اور کچھ دیر آرام فرمانے کے بعد دوبارہ خانقاہ میں جلوہ افروز ہوتے۔ وہاں درویشوں اور مریدوں کو طلب فرما کر ان کے حالات دریافت فرماتے، ان کی ضروریات معلوم فرماتے اور ہر ایک کی استعداد اور ضرورت کے مطابق اصلاح و تربیت فرماتے۔
پھر درگاہ شریف کی طرف تشریف لے جاتے اور سب سے پہلے اپنے والدِ ماجد کے مزارِ اقدس پر حاضر ہو کر فاتحہ خوانی اور قدم بوسی کی سعادت حاصل کرتے۔ اس کے بعد والدۂ ماجدہ، جدِ امجد اور عمِ مکرم کے مزاراتِ مبارکہ پر حاضری دے کر فاتحہ پڑھتے۔
اکثر اوقات درگاہِ عالیہ سے متصل بائیں باغ میں تشریف لے جاتے، جہاں جامُن کے درخت کے نیچے دری بچھا دی جاتی اور آپ وہاں کچھ دیر تشریف فرما رہتے۔ پھر خانقاہ واپس تشریف لاتے، جہاں دربارِ عام منعقد ہوتا۔ لوگ اپنی حاجات، مشکلات اور مسائل پیش کرتے اور آپ ان کی رہنمائی فرماتے۔
حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خدام کو مشقت اور غیر ضروری ریاضتوں سے محفوظ رکھتے تھے۔ اسی طرح اہلِ حاجت کو بھی عموماً طویل وظائف اور دشوار اعمال مرحمت نہیں فرماتے تھے، بلکہ اکثر صرف زبانی دعا یا مختصر تحریری حکم ہی کافی ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقصود حاصل ہو جاتا۔ اپنے اکابر کی سنت کے مطابق آپ روحانی تصرفات اور کرامات کو حتی الامکان پوشیدہ رکھتے تھے۔
دوپہر کے وقت کھانا طلب فرمایا جاتا تو عموماً گیہوں کی دو یا تین نرم و ہلکی چپاتیاں شوربے یا مونگ کی دال کے ساتھ تناول فرماتے۔ اس کے بعد قیلولہ فرماتے۔
پھر بیدار ہو کر ضروری امور سے فارغ ہوتے، وضو فرماتے اور نمازِ ظہر ادا کرتے۔ نماز کے بعد تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول رہتے۔ بعد ازاں خانقاہ میں تشریف فرما ہو کر درود شریف کا وظیفہ پڑھتے۔
نمازِ عصر مسجد میں باجماعت ادا فرماتے اور اس کے بعد دوبارہ خانقاہ میں رونق افروز ہوتے۔ پھر نمازِ مغرب بھی مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا فرماتے۔ نماز کے بعد فقراء ختمِ خواجگان کرتے اور پھر خانقاہ میں حاضر ہوتے۔
اس وقت خدام، مریدین اور اہلِ عقیدت نہایت ادب و احترام کے ساتھ حاضر ہو کر سلام و نیاز پیش کرتے۔ حضرت قبلہ سجادے پر جلوہ افروز ہو کر تسبیح کے ساتھ درود شریف کا ورد فرماتے۔
اس کے بعد نمازِ عشاء مسجد میں باجماعت ادا فرماتے اور نمازِ عشاء کے بعد دروازے بند کر دیے جاتے تھے۔ یوں آپ کا پورا شب و روز عبادت، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، خدمتِ خلق، تربیتِ مریدین اور اشاعتِ دین میں گزرتا تھا۔
راہِ سلوک کو درود شریف سے طے کرنا:
آثارِ احمدی میں مذکور ہے کہ بخارا کا ایک نوجوان طلبِ حق کے جذبے سے سرشار ہو کر مارہرہ شریف حاضر ہوا۔ اس نے خانقاہِ عالیہ میں نمازِ ظہر ادا کی اور پھر حضور سیدنا اچھے میاں شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا:
”حضور! میں آپ کا نامِ نامی سن کر حصولِ حق اور معرفتِ الٰہی کی جستجو میں یہاں حاضر ہوا ہوں۔ مجھ میں سخت مجاہدات اور دشوار ریاضتوں کی طاقت نہیں۔ میری تمنا ہے کہ حضور کی نگاہِ کرم اور توجہِ باطنی سے اس عظیم نعمت سے بہرہ ور ہو جاؤں۔“
حضور شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اتنی بڑی دولت؛ اتنی جلدی چاہتے ہو ؟“
مجلس میں موجود ایک شخص نے بطورِ تعجب کہا: یہ بھی کوئی حلوہ ہے جو فوراً منہ میں رکھ دیا جائے!
حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی بات سن کر فرمایا: ”ایسا نہ کہو! اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے ؟“
پھر حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نوجوان کو ایک مخصوص درود شریف اس کے آداب و طریقے کے ساتھ تعلیم فرمایا اور ارشاد کیا: ”آج رات اسے پڑھنا۔“
نوجوان نے حکم کی تعمیل کی اور رات بھر نہایت انہماک کے ساتھ درود شریف کا ورد کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس درودِ پاک کی برکت سے اس پر ایسی عنایت فرمائی کہ حالتِ ذکر میں اسے سرورِ کائنات، رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارتِ اقدس نصیب ہوئی۔ اسی دوران اس پر ایک خاص روحانی کیفیت طاری ہوئی، جس کے نتیجے میں اس کے باطنی عقدے کھل گئے اور اس کے دل پر معرفت و یقین کے دروازے وا ہو گئے۔
صبح ہوتے ہی وہ نہایت شادمانی اور جذب و سرور کے عالم میں حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا:
”سبحان اللہ! رات مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر صدی کے اختتام پر میری امت میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جو میرے دین کی تجدید اور احیاء کا فریضہ انجام دے گا، اور اس صدی میں وہ مقدس ہستی آپ ہیں۔“
یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ حضور شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک درود شریف محض ایک وظیفہ نہ تھا بلکہ قربِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اصلاحِ باطن اور سلوک و معرفت کا ایک نہایت مؤثر اور مجرب ذریعہ تھا۔
خلیفہ محمد ارادت اللہ بدایونی حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نہایت مخلص مریدوں میں سے تھے۔ ایک عرصۂ دراز سے ان کے دل میں یہ آرزو موجزن تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک اور صالح اولاد، خصوصاً ایک فرزند عطا فرمائے، مگر بظاہر اس کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ اسی فکر اور تمنا میں وہ اکثر دعا کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللّٰہ عشقؔی و پیؔمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عرسِ مبارک کے موقع پر حاضر تھے۔ اس وقت فیوض و برکات کی بارش ہو رہی تھی اور حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہِ کرم اپنے مریدین پر خاص طور سے متوجہ تھی۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلیفہ ارادت اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا: ”ارادت اللہ! بتاؤ کیا چاہتے ہو ؟“ (واہ کیا شان ہے شہزادگانِ حبیبِ خدا ﷺ و رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم کی، بغیر بتائے ہی حالِ دل جان جاتے ہیں، امامِ اہلِ سنّت سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
یاد اس کی اپنی عادت کیجیے
”خلیفہ! پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش اور تیسرے کا الٰہی بخش۔“ یہ سن کر خلیفہ ارادت اللہ حیرت اور خوشی سے مغلوب ہو گئے۔ ادب و عقیدت کے ساتھ قدموں میں گر پڑے اور عرض کیا: ”حضور! مجھے تو اس کی کوئی امید نہیں۔“ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے سر مبارک کی کلاہ (ٹوپی شریف) عنایت فرمائی اور فرمایا: ”تمہیں امید نہ ہو تو کیا، مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل امید ہے۔“
خلیفہ ارادت اللہ یہ بشارت اور تبرک لے کر واپس ہوئے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہوا اور مقررہ مدت کے بعد ان کے گھر ایک فرزند پیدا ہوا۔ انہوں نے حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق اس کا نام کریم بخش رکھا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے مزید کرم فرمایا اور تین سال کے عرصے میں تینوں فرزند پیدا ہوئے۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن ناموں کی پیشگی نشاندہی فرمائی تھی، وہی نام بالترتیب کریم بخش، رحیم بخش اور الٰہی بخش رکھے گئے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تینوں بچے صحت و سلامتی کے ساتھ جوان ہوئے۔ ان میں سے دو صاحبزادوں نے اپنا آبائی پیشہ اختیار کیا، جبکہ کریم بخش نے علم و فضل کی راہ اپنائی۔ انہوں نے مروجہ علوم کی تکمیل کی، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں انگریزی حکومت میں ملازمت اختیار کی۔
علمی دنیا میں ان کا نام خاص طور پر اس وجہ سے زندہ ہے کہ مشہور کتاب ”کریم اللغات“ انہی کی تصنیف ہے، جو ان کے علمی ذوق اور قابلیت کی روشن یادگار سمجھی جاتی ہے۔
یہ واقعہ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبولیتِ دعا، قوتِ فراست اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روحانی برکات کا ایک نمایاں مظہر ہے۔
حضور تاج العلماء سید شاہ محمد میاں قادری برکاتی مارہروی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: ”حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ مظہرِ غوث الاعظم تھے۔“
حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشقِ غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ میں غرق ہو کر تحریر فرماتے ہیں:
اگر مانَد شبے مانَد شبِ دیگر نمی مانَد
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کو پریشان دیکھتے تو یہی شعر سنا کر اس کو سکون دیتے۔
سرکار اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چند مشہور خلفاء یہ ہیں: حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں، حضرت سید شاہ خیرات علی، حضرت عبد المجید عین الحق بدایونی، حضرت عبدالمجید عثمانی بدایونی، حضرت مولانا نظام الدین عباسی، حضرت شاہ نجف علی، حضرت مولوی نصیرالدین عثمانی بدایونی، حضرت قاضی عبد السلام, حضرت سید احمد شاہ، حضرت مولانا بہاء الحق عباسی، حضرت میاں حبیب اللہ شاہ بدایونی قدست اسرارہم۔
حضور شمس مارہرہ سرکار اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنا جانشین اپنے چھوٹے بھائی حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو نامزد فرمایا۔
١٧؍ربیع الاول شریف ١٢٣٥ھ بروز منگل، صبح کے وقت حضور شمس مارہرہ سرکار آل احمد اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ظاہری وصال ہوا۔
مزار شریف: حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرہانے سے بائیں جانب آرام فرما ہیں۔
حضور اچھے میاں سید شاہ آل احمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ فضل فاطمہ بنت سید غلام علی سلہڑوی بلگرامی علیہما الرحمۃ سے ہوا۔ ایک شہزادے حضرت سید شاہ آل نبی سائیں میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہوئے جو مادر زاد ولی تھے، جو منہ سے نکل جاتا ہے اللہ تعالیٰ پورا فرما دیتا۔ تقریب تسمیہ خوانی کے بعد بخار آیا اور نہایت کم عمری میں وصال ظاہری ہوا، خانقاہِ برکاتیہ میں بچوں کے حظیرہ میں مدفون ہیں۔ اور ایک شہزادی تھیں جن کا وصال بھی بچپن میں ہو گیا۔ اس طرح حضور آل احمد اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ موقوف ہوا اور سجادہ نشینی حضور آل برکات ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئی۔
جانِ اِنس و جانِ جان و جانِ جاناں آمدَہ
نامَتْ آلِ احمد و احمد شفیع الْمُذنِبیں
زاں دل از دستِ گُنہ پیشِ تو نالاں آمدَہ
چوں گلِ آلِ محمد رنگِ حمزہ برفُروخت
بوئے آلِ احمد اندر باغِ عرفاں آمدَہ
اے زُلالِ چشمۂ کوثر لبِ سیراب تو
بر درِ پاکَت رضاؔ با جانِ سوزاں آمدَہ
jamiaturrazastudents.com
میں تصدق میں فدا اچھے میاں
اب کمی کیا ہے خدا دے بندہ لے
میں گدا تم بادشاہ اچھے میاں
دین و دنیا میں بہت اچھا رہا
جو تمہارا ہوگیا اچھے میاں
مشکلیں آسان فرما دیجیے
اے میرے مشکل کشا اچھے میاں
ہو حسن سرکارِ والا کا حسن
کیجیے ایسی عطا اچھے میاں
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
چوتھے قطب: حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ
”اچھے“ پیارے شمسِ دیں بدرالعُلیٰ کے واسطے (آمین)
نام و کام و تن و جان و حال و مقال
سب میں اچھے کی صورت پہ لاکھوں سلام
(سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ)
آپ کا نام حضرت سید ”آل احمد“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ تاریخی نام ”سلطانِ مشائخِ جہاں“ ہے۔ کنیت ”ابوالفضل“ ہے۔ القاب: قدوۃ الکاملین، قطب العارفین، عاشقِ خدا، معشوقِ سرکارِ مصطفیٰ ﷺ، سید فخر الاولیاء، شمس ملت والدّین، شمس مارہرہ، نائب غوث اعظم، مظہرِ غوث اعظم، قطب زمانہ، اچھے میاں ہیں۔ حضور آل احمد اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور سیدنا سرکار حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے ہیں اور مارہرہ مطہرہ کے ان سات اقطاب میں چوتھے قطب ہیں جن کی بشارت حضور غوث پاک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عطا فرمائی۔ سرکار اچھے میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے برادران حضور ستھرے میاں اور حضور سچے میاں اور سید محمد علی علیہم الرحمۃ والرضوان ہیں۔
حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ مبارکہ ٢٨؍رمضان الکریم ١١٦٠ھ کو مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔ جس کا مادۂ تاریخ ”سلطانِ مشائخِ جہاں“ ہے۔
سرکار اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت سے قبل حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بشارت عطا فرمائی کہ ہمارے خاندان میں ایسے شہزادے پیدا ہوں گے جن سے خاندان کی شان و شوکت میں چار چاند لگ جائیں گے پھر حضور صاحب البرکات نے اپنا خرقہ آپ کی دادی کو عطا فرمایا۔ حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا جان حضور آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ نے سرکار شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بِسْمِ اللہِ خوانی کے موقع پر وہ خرقۂ غوثیہ منگا کر فرمایا کہ یہ خرقہ ان صاحبزادے کے لیے ہے جن کی بشارت والد ماجد نے دی تھی۔
حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے علومِ ظاہری و باطنی اور منازلِ سلوک کی تکمیل اپنے والد ماجد حضور شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمائی اور سبحان اللہ تعالیٰ! روحانی معلم سلطان الاولیاء سیدنا سرکار غوث الاعظم دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ فن طب سرکار شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کلیم نصر اللہ صاحب مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل فرمایا۔ مگر اس علم سے سوائے ستر تصرفات کا کام نہ لیا جاتا تھا بظاہر مریض کو معمولی دوا یا کسی درخت کے پتے تجویز فرماتے مگر حقیقتاً حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود چارہ سازی فرماتے۔
حضور شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیعت و خلافت والد ماجد حضور اسد العارفین سید شاہ حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہے اور حضور اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو سرکار غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہِ اقدس سے بھی بے شمار فیوض و برکات ملے۔
فخرُ الاولیاء حضرت سید شاہ آل احمد المعروف اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے عظیم پیشوا، امامِ طریقت اور شیخِ وقت ہیں۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت بلند پایہ عارف باللہ، صاحبِ کمال اور صاحبِ تصرف بزرگ ہیں۔ کرامات و خوارقِ عادات میں اپنی مثال آپ ہیں اور علومِ ظاہر و باطن میں ایسا مقام رکھتے ہیں کہ اہلِ علم و معرفت آپ کے فضل و کمال کے معترف ہیں۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے راہِ سلوک میں سخت ترین ریاضتیں اور مجاہدات اختیار فرمائے اور منازلِ قرب و معرفت طے کرتے ہوئے ولایت و عرفان کے اعلیٰ مدارج حاصل فرمائے۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کا ایک نمایاں وصف شفقت، خدمتِ خلق اور تربیتِ مریدین تھا۔ اپنے غلاموں، خدام اور وابستگان کی خبر گیری اور کفالت بنفسِ نفیس فرماتے۔ اخلاقِ نبوی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پیکر تھے اور حضور نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اوصافِ کریمانہ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ مخلوقِ خدا پر حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہِ شفقت ہر وقت سایہ فگن رہتی، لیکن بدایوں کے باشندوں اور اپنے خدام پر آپ کی خصوصی عنایات اور نوازشیں ہوا کرتی تھیں۔ آپ اکثر ارشاد فرمایا کرتے تھے: ”بدایوں ہماری جاگیر ہے، اور یہ جاگیر ہمیں حضورِ غوثیت مآب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ سے عطا ہوئی ہے۔“
علومِ ظاہر و باطن میں حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام اس قدر بلند تھا کہ بڑے بڑے علماء و فضلاء آپ کی خدمت میں حاضر رہتے اور علمی مشکلات میں آپ سے رجوع کرتے تھے۔ پیچیدہ سے پیچیدہ علمی اور فقہی مسائل کو حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسی عمدگی اور وضاحت کے ساتھ حل فرماتے کہ اہلِ علم حیرت زدہ رہ جاتے۔
ایک مرتبہ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آخری زمانۂ حیات میں حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جلیل القدر خلیفہ حضرت مولانا شاہ عبدالمجید عین الحق بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک دقیق علمی مسئلہ دریافت کیا۔ عرض کیا: اس مسئلہ میں متعدد علماء نے گفتگو کی ہے اور مختلف جوابات بھی دیے ہیں، لیکن دل کو اطمینان حاصل نہیں ہوا، حضور ہی اس کی حقیقت بیان فرما دیں۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ ایسا شافی جواب عطا فرمایا کہ تمام اشکالات رفع ہو گئے اور حاضرین آپ کے تبحرِ علمی پر عش عش کر اٹھے۔ آپ کے فضائل، مناقب، علمی عظمت اور روحانی مقامات کا تذکرہ اکابرِ امت نے بڑے احترام کے ساتھ کیا ہے۔ بالخصوص حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی معروف تصنیف ”ملفوظاتِ عزیزی“ میں آپ کے بلند مراتب، علمی کمالات اور روحانی مقامات کو نہایت وقیع اور عظیم الشان الفاظ میں بیان فرمایا ہے، جو آپ کی جلالتِ قدر اور رفعتِ شان پر روشن دلیل ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ایک صاحب نے بغداد شریف میں حضرت نقیب الاشراف قدس سرہٗ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر مسئلۂ وحدۃ الوجود کی حقیقت سمجھنے کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت نقیب الاشراف نے انہیں ارشاد فرمایا کہ اس مسئلے کی تشفی بخش توضیح کے لیے ہندوستان کا سفر اختیار کرو۔ چنانچہ وہ مختلف علماء اور مشائخِ کرام سے ملاقات کرتے ہوئے دہلی پہنچے اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے اپنا مدعا بیان کیا اور مسئلے کی وضاحت چاہی، مگر ان کے دل کو مکمل اطمینان حاصل نہ ہو سکا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اگر اس مسئلے کی حقیقی تسکین اور شرح چاہتے ہو تو مارہرہ (شریف) جاؤ اور حضرت اچھے میاں قدس سرہٗ کی خدمت میں حاضر ہو۔ وہ تمہارے اشکال کو اس طرح دور فرما دیں گے کہ دل کو کامل اطمینان حاصل ہو جائے گا۔“ یہ واقعہ سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علمی رسوخ، عرفانی بصیرت اور دقائقِ تصوف پر گہری نظر کا روشن ثبوت ہے۔
حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبادت، مجاہدہ اور ریاضت کے میدان میں بھی اپنے زمانے کے ممتاز اولیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیشتر وقت ذکرِ الٰہی، مراقبہ، وظائف، اشغالِ روحانی اور عبادات میں گزرتا تھا۔ شب و روز یادِ الٰہی میں مستغرق رہنا حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا۔ فرائضِ خمسہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوافل، اذکار، اوراد، صیام، مجاہداتِ نفس اور ریاضاتِ باطنیہ کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی طاعت و بندگی، زہد و تقویٰ اور خشیتِ الٰہی کا حسین نمونہ تھی۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ایک طاعت سے فارغ ہوتے تو دوسری طاعت میں مشغول ہو جاتے، اور ذکر و فکر، مراقبہ و مجاہدہ کا سلسلہ برابر جاری رہتا۔
حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روحانی محنتیں ہی تھیں جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضور سیدنا اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلند مقاماتِ ولایت، عظیم روحانی فیوض و برکات اور بے شمار قلوب کی اصلاح و تربیت کا شرف عطا فرمایا۔
سرکار عین الحق عبدالمجید قادری بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان سرکار غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ایماء پر حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے، اس طرح بدایوں شریف میں فیضانِ پیر خانہ پہنچا۔
حضور قدوۃ السالکین، حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شب و روز کے معمولات نہایت منظم، روحانیت سے بھرپور اور اتباعِ سنت کا حسین نمونہ تھے۔
حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہوتے، ضروری حاجات سے فارغ ہو کر وضو فرماتے اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ نمازِ تہجد ادا فرماتے۔ تہجد کے بعد بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر دینِ اسلام کی سربلندی، امتِ مسلمہ کی فلاح اور اپنے مریدین و متوسلین کی مغفرت و نجات کے لیے دعائیں فرماتے۔
جب دعا سے فراغت ہوتے تو حاضرینِ خانقاہ اور فقراء بلند آواز سے گیارہ مرتبہ کلمۂ طیبہ کا ذکر کرتے۔ اس وقت دروازے بند کر دیے جاتے تھے اور کسی غیر شخص کو خلوتِ خاص میں حاضری کی اجازت نہ ہوتی تھی۔
اس کے بعد حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ محل سرا میں تشریف لے جاتے اور کچھ دیر آرام فرمانے کے بعد دوبارہ خانقاہ میں جلوہ افروز ہوتے۔ وہاں درویشوں اور مریدوں کو طلب فرما کر ان کے حالات دریافت فرماتے، ان کی ضروریات معلوم فرماتے اور ہر ایک کی استعداد اور ضرورت کے مطابق اصلاح و تربیت فرماتے۔
پھر درگاہ شریف کی طرف تشریف لے جاتے اور سب سے پہلے اپنے والدِ ماجد کے مزارِ اقدس پر حاضر ہو کر فاتحہ خوانی اور قدم بوسی کی سعادت حاصل کرتے۔ اس کے بعد والدۂ ماجدہ، جدِ امجد اور عمِ مکرم کے مزاراتِ مبارکہ پر حاضری دے کر فاتحہ پڑھتے۔
اکثر اوقات درگاہِ عالیہ سے متصل بائیں باغ میں تشریف لے جاتے، جہاں جامُن کے درخت کے نیچے دری بچھا دی جاتی اور آپ وہاں کچھ دیر تشریف فرما رہتے۔ پھر خانقاہ واپس تشریف لاتے، جہاں دربارِ عام منعقد ہوتا۔ لوگ اپنی حاجات، مشکلات اور مسائل پیش کرتے اور آپ ان کی رہنمائی فرماتے۔
حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خدام کو مشقت اور غیر ضروری ریاضتوں سے محفوظ رکھتے تھے۔ اسی طرح اہلِ حاجت کو بھی عموماً طویل وظائف اور دشوار اعمال مرحمت نہیں فرماتے تھے، بلکہ اکثر صرف زبانی دعا یا مختصر تحریری حکم ہی کافی ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقصود حاصل ہو جاتا۔ اپنے اکابر کی سنت کے مطابق آپ روحانی تصرفات اور کرامات کو حتی الامکان پوشیدہ رکھتے تھے۔
دوپہر کے وقت کھانا طلب فرمایا جاتا تو عموماً گیہوں کی دو یا تین نرم و ہلکی چپاتیاں شوربے یا مونگ کی دال کے ساتھ تناول فرماتے۔ اس کے بعد قیلولہ فرماتے۔
پھر بیدار ہو کر ضروری امور سے فارغ ہوتے، وضو فرماتے اور نمازِ ظہر ادا کرتے۔ نماز کے بعد تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول رہتے۔ بعد ازاں خانقاہ میں تشریف فرما ہو کر درود شریف کا وظیفہ پڑھتے۔
نمازِ عصر مسجد میں باجماعت ادا فرماتے اور اس کے بعد دوبارہ خانقاہ میں رونق افروز ہوتے۔ پھر نمازِ مغرب بھی مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا فرماتے۔ نماز کے بعد فقراء ختمِ خواجگان کرتے اور پھر خانقاہ میں حاضر ہوتے۔
اس وقت خدام، مریدین اور اہلِ عقیدت نہایت ادب و احترام کے ساتھ حاضر ہو کر سلام و نیاز پیش کرتے۔ حضرت قبلہ سجادے پر جلوہ افروز ہو کر تسبیح کے ساتھ درود شریف کا ورد فرماتے۔
اس کے بعد نمازِ عشاء مسجد میں باجماعت ادا فرماتے اور نمازِ عشاء کے بعد دروازے بند کر دیے جاتے تھے۔ یوں آپ کا پورا شب و روز عبادت، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، خدمتِ خلق، تربیتِ مریدین اور اشاعتِ دین میں گزرتا تھا۔
راہِ سلوک کو درود شریف سے طے کرنا:
آثارِ احمدی میں مذکور ہے کہ بخارا کا ایک نوجوان طلبِ حق کے جذبے سے سرشار ہو کر مارہرہ شریف حاضر ہوا۔ اس نے خانقاہِ عالیہ میں نمازِ ظہر ادا کی اور پھر حضور سیدنا اچھے میاں شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا:
”حضور! میں آپ کا نامِ نامی سن کر حصولِ حق اور معرفتِ الٰہی کی جستجو میں یہاں حاضر ہوا ہوں۔ مجھ میں سخت مجاہدات اور دشوار ریاضتوں کی طاقت نہیں۔ میری تمنا ہے کہ حضور کی نگاہِ کرم اور توجہِ باطنی سے اس عظیم نعمت سے بہرہ ور ہو جاؤں۔“
حضور شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اتنی بڑی دولت؛ اتنی جلدی چاہتے ہو ؟“
مجلس میں موجود ایک شخص نے بطورِ تعجب کہا: یہ بھی کوئی حلوہ ہے جو فوراً منہ میں رکھ دیا جائے!
حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی بات سن کر فرمایا: ”ایسا نہ کہو! اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے ؟“
پھر حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نوجوان کو ایک مخصوص درود شریف اس کے آداب و طریقے کے ساتھ تعلیم فرمایا اور ارشاد کیا: ”آج رات اسے پڑھنا۔“
نوجوان نے حکم کی تعمیل کی اور رات بھر نہایت انہماک کے ساتھ درود شریف کا ورد کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس درودِ پاک کی برکت سے اس پر ایسی عنایت فرمائی کہ حالتِ ذکر میں اسے سرورِ کائنات، رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارتِ اقدس نصیب ہوئی۔ اسی دوران اس پر ایک خاص روحانی کیفیت طاری ہوئی، جس کے نتیجے میں اس کے باطنی عقدے کھل گئے اور اس کے دل پر معرفت و یقین کے دروازے وا ہو گئے۔
صبح ہوتے ہی وہ نہایت شادمانی اور جذب و سرور کے عالم میں حضور شمس مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا:
”سبحان اللہ! رات مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر صدی کے اختتام پر میری امت میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جو میرے دین کی تجدید اور احیاء کا فریضہ انجام دے گا، اور اس صدی میں وہ مقدس ہستی آپ ہیں۔“
یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ حضور شمسِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک درود شریف محض ایک وظیفہ نہ تھا بلکہ قربِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اصلاحِ باطن اور سلوک و معرفت کا ایک نہایت مؤثر اور مجرب ذریعہ تھا۔
خلیفہ محمد ارادت اللہ بدایونی حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نہایت مخلص مریدوں میں سے تھے۔ ایک عرصۂ دراز سے ان کے دل میں یہ آرزو موجزن تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک اور صالح اولاد، خصوصاً ایک فرزند عطا فرمائے، مگر بظاہر اس کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ اسی فکر اور تمنا میں وہ اکثر دعا کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللّٰہ عشقؔی و پیؔمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عرسِ مبارک کے موقع پر حاضر تھے۔ اس وقت فیوض و برکات کی بارش ہو رہی تھی اور حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہِ کرم اپنے مریدین پر خاص طور سے متوجہ تھی۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلیفہ ارادت اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا: ”ارادت اللہ! بتاؤ کیا چاہتے ہو ؟“ (واہ کیا شان ہے شہزادگانِ حبیبِ خدا ﷺ و رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم کی، بغیر بتائے ہی حالِ دل جان جاتے ہیں، امامِ اہلِ سنّت سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
یاد اس کی اپنی عادت کیجیے
”خلیفہ! پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش اور تیسرے کا الٰہی بخش۔“ یہ سن کر خلیفہ ارادت اللہ حیرت اور خوشی سے مغلوب ہو گئے۔ ادب و عقیدت کے ساتھ قدموں میں گر پڑے اور عرض کیا: ”حضور! مجھے تو اس کی کوئی امید نہیں۔“ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے سر مبارک کی کلاہ (ٹوپی شریف) عنایت فرمائی اور فرمایا: ”تمہیں امید نہ ہو تو کیا، مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل امید ہے۔“
خلیفہ ارادت اللہ یہ بشارت اور تبرک لے کر واپس ہوئے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہوا اور مقررہ مدت کے بعد ان کے گھر ایک فرزند پیدا ہوا۔ انہوں نے حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق اس کا نام کریم بخش رکھا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے مزید کرم فرمایا اور تین سال کے عرصے میں تینوں فرزند پیدا ہوئے۔ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن ناموں کی پیشگی نشاندہی فرمائی تھی، وہی نام بالترتیب کریم بخش، رحیم بخش اور الٰہی بخش رکھے گئے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تینوں بچے صحت و سلامتی کے ساتھ جوان ہوئے۔ ان میں سے دو صاحبزادوں نے اپنا آبائی پیشہ اختیار کیا، جبکہ کریم بخش نے علم و فضل کی راہ اپنائی۔ انہوں نے مروجہ علوم کی تکمیل کی، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں انگریزی حکومت میں ملازمت اختیار کی۔
علمی دنیا میں ان کا نام خاص طور پر اس وجہ سے زندہ ہے کہ مشہور کتاب ”کریم اللغات“ انہی کی تصنیف ہے، جو ان کے علمی ذوق اور قابلیت کی روشن یادگار سمجھی جاتی ہے۔
یہ واقعہ حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبولیتِ دعا، قوتِ فراست اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روحانی برکات کا ایک نمایاں مظہر ہے۔
حضور تاج العلماء سید شاہ محمد میاں قادری برکاتی مارہروی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: ”حضور اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ مظہرِ غوث الاعظم تھے۔“
حضور شمس مارہرہ اچھے میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشقِ غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ میں غرق ہو کر تحریر فرماتے ہیں:
اگر مانَد شبے مانَد شبِ دیگر نمی مانَد
حضور نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کو پریشان دیکھتے تو یہی شعر سنا کر اس کو سکون دیتے۔
سرکار اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چند مشہور خلفاء یہ ہیں: حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں، حضرت سید شاہ خیرات علی، حضرت عبد المجید عین الحق بدایونی، حضرت عبدالمجید عثمانی بدایونی، حضرت مولانا نظام الدین عباسی، حضرت شاہ نجف علی، حضرت مولوی نصیرالدین عثمانی بدایونی، حضرت قاضی عبد السلام, حضرت سید احمد شاہ، حضرت مولانا بہاء الحق عباسی، حضرت میاں حبیب اللہ شاہ بدایونی قدست اسرارہم۔
حضور شمس مارہرہ سرکار اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنا جانشین اپنے چھوٹے بھائی حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو نامزد فرمایا۔
١٧؍ربیع الاول شریف ١٢٣٥ھ بروز منگل، صبح کے وقت حضور شمس مارہرہ سرکار آل احمد اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ظاہری وصال ہوا۔
مزار شریف: حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرہانے سے بائیں جانب آرام فرما ہیں۔
حضور اچھے میاں سید شاہ آل احمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح حضرت سیدہ فضل فاطمہ بنت سید غلام علی سلہڑوی بلگرامی علیہما الرحمۃ سے ہوا۔ ایک شہزادے حضرت سید شاہ آل نبی سائیں میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہوئے جو مادر زاد ولی تھے، جو منہ سے نکل جاتا ہے اللہ تعالیٰ پورا فرما دیتا۔ تقریب تسمیہ خوانی کے بعد بخار آیا اور نہایت کم عمری میں وصال ظاہری ہوا، خانقاہِ برکاتیہ میں بچوں کے حظیرہ میں مدفون ہیں۔ اور ایک شہزادی تھیں جن کا وصال بھی بچپن میں ہو گیا۔ اس طرح حضور آل احمد اچھے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ موقوف ہوا اور سجادہ نشینی حضور آل برکات ستھرے میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئی۔
جانِ اِنس و جانِ جان و جانِ جاناں آمدَہ
نامَتْ آلِ احمد و احمد شفیع الْمُذنِبیں
زاں دل از دستِ گُنہ پیشِ تو نالاں آمدَہ
چوں گلِ آلِ محمد رنگِ حمزہ برفُروخت
بوئے آلِ احمد اندر باغِ عرفاں آمدَہ
اے زُلالِ چشمۂ کوثر لبِ سیراب تو
بر درِ پاکَت رضاؔ با جانِ سوزاں آمدَہ
jamiaturrazastudents.com
میں تصدق میں فدا اچھے میاں
اب کمی کیا ہے خدا دے بندہ لے
میں گدا تم بادشاہ اچھے میاں
دین و دنیا میں بہت اچھا رہا
جو تمہارا ہوگیا اچھے میاں
مشکلیں آسان فرما دیجیے
اے میرے مشکل کشا اچھے میاں
ہو حسن سرکارِ والا کا حسن
کیجیے ایسی عطا اچھے میاں
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
- 1 ”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب
- 2 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 3 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 4 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 5 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 6 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 7 اخلاص
- 8 کسی کا انتظار ہے
- 9 انتظار
- 10 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 11 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 12 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 13 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 14 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 15 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 16 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 17 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 18 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 19 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 20 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 21 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 22 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 24 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 25 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 26 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 27 اسلام اور رزقِ حلال
- 28 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 2 تنہائی میں
- 3 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 4 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 5 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 6 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 7 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 8 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 9 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 10 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
مسلک اعلیٰ حضرت ضروری کیوں ؟
مسلک اعلیٰ حضرت ضروری کیوں ؟ "نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ،بسم اللہ الرحمن الرحیم "یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ " صدق اللہ العلی العظیم" حضرات محترم...
نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)
"نقاءُ السُّلَافَةِ فِي أَحْكَامِ الْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَةِ (خلاصہ)" الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔ اسلام میں اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس اور تعلق مع اللہ کی بنیاد جن اصولوں پر...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us