صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
زندوں کی قدر
شخصیات اسلاف واخلاف

زندوں کی قدر

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

زندوں کی قدر
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
جو جا چکے ہیں ان پہ صنم صبر کیجے
زندہ ابھی ہوں میں تو مری قدر کیجیے
اللہ جل جلالہ کے نیک بندوں سے زمین کبھی خالی نہ ہوگی علم کے ساتھ ساتھ ولایت کی سب سے بڑی دلیل تقوی باللہ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ استقامت فی سبیل اللہ ہوتی ہے جس کے اندر یہ خوبیاں نہیں ہوتیں تو وہ ولایت کا حامل ہر گز نہیں ہو سکتا ہے لیکن ولایت ایک مخفی شی ہے جس کا پتہ ہر کس و ناکس کو نہیں ہوتا ہے کہ کون ولی ہے اور کون نہیں اس کے لیے وہی قاعدۂ پارینہ ہے ولی را ولی می شناسد
لیکن جن کے اندر متذکرہ بالا صفات ہوں تو وہ ضرور اللہ کا نیک بندہ متقی پرہیزگار عامل سنت عالم با عمل کہے جانے کے مستحق ہوں گے ایسی ذوات کی تعریف و توصیف و ثنا باعث برکت و نجات ہوگی خواہ وہ حیات میں ہو یا بعد وفات ،
آج بعض حضرات کا کہنا ہے کہ جب کوئی متبحر عالم دین با حیات ہوتے ہیں تو ادبا حضرات ان پر خامہ فرسائی نہیں کرتے ہیں کہ ان کا تعارف ہو سکے اور ان سے استفادہ کیا جا سکے لیکن جب داعی اجل کو لبیک کہ دیتے ہیں پھر پتہ چلتا ہے کہ ہم جس سونے کی تلاش میں ادھر ادھر در بدر بھٹکتے رہے تھے آج اسے اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کر دیا اب کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں رہتا ہے یہ بات از قبیل حقیقت بھی ہے
لیکن اس میں ہماری بھی کمیاں ہیں کہ ہم خود ایسی ذوات کو تلاش کر کے ان کے پاس نہیں جاتے ہیں یا جاتے بھی ہیں تو فردا فردا جاتے ہیں ایک ذات فردا فردا کتںے اشخاص کو جام علم و ادب سے سیراب کر سکتی ہے ہاں اگر ایک جماعت ہو اور وہ اس سے اکتساب فیض کرنا چاہے تو وہ کبھی منع نہیں کرے گی ہاں جب کہ کوئی ضروری مصروفیت در پیش ہو
نیز تعصب پرستی ہے کہ کوئی کسی کی کھل کر تعریف حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتا ہے اگر کوئی کرتا بھی ہے تو دبے الفاظ میں اکثر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ میری واہ وائی ہو میں خود بڑا ہوں میں خود اپنے وقت کا ایک خاندانی باقار ذی علم شخص ہوں میں کسی کی تعریف اس کے سوا زیادہ کچھ کیوں لکھوں کہ فلاں مولانا اچھا کام کرتے ہیں اگر چہ وہ اپنے وقت کا کتنا ہی بڑا مفکر و مدبر ہو،
ایک بات یہ بھی ہے اس دور پر فتن میں القاب اتنے سستے ہو گئے ہیں کہ اگر کسی کو علامہ فہامہ ڈاکٹر مفکر متقی لکھ کر بھی ان کی ذات کی خصوصیات بتانا چاہو تو لوگ خود فیصلہ کر لیتے ہیں کہ القاب تو محض تحسین نام کے لیے ہے باقی وہ بھی ایک مولوی صاحب ہیں اور بس القاب دینے والا صرف اپنی دکان چمکانا چاہتا ہے اب قارئین و سامعین ایک چند کتاب کے مطالع کو اور ایک جید باشرع عالم دین کو برابر سمجھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے مستحقین توجہ کی طرف توجہ مبذول نہیں ہوتی ہے
ہاں ایک راستہ ہے ایسے انمول حضرات کی طرف جو دینی کاموں میں ہمیشہ مشغول رہتے ہیں دن کو دن رات کو رات نہیں سمجھتے ہیں بس رضائے الٰہی کے لیے خدمت دین میں لگے رہتے ہیں بڑے لوگ متوجہ ہو جائیں انھیں عوام و خواص کے سامنے دینی کاموں کی خدمات پر انعامات سے نوازیں حوصلہ افزائی کریں اور ان کے دینی خدماتی پہلؤں کو عوام و خواص پر اجاگر کریں تو اس سے یہ ہوگا کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت رچ بس جائے گی سب کو یقینی طور پر معلوم ہو جائے گا کہ ہاں یہ بہت بڑے عالم دین ہیں پھر ان سے طلبا علما استفادہ بھی کر سکیں گے ورنہ ظاہری جبہ و دستار والوں کی وجہ سے باطنی جبہ و دستار والوں کی بھی عزت اور خاطر خواہ خدمت نہیں ہو پاتی ہے
آج بھی بہت ساری ہستیاں ہیں جو گوشۂ گمنامی میں عشرت منامی کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن شاید ہی کسی کو ان کی عظمت و رفعت علم و جلالت تقوی و طہارت کے بارے معلوم ہو چند عبقری شخصیات ، جو خلوت پسند ہیں ان کے اسماء اور مختصر حالات یہاں ذکر کر دیتا ہوں تاکہ جو استفادہ کے شائقین حضرات ہیں ان سے استفادہ کر سکیں
مقبول العلما دام ظلہ العالی ______
خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند و منظور نظر، مقبول العلما استاذ الاساتذہ استاذ محدث بریلوی شیخ صالح صاحب قبلہ، صوفی با صفا، زینت اتقیا حضور علامہ خواجہ محمد مقبول صاحب قبلہ پورنوی دام ظلہ العالی [سنگھیا ٹھاٹھول بائسی پورنیہ بہار] کی ذات ستودہ صفات گوناگوں خوبیوں کی حامل ہے آپ صوفی صفت ذی علم شخصیت ہیں جامعہ مظہر اسلام مسجد بی بی جی بریلی شریف میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیے آپ کے شاگردوں میں جید متبحر علماء کرام ہیں انھیں میں حضور شیخ صالح محدث بریلوی ہیں جو آپ کی بہت ہی زیادہ عزت و قدر کرتے ہیں جب خواجہ آصف مصباحی صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ شہزادۂ مقبول العلما جامعۃ الرضا میں بحیثیت مدرس قیام پذیر تھے اور حضرت شیخ صاحب سے ملاقات کے لیے جاتے تو حضور شیخ صاحب ان کو اپنے قریب بٹھاتے اس لیے کہ وہ ان کے استاذ کے صاحب زادے ہیں
تاجدار اہل سنت شہزادۂ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کو حضور مقبول العلما سے اس قدر محبت تھی کہ حضور مفتی اعظم ہند، مقبول العلما کی شادی میں بائسی پورنیہ تشریف لے گئے اور بارات بھی گئے اسی بارات میں حضور مفتی اعظم کی ایک کرامت ظاہر ہوئی جس کے راوی آج بھی کثیر تعداد میں بائسی میں موجود ہیں کرامت یہ ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند پالکی میں بارات جا رہے تھے منہ میں پان تھا آپ نے جو پس خوردہ نیچے پھینکا وہ ایک معذور شخص کے پیر میں جا گرا خدا کا کرم ہوا کہ اس پس خوردۂ حضور مفتی اعظم کی برکت سے وہ پیر سے معذور شخص صحت یاب ہو گیا
حضور مقبول العلما فی الوقت اپنے دولت کدہ سنگھیا ٹھاٹھول بائسی پورنیہ بہار میں قیام پذیر ہیں اس ضعیف العمری میں بھی کبھی ایک وقت کی نماز قضا نہیں ہوتی آپ کی ذات میں تقوی طہارت علم و فراست میں حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ کی جھلک نمایاں ہیں
شیخ صالح محدث بریلوی دام ظلہ العالی _______
خلیفۂ حضور تحسین ملت منظور نظر مفتی اعظم ہند یادگار اسلاف فقیہ بے نظیر نمونۂ تصوف جلیل القدر عالم استاذی الکریم شیخ مفتی محمد صالح قادری بریلوی دام ظلہ العالی شیخ الحدیث جامعۃ الرضا بریلی شریف متبحر عالم دین مفتی اعظم ہند کے پروردہ ہیں حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ آپ کی ولایت کے قائل تھے علم و ادب میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ مستجاب الدعوات بزرگ ہیں جن کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی اس پر بہت سارے واقعات شاہد ہیں راقم الحروف نے خود ایک ایسے شخص کے لیے جو بیس سال سے شراب نوشی میں مشغول تھا بہت تجربے اپنانے کے باوجود وہ چھوڑ نہیں پاتا تھا اس کے لیے دعا کروائی خدا کا کرم ہوا کہ اب وہ ایسا ہو گیا لگتا ہی نہیں کہ کبھی وہ شراب کے قریب بھی گیا ہو اب وہ خود ان چیزوں سے گھن کرتا ہے اور دوسروں کو روکتا ہے حضور شیخ صالح صاحب کے تقوے کی کوئی مثال نہیں ہے ہمیشہ یاد الہی میں محو رہتے ہیں دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے بے گانہ ہیں
ذکری للذاکرین ترجمہ تنبیہ الغافلین علاوہ ازیں آپ کی اردو عربی میں کئی تصانیف ہیں
جب ہمیں بخاری شریف پڑھاتے تھے تو بعض جگہ پر فرماتے علامہ بدر الدین عینی نے اس کی تشریح یوں کی ہے اور بہت لمبی بحث کی ہے لیکن وہ انگلی رکھنے [اعترض کرنے] کی جگہ ہے اگر اس کا ترجمہ یوں کر دیتے تو کوئی لمبی تمہید نہیں باندھنی پڑتی پھر آپ وہ ترجمہ کرتے اور طلبہ سن کر اش اش کر اٹھتے
حضور شیخ صالح صاحب محدث بریلوی دام ظلہ العالی فی الوقت بریلی شریف میں قیام پذیر ہیں جو حضرات اکتساب فیض کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں
علامہ قمر الدین پورنوی حفظہ اللہ تعالی__________
تلمیذ ملک العلما قمر قطب پورنیہ حضرت علامہ محمد قمر الدین پورنوی دام ظلہ العالی [لعل گنج پورنیہ بہار] حضور رئیس العلما مولانا مسلم علیہ الرحمہ کے چھوٹے بھائی ہیں بڑے ہی متقی پرہیز گار تقوی شعار ہیں نمازوں کی پابندی ضعیف العمری میں بھی ایسی ہی ہے جیسی جوانی میں تھی آپ کے تقوے کو دیکھ کر حضور قطب پورنیہ مجدد سلسلۂ رشیدیہ زعیم العلما علامہ یسین رشیدی پورنوی رضی اللہ عنہ آپ کو مصلی امامت میں کھڑ کیے اور جب تک وہ خانقاہ رشیدیہ چمنی بازار میں رہے تو نماز پڑھاتے رہے اگر کبھی نظر نہ آتے تو حضور زعیم العلما فرماتے میرا قمر کدھر چھپ گیا
بحر العلوم کٹیہار میں رہ کر خلیفۂ اعلی حضرت حضور ملک العلما سید ظفر الدین بہاری مصنف صحیح البہاری رضی اللہ عنہ سے تعلیم حاصل کی اور اکتساب فیض کیا خاص کر حضور ملک العلما کے تقوے سے بہت متاثر ہوئے اور اپنی زندگی کو ان کے نقش قدم پر ڈھال دی ابھی حضرت لعل گنج ملکی پورنیہ بہار میں جلوہ افروز ہیں شائقین حضرات مل کر دعائیں لے سکتے ہیں
علامہ قاضی شہید عالم کٹیہاری دم ظلہ العالی _______
شاگرد حضور امام علم و فن وارث علوم امام علم و فن نیر برج سخن نازش علم و ادب رونق مسند افتاء جامع معقولات و منقولات ادیب بے نظیر ماہر فلکیات حاوی منطق و فلسفہ و توقیت و جفر علامہ قاضی شہید عالم کٹیہاری دام ظلہ العالی عرصۂ دراز سے جامعہ نوریہ باقر گنج بریلی شریف میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں جن نادر و نایاب علوم و فنون میں آپ کو ید طولی حاصل ہیں پورے ہند و پاک میں شاید ہی کسی کو ان علوم میں مہارت ہو
قارئین کرام پہلے حضور امام علم و فن خواجہ مظفر حسین رضی اللہ عنہ سے ایک انٹرویو میں جو سوالات کیے گیے ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیں اور قاضی شہید کٹیہاری دام ظلہ العالی کی علمی لیاقت کو سمجھیں
سوال :۔ عالم اسلام میں آپ کم یاب علوم و فنونِ قدیمہ کے واحد امین و علم بردار ہیں ۔ آپ نے اپنی علمی وفنی امانت کو کس طرح محفوظ کیا ہے۔؟
جواب : موجودہ زمانہ میں چونکہ حصول علم برائے معاش ہو گیا ہے اس لیے اس سلسلے میں صعوبات برداشت کرنے اور ان بھاری بھر کم بوجھوں کو اٹھانے والے نہیں ملتے۔ سب سہل پسند ہو گئے ہیں ۔ ویسے یہ امانت مولانا قاضی شہید عالم کٹیہاری اور مفتی مطیع الرحمن مضطر پورنوی کی طرف کچھ حد تک منتقل ہو چکی ہے۔
مزید کریدنے پر انہوں نے بتایا کہ مولانا قاضی شہید عالم علوم دیمہ کا کچھ زیادہ علم رکھتے ہیں جب کہ مفتی مطیع الرحمن علوم قدیمہ کا علم کچھ کم مگر فقہ میں گہرائی زیادہ رکھتے ہیں۔
سوال :۔ چونکہ آپ نے مذکورہ علوم و فنون کو بغیر کسی استاد کے صرف اپنی کوششوں ، مطالعہ اور تحقیقات وغیرہ کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔ کیا مختلف مسائل کے حل و نتائج اخذ کرتے وقت آپ کبھی خطا نہیں کرتے ؟
جواب: میرا اخذ شده حل و نتائج بالکل درست و معتبر ہوتے ہیں۔ میرے پاس پوری دنیا سے ہیئت و فلکیات سے متعلق سوالات آتے ہیں جن کا میں بالکل درست اور تشفی بخش جوابات دیتا ہوں ۔
سوال: کیا علوم قدیمہ سے متعلق آپ کی تصانیف بھی ہیں؟
جواب : ان علوم و فنون پر کوئی تصنیف تو نہیں ہے البتہ ان سے متعلق مضامین میں مسلسل لکھتا آرہا ہوں ۔ ( ویسے خواجہ صاحب ، صاحب تصانیف بھی ہیں ۔ )
سوال: آپ نے مذکورہ علوم وفنون کی حفاظت کے لئے جتن کیوں نہیں کیا ؟
جواب : میری مصروفیات اتنی زیادہ ہیں کہ اس کام کے لئے وقت ہی نہیں بچتا ہے۔
سوال: کیا اب یہ سمجھا جائے کہ آپ کے ساتھ ہی مذکورہ نایاب و کم یاب علوم فنون بھی دنیا سے اٹھ جائیں گے؟
جواب : جی ہاں، شاید ایسا ہی ہو۔
[تحقیقات امام علم و فن ص: ۱۰]
اور ایسا دکھ بھی رہا ہے بہت سے علوم و فنون وہ ہیں جو فقط کتابوں میں ہیں صدور انسان سے غائب ہیں یہاں تک کہ فتاوی رضویہ کے بہت سارے گوشے ایسے ہیں جن کو سمجھنے والے اب نہیں ملتے اگر چراغ جلا کر ڈھونڈیں گے تو گھوم پھر کر پھر وہیں علامہ قاضی شہید عالم کٹیہاری دام ظلہ العالی کے پاس پہنچیں گے میں نے سیمنار میں ان کے رسوخ فی العلم کو دیکھا ہے جزئیات میں ایسی پکڑ کہ انگشت بدنداں رہ جائیں جب بولے تو لگے کہ کوئی راسخ فی العلم بول رہا ہے لیکن سوال یہ ہے جو علوم امام علم و فن کے سینے سے منتقل ہو کر ان تک پہنچے کیا ان علوم کو کسی نے ان سے حاصل کیا ؟
یا پھر یہ علوم بھی ان کے ساتھ ساتھ اٹھ جائیں گے؟
اے طلباء علم و فن اے بارگاہ مقتدر اے حاملان جبہ و دستار آج ان کی قدر کر لو ان سے اکتساب فیض کر لو اگر یہ سورج ڈھل گیا تو زمانے میں تاریکی چھا جائے گی
علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی_______
امیر القلم زینت بزم علم و ادب درویش صفت محنت کش جفا کش سیاح وقت نمونۂ اسلاف حضرت علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی دام ظلہ العالی آپ بھی انھیں ہستیوں میں سے ہیں جسے دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جب آپ تحقیقی مراحل کو طے کرنے کے لیے پاکستان تشریف لے گئے تو علامہ شاہ تراب الحق قادری رضی اللہ عنہ آپ کو اپنے گھر لے گئے عزت و احترام سے خواب نوازے ایک جلسہ کرایا جس میں آپ کو علامہ تراب الحق علیہ الرحمہ نے انعامات و اکرام سے نوازا اس کے بعد بھی بعض جلسے کیے گیے جس میں آپ کو مہمان خصوصی کے طور پر اور آپ کے کاموں کو سراہنے کے لیے مدعو کیا گیا افسوس کہ دوسرے ملک کے علما نے تو آپ کی پذیرائی کی لیکن اپنے علما نے آپ کو سراہنے سے اپنے ہاتھوں کو کھینچ لیا زبانوں کو منہ میں بند کر لیا حتی کہ بہار کے علما نے بھی آپ کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی جب کہ ان علماء کرام کو جن کو کوئی جانتا نہیں تھا جن کو لوگوں نے بھلا دیا تھا جو پردۂ گمنامی میں جنت الفردوس کی بھینی بھینی ہواؤں سے لطف اندوز ہو رہے تھے حضرت نے ان کی حیات و خدمات پر کاملان پورنیہ لکھ کر پورنیہ کے عوام و خواص کو ان کے اسلاف کی تاریخ سے روشناس کرایا اور فرزندان پورنیہ پر احسان عظیم فرمایا بلکہ علما پورنیہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ پر آپ کے ایسے گرانقدر کارنامے ہیں شاید آپ سے پہلے کسی نے اس طرف توجہ بھی نہ دی ہو کئی جلدوں میں خطوط اعلی حضرت کو جمع کیا جن میں علمی فنی بیش بہا جواہر پارے ہیں
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں:
ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی عربی فارسی اور اردو علوم وفنون کے عالم و فاضل ہیں عمر چونتیس سال ہے [ابھی آپ کی عمر ترپن سال ہے پروفیسر مسعود صاحب کی یہ تحریر انیس سال پہلے کی ہے] مگر کام ماشاء اللہ عمر سے بہت زیادہ ہیں، بہت سی ڈگریاں ہیں مگر غرور علم سے پاک ہیں۔ بہار یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کے لئے امام احمد رضا محدث بریلوی کی مکتوب نگاری پر تحقیقی مقالہ پیش کیا بس پھر لکھتے چلے گئے اور ایک دو نہیں اس کام کے صدقے سترہ کتابیں لکھ ڈالیں جن میں سے بعض کی دو دو اور تین تین جلدیں ہیں۔ دیندار خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کی زندگی عمل سے عبارت ہے۔ وہ عہد جدید کے جوانوں کے لئے ایک چمکتی دمکتی مثال ہیں کامیابیوں نے قدم چومے، بحیثیت طالب علم بھی کامیاب رہے اور بحیثیت استاد بھی اور بحیثیت محقق و دانشور بھی کامیاب رہے۔ دنیا سے بیزار و بے نیاز، حق کے طلب گار، لگن کے پکے، ارادے کے پختہ سیاست سے دور، صداقت شعار، سادہ و بے تکلف غریب و غم خوار، دردمند و دم ساز ...... [پرواز خیال ص ۹]
یہ تو انیس سال پہلے کا تاثر ہے ابھی تو آپ کی عمر ترپن سال ہو چکی ہے اور تصانیف کی تعداد درجنوں بڑھ چکی ہیں اگر کوئی علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کا درد دل پڑھنا چاہے تو وہ آپ کی تصنیف بولتی تصویریں پڑھ لے قاری کے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور سوچ میں پڑ جائے گا کہ کیا دنیا ایسے محسن و مربی کے ساتھ بھی اجنبی پن کا اظہار کرتی ہے
یہی وہ مرد درویش ہے جس نے کشن گنج میں امام احمد رضا یونیورسٹی بنانے کا عزم مصمم کیا بیس ایکڑ زمین خریدی لیکن ابھی تک یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا کیونکہ ہماری قوم ابھی پیروں کو خوش کرنے میں لگی ہے اعراس و اجلاس قوالی ڈھول تاشے سے فرصت ہی نہیں ہے بے چاری قوم خرافات میں ڈوبی ہوئی ہے اگر ایک سال جلسے کے روپے ہماری قوم اس طرف لگا دیتی تو امام احمد رضا یونیورسٹی کی عمارتیں آسمان سے آنکھیں ملاتی ہوئی نظر آتیں لیکن افسوس کثیر تعداد بچیاں کشن گنج میں بھی مرتد ہو رہی ہیں لیکن سب خواب خرگوش میں ہیں یہ مرد درویش چیخ چیخ کر جگانا چاہتا ہے لیکن کوئی جاگنا ہی نہیں چاہتا ہے آہ کیسی قوم ہے ایسے بلبل کی پکار کو بھی صدائے باز گشت ثابت کرنا چاہتی ہے، پھر بھی!
اک بلبل ہے کہ ہے محوِ ترنم اب تک
اس کے سینے میں ہے جزبوں کا تلاطم اب تک
ابھی بھی بہت ساری ہستیاں ہیں جو پردۂ گمنامی میں عشرت منامی کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن اس تنگ تحریر میں کس کس کو بیان کروں کس کو چھوڑ دوں بس یہی کہوں کہ جو ذرہ جہاں پر وہیں آفتاب ہے چاہتا تو یہی ہوں کہ تحریر مختصر ہو لیکن پھر بھی طویل ہو جاتی ہے امید ہے کہ قارئین معذور گردانیں گے
خلاصۂ کلام
سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انزلوا لناس منازلھم کہ لوگوں کو ان کے مرتبے پر رکھو جن کا جو مرتبہ ہے ان کو دو ان سے چشم پوشی مت کرو اور جو نا اہل ہو اسے جبہ و دستار پہنا کر اہل کی صف میں کھڑا نہ کرو
یہ انزلوا کی روشنی میں کہتا ہے جسیم
جو منزلیں ہیں جن کی انھیں نذر کیجیے
دنیا گواہ ہے اس بات پر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور کی تصدیق کی تو حضور نے انھیں صدیق کا لقب دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب حق و باطل میں تفریق کر دی تو انھیں فاروق کا لقب دیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان سخاوت پر قرآن کی آیت حضور نے سنائی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولی، ابو تراب کا لقب دیا یہ بارگاہ رسالت سے صحابہ کرام کی حوصلہ افزائی تو ہے ان کو ان کی منزل عطا کرنا ہی تو ہے حق دار کو ان کا حق ہہنچانا یہ تو درس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جسے آج ہم نے بھلا دیا اور اپنے اکابر کی قدر کھو دی
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس دور پر فتن میں عزیزان محترم
اللہ والے درمیاں ہیں فخر کیجیے
اللہ جل و علا ہمیں اپنے اکابر کی عزت و احترام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

زندوں کی قدر

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

زندوں کی قدر
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
جو جا چکے ہیں ان پہ صنم صبر کیجے
زندہ ابھی ہوں میں تو مری قدر کیجیے
اللہ جل جلالہ کے نیک بندوں سے زمین کبھی خالی نہ ہوگی علم کے ساتھ ساتھ ولایت کی سب سے بڑی دلیل تقوی باللہ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ استقامت فی سبیل اللہ ہوتی ہے جس کے اندر یہ خوبیاں نہیں ہوتیں تو وہ ولایت کا حامل ہر گز نہیں ہو سکتا ہے لیکن ولایت ایک مخفی شی ہے جس کا پتہ ہر کس و ناکس کو نہیں ہوتا ہے کہ کون ولی ہے اور کون نہیں اس کے لیے وہی قاعدۂ پارینہ ہے ولی را ولی می شناسد
لیکن جن کے اندر متذکرہ بالا صفات ہوں تو وہ ضرور اللہ کا نیک بندہ متقی پرہیزگار عامل سنت عالم با عمل کہے جانے کے مستحق ہوں گے ایسی ذوات کی تعریف و توصیف و ثنا باعث برکت و نجات ہوگی خواہ وہ حیات میں ہو یا بعد وفات ،
آج بعض حضرات کا کہنا ہے کہ جب کوئی متبحر عالم دین با حیات ہوتے ہیں تو ادبا حضرات ان پر خامہ فرسائی نہیں کرتے ہیں کہ ان کا تعارف ہو سکے اور ان سے استفادہ کیا جا سکے لیکن جب داعی اجل کو لبیک کہ دیتے ہیں پھر پتہ چلتا ہے کہ ہم جس سونے کی تلاش میں ادھر ادھر در بدر بھٹکتے رہے تھے آج اسے اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کر دیا اب کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں رہتا ہے یہ بات از قبیل حقیقت بھی ہے
لیکن اس میں ہماری بھی کمیاں ہیں کہ ہم خود ایسی ذوات کو تلاش کر کے ان کے پاس نہیں جاتے ہیں یا جاتے بھی ہیں تو فردا فردا جاتے ہیں ایک ذات فردا فردا کتںے اشخاص کو جام علم و ادب سے سیراب کر سکتی ہے ہاں اگر ایک جماعت ہو اور وہ اس سے اکتساب فیض کرنا چاہے تو وہ کبھی منع نہیں کرے گی ہاں جب کہ کوئی ضروری مصروفیت در پیش ہو
نیز تعصب پرستی ہے کہ کوئی کسی کی کھل کر تعریف حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتا ہے اگر کوئی کرتا بھی ہے تو دبے الفاظ میں اکثر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ میری واہ وائی ہو میں خود بڑا ہوں میں خود اپنے وقت کا ایک خاندانی باقار ذی علم شخص ہوں میں کسی کی تعریف اس کے سوا زیادہ کچھ کیوں لکھوں کہ فلاں مولانا اچھا کام کرتے ہیں اگر چہ وہ اپنے وقت کا کتنا ہی بڑا مفکر و مدبر ہو،
ایک بات یہ بھی ہے اس دور پر فتن میں القاب اتنے سستے ہو گئے ہیں کہ اگر کسی کو علامہ فہامہ ڈاکٹر مفکر متقی لکھ کر بھی ان کی ذات کی خصوصیات بتانا چاہو تو لوگ خود فیصلہ کر لیتے ہیں کہ القاب تو محض تحسین نام کے لیے ہے باقی وہ بھی ایک مولوی صاحب ہیں اور بس القاب دینے والا صرف اپنی دکان چمکانا چاہتا ہے اب قارئین و سامعین ایک چند کتاب کے مطالع کو اور ایک جید باشرع عالم دین کو برابر سمجھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے مستحقین توجہ کی طرف توجہ مبذول نہیں ہوتی ہے
ہاں ایک راستہ ہے ایسے انمول حضرات کی طرف جو دینی کاموں میں ہمیشہ مشغول رہتے ہیں دن کو دن رات کو رات نہیں سمجھتے ہیں بس رضائے الٰہی کے لیے خدمت دین میں لگے رہتے ہیں بڑے لوگ متوجہ ہو جائیں انھیں عوام و خواص کے سامنے دینی کاموں کی خدمات پر انعامات سے نوازیں حوصلہ افزائی کریں اور ان کے دینی خدماتی پہلؤں کو عوام و خواص پر اجاگر کریں تو اس سے یہ ہوگا کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت رچ بس جائے گی سب کو یقینی طور پر معلوم ہو جائے گا کہ ہاں یہ بہت بڑے عالم دین ہیں پھر ان سے طلبا علما استفادہ بھی کر سکیں گے ورنہ ظاہری جبہ و دستار والوں کی وجہ سے باطنی جبہ و دستار والوں کی بھی عزت اور خاطر خواہ خدمت نہیں ہو پاتی ہے
آج بھی بہت ساری ہستیاں ہیں جو گوشۂ گمنامی میں عشرت منامی کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن شاید ہی کسی کو ان کی عظمت و رفعت علم و جلالت تقوی و طہارت کے بارے معلوم ہو چند عبقری شخصیات ، جو خلوت پسند ہیں ان کے اسماء اور مختصر حالات یہاں ذکر کر دیتا ہوں تاکہ جو استفادہ کے شائقین حضرات ہیں ان سے استفادہ کر سکیں
مقبول العلما دام ظلہ العالی ______
خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند و منظور نظر، مقبول العلما استاذ الاساتذہ استاذ محدث بریلوی شیخ صالح صاحب قبلہ، صوفی با صفا، زینت اتقیا حضور علامہ خواجہ محمد مقبول صاحب قبلہ پورنوی دام ظلہ العالی [سنگھیا ٹھاٹھول بائسی پورنیہ بہار] کی ذات ستودہ صفات گوناگوں خوبیوں کی حامل ہے آپ صوفی صفت ذی علم شخصیت ہیں جامعہ مظہر اسلام مسجد بی بی جی بریلی شریف میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیے آپ کے شاگردوں میں جید متبحر علماء کرام ہیں انھیں میں حضور شیخ صالح محدث بریلوی ہیں جو آپ کی بہت ہی زیادہ عزت و قدر کرتے ہیں جب خواجہ آصف مصباحی صاحب قبلہ اطال اللہ عمرہ شہزادۂ مقبول العلما جامعۃ الرضا میں بحیثیت مدرس قیام پذیر تھے اور حضرت شیخ صاحب سے ملاقات کے لیے جاتے تو حضور شیخ صاحب ان کو اپنے قریب بٹھاتے اس لیے کہ وہ ان کے استاذ کے صاحب زادے ہیں
تاجدار اہل سنت شہزادۂ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند رضی اللہ عنہ کو حضور مقبول العلما سے اس قدر محبت تھی کہ حضور مفتی اعظم ہند، مقبول العلما کی شادی میں بائسی پورنیہ تشریف لے گئے اور بارات بھی گئے اسی بارات میں حضور مفتی اعظم کی ایک کرامت ظاہر ہوئی جس کے راوی آج بھی کثیر تعداد میں بائسی میں موجود ہیں کرامت یہ ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند پالکی میں بارات جا رہے تھے منہ میں پان تھا آپ نے جو پس خوردہ نیچے پھینکا وہ ایک معذور شخص کے پیر میں جا گرا خدا کا کرم ہوا کہ اس پس خوردۂ حضور مفتی اعظم کی برکت سے وہ پیر سے معذور شخص صحت یاب ہو گیا
حضور مقبول العلما فی الوقت اپنے دولت کدہ سنگھیا ٹھاٹھول بائسی پورنیہ بہار میں قیام پذیر ہیں اس ضعیف العمری میں بھی کبھی ایک وقت کی نماز قضا نہیں ہوتی آپ کی ذات میں تقوی طہارت علم و فراست میں حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ کی جھلک نمایاں ہیں
شیخ صالح محدث بریلوی دام ظلہ العالی _______
خلیفۂ حضور تحسین ملت منظور نظر مفتی اعظم ہند یادگار اسلاف فقیہ بے نظیر نمونۂ تصوف جلیل القدر عالم استاذی الکریم شیخ مفتی محمد صالح قادری بریلوی دام ظلہ العالی شیخ الحدیث جامعۃ الرضا بریلی شریف متبحر عالم دین مفتی اعظم ہند کے پروردہ ہیں حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ آپ کی ولایت کے قائل تھے علم و ادب میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ مستجاب الدعوات بزرگ ہیں جن کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی اس پر بہت سارے واقعات شاہد ہیں راقم الحروف نے خود ایک ایسے شخص کے لیے جو بیس سال سے شراب نوشی میں مشغول تھا بہت تجربے اپنانے کے باوجود وہ چھوڑ نہیں پاتا تھا اس کے لیے دعا کروائی خدا کا کرم ہوا کہ اب وہ ایسا ہو گیا لگتا ہی نہیں کہ کبھی وہ شراب کے قریب بھی گیا ہو اب وہ خود ان چیزوں سے گھن کرتا ہے اور دوسروں کو روکتا ہے حضور شیخ صالح صاحب کے تقوے کی کوئی مثال نہیں ہے ہمیشہ یاد الہی میں محو رہتے ہیں دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے بے گانہ ہیں
ذکری للذاکرین ترجمہ تنبیہ الغافلین علاوہ ازیں آپ کی اردو عربی میں کئی تصانیف ہیں
جب ہمیں بخاری شریف پڑھاتے تھے تو بعض جگہ پر فرماتے علامہ بدر الدین عینی نے اس کی تشریح یوں کی ہے اور بہت لمبی بحث کی ہے لیکن وہ انگلی رکھنے [اعترض کرنے] کی جگہ ہے اگر اس کا ترجمہ یوں کر دیتے تو کوئی لمبی تمہید نہیں باندھنی پڑتی پھر آپ وہ ترجمہ کرتے اور طلبہ سن کر اش اش کر اٹھتے
حضور شیخ صالح صاحب محدث بریلوی دام ظلہ العالی فی الوقت بریلی شریف میں قیام پذیر ہیں جو حضرات اکتساب فیض کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں
علامہ قمر الدین پورنوی حفظہ اللہ تعالی__________
تلمیذ ملک العلما قمر قطب پورنیہ حضرت علامہ محمد قمر الدین پورنوی دام ظلہ العالی [لعل گنج پورنیہ بہار] حضور رئیس العلما مولانا مسلم علیہ الرحمہ کے چھوٹے بھائی ہیں بڑے ہی متقی پرہیز گار تقوی شعار ہیں نمازوں کی پابندی ضعیف العمری میں بھی ایسی ہی ہے جیسی جوانی میں تھی آپ کے تقوے کو دیکھ کر حضور قطب پورنیہ مجدد سلسلۂ رشیدیہ زعیم العلما علامہ یسین رشیدی پورنوی رضی اللہ عنہ آپ کو مصلی امامت میں کھڑ کیے اور جب تک وہ خانقاہ رشیدیہ چمنی بازار میں رہے تو نماز پڑھاتے رہے اگر کبھی نظر نہ آتے تو حضور زعیم العلما فرماتے میرا قمر کدھر چھپ گیا
بحر العلوم کٹیہار میں رہ کر خلیفۂ اعلی حضرت حضور ملک العلما سید ظفر الدین بہاری مصنف صحیح البہاری رضی اللہ عنہ سے تعلیم حاصل کی اور اکتساب فیض کیا خاص کر حضور ملک العلما کے تقوے سے بہت متاثر ہوئے اور اپنی زندگی کو ان کے نقش قدم پر ڈھال دی ابھی حضرت لعل گنج ملکی پورنیہ بہار میں جلوہ افروز ہیں شائقین حضرات مل کر دعائیں لے سکتے ہیں
علامہ قاضی شہید عالم کٹیہاری دم ظلہ العالی _______
شاگرد حضور امام علم و فن وارث علوم امام علم و فن نیر برج سخن نازش علم و ادب رونق مسند افتاء جامع معقولات و منقولات ادیب بے نظیر ماہر فلکیات حاوی منطق و فلسفہ و توقیت و جفر علامہ قاضی شہید عالم کٹیہاری دام ظلہ العالی عرصۂ دراز سے جامعہ نوریہ باقر گنج بریلی شریف میں درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں جن نادر و نایاب علوم و فنون میں آپ کو ید طولی حاصل ہیں پورے ہند و پاک میں شاید ہی کسی کو ان علوم میں مہارت ہو
قارئین کرام پہلے حضور امام علم و فن خواجہ مظفر حسین رضی اللہ عنہ سے ایک انٹرویو میں جو سوالات کیے گیے ان میں سے چند ملاحظہ فرمائیں اور قاضی شہید کٹیہاری دام ظلہ العالی کی علمی لیاقت کو سمجھیں
سوال :۔ عالم اسلام میں آپ کم یاب علوم و فنونِ قدیمہ کے واحد امین و علم بردار ہیں ۔ آپ نے اپنی علمی وفنی امانت کو کس طرح محفوظ کیا ہے۔؟
جواب : موجودہ زمانہ میں چونکہ حصول علم برائے معاش ہو گیا ہے اس لیے اس سلسلے میں صعوبات برداشت کرنے اور ان بھاری بھر کم بوجھوں کو اٹھانے والے نہیں ملتے۔ سب سہل پسند ہو گئے ہیں ۔ ویسے یہ امانت مولانا قاضی شہید عالم کٹیہاری اور مفتی مطیع الرحمن مضطر پورنوی کی طرف کچھ حد تک منتقل ہو چکی ہے۔
مزید کریدنے پر انہوں نے بتایا کہ مولانا قاضی شہید عالم علوم دیمہ کا کچھ زیادہ علم رکھتے ہیں جب کہ مفتی مطیع الرحمن علوم قدیمہ کا علم کچھ کم مگر فقہ میں گہرائی زیادہ رکھتے ہیں۔
سوال :۔ چونکہ آپ نے مذکورہ علوم و فنون کو بغیر کسی استاد کے صرف اپنی کوششوں ، مطالعہ اور تحقیقات وغیرہ کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔ کیا مختلف مسائل کے حل و نتائج اخذ کرتے وقت آپ کبھی خطا نہیں کرتے ؟
جواب: میرا اخذ شده حل و نتائج بالکل درست و معتبر ہوتے ہیں۔ میرے پاس پوری دنیا سے ہیئت و فلکیات سے متعلق سوالات آتے ہیں جن کا میں بالکل درست اور تشفی بخش جوابات دیتا ہوں ۔
سوال: کیا علوم قدیمہ سے متعلق آپ کی تصانیف بھی ہیں؟
جواب : ان علوم و فنون پر کوئی تصنیف تو نہیں ہے البتہ ان سے متعلق مضامین میں مسلسل لکھتا آرہا ہوں ۔ ( ویسے خواجہ صاحب ، صاحب تصانیف بھی ہیں ۔ )
سوال: آپ نے مذکورہ علوم وفنون کی حفاظت کے لئے جتن کیوں نہیں کیا ؟
جواب : میری مصروفیات اتنی زیادہ ہیں کہ اس کام کے لئے وقت ہی نہیں بچتا ہے۔
سوال: کیا اب یہ سمجھا جائے کہ آپ کے ساتھ ہی مذکورہ نایاب و کم یاب علوم فنون بھی دنیا سے اٹھ جائیں گے؟
جواب : جی ہاں، شاید ایسا ہی ہو۔
[تحقیقات امام علم و فن ص: ۱۰]
اور ایسا دکھ بھی رہا ہے بہت سے علوم و فنون وہ ہیں جو فقط کتابوں میں ہیں صدور انسان سے غائب ہیں یہاں تک کہ فتاوی رضویہ کے بہت سارے گوشے ایسے ہیں جن کو سمجھنے والے اب نہیں ملتے اگر چراغ جلا کر ڈھونڈیں گے تو گھوم پھر کر پھر وہیں علامہ قاضی شہید عالم کٹیہاری دام ظلہ العالی کے پاس پہنچیں گے میں نے سیمنار میں ان کے رسوخ فی العلم کو دیکھا ہے جزئیات میں ایسی پکڑ کہ انگشت بدنداں رہ جائیں جب بولے تو لگے کہ کوئی راسخ فی العلم بول رہا ہے لیکن سوال یہ ہے جو علوم امام علم و فن کے سینے سے منتقل ہو کر ان تک پہنچے کیا ان علوم کو کسی نے ان سے حاصل کیا ؟
یا پھر یہ علوم بھی ان کے ساتھ ساتھ اٹھ جائیں گے؟
اے طلباء علم و فن اے بارگاہ مقتدر اے حاملان جبہ و دستار آج ان کی قدر کر لو ان سے اکتساب فیض کر لو اگر یہ سورج ڈھل گیا تو زمانے میں تاریکی چھا جائے گی
علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی_______
امیر القلم زینت بزم علم و ادب درویش صفت محنت کش جفا کش سیاح وقت نمونۂ اسلاف حضرت علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی دام ظلہ العالی آپ بھی انھیں ہستیوں میں سے ہیں جسے دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جب آپ تحقیقی مراحل کو طے کرنے کے لیے پاکستان تشریف لے گئے تو علامہ شاہ تراب الحق قادری رضی اللہ عنہ آپ کو اپنے گھر لے گئے عزت و احترام سے خواب نوازے ایک جلسہ کرایا جس میں آپ کو علامہ تراب الحق علیہ الرحمہ نے انعامات و اکرام سے نوازا اس کے بعد بھی بعض جلسے کیے گیے جس میں آپ کو مہمان خصوصی کے طور پر اور آپ کے کاموں کو سراہنے کے لیے مدعو کیا گیا افسوس کہ دوسرے ملک کے علما نے تو آپ کی پذیرائی کی لیکن اپنے علما نے آپ کو سراہنے سے اپنے ہاتھوں کو کھینچ لیا زبانوں کو منہ میں بند کر لیا حتی کہ بہار کے علما نے بھی آپ کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی جب کہ ان علماء کرام کو جن کو کوئی جانتا نہیں تھا جن کو لوگوں نے بھلا دیا تھا جو پردۂ گمنامی میں جنت الفردوس کی بھینی بھینی ہواؤں سے لطف اندوز ہو رہے تھے حضرت نے ان کی حیات و خدمات پر کاملان پورنیہ لکھ کر پورنیہ کے عوام و خواص کو ان کے اسلاف کی تاریخ سے روشناس کرایا اور فرزندان پورنیہ پر احسان عظیم فرمایا بلکہ علما پورنیہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ پر آپ کے ایسے گرانقدر کارنامے ہیں شاید آپ سے پہلے کسی نے اس طرف توجہ بھی نہ دی ہو کئی جلدوں میں خطوط اعلی حضرت کو جمع کیا جن میں علمی فنی بیش بہا جواہر پارے ہیں
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں:
ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی عربی فارسی اور اردو علوم وفنون کے عالم و فاضل ہیں عمر چونتیس سال ہے [ابھی آپ کی عمر ترپن سال ہے پروفیسر مسعود صاحب کی یہ تحریر انیس سال پہلے کی ہے] مگر کام ماشاء اللہ عمر سے بہت زیادہ ہیں، بہت سی ڈگریاں ہیں مگر غرور علم سے پاک ہیں۔ بہار یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کے لئے امام احمد رضا محدث بریلوی کی مکتوب نگاری پر تحقیقی مقالہ پیش کیا بس پھر لکھتے چلے گئے اور ایک دو نہیں اس کام کے صدقے سترہ کتابیں لکھ ڈالیں جن میں سے بعض کی دو دو اور تین تین جلدیں ہیں۔ دیندار خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کی زندگی عمل سے عبارت ہے۔ وہ عہد جدید کے جوانوں کے لئے ایک چمکتی دمکتی مثال ہیں کامیابیوں نے قدم چومے، بحیثیت طالب علم بھی کامیاب رہے اور بحیثیت استاد بھی اور بحیثیت محقق و دانشور بھی کامیاب رہے۔ دنیا سے بیزار و بے نیاز، حق کے طلب گار، لگن کے پکے، ارادے کے پختہ سیاست سے دور، صداقت شعار، سادہ و بے تکلف غریب و غم خوار، دردمند و دم ساز ...... [پرواز خیال ص ۹]
یہ تو انیس سال پہلے کا تاثر ہے ابھی تو آپ کی عمر ترپن سال ہو چکی ہے اور تصانیف کی تعداد درجنوں بڑھ چکی ہیں اگر کوئی علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کا درد دل پڑھنا چاہے تو وہ آپ کی تصنیف بولتی تصویریں پڑھ لے قاری کے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور سوچ میں پڑ جائے گا کہ کیا دنیا ایسے محسن و مربی کے ساتھ بھی اجنبی پن کا اظہار کرتی ہے
یہی وہ مرد درویش ہے جس نے کشن گنج میں امام احمد رضا یونیورسٹی بنانے کا عزم مصمم کیا بیس ایکڑ زمین خریدی لیکن ابھی تک یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا کیونکہ ہماری قوم ابھی پیروں کو خوش کرنے میں لگی ہے اعراس و اجلاس قوالی ڈھول تاشے سے فرصت ہی نہیں ہے بے چاری قوم خرافات میں ڈوبی ہوئی ہے اگر ایک سال جلسے کے روپے ہماری قوم اس طرف لگا دیتی تو امام احمد رضا یونیورسٹی کی عمارتیں آسمان سے آنکھیں ملاتی ہوئی نظر آتیں لیکن افسوس کثیر تعداد بچیاں کشن گنج میں بھی مرتد ہو رہی ہیں لیکن سب خواب خرگوش میں ہیں یہ مرد درویش چیخ چیخ کر جگانا چاہتا ہے لیکن کوئی جاگنا ہی نہیں چاہتا ہے آہ کیسی قوم ہے ایسے بلبل کی پکار کو بھی صدائے باز گشت ثابت کرنا چاہتی ہے، پھر بھی!
اک بلبل ہے کہ ہے محوِ ترنم اب تک
اس کے سینے میں ہے جزبوں کا تلاطم اب تک
ابھی بھی بہت ساری ہستیاں ہیں جو پردۂ گمنامی میں عشرت منامی کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن اس تنگ تحریر میں کس کس کو بیان کروں کس کو چھوڑ دوں بس یہی کہوں کہ جو ذرہ جہاں پر وہیں آفتاب ہے چاہتا تو یہی ہوں کہ تحریر مختصر ہو لیکن پھر بھی طویل ہو جاتی ہے امید ہے کہ قارئین معذور گردانیں گے
خلاصۂ کلام
سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انزلوا لناس منازلھم کہ لوگوں کو ان کے مرتبے پر رکھو جن کا جو مرتبہ ہے ان کو دو ان سے چشم پوشی مت کرو اور جو نا اہل ہو اسے جبہ و دستار پہنا کر اہل کی صف میں کھڑا نہ کرو
یہ انزلوا کی روشنی میں کہتا ہے جسیم
جو منزلیں ہیں جن کی انھیں نذر کیجیے
دنیا گواہ ہے اس بات پر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور کی تصدیق کی تو حضور نے انھیں صدیق کا لقب دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب حق و باطل میں تفریق کر دی تو انھیں فاروق کا لقب دیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان سخاوت پر قرآن کی آیت حضور نے سنائی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولی، ابو تراب کا لقب دیا یہ بارگاہ رسالت سے صحابہ کرام کی حوصلہ افزائی تو ہے ان کو ان کی منزل عطا کرنا ہی تو ہے حق دار کو ان کا حق ہہنچانا یہ تو درس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جسے آج ہم نے بھلا دیا اور اپنے اکابر کی قدر کھو دی
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس دور پر فتن میں عزیزان محترم
اللہ والے درمیاں ہیں فخر کیجیے
اللہ جل و علا ہمیں اپنے اکابر کی عزت و احترام کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
62
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

بول بالے مری سرکاروں کے

یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢