صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ
نمایاں مضامین

رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
رابطہ نمبر: 9523788434
مرجع العلما سر زمین بہار گہوارۂ علوم و فنون ہے یہاں سے علماء کرام علمی، فکری، ملی، سماجی، تعمیری کارنامے انجام دیتے رہے ہیں خاص کر فرزندان پٹنہ کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے علم تقویت میں یکتائے روزگار حضور ملک العلما تلمیذ و خلیفۂ حضور اعلی حضرت علامہ مفتی سید ظفر الدین قادری فاضل بہاری رضی اللہ عنہ کا تعلق اسی سر زمین سے ہے جس طرح حضور ملک العلما نے کنز الکرامت جبل الاستقامت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے افکار و نظریات کی تشہیر بہار میں کی اسی طرح ان کے علمی وارثین اس کام کو آج بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں انھیں میں ایک ذات ستودہ صفات سعادت لوح و قلم اسیر رضویات ماہر رضویات سنیت افروز صلح کلیت سوز شاعر و ادیب مصنف و مدرس حضرت مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی قاضی شریعت مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ بہار جن کے گرانقدر کارناموں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی قیمتی زندگی کو باغ رضویات کی سینچائی کے لیے وقف کر دی ہے تلخیص فتاوی رضویہ ، دو ماہی الرضا پٹنہ، حجۃ الاسلام نمبر ، کنز الایمان نمبر اس پر بین ثبوت ہے انھیں شہ پاروں میں ایک نام سہ ماہی رضا بک ریویو جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء کا ہے جو اس وقت میرے مطالعے کے میز پر بمانند کہکشاں ضوفشاں ہے اس کی مقناطیسی جاذبیت نے مکمل شمارہ اول تا اخیر پڑھنے پر مجبور کر دیا
فہرست پر نظر پڑتے ہی بڑی خوشی ہوئی کیونکہ اس میں قیمتی قیمتی مقالے قیمتی شخصیات کے نظر نواز ہوئے خاص کر علامہ مفتی خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی قدس سرہ مفتی آل مصطفی مصباحی کٹیہاری قدس سرہ علامہ محمد احمد اعظمی مصباحی دام ظلہ العالی علامہ شبیر حسین غوری مفتی محمود احمد رفاقتی علیہ الرحمہ کے مقالات قابل ذکر ہیں جو قارئین کے لیے بیش بہا معلومات اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں اور طالبان علوم نبویہ کے لیے مشعل راہ ہیں
شمارے کی ابتدا اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ کے اس کلام سے کیا گیا ہے
پھر اٹھا ولولۂ یاد مغیلان عرب
پھر کھینچا دامن دل سوئے بیابان عرب
پھر اس کے بعد اداریہ ہے جس کا نچوڑ اسی میں موجود اعلی حضرت کا ایک شعر ہے
گونج گونج اٹھے ہیں نغمات رضا سے بوستاں
کیوں نہ ہو کس پھول کی مدحت میں وا منقار ہے
اس کے بعد قارئین کرام کے تاثرات جلیلہ ہیں جن میں مفتی توفیق احسن برکاتی استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، مولانا غلام مصطفی نعیمی ایڈیٹر سواد اعظم دہلی، مولانا محمد صلاح الدین رضوی دار الافتا مرکزی دار العلوم عمادیہ پٹنہ سٹی، مفتی مبشر ازہر مصباحی نوری دار الافتاء بھیونڈی، شامل ہیں آخر الذکر موصوف کی ایک عبارت بہت پسند آئی جو چیف ایڈیٹر ڈاکٹر امجد رضا امجد کی شخصیت کو احسن انداز میں اجاگر کرتی ہے

موصوف رقم طراز ہیں:

رضا بک ریویو کے ذریعہ باب رضویات کی ان تمام تر کامیابیوں کا سہرا، اس کے مدیر با کمال ، میرے دیرینہ کرم گستر ماہر رضویات ڈاکٹر امجد رضا امجد کے سر جاتا ہے، جن کی فکری جولانیت ، اعلیٰ ذہانت و فطانت تحقیقی ذوق طبع اور رضوی خمیر نے اس کاروان علمی کو بام عروج تک پہنچایا ہے، اور ہو بھی کیوں نہ کہ رضا سے جن کا پشتینی تعلق ہو فکر رضا کی ترویج و اشاعت جن کا اوڑھنا بچھونا ہو اور افکار رضا کے بحر بیکراں میں غواصی جن کا محبوب مشغلہ اور رضا فہمی جن کا مطمح نظر ہو۔
معزز قارئین! یقینا یہ سب اتفاق نہیں بلکہ بارگاہ رضا کا منفر د انتخاب ہے، ص ١١

آئینہ حق نما

اس میں اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کی شان و رفعت علمی پر اہل علم و فضل کے اعترافات ہیں ان میں سے علامہ شیخ سید علوی مالکی مفتی مالکیہ مکہ مکرمہ کا اعتراف ملاحظہ فرمائیں
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی سے ہم لوگ ان کی تصنیفات و تالیفات کے مطالعہ کے ذریعے اچھی طرح سے واقف ہیں۔ عظیم فکر و بصیرت کے حامل، زمانے کے بے مثل فقیہ و محدث ہیں اور عشق رسول میں تو وہ اپنے وقت کے امام تھے ۔ ان سے محبت سنیت کی علامت ہے ان سے بغض و عداوت بدعت کی علامت ہے ۔ ( دبستان رضاص ۱۴۸)ص ١٣
دیگر جید علماء کرام کے اعترافات پڑھنے کے لیے شمارے کی طرف رجوع فرمائیں

امام احمد رضا اور اسلامی ریاضی و ہیئت

یہ مقالہ وارث علوم اعلی حضرت خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند امام المنطق و الفلسفہ علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی قدس سرہ القوی کا ہے
جس میں خواجہ صاحب نے ریاضی و ہیئت کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا ہے فرماتے ہیں:
تمام علوم پر جس طرح علم ریاضی محیط ہے اسی طرح تمام علوم سے قدیم بھی ہے قیاسی طور پر اگر اس پہلو پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ واقعۃ علم ریاضی قدیم ترین ماخذ علم ہے ص ٢٠
پھر اس قدیم ترین علم کے ساتھ علماء مدارس نے کس قدر بے اعتنائی بخشی اس کا شکوہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں
علوم عقلیہ و نقلیہ ، قدیمہ و جدیدہ سب پر امتناعی حکم لگ چکا تھا۔ مگر خاکستر میں دبی ہوئی چنگاری . کو پھر احساس کی ہوا نے شعلۂ جوالہ بنادیا اور طبقاتی طور پر دو نظر یے ابھر کر سامنے آئے۔ کچھ نے صرف علوم نقلیہ کو بچا کر دین متین کی حفاظت کرنا اپنا فرض منصبی سمجھا یہ گروہ مدارس عربیہ کے علماء و اساتذہ کا تھا۔ جہاں علوم عقلیہ کی طرف برائے نام توجہ کی گئی اور ریاضی و ہیئت کو چند ابتدائی اصول تک محدود رکھ کر نصاب میں شامل کیا گیا۔ تدریب اور مشق کو فرو گذاشت کر دیا گیا جس سے یہ علوم مدارس میں رہتے ہوئے بھی صفر ہو گئے کچھ نے علوم عقلیہ کی طرف توجہ کی اس نے نقل کو ہاتھ بھی نہیں لگایا اور دینی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے نصاب کی ترتیب ہوئی یہ گروہ کالج اور اسکول کا تھا۔ علم نظری مداریح اٹھتا چلا گیا یہاں تک کہ ۱۸۵۶ء جو امام احمد رضا کی پیدائش کا سال ہے میں مدارس عربیہ ریاضی و ہیئت سے قریب قریب خالی ہو چکے تھے ۔ یہ ایسا انحطاطی دور تھا جس کی مسموم فضاء میں اسلامی ریاضی و ہیئت کا تصور ارتقائی نہ صرف مجنونانہ بلکہ احمقانہ تھا ص ٢٣
بعدہ ان علوم قدیمہ کو اس قحط زدہ انحطاطی دور میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ نے کس طرح زندہ کیا اس پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
ریاضی و ہیئت میں فاضل بریلوی کی تعلیم اپنے پدر بزرگوار کے فیض تلمذ کا نتیجہ تھی جس کی تفصیل انہوں نے اپنی مایہ ناز تصنیف میں دی ہے فرماتے ہیں۔
فقیر کا درس بحمدہ تعالی تیرہ برس دس مہینے چار دن کی عمر میں ختم ہوا اس کے بعد چند سال تک طلبہ کو پڑھایا فلسفہ جدیدہ سے کوئی تعلق ہی نہ تھا علوم ریاضیہ و ہندسیہ میں فقیر کی تمام تحصیل جمع و تفریق ، ضرب تقسیم کے چار قاعدے کہ بہت بچپن میں اس غرض سے سیکھے تھے کہ فرائض میں کام آئیں گے، اور صرف شکل اول تحریر اقلیدس کی وبس جس دن یہ شکل حضرت اقدس حجة الله فی الارضین معجزة من معجزات سید المرسلین علیہم اجمعین خاتم المحققين سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد سے پڑھی اور اس کی تقریر حضور میں کی ۔ ارشاد فرمایا کہ تم اپنے علوم دینیہ کی طرف متوجہ رہو ان علوم کو خود حاصل کر لو گے"
یہ تھی کل کائنات ریاضی و ہیئت میں اساتذہ سے تحصیل کی [تشریح] شیخ بو علی سینا کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے بھی اپنے استاذ سے ریاضی و ہیئت کی بہت کم تعلیم حاصل کی تھی مگر بعد میں اپنے ذاتی مطالعہ سے اس میں چار چاند لگائے مگر فاضل بریلوی کا معاملہ اس سے بھی عجیب تر ہے۔ علوم دینیہ میں انہماک اتنا تھا کہ کسی اور طرف توجہ کی فرصت ہی نہیں ملی ۔
خود فرماتے ہیں :
آج ۴۵ برس سے زائد ہوئے کہ بحمدہ تعالیٰ فلسفہ کی طرف رخ نہ کیا نہ اس کی کسی کتاب کو کھول کر دیکھا۔
لیکن اس عدم التفات واعتناء کے باوجو شفیق استاد کی پیش گوئی پوری ہوئی چنانچہ فرماتے ہیں۔
اللہ عز وجل اپنے مقبول بندوں کے ارشاد میں برکتیں رکھتا ہے حسب ارشاد سامی بعونہ تعالیٰ فقیر نے حساب و جبر و مقابلہ و لوگارثم وعلم مربعات و علم مثلث کروی و علم ہیئت قدیم و ہیئات جدیدہ زیجات و ارثماصیقی وغیرہا میں تصنیفات فائقہ اور تحریرات را ئقہ لکھیں اور صدہا قواعد وضوابط خود ایجاد کئے تحدثا نعمۃ اللہ تعالی بحمد اللہ تعالی اس ارشاد اقدس کی تصدیق تھی کہ ان کو خود حاصل کر لو گے ۔
مذکورہ بالا تحریر کے پیش نظر منکسرانہ تسنیم کے بعد جب ہم ان کی ریاضی اور دیگر علوم کے متعلق ان کی تصنیفات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں کہ ایسے قحط زدہ اور انحطاطی دور میں آپ نے نہ صرف اس علم کو اجاگر فر مایا بلکہ بالفاظ دیگر زندہ بھی کیا ہے حاشیہ رسالۂ لوگارثم ، حاشیہ جامع بہادر خانی ، حاشیہ رسالہ علم مثلث کروی ، تعلیقات علی الزیج الیخانی ، اور حاشیہ تحریر اقلیدس جیسی نابغہ روزگار تصنیفات زبان حال سے واشگاف انداز میں اعتراف حقیقت کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں کنج خمولی میں بیٹھ کر وہ بھی دینی امور کی بے پناہ مشغولیت کے باوجود یہ انیق تحریریں جنہیں دیکھ کر ہر صاحب نظر انگشت بدنداں ہو جائے جبکہ کسی فن کی ادنی غیر استدلالی تصنیف کے لئے عمیق مطالعہ وسعت نظر اور فکر پروازی جیسے کتنے اسباب کے فراہمی کی ضرورت پڑتی ہے اور یہاں قلم اٹھا تو چلتا ہی رہا" ص ٢٤_٢٥
امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کے والد ماجد رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان کا قول مبارک ان کو خود حاصل کر لوگے جہاں ان کی ولایت کی گواہی دیتا ہے وہیں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ بعض علوم میں مہارت حاصل کرنے سے دیگر علوم میں بھی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اور امام احمد رضا رضی اللہ کو صرف رہنمائی نہیں بلکہ مہارت تامہ کاملہ حاصل ہوئی بلکہ خود صدہا قواعد بھی ایجاد کیے راقم الحروف نے غالبا ثالثہ میں نحوی پہلیاں نامی کتاب میں پڑھا تھا کہ
امام نحو فرا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ایک علم میں مہارت حاصل کر لینے سے دوسرے علوم میں بھی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اس پر حضرت امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم علم نحو میں کامل مہارت رکھتے ہو ، اپنے علم کی روشنی میں بتاؤ کہ اگر کسی شخص کو نماز میں سہو ہو جائے اور جب وہ سجدۂ سہو ادا کرے تو سجدہ سہو کے دوران پھر سہو ہو جائے تو اس پر دوبارہ سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ امام فرا نے جواب دیا کہ اس کے لئے وہی سجدہ سہو کافی ہے دوبارہ سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا ۔ امام محمد نے دریافت فرمایا کہ تم نے علم نحو کے کس اصول سے اس مسئلہ کا استخراج کیا ؟ فرا نے جواب دیا کہ ” المصغر لا يصغر" تصغیر کی تصغیر نہیں آتی۔ اس قاعدہ پر قیاس کر کے میں نے یہ مسئلہ معلوم کر لیا {نحوی پہلیاں ص ١٦_١٧}
حضور اعلی حضرت کے علم سے اس واقعے کی تصدیق مزید ہوجاتی ہے اور تطمئن القلب حاصل ہوتا ہے کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کو جو علوم عقلیہ پر کامل دسترس حاصل تھا یہ علوم دینیہ پر مہارت تامہ کی برکتیں تھیں
اس لیے آج علما کو بھی چاہیے کم از کم کسی ایک علم پر ضرور مہارت تامہ حاصل کریں دریا اگر چہ نہ ملے لیکن دریائے رضا سے ایک قطرہ تو ضرور مل جائے گا جو سیکڑوں دریا پر فوقیت لے جانے کو کافی ہے

جد الممتار: امام احمد رضا کا فقہی شاہکار

یہ مقالہ خیر الاذکیا علامہ محمد احمد اعظمی مصباحی دام ظلہ العالی ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کا ہے جو جد الممتار جلد دوم از اعلی حضرت رضی اللہ کے محاسن و خصوصیات کو اجاگر کرتا ہے جد الممتار حاشیہ رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویر الابصار از علامہ سید محمد امین ابن عمر عابدین شامی رضی اللہ عنہ کا گرانقدر معلوماتی حاشیۂ جلیلہ ہے جو اعلی حضرت ہی کا خاصہ ہے اسی بابت مصباحی صاحب قبلہ رقم طراز ہیں
ایسے عظیم الشان اور جامع محاسن حاشیے کے کچھ پیچیدہ مقدمات کی توضیح و تشریح اور مشکلات سے متعلق کچھ تقریرات تو لکھی جاسکتی ہیں مگر اس پر کوئی گراں قدر اضافہ انتہائی مشکل ہے لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سره (۱۲۷۲ھ - ۱۳۴۰ھ ) نے اس مشکل کو بڑی کامیابی کے ساتھ سر کیا ہے۔" ص ٣١
مصباحی صاحب قبلہ کا یہ پورا مقالہ قابل مطالعہ ہے معلومات کا بیش بہا ذخیرہ ہے جو ان قیمتی جواہر پاروں میں مشتمل ہے
(١) فکر انگیز تحقیقات (۲) کثیر جزئیات کی فراہمی یا مزید جزئیات کا استخراج (۳) لغزش و خطا پر تنبیہات (۴) حل اشکالات اور جواب اعتراضات (۵) فقہی تبحر اور وسعت نظر (۶) شرح و حاشیہ کے مراجع اور حوالوں میں اضافہ (۷) غیر منصوص احکام کا استنباط (۸) علم حدیث میں کمال اور قوت استنباط و استدلال (۹) دلیل طلب احکام کے لئے دلائل کی فراہمی (۱۰) مختلف اقوال میں تطبیق (11) مختلف اقوال میں ترجیح (۱۲) اصول و ضوابط کی ایجاد یا ان پر تنبیہات اور رسم مفتی و قواعد افتا میں ہدایات (۱۳) مختلف علوم میں مہارت اور فقہ کے لئے ان کا استعمال (١٤) مختصر الفاظ میں بیش قیمت افادات اور جد الممتار کا حسن ایجاز
ان عنوانات پر لکھنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے لیکن علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کا یہ کمال فن ہے کہ کوزے میں سمندر کو سمو دیا ہے اور تمام عنوانات کے تحت اختصاراً دلائل و براہین کے ذریعے عمدہ کلام فرمایا ہے
مخلتف اقوال میں ترجیح عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
مشہور یہ ہے کہ بیع فاسد و باطل میں تو فرق ہے مگر نکاح فاسد و باطل میں کوئی فرق نہیں اور صحیح یہ ہے کہ ان دونوں میں بھی متعدد احکام میں فرق ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں، دونوں میں سوائے عدت کے اور کسی چیز میں فرق نہیں۔ اس پر جد المتار میں ہے۔
بلکہ متعدد چیزوں میں فرق ہے ۔ ( دوم ) یہ کہ فاسد میں ثبوت نسب ہوتا ہے اور باطل میں نہیں ہوتا ( سوم ) فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے مگر وقت عقد جتنا ذکر کیا تھا اس سے زیادہ نہ دیا جائے گا۔ اور باطل میں مہر مثل واجب ہوگا، جتنا بھی ہو۔ کیونکہ یہاں عقد کے وقت باندھنا باطل قرار پایا، تو گویا کی مہر کانام ہی نہ لیا گیا، (چہارم ) نکاح فاسد میں فساد ملک ہوتا ہے، اور باطل میں عدم ملک، وہ اس لئے کہ باطل کا شرعا کوئی وجودہی نہیں، اگر چہ عقد باطل کی صورت ظاہر کا وفع حد میں اعتبار ہو گیا ہے ۔ ( پنجم ) نکاح فاسد میں وطیِ حرام ہے زنا نہیں اور باطل میں محض زنا ہے، اگر چہ اس پر حد نہ جاری ہو، کیونکہ یہ زنا موجب حد نہیں، تو اس پر آخرت میں زانیوں کا عذاب ہو گا اور اول پر اس کا عذاب ہو گا جس نے زنا سے کمتر کسی حرام کا ارتکاب کیا ۔ (ششم) مجھے یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ فاسد کے برخلاف باطل میں متارکہ کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ معدوم کے لئے کوئی حکم نہیں ہوتا۔ مختصر
نکاح فاسد و باطل کے درمیان فرق میں یہ ضوابط یکجا کہیں نہ ملیں گے، بلکہ متفرقا ان سب کا ملنا مشکل ہے
مذکورہ بالا عبارت میں جو اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کمال فن کا مظاہرہ فرمایا ہے عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں ان چیزوں کا احساس اس کو اچھی طرح ہوگا جس نے مسائل کی تلاش و جستجو میں ایک عمر گزاری ہو

پہلا عنوان فکر انگیز تحقیقات کے تحت رقم طراز ہیں:

حسن بن علی سے اس عورت کے بارے میں سوال ہوا جس کے پاس جواہر اور موتیوں کے زیورات ہیں جنہیں وہ عید کے موقع پر اور شوہر کے سامنے آرائش کے طور پر پہنتی ہے۔ یہ تجارت کی غرض سے نہیں ہیں ۔ کیا ایسی عورت پر صدقہ فطر واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں جب بقدر نصاب ہوں - اور اس سے متعلق عمر حافظ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا:
اس پر کچھ واجب نہیں ۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حسن بن علی کے نزدیک عورت کے موتی اور جواہر کے زیورات اگر نصاب کی تعداد کو پہنچ جائیں تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے اور عمر حافظ کے نزدیک اس پر کچھ واجب نہیں۔
علامہ شامی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد اس سے درج ذیل نتیجہ نکالتے ہیں :
اس کا حاصل در حاصل اس بات میں اختلاف ہے کہ سونے چاندی کے علاوہ دیگر زیورات حاجت اصلیہ سے ہیں یا نہیں؟
یعنی مذکورہ اختلاف کی بنیاد ایک دوسرے اختلاف پر ہے جو لوگ سونے چاندی کے علاوہ دیگر زیورات کو حاجت اصلیہ سے شمار کرتے ہیں ان کے نزدیک عورت پر صدقۂ فطر اور زکاة نہیں اور جو حاجت اصلیہ سے شمار نہیں کرتے ان کے نزدیک اس پر صدقۂ و زکوۃ ہے۔ اس پر امام احمد رضا رقم طراز ہیں ۔
اقول اجمع اصحابنا علی ایجاب الزكوة في الحلى و لو كان من الحوائج الاصليه لم يجب لم يبق للخلاف محل (۳)
میں کہتا ہوں ہمارے علمائے حنفیہ کا اس پر اجماع ہے کہ زیورات میں زکاۃ واجب ہے اگر حاجت اصلیہ سے ہوتے تو زکاة واجب نہ ہوتی، تو کوئی جائے اختلاف نہ رہی ۔"
اس استدلال کی توضیح یہ ہے کہ حنفیہ کا اس پر اجماع ہے کہ سونے چاندی کے زیورات پر زکاۃ فرض ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں، اس لئے کہ حاجت اصلیہ کے سامانوں پر زکاة فرض نہیں ہوتی ۔ اور جب سونے چاندی کے زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں تو ہیرے جواہر اور موتیوں کے زیورات بھی حاجت اصلیہ سے نہیں ۔ لہذا یہ اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو بلا اختلاف ان پر زکاۃ فرض ہوگی اور صدقہ فطر بھی واجب ہوگا۔
مختصر سی عبارت میں امام احمد رضا نے اختلاف و اشکال کی جو دلپسند عقدہ کشائی کی ہے وہ ان ہی کے قلم کا حصہ ہے۔ استدلال اتنا قوی ، نادر اور فکر انگیز ہے کہ بصیرت جھوم اٹھتی ہے۔ ص ٣٤
بلا شبہ اعلی حضرت رضی اللہ نے مسئلے کا تصفیہ اس انداز سے فرمایا کہ ایک سطر میں اختلاف بھی رفع ہو گیا اور مسئلے کی صحیح تفہیم بھی ہو گئی
لیکن راقم الحروف کے نزدیک علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ العالی کی درج ذیل عبارت
اور جب سونے چاندی کے زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں تو ہیرے جواہر اور موتیوں کے زیورات بھی حاجت اصلیہ سے نہیں۔ لہذا یہ اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو بلا اختلاف ان پر زکوۃ فرض ہوگیمحل نظر ہے
کیونکہ اس سے یہ مستفاد ہو رہا ہے کہ ہیرے موتی جواہر اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ فرض ہے جب کہ در المختار ہی میں اس کے برعکس مسئلہ مندرج ہے
(لا زكاة في اللآلئ والجواهر) وإن ساوت ألفاً اتفاقاً (إلا أن تكون للتجارة) ج ٣ ص ١٩٤
حاشیہ رد المحتار میں ہے
(والجواهر) كاللؤلؤ والياقوت والزمرد وأمثالها. درر عن الكافي.ج ٣ ص ١٩٤
فتاوی عالمگیری میں ہے :
أما اليواقيت واللآلی و الجواھر فلا زکوٰۃ فیھا و ان کانت حلیا الا ان تکون للتجارۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ۔ ج ١ ص ١٨٠
فتاوی افریقہ میں خود اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زکوٰۃ صرف تین مالوں پر ہے :
اول : سونا، چاندی اور نوٹ شلنگ اور اکنیاں اور پیسے بھی جب تک بازار میں چلیں اسی میں داخل ہیں۔ دوم: تجارت کے لیے جو مال خریدا اگر چہ مٹی ہو سوم: چرائی پر چھوٹے ہوئے اونٹ، گائے ، بھینس، بھیڑ، بکر، سب کے سب نر ہوں خواہ مادہ ۔اور امام کے نزدیک گھوڑی بھی نیز گھوڑا اگر جوڑا ہو، ان کے سوا کسی شئ پر زکوۃ نہیں اگر چہ لاکھوں روپے کے دیہات، مکانات، موتی، جواہر ہوں
[ص: 41]

بہار شریعت میں ہے:

موتی وغیرہ جواہر جس کے پاس ہوں اور تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان کی زکاۃ واجب نہیں ، مگر جب نصاب کی قیمت کے ہوں تو زکاۃ لے نہیں سکتا۔ ج ١ ح ٥ ص ٩٣٠
بہار شریعت میں ایک دوسری جگہ ہے:
فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر جواہر اور سرمہ، پھٹکری، چونا، موتی میں اور نمک وغیرہ بہنے والی چیزوں میں خمس نہیں ۔
ج ١ ح ٥ ص ٩١٢
ان تمام مذکورہ بالا عبارتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہیرے موتی جواہر اگر تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں اگر چہ وہ زیورات ہی کیوں نہ ہوں
قارئین کرام اگر مجھ ناقص العلم راقم الحروف کی تفہیم میں کوئی کمی ہو تو ضرور مطلع فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں
اسلامی ریاضی و ہیئت کا آخری دانائے راز
یہ مقالہ علامہ شبیر احمد غوری کا ہے اس میں تحقیقی و تنقیدی بحث کی گئی ہے اور امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کو اسلامی ریاضی و ہیئت کا آخری دانائے راز بتایا گیا ہے علمی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے یہ بات صد فیصد درست معلوم ہوتی ہے
تحریر کے مطالعے سے راقم الحروف کو لگتا ہے کہ اس تحریر کو لکھنے کی خاص وجہ مدارس میں ریاضی و ہیئت کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے علماء مدارس کو اس کی تعمیری کاروائی کی طرف راغب کرنا ہے چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
مدارس میں ریاضی و ہیئت کی زبوں حالی :- ۱۹۴۶ء میں بکار سرکار مجھے ایک مدرسہ کے معائنہ کے لئے جانا پڑا ۔ اسی دوران مجھے ہندوستان کی ایک عظیم دینی درسگاہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا جس کی تفصیل غیر ضروری ہے۔ آخر میں نائب مہتمم صاحب جنہیں مجھے مدرسہ دکھانے کی خدمت سونپی گئی تھی ، اپنے درجہ میں لے گئے جہاں وہ ایک طالب علم کو تحریر اقلیدس پڑھاتے تھے۔ وہاں ان کا اصرار ہوا کہ میں اس طالب علم سے کچھ سوال کروں ۔ مجھے اس اصرار سے سخت کوفت ہوئی ۔ میں زیارت کے لئے گیا تھا، طلبہ کا امتحان لینے نہیں گیا تھا مگر ان صاحب کو میرا امتحان لینا مقصد تھا کہ میں عربی کا ایم اے سی مدارس عربیہ میں پڑھائے جانے والے علوم حکمیہ کے اندر کتنے پانی میں ہوں ۔ اصول اقلیدس مقالہ اولی میں جو مدارس کے نصاب میں علم ہندسہ کی آخری کتاب ہے ) اڑتالیس شکلیں ہیں اور یہ اشکال بہ ترتیب جدید آج کی تو خبر نہیں مگر اس زمانہ (۱۹۴۶ء) میں مڈل اسکولوں کے ساتویں اور آٹھویں درجے میں پڑھادی جاتی تھی ۔
جب ان کا اصرار اس حد تک بڑھا کہ تماشائی طلبہ میری اس علمی بے مائیگی پر تالیاں بجانے لگے تو پھر بادل ناخواستہ اس طالب علم سے یہ شکل ثابت کرنے کے لئے کہا کہ اگر ایک خط مستقیم دو متوازی خطوط مستقیم کو کاٹے تو زاویائے متبادلہ برابر ہوں گے ۔ لڑکا نو گرفتار قفس تھا کسی انٹرمیڈیٹ کالج سے انٹر کر کے آیا تھا۔ اس نے فورا کاپی پنسل اٹھائی اور جس طرح اس زمانہ میں اسکولوں کے اندر یہ شکل پڑھائی جاتی تھی اس - نے بھی ثابت کر دی ۔ میں نے کہا صاحبزادے اس طرح نہیں چلے گا۔ جس طرح تمھاری اس عربی تحریر اقلیدس میں یہ شکل ثابت ہوتی ہے اس طرح ثابت کرو ۔ مگر وہ کسی طرح ثابت نہ کر سکا۔ مجبوراً میں نے ان نائب مہتمم صاحب سے درخواست کی کہ وہ اسے پھر سے پڑھائیں ۔ وہ ایک کہنہ مشق استاد تھے ، پڑھا دیا۔ یہ تحریر اصول اقلیدس کی انتیسویں شکل تھی ۔ جب وہ ذالک ما اردناہ ( جسے ہم انگریزی میں Q.E.D کہا کرتے ہیں) پر پہونچے تو کتاب بند کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا آگے اور پڑھائیے ، مگر وہ صاحب کسی طرح تیار نہ ہوئے سبب یہ بتایا کہ یہ حصہ متروک التعلیم ہے۔ میں نے عرض کیا متروک التعلیم ہےتو کیا ہوا ممنوع التعلیم تو نہیں ہے۔ اگر اس میں قرآن وحدیث کی رو سے کوئی الحاد و بے دینی ہے تو پھر یہ حصہ چھاپا ہی کیوں جاتا ہے؟ فرمایا یہ تو میں نہیں جانتا مگر جب میرے استاد مجھے پڑھاتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تو انھوں نے اسے نہیں پڑھایا اور فرمانے لگے کہ جب میرے استاد بھی مجھے پڑھاتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تھے تو انہوں نے بھی اسے پڑھانے سے معذوری ظاہر کی تھی ۔ ص ٥٨
آگے نتیجہ منتج کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
ان افاضل نے ریاضی و ہیئت میں جو ورثہ اپنے اسلاف سے پایا تھا اسے اور کچھ نہیں تو کم از کم باقی رکھنے کی بھی کوشش نہیں کی ص ٥٩
پھر اس مبینہ متروک التعلیم حصہ کو جن علما نے پڑھایا اور اس پر حواشی تحریر کیے ان میں سے بعض کے اسما شمار کروائے جن میں مولوی برکت اللہ مولوی محمد عبد القادر لدھیانوی قابل ذکر ہیں بلکہ ان کے زمانے میں ان کے شاگردوں کے شاگردوں کا زمانہ ١٩٠٠ء تک مبینہ متروک التعلیم حصہ شامل نصاب تھا
پھر ایک یہ زمانہ آیا کہ
جو پڑھا لکھا تھا نیاز نے اسے صاف دل بھلا دیا
یہ ایک امر حقیقت کہ ہے مدارس اسلامیہ ان علوم سے خالی ہو چکے ہیں جہاں ہیں بھی تو نام کے افسوس کہ ہم اپنے اسلاف کے نقوش میں بذریعۂ توضیح و تشریح اضافہ تو دور متون کی تفہیم بھی باقی نہ رکھ سکے
ان علوم کی طرف خاصی توجہ کی ضرورت ہے

علمائے فرنگی محل اور رد وہابیت

یہ مقالہ علامہ مفتی محمد احمد رفاقتی علیہ الرحمہ کا ہے اس مقالے میں علمائے فرنگی محل کی جو رد وہابیت میں خدمات ہیں ان کو اجاگر کرنے کی سعی بلیغ کی گئی ہے چنانچہ رقم طراز ہیں مولانا شاہ جمال الدین احمد فرنگی محلی نے ضلالت وہابیہ میں جمال الملۃ و الدین لکھی جو ممبئی ١٢٧٥ھ میں چھپی، حضرت مولانا محمد سعید اسلمی نے سفینۃ الجاۃ لکھی جس کی طباعت مدراس میں ہوئی ، امام العلما قاضی الملک حضرت مولانا محمد صبغۃ اللہ مفتی مدراس نے گلزار ہدایت تصنیف کی جو خاص تقویۃ الایمان کے رد میں ہے مطبع کشن راج مدراس سے ١٢٦٤ھ میں چھپی" ص ٨٠
مقالے میں تاریخی حقائق کی نقشہ کشی کی گئی ہے جو بہت ہی جواہر پاروں پر مشتمل ہے جو مطالعے سے تعلق رکھتے ہیں شائقین مطالعہ حضرات تفصیل کے لیے شمارے کی طرف رجوع فرمائیں

حضور حجۃ الاسلام کے خطبہ کی عصری معنویت

یہ مقالہ مولانا قمر الزماں مصباحی مظفر پوری صاحب کا ہے شیخ الانام حجۃ الاسلام شہزادۂ اعلی حضرت علامہ حامد رضا خان رضی اللہ عنہ کا چونسٹھ صفحات پر مشتمل خطبۂ صدارت پر لکھی ہوئی یہ گرانقدر تحریر ہے
فرماتے ہیں:
یہ وہ کلیدی خطبہ ہے جو ہماری مذہبی شوکتوں کا امین ، ہمارے ملی و معاشرتی تحفظ کا مضبوط لائحہ عمل ، ٹوٹتے حوصلوں میں رنگ بھرنے کا خاکہ آپسی اتحاد کا خوبصورت نعرہ ، ہماری اجتماعی قوت کا دستور اساسی ، فکری زبوں حالی سے نکال کر روحانی اور علمی بلندیوں تک پہنچانے کا پیغام سرمدی ، اقتصادی اور معاشی کمزوریوں سے نجات حاصل کرنے کے ایک نسخہ شفا اور علم و دانش اور حسن تدبر سے بھر پور ایک دعوت فکر ہے مگر اس سے بڑھ کر قلق کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے اس تاریخ ساز کلیدی خطبہ کے نکات آفریں پہلوؤں سے اس قدر پہلو تہی کی، کہ جس نقطۂ انجماد پر کل کھڑے تھے اس سے ایک انچ بھی قدم آگے نہیں بڑھا سکے۔ نہ ان تجاویز کو اپنایا نہ انہیں اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس مرکزی نکتے پر بیٹھ کر کبھی سوچنے سمجنے کی زحمت اٹھائی اور ہمارا حریف انہیں بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر علمی ، سیاسی تعمیری ، تمدنی، اقتصادی اور سماجی ہر محاذ پر کامیاب و کامران ہے۔ حضور حجۃ الاسلام نے مسلمانوں کے بقائے باہم، پر امن زندگی ، خوشحالی ترقی اور ایک مہذب کلچر کی تعمیر وتشکیل کے لئے چار باتوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی تھی (١) تبلیغ (٢)مذہبی (٣) حفظ امن (٤) اصلاح معاشرت
یہی وہ چار بنیادی مقاصد ہیں جس کے نفاذ کے لیے حضرت نے یہ وقیع اور معقولیت سے بھر پور خطبہ صدارت رقم فرمایا" ص ٩٦
لیکن ہم نے انھیں چار بنیادی مقاصد کو ترک کر دیا جس کے نتیجے میں زبوں حالی کے شکار ہوتے چلے گئے غور کریں اپنے اطراف میں اپنے ارد گرد صاحب اقتدار حضرات کو دیکھیں کیا کوئی تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہا ہے تبلیغ تو ہند میں مابین سنیاں آنٹے میں نمک کے برابر ہو گئی ہے اور جس کو بعض حضرات تبلیغ کہتے ہیں اگر بنظر عمیق دیکھیں تو وہ تبلیغ نہیں بلکہ تخریب ہے
مذہبی تعلیم : کیا نئی نسل مذہبی تعلیم کی طرف راغب ہے؟ کیا والدین اولاد کو مذہبی تعلیم دینے کے لیے کوشاں ہیں؟
نئی نسل مغربی تہذیب کی طرف راغب ہو گئی ہے اسے مغربی تعلیم اچھی لگتی ہے اختلاط مرد و زن کی پر بہار فضائیں اچھی لگتیں ہیں تو کیا اسیے عالم قوم ترقی کرے گی
حفظ امن: ہندوستان میں حفظ امن تو شاید و باید کہیں ہو ایک خانقاہ کی دوسری خانقاہ سے لڑائی ایک مدرسے والوں دوسرے مدرسے والوں سے جلن بلکہ ایک ممبر میں بیٹھے ہوئے علما میں بھی نا اتفاقی خدا ہی اس قوم کا حافظ ہے
اصلاح معاشرت: اصلاح معاشرت تو دور حاضر میں تقریبا معدوم ہی ہو چکی ہے نماز روزے زکوٰۃ حج کی دعوت تو بہت دور کی بات ہے اب کوئی برائی کرتا ہے تو دوسرا روکتا بھی نہیں ہے بلکہ اور بھی برائی میں حصہ لیتے ہوئے نظر آتا ہے ایک دور تھا کہ لوگ کس کے سامنے برائی کرتے ہوئے شرماتے تھے اب تو فخریہ انداز میں برائی کرتے ہیں اور اس برائی اس کی اعانت بھی کرتے بلکہ بسا اوقات حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں کسی کے اندر حیا نظر نہیں آتی سب بے حیائی میں مست ہیں بلکہ اب تو لوگ کفر و ارتداد کے دہانے میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن کوئی اسے بچانے کے لیے ہاتھ نہیں اس پر کالجز یونیورسٹیز کے مناظر بین ثبوت ہیں
جو چیزیں ترقی و تعمیر کی بنیاد ہیں وہی مفقود و معدوم ہیں تو بھلا یہ قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے؟ انھیں بنیادی چیزوں کو غیروں نے اپنا کر ترقی کی منزلیں طے کیں لیکن ہم ہاتھوں پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا رہ گئے

مولانا شاہ معین الدین آروی: ایک تعارف

یہ مقالہ حافظ معراج احمد فریدی استاذ مرکزی ادارہ شرعیہ سلطان گنج پٹنہ بہار کا ہے
اس میں عارف باللہ فنا فی الرسول حضرت مولانا الشاہ معین الدین آروی علیہ الرحمہ کا نفیس تذکرہ ہے جن کی ولادت با سعادت بہار کا مشہور شہر آرہ میں ١٣٠٢ھ میں ہوئی آپ بہت ذہین و فطین تھے جو کتاب ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں محفوظ ہو جاتی گویا سرکار سے سنقرئک فلا تنسی کی خیرات آپ کو ملی تھی
آٹھ سال کی عمر مبارک میں آپ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے شرف یاب ہوئے
تذکرہ آبادانیہ کے مصنف نے لکھا ہے جب آپ علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کر لی تو وقت کے مجدد اعظم حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ اور مجدد ابن مجدد حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دست مبارک سے رسم دستار بندی ادا فرمائی اور ساتھ ہی دعاؤں سے نوازا
لیکن آپ کی زندگی نے زیادہ وفا نہیں کی اور ٣٦ سال کی عمر مبارک گزار کر ١١/ جمادی الاول ١٣٣٨ھ کو دار الفنا سے دار البقا کی طرف کوچ کر گئے
انھیں جب ڈھونڈتا نکلوں گا مرقد سے تو محشر میں
اٹھیں گی انگلیاں آیا وہ دیوانہ محمد کا
[شاہ معین الدین رضی اللہ عنہ]

جامعہ حضرت فاطمہ زہرا

شمارے کے اخیر میں جامعہ فاطمہ زہرا کا سعادت لوح و قلم علامہ مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے مختصر تعارف پیش کیا ہے جامعہ فاطمہ زہرا کی تعمیر خوش آئند قدم روشن مستقبل کی طرف مشیر ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی ہے بڑی مسرت کی بات ہے کہ تعمیری کام جاری و ساری ہے کافی حد تک کام بھی ہو چکا ہے جب ہماری بچیاں ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کریں گی تو ان کا ایمان و عقیدہ محفوظ رہے گا ورنہ ایمان کے لٹیرے گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں اسکولس کالیجیز میں کثیر تعداد میں مسلم لڑکیاں مرتدہ ہو رہیں ہیں حال ہی میں مظفر نگر یوپی سول لائن چھیتر میں چل رہے کیفے کارنر مہاویر چوک پر بازار میں چل رہے سپا سینٹر پر چھاپا ماری ہوئی بتایا جا رہا ہے ان میں تقریبا پچاس لڑکیاں ہیں جن میں چوالیس مسلم لڑکیاں ہیں ستر فیصد لڑکیاں عظمت ڈگری کالج میں پڑھنے والی اور تیس فیصد لڑکیاں جین ڈگری کالج میں پڑھنے والی ہیں
یہ بھی خبر ہے کہ تقریبا انچاس لڑکے ہیں جن میں اڑتالیس ہندو لڑکے ہیں اور ایک لڑکا مسلم ہے اور سبھی شری رام کالج کے لڑکے ہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہ تو یوپی کی حالیہ ایک خبر ہے مگر ان خرافات سے پٹنہ بھی کسی طرح محفوظ نہیں ہے بلکہ وہاں بھی فتنۂ ارتداد عروج پر ہے اسی سال راقم الحروف ادارہ شرعیہ گیا تھا وہاں سے مولانا آغاز اور مولانا سبیل مرکزی صاحبان کی معیت میں خدا بخش لائبریری گیا وہاں کچھ دیر مطالعہ کیا پھر سیر و سیاحت کے لیے باہر نکلا ایک ہوٹل میں کچھ کھانے پینے کے لیے بیٹھا تو دیکھا سامنے ایک لڑکی برقعہ پہنی ہوئی بیٹھی ہے اور اس کے سامنے دو ہندو لڑکا بیٹھا ہے اور تینوں عشق و معاشقہ کی باتیں کر رہے تھے دیکھ کر بہت کوفت ہوئی
ایسے عالم میں جامعہ حضرت فاطمہ کی تعمیر بہت ضروری تھی تا کہ پٹنہ کی مسلم بچیوں کا ایمان و عقیدہ محفوظ رہ سکے اور دینی تعلیم سے آراستہ ہو سکیں کیونکہ ایک عورت پورے گھر کی تربیت کرتی ہے ماں کا اثر بچوں پر نمایاں نظر آتا ہے لہذا اہل زر مخلصین حضرات سے گزارش ہے کہ اس کار خیر میں حصہ لیں اور جامعہ حضرت فاطمہ زہرا جتنی جلد ہو سکے بنوانے میں اپنا مالی تعاون پیش کریں

رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
رابطہ نمبر: 9523788434
مرجع العلما سر زمین بہار گہوارۂ علوم و فنون ہے یہاں سے علماء کرام علمی، فکری، ملی، سماجی، تعمیری کارنامے انجام دیتے رہے ہیں خاص کر فرزندان پٹنہ کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے علم تقویت میں یکتائے روزگار حضور ملک العلما تلمیذ و خلیفۂ حضور اعلی حضرت علامہ مفتی سید ظفر الدین قادری فاضل بہاری رضی اللہ عنہ کا تعلق اسی سر زمین سے ہے جس طرح حضور ملک العلما نے کنز الکرامت جبل الاستقامت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے افکار و نظریات کی تشہیر بہار میں کی اسی طرح ان کے علمی وارثین اس کام کو آج بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں انھیں میں ایک ذات ستودہ صفات سعادت لوح و قلم اسیر رضویات ماہر رضویات سنیت افروز صلح کلیت سوز شاعر و ادیب مصنف و مدرس حضرت مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی قاضی شریعت مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ بہار جن کے گرانقدر کارناموں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی قیمتی زندگی کو باغ رضویات کی سینچائی کے لیے وقف کر دی ہے تلخیص فتاوی رضویہ ، دو ماہی الرضا پٹنہ، حجۃ الاسلام نمبر ، کنز الایمان نمبر اس پر بین ثبوت ہے انھیں شہ پاروں میں ایک نام سہ ماہی رضا بک ریویو جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء کا ہے جو اس وقت میرے مطالعے کے میز پر بمانند کہکشاں ضوفشاں ہے اس کی مقناطیسی جاذبیت نے مکمل شمارہ اول تا اخیر پڑھنے پر مجبور کر دیا
فہرست پر نظر پڑتے ہی بڑی خوشی ہوئی کیونکہ اس میں قیمتی قیمتی مقالے قیمتی شخصیات کے نظر نواز ہوئے خاص کر علامہ مفتی خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی قدس سرہ مفتی آل مصطفی مصباحی کٹیہاری قدس سرہ علامہ محمد احمد اعظمی مصباحی دام ظلہ العالی علامہ شبیر حسین غوری مفتی محمود احمد رفاقتی علیہ الرحمہ کے مقالات قابل ذکر ہیں جو قارئین کے لیے بیش بہا معلومات اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں اور طالبان علوم نبویہ کے لیے مشعل راہ ہیں
شمارے کی ابتدا اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ کے اس کلام سے کیا گیا ہے
پھر اٹھا ولولۂ یاد مغیلان عرب
پھر کھینچا دامن دل سوئے بیابان عرب
پھر اس کے بعد اداریہ ہے جس کا نچوڑ اسی میں موجود اعلی حضرت کا ایک شعر ہے
گونج گونج اٹھے ہیں نغمات رضا سے بوستاں
کیوں نہ ہو کس پھول کی مدحت میں وا منقار ہے
اس کے بعد قارئین کرام کے تاثرات جلیلہ ہیں جن میں مفتی توفیق احسن برکاتی استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، مولانا غلام مصطفی نعیمی ایڈیٹر سواد اعظم دہلی، مولانا محمد صلاح الدین رضوی دار الافتا مرکزی دار العلوم عمادیہ پٹنہ سٹی، مفتی مبشر ازہر مصباحی نوری دار الافتاء بھیونڈی، شامل ہیں آخر الذکر موصوف کی ایک عبارت بہت پسند آئی جو چیف ایڈیٹر ڈاکٹر امجد رضا امجد کی شخصیت کو احسن انداز میں اجاگر کرتی ہے

موصوف رقم طراز ہیں:

رضا بک ریویو کے ذریعہ باب رضویات کی ان تمام تر کامیابیوں کا سہرا، اس کے مدیر با کمال ، میرے دیرینہ کرم گستر ماہر رضویات ڈاکٹر امجد رضا امجد کے سر جاتا ہے، جن کی فکری جولانیت ، اعلیٰ ذہانت و فطانت تحقیقی ذوق طبع اور رضوی خمیر نے اس کاروان علمی کو بام عروج تک پہنچایا ہے، اور ہو بھی کیوں نہ کہ رضا سے جن کا پشتینی تعلق ہو فکر رضا کی ترویج و اشاعت جن کا اوڑھنا بچھونا ہو اور افکار رضا کے بحر بیکراں میں غواصی جن کا محبوب مشغلہ اور رضا فہمی جن کا مطمح نظر ہو۔
معزز قارئین! یقینا یہ سب اتفاق نہیں بلکہ بارگاہ رضا کا منفر د انتخاب ہے، ص ١١

آئینہ حق نما

اس میں اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کی شان و رفعت علمی پر اہل علم و فضل کے اعترافات ہیں ان میں سے علامہ شیخ سید علوی مالکی مفتی مالکیہ مکہ مکرمہ کا اعتراف ملاحظہ فرمائیں
مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی سے ہم لوگ ان کی تصنیفات و تالیفات کے مطالعہ کے ذریعے اچھی طرح سے واقف ہیں۔ عظیم فکر و بصیرت کے حامل، زمانے کے بے مثل فقیہ و محدث ہیں اور عشق رسول میں تو وہ اپنے وقت کے امام تھے ۔ ان سے محبت سنیت کی علامت ہے ان سے بغض و عداوت بدعت کی علامت ہے ۔ ( دبستان رضاص ۱۴۸)ص ١٣
دیگر جید علماء کرام کے اعترافات پڑھنے کے لیے شمارے کی طرف رجوع فرمائیں

امام احمد رضا اور اسلامی ریاضی و ہیئت

یہ مقالہ وارث علوم اعلی حضرت خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند امام المنطق و الفلسفہ علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی قدس سرہ القوی کا ہے
جس میں خواجہ صاحب نے ریاضی و ہیئت کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا ہے فرماتے ہیں:
تمام علوم پر جس طرح علم ریاضی محیط ہے اسی طرح تمام علوم سے قدیم بھی ہے قیاسی طور پر اگر اس پہلو پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ واقعۃ علم ریاضی قدیم ترین ماخذ علم ہے ص ٢٠
پھر اس قدیم ترین علم کے ساتھ علماء مدارس نے کس قدر بے اعتنائی بخشی اس کا شکوہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں
علوم عقلیہ و نقلیہ ، قدیمہ و جدیدہ سب پر امتناعی حکم لگ چکا تھا۔ مگر خاکستر میں دبی ہوئی چنگاری . کو پھر احساس کی ہوا نے شعلۂ جوالہ بنادیا اور طبقاتی طور پر دو نظر یے ابھر کر سامنے آئے۔ کچھ نے صرف علوم نقلیہ کو بچا کر دین متین کی حفاظت کرنا اپنا فرض منصبی سمجھا یہ گروہ مدارس عربیہ کے علماء و اساتذہ کا تھا۔ جہاں علوم عقلیہ کی طرف برائے نام توجہ کی گئی اور ریاضی و ہیئت کو چند ابتدائی اصول تک محدود رکھ کر نصاب میں شامل کیا گیا۔ تدریب اور مشق کو فرو گذاشت کر دیا گیا جس سے یہ علوم مدارس میں رہتے ہوئے بھی صفر ہو گئے کچھ نے علوم عقلیہ کی طرف توجہ کی اس نے نقل کو ہاتھ بھی نہیں لگایا اور دینی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے نصاب کی ترتیب ہوئی یہ گروہ کالج اور اسکول کا تھا۔ علم نظری مداریح اٹھتا چلا گیا یہاں تک کہ ۱۸۵۶ء جو امام احمد رضا کی پیدائش کا سال ہے میں مدارس عربیہ ریاضی و ہیئت سے قریب قریب خالی ہو چکے تھے ۔ یہ ایسا انحطاطی دور تھا جس کی مسموم فضاء میں اسلامی ریاضی و ہیئت کا تصور ارتقائی نہ صرف مجنونانہ بلکہ احمقانہ تھا ص ٢٣
بعدہ ان علوم قدیمہ کو اس قحط زدہ انحطاطی دور میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ نے کس طرح زندہ کیا اس پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
ریاضی و ہیئت میں فاضل بریلوی کی تعلیم اپنے پدر بزرگوار کے فیض تلمذ کا نتیجہ تھی جس کی تفصیل انہوں نے اپنی مایہ ناز تصنیف میں دی ہے فرماتے ہیں۔
فقیر کا درس بحمدہ تعالی تیرہ برس دس مہینے چار دن کی عمر میں ختم ہوا اس کے بعد چند سال تک طلبہ کو پڑھایا فلسفہ جدیدہ سے کوئی تعلق ہی نہ تھا علوم ریاضیہ و ہندسیہ میں فقیر کی تمام تحصیل جمع و تفریق ، ضرب تقسیم کے چار قاعدے کہ بہت بچپن میں اس غرض سے سیکھے تھے کہ فرائض میں کام آئیں گے، اور صرف شکل اول تحریر اقلیدس کی وبس جس دن یہ شکل حضرت اقدس حجة الله فی الارضین معجزة من معجزات سید المرسلین علیہم اجمعین خاتم المحققين سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد سے پڑھی اور اس کی تقریر حضور میں کی ۔ ارشاد فرمایا کہ تم اپنے علوم دینیہ کی طرف متوجہ رہو ان علوم کو خود حاصل کر لو گے"
یہ تھی کل کائنات ریاضی و ہیئت میں اساتذہ سے تحصیل کی [تشریح] شیخ بو علی سینا کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے بھی اپنے استاذ سے ریاضی و ہیئت کی بہت کم تعلیم حاصل کی تھی مگر بعد میں اپنے ذاتی مطالعہ سے اس میں چار چاند لگائے مگر فاضل بریلوی کا معاملہ اس سے بھی عجیب تر ہے۔ علوم دینیہ میں انہماک اتنا تھا کہ کسی اور طرف توجہ کی فرصت ہی نہیں ملی ۔
خود فرماتے ہیں :
آج ۴۵ برس سے زائد ہوئے کہ بحمدہ تعالیٰ فلسفہ کی طرف رخ نہ کیا نہ اس کی کسی کتاب کو کھول کر دیکھا۔
لیکن اس عدم التفات واعتناء کے باوجو شفیق استاد کی پیش گوئی پوری ہوئی چنانچہ فرماتے ہیں۔
اللہ عز وجل اپنے مقبول بندوں کے ارشاد میں برکتیں رکھتا ہے حسب ارشاد سامی بعونہ تعالیٰ فقیر نے حساب و جبر و مقابلہ و لوگارثم وعلم مربعات و علم مثلث کروی و علم ہیئت قدیم و ہیئات جدیدہ زیجات و ارثماصیقی وغیرہا میں تصنیفات فائقہ اور تحریرات را ئقہ لکھیں اور صدہا قواعد وضوابط خود ایجاد کئے تحدثا نعمۃ اللہ تعالی بحمد اللہ تعالی اس ارشاد اقدس کی تصدیق تھی کہ ان کو خود حاصل کر لو گے ۔
مذکورہ بالا تحریر کے پیش نظر منکسرانہ تسنیم کے بعد جب ہم ان کی ریاضی اور دیگر علوم کے متعلق ان کی تصنیفات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں کہ ایسے قحط زدہ اور انحطاطی دور میں آپ نے نہ صرف اس علم کو اجاگر فر مایا بلکہ بالفاظ دیگر زندہ بھی کیا ہے حاشیہ رسالۂ لوگارثم ، حاشیہ جامع بہادر خانی ، حاشیہ رسالہ علم مثلث کروی ، تعلیقات علی الزیج الیخانی ، اور حاشیہ تحریر اقلیدس جیسی نابغہ روزگار تصنیفات زبان حال سے واشگاف انداز میں اعتراف حقیقت کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں کنج خمولی میں بیٹھ کر وہ بھی دینی امور کی بے پناہ مشغولیت کے باوجود یہ انیق تحریریں جنہیں دیکھ کر ہر صاحب نظر انگشت بدنداں ہو جائے جبکہ کسی فن کی ادنی غیر استدلالی تصنیف کے لئے عمیق مطالعہ وسعت نظر اور فکر پروازی جیسے کتنے اسباب کے فراہمی کی ضرورت پڑتی ہے اور یہاں قلم اٹھا تو چلتا ہی رہا" ص ٢٤_٢٥
امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کے والد ماجد رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان کا قول مبارک ان کو خود حاصل کر لوگے جہاں ان کی ولایت کی گواہی دیتا ہے وہیں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ بعض علوم میں مہارت حاصل کرنے سے دیگر علوم میں بھی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اور امام احمد رضا رضی اللہ کو صرف رہنمائی نہیں بلکہ مہارت تامہ کاملہ حاصل ہوئی بلکہ خود صدہا قواعد بھی ایجاد کیے راقم الحروف نے غالبا ثالثہ میں نحوی پہلیاں نامی کتاب میں پڑھا تھا کہ
امام نحو فرا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ایک علم میں مہارت حاصل کر لینے سے دوسرے علوم میں بھی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اس پر حضرت امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم علم نحو میں کامل مہارت رکھتے ہو ، اپنے علم کی روشنی میں بتاؤ کہ اگر کسی شخص کو نماز میں سہو ہو جائے اور جب وہ سجدۂ سہو ادا کرے تو سجدہ سہو کے دوران پھر سہو ہو جائے تو اس پر دوبارہ سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ امام فرا نے جواب دیا کہ اس کے لئے وہی سجدہ سہو کافی ہے دوبارہ سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا ۔ امام محمد نے دریافت فرمایا کہ تم نے علم نحو کے کس اصول سے اس مسئلہ کا استخراج کیا ؟ فرا نے جواب دیا کہ ” المصغر لا يصغر" تصغیر کی تصغیر نہیں آتی۔ اس قاعدہ پر قیاس کر کے میں نے یہ مسئلہ معلوم کر لیا {نحوی پہلیاں ص ١٦_١٧}
حضور اعلی حضرت کے علم سے اس واقعے کی تصدیق مزید ہوجاتی ہے اور تطمئن القلب حاصل ہوتا ہے کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کو جو علوم عقلیہ پر کامل دسترس حاصل تھا یہ علوم دینیہ پر مہارت تامہ کی برکتیں تھیں
اس لیے آج علما کو بھی چاہیے کم از کم کسی ایک علم پر ضرور مہارت تامہ حاصل کریں دریا اگر چہ نہ ملے لیکن دریائے رضا سے ایک قطرہ تو ضرور مل جائے گا جو سیکڑوں دریا پر فوقیت لے جانے کو کافی ہے

جد الممتار: امام احمد رضا کا فقہی شاہکار

یہ مقالہ خیر الاذکیا علامہ محمد احمد اعظمی مصباحی دام ظلہ العالی ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کا ہے جو جد الممتار جلد دوم از اعلی حضرت رضی اللہ کے محاسن و خصوصیات کو اجاگر کرتا ہے جد الممتار حاشیہ رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویر الابصار از علامہ سید محمد امین ابن عمر عابدین شامی رضی اللہ عنہ کا گرانقدر معلوماتی حاشیۂ جلیلہ ہے جو اعلی حضرت ہی کا خاصہ ہے اسی بابت مصباحی صاحب قبلہ رقم طراز ہیں
ایسے عظیم الشان اور جامع محاسن حاشیے کے کچھ پیچیدہ مقدمات کی توضیح و تشریح اور مشکلات سے متعلق کچھ تقریرات تو لکھی جاسکتی ہیں مگر اس پر کوئی گراں قدر اضافہ انتہائی مشکل ہے لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سره (۱۲۷۲ھ - ۱۳۴۰ھ ) نے اس مشکل کو بڑی کامیابی کے ساتھ سر کیا ہے۔" ص ٣١
مصباحی صاحب قبلہ کا یہ پورا مقالہ قابل مطالعہ ہے معلومات کا بیش بہا ذخیرہ ہے جو ان قیمتی جواہر پاروں میں مشتمل ہے
(١) فکر انگیز تحقیقات (۲) کثیر جزئیات کی فراہمی یا مزید جزئیات کا استخراج (۳) لغزش و خطا پر تنبیہات (۴) حل اشکالات اور جواب اعتراضات (۵) فقہی تبحر اور وسعت نظر (۶) شرح و حاشیہ کے مراجع اور حوالوں میں اضافہ (۷) غیر منصوص احکام کا استنباط (۸) علم حدیث میں کمال اور قوت استنباط و استدلال (۹) دلیل طلب احکام کے لئے دلائل کی فراہمی (۱۰) مختلف اقوال میں تطبیق (11) مختلف اقوال میں ترجیح (۱۲) اصول و ضوابط کی ایجاد یا ان پر تنبیہات اور رسم مفتی و قواعد افتا میں ہدایات (۱۳) مختلف علوم میں مہارت اور فقہ کے لئے ان کا استعمال (١٤) مختصر الفاظ میں بیش قیمت افادات اور جد الممتار کا حسن ایجاز
ان عنوانات پر لکھنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے لیکن علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کا یہ کمال فن ہے کہ کوزے میں سمندر کو سمو دیا ہے اور تمام عنوانات کے تحت اختصاراً دلائل و براہین کے ذریعے عمدہ کلام فرمایا ہے
مخلتف اقوال میں ترجیح عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
مشہور یہ ہے کہ بیع فاسد و باطل میں تو فرق ہے مگر نکاح فاسد و باطل میں کوئی فرق نہیں اور صحیح یہ ہے کہ ان دونوں میں بھی متعدد احکام میں فرق ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں، دونوں میں سوائے عدت کے اور کسی چیز میں فرق نہیں۔ اس پر جد المتار میں ہے۔
بلکہ متعدد چیزوں میں فرق ہے ۔ ( دوم ) یہ کہ فاسد میں ثبوت نسب ہوتا ہے اور باطل میں نہیں ہوتا ( سوم ) فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے مگر وقت عقد جتنا ذکر کیا تھا اس سے زیادہ نہ دیا جائے گا۔ اور باطل میں مہر مثل واجب ہوگا، جتنا بھی ہو۔ کیونکہ یہاں عقد کے وقت باندھنا باطل قرار پایا، تو گویا کی مہر کانام ہی نہ لیا گیا، (چہارم ) نکاح فاسد میں فساد ملک ہوتا ہے، اور باطل میں عدم ملک، وہ اس لئے کہ باطل کا شرعا کوئی وجودہی نہیں، اگر چہ عقد باطل کی صورت ظاہر کا وفع حد میں اعتبار ہو گیا ہے ۔ ( پنجم ) نکاح فاسد میں وطیِ حرام ہے زنا نہیں اور باطل میں محض زنا ہے، اگر چہ اس پر حد نہ جاری ہو، کیونکہ یہ زنا موجب حد نہیں، تو اس پر آخرت میں زانیوں کا عذاب ہو گا اور اول پر اس کا عذاب ہو گا جس نے زنا سے کمتر کسی حرام کا ارتکاب کیا ۔ (ششم) مجھے یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ فاسد کے برخلاف باطل میں متارکہ کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ معدوم کے لئے کوئی حکم نہیں ہوتا۔ مختصر
نکاح فاسد و باطل کے درمیان فرق میں یہ ضوابط یکجا کہیں نہ ملیں گے، بلکہ متفرقا ان سب کا ملنا مشکل ہے
مذکورہ بالا عبارت میں جو اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کمال فن کا مظاہرہ فرمایا ہے عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں ان چیزوں کا احساس اس کو اچھی طرح ہوگا جس نے مسائل کی تلاش و جستجو میں ایک عمر گزاری ہو

پہلا عنوان فکر انگیز تحقیقات کے تحت رقم طراز ہیں:

حسن بن علی سے اس عورت کے بارے میں سوال ہوا جس کے پاس جواہر اور موتیوں کے زیورات ہیں جنہیں وہ عید کے موقع پر اور شوہر کے سامنے آرائش کے طور پر پہنتی ہے۔ یہ تجارت کی غرض سے نہیں ہیں ۔ کیا ایسی عورت پر صدقہ فطر واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں جب بقدر نصاب ہوں - اور اس سے متعلق عمر حافظ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا:
اس پر کچھ واجب نہیں ۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حسن بن علی کے نزدیک عورت کے موتی اور جواہر کے زیورات اگر نصاب کی تعداد کو پہنچ جائیں تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے اور عمر حافظ کے نزدیک اس پر کچھ واجب نہیں۔
علامہ شامی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد اس سے درج ذیل نتیجہ نکالتے ہیں :
اس کا حاصل در حاصل اس بات میں اختلاف ہے کہ سونے چاندی کے علاوہ دیگر زیورات حاجت اصلیہ سے ہیں یا نہیں؟
یعنی مذکورہ اختلاف کی بنیاد ایک دوسرے اختلاف پر ہے جو لوگ سونے چاندی کے علاوہ دیگر زیورات کو حاجت اصلیہ سے شمار کرتے ہیں ان کے نزدیک عورت پر صدقۂ فطر اور زکاة نہیں اور جو حاجت اصلیہ سے شمار نہیں کرتے ان کے نزدیک اس پر صدقۂ و زکوۃ ہے۔ اس پر امام احمد رضا رقم طراز ہیں ۔
اقول اجمع اصحابنا علی ایجاب الزكوة في الحلى و لو كان من الحوائج الاصليه لم يجب لم يبق للخلاف محل (۳)
میں کہتا ہوں ہمارے علمائے حنفیہ کا اس پر اجماع ہے کہ زیورات میں زکاۃ واجب ہے اگر حاجت اصلیہ سے ہوتے تو زکاة واجب نہ ہوتی، تو کوئی جائے اختلاف نہ رہی ۔"
اس استدلال کی توضیح یہ ہے کہ حنفیہ کا اس پر اجماع ہے کہ سونے چاندی کے زیورات پر زکاۃ فرض ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں، اس لئے کہ حاجت اصلیہ کے سامانوں پر زکاة فرض نہیں ہوتی ۔ اور جب سونے چاندی کے زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں تو ہیرے جواہر اور موتیوں کے زیورات بھی حاجت اصلیہ سے نہیں ۔ لہذا یہ اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو بلا اختلاف ان پر زکاۃ فرض ہوگی اور صدقہ فطر بھی واجب ہوگا۔
مختصر سی عبارت میں امام احمد رضا نے اختلاف و اشکال کی جو دلپسند عقدہ کشائی کی ہے وہ ان ہی کے قلم کا حصہ ہے۔ استدلال اتنا قوی ، نادر اور فکر انگیز ہے کہ بصیرت جھوم اٹھتی ہے۔ ص ٣٤
بلا شبہ اعلی حضرت رضی اللہ نے مسئلے کا تصفیہ اس انداز سے فرمایا کہ ایک سطر میں اختلاف بھی رفع ہو گیا اور مسئلے کی صحیح تفہیم بھی ہو گئی
لیکن راقم الحروف کے نزدیک علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ العالی کی درج ذیل عبارت
اور جب سونے چاندی کے زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں تو ہیرے جواہر اور موتیوں کے زیورات بھی حاجت اصلیہ سے نہیں۔ لہذا یہ اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو بلا اختلاف ان پر زکوۃ فرض ہوگیمحل نظر ہے
کیونکہ اس سے یہ مستفاد ہو رہا ہے کہ ہیرے موتی جواہر اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ فرض ہے جب کہ در المختار ہی میں اس کے برعکس مسئلہ مندرج ہے
(لا زكاة في اللآلئ والجواهر) وإن ساوت ألفاً اتفاقاً (إلا أن تكون للتجارة) ج ٣ ص ١٩٤
حاشیہ رد المحتار میں ہے
(والجواهر) كاللؤلؤ والياقوت والزمرد وأمثالها. درر عن الكافي.ج ٣ ص ١٩٤
فتاوی عالمگیری میں ہے :
أما اليواقيت واللآلی و الجواھر فلا زکوٰۃ فیھا و ان کانت حلیا الا ان تکون للتجارۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ۔ ج ١ ص ١٨٠
فتاوی افریقہ میں خود اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زکوٰۃ صرف تین مالوں پر ہے :
اول : سونا، چاندی اور نوٹ شلنگ اور اکنیاں اور پیسے بھی جب تک بازار میں چلیں اسی میں داخل ہیں۔ دوم: تجارت کے لیے جو مال خریدا اگر چہ مٹی ہو سوم: چرائی پر چھوٹے ہوئے اونٹ، گائے ، بھینس، بھیڑ، بکر، سب کے سب نر ہوں خواہ مادہ ۔اور امام کے نزدیک گھوڑی بھی نیز گھوڑا اگر جوڑا ہو، ان کے سوا کسی شئ پر زکوۃ نہیں اگر چہ لاکھوں روپے کے دیہات، مکانات، موتی، جواہر ہوں
[ص: 41]

بہار شریعت میں ہے:

موتی وغیرہ جواہر جس کے پاس ہوں اور تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان کی زکاۃ واجب نہیں ، مگر جب نصاب کی قیمت کے ہوں تو زکاۃ لے نہیں سکتا۔ ج ١ ح ٥ ص ٩٣٠
بہار شریعت میں ایک دوسری جگہ ہے:
فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر جواہر اور سرمہ، پھٹکری، چونا، موتی میں اور نمک وغیرہ بہنے والی چیزوں میں خمس نہیں ۔
ج ١ ح ٥ ص ٩١٢
ان تمام مذکورہ بالا عبارتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہیرے موتی جواہر اگر تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں اگر چہ وہ زیورات ہی کیوں نہ ہوں
قارئین کرام اگر مجھ ناقص العلم راقم الحروف کی تفہیم میں کوئی کمی ہو تو ضرور مطلع فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں
اسلامی ریاضی و ہیئت کا آخری دانائے راز
یہ مقالہ علامہ شبیر احمد غوری کا ہے اس میں تحقیقی و تنقیدی بحث کی گئی ہے اور امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کو اسلامی ریاضی و ہیئت کا آخری دانائے راز بتایا گیا ہے علمی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے یہ بات صد فیصد درست معلوم ہوتی ہے
تحریر کے مطالعے سے راقم الحروف کو لگتا ہے کہ اس تحریر کو لکھنے کی خاص وجہ مدارس میں ریاضی و ہیئت کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے علماء مدارس کو اس کی تعمیری کاروائی کی طرف راغب کرنا ہے چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
مدارس میں ریاضی و ہیئت کی زبوں حالی :- ۱۹۴۶ء میں بکار سرکار مجھے ایک مدرسہ کے معائنہ کے لئے جانا پڑا ۔ اسی دوران مجھے ہندوستان کی ایک عظیم دینی درسگاہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا جس کی تفصیل غیر ضروری ہے۔ آخر میں نائب مہتمم صاحب جنہیں مجھے مدرسہ دکھانے کی خدمت سونپی گئی تھی ، اپنے درجہ میں لے گئے جہاں وہ ایک طالب علم کو تحریر اقلیدس پڑھاتے تھے۔ وہاں ان کا اصرار ہوا کہ میں اس طالب علم سے کچھ سوال کروں ۔ مجھے اس اصرار سے سخت کوفت ہوئی ۔ میں زیارت کے لئے گیا تھا، طلبہ کا امتحان لینے نہیں گیا تھا مگر ان صاحب کو میرا امتحان لینا مقصد تھا کہ میں عربی کا ایم اے سی مدارس عربیہ میں پڑھائے جانے والے علوم حکمیہ کے اندر کتنے پانی میں ہوں ۔ اصول اقلیدس مقالہ اولی میں جو مدارس کے نصاب میں علم ہندسہ کی آخری کتاب ہے ) اڑتالیس شکلیں ہیں اور یہ اشکال بہ ترتیب جدید آج کی تو خبر نہیں مگر اس زمانہ (۱۹۴۶ء) میں مڈل اسکولوں کے ساتویں اور آٹھویں درجے میں پڑھادی جاتی تھی ۔
جب ان کا اصرار اس حد تک بڑھا کہ تماشائی طلبہ میری اس علمی بے مائیگی پر تالیاں بجانے لگے تو پھر بادل ناخواستہ اس طالب علم سے یہ شکل ثابت کرنے کے لئے کہا کہ اگر ایک خط مستقیم دو متوازی خطوط مستقیم کو کاٹے تو زاویائے متبادلہ برابر ہوں گے ۔ لڑکا نو گرفتار قفس تھا کسی انٹرمیڈیٹ کالج سے انٹر کر کے آیا تھا۔ اس نے فورا کاپی پنسل اٹھائی اور جس طرح اس زمانہ میں اسکولوں کے اندر یہ شکل پڑھائی جاتی تھی اس - نے بھی ثابت کر دی ۔ میں نے کہا صاحبزادے اس طرح نہیں چلے گا۔ جس طرح تمھاری اس عربی تحریر اقلیدس میں یہ شکل ثابت ہوتی ہے اس طرح ثابت کرو ۔ مگر وہ کسی طرح ثابت نہ کر سکا۔ مجبوراً میں نے ان نائب مہتمم صاحب سے درخواست کی کہ وہ اسے پھر سے پڑھائیں ۔ وہ ایک کہنہ مشق استاد تھے ، پڑھا دیا۔ یہ تحریر اصول اقلیدس کی انتیسویں شکل تھی ۔ جب وہ ذالک ما اردناہ ( جسے ہم انگریزی میں Q.E.D کہا کرتے ہیں) پر پہونچے تو کتاب بند کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا آگے اور پڑھائیے ، مگر وہ صاحب کسی طرح تیار نہ ہوئے سبب یہ بتایا کہ یہ حصہ متروک التعلیم ہے۔ میں نے عرض کیا متروک التعلیم ہےتو کیا ہوا ممنوع التعلیم تو نہیں ہے۔ اگر اس میں قرآن وحدیث کی رو سے کوئی الحاد و بے دینی ہے تو پھر یہ حصہ چھاپا ہی کیوں جاتا ہے؟ فرمایا یہ تو میں نہیں جانتا مگر جب میرے استاد مجھے پڑھاتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تو انھوں نے اسے نہیں پڑھایا اور فرمانے لگے کہ جب میرے استاد بھی مجھے پڑھاتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تھے تو انہوں نے بھی اسے پڑھانے سے معذوری ظاہر کی تھی ۔ ص ٥٨
آگے نتیجہ منتج کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
ان افاضل نے ریاضی و ہیئت میں جو ورثہ اپنے اسلاف سے پایا تھا اسے اور کچھ نہیں تو کم از کم باقی رکھنے کی بھی کوشش نہیں کی ص ٥٩
پھر اس مبینہ متروک التعلیم حصہ کو جن علما نے پڑھایا اور اس پر حواشی تحریر کیے ان میں سے بعض کے اسما شمار کروائے جن میں مولوی برکت اللہ مولوی محمد عبد القادر لدھیانوی قابل ذکر ہیں بلکہ ان کے زمانے میں ان کے شاگردوں کے شاگردوں کا زمانہ ١٩٠٠ء تک مبینہ متروک التعلیم حصہ شامل نصاب تھا
پھر ایک یہ زمانہ آیا کہ
جو پڑھا لکھا تھا نیاز نے اسے صاف دل بھلا دیا
یہ ایک امر حقیقت کہ ہے مدارس اسلامیہ ان علوم سے خالی ہو چکے ہیں جہاں ہیں بھی تو نام کے افسوس کہ ہم اپنے اسلاف کے نقوش میں بذریعۂ توضیح و تشریح اضافہ تو دور متون کی تفہیم بھی باقی نہ رکھ سکے
ان علوم کی طرف خاصی توجہ کی ضرورت ہے

علمائے فرنگی محل اور رد وہابیت

یہ مقالہ علامہ مفتی محمد احمد رفاقتی علیہ الرحمہ کا ہے اس مقالے میں علمائے فرنگی محل کی جو رد وہابیت میں خدمات ہیں ان کو اجاگر کرنے کی سعی بلیغ کی گئی ہے چنانچہ رقم طراز ہیں مولانا شاہ جمال الدین احمد فرنگی محلی نے ضلالت وہابیہ میں جمال الملۃ و الدین لکھی جو ممبئی ١٢٧٥ھ میں چھپی، حضرت مولانا محمد سعید اسلمی نے سفینۃ الجاۃ لکھی جس کی طباعت مدراس میں ہوئی ، امام العلما قاضی الملک حضرت مولانا محمد صبغۃ اللہ مفتی مدراس نے گلزار ہدایت تصنیف کی جو خاص تقویۃ الایمان کے رد میں ہے مطبع کشن راج مدراس سے ١٢٦٤ھ میں چھپی" ص ٨٠
مقالے میں تاریخی حقائق کی نقشہ کشی کی گئی ہے جو بہت ہی جواہر پاروں پر مشتمل ہے جو مطالعے سے تعلق رکھتے ہیں شائقین مطالعہ حضرات تفصیل کے لیے شمارے کی طرف رجوع فرمائیں

حضور حجۃ الاسلام کے خطبہ کی عصری معنویت

یہ مقالہ مولانا قمر الزماں مصباحی مظفر پوری صاحب کا ہے شیخ الانام حجۃ الاسلام شہزادۂ اعلی حضرت علامہ حامد رضا خان رضی اللہ عنہ کا چونسٹھ صفحات پر مشتمل خطبۂ صدارت پر لکھی ہوئی یہ گرانقدر تحریر ہے
فرماتے ہیں:
یہ وہ کلیدی خطبہ ہے جو ہماری مذہبی شوکتوں کا امین ، ہمارے ملی و معاشرتی تحفظ کا مضبوط لائحہ عمل ، ٹوٹتے حوصلوں میں رنگ بھرنے کا خاکہ آپسی اتحاد کا خوبصورت نعرہ ، ہماری اجتماعی قوت کا دستور اساسی ، فکری زبوں حالی سے نکال کر روحانی اور علمی بلندیوں تک پہنچانے کا پیغام سرمدی ، اقتصادی اور معاشی کمزوریوں سے نجات حاصل کرنے کے ایک نسخہ شفا اور علم و دانش اور حسن تدبر سے بھر پور ایک دعوت فکر ہے مگر اس سے بڑھ کر قلق کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم نے اس تاریخ ساز کلیدی خطبہ کے نکات آفریں پہلوؤں سے اس قدر پہلو تہی کی، کہ جس نقطۂ انجماد پر کل کھڑے تھے اس سے ایک انچ بھی قدم آگے نہیں بڑھا سکے۔ نہ ان تجاویز کو اپنایا نہ انہیں اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس مرکزی نکتے پر بیٹھ کر کبھی سوچنے سمجنے کی زحمت اٹھائی اور ہمارا حریف انہیں بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر علمی ، سیاسی تعمیری ، تمدنی، اقتصادی اور سماجی ہر محاذ پر کامیاب و کامران ہے۔ حضور حجۃ الاسلام نے مسلمانوں کے بقائے باہم، پر امن زندگی ، خوشحالی ترقی اور ایک مہذب کلچر کی تعمیر وتشکیل کے لئے چار باتوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی تھی (١) تبلیغ (٢)مذہبی (٣) حفظ امن (٤) اصلاح معاشرت
یہی وہ چار بنیادی مقاصد ہیں جس کے نفاذ کے لیے حضرت نے یہ وقیع اور معقولیت سے بھر پور خطبہ صدارت رقم فرمایا" ص ٩٦
لیکن ہم نے انھیں چار بنیادی مقاصد کو ترک کر دیا جس کے نتیجے میں زبوں حالی کے شکار ہوتے چلے گئے غور کریں اپنے اطراف میں اپنے ارد گرد صاحب اقتدار حضرات کو دیکھیں کیا کوئی تبلیغ کا فریضہ انجام دے رہا ہے تبلیغ تو ہند میں مابین سنیاں آنٹے میں نمک کے برابر ہو گئی ہے اور جس کو بعض حضرات تبلیغ کہتے ہیں اگر بنظر عمیق دیکھیں تو وہ تبلیغ نہیں بلکہ تخریب ہے
مذہبی تعلیم : کیا نئی نسل مذہبی تعلیم کی طرف راغب ہے؟ کیا والدین اولاد کو مذہبی تعلیم دینے کے لیے کوشاں ہیں؟
نئی نسل مغربی تہذیب کی طرف راغب ہو گئی ہے اسے مغربی تعلیم اچھی لگتی ہے اختلاط مرد و زن کی پر بہار فضائیں اچھی لگتیں ہیں تو کیا اسیے عالم قوم ترقی کرے گی
حفظ امن: ہندوستان میں حفظ امن تو شاید و باید کہیں ہو ایک خانقاہ کی دوسری خانقاہ سے لڑائی ایک مدرسے والوں دوسرے مدرسے والوں سے جلن بلکہ ایک ممبر میں بیٹھے ہوئے علما میں بھی نا اتفاقی خدا ہی اس قوم کا حافظ ہے
اصلاح معاشرت: اصلاح معاشرت تو دور حاضر میں تقریبا معدوم ہی ہو چکی ہے نماز روزے زکوٰۃ حج کی دعوت تو بہت دور کی بات ہے اب کوئی برائی کرتا ہے تو دوسرا روکتا بھی نہیں ہے بلکہ اور بھی برائی میں حصہ لیتے ہوئے نظر آتا ہے ایک دور تھا کہ لوگ کس کے سامنے برائی کرتے ہوئے شرماتے تھے اب تو فخریہ انداز میں برائی کرتے ہیں اور اس برائی اس کی اعانت بھی کرتے بلکہ بسا اوقات حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں کسی کے اندر حیا نظر نہیں آتی سب بے حیائی میں مست ہیں بلکہ اب تو لوگ کفر و ارتداد کے دہانے میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن کوئی اسے بچانے کے لیے ہاتھ نہیں اس پر کالجز یونیورسٹیز کے مناظر بین ثبوت ہیں
جو چیزیں ترقی و تعمیر کی بنیاد ہیں وہی مفقود و معدوم ہیں تو بھلا یہ قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے؟ انھیں بنیادی چیزوں کو غیروں نے اپنا کر ترقی کی منزلیں طے کیں لیکن ہم ہاتھوں پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا رہ گئے

مولانا شاہ معین الدین آروی: ایک تعارف

یہ مقالہ حافظ معراج احمد فریدی استاذ مرکزی ادارہ شرعیہ سلطان گنج پٹنہ بہار کا ہے
اس میں عارف باللہ فنا فی الرسول حضرت مولانا الشاہ معین الدین آروی علیہ الرحمہ کا نفیس تذکرہ ہے جن کی ولادت با سعادت بہار کا مشہور شہر آرہ میں ١٣٠٢ھ میں ہوئی آپ بہت ذہین و فطین تھے جو کتاب ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں محفوظ ہو جاتی گویا سرکار سے سنقرئک فلا تنسی کی خیرات آپ کو ملی تھی
آٹھ سال کی عمر مبارک میں آپ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے شرف یاب ہوئے
تذکرہ آبادانیہ کے مصنف نے لکھا ہے جب آپ علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کر لی تو وقت کے مجدد اعظم حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ اور مجدد ابن مجدد حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دست مبارک سے رسم دستار بندی ادا فرمائی اور ساتھ ہی دعاؤں سے نوازا
لیکن آپ کی زندگی نے زیادہ وفا نہیں کی اور ٣٦ سال کی عمر مبارک گزار کر ١١/ جمادی الاول ١٣٣٨ھ کو دار الفنا سے دار البقا کی طرف کوچ کر گئے
انھیں جب ڈھونڈتا نکلوں گا مرقد سے تو محشر میں
اٹھیں گی انگلیاں آیا وہ دیوانہ محمد کا
[شاہ معین الدین رضی اللہ عنہ]

جامعہ حضرت فاطمہ زہرا

شمارے کے اخیر میں جامعہ فاطمہ زہرا کا سعادت لوح و قلم علامہ مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے مختصر تعارف پیش کیا ہے جامعہ فاطمہ زہرا کی تعمیر خوش آئند قدم روشن مستقبل کی طرف مشیر ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی ہے بڑی مسرت کی بات ہے کہ تعمیری کام جاری و ساری ہے کافی حد تک کام بھی ہو چکا ہے جب ہماری بچیاں ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کریں گی تو ان کا ایمان و عقیدہ محفوظ رہے گا ورنہ ایمان کے لٹیرے گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں اسکولس کالیجیز میں کثیر تعداد میں مسلم لڑکیاں مرتدہ ہو رہیں ہیں حال ہی میں مظفر نگر یوپی سول لائن چھیتر میں چل رہے کیفے کارنر مہاویر چوک پر بازار میں چل رہے سپا سینٹر پر چھاپا ماری ہوئی بتایا جا رہا ہے ان میں تقریبا پچاس لڑکیاں ہیں جن میں چوالیس مسلم لڑکیاں ہیں ستر فیصد لڑکیاں عظمت ڈگری کالج میں پڑھنے والی اور تیس فیصد لڑکیاں جین ڈگری کالج میں پڑھنے والی ہیں
یہ بھی خبر ہے کہ تقریبا انچاس لڑکے ہیں جن میں اڑتالیس ہندو لڑکے ہیں اور ایک لڑکا مسلم ہے اور سبھی شری رام کالج کے لڑکے ہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہ تو یوپی کی حالیہ ایک خبر ہے مگر ان خرافات سے پٹنہ بھی کسی طرح محفوظ نہیں ہے بلکہ وہاں بھی فتنۂ ارتداد عروج پر ہے اسی سال راقم الحروف ادارہ شرعیہ گیا تھا وہاں سے مولانا آغاز اور مولانا سبیل مرکزی صاحبان کی معیت میں خدا بخش لائبریری گیا وہاں کچھ دیر مطالعہ کیا پھر سیر و سیاحت کے لیے باہر نکلا ایک ہوٹل میں کچھ کھانے پینے کے لیے بیٹھا تو دیکھا سامنے ایک لڑکی برقعہ پہنی ہوئی بیٹھی ہے اور اس کے سامنے دو ہندو لڑکا بیٹھا ہے اور تینوں عشق و معاشقہ کی باتیں کر رہے تھے دیکھ کر بہت کوفت ہوئی
ایسے عالم میں جامعہ حضرت فاطمہ کی تعمیر بہت ضروری تھی تا کہ پٹنہ کی مسلم بچیوں کا ایمان و عقیدہ محفوظ رہ سکے اور دینی تعلیم سے آراستہ ہو سکیں کیونکہ ایک عورت پورے گھر کی تربیت کرتی ہے ماں کا اثر بچوں پر نمایاں نظر آتا ہے لہذا اہل زر مخلصین حضرات سے گزارش ہے کہ اس کار خیر میں حصہ لیں اور جامعہ حضرت فاطمہ زہرا جتنی جلد ہو سکے بنوانے میں اپنا مالی تعاون پیش کریں
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
52
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

ناموس رسالت جان ایمان ہے

شامِ جدائی آ گئی ٹوٹ گئے سبوئے جام جامعۃ الرضا سلام جامعۃ الرضا سلام

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢