صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر
احوال وطن

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مصر، صوبہ مِنیا، سر زمین بَہْنَسا جو قاہرہ سے تقریبا ١٦٠ کلو میٹر دور جنوب مغرب کی جانب دریائے نیل کے غربی کنارے پر واقع ہے "بہنسا'وہ شہر ہے جس کی پاک سر زمین میں پانچ ہزار صحابہ، تابعین، شہدا کے مزارات موجود ہیں جنت البقیع کی نسبت سے اس جگہ کا نام بقیع مصر بھی ہے، کہا جاتا ہے ان مزارات میں ٧٠ بدری صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مزارات ہیں بہنسا کو مدینۃ الشہدا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے جب اسلامی لشکر صحابی رسول حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مصر میں داخل ہوا تو خون ریز لڑائی ہوئی، بہت سے صحابہ کرام اور تابعین عظام شہید ہوئے جس کے بعد یہ شہر فتح ہوا۔
روایت کے مطابق بہنسا میں جن مزارات پر گنبد بنے ہوئے ہیں ان سے صحابہ کرام کے مزارات کی طرف نشاندھی ہوتی ہے ان گنبد نما مقامات میں میں حضرت محمد بن عقبی بن عامر الجھنی، زیاد بن حارث بن عبد المطلب، فضل بن عباس عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مقامات منسوب ہیں، نیز خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا کے نام سے بھی منسوب ایک مقام ہے
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن واقد واقدی رضی اللہ عنہ متوفی ٤٠٧ھ ارض بہنسا کے فضائل بیان کرتے ہوئے فتوح الشام میں تحریر فرماتے ہیں:
کہ اللہ جل جلالہ نے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق فرمایا: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ [المؤمنون ٥٠] ای ارض البھنسا،
یعنی اس آیت میں جس جگہ کی بات کی گئی ہے اس سے مراد سر زمین بہنسا ہے
نیز فرماتے ہیں:
وذكر جماعة من السادات الأخيار أن من زار جبانة البهنسا خاض في الرحمة حتى يعود ومن زارها خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه وأنه لا يزورها مهموم إلا فرج الله همه، ولا مغموم إلا أذهب الله غمه، ولا صاحب حاجة إلا قضيت بإذن الله عز وجل، والأماكن المستجاب فيها الدعاء منها عند مجرى الحصى ومقطع السيل وأن هناك خلقا كثيرا من الشهداء۔
اور ساداتِ اخیار کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے کہ جو شخص بہنسا کے قبرستان کی زیارت کرتا ہے، وہ واپسی تک رحمتِ الٰہی میں ڈوبا رہتا ہے، اور جو شخص اس کی زیارت کرتا ہے وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔
اور کوئی مغموم زیارت کو نہیں جاتا ہے مگر یہ کہ اللہ جل جلالہ اس کا غم دور فرما دیتا ہے، اور جو شخص کسی پریشانی میں مبتلا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم فرما دیتا ہے؛ اور جو شخص کسی حاجت کے ساتھ وہاں حاضر ہو، اس کی حاجت اللہ عزوجل کے اذن سے پوری کر دی جاتی ہے۔
اور وہاں دعاؤں کی قبولیت کے مقامات میں سے ایک مقام مجرى الحصى اور دوسرا مقطع السيل ہے۔ اور وہاں شہدا کی بڑی تعداد ہے۔
نیز اسی میں ہے:
واستشهد بها زهاء من خمسة آلاف من أصحاب رسول الله ﷺ منهم من الأعيان والأمراء زهاء من أربعمائة، ويتبعهم من الأشراف والصحابة نفر كثير۔
اور اس (بہنسا) میں رسول اللہ ﷺ کے تقریباً پانچ ہزار صحابۂ کرام شہید ہوئے، جن میں معزز شخصیات اور امراء کی تعداد تقریباً چار سو تھی، اور ان کے علاوہ اشراف اور صحابۂ کرام میں سے بھی بہت سے افراد تھے۔
[فتوح الشام جلد ثانی ص : ١٩٨]
ضریح السبع بنات ـــــــــــ
١٠ جولائی ٢٠٢٦ء بروز جمعہ بوقت صبح تاکی سے بہنسا کے لیے روانہ ہوا تقریبا دس بجے بہنسا پہنچا اور سب سے پہلے ضریح السبع بنات یعنی سات بیٹیوں کے مزارات میں حاضری دی فاتحہ اور دعا خوانی کی ۔
ضریح السبع بنات یعنی سات بیٹیوں کے مزارات تاریخ کے مطابق یہ سات بیٹیاں مصر کی فتح کے لیے معرکۂ جنگ اسلامی میں جام شہادت نوش فرمائیں۔
عجیب منظرــــــــــ
یہاں پر ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے کو ملا ضریح السبع بنات کے قریب جو ریت ہے اس میں لوگ لوٹ رہے تھے میں نے اس کے بارے میں معلوم کیا تو پتہ چلا اس زمین ہی میں ایسی کشش ہے کہ اگر کوئی اس میں لیٹ جائے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پیچھے گردن کی طرف کر کے ہاتھوں کی قینچی بنا کر سر کو پکڑ لے اور خود ایک بار پلٹی کھائے تو اس کے بعد وہ خود ہی پلٹتا چلا جائے گا اور وہاں کے لوگ کثرت سے اس زمین پر لوٹ رہے تھے لیکن اس پر بھروسہ کرنا ایک امر مشکل تھا میرے قافلے میں ایک سید صاحب قبلہ تھے انھوں نے جائزہ لینے کے لیے لوٹنا چاہا ایک بار خود سے کیا پھر وہ خود بخود لوٹتے چلے گئے ان کو روکا پھر ان سے پوچھا کیسا لگا تو اب تک وہ انکار کر رہے تھے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے لیکن جب خود آزما لیے تو سید صاحب قبلہ فرمانے لگے کہ بات بالکل صحیح ہے ایک بار لوٹ جائیے تو ایسا لگتا ہے کہ زمین خود بخود کھینچ رہی ہے اپنی طرف، پھر لوٹتے چلے جائیں گے
پھر اس کے دو تین اشخاص نے ایسے ہی کیا تاکہ وہ بھی اندازہ کر سکے جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو انھوں بھی تصدیق کی کہ بات صحیح ہے
لیکن میرے رفیق درس محمد الیاس ازہری صاحب نے تجربہ کر کے اس کی نفی کی راقم الحروف نے اس کا تجربہ نہیں کیا جو اپنی طرف سے کوئی رائے قائم کر سکے البتہ اکثر نے جو کہا فقیر اس سے اتفاق رکھتا ہے واقعی زمین میں کوئی کشش ہوگی اور یہ کوئی بعید نہیں۔
بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک قسم کی بیماری ہے جو غالبا خارش وغیرہ کی طرح ہے اگر وہ کسی کو ہو اور وہ لوٹ جائے تو اس کو اس بیماری سے شفا مل جائے گی
مزارات بہنسا میں حاضری ـــــــــــــــ
پھر اس کے بعد وہیں قریب ایک مسجد میں گئے اور نماز جمعہ ادا کی یہ مسجد صحابہ کرام کے مزارات کے قریب میں ہی میں واقع ہے
پھر حاضری کے لیے مزارات کی طرف گیا مزارات اس قدر ہیں کہ اس سے پہلے زندگی میں ایک جگہ اتنے مزارات میں نے کہیں نہیں دیکھا، اور اس میں سب سے بڑی بات یہ کہ ان مزارات میں تقریبا ستر مزارات اصحاب بدر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہیں۔
دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی رحمتیں آسمان سے اس ارض مقدس پر مسلسل برس رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ جو بھی وہاں جاتا ہے خدا کی رحمتوں میں ڈھانپ لیا جاتا ہے مرادیں پوری ہوتی ہیں بیمار شفا پاتے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
شجرۂ مریم کی زیارت ـــــــــــــ
تاریخی روایات کے مطابق بادشاہ کے ظلم و ستم سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے حضرت عیسی علیہ السلام جو عہد طفولیت میں تھے لے کر اسی درخت کے نیچے پناہ لی جو درخت انھیں مزارت سے متصل آج بھی ہرا بھرا لوگوں کو سایہ فراہم کر رہا ہے اور روحانی منظر سے لوگ محظوظ ہو رہے ہیں میں نے اس درخت کی زیارت کی اور دیکھ کر تعجب کیا کہ دو ہزار سال سے زائد ہو چکے لیکن آج بھی درخت ایسے ہی ہرا بھرا ہے جیسے کوئی فقط سو یا پچاس سال قبل کا درخت ہو اسی درخت کے نیچے ایک کنواں بھی موجود جس سے حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے پانی نوش کیا تھا۔ اس درخت کے نیچے بیٹھ جائیے تو آج بھی الگ ہی سکون ملتا ہے بچے نیچے کھیلتے ہیں درخت پر چڑھتے ہیں، بہت سے لوگ وہی بیٹھ کر کھانا وغیرہ بھی کھا رہے ہوتے ہیں اس منظر کو دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید یہ جمعہ کے دن کی وجہ سے ہے کہ اس دن یہ حضرات اس درخت کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور خورد و نوش کرتے ہیں ۔
مزارِ امام قرطبی ـــــــــــــــــــ
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بعدہ پھر بس میں سوار ہوئے اور تقریبا دو تین گھنٹا سفر کرنے کے بعد مفسر القرآن الفقیہ، المحدث ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابو بکر القرطبی المالکی رضی اللہ عنہ کے مزار شریف پر پہنچے امام قرطبی رضی اللہ عنہ کو زمانے میں تفسیر القران الجامع لاحکام القرآن کی وجہ سے بہت شہرت ملی اسی تفسیر کو علما، تفسیر قرطبی کے نام سے یاد کرتے ہیں اس کے علاوہ ان کی تصانیف میں التذکرۃ فی احوال الموتی و امور الآخرہ، کتاب الاسماء الحسنی، کتاب القواعد وغیرہ بھی شامل ہیں امام قرطبی کی با برکت بارگاہ میں حاضری دی اور فیوضات و برکات سے مستفید ہو کر اپنی منزل کی طرف واپس ہو گیا
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ان صحابہ کرام شہدائے عظام اولیاء امت کے فیوض وبرکات سے ہمارے سینوں کو منور و مجلا فرمائے قیامت میں ان کے ساتھ اٹھائے اور انھیں کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

بقیع مصر، بَہْنَسا کا سفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مصر، صوبہ مِنیا، سر زمین بَہْنَسا جو قاہرہ سے تقریبا ١٦٠ کلو میٹر دور جنوب مغرب کی جانب دریائے نیل کے غربی کنارے پر واقع ہے "بہنسا'وہ شہر ہے جس کی پاک سر زمین میں پانچ ہزار صحابہ، تابعین، شہدا کے مزارات موجود ہیں جنت البقیع کی نسبت سے اس جگہ کا نام بقیع مصر بھی ہے، کہا جاتا ہے ان مزارات میں ٧٠ بدری صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مزارات ہیں بہنسا کو مدینۃ الشہدا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے جب اسلامی لشکر صحابی رسول حضرت عمر بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مصر میں داخل ہوا تو خون ریز لڑائی ہوئی، بہت سے صحابہ کرام اور تابعین عظام شہید ہوئے جس کے بعد یہ شہر فتح ہوا۔
روایت کے مطابق بہنسا میں جن مزارات پر گنبد بنے ہوئے ہیں ان سے صحابہ کرام کے مزارات کی طرف نشاندھی ہوتی ہے ان گنبد نما مقامات میں میں حضرت محمد بن عقبی بن عامر الجھنی، زیاد بن حارث بن عبد المطلب، فضل بن عباس عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مقامات منسوب ہیں، نیز خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا کے نام سے بھی منسوب ایک مقام ہے
حضرت ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن واقد واقدی رضی اللہ عنہ متوفی ٤٠٧ھ ارض بہنسا کے فضائل بیان کرتے ہوئے فتوح الشام میں تحریر فرماتے ہیں:
کہ اللہ جل جلالہ نے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق فرمایا: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ [المؤمنون ٥٠] ای ارض البھنسا،
یعنی اس آیت میں جس جگہ کی بات کی گئی ہے اس سے مراد سر زمین بہنسا ہے
نیز فرماتے ہیں:
وذكر جماعة من السادات الأخيار أن من زار جبانة البهنسا خاض في الرحمة حتى يعود ومن زارها خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه وأنه لا يزورها مهموم إلا فرج الله همه، ولا مغموم إلا أذهب الله غمه، ولا صاحب حاجة إلا قضيت بإذن الله عز وجل، والأماكن المستجاب فيها الدعاء منها عند مجرى الحصى ومقطع السيل وأن هناك خلقا كثيرا من الشهداء۔
اور ساداتِ اخیار کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے کہ جو شخص بہنسا کے قبرستان کی زیارت کرتا ہے، وہ واپسی تک رحمتِ الٰہی میں ڈوبا رہتا ہے، اور جو شخص اس کی زیارت کرتا ہے وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہو۔
اور کوئی مغموم زیارت کو نہیں جاتا ہے مگر یہ کہ اللہ جل جلالہ اس کا غم دور فرما دیتا ہے، اور جو شخص کسی پریشانی میں مبتلا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم فرما دیتا ہے؛ اور جو شخص کسی حاجت کے ساتھ وہاں حاضر ہو، اس کی حاجت اللہ عزوجل کے اذن سے پوری کر دی جاتی ہے۔
اور وہاں دعاؤں کی قبولیت کے مقامات میں سے ایک مقام مجرى الحصى اور دوسرا مقطع السيل ہے۔ اور وہاں شہدا کی بڑی تعداد ہے۔
نیز اسی میں ہے:
واستشهد بها زهاء من خمسة آلاف من أصحاب رسول الله ﷺ منهم من الأعيان والأمراء زهاء من أربعمائة، ويتبعهم من الأشراف والصحابة نفر كثير۔
اور اس (بہنسا) میں رسول اللہ ﷺ کے تقریباً پانچ ہزار صحابۂ کرام شہید ہوئے، جن میں معزز شخصیات اور امراء کی تعداد تقریباً چار سو تھی، اور ان کے علاوہ اشراف اور صحابۂ کرام میں سے بھی بہت سے افراد تھے۔
[فتوح الشام جلد ثانی ص : ١٩٨]
ضریح السبع بنات ـــــــــــ
١٠ جولائی ٢٠٢٦ء بروز جمعہ بوقت صبح تاکی سے بہنسا کے لیے روانہ ہوا تقریبا دس بجے بہنسا پہنچا اور سب سے پہلے ضریح السبع بنات یعنی سات بیٹیوں کے مزارات میں حاضری دی فاتحہ اور دعا خوانی کی ۔
ضریح السبع بنات یعنی سات بیٹیوں کے مزارات تاریخ کے مطابق یہ سات بیٹیاں مصر کی فتح کے لیے معرکۂ جنگ اسلامی میں جام شہادت نوش فرمائیں۔
عجیب منظرــــــــــ
یہاں پر ایک عجیب و غریب منظر دیکھنے کو ملا ضریح السبع بنات کے قریب جو ریت ہے اس میں لوگ لوٹ رہے تھے میں نے اس کے بارے میں معلوم کیا تو پتہ چلا اس زمین ہی میں ایسی کشش ہے کہ اگر کوئی اس میں لیٹ جائے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پیچھے گردن کی طرف کر کے ہاتھوں کی قینچی بنا کر سر کو پکڑ لے اور خود ایک بار پلٹی کھائے تو اس کے بعد وہ خود ہی پلٹتا چلا جائے گا اور وہاں کے لوگ کثرت سے اس زمین پر لوٹ رہے تھے لیکن اس پر بھروسہ کرنا ایک امر مشکل تھا میرے قافلے میں ایک سید صاحب قبلہ تھے انھوں نے جائزہ لینے کے لیے لوٹنا چاہا ایک بار خود سے کیا پھر وہ خود بخود لوٹتے چلے گئے ان کو روکا پھر ان سے پوچھا کیسا لگا تو اب تک وہ انکار کر رہے تھے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے لیکن جب خود آزما لیے تو سید صاحب قبلہ فرمانے لگے کہ بات بالکل صحیح ہے ایک بار لوٹ جائیے تو ایسا لگتا ہے کہ زمین خود بخود کھینچ رہی ہے اپنی طرف، پھر لوٹتے چلے جائیں گے
پھر اس کے دو تین اشخاص نے ایسے ہی کیا تاکہ وہ بھی اندازہ کر سکے جب وہ اس سے فارغ ہوئے تو انھوں بھی تصدیق کی کہ بات صحیح ہے
لیکن میرے رفیق درس محمد الیاس ازہری صاحب نے تجربہ کر کے اس کی نفی کی راقم الحروف نے اس کا تجربہ نہیں کیا جو اپنی طرف سے کوئی رائے قائم کر سکے البتہ اکثر نے جو کہا فقیر اس سے اتفاق رکھتا ہے واقعی زمین میں کوئی کشش ہوگی اور یہ کوئی بعید نہیں۔
بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک قسم کی بیماری ہے جو غالبا خارش وغیرہ کی طرح ہے اگر وہ کسی کو ہو اور وہ لوٹ جائے تو اس کو اس بیماری سے شفا مل جائے گی
مزارات بہنسا میں حاضری ـــــــــــــــ
پھر اس کے بعد وہیں قریب ایک مسجد میں گئے اور نماز جمعہ ادا کی یہ مسجد صحابہ کرام کے مزارات کے قریب میں ہی میں واقع ہے
پھر حاضری کے لیے مزارات کی طرف گیا مزارات اس قدر ہیں کہ اس سے پہلے زندگی میں ایک جگہ اتنے مزارات میں نے کہیں نہیں دیکھا، اور اس میں سب سے بڑی بات یہ کہ ان مزارات میں تقریبا ستر مزارات اصحاب بدر رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہیں۔
دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی رحمتیں آسمان سے اس ارض مقدس پر مسلسل برس رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ جو بھی وہاں جاتا ہے خدا کی رحمتوں میں ڈھانپ لیا جاتا ہے مرادیں پوری ہوتی ہیں بیمار شفا پاتے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
شجرۂ مریم کی زیارت ـــــــــــــ
تاریخی روایات کے مطابق بادشاہ کے ظلم و ستم سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے حضرت عیسی علیہ السلام جو عہد طفولیت میں تھے لے کر اسی درخت کے نیچے پناہ لی جو درخت انھیں مزارت سے متصل آج بھی ہرا بھرا لوگوں کو سایہ فراہم کر رہا ہے اور روحانی منظر سے لوگ محظوظ ہو رہے ہیں میں نے اس درخت کی زیارت کی اور دیکھ کر تعجب کیا کہ دو ہزار سال سے زائد ہو چکے لیکن آج بھی درخت ایسے ہی ہرا بھرا ہے جیسے کوئی فقط سو یا پچاس سال قبل کا درخت ہو اسی درخت کے نیچے ایک کنواں بھی موجود جس سے حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے پانی نوش کیا تھا۔ اس درخت کے نیچے بیٹھ جائیے تو آج بھی الگ ہی سکون ملتا ہے بچے نیچے کھیلتے ہیں درخت پر چڑھتے ہیں، بہت سے لوگ وہی بیٹھ کر کھانا وغیرہ بھی کھا رہے ہوتے ہیں اس منظر کو دیکھ کر مجھے لگا کہ شاید یہ جمعہ کے دن کی وجہ سے ہے کہ اس دن یہ حضرات اس درخت کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور خورد و نوش کرتے ہیں ۔
مزارِ امام قرطبی ـــــــــــــــــــ
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بعدہ پھر بس میں سوار ہوئے اور تقریبا دو تین گھنٹا سفر کرنے کے بعد مفسر القرآن الفقیہ، المحدث ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابو بکر القرطبی المالکی رضی اللہ عنہ کے مزار شریف پر پہنچے امام قرطبی رضی اللہ عنہ کو زمانے میں تفسیر القران الجامع لاحکام القرآن کی وجہ سے بہت شہرت ملی اسی تفسیر کو علما، تفسیر قرطبی کے نام سے یاد کرتے ہیں اس کے علاوہ ان کی تصانیف میں التذکرۃ فی احوال الموتی و امور الآخرہ، کتاب الاسماء الحسنی، کتاب القواعد وغیرہ بھی شامل ہیں امام قرطبی کی با برکت بارگاہ میں حاضری دی اور فیوضات و برکات سے مستفید ہو کر اپنی منزل کی طرف واپس ہو گیا
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ان صحابہ کرام شہدائے عظام اولیاء امت کے فیوض وبرکات سے ہمارے سینوں کو منور و مجلا فرمائے قیامت میں ان کے ساتھ اٹھائے اور انھیں کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
19
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

عافیہ، وافیہ زبدۂ نحو و صرف

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢