مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
حضرت آل عبا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان
حضرت سید العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت احسن العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید آل عبا قادری علیہ الرحمۃ
ولادت: ١٨٩٢ء میں سیتاپور میں ہوئی۔
بیعت: حضور مجددِ برکاتیت شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن علیہ الرحمۃ والرضوان سے ہوئے۔
تعلیم: انٹر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اور گریجویشن عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے کیا۔ اردو زبان، نظم و نثر میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ تصانیف: میرا فرمایا ہوا، بے پر کی، کوّا چلا ہنس کی چال۔
وصال: ١٩٨٦ء میں مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ مزار شریف: شاہ مجددِ برکاتیت علیہ الرحمۃ والرضوان کی آخری آرام گاہ کے الگ سے کمرے ہیں۔ اس میں سب سے اندر سید افضل میاں نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ کے سرہانے ایک کمرہ ہے۔ اس میں آخری آرام گاہ ہے۔
حضور سید العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
آپ کا نام حضرت سید ”آل مصطفیٰ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب سید العلماء، سند الحکماء، سید میاں ہے۔ تخلص سیدؔ ہے۔ والد ماجد کا نام حضرت سید شاہ آل عبا قادری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہے، والد ماجدہ حضرت سیدہ اکرام فاطمہ قدس سرہا بنت حضور مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں۔
٢٥؍رجب ١٣٣٣ھ میں ولادت ہوئی۔
نانا جان سیدنا مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ماموں جان سیدنا تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے پرورش کی۔ بہت چھوٹی عمر میں قرآنِ پاک حفظ فرما لیا۔ فارسی کی پہلی، اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی۔ جامعہ معینیہ اجمیر مقدس میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کے بہت چہیتے شاگرد تھے۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی جانب سے خاص اجازت تھی کہ درسگاہ کے علاوہ بھی جب چاہیں سبق لے سکتے ہیں۔ مولوی دینیات میں ایم.اے کے برابر ڈگری کی سند پنجاب بورڈ سے حاصل کی۔ طیبہ کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طبِ یونانی میں ڈی.آئی.ایم.ایس کا ڈپلومہ لیا۔ حکیم عبداللطیف کے چہیتے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔
١٩٤٩ء میں ممبئی تشریف لے گئے۔ ممبئی میں امامت کی ذمہ داری ادا فرماتے۔ کھڑک مسجد کے خطیب و امام اور جماعت بقر قصاب کے رجسٹرڈ قاضی تھے۔ نانا جان، شاہِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کی تبلیغ کی خاطر سب کچھ وقف فرما دیا۔
حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ جید عالم دین، مستند مفتی، خوش الحان حافظ و قاری، حکیمِ حاذق، ممتاز مناظر اور اپنے وقت کے خطیب اعظم تھے۔ حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطاب کا ڈنکا پورے ہندوستان میں بجتا تھا۔ ایک ہی نشست میں چار پانچ گھنٹے خطاب فرما دینا تو ان کے لیے عام بات تھی۔ جب سیاسی موضوع پر تقریر فرماتے تو بڑے بڑے سیاسی خطیبوں اور رہنماؤں کی بولیاں بند ہو جاتیں۔ جب عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور کربلا کے واقعات کے موضوع پر سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے تو ثابت کر دیتے کہ نبی زادہ اور علی کا جانشین ناموسِ رسالت اور اہلِ بیت کی مدحت میں شمشیر بن گیا۔
ممبئی کی سرزمین پر آج جو سنیت کی بہاریں ہیں وہ بفضل اللہ تعالیٰ حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات مبارک کی وجہ سے ہے۔ ممبئی کا جلوس محمدی ہو یا جلوس غوثیہ، محرم کی مجالس ہوں یا ممبئی میں Slaughter House میں ذبحِ شرعی کا مسئلہ ہو، سب کے سب حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سعی کا نتیجہ ہے۔ محرم کی محفلوں کو جس نظم و ضبط کے ساتھ انہوں نے ترتیب دیا تھا جو قابل داد و تحسین ہے۔
حضور سیدنا شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضور سید العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو مسند برکاتیہ آل احمدیہ پر اپنا وارث و جانشین مقرر فرمایا۔
فیض تنبیہ، نئی روشنی، مقدس خاتون، خطبۂ صدارت مشہور تصانیف ہیں۔
حضور سید العلماء علیہ الرحمۃ کو اللہ عزوجل نے غضب کی قوت حافظہ عطا فرمائی، اس اعلیٰ درجے کی ذہانت و ذکاوت پر حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہٗ جیسے مربی استاذ کی استاذانہ مہر لگ جائے تو پھر کیا پوچھنا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی ذات علوم جدیدہ و قدیمہ کی سنگم اور ظاہری اور باطنی جامعیت کا منبع نظر آتی ہے۔ مفتی مظفر احمد قادری بدایونی آپ کے وفور علم اور جلالت شان کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک سینے میں علوم وفنون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندرتھا، مناظرہ میں امام المناظرین، گفتگو میں سید المتکلمین، تحریر و تقریر کے مانے ہوئے بادشاہ اور قادر الکلام تھے، ایک ہی موضوع پر مختلف عنوانات اور متعدد پیرائے سے بیان آپ کے لیے معمولی بات تھی۔ قوت حافظہ کا یہ عالم کہ آٹھ نو سال کی عمر شریف میں آپ نے قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا۔ جب مدارس عربیہ کے طلبا کا امتحان لیتے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مسند تدریس کے بادشاہ ہیں، دورۂ حدیث شریف کا امتحان لیتے تو احادیث نبویہ خود سناتے کہ حافظ حدیث کا گمان ہوتا تھا۔
[اہل سنت کی آواز، شماره ۶، اکتوبر ۹۹۹۱، ص: ۲۳۲]
تحدیث نعمت کے طور پر ایک جگہ حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ہی فرماتے ہیں: ”درس و تدریس سے میرا کوئی خاص تعلق نہیں، لیکن اس عمر میں عربی گرامر اس طرح پر نقش ہیں کہ کوئی جب چاہے دریافت کر سکتا ہے۔“
حضور سید میاں قدس سرہٗ کے علمی تبحّر اور جلالت فن کا مشاہدہ آپ کے تحریر کردہ فتاویٰ اور کتب و مقالات میں کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص اہل سنت کی آواز اور ملفوظات مشائخ مارہره (از : احمد میاں برکاتی) میں شامل شدہ علمی اور ٹھوس مضامین کو ضرور مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ جن کا مطالعہ آج بھی دور رس نتائج کا حامل ہے۔ آپ کو فقہ و افتا میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ جزئیات فقہ پر کامل عبور رکھتے ہوئے جب کوئی محققانہ فتویٰ تحریر فرماتے تو اس کے استناد میں ذرہ بھر شہبے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ آپ کا قول قولِ فیصل مانا جاتا بلکہ آپ کے فتاویٰ ممبئی ہائی کورٹ تک میں تسلیم کیے جاتے تھے۔ شہزادۂ سید العلماء حضور نظؔمی میاں مارہروی آپ کی فتویٰ نویسی سے متعلق رقم طراز ہیں: ”سید میاں نے فتویٰ نویسی میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی سنت پر عمل کیا، وہ جب تک مسئلے کی گہرائی کو نہ سمجھ لیتے اس وقت تک کوئی حکم نہ لگاتے۔“
ایک دوسرے مقام پر آپ کی فقہی بصیرت وسعت نگاری کا انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہزاروں فتاویٰ قلم بند کیے، آج کے مفتیانِ کرام اپنے فتووں کی نقلیں تیار کر کے رکھتے ہیں تا کہ زندگی کے کسی موڑ پر فتاویٰ کے مجموعے شائع کر سکیں، مگر سید میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی، اگرچہ ان کے میراث کے فتوے ممبئی ہائی کورٹ تک میں تسلیم کیے جاتے تھے۔ سید میاں کے کاغذات میں بہت کم فتووں کی نقلیں ملیں۔
١٠ و ١١؍جمادی الآخر ١٣٩٤ھ مطابق ١؍جولائی ١٩٧٤ء کے درمیانی شب شب ١١؍بج کر چالیس منٹ پر ممبئی میں وصالِ ظاہری ہوا۔ مزار شریف: جس کمرے میں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ ہے اسی کمرے کے باہر حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ ہے۔
حضور سید میاں آل مصطفیٰ سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح سیدہ منظور فاطمہ قیصر جہاں بیگم بنت سید شاہ آل حبیب سے ہوا۔ ایک شہزادے حضرت آل رسول حسنین نظمیؔ میاں علیہ الرحمۃ کی ولادت ہوئی۔
حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حسن و صفوت کر عطا ان کی گدا کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ١٠؍شعبان ١٣٤٥ھ ہفتہ، مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔
وقتِ ولادت ظہورِ نور: جب حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دنیا میں تشریف لائے تو سر سے پاؤں تک ایک قدرتی غلاف میں لپٹے ہوئے تھے جس کے اوپری حصہ پر تاج کی شکل بنی ہوئی تھی۔
مارہرہ مطہرہ کے خانقاہی مدرسہ قاسم البرکات میں ابتدائی تعلیم حاصل فرمائی۔ گیارہ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ فرما لیا۔ فارسی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی کیا۔ اپنے ماموں حضور تاج العلماء سید شاہ آل رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علومِ درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا۔ مفتی محمد خلیل خاں صاحب سے مارہرہ مطہرہ میں ہی علمِ صَرف، نحو، منطق کی تعلیم حاصل فرمائی۔ ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ حضور تاج العلماء سید شاہ آل رسول محمد میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ حضور حسن میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تبلیغی سفر میں گونڈل، پوربندر، ترسائی، کاٹھیاواڑ تشریف لے جاتے اور استاذ کا عالم بھی یہ کہ کوئی درس چھوٹ نہ جائے حضور خلیل ملت مفتی خلیل خاں صاحب بھی ساتھ تشریف لے جایا کرتے ۔ اس طرح سفر میں بھی درس کا ناغہ نہ ہوتا تھا۔
اساتذۂ کرام: میرے آقا حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اساتذہ میں حضور تاج العلماء، شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی گھوسوی، مفتی سندھ خلیل العلماء مفتی خلیل صاحب، شیر بیشۂ اہلِ سنت علامہ حشمت علی خاں صاحب جیسی ہستیاں شامل ہیں۔ اردو کی استاذ منشی سعید الدین صاحب، انگریزی کے ماسٹر سمیع الدین صاحب تھے۔ ذہانت کا عالم کہ حضور تاج العلماء علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں: میں ایک صفحہ دیتا حسن میاں فوراً یاد کرکے اور کے لیے عرض کرتے۔ سبحان اللہ العظیم! کیا استاذ اور کیسے شاگرد۔
سیدین مارہرہ یعنی حضور سید العلماء و حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ان کی بہنیں سب ایک ساتھ حضور مجدد برکاتیت سید شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن شاہ جی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرید ہوئے۔
جانشین: حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شاہ قاسم نے اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اردو زبان اور اس کے گرامر پر بڑا عبور حاصل تھا۔ فصیح و بلیغ زبان کے مالک۔ بہترین حافظِ قرآن، لاجواب عالم دین، بے مثال مفتی۔
فن شاعری میں مہارت اور امامِ شعر و سخن سے محبت:
حضور احسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں اہل خاندان کے درمیان بیٹھ کر گفتگو کے بیچ بیچ میں، انوؔری، خاؔقانی، سودؔا، میؔر اور میر درد اور مارہرہ کے شعراء کے شعر بھی حسب موقع پڑھا کرتے تھے۔ میر تقی مؔیر کے اشعار انہیں بہت پسند تھے۔ لیکن شاعروں میں انہیں سب سے زیادہ کلام امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کا یاد تھا۔ ان کا شعر سناتے وقت فرماتے: ”سنو! میرے اعلیٰ حضرت کیا فرماتے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کا کوئی شعر سناتے۔ کبھی کبھی یوں بھی فرماتے: ”سنو! بر یلی والا کیا کہ رہا ہے“ اور یہ کہہ کر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کے اشعار پڑھتے۔ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضؔا خان علیہ الرحمۃ والرضوان سے حضور حسن میاں علیہ الرحمۃ والرضوان کو عشق کی حد تک محبت تھی اور اس کا اظہار وہ خلوت و جلوت، ظاہر و باطن، گفتگو و وعظ، غرض یہ کہ ہر مقام پر کرتے تھے۔ اپنے مریدوں کے درمیان بھی اور دوسروں کے درمیان بھی وہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا ذکر ضرورتاً نہیں عادتاً کرتے تھے اور عادتاً بھی نہیں محبتاً کرتے تھے اور محبت پر کسی کا اجارہ نہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضؔا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کا نام لینے سے پہلے ”چشم و چراغِ خاندانِ برکات“ کا لقب اکثر استعمال فرماتے۔
علامہ مفتی مصطفیٰ حیدر حسن میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امامِ اہلسنّت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت و شان میں تحریر فرماتے ہیں:
آئینۂ حق نما احمد رضا
غوثِ اعظم مظہرِ شاہِ رسل
ان کا تو مظہر ہوا احمد رضا
علم تیرا بحرِ نا پیدا کنار
ظلِّ علمِ مرتضیٰ احمد رضا
یاد کرتا ہے تجھے تیرا حسؔن
اس کے حق میں کر دعا احمد رضا
”نہیں“ سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے
گر ان کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
مشہور خلفاء: چاروں شہزادگان کے علاوہ حضرت سید ضیاء الدین ترمذی، کالپی شریف، حضرت مفتی خلیل خاں پاکستان، حضرت مفتی شریف الحق امجدی، حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا خان ازہری، مفتی جلال الدین احمد امجدی، بحر العلوم مفتی عبدالمنان، قاری امانت رسول، جمال رضا خاں وغیرہم۔
نسب پدری
نسب مادری
حضور احسن العلماء سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٥؍ربیع الثانی ١٤١٦ھ کو دہلی میں ہوا، مزار شریف مارہرہ شریف میں ہے۔ حضور تاج العلماء سید آل رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس کمرے میں آرام فرما ہیں اس کے باہر حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرامگاہ ہے۔
٢١؍جنوری ١٩٤٩ء میں سیدہ محبوب فاطمہ نقوی بنت سید اسحاق نقوی سے نکاح ہوا۔ چھ شہزادگان کی ولادت ہوئی: سید محمد جمیل، سید محمد خالد (بچپن میں وصال فرما گئے) حضور سیدی محمد امین میاں دامت برکاتہم العالیہ، سید محمد اشرف، سید محمد افضل (نور اللّٰہ تعالیٰ مرقدہٗ) و سید محمد نجیب حیدر مدظلہم العالی اور ایک شہزادی سیدہ ثمینہ فاطمہ۔
سیدہ محبوب فاطمہ نقوی کا نسب پدری: سید محمد اسحاق ابن سید نور الحسن ابن سید رجب علی ابن سید محمد بخش صالح ابن سید حاجی حیدر شاہ ابن سید عبد النبی ابن سید معروف علی ابن سید داؤد ابن سید شاہ محمد ابن سید شاہ مصطفیٰ ابن سید شاہ سلطان جہانگیر ابن سید شاہ فضل اللہ آملی ابن سید عبد اللہ عرف سید بڑے صاحب ابن سید ملک ابن سید مجاہد الدین ابن سید کمال الدین ابن سید علاء الدین ابن سید مرتضیٰ آملی ابن سید محمد ابن سید شاہ ابوطالب ابن سید شاہ علی ابن سید شاه حسن ابن سید حسین ابن سید جعفر ابن حضرت امام علی نقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن حضرت امام محمد تقی رضی اللہ تعالی عنہ ابن حضرت امام موسیٰ الرضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالی عنہ ابن حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن حضرت امام محمد باقر رضی اللہ تعالٰی عنہ ابن حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ ابن حضرت امام عرش مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن حضرت امام امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم زوجِ حضرت سیدۃ النساء فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت حضور خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ و بارک وسلم۔
نسب نامه بی بی زینب بیگم والدۂ سیدہ محبوب فاطمه زوجۂ حضور احسن العلماء: سیدہ محبوب فاطمہ نقوی بنت بی بی زینب بیگم بنت میر ناظر حسین ابن سید قائم علی ابن میر ہدایت علی صاحب عرف لعل میاں ابن سید محمد پناہ ابن سید ماہ ابن سید محمد کاظم ابن سید محمد عارف ابن سید ابو الفتح عرف شیخ فتن ابن سید حبیب اللہ صاحب ابن سید معز الدین عرف سید پھول ابن سید شاہ چاند صاحب ابن سید وجہ الدین ابن سید مصطفیٰ ابن سید عیسیٰ صاحب ابن مخدوم سید شاہ فتح اللہ صاحب عرف شیخ چکنا ابن مخدوم سید عادل الملک ابن سید عالم الملک ابن سید عبدالملک گیرامی ابن سید عبد الملک گیرامی ابن سید بہاؤ الدین ابن سید خطیر الدین ابن سید ظہیر الدین کہرامی مصنفِ کتاب فتاوی ظهیری ابن سید بدیع الدین ابن سید شاه اسماعیل ابن سید شاہ عثمان ابن سید بخت و یه ابن سید ماه و یه ابن سید عمویه ابن سید سیبویہ ابن سید محمد صاحب ملقب به سید جوز نیشاپوری ابن سید علی صاحب ملقب به سید فارض ابن سید حسین صاحب ملقب به سید اکبر ابن سید محمد صاحب ملقب به سید دیباج ابن حضرت سید امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تا آخر شجرہ مذکورہ بالا یعنی شجره سید محمد اسحاق صاحب۔
یہ دونوں شجرے کتاب شجرات طیبات مولفه سید ظہور الحسین صاحب فروغ سیتا پوری مطبوعہ مطبع امیر المطابع سیتا پور ۱۳۳۶ء سے نقل کیے ہیں۔
حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے جانشین مرشدی، آقائی، ماوائی، ملجائی، سیدی و سندی تاج المشائخ سرکار امین ملت حضور سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی والنورانی ہیں۔ اس طرح حضور مجدد برکاتیت کے مسند پر تشریف فرما ہو کر کائنات میں فیضانِ مارہرہ تقسیم فرما رہے ہیں۔ عرسِ قاسمی برکاتی میں بزرگانِ دین کے مبارک لباس میں دولہا بن کر تشریف لاتے ہیں اور چاند سے کئی گنا زیادہ چمکتے ہیں۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کے اشعار پر سگِ حضور امین ملت نے تضمین لکھی اور عرض کرتا ہے:
آپ کا حسن و امانت ان میں دکھتا ہے سدا
آپ کے بیٹے کو جو دیکھے پکارے برملا
خوب صورت خوب سیرت وہ امین مجتبیٰ
اشرف و افضل نجیبِ ظاہرہ ملتا نہیں
(کلامِ حضور تاج الشریعہ، تضمین: حامؔی)
jamiaturrazastudents.com
مصطفیٰ حیدر حسن کا آئینہ ملتا نہیں
حاجتیں ہیں کس کو پکاریں کس کی جانب رخ کریں
حاجتیں مشکل میں ہیں مشکل کشا ملتا نہیں
یاد رکھنا ہم سے سن کر مدحتِ حیدر حسن
پھر کہو گے اختؔرِ حیدر نما ملتا نہیں
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
حضرت آل عبا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان
حضرت سید العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت احسن العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت سید آل عبا قادری علیہ الرحمۃ
ولادت: ١٨٩٢ء میں سیتاپور میں ہوئی۔
بیعت: حضور مجددِ برکاتیت شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن علیہ الرحمۃ والرضوان سے ہوئے۔
تعلیم: انٹر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اور گریجویشن عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے کیا۔ اردو زبان، نظم و نثر میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ تصانیف: میرا فرمایا ہوا، بے پر کی، کوّا چلا ہنس کی چال۔
وصال: ١٩٨٦ء میں مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ مزار شریف: شاہ مجددِ برکاتیت علیہ الرحمۃ والرضوان کی آخری آرام گاہ کے الگ سے کمرے ہیں۔ اس میں سب سے اندر سید افضل میاں نَوَّرَ اللہُ تَعَالیٰ مَرْقَدَہٗ کے سرہانے ایک کمرہ ہے۔ اس میں آخری آرام گاہ ہے۔
حضور سید العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
آپ کا نام حضرت سید ”آل مصطفیٰ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ لقب سید العلماء، سند الحکماء، سید میاں ہے۔ تخلص سیدؔ ہے۔ والد ماجد کا نام حضرت سید شاہ آل عبا قادری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ہے، والد ماجدہ حضرت سیدہ اکرام فاطمہ قدس سرہا بنت حضور مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں۔
٢٥؍رجب ١٣٣٣ھ میں ولادت ہوئی۔
نانا جان سیدنا مجدد برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ماموں جان سیدنا تاج العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے پرورش کی۔ بہت چھوٹی عمر میں قرآنِ پاک حفظ فرما لیا۔ فارسی کی پہلی، اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی۔ جامعہ معینیہ اجمیر مقدس میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کے بہت چہیتے شاگرد تھے۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی جانب سے خاص اجازت تھی کہ درسگاہ کے علاوہ بھی جب چاہیں سبق لے سکتے ہیں۔ مولوی دینیات میں ایم.اے کے برابر ڈگری کی سند پنجاب بورڈ سے حاصل کی۔ طیبہ کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طبِ یونانی میں ڈی.آئی.ایم.ایس کا ڈپلومہ لیا۔ حکیم عبداللطیف کے چہیتے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔
١٩٤٩ء میں ممبئی تشریف لے گئے۔ ممبئی میں امامت کی ذمہ داری ادا فرماتے۔ کھڑک مسجد کے خطیب و امام اور جماعت بقر قصاب کے رجسٹرڈ قاضی تھے۔ نانا جان، شاہِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کی تبلیغ کی خاطر سب کچھ وقف فرما دیا۔
حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ جید عالم دین، مستند مفتی، خوش الحان حافظ و قاری، حکیمِ حاذق، ممتاز مناظر اور اپنے وقت کے خطیب اعظم تھے۔ حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطاب کا ڈنکا پورے ہندوستان میں بجتا تھا۔ ایک ہی نشست میں چار پانچ گھنٹے خطاب فرما دینا تو ان کے لیے عام بات تھی۔ جب سیاسی موضوع پر تقریر فرماتے تو بڑے بڑے سیاسی خطیبوں اور رہنماؤں کی بولیاں بند ہو جاتیں۔ جب عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور کربلا کے واقعات کے موضوع پر سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے تو ثابت کر دیتے کہ نبی زادہ اور علی کا جانشین ناموسِ رسالت اور اہلِ بیت کی مدحت میں شمشیر بن گیا۔
ممبئی کی سرزمین پر آج جو سنیت کی بہاریں ہیں وہ بفضل اللہ تعالیٰ حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات مبارک کی وجہ سے ہے۔ ممبئی کا جلوس محمدی ہو یا جلوس غوثیہ، محرم کی مجالس ہوں یا ممبئی میں Slaughter House میں ذبحِ شرعی کا مسئلہ ہو، سب کے سب حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سعی کا نتیجہ ہے۔ محرم کی محفلوں کو جس نظم و ضبط کے ساتھ انہوں نے ترتیب دیا تھا جو قابل داد و تحسین ہے۔
حضور سیدنا شاہ مہدی حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حضور سید العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو مسند برکاتیہ آل احمدیہ پر اپنا وارث و جانشین مقرر فرمایا۔
فیض تنبیہ، نئی روشنی، مقدس خاتون، خطبۂ صدارت مشہور تصانیف ہیں۔
حضور سید العلماء علیہ الرحمۃ کو اللہ عزوجل نے غضب کی قوت حافظہ عطا فرمائی، اس اعلیٰ درجے کی ذہانت و ذکاوت پر حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہٗ جیسے مربی استاذ کی استاذانہ مہر لگ جائے تو پھر کیا پوچھنا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی ذات علوم جدیدہ و قدیمہ کی سنگم اور ظاہری اور باطنی جامعیت کا منبع نظر آتی ہے۔ مفتی مظفر احمد قادری بدایونی آپ کے وفور علم اور جلالت شان کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک سینے میں علوم وفنون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندرتھا، مناظرہ میں امام المناظرین، گفتگو میں سید المتکلمین، تحریر و تقریر کے مانے ہوئے بادشاہ اور قادر الکلام تھے، ایک ہی موضوع پر مختلف عنوانات اور متعدد پیرائے سے بیان آپ کے لیے معمولی بات تھی۔ قوت حافظہ کا یہ عالم کہ آٹھ نو سال کی عمر شریف میں آپ نے قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا۔ جب مدارس عربیہ کے طلبا کا امتحان لیتے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مسند تدریس کے بادشاہ ہیں، دورۂ حدیث شریف کا امتحان لیتے تو احادیث نبویہ خود سناتے کہ حافظ حدیث کا گمان ہوتا تھا۔
[اہل سنت کی آواز، شماره ۶، اکتوبر ۹۹۹۱، ص: ۲۳۲]
تحدیث نعمت کے طور پر ایک جگہ حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ہی فرماتے ہیں: ”درس و تدریس سے میرا کوئی خاص تعلق نہیں، لیکن اس عمر میں عربی گرامر اس طرح پر نقش ہیں کہ کوئی جب چاہے دریافت کر سکتا ہے۔“
حضور سید میاں قدس سرہٗ کے علمی تبحّر اور جلالت فن کا مشاہدہ آپ کے تحریر کردہ فتاویٰ اور کتب و مقالات میں کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص اہل سنت کی آواز اور ملفوظات مشائخ مارہره (از : احمد میاں برکاتی) میں شامل شدہ علمی اور ٹھوس مضامین کو ضرور مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ جن کا مطالعہ آج بھی دور رس نتائج کا حامل ہے۔ آپ کو فقہ و افتا میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ جزئیات فقہ پر کامل عبور رکھتے ہوئے جب کوئی محققانہ فتویٰ تحریر فرماتے تو اس کے استناد میں ذرہ بھر شہبے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ آپ کا قول قولِ فیصل مانا جاتا بلکہ آپ کے فتاویٰ ممبئی ہائی کورٹ تک میں تسلیم کیے جاتے تھے۔ شہزادۂ سید العلماء حضور نظؔمی میاں مارہروی آپ کی فتویٰ نویسی سے متعلق رقم طراز ہیں: ”سید میاں نے فتویٰ نویسی میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی سنت پر عمل کیا، وہ جب تک مسئلے کی گہرائی کو نہ سمجھ لیتے اس وقت تک کوئی حکم نہ لگاتے۔“
ایک دوسرے مقام پر آپ کی فقہی بصیرت وسعت نگاری کا انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہزاروں فتاویٰ قلم بند کیے، آج کے مفتیانِ کرام اپنے فتووں کی نقلیں تیار کر کے رکھتے ہیں تا کہ زندگی کے کسی موڑ پر فتاویٰ کے مجموعے شائع کر سکیں، مگر سید میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی، اگرچہ ان کے میراث کے فتوے ممبئی ہائی کورٹ تک میں تسلیم کیے جاتے تھے۔ سید میاں کے کاغذات میں بہت کم فتووں کی نقلیں ملیں۔
١٠ و ١١؍جمادی الآخر ١٣٩٤ھ مطابق ١؍جولائی ١٩٧٤ء کے درمیانی شب شب ١١؍بج کر چالیس منٹ پر ممبئی میں وصالِ ظاہری ہوا۔ مزار شریف: جس کمرے میں حضور مجددِ برکاتیت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ ہے اسی کمرے کے باہر حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرام گاہ ہے۔
حضور سید میاں آل مصطفیٰ سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح سیدہ منظور فاطمہ قیصر جہاں بیگم بنت سید شاہ آل حبیب سے ہوا۔ ایک شہزادے حضرت آل رسول حسنین نظمیؔ میاں علیہ الرحمۃ کی ولادت ہوئی۔
حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
حسن و صفوت کر عطا ان کی گدا کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ١٠؍شعبان ١٣٤٥ھ ہفتہ، مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔
وقتِ ولادت ظہورِ نور: جب حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دنیا میں تشریف لائے تو سر سے پاؤں تک ایک قدرتی غلاف میں لپٹے ہوئے تھے جس کے اوپری حصہ پر تاج کی شکل بنی ہوئی تھی۔
مارہرہ مطہرہ کے خانقاہی مدرسہ قاسم البرکات میں ابتدائی تعلیم حاصل فرمائی۔ گیارہ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ فرما لیا۔ فارسی تعلیم کا آغاز گھر سے ہی کیا۔ اپنے ماموں حضور تاج العلماء سید شاہ آل رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علومِ درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا۔ مفتی محمد خلیل خاں صاحب سے مارہرہ مطہرہ میں ہی علمِ صَرف، نحو، منطق کی تعلیم حاصل فرمائی۔ ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ حضور تاج العلماء سید شاہ آل رسول محمد میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ حضور حسن میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تبلیغی سفر میں گونڈل، پوربندر، ترسائی، کاٹھیاواڑ تشریف لے جاتے اور استاذ کا عالم بھی یہ کہ کوئی درس چھوٹ نہ جائے حضور خلیل ملت مفتی خلیل خاں صاحب بھی ساتھ تشریف لے جایا کرتے ۔ اس طرح سفر میں بھی درس کا ناغہ نہ ہوتا تھا۔
اساتذۂ کرام: میرے آقا حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اساتذہ میں حضور تاج العلماء، شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی گھوسوی، مفتی سندھ خلیل العلماء مفتی خلیل صاحب، شیر بیشۂ اہلِ سنت علامہ حشمت علی خاں صاحب جیسی ہستیاں شامل ہیں۔ اردو کی استاذ منشی سعید الدین صاحب، انگریزی کے ماسٹر سمیع الدین صاحب تھے۔ ذہانت کا عالم کہ حضور تاج العلماء علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں: میں ایک صفحہ دیتا حسن میاں فوراً یاد کرکے اور کے لیے عرض کرتے۔ سبحان اللہ العظیم! کیا استاذ اور کیسے شاگرد۔
سیدین مارہرہ یعنی حضور سید العلماء و حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ان کی بہنیں سب ایک ساتھ حضور مجدد برکاتیت سید شاہ ابوالقاسم اسمٰعیل حسن شاہ جی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرید ہوئے۔
جانشین: حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شاہ قاسم نے اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اردو زبان اور اس کے گرامر پر بڑا عبور حاصل تھا۔ فصیح و بلیغ زبان کے مالک۔ بہترین حافظِ قرآن، لاجواب عالم دین، بے مثال مفتی۔
فن شاعری میں مہارت اور امامِ شعر و سخن سے محبت:
حضور احسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں اہل خاندان کے درمیان بیٹھ کر گفتگو کے بیچ بیچ میں، انوؔری، خاؔقانی، سودؔا، میؔر اور میر درد اور مارہرہ کے شعراء کے شعر بھی حسب موقع پڑھا کرتے تھے۔ میر تقی مؔیر کے اشعار انہیں بہت پسند تھے۔ لیکن شاعروں میں انہیں سب سے زیادہ کلام امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کا یاد تھا۔ ان کا شعر سناتے وقت فرماتے: ”سنو! میرے اعلیٰ حضرت کیا فرماتے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کا کوئی شعر سناتے۔ کبھی کبھی یوں بھی فرماتے: ”سنو! بر یلی والا کیا کہ رہا ہے“ اور یہ کہہ کر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کے اشعار پڑھتے۔ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضؔا خان علیہ الرحمۃ والرضوان سے حضور حسن میاں علیہ الرحمۃ والرضوان کو عشق کی حد تک محبت تھی اور اس کا اظہار وہ خلوت و جلوت، ظاہر و باطن، گفتگو و وعظ، غرض یہ کہ ہر مقام پر کرتے تھے۔ اپنے مریدوں کے درمیان بھی اور دوسروں کے درمیان بھی وہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا ذکر ضرورتاً نہیں عادتاً کرتے تھے اور عادتاً بھی نہیں محبتاً کرتے تھے اور محبت پر کسی کا اجارہ نہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضؔا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کا نام لینے سے پہلے ”چشم و چراغِ خاندانِ برکات“ کا لقب اکثر استعمال فرماتے۔
علامہ مفتی مصطفیٰ حیدر حسن میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امامِ اہلسنّت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت و شان میں تحریر فرماتے ہیں:
آئینۂ حق نما احمد رضا
غوثِ اعظم مظہرِ شاہِ رسل
ان کا تو مظہر ہوا احمد رضا
علم تیرا بحرِ نا پیدا کنار
ظلِّ علمِ مرتضیٰ احمد رضا
یاد کرتا ہے تجھے تیرا حسؔن
اس کے حق میں کر دعا احمد رضا
”نہیں“ سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے
گر ان کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
مشہور خلفاء: چاروں شہزادگان کے علاوہ حضرت سید ضیاء الدین ترمذی، کالپی شریف، حضرت مفتی خلیل خاں پاکستان، حضرت مفتی شریف الحق امجدی، حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا خان ازہری، مفتی جلال الدین احمد امجدی، بحر العلوم مفتی عبدالمنان، قاری امانت رسول، جمال رضا خاں وغیرہم۔
نسب پدری
نسب مادری
حضور احسن العلماء سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٥؍ربیع الثانی ١٤١٦ھ کو دہلی میں ہوا، مزار شریف مارہرہ شریف میں ہے۔ حضور تاج العلماء سید آل رسول محمد میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس کمرے میں آرام فرما ہیں اس کے باہر حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آخری آرامگاہ ہے۔
٢١؍جنوری ١٩٤٩ء میں سیدہ محبوب فاطمہ نقوی بنت سید اسحاق نقوی سے نکاح ہوا۔ چھ شہزادگان کی ولادت ہوئی: سید محمد جمیل، سید محمد خالد (بچپن میں وصال فرما گئے) حضور سیدی محمد امین میاں دامت برکاتہم العالیہ، سید محمد اشرف، سید محمد افضل (نور اللّٰہ تعالیٰ مرقدہٗ) و سید محمد نجیب حیدر مدظلہم العالی اور ایک شہزادی سیدہ ثمینہ فاطمہ۔
سیدہ محبوب فاطمہ نقوی کا نسب پدری: سید محمد اسحاق ابن سید نور الحسن ابن سید رجب علی ابن سید محمد بخش صالح ابن سید حاجی حیدر شاہ ابن سید عبد النبی ابن سید معروف علی ابن سید داؤد ابن سید شاہ محمد ابن سید شاہ مصطفیٰ ابن سید شاہ سلطان جہانگیر ابن سید شاہ فضل اللہ آملی ابن سید عبد اللہ عرف سید بڑے صاحب ابن سید ملک ابن سید مجاہد الدین ابن سید کمال الدین ابن سید علاء الدین ابن سید مرتضیٰ آملی ابن سید محمد ابن سید شاہ ابوطالب ابن سید شاہ علی ابن سید شاه حسن ابن سید حسین ابن سید جعفر ابن حضرت امام علی نقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن حضرت امام محمد تقی رضی اللہ تعالی عنہ ابن حضرت امام موسیٰ الرضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالی عنہ ابن حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن حضرت امام محمد باقر رضی اللہ تعالٰی عنہ ابن حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ ابن حضرت امام عرش مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن حضرت امام امیر المؤمنین مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم زوجِ حضرت سیدۃ النساء فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت حضور خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ و بارک وسلم۔
نسب نامه بی بی زینب بیگم والدۂ سیدہ محبوب فاطمه زوجۂ حضور احسن العلماء: سیدہ محبوب فاطمہ نقوی بنت بی بی زینب بیگم بنت میر ناظر حسین ابن سید قائم علی ابن میر ہدایت علی صاحب عرف لعل میاں ابن سید محمد پناہ ابن سید ماہ ابن سید محمد کاظم ابن سید محمد عارف ابن سید ابو الفتح عرف شیخ فتن ابن سید حبیب اللہ صاحب ابن سید معز الدین عرف سید پھول ابن سید شاہ چاند صاحب ابن سید وجہ الدین ابن سید مصطفیٰ ابن سید عیسیٰ صاحب ابن مخدوم سید شاہ فتح اللہ صاحب عرف شیخ چکنا ابن مخدوم سید عادل الملک ابن سید عالم الملک ابن سید عبدالملک گیرامی ابن سید عبد الملک گیرامی ابن سید بہاؤ الدین ابن سید خطیر الدین ابن سید ظہیر الدین کہرامی مصنفِ کتاب فتاوی ظهیری ابن سید بدیع الدین ابن سید شاه اسماعیل ابن سید شاہ عثمان ابن سید بخت و یه ابن سید ماه و یه ابن سید عمویه ابن سید سیبویہ ابن سید محمد صاحب ملقب به سید جوز نیشاپوری ابن سید علی صاحب ملقب به سید فارض ابن سید حسین صاحب ملقب به سید اکبر ابن سید محمد صاحب ملقب به سید دیباج ابن حضرت سید امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تا آخر شجرہ مذکورہ بالا یعنی شجره سید محمد اسحاق صاحب۔
یہ دونوں شجرے کتاب شجرات طیبات مولفه سید ظہور الحسین صاحب فروغ سیتا پوری مطبوعہ مطبع امیر المطابع سیتا پور ۱۳۳۶ء سے نقل کیے ہیں۔
حضور احسن العلماء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے جانشین مرشدی، آقائی، ماوائی، ملجائی، سیدی و سندی تاج المشائخ سرکار امین ملت حضور سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی والنورانی ہیں۔ اس طرح حضور مجدد برکاتیت کے مسند پر تشریف فرما ہو کر کائنات میں فیضانِ مارہرہ تقسیم فرما رہے ہیں۔ عرسِ قاسمی برکاتی میں بزرگانِ دین کے مبارک لباس میں دولہا بن کر تشریف لاتے ہیں اور چاند سے کئی گنا زیادہ چمکتے ہیں۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کے اشعار پر سگِ حضور امین ملت نے تضمین لکھی اور عرض کرتا ہے:
آپ کا حسن و امانت ان میں دکھتا ہے سدا
آپ کے بیٹے کو جو دیکھے پکارے برملا
خوب صورت خوب سیرت وہ امین مجتبیٰ
اشرف و افضل نجیبِ ظاہرہ ملتا نہیں
(کلامِ حضور تاج الشریعہ، تضمین: حامؔی)
jamiaturrazastudents.com
مصطفیٰ حیدر حسن کا آئینہ ملتا نہیں
حاجتیں ہیں کس کو پکاریں کس کی جانب رخ کریں
حاجتیں مشکل میں ہیں مشکل کشا ملتا نہیں
یاد رکھنا ہم سے سن کر مدحتِ حیدر حسن
پھر کہو گے اختؔرِ حیدر نما ملتا نہیں
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
- 1 ”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب
- 2 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 3 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 4 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 5 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 6 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 7 اخلاص
- 8 کسی کا انتظار ہے
- 9 انتظار
- 10 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 11 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 12 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 13 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 14 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 15 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 16 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 17 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 18 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 19 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 20 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 21 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 22 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 24 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 25 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 26 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 27 اسلام اور رزقِ حلال
- 28 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 2 تنہائی میں
- 3 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 4 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 5 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 6 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 7 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 8 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 9 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 10 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط] حضرت سید یحییٰ حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سید نظمؔی میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ # حضرت سید شاہ یحییٰ حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ *نام و...
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط] حضرت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سید غلام محی الدین فقیر عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سید اولاد رسول محمد میاں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us