صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں
فقہ، اصول فقہ

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا العلم بربنا فصح لنا الإيمان : وعلى اله وصحبه وتابعيهم بإحسان۔
اللہ وحدہ لاشریک لہ کی وحدانیت اور شارع اسلام خاتم انبیاء کرام محمد رسول اللّٰہ علیہ الصلاۃ والسلام کی رسالت اور سائر ضروریات دین پر ایمان لانا فرض عین ہے ان میں سے کسی کا انکار یا ان میں ادنی شک بھی لانا کفر ہے جیسا کہ مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں:
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العٰلمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ، ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ایمان ہے۔
ادامه الله لنا حتى نلقاء به يوم القيامۃ وتدخل به بفضل رحمته دار السلام أمين!
اور معاذ اللہ ان میں کسی بات کا جھٹلانا اور اس میں ادنی شک لانا کفر"۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵ کتاب الرد و المناظرہ]
کفر لزومی اور کفر التزامی________
اس انکار کی بھی دو قسم ہے لزومی اور التزامی اسی کو کفر فقہی اور کفر کلامی کہتے ہیں جیسا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ متذکرہ عبارت کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
پھر یہ انکار جس سے خدا مجھے اور سب مسلمانوں کو پناہ دے دو طرح ہوتا ہے، لزومی و التزامی ۔ التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شی کا تصریحا خلاف کرے، یہ قطعا اجماعا کفر ہے ، اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوی کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں کہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتا ہو، جیسا کہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔ یہ اقرار تو بہت طوائفِ کفار میں بھی نہ پایا جائے گا، ہم نے دیکھا ہے بہتیرے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں، بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا، یا جس بات کا اس نے دعوی کیا، وہ بعینہ کفر و مخالف ضروریات دین ہو، جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک و جن و شیطان و آسمان و نار و جنان و معجزات انبیا علیہم افضل الصلوة والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی بر حق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا، اور اپنی تاویلات باطلہ و توہمات عاطلہ کو لے مرنا نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے ، نہ محبت اسلام و ہمدردی قوم کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے۔ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ
{
القرآن سورة المنافقون: ٤]
اور لزومی یہ کہ جو بات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے، یعنی مآل سخن و لازم حکم کو ترتیب مقدمات و تتمیم تقریبات کرتے لے چلیے تو انجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر و امیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنھما سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی طرف مؤدی، اور وہ قطعا کفر، مگر انھوں نے صراحت اس لازم کا اقرار نہ کیا تھا، بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہل بیت عظام و غیر ہم چند اکابر کرام علیٰ مولاهم و علیہم الصلوۃ والسلام کو زبانی دعووں سے اپنا پیشوا بناتے اور خلافت صدیقی و فاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں، اس قسم کے کفر میں علمائے اہل سنت مختلف ہو گئے، جنھوں نے مآل مقال ولازم سخن کی طرف نظر کی، حکم کفر فرمایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بدعت و بدمذہبی و ضلالت وگمراہی ہے۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵-۱۷۶ کتاب الرد و المناظرہ]
ضروریات دین اور دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں:
ایک ضروریات دین : ان کا منکر بلکہ ان میں ادنی شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔
دوم ضروریات عقائد اہل سنت: ان کا منکر بد مذ ہب گمراہ ہوتا ہے۔
سوم وہ مسائل کہ علماے اہل سنت میں مختلف فیہ ہوں: اُن میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں ۔
(فتاوی رضویہ کامل: ۲۵۸/۱۸)
اسی کی مزید توضیح و تشریح کرتے ہوئے حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ الصارم الربانی مشمولہ فتاوی رضویہ میں رقم طراز ہیں:

مانی ہوئی باتیں چار قسم ہوتی ہیں۔

(1) ضروریات دین:
ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحة الافادات سے ہوتا ہے جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔ اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کا فر ہوتا ہے۔
(۲) ضروریات مذہب اہل سنت و جماعت :
ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوع شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے ۔ اس لیے ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ بد مذہب ، بد دین کہلاتا ہے۔
(۳) ثابتات محکمہ :
ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی، جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح ومضمحل اور التقات خاص کے نا قابل بنا دے۔ اس کے ثبوت کے لیے حدیث آحاد، صیح یا حسن کافی ، اور قول سواد اظلم و جمهور علما کی سند وافی (فان ید الله على الجماعة)
ان کا منکر وضوح امر کے بعد خاطی و آثم خطا کار و گناہ گار قرار پاتا ہے، نہ بد دین و گمراہ نہ کافر خارج از اسلام
(۴) ظنیات محتمله :
ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنی بھی کافی جس نے جانب خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہو، ان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وار کہا جائے گا نہ گنہ گار، چہ جائے کہ گمراہ، چہ جائے کہ کافر۔
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے جو فرق مراتب نہ کرے اور ایک مرتبے کی بات کو اس سے اعلی درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکار فیلسوف ۔۔۔۔۔۔ ع ہر سخن وقتے ہر نکتہ مقامی دارد
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ع گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
اور بالخصوص قرآن عظیم بلکہ حدیث ہی میں تصریح صریح ہونے کی تو اصلا ضرورت نہیں حتی کہ مرتبہ اعلی اعنی ضروریات دین بھی۔ بہت باتیں ضروریات دین سے ہیں جن کا منکر یقینا کافر مگر ان کا ذکر آیات واحادیث میں نہیں ، مثلاً باری تعالیٰ عزوجل کا جہل محال ہونا۔ قرآن عظیم میں اللہ عزوجل کے علم واحاطہ کا لاکھ جگہ ذکر ہے مگر امتناع و امکان کی بحث کہیں نہیں ، پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں تو بے شک اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے ، عالم الغيب والشهادة ہے، کوئی ذرہ اس کے علم سے چھپا نہیں۔ مگر ممکن ہےکہ جاہل ہوجائے تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس کے امکان کا سلب صریح قرآن میں مذکور نہیں۔ حاشا للہ! ضرور کافرہے اور جو اسے کافر نہ کہے تو خود کافر تو جب ضروریات دین ہی کے ہر جزئیہ کی تصریح صریح قرآن و حدیث میں ضرور نہیں تو ان سے اتر کر اور کسی درجے کی بات پر یہ مڑچڑاپن کہ ہمیں قرآن ہی میں دکھاؤ ورنہ ہم نہ مانیں گے نری جہالت ہے یا صریح ضلالت مگر جنون و تعصب کا علاج کسی کے پاس نہیں
تو خوب کان کھول کر سن لو اور لوح دل پر نقش رکھو کہ جسے کہتا سنو کہ ہم اماموں کا قول نہیں جانتے۔ ہمیں قرآن و حدیث چاہیے۔ جان لو کہ یہ گمراہ ہے، اور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بد دین ہے، دین خدا کا بد خواہ ہے ۔
مسلمانو تم ان گمراہوں کی ایک نہ سنو۔ اور جب تمہیں قرآن میں شبہ ڈالیں تم حدیث کی پناہ لو۔ اگر حدیث میں ایں و آں نکالیں تو ائمۂ دین کا دامن پکڑو اس درجے پر آ کر حق و باطل صاف کھل جائے گا اور ان گمراہوں کا اڑایا ہوا سارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں سے دھل جائے گا اور اس وقت یہ ضال، مضل طائفے بھاگتے نظر آئیں گے . ﴿كَأَنَّهُمۡ حُمُرࣱ مُّسۡتَنفِرَةࣱ﴾ [المدثر ٥٠]
(گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں کہ شیر سے بھاگے ہوں )
( الصارم الربانی ملخصا)
[فتاوی رضویہ جلد ۱۸ ص ۲۵۹-۲۶۰ کتاب العقائد و الکلام]
امام احمد رضا خان قدس سرہ ” رد الرفضہ" میں ضروریات دین کی تشریح کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں:
اصل مدار ضروریات دین ہیں، اور ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقا ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نص قطعی اصلاً نہ ہو جب بھی ان کا وہی حکم رہے گا کہ منکر یقینا کافر، مثلاً عالم کے بجميع اجزاءہ حادث ہونے کی تصریح کسی نص قطعی میں نہ ملے گی ، غایت یہ کہ آسمان وزمین کا حدوث ارشاد ہوا ہے، مگر باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعا کافر ہے، جس کی اسانید کثیرہ فقیر کے رسالہ مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید میں مذکور تو وجہ وہی ہے کہ حدوث جمیع ماسوی اللہ ضروریات دین سے ہے، کہ اسے کسی ثبوت خاص کی حاجت نہیں ... یہی سبب ہے کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی ۔
(رساله رد الرفضه فتاوی رضویہ مترجم جلد ۴ صفحه ۲۶۶)
فتاوی رضویہ جلد اول کے بالکل شروع میں ہی ضروریات دین کی تشریح یوں فرماتے ہیں:
جس کے علم میں خواص و عوام سب شریک ہوں ( کہ یہ دین کا حصہ ہے ) ، اقول: یہاں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین سے شغل رکھتے ہیں اور علما سے ملتے جلتے ہیں، ورنہ بہت سے جاہل دیہاتی خصوصاً ہندوستان اور مشرقی علاقوں میں ایسے ہیں جن کو کثیر ضروریات دین کا علم نہیں ، اس معنی میں نہیں کہ وہ ان سے منکر ہیں، بلکہ اس معنی میں کہ وہ ان سے غافل ہیں۔ میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ یہاں ضرورت بداہت کے معنی میں ہے، یہ بات معلوم ہے کہ بداہت و نظریت لوگوں کے اختلاف سے مختلف ہوتی رہتی ہے، کہ بہت سے نظری مسئلے جو دوسرے نظری مسئلے پر مبنی ہوں جب دوسرا واضح ہو جائے تو پہلا جو اپنے ظہور میں دوسرے کے ظہور کا محتاج تھا ان کے نزدیک بدیہیات سے ہو جاتا ہے اگر چہ وہ نظری مسئلہ تھا۔
( ملخصا متر جما فتاوی رضویہ قدیم جلد اول صفحہ ۷ ناشر رضا اکیڈمی ممبئی)
ایک بہت ہی اہم تحقیق حقیق جو امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے الزلال الانقی فی بحر سبقۃ الاتقی میں فرمائی ہے ملاحظہ فرمائیں:

واضح رہے کہ علم قطعی دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔

اول : احتمال بالکل ختم ہو جائے اور اس کا نام و نشان نہ رہے۔ قطعی بالمعنی الاخص ہے ۔ یہ اس محکم و مفسر میں ہوتا ہے جو متواتر ہیں۔ اصول دین اور عقائد اسلام میں یہی مطلوب ہے ۔
دوم: احتمال تو ہے مگر بلا دلیل ہے۔ جیسے : مجاز تخصیص یا تاویل کی دوسری قسمیں جو ظاہر اور نص یا احادیث مشہورہ میں ہوتی ہیں۔ یہ قطعی بالمعنی الاعم ہے۔
اول کا نام علم الیقین ہے۔ اس کا منکر و مخالف کا فر ہے۔
البتہ یہاں ایک اختلاف ہے فقہا منکر کو علی الاطلاق کافر کہتے ہیں اور متکلمین اس میں ضروریات دین کی قید لگاتے ہیں۔
دوم کا نام علم طمانیت ہے، اس کا مخالف و منکر بدعتی و گمراہ ہے ۔ یہاں کافر کہنے کی گنجائش نہیں۔ جیسے قیامت میں اعمال کا تولا جانا۔ دیدار الہی۔ آسمانوں کی بلندی تک معراج جسمانی۔
اسی طرح ظن کے دو معنی ہیں : ظن بالمعنى الاخص، ظن بالمعنى الاعم.
ظنی اسے کہتے ہیں جس میں کوئی احتمال ہو۔ اگر احتمال کسی دلیل کی بنیاد پر ہے تو یہ ظنی بالاخص ہے ۔ اور بلا دلیل ہے تو ظنی بالاعم ۔
(اسی کو اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ عام کا مقابل خاص اور خاص کا مقابل عام ہوتا ہے ) اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ مسئلۂ تفضیل قطعی بالمعنی الاعم ہے، اور ہم اس کے منکر کو کافر نہیں کہتے البتہ بدعتی گمراہی ہیں۔ اور جس نے یہ کہا کہ مسئلۂ تفضیل میں نصوص متعارض ہیں لہذا استدلال ساقط ۔ تو ایسا قول ساقط الاعتبار ہے اگر اس کی مراد تعارض حقیقی ہے۔ رہا تعارض صوری تو مسئلہ پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اب بات واضح ہو گئی کہ ہمارے ائمہ کرام میں بعض نے جو مسئلہ تفضیل کو قطعی کہا ہے اور ظنی کی نفی کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاعم ہے جس سے علم طمانیت حاصل ہوتا ہے۔ اور ظنی سے ظنی بالمعنی الاخص کی نفی ہے۔ یعنی اس میں کوئی احتمال بالدلیل نہیں۔
اور جنھوں نے ظنی کہا اور قطعی کی نفی کی تو مطلب یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاخص نہیں جس میں سرے سے احتمال ہی نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ ایسا نہیں ۔ اور ظنی سے مراد ظنی بالمعنی الاعم ہے ، جس میں احتمال تو ہوتا ہے مگر بلا دلیل ۔ لہذا یہ اختلاف محض لفظی ہے۔
یہاں کسی کو یہ کھٹک ہو سکتی ہے کہ مسئلہ تو اعتقادی ہے پھر قطعی بالمعنی الاعم یعنی ظنی بالمعنی الاعم پر اعتماد کیوں کر روا ہو گا۔
جواب یہ ہے کہ مسئلہ اصول اسلام سے نہیں ۔ جیسے خلفائے راشدین کی خلافت۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہماری تحقیق کے ذریعہ بہت سے اقوال میں تطبیق ہو گئی ، لہذا اس کو اختیار کر لو۔ [فتاوی رضویہ جلد ۲۱ ص ۲۴۴-۲۴۵ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی]
متذکرہ بالا عبارات کی روشنی میں واضح ہو گیا کہ کفر کلامی / التزامی صرف ضروریات دین کا انکار ہے اگر کوئی ضروریات دین کا انکار کرتا ہے تو اسے کافر کہیں گے جیسے طواغیت اربعہ ورنہ ہر گز کافر نہ کہیں گے یہی امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ کا مذہب مختار ہے جیسا کہ رسالہ ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار میں فرماتے ہیں:
ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتا ہے اسے کافر نہیں کہتے ۔
(ص ۱۰)
تکفیر میں احتیاط اس درجہ چاہیے کہ جب تک کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے حکم کفر نہیں دیا جائے گا جیسا کہ ذیل کی عبارت سے واضح ہے
فرماتے ہیں:
اسمعیل دہلوی کو بھی جانے دیجیے ، یہی دشنامی لوگ جن کے کفر پر اب فتوی دیا ہے جب تک ان کی صریح دشناموں پر اطلاع نہ تھی مسئلہ امکان کذب کے باعث ان پر اٹھتر وجہ سے لزوم کفر ثابت کر کے سبحان السبوح میں بالآ خر صفحہ ۸۰ پر یہی لکھا: حاشا للہ حاشا للہ ہزار بار حاشا للہ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا ، ان مقتدیوں یعنی مدعیان جدید کو ابھی تک مسلمان ہی جانتا ہوں اگر چہ ان کی بدعت و ضلالت میں شک نہیں ۔ اور امام الطائفہ کے کفر پر بھی حکم نہیں کرتا کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے ، اور حکم اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے، فان الاسلام يعلو ولا يعلیٰ۔
(ملتقطا تمهید ایمان از فتاوی رضویه مترجم ۳۵۰/۳۰ تا ۳۵۴)
مذکورہ بالا مذہب متکلمین کا ہے رہی بات فقہاء کرام کی توہ وہ مآل مقال لازم سخن کی طرف نظر کرتے ہوئے مسئلہ اجماعی یا قطعی الثبوت کے انکار پر بھی حکم کفر سنا دیتے ہیں اسی کو کفر لزومی / فقہی کہتے ہیں

امام اہل سنت المعتمد المستند میں رقم طراز ہیں :

تحقيق المقام أن أكثر الحنفية يكفرون بإنكار كل مقطوع كما هو المصرح في رد المحتار وغيره. وهم ومن واقفهم قائلون بإنكار كل مجمع عليه بعد ما كان الاجماع قطعياً نقلاً ودلالة، ولا حاجة إلى وجود النص. والمحققون لا يكفرون إلا بإنكار ما علم من الدين ضرورة بحيث يشترك في معرفته الخاص والعام المخالطون للخواص فإذا كان المجمع عليه هكذا كفر منكره، وإلا لا.
(ص: ۱۹۵)
تحقیق یہ ہے کہ اکثر علمائے احناف ہر قطعی دینی مسئلہ کے انکار کو کفر قرار دیتے ہیں جو دلائل قطعیہ سے ثابت ہوں اور حنفیہ اور ان کے موافقین مسئلہ اجماعی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت کے انکار پر بھی حکم کفر صادر کرتے ہیں اور محققین صرف مسائل دینیہ ضروریہ کے انکار پر ہاں کوئی اجماعی مسئلہ ضروری ہو جائے تو اس کے انکار پر بھی ، ورنہ نہیں۔
تو مسئلۂ تکفیر میں فقہا اور متکلمین کے درمیان کلیدی اور عنصری اختلاف یہی ہوا کہ متکلمین / محققین صرف ضروریات دینیہ کے منکر پر حکم کفر صادر کرتے ہیں اور فقہا کرام مسئلہ اجماعی یا قطعی الثبوت کے منکر پر بھی حکم کفر لگاتے ہیں متکلمین کو اس سے اختلاف ہے البتہ بد مذہبیت میں انھیں بھی کوئی شک نہیں ہے ہاں اگر کوئی اجماعی یا قطعی الثبوت مسئلہ ضروریات دین کی حد میں داخل ہو جائے تو متکلمین اس کے منکر کی تکفیر کرتے ہیں مگر اس وجہ سے نہیں کہ وہ اجماعی یا قطعی الثبوت مسئلہ ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ضروری دینی ہے
تکفیر_______
امام اہل سنت نے جن لوگوں کی تکفیر ضروریات دین کے انکار کے سبب کی ہے حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان رضی اللہ عنہ نے فتاوی مصطفویہ میں ان ضروریات دین کی یوں تفصیل کی ہے
فرماتے ہیں:
اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ان لوگوں کی تکفیر کی ہے جنھوں نے جنت و دوزخ کا انکار کیا، فرشتوں اور شیاطین کا انکار کیا، نماز و روزے کا انکار کیا، اور وہ جنھوں نے اللہ ورسول کی کھلی کھلی توہینیں کیں اس سبوح وقدس جل مجدہ کو عیبی جانا ، جھوٹ جیسے عیب کو اس سے واقع مانا ، چوری ، شراب خوری ، جہل و ظلم جیسے عیب کا اس پاک ذات پر دھبہ لگایا، حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم عظیم سے شیطان لعین کے علم کو وسیع بتایا ، شیطان کے علم کے لیے علم غیب نص سے ثابت مانا اور حضور کے لیے ماننے کو شرک بتایا، یوں یا شیطان کو غیر خدا نہ جانا ، یا اپنے منھ شیطان کے لیے علم غیب مان کر مشرک ہوا، اور شرک کو نص سے ثابت جانا ، اور وہ جس نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم شریف کے بارے میں یہ لکھا کہ ایسا علم تو زید و عمرو، بلکہ ہر صبی و مجنون ، بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے حاصل ہے ۔ معاذ اللہ اور وہ جس نے حضور خاتم النبین علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد نبوت کی تجویز کی اور قرآن پر بے ربطی کی لم لگائی ، حضور کے بعد ، بلکہ حضور کے زمانے میں کہیں کوئی نبی پیدا ہونے سے ختم نبوت میں کوئی خلل نہ جانا، خاتم النبیین کے نئے معنی گڑھے ، اور جو معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور آج تک تمام مسلمان سمجھتے رہے، اسے خیال عوام ٹھہرایا ، اور اسے صحیح نہ جانا ، اور جنھوں نے اپنی نبوت کا ادعا کیا، اور جو ان جھوٹے مدعیوں کو نبی مانتے ، یا مجدد جانتے ، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں، اور وہ جنھوں نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام ، یا کسی اور نبی کی توہینیں کی ہیں ، یا ان کی نبوت سے انکار کیا ہے، اور محض مقدس بھاری واعظ اور ایک مصلح جانا ہے۔
اور وہ جنھوں نے مولی علی کو خدا مانا ، یا خدا کو ان میں رسا ہوا ٹھہرا، یا حضرات اہل بیت کرام کو سوائے حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام سے افضل جانا ، جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام کو غلط کار اور خائن ٹھہرایا، یا غیر نبی مولی علی کو نبوت کا اہل اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور نبی الانبیاء کو نبوت کے لائق نہ جانا ، جن کا عقیدہ ہے کہ نبوت بھیجی تو اللہ نے مولیٰ علی کو تھی اور جبریل غلطی سے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو دے گئے ، اور وہ جنھوں نے اس قرآن کو دخل بشری سے محفوظ نہ جانا ، بیاض عثمانی ٹھہرایا، یا ناقص بتایا ، جنھوں نے خدا پر یہ عیب لگایا کہ وہ حکم دے کر پچھتاتا ہے، وغیرہ وغیرہ کفریات ، اور وہ جن کا یہ عقیدہ ہے کہ جولا الہ الا اللہ کہتا ہے کیسے گندے گھناؤنے ، کفری عقیدہ رکھتا ہو مسلمان ، اور وہ جو گاندھی کی آندھی میں اڑے جنھوں نے کھلے کھلے الفاظ کفریہ بکے اور افعال کفریہ کیے، یوں ہی اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ہر اس شخص کی تکفیر کی ہے جو ضروریات دین سے کسی ضروری دینی کا منکر ہو۔
(فتاوی مصطفویہ صفحہ ۲۶۰،۲۵۹)

کفر کلامی اور کفر فقہی کا حکم_______

جس کا کفر کلامی ہو اس کے سارے اعمال اکارت ہوں گے اور نکاح باطل ہو گا اور اس حالت میں اختلاط سے جتنے بچے پیدا ہوئے سب ولد الزنا ہوئے۔
اور جس کے کفر میں اختلاف ہے ، اس کو بھی قاضی تو بہ اور استغفار اور دوبارہ نکاح پڑھانے کا حکم دیگا تاکہ عورت کے ساتھ اس کا اختلاط سب کے نزدیک حلال ہو جائے۔
قاضی عیاض رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ گروہ متکلمین بھی جو کفر فقہی پر تکفیر نہیں کرتے ، اُن پر سختی و تنگی روار کھتے ہیں۔
لكنهم يغلظ عليهم بوجيع الادب وشديد الزجر والهجر حتى يرجعوا عن بدعتهم . (جلد دوم، ص: ۲۹۴)
ایسا کرنے والے جب تک اپنی گمرہی سے رجوع نہیں کر لیتے ، تکفیر نہ کرنے والے حضرات بھی تکلیف و تادیب ، اور شدید زجر و توبیخ کے ذریعہ سختی فرماتے اور ان کا بائکاٹ کرتے ہیں۔
[اصول تکفیر ص ٥٩-٦٠]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خاتمہ
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جن چیزوں کی تصدیق کرنے سے انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے ان میں سے کسی ایک کا انکار یا ان میں ادنی شک کرنے سے بھی انسان خارج از اسلام ہو جاتا ہے جیسا کہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں:
لا یخرج الانسان من الاسلام الا جحود ما ادخلہ فیہ
[فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم ص ۱۰۱]
اللہ جل و علا ہمیں کفر شرک سے بچائے اور اطاعت رسول میں زندگی گزر بسر کرنے توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و صحبہ اجمعین

تکفیر اصول تکفیر تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

تکفیر اصول تکفیر [تحقیقات امام احمد رضا کی روشنی میں]
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد للذي هدانا للإيمان وأتانا القرآن والفرقان : والصلوة والسلام الأتمان الأكملان : على من أعطانا العلم بربنا فصح لنا الإيمان : وعلى اله وصحبه وتابعيهم بإحسان۔
اللہ وحدہ لاشریک لہ کی وحدانیت اور شارع اسلام خاتم انبیاء کرام محمد رسول اللّٰہ علیہ الصلاۃ والسلام کی رسالت اور سائر ضروریات دین پر ایمان لانا فرض عین ہے ان میں سے کسی کا انکار یا ان میں ادنی شک بھی لانا کفر ہے جیسا کہ مجدد دین و ملت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں:
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العٰلمین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ، ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ایمان ہے۔
ادامه الله لنا حتى نلقاء به يوم القيامۃ وتدخل به بفضل رحمته دار السلام أمين!
اور معاذ اللہ ان میں کسی بات کا جھٹلانا اور اس میں ادنی شک لانا کفر"۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵ کتاب الرد و المناظرہ]
کفر لزومی اور کفر التزامی________
اس انکار کی بھی دو قسم ہے لزومی اور التزامی اسی کو کفر فقہی اور کفر کلامی کہتے ہیں جیسا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ متذکرہ عبارت کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
پھر یہ انکار جس سے خدا مجھے اور سب مسلمانوں کو پناہ دے دو طرح ہوتا ہے، لزومی و التزامی ۔ التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شی کا تصریحا خلاف کرے، یہ قطعا اجماعا کفر ہے ، اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوی کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں کہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتا ہو، جیسا کہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔ یہ اقرار تو بہت طوائفِ کفار میں بھی نہ پایا جائے گا، ہم نے دیکھا ہے بہتیرے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں، بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا، یا جس بات کا اس نے دعوی کیا، وہ بعینہ کفر و مخالف ضروریات دین ہو، جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک و جن و شیطان و آسمان و نار و جنان و معجزات انبیا علیہم افضل الصلوة والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی بر حق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا، اور اپنی تاویلات باطلہ و توہمات عاطلہ کو لے مرنا نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے ، نہ محبت اسلام و ہمدردی قوم کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے۔ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ
{
القرآن سورة المنافقون: ٤]
اور لزومی یہ کہ جو بات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے، یعنی مآل سخن و لازم حکم کو ترتیب مقدمات و تتمیم تقریبات کرتے لے چلیے تو انجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر و امیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنھما سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی طرف مؤدی، اور وہ قطعا کفر، مگر انھوں نے صراحت اس لازم کا اقرار نہ کیا تھا، بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہل بیت عظام و غیر ہم چند اکابر کرام علیٰ مولاهم و علیہم الصلوۃ والسلام کو زبانی دعووں سے اپنا پیشوا بناتے اور خلافت صدیقی و فاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں، اس قسم کے کفر میں علمائے اہل سنت مختلف ہو گئے، جنھوں نے مآل مقال ولازم سخن کی طرف نظر کی، حکم کفر فرمایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بدعت و بدمذہبی و ضلالت وگمراہی ہے۔
[فتاوی رضویہ جلد ۲۰ ص ۱۷۵-۱۷۶ کتاب الرد و المناظرہ]
ضروریات دین اور دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں:
ایک ضروریات دین : ان کا منکر بلکہ ان میں ادنی شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔
دوم ضروریات عقائد اہل سنت: ان کا منکر بد مذ ہب گمراہ ہوتا ہے۔
سوم وہ مسائل کہ علماے اہل سنت میں مختلف فیہ ہوں: اُن میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں ۔
(فتاوی رضویہ کامل: ۲۵۸/۱۸)
اسی کی مزید توضیح و تشریح کرتے ہوئے حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ الصارم الربانی مشمولہ فتاوی رضویہ میں رقم طراز ہیں:

مانی ہوئی باتیں چار قسم ہوتی ہیں۔

(1) ضروریات دین:
ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعیات الدلالات واضحة الافادات سے ہوتا ہے جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔ اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کا فر ہوتا ہے۔
(۲) ضروریات مذہب اہل سنت و جماعت :
ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوع شبہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے ۔ اس لیے ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ بد مذہب ، بد دین کہلاتا ہے۔
(۳) ثابتات محکمہ :
ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی، جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح ومضمحل اور التقات خاص کے نا قابل بنا دے۔ اس کے ثبوت کے لیے حدیث آحاد، صیح یا حسن کافی ، اور قول سواد اظلم و جمهور علما کی سند وافی (فان ید الله على الجماعة)
ان کا منکر وضوح امر کے بعد خاطی و آثم خطا کار و گناہ گار قرار پاتا ہے، نہ بد دین و گمراہ نہ کافر خارج از اسلام
(۴) ظنیات محتمله :
ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنی بھی کافی جس نے جانب خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہو، ان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وار کہا جائے گا نہ گنہ گار، چہ جائے کہ گمراہ، چہ جائے کہ کافر۔
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے جو فرق مراتب نہ کرے اور ایک مرتبے کی بات کو اس سے اعلی درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکار فیلسوف ۔۔۔۔۔۔ ع ہر سخن وقتے ہر نکتہ مقامی دارد
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ع گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
اور بالخصوص قرآن عظیم بلکہ حدیث ہی میں تصریح صریح ہونے کی تو اصلا ضرورت نہیں حتی کہ مرتبہ اعلی اعنی ضروریات دین بھی۔ بہت باتیں ضروریات دین سے ہیں جن کا منکر یقینا کافر مگر ان کا ذکر آیات واحادیث میں نہیں ، مثلاً باری تعالیٰ عزوجل کا جہل محال ہونا۔ قرآن عظیم میں اللہ عزوجل کے علم واحاطہ کا لاکھ جگہ ذکر ہے مگر امتناع و امکان کی بحث کہیں نہیں ، پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں تو بے شک اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے ، عالم الغيب والشهادة ہے، کوئی ذرہ اس کے علم سے چھپا نہیں۔ مگر ممکن ہےکہ جاہل ہوجائے تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس کے امکان کا سلب صریح قرآن میں مذکور نہیں۔ حاشا للہ! ضرور کافرہے اور جو اسے کافر نہ کہے تو خود کافر تو جب ضروریات دین ہی کے ہر جزئیہ کی تصریح صریح قرآن و حدیث میں ضرور نہیں تو ان سے اتر کر اور کسی درجے کی بات پر یہ مڑچڑاپن کہ ہمیں قرآن ہی میں دکھاؤ ورنہ ہم نہ مانیں گے نری جہالت ہے یا صریح ضلالت مگر جنون و تعصب کا علاج کسی کے پاس نہیں
تو خوب کان کھول کر سن لو اور لوح دل پر نقش رکھو کہ جسے کہتا سنو کہ ہم اماموں کا قول نہیں جانتے۔ ہمیں قرآن و حدیث چاہیے۔ جان لو کہ یہ گمراہ ہے، اور جسے کہتا سنو کہ ہم حدیث نہیں جانتے ہمیں صرف قرآن درکار ہے سمجھ لو کہ یہ بد دین ہے، دین خدا کا بد خواہ ہے ۔
مسلمانو تم ان گمراہوں کی ایک نہ سنو۔ اور جب تمہیں قرآن میں شبہ ڈالیں تم حدیث کی پناہ لو۔ اگر حدیث میں ایں و آں نکالیں تو ائمۂ دین کا دامن پکڑو اس درجے پر آ کر حق و باطل صاف کھل جائے گا اور ان گمراہوں کا اڑایا ہوا سارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں سے دھل جائے گا اور اس وقت یہ ضال، مضل طائفے بھاگتے نظر آئیں گے . ﴿كَأَنَّهُمۡ حُمُرࣱ مُّسۡتَنفِرَةࣱ﴾ [المدثر ٥٠]
(گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں کہ شیر سے بھاگے ہوں )
( الصارم الربانی ملخصا)
[فتاوی رضویہ جلد ۱۸ ص ۲۵۹-۲۶۰ کتاب العقائد و الکلام]
امام احمد رضا خان قدس سرہ ” رد الرفضہ" میں ضروریات دین کی تشریح کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں:
اصل مدار ضروریات دین ہیں، اور ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقا ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نص قطعی اصلاً نہ ہو جب بھی ان کا وہی حکم رہے گا کہ منکر یقینا کافر، مثلاً عالم کے بجميع اجزاءہ حادث ہونے کی تصریح کسی نص قطعی میں نہ ملے گی ، غایت یہ کہ آسمان وزمین کا حدوث ارشاد ہوا ہے، مگر باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعا کافر ہے، جس کی اسانید کثیرہ فقیر کے رسالہ مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید میں مذکور تو وجہ وہی ہے کہ حدوث جمیع ماسوی اللہ ضروریات دین سے ہے، کہ اسے کسی ثبوت خاص کی حاجت نہیں ... یہی سبب ہے کہ ضروریات دین میں تاویل مسموع نہیں ہوتی ۔
(رساله رد الرفضه فتاوی رضویہ مترجم جلد ۴ صفحه ۲۶۶)
فتاوی رضویہ جلد اول کے بالکل شروع میں ہی ضروریات دین کی تشریح یوں فرماتے ہیں:
جس کے علم میں خواص و عوام سب شریک ہوں ( کہ یہ دین کا حصہ ہے ) ، اقول: یہاں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین سے شغل رکھتے ہیں اور علما سے ملتے جلتے ہیں، ورنہ بہت سے جاہل دیہاتی خصوصاً ہندوستان اور مشرقی علاقوں میں ایسے ہیں جن کو کثیر ضروریات دین کا علم نہیں ، اس معنی میں نہیں کہ وہ ان سے منکر ہیں، بلکہ اس معنی میں کہ وہ ان سے غافل ہیں۔ میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ یہاں ضرورت بداہت کے معنی میں ہے، یہ بات معلوم ہے کہ بداہت و نظریت لوگوں کے اختلاف سے مختلف ہوتی رہتی ہے، کہ بہت سے نظری مسئلے جو دوسرے نظری مسئلے پر مبنی ہوں جب دوسرا واضح ہو جائے تو پہلا جو اپنے ظہور میں دوسرے کے ظہور کا محتاج تھا ان کے نزدیک بدیہیات سے ہو جاتا ہے اگر چہ وہ نظری مسئلہ تھا۔
( ملخصا متر جما فتاوی رضویہ قدیم جلد اول صفحہ ۷ ناشر رضا اکیڈمی ممبئی)
ایک بہت ہی اہم تحقیق حقیق جو امام اہل سنت رضی اللہ عنہ نے الزلال الانقی فی بحر سبقۃ الاتقی میں فرمائی ہے ملاحظہ فرمائیں:

واضح رہے کہ علم قطعی دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔

اول : احتمال بالکل ختم ہو جائے اور اس کا نام و نشان نہ رہے۔ قطعی بالمعنی الاخص ہے ۔ یہ اس محکم و مفسر میں ہوتا ہے جو متواتر ہیں۔ اصول دین اور عقائد اسلام میں یہی مطلوب ہے ۔
دوم: احتمال تو ہے مگر بلا دلیل ہے۔ جیسے : مجاز تخصیص یا تاویل کی دوسری قسمیں جو ظاہر اور نص یا احادیث مشہورہ میں ہوتی ہیں۔ یہ قطعی بالمعنی الاعم ہے۔
اول کا نام علم الیقین ہے۔ اس کا منکر و مخالف کا فر ہے۔
البتہ یہاں ایک اختلاف ہے فقہا منکر کو علی الاطلاق کافر کہتے ہیں اور متکلمین اس میں ضروریات دین کی قید لگاتے ہیں۔
دوم کا نام علم طمانیت ہے، اس کا مخالف و منکر بدعتی و گمراہ ہے ۔ یہاں کافر کہنے کی گنجائش نہیں۔ جیسے قیامت میں اعمال کا تولا جانا۔ دیدار الہی۔ آسمانوں کی بلندی تک معراج جسمانی۔
اسی طرح ظن کے دو معنی ہیں : ظن بالمعنى الاخص، ظن بالمعنى الاعم.
ظنی اسے کہتے ہیں جس میں کوئی احتمال ہو۔ اگر احتمال کسی دلیل کی بنیاد پر ہے تو یہ ظنی بالاخص ہے ۔ اور بلا دلیل ہے تو ظنی بالاعم ۔
(اسی کو اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ عام کا مقابل خاص اور خاص کا مقابل عام ہوتا ہے ) اس کے بعد وضاحت فرمائی کہ مسئلۂ تفضیل قطعی بالمعنی الاعم ہے، اور ہم اس کے منکر کو کافر نہیں کہتے البتہ بدعتی گمراہی ہیں۔ اور جس نے یہ کہا کہ مسئلۂ تفضیل میں نصوص متعارض ہیں لہذا استدلال ساقط ۔ تو ایسا قول ساقط الاعتبار ہے اگر اس کی مراد تعارض حقیقی ہے۔ رہا تعارض صوری تو مسئلہ پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اب بات واضح ہو گئی کہ ہمارے ائمہ کرام میں بعض نے جو مسئلہ تفضیل کو قطعی کہا ہے اور ظنی کی نفی کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاعم ہے جس سے علم طمانیت حاصل ہوتا ہے۔ اور ظنی سے ظنی بالمعنی الاخص کی نفی ہے۔ یعنی اس میں کوئی احتمال بالدلیل نہیں۔
اور جنھوں نے ظنی کہا اور قطعی کی نفی کی تو مطلب یہ ہے کہ قطعی بالمعنی الاخص نہیں جس میں سرے سے احتمال ہی نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ ایسا نہیں ۔ اور ظنی سے مراد ظنی بالمعنی الاعم ہے ، جس میں احتمال تو ہوتا ہے مگر بلا دلیل ۔ لہذا یہ اختلاف محض لفظی ہے۔
یہاں کسی کو یہ کھٹک ہو سکتی ہے کہ مسئلہ تو اعتقادی ہے پھر قطعی بالمعنی الاعم یعنی ظنی بالمعنی الاعم پر اعتماد کیوں کر روا ہو گا۔
جواب یہ ہے کہ مسئلہ اصول اسلام سے نہیں ۔ جیسے خلفائے راشدین کی خلافت۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہماری تحقیق کے ذریعہ بہت سے اقوال میں تطبیق ہو گئی ، لہذا اس کو اختیار کر لو۔ [فتاوی رضویہ جلد ۲۱ ص ۲۴۴-۲۴۵ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی]
متذکرہ بالا عبارات کی روشنی میں واضح ہو گیا کہ کفر کلامی / التزامی صرف ضروریات دین کا انکار ہے اگر کوئی ضروریات دین کا انکار کرتا ہے تو اسے کافر کہیں گے جیسے طواغیت اربعہ ورنہ ہر گز کافر نہ کہیں گے یہی امام اہل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہ کا مذہب مختار ہے جیسا کہ رسالہ ازالۃ العار بحجر الکرائم عن کلاب النار میں فرماتے ہیں:
ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتا ہے اسے کافر نہیں کہتے ۔
(ص ۱۰)
تکفیر میں احتیاط اس درجہ چاہیے کہ جب تک کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے حکم کفر نہیں دیا جائے گا جیسا کہ ذیل کی عبارت سے واضح ہے
فرماتے ہیں:
اسمعیل دہلوی کو بھی جانے دیجیے ، یہی دشنامی لوگ جن کے کفر پر اب فتوی دیا ہے جب تک ان کی صریح دشناموں پر اطلاع نہ تھی مسئلہ امکان کذب کے باعث ان پر اٹھتر وجہ سے لزوم کفر ثابت کر کے سبحان السبوح میں بالآ خر صفحہ ۸۰ پر یہی لکھا: حاشا للہ حاشا للہ ہزار بار حاشا للہ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا ، ان مقتدیوں یعنی مدعیان جدید کو ابھی تک مسلمان ہی جانتا ہوں اگر چہ ان کی بدعت و ضلالت میں شک نہیں ۔ اور امام الطائفہ کے کفر پر بھی حکم نہیں کرتا کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تک وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے ، اور حکم اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے، فان الاسلام يعلو ولا يعلیٰ۔
(ملتقطا تمهید ایمان از فتاوی رضویه مترجم ۳۵۰/۳۰ تا ۳۵۴)
مذکورہ بالا مذہب متکلمین کا ہے رہی بات فقہاء کرام کی توہ وہ مآل مقال لازم سخن کی طرف نظر کرتے ہوئے مسئلہ اجماعی یا قطعی الثبوت کے انکار پر بھی حکم کفر سنا دیتے ہیں اسی کو کفر لزومی / فقہی کہتے ہیں

امام اہل سنت المعتمد المستند میں رقم طراز ہیں :

تحقيق المقام أن أكثر الحنفية يكفرون بإنكار كل مقطوع كما هو المصرح في رد المحتار وغيره. وهم ومن واقفهم قائلون بإنكار كل مجمع عليه بعد ما كان الاجماع قطعياً نقلاً ودلالة، ولا حاجة إلى وجود النص. والمحققون لا يكفرون إلا بإنكار ما علم من الدين ضرورة بحيث يشترك في معرفته الخاص والعام المخالطون للخواص فإذا كان المجمع عليه هكذا كفر منكره، وإلا لا.
(ص: ۱۹۵)
تحقیق یہ ہے کہ اکثر علمائے احناف ہر قطعی دینی مسئلہ کے انکار کو کفر قرار دیتے ہیں جو دلائل قطعیہ سے ثابت ہوں اور حنفیہ اور ان کے موافقین مسئلہ اجماعی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت کے انکار پر بھی حکم کفر صادر کرتے ہیں اور محققین صرف مسائل دینیہ ضروریہ کے انکار پر ہاں کوئی اجماعی مسئلہ ضروری ہو جائے تو اس کے انکار پر بھی ، ورنہ نہیں۔
تو مسئلۂ تکفیر میں فقہا اور متکلمین کے درمیان کلیدی اور عنصری اختلاف یہی ہوا کہ متکلمین / محققین صرف ضروریات دینیہ کے منکر پر حکم کفر صادر کرتے ہیں اور فقہا کرام مسئلہ اجماعی یا قطعی الثبوت کے منکر پر بھی حکم کفر لگاتے ہیں متکلمین کو اس سے اختلاف ہے البتہ بد مذہبیت میں انھیں بھی کوئی شک نہیں ہے ہاں اگر کوئی اجماعی یا قطعی الثبوت مسئلہ ضروریات دین کی حد میں داخل ہو جائے تو متکلمین اس کے منکر کی تکفیر کرتے ہیں مگر اس وجہ سے نہیں کہ وہ اجماعی یا قطعی الثبوت مسئلہ ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ضروری دینی ہے
تکفیر_______
امام اہل سنت نے جن لوگوں کی تکفیر ضروریات دین کے انکار کے سبب کی ہے حضور مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان رضی اللہ عنہ نے فتاوی مصطفویہ میں ان ضروریات دین کی یوں تفصیل کی ہے
فرماتے ہیں:
اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ان لوگوں کی تکفیر کی ہے جنھوں نے جنت و دوزخ کا انکار کیا، فرشتوں اور شیاطین کا انکار کیا، نماز و روزے کا انکار کیا، اور وہ جنھوں نے اللہ ورسول کی کھلی کھلی توہینیں کیں اس سبوح وقدس جل مجدہ کو عیبی جانا ، جھوٹ جیسے عیب کو اس سے واقع مانا ، چوری ، شراب خوری ، جہل و ظلم جیسے عیب کا اس پاک ذات پر دھبہ لگایا، حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم عظیم سے شیطان لعین کے علم کو وسیع بتایا ، شیطان کے علم کے لیے علم غیب نص سے ثابت مانا اور حضور کے لیے ماننے کو شرک بتایا، یوں یا شیطان کو غیر خدا نہ جانا ، یا اپنے منھ شیطان کے لیے علم غیب مان کر مشرک ہوا، اور شرک کو نص سے ثابت جانا ، اور وہ جس نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم شریف کے بارے میں یہ لکھا کہ ایسا علم تو زید و عمرو، بلکہ ہر صبی و مجنون ، بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لیے حاصل ہے ۔ معاذ اللہ اور وہ جس نے حضور خاتم النبین علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد نبوت کی تجویز کی اور قرآن پر بے ربطی کی لم لگائی ، حضور کے بعد ، بلکہ حضور کے زمانے میں کہیں کوئی نبی پیدا ہونے سے ختم نبوت میں کوئی خلل نہ جانا، خاتم النبیین کے نئے معنی گڑھے ، اور جو معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور آج تک تمام مسلمان سمجھتے رہے، اسے خیال عوام ٹھہرایا ، اور اسے صحیح نہ جانا ، اور جنھوں نے اپنی نبوت کا ادعا کیا، اور جو ان جھوٹے مدعیوں کو نبی مانتے ، یا مجدد جانتے ، یا کم از کم مسلمان جانتے ہیں، اور وہ جنھوں نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام ، یا کسی اور نبی کی توہینیں کی ہیں ، یا ان کی نبوت سے انکار کیا ہے، اور محض مقدس بھاری واعظ اور ایک مصلح جانا ہے۔
اور وہ جنھوں نے مولی علی کو خدا مانا ، یا خدا کو ان میں رسا ہوا ٹھہرا، یا حضرات اہل بیت کرام کو سوائے حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام سے افضل جانا ، جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام کو غلط کار اور خائن ٹھہرایا، یا غیر نبی مولی علی کو نبوت کا اہل اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور نبی الانبیاء کو نبوت کے لائق نہ جانا ، جن کا عقیدہ ہے کہ نبوت بھیجی تو اللہ نے مولیٰ علی کو تھی اور جبریل غلطی سے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو دے گئے ، اور وہ جنھوں نے اس قرآن کو دخل بشری سے محفوظ نہ جانا ، بیاض عثمانی ٹھہرایا، یا ناقص بتایا ، جنھوں نے خدا پر یہ عیب لگایا کہ وہ حکم دے کر پچھتاتا ہے، وغیرہ وغیرہ کفریات ، اور وہ جن کا یہ عقیدہ ہے کہ جولا الہ الا اللہ کہتا ہے کیسے گندے گھناؤنے ، کفری عقیدہ رکھتا ہو مسلمان ، اور وہ جو گاندھی کی آندھی میں اڑے جنھوں نے کھلے کھلے الفاظ کفریہ بکے اور افعال کفریہ کیے، یوں ہی اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے ہر اس شخص کی تکفیر کی ہے جو ضروریات دین سے کسی ضروری دینی کا منکر ہو۔
(فتاوی مصطفویہ صفحہ ۲۶۰،۲۵۹)

کفر کلامی اور کفر فقہی کا حکم_______

جس کا کفر کلامی ہو اس کے سارے اعمال اکارت ہوں گے اور نکاح باطل ہو گا اور اس حالت میں اختلاط سے جتنے بچے پیدا ہوئے سب ولد الزنا ہوئے۔
اور جس کے کفر میں اختلاف ہے ، اس کو بھی قاضی تو بہ اور استغفار اور دوبارہ نکاح پڑھانے کا حکم دیگا تاکہ عورت کے ساتھ اس کا اختلاط سب کے نزدیک حلال ہو جائے۔
قاضی عیاض رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ گروہ متکلمین بھی جو کفر فقہی پر تکفیر نہیں کرتے ، اُن پر سختی و تنگی روار کھتے ہیں۔
لكنهم يغلظ عليهم بوجيع الادب وشديد الزجر والهجر حتى يرجعوا عن بدعتهم . (جلد دوم، ص: ۲۹۴)
ایسا کرنے والے جب تک اپنی گمرہی سے رجوع نہیں کر لیتے ، تکفیر نہ کرنے والے حضرات بھی تکلیف و تادیب ، اور شدید زجر و توبیخ کے ذریعہ سختی فرماتے اور ان کا بائکاٹ کرتے ہیں۔
[اصول تکفیر ص ٥٩-٦٠]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
خاتمہ
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جن چیزوں کی تصدیق کرنے سے انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے ان میں سے کسی ایک کا انکار یا ان میں ادنی شک کرنے سے بھی انسان خارج از اسلام ہو جاتا ہے جیسا کہ امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں:
لا یخرج الانسان من الاسلام الا جحود ما ادخلہ فیہ
[فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم ص ۱۰۱]
اللہ جل و علا ہمیں کفر شرک سے بچائے اور اطاعت رسول میں زندگی گزر بسر کرنے توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و صحبہ اجمعین
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
62
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

اشک فشاں گفت و شنید

اہل سنت میں بڑھتی ہوئی آزاد خیالی اور اس کے نقصانات

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢