صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
شخصیات اسلاف واخلاف

حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

حضرت سید زید شہید و حضرت سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اس دنیا میں اپنے صالح بندے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا۔ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سب سے آخری اور سب سے افضل نبی ہمارے پیارے نبی حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ آقائے دو جہاں شافِعِ عاصیاں نبئ اعظم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے بے جان دنیا کو جان ملی، گمراہی کی تاریکی ختم ہوئی اور حق کا نور پورے عالم میں پھیل گیا۔ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو راہِ حق کی جانب ہدایت فرمائی۔ پیارے آقا مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وفادار صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے اور آپ سے فیض و درس حاصل کرتے رہے۔ ١٢؍ربیع الاول شریف ١١ھ؁ مطابق ١٢؍جون ٦٣٢ء؁ کو سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا۔ میرے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دین و تبلیغ کا کام انجام دیا اور لوگوں کو راہِ حق کی طرف دعوت دیتے رہے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد تابعین و ائمۂ کرام نے تبلیغ فرمائی اور لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف لاتے رہے۔ انہیں مبارک و مقدس ہستیوں میں ایک جماعت اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کی بھی ہے، جو علومِ دین و دنیا سے آراستہ اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کو خدائے پاک نے بہت سی نعمتوں سے نوازا، وہ پریشان حال کی مدد فرماتے ہیں، غمزدہ لوکوں کے غموں کو مٹاتے ہیں اور راہِ راست پر چلاتے ہیں، شریعت و طریقت کی باتیں سکھاتے ہیں۔
ہندوستان میں بھی جب لوگ باطل کی تاریکیوں میں محو تھے تو خدائے ذوالجلال نے اپنے محبوب بندوں کو بھیجا۔ حضورِ اقدس شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز سیدنا معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہندوستان میں تشریف لائے اور تقریباً ٩٠؍لاکھ کافروں کو مسلمان بنایا، سبحان اللّٰه تعالیٰ۔ حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فیض پاکر ہند میں اولیائے کرام نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، فاتحِ بلگرام سیدنا شاہ محمد دعوۃ الصغریٰ، بابا فریدالدین گنج شکر، خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی، حضور علاء الدین صابر کلیری، حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم وغیرہم۔
اللہ تعالیٰ کے انھیں محبوب بندوں میں ایک شہزادۂ رسولِ کریم ﷺ، اولادِ مولیٰ علی المرتضیٰ، چشم و چراغِ خاندانِ امام حسین سید الشہداء، خلیفۂ حضور فضل اللہ کالپوی علیہ الرحمۃ، مفسرِ قرآن، سلطانِ مارہرہ، امامِ سلسلۂ برکاتیہ، حضور صاحب البرکات حضرت مولانا سیدنا شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی قادری چشتی بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ حضور صاحب البرکات کے فیضان سے آج ہند ہی نہیں بیرونِ ہند بھی ان گنت لوگ فیضیاب ہوتے آرہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، انھیں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین و شہزادے حضور برہان الموحدین سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پر پوتے حضور سیدنا خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیر و مرشد ہیں اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور نور العارفین، سرکارِ نور حضرت سیدنا مولانا شاہ ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان، حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مرشدِ بر حق ہیں۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ میر سید دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا حضور سیدنا حسین ابن سید ابوالفرح ثانی قدس سرہما سیر و سیاحت فرماتے ہوئے بلگرام شریف جو اُس وقت ”سری نگر“ کے نام سے تھا اس کے پاس ایک موضعِ پیونٹی میں تشریف لائے اور وہاں ایک ٹیلے پر قیام فرمایا۔ اُس کے بعد حضور سید میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلطان شمس الدین التمش سے اجازت لے کر اپنے پیر و مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم پر ٦١٤ھ؁ میں سری نگر (بلگرام) کے راجہ پر چڑھائی کی اور اس کو شکست دے کر بلگرام شریف فتح کر لیا اور فاتحِ بلگرام (بلگرام فتح کرنے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کی اولاد نے بلگرام شریف میں قیام فرمایا۔ میر سید دعوۃ الصغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں جلیل القدر بزرگ، مصنفِ سبع سنابل شریف، میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے مارہرہ مطہرہ تشریف لائے اور آپ کے پوتے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی ابن میر عبدالجلیل بلگرامی اپنے جد کی طرح بلگرام سے مارہرہ مطہرہ آئے اور یہیں بس گئے۔ مشائخِ مارہرہ کا سلسلہ حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین ابن حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام حسین ابن امیر المومنین مولیٰ علی المرتضیٰ زوجِ خاتونِ جنت سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پیارے آقا سلطانِ کون و مکاں، نبی آخرالزماں، شافعِ عاصیاں حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
سیدنا امام علی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے شہزادگان:
حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل دو اولاد سے چلی: (١) سید حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انہیں کی نسل سے حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں (٢) سید زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام سید الشہداء مولیٰ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل صرف ایک شہزادے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاری ہوئی۔ خدائے ذوالجلال نے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کثیر اولاد عطا فرمائی اور حضرتِ سیدنا علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی نسل چھ اولاد سے چلی: (١) حضرتِ سیدنا امام محمد باقر، انہیں کی نسل سے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ (٢) حضرتِ سیدنا زید شہید، مشائخِ مارہرہ و بلگرام و مسولی انہیں کی نسلِ پاک سے ہیں۔ (٣) سید عبداللہ، (٤) سید عمر، (٥) سید حسین الاصغر، (٦) سید علی الاصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید” محمد زید “ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ آپ کے والدِ ماجد کا نام حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ ماجدہ کا نام حضرتِ سیدہ جیدار رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے، آپ کی والدہ ماجدہ سندھ کی رہنے والی تھیں۔
نسب شریف یہ ہے: حضرتِ سیدنا زید شہید بن حضرتِ سیدنا امام علی بن حضرتِ سیدنا امام حسین بن حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین مولیٰ علی زوجِ خاتونِ جنت فاطمتہ الزہراء بنت محمد مصطفیٰ رسولِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔
پیدائش: حضرتِ سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ٧٥ یا ٨٠؍ہجری مطابق ٧٠٠؍عیسوی میں ہوئی۔ حضرتِ سیدنا زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مہرِ انور پر ”اِصْبِرْ تَوْجَرُ اُصْدُقْ تَنْجِحُ“ لکھا ہوا تھا۔
علمی شان: حضرتِ سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی کرامت کے بارے میں ہمارے امام، سلطان الائمہ حضرتِ سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”مَیں نے حضرتِ زید کو دیکھا جیسا اُن کے اہلِ بیت کو دیکھا، پس میں نے ان کے زمانے میں ان سے بڑا فقیہ، صاحبِ علم، حاضر جواب، اور روشن بات کہنے والا نہ دیکھا۔“
شہادت: حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اموی بادشاہوں کے ظلم و ستم سے پریشان ہو کر کوفہ تشریف لے آئے اور سلطنت سے مقابلہ کی تیاری کی۔ اہلِ کوفہ و اہلِ عراق کی ایک جماعت نے بیعت کی۔ ہشام بن عبدالملک نے یوسف ثقفی کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا جس سے جنگ کی نوبت آگئی اور منافقین نے حضرتِ سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا اور بھاگ گئے۔ منافقین بھی مارے گئے اور اِسی ہنگامے میں ایک تیر حضرتِ زید کو لگا جس سے وہ شہید ہو گئے۔ سببِ شہادت کوفیوں کی بے وفائی اور غداری بنا۔
سید الاشجعین کا لقب: کوفیوں نے حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شرط رکھی کہ ہم آپ کا ساتھ تبھی دیں گے جب آپ ابوبکر و عمر کو برا کہیں گے۔ کوفیوں کو کیا معلوم کہ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر ایسی ذاتِ پاک کا خونِ پاک گردش کر رہا ہے جس ذات نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے بچوں کو تک قربان کر دیا مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا، تو نبیرۂ امام حسین امام زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کیسے اپنے دادا کے خلاف کوئی عمل کرتے۔ حضرت زید نے ایک بھی ایسے کلمات نہیں کہے جن سے حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق و حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شان میں گستاخی کی بو بھی آئے بلکہ ان کی سامنے تعریف فرمائی اور سید الاشجعین (بہادروں کے سردار) کے لقب سے مشہور ہوئے اور ان سبھی کوفی غداروں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور تب سے ”رافضی“ کہے جانے لگے۔
تاریخِ شہادت: یہ واقعہ ٢٣؍محرم الحرام ١٢٢ھ؁-٧٣٩ء؁ کا ہے۔ اسی دن حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔ بعدِ شہادت خاندان میں تفرقہ پر گیا، آپ کے کچھ شہزادے کوفہ سے شہرِ فارس کی طرف تشریف لے گئے اور بعض کوفہ ہی میں رہے۔
بعدِ شہادت: شہادت کے بعد حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ظالموں نے یہ سلوک کیا کہ یوسف ثقفی نے آپ کے جسدِ مبارک کو قبر سے باہر نکالا اور سر کاٹ کر ہشام بن عبدالملک کے پاس بھیجا۔ اس ظالم نے آپ کے سرِ مبارک کو دمشق کے دروازے پر لٹکایا اور (اُن ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو) جسمِ پاک سے کپڑا ہٹا کرکے سولی پر چڑھایا، اور چار پانچ سال تک لاشِ مبارک ایسے ہی لٹکی رہی لیکن قدرتِ الٰہی کہ مکڑی نے جالا بن کر آپ کی ستر پوشی کی۔ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولی دیے جانے کے بعد حضرتِ جریر بن حازم نے پیارے آقا شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ نبئ کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و اکمل التسلیم حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم سے پشتِ مبارک لگائے فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! میرے شہزادے کے ساتھ یہ کیا سلوک کیا ؟ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ظالمین کو ان کے جرموں کی سزا عطا فرمائے گا۔
اولاد: حضرتِ سید الاشجعین سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے تھے: (١) سید یحییٰ (٢) سید حسین (٣) سید محمد (٤) سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا سلسلہ حضور زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے حضرتِ امام سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آگے چلا۔
حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید ”محمد عیسیٰ“ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ مشہور لقب ”موتم الاشبال“ ہے۔ آپ حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں یعنی حضرتِ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے ہیں۔ حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادگان الگ الگ جگہ چلے گئے تھے اور حضرتِ عیسیٰ کوفہ میں رہے۔
موتم الاشبال لقب کی وجہ: ”موتم الاشبال“ کا مطلب ہوتا ہے: ”شیروں کے بچوں کو یتیم کرنے والا“۔ مارہرہ مطہرہ کے بزرگوں کا سلسلہ واسط سے ہو کر ہندوستان پہنچا اور واسط کے قریب سب سے پہلے حضور عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے۔ آپ ظالم‌ حکمرانوں سے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے واسط کے قریب جنگلوں میں رہتے تھے جہاں شیروں کی تعداد بہت زیادہ تھی، خود کی حفاظت کے لیے حضرتِ سیدنا عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کو مکوں اور گھوسوں سے مار ڈالتے تھے، اِسی لیے یہ لقب پڑا۔
سن پیدائش: حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ١٠٧ھ؁ میں ہوئی، یہ تحقیق شہزادۂ حضور مجددِ برکاتیت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور تاج العلماء مولانا سیدنا شاہ اولاد رسول محمد میاں مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، کچھ روایات کے مطابق آپ کی پیدائش ١٢٠ھ؁ میں ہوئی۔
وصال: حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ١٦٦ھ؁-٧٨٣ء؁ کوفہ میں ہوا۔ نمازِ جنازہ حسن بن صالح نے پڑھائی تھی۔
شہزادگان: حضرت سید شاہ عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے تھے: (١) سید احمد مختفی، (٢) سید زید، (٣) سید محمد، (٤) سید حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ مارہرہ مطہرہ کے پیارے پیارے بزرگوں کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ سیدنا شاہ محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سنجھلے شہزادے ہیں۔ آج ان بزرگوں کا فیضان ان کے شہزادے خلیفۂ حضور مفتئ اعظمِ ہند، جانشین و شہزادۂ حضور احسن العلماء مصطفیٰ حیدر حسن میاں ، حضور تاج المشائخ امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی والنورانی سے ملتا ہے، اللہ پاک حضرت کی عمر میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مشائخِ مارہرہ و اولیائے کرام کے فیضان سے فیضیاب فرمائے اور ان کے صدقے مصیبتوں سے نجات عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

حضرت سید زید شہید و حضرت سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اس دنیا میں اپنے صالح بندے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا۔ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سب سے آخری اور سب سے افضل نبی ہمارے پیارے نبی حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ آقائے دو جہاں شافِعِ عاصیاں نبئ اعظم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے بے جان دنیا کو جان ملی، گمراہی کی تاریکی ختم ہوئی اور حق کا نور پورے عالم میں پھیل گیا۔ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو راہِ حق کی جانب ہدایت فرمائی۔ پیارے آقا مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وفادار صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے اور آپ سے فیض و درس حاصل کرتے رہے۔ ١٢؍ربیع الاول شریف ١١ھ؁ مطابق ١٢؍جون ٦٣٢ء؁ کو سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا۔ میرے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دین و تبلیغ کا کام انجام دیا اور لوگوں کو راہِ حق کی طرف دعوت دیتے رہے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد تابعین و ائمۂ کرام نے تبلیغ فرمائی اور لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف لاتے رہے۔ انہیں مبارک و مقدس ہستیوں میں ایک جماعت اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کی بھی ہے، جو علومِ دین و دنیا سے آراستہ اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کو خدائے پاک نے بہت سی نعمتوں سے نوازا، وہ پریشان حال کی مدد فرماتے ہیں، غمزدہ لوکوں کے غموں کو مٹاتے ہیں اور راہِ راست پر چلاتے ہیں، شریعت و طریقت کی باتیں سکھاتے ہیں۔
ہندوستان میں بھی جب لوگ باطل کی تاریکیوں میں محو تھے تو خدائے ذوالجلال نے اپنے محبوب بندوں کو بھیجا۔ حضورِ اقدس شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز سیدنا معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہندوستان میں تشریف لائے اور تقریباً ٩٠؍لاکھ کافروں کو مسلمان بنایا، سبحان اللّٰه تعالیٰ۔ حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فیض پاکر ہند میں اولیائے کرام نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، فاتحِ بلگرام سیدنا شاہ محمد دعوۃ الصغریٰ، بابا فریدالدین گنج شکر، خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی، حضور علاء الدین صابر کلیری، حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم وغیرہم۔
اللہ تعالیٰ کے انھیں محبوب بندوں میں ایک شہزادۂ رسولِ کریم ﷺ، اولادِ مولیٰ علی المرتضیٰ، چشم و چراغِ خاندانِ امام حسین سید الشہداء، خلیفۂ حضور فضل اللہ کالپوی علیہ الرحمۃ، مفسرِ قرآن، سلطانِ مارہرہ، امامِ سلسلۂ برکاتیہ، حضور صاحب البرکات حضرت مولانا سیدنا شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی قادری چشتی بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ حضور صاحب البرکات کے فیضان سے آج ہند ہی نہیں بیرونِ ہند بھی ان گنت لوگ فیضیاب ہوتے آرہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، انھیں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین و شہزادے حضور برہان الموحدین سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پر پوتے حضور سیدنا خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیر و مرشد ہیں اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور نور العارفین، سرکارِ نور حضرت سیدنا مولانا شاہ ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان، حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مرشدِ بر حق ہیں۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ میر سید دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا حضور سیدنا حسین ابن سید ابوالفرح ثانی قدس سرہما سیر و سیاحت فرماتے ہوئے بلگرام شریف جو اُس وقت ”سری نگر“ کے نام سے تھا اس کے پاس ایک موضعِ پیونٹی میں تشریف لائے اور وہاں ایک ٹیلے پر قیام فرمایا۔ اُس کے بعد حضور سید میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلطان شمس الدین التمش سے اجازت لے کر اپنے پیر و مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم پر ٦١٤ھ؁ میں سری نگر (بلگرام) کے راجہ پر چڑھائی کی اور اس کو شکست دے کر بلگرام شریف فتح کر لیا اور فاتحِ بلگرام (بلگرام فتح کرنے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کی اولاد نے بلگرام شریف میں قیام فرمایا۔ میر سید دعوۃ الصغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں جلیل القدر بزرگ، مصنفِ سبع سنابل شریف، میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے مارہرہ مطہرہ تشریف لائے اور آپ کے پوتے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی ابن میر عبدالجلیل بلگرامی اپنے جد کی طرح بلگرام سے مارہرہ مطہرہ آئے اور یہیں بس گئے۔ مشائخِ مارہرہ کا سلسلہ حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین ابن حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام حسین ابن امیر المومنین مولیٰ علی المرتضیٰ زوجِ خاتونِ جنت سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پیارے آقا سلطانِ کون و مکاں، نبی آخرالزماں، شافعِ عاصیاں حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
سیدنا امام علی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے شہزادگان:
حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل دو اولاد سے چلی: (١) سید حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انہیں کی نسل سے حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں (٢) سید زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام سید الشہداء مولیٰ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل صرف ایک شہزادے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاری ہوئی۔ خدائے ذوالجلال نے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کثیر اولاد عطا فرمائی اور حضرتِ سیدنا علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی نسل چھ اولاد سے چلی: (١) حضرتِ سیدنا امام محمد باقر، انہیں کی نسل سے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ (٢) حضرتِ سیدنا زید شہید، مشائخِ مارہرہ و بلگرام و مسولی انہیں کی نسلِ پاک سے ہیں۔ (٣) سید عبداللہ، (٤) سید عمر، (٥) سید حسین الاصغر، (٦) سید علی الاصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید” محمد زید “ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ آپ کے والدِ ماجد کا نام حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ ماجدہ کا نام حضرتِ سیدہ جیدار رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے، آپ کی والدہ ماجدہ سندھ کی رہنے والی تھیں۔
نسب شریف یہ ہے: حضرتِ سیدنا زید شہید بن حضرتِ سیدنا امام علی بن حضرتِ سیدنا امام حسین بن حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین مولیٰ علی زوجِ خاتونِ جنت فاطمتہ الزہراء بنت محمد مصطفیٰ رسولِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔
پیدائش: حضرتِ سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ٧٥ یا ٨٠؍ہجری مطابق ٧٠٠؍عیسوی میں ہوئی۔ حضرتِ سیدنا زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مہرِ انور پر ”اِصْبِرْ تَوْجَرُ اُصْدُقْ تَنْجِحُ“ لکھا ہوا تھا۔
علمی شان: حضرتِ سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی کرامت کے بارے میں ہمارے امام، سلطان الائمہ حضرتِ سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”مَیں نے حضرتِ زید کو دیکھا جیسا اُن کے اہلِ بیت کو دیکھا، پس میں نے ان کے زمانے میں ان سے بڑا فقیہ، صاحبِ علم، حاضر جواب، اور روشن بات کہنے والا نہ دیکھا۔“
شہادت: حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اموی بادشاہوں کے ظلم و ستم سے پریشان ہو کر کوفہ تشریف لے آئے اور سلطنت سے مقابلہ کی تیاری کی۔ اہلِ کوفہ و اہلِ عراق کی ایک جماعت نے بیعت کی۔ ہشام بن عبدالملک نے یوسف ثقفی کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا جس سے جنگ کی نوبت آگئی اور منافقین نے حضرتِ سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا اور بھاگ گئے۔ منافقین بھی مارے گئے اور اِسی ہنگامے میں ایک تیر حضرتِ زید کو لگا جس سے وہ شہید ہو گئے۔ سببِ شہادت کوفیوں کی بے وفائی اور غداری بنا۔
سید الاشجعین کا لقب: کوفیوں نے حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شرط رکھی کہ ہم آپ کا ساتھ تبھی دیں گے جب آپ ابوبکر و عمر کو برا کہیں گے۔ کوفیوں کو کیا معلوم کہ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر ایسی ذاتِ پاک کا خونِ پاک گردش کر رہا ہے جس ذات نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے بچوں کو تک قربان کر دیا مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا، تو نبیرۂ امام حسین امام زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کیسے اپنے دادا کے خلاف کوئی عمل کرتے۔ حضرت زید نے ایک بھی ایسے کلمات نہیں کہے جن سے حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق و حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شان میں گستاخی کی بو بھی آئے بلکہ ان کی سامنے تعریف فرمائی اور سید الاشجعین (بہادروں کے سردار) کے لقب سے مشہور ہوئے اور ان سبھی کوفی غداروں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور تب سے ”رافضی“ کہے جانے لگے۔
تاریخِ شہادت: یہ واقعہ ٢٣؍محرم الحرام ١٢٢ھ؁-٧٣٩ء؁ کا ہے۔ اسی دن حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔ بعدِ شہادت خاندان میں تفرقہ پر گیا، آپ کے کچھ شہزادے کوفہ سے شہرِ فارس کی طرف تشریف لے گئے اور بعض کوفہ ہی میں رہے۔
بعدِ شہادت: شہادت کے بعد حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ظالموں نے یہ سلوک کیا کہ یوسف ثقفی نے آپ کے جسدِ مبارک کو قبر سے باہر نکالا اور سر کاٹ کر ہشام بن عبدالملک کے پاس بھیجا۔ اس ظالم نے آپ کے سرِ مبارک کو دمشق کے دروازے پر لٹکایا اور (اُن ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو) جسمِ پاک سے کپڑا ہٹا کرکے سولی پر چڑھایا، اور چار پانچ سال تک لاشِ مبارک ایسے ہی لٹکی رہی لیکن قدرتِ الٰہی کہ مکڑی نے جالا بن کر آپ کی ستر پوشی کی۔ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولی دیے جانے کے بعد حضرتِ جریر بن حازم نے پیارے آقا شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ نبئ کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و اکمل التسلیم حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم سے پشتِ مبارک لگائے فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! میرے شہزادے کے ساتھ یہ کیا سلوک کیا ؟ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ظالمین کو ان کے جرموں کی سزا عطا فرمائے گا۔
اولاد: حضرتِ سید الاشجعین سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے تھے: (١) سید یحییٰ (٢) سید حسین (٣) سید محمد (٤) سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا سلسلہ حضور زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے حضرتِ امام سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آگے چلا۔
حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید ”محمد عیسیٰ“ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ مشہور لقب ”موتم الاشبال“ ہے۔ آپ حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں یعنی حضرتِ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے ہیں۔ حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادگان الگ الگ جگہ چلے گئے تھے اور حضرتِ عیسیٰ کوفہ میں رہے۔
موتم الاشبال لقب کی وجہ: ”موتم الاشبال“ کا مطلب ہوتا ہے: ”شیروں کے بچوں کو یتیم کرنے والا“۔ مارہرہ مطہرہ کے بزرگوں کا سلسلہ واسط سے ہو کر ہندوستان پہنچا اور واسط کے قریب سب سے پہلے حضور عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے۔ آپ ظالم‌ حکمرانوں سے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے واسط کے قریب جنگلوں میں رہتے تھے جہاں شیروں کی تعداد بہت زیادہ تھی، خود کی حفاظت کے لیے حضرتِ سیدنا عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کو مکوں اور گھوسوں سے مار ڈالتے تھے، اِسی لیے یہ لقب پڑا۔
سن پیدائش: حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ١٠٧ھ؁ میں ہوئی، یہ تحقیق شہزادۂ حضور مجددِ برکاتیت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور تاج العلماء مولانا سیدنا شاہ اولاد رسول محمد میاں مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، کچھ روایات کے مطابق آپ کی پیدائش ١٢٠ھ؁ میں ہوئی۔
وصال: حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ١٦٦ھ؁-٧٨٣ء؁ کوفہ میں ہوا۔ نمازِ جنازہ حسن بن صالح نے پڑھائی تھی۔
شہزادگان: حضرت سید شاہ عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے تھے: (١) سید احمد مختفی، (٢) سید زید، (٣) سید محمد، (٤) سید حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ مارہرہ مطہرہ کے پیارے پیارے بزرگوں کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ سیدنا شاہ محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سنجھلے شہزادے ہیں۔ آج ان بزرگوں کا فیضان ان کے شہزادے خلیفۂ حضور مفتئ اعظمِ ہند، جانشین و شہزادۂ حضور احسن العلماء مصطفیٰ حیدر حسن میاں ، حضور تاج المشائخ امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی والنورانی سے ملتا ہے، اللہ پاک حضرت کی عمر میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مشائخِ مارہرہ و اولیائے کرام کے فیضان سے فیضیاب فرمائے اور ان کے صدقے مصیبتوں سے نجات عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
70
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 41
Kalam 13
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]

موقعہ پرست لوگ

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢