یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!

شخصیات اسلاف واخلاف
حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
حضرت سید زید شہید و حضرت سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اس دنیا میں اپنے صالح بندے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا۔ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سب سے آخری اور سب سے افضل نبی ہمارے پیارے نبی حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ آقائے دو جہاں شافِعِ عاصیاں نبئ اعظم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے بے جان دنیا کو جان ملی، گمراہی کی تاریکی ختم ہوئی اور حق کا نور پورے عالم میں پھیل گیا۔ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو راہِ حق کی جانب ہدایت فرمائی۔ پیارے آقا مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وفادار صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے اور آپ سے فیض و درس حاصل کرتے رہے۔ ١٢؍ربیع الاول شریف ١١ھ مطابق ١٢؍جون ٦٣٢ء کو سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا۔ میرے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دین و تبلیغ کا کام انجام دیا اور لوگوں کو راہِ حق کی طرف دعوت دیتے رہے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد تابعین و ائمۂ کرام نے تبلیغ فرمائی اور لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف لاتے رہے۔ انہیں مبارک و مقدس ہستیوں میں ایک جماعت اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کی بھی ہے، جو علومِ دین و دنیا سے آراستہ اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کو خدائے پاک نے بہت سی نعمتوں سے نوازا، وہ پریشان حال کی مدد فرماتے ہیں، غمزدہ لوکوں کے غموں کو مٹاتے ہیں اور راہِ راست پر چلاتے ہیں، شریعت و طریقت کی باتیں سکھاتے ہیں۔
ہندوستان میں بھی جب لوگ باطل کی تاریکیوں میں محو تھے تو خدائے ذوالجلال نے اپنے محبوب بندوں کو بھیجا۔ حضورِ اقدس شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز سیدنا معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہندوستان میں تشریف لائے اور تقریباً ٩٠؍لاکھ کافروں کو مسلمان بنایا، سبحان اللّٰه تعالیٰ۔ حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فیض پاکر ہند میں اولیائے کرام نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، فاتحِ بلگرام سیدنا شاہ محمد دعوۃ الصغریٰ، بابا فریدالدین گنج شکر، خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی، حضور علاء الدین صابر کلیری، حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم وغیرہم۔
اللہ تعالیٰ کے انھیں محبوب بندوں میں ایک شہزادۂ رسولِ کریم ﷺ، اولادِ مولیٰ علی المرتضیٰ، چشم و چراغِ خاندانِ امام حسین سید الشہداء، خلیفۂ حضور فضل اللہ کالپوی علیہ الرحمۃ، مفسرِ قرآن، سلطانِ مارہرہ، امامِ سلسلۂ برکاتیہ، حضور صاحب البرکات حضرت مولانا سیدنا شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی قادری چشتی بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ حضور صاحب البرکات کے فیضان سے آج ہند ہی نہیں بیرونِ ہند بھی ان گنت لوگ فیضیاب ہوتے آرہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، انھیں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین و شہزادے حضور برہان الموحدین سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پر پوتے حضور سیدنا خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیر و مرشد ہیں اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور نور العارفین، سرکارِ نور حضرت سیدنا مولانا شاہ ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان، حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مرشدِ بر حق ہیں۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ میر سید دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا حضور سیدنا حسین ابن سید ابوالفرح ثانی قدس سرہما سیر و سیاحت فرماتے ہوئے بلگرام شریف جو اُس وقت ”سری نگر“ کے نام سے تھا اس کے پاس ایک موضعِ پیونٹی میں تشریف لائے اور وہاں ایک ٹیلے پر قیام فرمایا۔ اُس کے بعد حضور سید میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلطان شمس الدین التمش سے اجازت لے کر اپنے پیر و مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم پر ٦١٤ھ میں سری نگر (بلگرام) کے راجہ پر چڑھائی کی اور اس کو شکست دے کر بلگرام شریف فتح کر لیا اور فاتحِ بلگرام (بلگرام فتح کرنے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کی اولاد نے بلگرام شریف میں قیام فرمایا۔ میر سید دعوۃ الصغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں جلیل القدر بزرگ، مصنفِ سبع سنابل شریف، میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے مارہرہ مطہرہ تشریف لائے اور آپ کے پوتے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی ابن میر عبدالجلیل بلگرامی اپنے جد کی طرح بلگرام سے مارہرہ مطہرہ آئے اور یہیں بس گئے۔ مشائخِ مارہرہ کا سلسلہ حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین ابن حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام حسین ابن امیر المومنین مولیٰ علی المرتضیٰ زوجِ خاتونِ جنت سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پیارے آقا سلطانِ کون و مکاں، نبی آخرالزماں، شافعِ عاصیاں حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے انھیں محبوب بندوں میں ایک شہزادۂ رسولِ کریم ﷺ، اولادِ مولیٰ علی المرتضیٰ، چشم و چراغِ خاندانِ امام حسین سید الشہداء، خلیفۂ حضور فضل اللہ کالپوی علیہ الرحمۃ، مفسرِ قرآن، سلطانِ مارہرہ، امامِ سلسلۂ برکاتیہ، حضور صاحب البرکات حضرت مولانا سیدنا شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی قادری چشتی بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ حضور صاحب البرکات کے فیضان سے آج ہند ہی نہیں بیرونِ ہند بھی ان گنت لوگ فیضیاب ہوتے آرہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، انھیں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین و شہزادے حضور برہان الموحدین سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پر پوتے حضور سیدنا خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیر و مرشد ہیں اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور نور العارفین، سرکارِ نور حضرت سیدنا مولانا شاہ ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان، حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مرشدِ بر حق ہیں۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ میر سید دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا حضور سیدنا حسین ابن سید ابوالفرح ثانی قدس سرہما سیر و سیاحت فرماتے ہوئے بلگرام شریف جو اُس وقت ”سری نگر“ کے نام سے تھا اس کے پاس ایک موضعِ پیونٹی میں تشریف لائے اور وہاں ایک ٹیلے پر قیام فرمایا۔ اُس کے بعد حضور سید میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلطان شمس الدین التمش سے اجازت لے کر اپنے پیر و مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم پر ٦١٤ھ میں سری نگر (بلگرام) کے راجہ پر چڑھائی کی اور اس کو شکست دے کر بلگرام شریف فتح کر لیا اور فاتحِ بلگرام (بلگرام فتح کرنے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کی اولاد نے بلگرام شریف میں قیام فرمایا۔ میر سید دعوۃ الصغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں جلیل القدر بزرگ، مصنفِ سبع سنابل شریف، میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے مارہرہ مطہرہ تشریف لائے اور آپ کے پوتے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی ابن میر عبدالجلیل بلگرامی اپنے جد کی طرح بلگرام سے مارہرہ مطہرہ آئے اور یہیں بس گئے۔ مشائخِ مارہرہ کا سلسلہ حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین ابن حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام حسین ابن امیر المومنین مولیٰ علی المرتضیٰ زوجِ خاتونِ جنت سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پیارے آقا سلطانِ کون و مکاں، نبی آخرالزماں، شافعِ عاصیاں حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
★ سیدنا امام علی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے شہزادگان:
حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل دو اولاد سے چلی: (١) سید حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انہیں کی نسل سے حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں (٢) سید زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام سید الشہداء مولیٰ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل صرف ایک شہزادے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاری ہوئی۔ خدائے ذوالجلال نے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کثیر اولاد عطا فرمائی اور حضرتِ سیدنا علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی نسل چھ اولاد سے چلی: (١) حضرتِ سیدنا امام محمد باقر، انہیں کی نسل سے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ (٢) حضرتِ سیدنا زید شہید، مشائخِ مارہرہ و بلگرام و مسولی انہیں کی نسلِ پاک سے ہیں۔ (٣) سید عبداللہ، (٤) سید عمر، (٥) سید حسین الاصغر، (٦) سید علی الاصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل دو اولاد سے چلی: (١) سید حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انہیں کی نسل سے حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں (٢) سید زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام سید الشہداء مولیٰ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل صرف ایک شہزادے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاری ہوئی۔ خدائے ذوالجلال نے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کثیر اولاد عطا فرمائی اور حضرتِ سیدنا علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی نسل چھ اولاد سے چلی: (١) حضرتِ سیدنا امام محمد باقر، انہیں کی نسل سے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ (٢) حضرتِ سیدنا زید شہید، مشائخِ مارہرہ و بلگرام و مسولی انہیں کی نسلِ پاک سے ہیں۔ (٣) سید عبداللہ، (٤) سید عمر، (٥) سید حسین الاصغر، (٦) سید علی الاصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔

حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
حضرت سید زید شہید و حضرت سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اس دنیا میں اپنے صالح بندے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا۔ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سب سے آخری اور سب سے افضل نبی ہمارے پیارے نبی حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ آقائے دو جہاں شافِعِ عاصیاں نبئ اعظم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے بے جان دنیا کو جان ملی، گمراہی کی تاریکی ختم ہوئی اور حق کا نور پورے عالم میں پھیل گیا۔ سرکارِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو راہِ حق کی جانب ہدایت فرمائی۔ پیارے آقا مصطفیٰ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وفادار صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے اور آپ سے فیض و درس حاصل کرتے رہے۔ ١٢؍ربیع الاول شریف ١١ھ مطابق ١٢؍جون ٦٣٢ء کو سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا۔ میرے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے دین و تبلیغ کا کام انجام دیا اور لوگوں کو راہِ حق کی طرف دعوت دیتے رہے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد تابعین و ائمۂ کرام نے تبلیغ فرمائی اور لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف لاتے رہے۔ انہیں مبارک و مقدس ہستیوں میں ایک جماعت اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کی بھی ہے، جو علومِ دین و دنیا سے آراستہ اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کو خدائے پاک نے بہت سی نعمتوں سے نوازا، وہ پریشان حال کی مدد فرماتے ہیں، غمزدہ لوکوں کے غموں کو مٹاتے ہیں اور راہِ راست پر چلاتے ہیں، شریعت و طریقت کی باتیں سکھاتے ہیں۔
ہندوستان میں بھی جب لوگ باطل کی تاریکیوں میں محو تھے تو خدائے ذوالجلال نے اپنے محبوب بندوں کو بھیجا۔ حضورِ اقدس شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز سیدنا معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہندوستان میں تشریف لائے اور تقریباً ٩٠؍لاکھ کافروں کو مسلمان بنایا، سبحان اللّٰه تعالیٰ۔ حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے فیض پاکر ہند میں اولیائے کرام نے تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، فاتحِ بلگرام سیدنا شاہ محمد دعوۃ الصغریٰ، بابا فریدالدین گنج شکر، خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی، حضور علاء الدین صابر کلیری، حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم وغیرہم۔
اللہ تعالیٰ کے انھیں محبوب بندوں میں ایک شہزادۂ رسولِ کریم ﷺ، اولادِ مولیٰ علی المرتضیٰ، چشم و چراغِ خاندانِ امام حسین سید الشہداء، خلیفۂ حضور فضل اللہ کالپوی علیہ الرحمۃ، مفسرِ قرآن، سلطانِ مارہرہ، امامِ سلسلۂ برکاتیہ، حضور صاحب البرکات حضرت مولانا سیدنا شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی قادری چشتی بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ حضور صاحب البرکات کے فیضان سے آج ہند ہی نہیں بیرونِ ہند بھی ان گنت لوگ فیضیاب ہوتے آرہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، انھیں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین و شہزادے حضور برہان الموحدین سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پر پوتے حضور سیدنا خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیر و مرشد ہیں اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور نور العارفین، سرکارِ نور حضرت سیدنا مولانا شاہ ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان، حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مرشدِ بر حق ہیں۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ میر سید دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا حضور سیدنا حسین ابن سید ابوالفرح ثانی قدس سرہما سیر و سیاحت فرماتے ہوئے بلگرام شریف جو اُس وقت ”سری نگر“ کے نام سے تھا اس کے پاس ایک موضعِ پیونٹی میں تشریف لائے اور وہاں ایک ٹیلے پر قیام فرمایا۔ اُس کے بعد حضور سید میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلطان شمس الدین التمش سے اجازت لے کر اپنے پیر و مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم پر ٦١٤ھ میں سری نگر (بلگرام) کے راجہ پر چڑھائی کی اور اس کو شکست دے کر بلگرام شریف فتح کر لیا اور فاتحِ بلگرام (بلگرام فتح کرنے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کی اولاد نے بلگرام شریف میں قیام فرمایا۔ میر سید دعوۃ الصغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں جلیل القدر بزرگ، مصنفِ سبع سنابل شریف، میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے مارہرہ مطہرہ تشریف لائے اور آپ کے پوتے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی ابن میر عبدالجلیل بلگرامی اپنے جد کی طرح بلگرام سے مارہرہ مطہرہ آئے اور یہیں بس گئے۔ مشائخِ مارہرہ کا سلسلہ حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین ابن حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام حسین ابن امیر المومنین مولیٰ علی المرتضیٰ زوجِ خاتونِ جنت سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پیارے آقا سلطانِ کون و مکاں، نبی آخرالزماں، شافعِ عاصیاں حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے انھیں محبوب بندوں میں ایک شہزادۂ رسولِ کریم ﷺ، اولادِ مولیٰ علی المرتضیٰ، چشم و چراغِ خاندانِ امام حسین سید الشہداء، خلیفۂ حضور فضل اللہ کالپوی علیہ الرحمۃ، مفسرِ قرآن، سلطانِ مارہرہ، امامِ سلسلۂ برکاتیہ، حضور صاحب البرکات حضرت مولانا سیدنا شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی قادری چشتی بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ حضور صاحب البرکات کے فیضان سے آج ہند ہی نہیں بیرونِ ہند بھی ان گنت لوگ فیضیاب ہوتے آرہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، انھیں حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین و شہزادے حضور برہان الموحدین سید شاہ آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پر پوتے حضور سیدنا خاتم الاکابر سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیر و مرشد ہیں اور حضور آل رسول احمدی مارہروی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور نور العارفین، سرکارِ نور حضرت سیدنا مولانا شاہ ابوالحسین احمد نورؔی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور استاذِ زمن علامہ حسن رضا خان، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان، حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مرشدِ بر حق ہیں۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ میر سید دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا حضور سیدنا حسین ابن سید ابوالفرح ثانی قدس سرہما سیر و سیاحت فرماتے ہوئے بلگرام شریف جو اُس وقت ”سری نگر“ کے نام سے تھا اس کے پاس ایک موضعِ پیونٹی میں تشریف لائے اور وہاں ایک ٹیلے پر قیام فرمایا۔ اُس کے بعد حضور سید میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلطان شمس الدین التمش سے اجازت لے کر اپنے پیر و مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم پر ٦١٤ھ میں سری نگر (بلگرام) کے راجہ پر چڑھائی کی اور اس کو شکست دے کر بلگرام شریف فتح کر لیا اور فاتحِ بلگرام (بلگرام فتح کرنے والے) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد میر محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کی اولاد نے بلگرام شریف میں قیام فرمایا۔ میر سید دعوۃ الصغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں جلیل القدر بزرگ، مصنفِ سبع سنابل شریف، میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے مارہرہ مطہرہ تشریف لائے اور آپ کے پوتے حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن سید شاہ میر محمد اویس بلگرامی ابن میر عبدالجلیل بلگرامی اپنے جد کی طرح بلگرام سے مارہرہ مطہرہ آئے اور یہیں بس گئے۔ مشائخِ مارہرہ کا سلسلہ حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین ابن حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام حسین ابن امیر المومنین مولیٰ علی المرتضیٰ زوجِ خاتونِ جنت سیدہ طیبہ طاہرہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پیارے آقا سلطانِ کون و مکاں، نبی آخرالزماں، شافعِ عاصیاں حضور محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
★ سیدنا امام علی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کے شہزادگان:
حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل دو اولاد سے چلی: (١) سید حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انہیں کی نسل سے حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں (٢) سید زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام سید الشہداء مولیٰ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل صرف ایک شہزادے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاری ہوئی۔ خدائے ذوالجلال نے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کثیر اولاد عطا فرمائی اور حضرتِ سیدنا علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی نسل چھ اولاد سے چلی: (١) حضرتِ سیدنا امام محمد باقر، انہیں کی نسل سے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ (٢) حضرتِ سیدنا زید شہید، مشائخِ مارہرہ و بلگرام و مسولی انہیں کی نسلِ پاک سے ہیں۔ (٣) سید عبداللہ، (٤) سید عمر، (٥) سید حسین الاصغر، (٦) سید علی الاصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
حضرتِ سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل دو اولاد سے چلی: (١) سید حسن مثنیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انہیں کی نسل سے حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں (٢) سید زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرتِ سیدنا امامِ عرشِ مقام سید الشہداء مولیٰ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسل صرف ایک شہزادے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاری ہوئی۔ خدائے ذوالجلال نے حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کثیر اولاد عطا فرمائی اور حضرتِ سیدنا علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی نسل چھ اولاد سے چلی: (١) حضرتِ سیدنا امام محمد باقر، انہیں کی نسل سے سلطان الہند خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ (٢) حضرتِ سیدنا زید شہید، مشائخِ مارہرہ و بلگرام و مسولی انہیں کی نسلِ پاک سے ہیں۔ (٣) سید عبداللہ، (٤) سید عمر، (٥) سید حسین الاصغر، (٦) سید علی الاصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید” محمد زید “ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ آپ کے والدِ ماجد کا نام حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ ماجدہ کا نام حضرتِ سیدہ جیدار رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے، آپ کی والدہ ماجدہ سندھ کی رہنے والی تھیں۔
نسب شریف یہ ہے: حضرتِ سیدنا زید شہید بن حضرتِ سیدنا امام علی بن حضرتِ سیدنا امام حسین بن حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین مولیٰ علی زوجِ خاتونِ جنت فاطمتہ الزہراء بنت محمد مصطفیٰ رسولِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔
پیدائش: حضرتِ سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ٧٥ یا ٨٠؍ہجری مطابق ٧٠٠؍عیسوی میں ہوئی۔ حضرتِ سیدنا زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مہرِ انور پر ”اِصْبِرْ تَوْجَرُ اُصْدُقْ تَنْجِحُ“ لکھا ہوا تھا۔
علمی شان: حضرتِ سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی کرامت کے بارے میں ہمارے امام، سلطان الائمہ حضرتِ سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”مَیں نے حضرتِ زید کو دیکھا جیسا اُن کے اہلِ بیت کو دیکھا، پس میں نے ان کے زمانے میں ان سے بڑا فقیہ، صاحبِ علم، حاضر جواب، اور روشن بات کہنے والا نہ دیکھا۔“
شہادت: حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اموی بادشاہوں کے ظلم و ستم سے پریشان ہو کر کوفہ تشریف لے آئے اور سلطنت سے مقابلہ کی تیاری کی۔ اہلِ کوفہ و اہلِ عراق کی ایک جماعت نے بیعت کی۔ ہشام بن عبدالملک نے یوسف ثقفی کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا جس سے جنگ کی نوبت آگئی اور منافقین نے حضرتِ سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا اور بھاگ گئے۔ منافقین بھی مارے گئے اور اِسی ہنگامے میں ایک تیر حضرتِ زید کو لگا جس سے وہ شہید ہو گئے۔ سببِ شہادت کوفیوں کی بے وفائی اور غداری بنا۔
سید الاشجعین کا لقب: کوفیوں نے حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شرط رکھی کہ ہم آپ کا ساتھ تبھی دیں گے جب آپ ابوبکر و عمر کو برا کہیں گے۔ کوفیوں کو کیا معلوم کہ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر ایسی ذاتِ پاک کا خونِ پاک گردش کر رہا ہے جس ذات نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے بچوں کو تک قربان کر دیا مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا، تو نبیرۂ امام حسین امام زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کیسے اپنے دادا کے خلاف کوئی عمل کرتے۔ حضرت زید نے ایک بھی ایسے کلمات نہیں کہے جن سے حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق و حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شان میں گستاخی کی بو بھی آئے بلکہ ان کی سامنے تعریف فرمائی اور سید الاشجعین (بہادروں کے سردار) کے لقب سے مشہور ہوئے اور ان سبھی کوفی غداروں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور تب سے ”رافضی“ کہے جانے لگے۔
تاریخِ شہادت: یہ واقعہ ٢٣؍محرم الحرام ١٢٢ھ-٧٣٩ء کا ہے۔ اسی دن حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔ بعدِ شہادت خاندان میں تفرقہ پر گیا، آپ کے کچھ شہزادے کوفہ سے شہرِ فارس کی طرف تشریف لے گئے اور بعض کوفہ ہی میں رہے۔
بعدِ شہادت: شہادت کے بعد حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ظالموں نے یہ سلوک کیا کہ یوسف ثقفی نے آپ کے جسدِ مبارک کو قبر سے باہر نکالا اور سر کاٹ کر ہشام بن عبدالملک کے پاس بھیجا۔ اس ظالم نے آپ کے سرِ مبارک کو دمشق کے دروازے پر لٹکایا اور (اُن ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو) جسمِ پاک سے کپڑا ہٹا کرکے سولی پر چڑھایا، اور چار پانچ سال تک لاشِ مبارک ایسے ہی لٹکی رہی لیکن قدرتِ الٰہی کہ مکڑی نے جالا بن کر آپ کی ستر پوشی کی۔ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولی دیے جانے کے بعد حضرتِ جریر بن حازم نے پیارے آقا شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ نبئ کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و اکمل التسلیم حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم سے پشتِ مبارک لگائے فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! میرے شہزادے کے ساتھ یہ کیا سلوک کیا ؟ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ظالمین کو ان کے جرموں کی سزا عطا فرمائے گا۔
اولاد: حضرتِ سید الاشجعین سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے تھے: (١) سید یحییٰ (٢) سید حسین (٣) سید محمد (٤) سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا سلسلہ حضور زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے حضرتِ امام سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آگے چلا۔
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید” محمد زید “ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ آپ کے والدِ ماجد کا نام حضرتِ سیدنا علی اوسط امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور والدہ ماجدہ کا نام حضرتِ سیدہ جیدار رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے، آپ کی والدہ ماجدہ سندھ کی رہنے والی تھیں۔
نسب شریف یہ ہے: حضرتِ سیدنا زید شہید بن حضرتِ سیدنا امام علی بن حضرتِ سیدنا امام حسین بن حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین مولیٰ علی زوجِ خاتونِ جنت فاطمتہ الزہراء بنت محمد مصطفیٰ رسولِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرتِ سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی ہیں۔
پیدائش: حضرتِ سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ٧٥ یا ٨٠؍ہجری مطابق ٧٠٠؍عیسوی میں ہوئی۔ حضرتِ سیدنا زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مہرِ انور پر ”اِصْبِرْ تَوْجَرُ اُصْدُقْ تَنْجِحُ“ لکھا ہوا تھا۔
علمی شان: حضرتِ سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی کرامت کے بارے میں ہمارے امام، سلطان الائمہ حضرتِ سیدنا امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”مَیں نے حضرتِ زید کو دیکھا جیسا اُن کے اہلِ بیت کو دیکھا، پس میں نے ان کے زمانے میں ان سے بڑا فقیہ، صاحبِ علم، حاضر جواب، اور روشن بات کہنے والا نہ دیکھا۔“
شہادت: حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اموی بادشاہوں کے ظلم و ستم سے پریشان ہو کر کوفہ تشریف لے آئے اور سلطنت سے مقابلہ کی تیاری کی۔ اہلِ کوفہ و اہلِ عراق کی ایک جماعت نے بیعت کی۔ ہشام بن عبدالملک نے یوسف ثقفی کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا جس سے جنگ کی نوبت آگئی اور منافقین نے حضرتِ سید الشہداء امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے حضور زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا اور بھاگ گئے۔ منافقین بھی مارے گئے اور اِسی ہنگامے میں ایک تیر حضرتِ زید کو لگا جس سے وہ شہید ہو گئے۔ سببِ شہادت کوفیوں کی بے وفائی اور غداری بنا۔
سید الاشجعین کا لقب: کوفیوں نے حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شرط رکھی کہ ہم آپ کا ساتھ تبھی دیں گے جب آپ ابوبکر و عمر کو برا کہیں گے۔ کوفیوں کو کیا معلوم کہ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر ایسی ذاتِ پاک کا خونِ پاک گردش کر رہا ہے جس ذات نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے بچوں کو تک قربان کر دیا مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا، تو نبیرۂ امام حسین امام زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کیسے اپنے دادا کے خلاف کوئی عمل کرتے۔ حضرت زید نے ایک بھی ایسے کلمات نہیں کہے جن سے حضرتِ سیدنا امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق و حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شان میں گستاخی کی بو بھی آئے بلکہ ان کی سامنے تعریف فرمائی اور سید الاشجعین (بہادروں کے سردار) کے لقب سے مشہور ہوئے اور ان سبھی کوفی غداروں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور تب سے ”رافضی“ کہے جانے لگے۔
تاریخِ شہادت: یہ واقعہ ٢٣؍محرم الحرام ١٢٢ھ-٧٣٩ء کا ہے۔ اسی دن حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی۔ بعدِ شہادت خاندان میں تفرقہ پر گیا، آپ کے کچھ شہزادے کوفہ سے شہرِ فارس کی طرف تشریف لے گئے اور بعض کوفہ ہی میں رہے۔
بعدِ شہادت: شہادت کے بعد حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ظالموں نے یہ سلوک کیا کہ یوسف ثقفی نے آپ کے جسدِ مبارک کو قبر سے باہر نکالا اور سر کاٹ کر ہشام بن عبدالملک کے پاس بھیجا۔ اس ظالم نے آپ کے سرِ مبارک کو دمشق کے دروازے پر لٹکایا اور (اُن ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو) جسمِ پاک سے کپڑا ہٹا کرکے سولی پر چڑھایا، اور چار پانچ سال تک لاشِ مبارک ایسے ہی لٹکی رہی لیکن قدرتِ الٰہی کہ مکڑی نے جالا بن کر آپ کی ستر پوشی کی۔ حضرتِ زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولی دیے جانے کے بعد حضرتِ جریر بن حازم نے پیارے آقا شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ نبئ کریم علیہ افضل الصلوٰۃ و اکمل التسلیم حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم سے پشتِ مبارک لگائے فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! میرے شہزادے کے ساتھ یہ کیا سلوک کیا ؟ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ظالمین کو ان کے جرموں کی سزا عطا فرمائے گا۔
اولاد: حضرتِ سید الاشجعین سیدنا امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے تھے: (١) سید یحییٰ (٢) سید حسین (٣) سید محمد (٤) سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا سلسلہ حضور زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے حضرتِ امام سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آگے چلا۔
حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید ”محمد عیسیٰ“ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ مشہور لقب ”موتم الاشبال“ ہے۔ آپ حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں یعنی حضرتِ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے ہیں۔ حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادگان الگ الگ جگہ چلے گئے تھے اور حضرتِ عیسیٰ کوفہ میں رہے۔
موتم الاشبال لقب کی وجہ: ”موتم الاشبال“ کا مطلب ہوتا ہے: ”شیروں کے بچوں کو یتیم کرنے والا“۔ مارہرہ مطہرہ کے بزرگوں کا سلسلہ واسط سے ہو کر ہندوستان پہنچا اور واسط کے قریب سب سے پہلے حضور عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے۔ آپ ظالم حکمرانوں سے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے واسط کے قریب جنگلوں میں رہتے تھے جہاں شیروں کی تعداد بہت زیادہ تھی، خود کی حفاظت کے لیے حضرتِ سیدنا عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کو مکوں اور گھوسوں سے مار ڈالتے تھے، اِسی لیے یہ لقب پڑا۔
سن پیدائش: حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ١٠٧ھ میں ہوئی، یہ تحقیق شہزادۂ حضور مجددِ برکاتیت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور تاج العلماء مولانا سیدنا شاہ اولاد رسول محمد میاں مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، کچھ روایات کے مطابق آپ کی پیدائش ١٢٠ھ میں ہوئی۔
وصال: حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ١٦٦ھ-٧٨٣ء کوفہ میں ہوا۔ نمازِ جنازہ حسن بن صالح نے پڑھائی تھی۔
شہزادگان: حضرت سید شاہ عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے تھے: (١) سید احمد مختفی، (٢) سید زید، (٣) سید محمد، (٤) سید حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ مارہرہ مطہرہ کے پیارے پیارے بزرگوں کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ سیدنا شاہ محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سنجھلے شہزادے ہیں۔ آج ان بزرگوں کا فیضان ان کے شہزادے خلیفۂ حضور مفتئ اعظمِ ہند، جانشین و شہزادۂ حضور احسن العلماء مصطفیٰ حیدر حسن میاں ، حضور تاج المشائخ امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی والنورانی سے ملتا ہے، اللہ پاک حضرت کی عمر میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
نام و نسب: آپ کا نام حضرت سید ”محمد عیسیٰ“ ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ مشہور لقب ”موتم الاشبال“ ہے۔ آپ حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے ہیں یعنی حضرتِ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے ہیں۔ حضرتِ سیدنا زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادگان الگ الگ جگہ چلے گئے تھے اور حضرتِ عیسیٰ کوفہ میں رہے۔
موتم الاشبال لقب کی وجہ: ”موتم الاشبال“ کا مطلب ہوتا ہے: ”شیروں کے بچوں کو یتیم کرنے والا“۔ مارہرہ مطہرہ کے بزرگوں کا سلسلہ واسط سے ہو کر ہندوستان پہنچا اور واسط کے قریب سب سے پہلے حضور عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے۔ آپ ظالم حکمرانوں سے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے واسط کے قریب جنگلوں میں رہتے تھے جہاں شیروں کی تعداد بہت زیادہ تھی، خود کی حفاظت کے لیے حضرتِ سیدنا عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کو مکوں اور گھوسوں سے مار ڈالتے تھے، اِسی لیے یہ لقب پڑا۔
سن پیدائش: حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ١٠٧ھ میں ہوئی، یہ تحقیق شہزادۂ حضور مجددِ برکاتیت ابوالقاسم اسمٰعیل حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور تاج العلماء مولانا سیدنا شاہ اولاد رسول محمد میاں مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، کچھ روایات کے مطابق آپ کی پیدائش ١٢٠ھ میں ہوئی۔
وصال: حضرتِ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ١٦٦ھ-٧٨٣ء کوفہ میں ہوا۔ نمازِ جنازہ حسن بن صالح نے پڑھائی تھی۔
شہزادگان: حضرت سید شاہ عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے تھے: (١) سید احمد مختفی، (٢) سید زید، (٣) سید محمد، (٤) سید حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ مارہرہ مطہرہ کے پیارے پیارے بزرگوں کے جدِّ اعلیٰ حضرتِ سیدنا شاہ محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو حضور عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سنجھلے شہزادے ہیں۔ آج ان بزرگوں کا فیضان ان کے شہزادے خلیفۂ حضور مفتئ اعظمِ ہند، جانشین و شہزادۂ حضور احسن العلماء مصطفیٰ حیدر حسن میاں ، حضور تاج المشائخ امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی والنورانی سے ملتا ہے، اللہ پاک حضرت کی عمر میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
jamiaturrazastudents.com
★ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مشائخِ مارہرہ و اولیائے کرام کے فیضان سے فیضیاب فرمائے اور ان کے صدقے مصیبتوں سے نجات عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
محمد انس رضا حامؔی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف









