صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
چاند کا سفر
تحقیق و تعاقب

چاند کا سفر

✍️ خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

چاند کا سفر
اللہ تعالٰی نے اس حسین شمسی نظام کو کچھ اس طرح پیدا فرمایا ہے اگر ماہرینِ نجوم و سائنسداں بھی اس پر اچھی طرح غور کریں تو سب کے سب حضرات بھی ایمان کی دولت سے مالامال نظر آئیں، اس خلاء بسیط میں کڑوروں کیا اربوں ستارے اور سیارے اپنی اپنی ذمہ داری کو انجام دینے میں مصروف ہیں ان میں جو سیارے ہیں ان کی گردش اور چال زیادہ مخفی نہیں ہے، لیکن ستاروں کی چال رفتار اور کام ایسے مخفی خزانوں کا سمندر ہے جو علمی معدنیات سے بھرے ہوئے ہیں، نظامِ شمسی کا ہر ایک ذرہ اپنے وجود میں ایک خالق کائنات کی لامحدود طاقت کا مظہر بنا ہوا ہے، اس عالم کے اربوں تاروں اور سیاروں کو خالق کائنات نے ایک قوتِ ثقل اور کشش کے مضبوط دھاگہ میں کچھ اس طرح پرودیا ہے جس کی وجہ سے ہر ایک تارا اطاعت و فرمانبرداری میں اپنی مثال خود آپ ہے، انھیں سیاروں میں سے ایک سیارہ ہمارا یہ پیارا چاند بھی ہے جو باقی ستاروں و سیاروں کے مقابلہ میں ہماری زمیں سے قریب تر ہے یعنی سائنسی مقررات اہل نجوم میں مرکز زمیں سے تین لاکھ چوراسی ہزار چارسو کلومیٹر کی دوری سے یہ خوبصورت چاند ہمارا طواف کرتا ہوا ہمیں نظر آرہا ہے، ہمارے ماہر سائنس دانوں نے 14 جولائ 2023 میں جس چندریان 3 کو چاند کی طرف روانہ کیا تھا ابھی پانچ دن پہلے 23 اگست شام 6 بجکر 4 منٹ پر اس نے چاند کے تاریک جنوبی حصہ قطبِ جنوبی سے قریب تک اپنی رسائی حاصل کرلی ہے، مواصلاتی سکرین پر کروڑوں لوگوں نے اس حسین کامیابی کو اپنی آنکھوں سے خود دیکھا، کامیاب ترین اس لینڈنگ کے بعد متعدد فون میرے پاس بھی آئے اور اسلامی نقطئہ نظر سے اس پر کچھ استفسار کیا گیا ، اس کی عقد کشائی میں چند سطور حاضر خدمت ہیں۔

چاند کے سفر میں چند پہلو توجہ طلب ہیں

1۔ چاند کیا ہے اور اس کی حرکت کیسی ہے
2۔ اس کا تاریک حصہ کونسا ہے
3۔ وہاں تک انسانی رسائی ممکن ہے یا نہیں
4۔ اس پر انسانی آباد کاری کی امید کیسی ہے
5۔ وہاں اوقاتِ نماز، جہتِ قبلہ، ماہِ رمضان اور ایامِ حج کا تعین کیسے ہوگا، یعنی وہ احکامِ شرع جن کا تعلق مخصوص اوقات و مہینے سے ہے اس کے تعین میں دشواریاں صاف ظاہر ہیں
اس بارے میں مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ مرکزِ عالم یہ زمین ہے اور لاکھوں نوعیت کے جانداروں کا یہ مسکن ہے، پونے چار لاکھ کلومیٹر سے بھی زائد فاصلہ سے ایک چھوٹا مگر خوب صورت سیارہ اس زمین کی پرکشش آراستگی پر فرفتہ ہو کر مرکز کا طواف کر رہاہے، اسی سیارہ کو ہم چاند کہتے ہیں ‌۔عربی زبان میں اسی کا نام " قمر* ہے، قرآنِ کریم میں بار بار اس کا تذکرہ آیا ہے، انگلش میں اسی کو ،،Moon,, کہا جاتا ہے، اس میں بایک وقت دو حرکتیں موجود ہیں ایک تبعی حرکت جس سے ہم روزانہ اس کے طلوع اور غروب کے مناظر کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں، دوسری حرکت طبعی ہے اسی کی وجہ سے چاند کی اشکال مختلفہ مثلا ہلال، تربیع، بدر ،کسوف، خسوف، اور محاق کا وجود ہے، ہماری زمیں کی طرح یہ چاند بھی ایک کرہ ہے، لیکن زمین سے چھوٹا ہے۔
2۔ دوسرا استفسار یہ ہے کہ:اس کا تاریک حصہ کون سا ہے ! اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے بالخصوص ان دو باتوں کو ملحوظِ خاطر رکھیں جو آج کل زیادہ تر میڈیا کی سرخی بنتی نظر آ رہی ہیں، یعنی قطبِ جنوبی اور تاریک حصہ شاید کے آپ نے بھی ملاحظہ کیاہے کہ جب چندریان 3 چاند پر اترا تو وہاں اجالا تھا رات کی طرح تاریکی نہیں تھی، اور نہ ہی سورج کی دھوپ نظر آئی، یہی وجہ ہے کہ لینڈر کا صاف سایہ بھی ظاہر نہ ہوا، وہاں کا حال بالکل اسی طرح تھا جس طرح غروبِ آفتاب کے وقت ہماری زمین کی حالت نظر آتی ہے، جبکہ لینڈنگ کے تاریک حصہ میں ہونے کا دعوٰی سبھی اخباروں کا ہے، جیسے وہاں دن کی دھوپ نظر نہیں آرہی تھی اسی طرح رات کی تاریکی کا بھی دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے ماہر سائنسدانوں نے لینڈنگ کے لئے ایسے وقت کو منتخب کیا تھا جب ہندوستان کا سورج غروب ہونے جا رہا تھا حالانکہ صفر المظفر کی وہ ساتویں تاریخ تھی جس تاریخ میں چاند حالتِ تربیع میں ہوتاہے، اور وہ بھی تربیعِ ایمن میں اس کی منزل مدار کے ربعِ ثانی میں تھی، اس لئے غروبِ آفتاب کے وقت وہ ہندوستان کے سر پر تھا بلکہ درمیانِ ہند کے نصف النہار کی قوسِ بالائی تک رسائی کی جد و جہد میں مصروف تھا۔
اب ادھر توجہ کریں کہ سورج کی کرنیں جہاں تک وصل کرے وہاں تک چاند پر دن نظر آئیگا، اس لئے کہ قرصِ شمس نصف قمر کو ہمیشہ روشن رکھتا ہے، گرچہ ہم مکمل منور حصہ کا مشاہدہ صرف چودہ تاریخ کو ہی کر سکتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کا جو نصف حصہ منور ہے اس نصف کی آخری مدور سرحد پر ایک ایسا دائرہ فرض کیا جاتا ہے جس کے حصار میں پورا نصف منور حصہ داخل ہے ، اہل نجوم نے اسی سرحدی دائرہ کا نام دائرہ نوریہ رکھا ہے اس دائرہ نے چاند کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ایک حصہ آفتاب کی طرف دوسرا اس کی سمت مقابل میں، سورج کی کرنوں کی طرح ہماری آنکھوں کی شعاعوں نے بھی اس چاند کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اس کی وجہ سے ایک حصہ ہمیشہ ہماری طرف ہوتا ہے جبکہ دوسرا سمتِ مخالف میں، یہاں بھی دائرہ نوریہ کی طرح ایک اور فرضی دائرہ موجود ہے جو حصئہ مرئی اور غیر مرئی کے مابین مفروض ہے، اس کا نام دائرہ رویت ہےمہینہ میں دو بار دائرہ نوریہ اور دائرہ رویت کا انطباق بھی ہو سکتاہے اور یہ انطباق صرف چودہ، اٹھائیس، اور انتیس تاریخوں میں ہی متصور ہے، چودہ تاریخ میں بالاشتراک دونوں دائروں کا قبضہ ایک ہی حصہ میں ہوتاہے یعنی جو حصہ منور ہے وہی مرئی بھی ہے جبکہ28،یا 29، تاریخ میں چاند کے ایک حصہ پر نور کا دوسرے پر رویت کا قبضہ رہتا ہے، چاند کا اپنے محور پر ایک مکمل دورہ سے وہاں کے دن و رات کا اور اپنے مدار پر ایک دورہ سے مہینہ کا وجود ہے، اور وہاں حرکتِ مداری اور حرکتِ محوری کی مدت ایک ہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرئی حصہ متعین ہے لیکن منور حصہ متعین نہیں، حالتِ انطباق کے علاوہ باقی ایام میں ان دونوں دائروں کے تقاطع سے چاند ہمیشہ چار حصوں میں منقسم رہتاہے جیسا کہ پہلی تاریخ میں ان دونوں کے تقاطع سے چاند پر چار زاویے برآمد ہوئے دو حادہ اور دو منفرجہ ایک منفرجہ پر صرف نور کا قبضہ ہے جبکہ دوسرے منفرجہ پر صرف رویت کا، اور ایک حادہ پر بالاشتراک نور و رویت دونوں کا قبضہ ہے، یہی وہ حصہ ہے جسے ہم پہلی تاریخ کا چاند کہتے ہیں، یہ حادہ مرئی بھی ہے اور منور بھی، اس کے مقابلہ میں جو حادہ ہے وہ ان دونوں دائروں کی دسترس سے باہر ہے، یہ نہ منور ہے اور نہ مرئی، اسی میں قطبِ جنوبی واقع ہے۔یہ حصئہ رویت سے خارج تاریک حصہ کا علاقہ ہے، یہاں نور کے مقابلہ میں تاریک نہیں بلکہ رویت کے مقابلہ میں تاریک بولا جاتا ہے، گرچہ یہ علاقہ منور ہو جیسے اٹھائیس تاریخ میں یہ حصہ منور رہتاہے لیکن زمینی رویت سے باہر ہے، لہذا منور ہونے کے باوجود اسے تاریک یعنی غیر مرئی ہی کہا جائےگا۔

3،4، سوال تین اور چار کا جواب

انسان کی رسائی چاند تک ہو سکتی ہے اس میں شرعا کوئی استحالہ ہے اور نہ ہی عقلا ، ہاں وہاں پر انسان کی آباد کاری میں سائنس دانوں کو مایوسی ہوگی، اس لئے کہ چاند پر انسان کی اقامت میں وہ دشواریاں پیس آئینگی جن کے تصور سے ہی ایک عقلمند پر لرزاں طاری ہو جائےگا، جیسے پانی سے نکال کر ایک مچھلی کو خشکی پر چھوڑ نے یا کسی گھریلو جاندار کو پانی کے حوالہ کرنے پر ان دونوں کو جن مشکلات کا سامنا ہوگا ان سے بھی شدید تر دشواریوں کا سامنا اسے ہوگا جو انسان چاند پر اقامت پذیر رہے گا، کہ انسان کو اللہ تعالی نے زمین پر بھیجا ہے نہ کہ چاند یا زحل و مشتری پر ، پھر انسان کی تخلیق کا مقتضٰی زمیں کو آباد کرنا ہے نہ کہ کسی اور سیارے کو، اللہ تعالٰی نے فرمایا انی جائل فی الارض خلیفۃ،، نہ کہ فی القمر اور نہ فی الزحلسائنسدانوں کو یہ دھوکہ ہے کہ ،،ارض،، تو زمین کو کہا جاتا ہے اور اللہ نے جب انسان کو ،،ارض،، میں بھیجا ہے، تو جہاں جہاں زمین ہو وہاں وہاں انسان رہ سکتا ہے جبکہ زمین تو چاند میں بھی ہے زحل میں بھی ہے اور مشتری میں بھی ہے، یہ ان سائنسدانوں کا بہت بڑا مغالطہ ہوگا کہ انھوں نے مٹی کو زمین سمجھ لیا، اور سیاروں میں مٹی ہے اسے زمین نہ سمجھو، اسے تو عربی میں ،،تراب،، کہا جاتا ہے نہ کہ ارض، اور قرآن میں ،فی الارض، ہے نہ کہ فی التراب،
اور سیاروں میں بھی مٹی پائی گئی جیسا کہ زمین میں پائی گئی لیکن زمین صرف یہی مٹی ہے نہ کہ اور سیاروں کی مٹی بھی زمین ہے، لہذا چاند پر مقیم انسان جب تک اس زمین سے توانائی حاصل کرتا رہے گا زندگی کے باقی ایام گزار سکتا ہے اور زمینی اسباب کے انقطاع پر ایسی ایسی دشواریوں کا سامنا ہوگا کہ شاید زندگی کے ایام کا بھی خاتمہ ہوجائے گا کہ قانونِ قدرت میں اقتضائے تخلیق کے خلاف اس نے بیجا جرأت کی ہے لہذا وہاں پر زمینی وسائل کے بغیر انسانوں کی آباد کاری ایک خواب ہی رہے گی۔

5۔ اس میں کچھ دینی شبہات کا اظہار ہے

اور ان میں ہر ایک شبہ مستقل ایک ایک ایسا موضوع ہے جو تفصیل کا متقاضی ہے، اس مختصر مضمون میں جس کی گنجائش نہیں ہے، پھر بھی چند جملے حاضر خدمت ہیں، وہاں اوقاتِ نماز تخمینی ہونگے تحقیقی نہیں، کہ زمینی چودہ دن سے زیادہ مدت کا چاند پر ایک دن ہوتاہے، لہذا پنجوقتہ نماز کے اوقات کا تعین ممکن نہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
5۔ اس میں کچھ دینی شبہات کا اظہار ہے
اور ان میں سے ہر ایک شبہ مستقل ایک ایک ایسا موضوع ہے جو تفصیل کا متقاضی ہے، اس مختصر مضمون میں جس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پھر بھی چند جملے حاضر خدمت ہیں، جہاں تک اوقاتِ نماز کی بات ہے تو واضح ہے کہ وہاں چاند پر اوقاتِ نماز تخمینی ہونگے تحقیقی نہیں، چونکہ زمینی چودہ دن سے زیادہ مدت کا چاند پر ایک دن ہوتاہے، اور اوقات نماز ارضی ہیں نہ کہ قمری، لہذا پنجوقتہ نماز کے اوقات کا تعین قمری آفتاب سے ممکن نہیں،
دوسرا شبہ جہت قبلہ کا ہے ماتقدم سے ظاہر ہے کہ دائرہ رویت نے چاند کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے وہ حصہ جو دائرہ رویت کے حصار میں ہے، وہاں سے زمین صاف نظر آئے گی لہذا جہت زمین ہی وہاں کی جہت قبلہ ہے، اور تاریک حصہ سے چونکہ زمین کا دیدار نہیں ہوگا جس کی وجہ سے استخراج جہت کی حاجت ہوگی، اس پر بھی قادر نہ ہو تو تحری سے کام لیا جائیگا۔
اور جہاں تک رمضان اور حج کا سوال ہے تو لوگ وہاں روزے اور حج پر قادر ہی نہیں ہیں، کہ وہاں کا ایک دن زمینی چودہ دن سے بھی زیادہ طویل ہوگا، اسی طرح حج پر بھی قادر نہیں کہ حج کعبہ بیت اللہ کے پاس ادا کیا جائیگا جو زمین پر ہے نہ کہ چاند پر، ان ساری دشواریوں کے باوجود وہاں کی اقامت کا ارادہ غیر دانشمندانہ ہی ہوگا۔
29/08/23
محمد رفیق الاسلام نوری منظری
جامعہ شکوریہ بلہور کانپور یوپی

چاند کا سفر

مضمون نگار: خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

چاند کا سفر
اللہ تعالٰی نے اس حسین شمسی نظام کو کچھ اس طرح پیدا فرمایا ہے اگر ماہرینِ نجوم و سائنسداں بھی اس پر اچھی طرح غور کریں تو سب کے سب حضرات بھی ایمان کی دولت سے مالامال نظر آئیں، اس خلاء بسیط میں کڑوروں کیا اربوں ستارے اور سیارے اپنی اپنی ذمہ داری کو انجام دینے میں مصروف ہیں ان میں جو سیارے ہیں ان کی گردش اور چال زیادہ مخفی نہیں ہے، لیکن ستاروں کی چال رفتار اور کام ایسے مخفی خزانوں کا سمندر ہے جو علمی معدنیات سے بھرے ہوئے ہیں، نظامِ شمسی کا ہر ایک ذرہ اپنے وجود میں ایک خالق کائنات کی لامحدود طاقت کا مظہر بنا ہوا ہے، اس عالم کے اربوں تاروں اور سیاروں کو خالق کائنات نے ایک قوتِ ثقل اور کشش کے مضبوط دھاگہ میں کچھ اس طرح پرودیا ہے جس کی وجہ سے ہر ایک تارا اطاعت و فرمانبرداری میں اپنی مثال خود آپ ہے، انھیں سیاروں میں سے ایک سیارہ ہمارا یہ پیارا چاند بھی ہے جو باقی ستاروں و سیاروں کے مقابلہ میں ہماری زمیں سے قریب تر ہے یعنی سائنسی مقررات اہل نجوم میں مرکز زمیں سے تین لاکھ چوراسی ہزار چارسو کلومیٹر کی دوری سے یہ خوبصورت چاند ہمارا طواف کرتا ہوا ہمیں نظر آرہا ہے، ہمارے ماہر سائنس دانوں نے 14 جولائ 2023 میں جس چندریان 3 کو چاند کی طرف روانہ کیا تھا ابھی پانچ دن پہلے 23 اگست شام 6 بجکر 4 منٹ پر اس نے چاند کے تاریک جنوبی حصہ قطبِ جنوبی سے قریب تک اپنی رسائی حاصل کرلی ہے، مواصلاتی سکرین پر کروڑوں لوگوں نے اس حسین کامیابی کو اپنی آنکھوں سے خود دیکھا، کامیاب ترین اس لینڈنگ کے بعد متعدد فون میرے پاس بھی آئے اور اسلامی نقطئہ نظر سے اس پر کچھ استفسار کیا گیا ، اس کی عقد کشائی میں چند سطور حاضر خدمت ہیں۔

چاند کے سفر میں چند پہلو توجہ طلب ہیں

1۔ چاند کیا ہے اور اس کی حرکت کیسی ہے
2۔ اس کا تاریک حصہ کونسا ہے
3۔ وہاں تک انسانی رسائی ممکن ہے یا نہیں
4۔ اس پر انسانی آباد کاری کی امید کیسی ہے
5۔ وہاں اوقاتِ نماز، جہتِ قبلہ، ماہِ رمضان اور ایامِ حج کا تعین کیسے ہوگا، یعنی وہ احکامِ شرع جن کا تعلق مخصوص اوقات و مہینے سے ہے اس کے تعین میں دشواریاں صاف ظاہر ہیں
اس بارے میں مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ مرکزِ عالم یہ زمین ہے اور لاکھوں نوعیت کے جانداروں کا یہ مسکن ہے، پونے چار لاکھ کلومیٹر سے بھی زائد فاصلہ سے ایک چھوٹا مگر خوب صورت سیارہ اس زمین کی پرکشش آراستگی پر فرفتہ ہو کر مرکز کا طواف کر رہاہے، اسی سیارہ کو ہم چاند کہتے ہیں ‌۔عربی زبان میں اسی کا نام " قمر* ہے، قرآنِ کریم میں بار بار اس کا تذکرہ آیا ہے، انگلش میں اسی کو ،،Moon,, کہا جاتا ہے، اس میں بایک وقت دو حرکتیں موجود ہیں ایک تبعی حرکت جس سے ہم روزانہ اس کے طلوع اور غروب کے مناظر کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں، دوسری حرکت طبعی ہے اسی کی وجہ سے چاند کی اشکال مختلفہ مثلا ہلال، تربیع، بدر ،کسوف، خسوف، اور محاق کا وجود ہے، ہماری زمیں کی طرح یہ چاند بھی ایک کرہ ہے، لیکن زمین سے چھوٹا ہے۔
2۔ دوسرا استفسار یہ ہے کہ:اس کا تاریک حصہ کون سا ہے ! اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے بالخصوص ان دو باتوں کو ملحوظِ خاطر رکھیں جو آج کل زیادہ تر میڈیا کی سرخی بنتی نظر آ رہی ہیں، یعنی قطبِ جنوبی اور تاریک حصہ شاید کے آپ نے بھی ملاحظہ کیاہے کہ جب چندریان 3 چاند پر اترا تو وہاں اجالا تھا رات کی طرح تاریکی نہیں تھی، اور نہ ہی سورج کی دھوپ نظر آئی، یہی وجہ ہے کہ لینڈر کا صاف سایہ بھی ظاہر نہ ہوا، وہاں کا حال بالکل اسی طرح تھا جس طرح غروبِ آفتاب کے وقت ہماری زمین کی حالت نظر آتی ہے، جبکہ لینڈنگ کے تاریک حصہ میں ہونے کا دعوٰی سبھی اخباروں کا ہے، جیسے وہاں دن کی دھوپ نظر نہیں آرہی تھی اسی طرح رات کی تاریکی کا بھی دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے ماہر سائنسدانوں نے لینڈنگ کے لئے ایسے وقت کو منتخب کیا تھا جب ہندوستان کا سورج غروب ہونے جا رہا تھا حالانکہ صفر المظفر کی وہ ساتویں تاریخ تھی جس تاریخ میں چاند حالتِ تربیع میں ہوتاہے، اور وہ بھی تربیعِ ایمن میں اس کی منزل مدار کے ربعِ ثانی میں تھی، اس لئے غروبِ آفتاب کے وقت وہ ہندوستان کے سر پر تھا بلکہ درمیانِ ہند کے نصف النہار کی قوسِ بالائی تک رسائی کی جد و جہد میں مصروف تھا۔
اب ادھر توجہ کریں کہ سورج کی کرنیں جہاں تک وصل کرے وہاں تک چاند پر دن نظر آئیگا، اس لئے کہ قرصِ شمس نصف قمر کو ہمیشہ روشن رکھتا ہے، گرچہ ہم مکمل منور حصہ کا مشاہدہ صرف چودہ تاریخ کو ہی کر سکتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کا جو نصف حصہ منور ہے اس نصف کی آخری مدور سرحد پر ایک ایسا دائرہ فرض کیا جاتا ہے جس کے حصار میں پورا نصف منور حصہ داخل ہے ، اہل نجوم نے اسی سرحدی دائرہ کا نام دائرہ نوریہ رکھا ہے اس دائرہ نے چاند کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ایک حصہ آفتاب کی طرف دوسرا اس کی سمت مقابل میں، سورج کی کرنوں کی طرح ہماری آنکھوں کی شعاعوں نے بھی اس چاند کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اس کی وجہ سے ایک حصہ ہمیشہ ہماری طرف ہوتا ہے جبکہ دوسرا سمتِ مخالف میں، یہاں بھی دائرہ نوریہ کی طرح ایک اور فرضی دائرہ موجود ہے جو حصئہ مرئی اور غیر مرئی کے مابین مفروض ہے، اس کا نام دائرہ رویت ہےمہینہ میں دو بار دائرہ نوریہ اور دائرہ رویت کا انطباق بھی ہو سکتاہے اور یہ انطباق صرف چودہ، اٹھائیس، اور انتیس تاریخوں میں ہی متصور ہے، چودہ تاریخ میں بالاشتراک دونوں دائروں کا قبضہ ایک ہی حصہ میں ہوتاہے یعنی جو حصہ منور ہے وہی مرئی بھی ہے جبکہ28،یا 29، تاریخ میں چاند کے ایک حصہ پر نور کا دوسرے پر رویت کا قبضہ رہتا ہے، چاند کا اپنے محور پر ایک مکمل دورہ سے وہاں کے دن و رات کا اور اپنے مدار پر ایک دورہ سے مہینہ کا وجود ہے، اور وہاں حرکتِ مداری اور حرکتِ محوری کی مدت ایک ہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرئی حصہ متعین ہے لیکن منور حصہ متعین نہیں، حالتِ انطباق کے علاوہ باقی ایام میں ان دونوں دائروں کے تقاطع سے چاند ہمیشہ چار حصوں میں منقسم رہتاہے جیسا کہ پہلی تاریخ میں ان دونوں کے تقاطع سے چاند پر چار زاویے برآمد ہوئے دو حادہ اور دو منفرجہ ایک منفرجہ پر صرف نور کا قبضہ ہے جبکہ دوسرے منفرجہ پر صرف رویت کا، اور ایک حادہ پر بالاشتراک نور و رویت دونوں کا قبضہ ہے، یہی وہ حصہ ہے جسے ہم پہلی تاریخ کا چاند کہتے ہیں، یہ حادہ مرئی بھی ہے اور منور بھی، اس کے مقابلہ میں جو حادہ ہے وہ ان دونوں دائروں کی دسترس سے باہر ہے، یہ نہ منور ہے اور نہ مرئی، اسی میں قطبِ جنوبی واقع ہے۔یہ حصئہ رویت سے خارج تاریک حصہ کا علاقہ ہے، یہاں نور کے مقابلہ میں تاریک نہیں بلکہ رویت کے مقابلہ میں تاریک بولا جاتا ہے، گرچہ یہ علاقہ منور ہو جیسے اٹھائیس تاریخ میں یہ حصہ منور رہتاہے لیکن زمینی رویت سے باہر ہے، لہذا منور ہونے کے باوجود اسے تاریک یعنی غیر مرئی ہی کہا جائےگا۔

3،4، سوال تین اور چار کا جواب

انسان کی رسائی چاند تک ہو سکتی ہے اس میں شرعا کوئی استحالہ ہے اور نہ ہی عقلا ، ہاں وہاں پر انسان کی آباد کاری میں سائنس دانوں کو مایوسی ہوگی، اس لئے کہ چاند پر انسان کی اقامت میں وہ دشواریاں پیس آئینگی جن کے تصور سے ہی ایک عقلمند پر لرزاں طاری ہو جائےگا، جیسے پانی سے نکال کر ایک مچھلی کو خشکی پر چھوڑ نے یا کسی گھریلو جاندار کو پانی کے حوالہ کرنے پر ان دونوں کو جن مشکلات کا سامنا ہوگا ان سے بھی شدید تر دشواریوں کا سامنا اسے ہوگا جو انسان چاند پر اقامت پذیر رہے گا، کہ انسان کو اللہ تعالی نے زمین پر بھیجا ہے نہ کہ چاند یا زحل و مشتری پر ، پھر انسان کی تخلیق کا مقتضٰی زمیں کو آباد کرنا ہے نہ کہ کسی اور سیارے کو، اللہ تعالٰی نے فرمایا انی جائل فی الارض خلیفۃ،، نہ کہ فی القمر اور نہ فی الزحلسائنسدانوں کو یہ دھوکہ ہے کہ ،،ارض،، تو زمین کو کہا جاتا ہے اور اللہ نے جب انسان کو ،،ارض،، میں بھیجا ہے، تو جہاں جہاں زمین ہو وہاں وہاں انسان رہ سکتا ہے جبکہ زمین تو چاند میں بھی ہے زحل میں بھی ہے اور مشتری میں بھی ہے، یہ ان سائنسدانوں کا بہت بڑا مغالطہ ہوگا کہ انھوں نے مٹی کو زمین سمجھ لیا، اور سیاروں میں مٹی ہے اسے زمین نہ سمجھو، اسے تو عربی میں ،،تراب،، کہا جاتا ہے نہ کہ ارض، اور قرآن میں ،فی الارض، ہے نہ کہ فی التراب،
اور سیاروں میں بھی مٹی پائی گئی جیسا کہ زمین میں پائی گئی لیکن زمین صرف یہی مٹی ہے نہ کہ اور سیاروں کی مٹی بھی زمین ہے، لہذا چاند پر مقیم انسان جب تک اس زمین سے توانائی حاصل کرتا رہے گا زندگی کے باقی ایام گزار سکتا ہے اور زمینی اسباب کے انقطاع پر ایسی ایسی دشواریوں کا سامنا ہوگا کہ شاید زندگی کے ایام کا بھی خاتمہ ہوجائے گا کہ قانونِ قدرت میں اقتضائے تخلیق کے خلاف اس نے بیجا جرأت کی ہے لہذا وہاں پر زمینی وسائل کے بغیر انسانوں کی آباد کاری ایک خواب ہی رہے گی۔

5۔ اس میں کچھ دینی شبہات کا اظہار ہے

اور ان میں ہر ایک شبہ مستقل ایک ایک ایسا موضوع ہے جو تفصیل کا متقاضی ہے، اس مختصر مضمون میں جس کی گنجائش نہیں ہے، پھر بھی چند جملے حاضر خدمت ہیں، وہاں اوقاتِ نماز تخمینی ہونگے تحقیقی نہیں، کہ زمینی چودہ دن سے زیادہ مدت کا چاند پر ایک دن ہوتاہے، لہذا پنجوقتہ نماز کے اوقات کا تعین ممکن نہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
5۔ اس میں کچھ دینی شبہات کا اظہار ہے
اور ان میں سے ہر ایک شبہ مستقل ایک ایک ایسا موضوع ہے جو تفصیل کا متقاضی ہے، اس مختصر مضمون میں جس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پھر بھی چند جملے حاضر خدمت ہیں، جہاں تک اوقاتِ نماز کی بات ہے تو واضح ہے کہ وہاں چاند پر اوقاتِ نماز تخمینی ہونگے تحقیقی نہیں، چونکہ زمینی چودہ دن سے زیادہ مدت کا چاند پر ایک دن ہوتاہے، اور اوقات نماز ارضی ہیں نہ کہ قمری، لہذا پنجوقتہ نماز کے اوقات کا تعین قمری آفتاب سے ممکن نہیں،
دوسرا شبہ جہت قبلہ کا ہے ماتقدم سے ظاہر ہے کہ دائرہ رویت نے چاند کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے وہ حصہ جو دائرہ رویت کے حصار میں ہے، وہاں سے زمین صاف نظر آئے گی لہذا جہت زمین ہی وہاں کی جہت قبلہ ہے، اور تاریک حصہ سے چونکہ زمین کا دیدار نہیں ہوگا جس کی وجہ سے استخراج جہت کی حاجت ہوگی، اس پر بھی قادر نہ ہو تو تحری سے کام لیا جائیگا۔
اور جہاں تک رمضان اور حج کا سوال ہے تو لوگ وہاں روزے اور حج پر قادر ہی نہیں ہیں، کہ وہاں کا ایک دن زمینی چودہ دن سے بھی زیادہ طویل ہوگا، اسی طرح حج پر بھی قادر نہیں کہ حج کعبہ بیت اللہ کے پاس ادا کیا جائیگا جو زمین پر ہے نہ کہ چاند پر، ان ساری دشواریوں کے باوجود وہاں کی اقامت کا ارادہ غیر دانشمندانہ ہی ہوگا۔
29/08/23
محمد رفیق الاسلام نوری منظری
جامعہ شکوریہ بلہور کانپور یوپی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفتی رفیق الاسلام مد ظلہ العالی

Guest Contributor | Distinguished Writer & Poet
33
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 4
Kalam 1

اٹھائیس_کا_چاند،اٹھارہ اونٹ اورخواجئہ علم و فن

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں – قطب شمالی کا چھ ماہ نو دن کا دن — ایک فلکیاتی تحقیق

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 60
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢