صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم
از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی
تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا
بریلی شریف 9523788434
گستاخ چار یار تبرائی رافضی
تیرا ٹھکانہ نار تبرائی رافضی
آثار خود بتاتے ہیں سب جھوٹا ہے ترا
مولی علی سے پیار تبرائی رافضی
سن کر تجھی کو نام امیر معاویہ
کیوں ہوتا ہے بخار تبرائی رافضی
اللہ جل جلالہ فرماتا ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ - وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ-وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(سورۃ الفتح آیت 29)
ترجمہ کنز الایمان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے ان کی علامت اُن کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے یہ ان کی صفت توریت میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اُسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے تاکہ اُن سے کافروں کے دل جلیں اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں بخشش اور بڑے ثواب کا۔
اسی آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے
﴿لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ وَمِنْ هَذِهِ الْآيَةِ انْتَزَعَ الْإِمَامُ مَالِكٌ -رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ-بِتَكْفِيرِ الرَّوَافِضِ الَّذِينَ يُبْغِضُونَ الصَّحَابَةَ، قَالَ: لِأَنَّهُمْ يَغِيظُونَهُمْ، وَمَنْ غَاظَ الصَّحَابَةُ فَهُوَ كَافِرٌ لِهَذِهِ الْآيَةِ. وَوَافَقَهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى ذَلِكَ.
حضرت امام رضی اللہ عنہ نے روافض کی تکفیر کی یہی بتائی کہ وہ صحابہ سے دشمنی کرتے ہیں اور ان سے جلتے ہیں اور جو صحابہ سے جلے تو وہ کافر ہے اور علما کی ایک جماعت نے اس کی موافقت کی
نسيم الرياض جلد چهارم ص ۵۶۹
ابو ذر غفاری حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ۔ کہ انہوں نے عبید اللہ بن عمر کی زبان کاٹنے کی نذرمانی یعنی یہ کام اپنے لیے لازم کر لیا ۔ لوگوں نے اس بارے میں ان سے گفتگو گی۔ اور کہا کہ معاف کر دیا جائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا۔ مجھے چھوڑ دو۔ اور اس کی زبان کاٹنے دو۔ یہاں تک اس کے بعد کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی دینے کی جراءت نہ کرے۔
اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوتے تو کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گستاخ کی زبان کاٹی نہیں جاتی ؟ سزائیں نہیں دیں جاتیں ؟ ضرور زبان کاٹ کر نشان عبرت بنا دیا جاتا
يعقوب بن إسحاق البغدادي، سمعت هارون الحمال يقول: سمعت أحمد بن حنبل، وأتاه رجل فقال : يا أبا عبد الله : إن ههنا رجل يفضل عمر بن عبد العزيز على معاوية بن ابی سفیان فقال أحمد: لا تجالسه، ولا تؤاكله، ولا تشاربه، وإذا مرض فلا تعده
[الذیل علی طبقات الحنابلہ جلد 3]
دیکھیے امام احمد بن حنبل اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر حضرت عمر بن عبد العزیز کو فضیلت دی تو تم اس کے پاس مت بیٹھو اس کے ساتھ مت کھاؤ مت پیو بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کو مت جاؤ
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ اس شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی نہیں دی طعن و تشنیع نہیں کی فقط عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ پر فوقیت دی تو امام احمد بن حنبل نے اس سے قطع تعلق کا حکم دیا تو بتائیے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی دے طعن و تشنیع کرے اس کا کتنا سخت حکم ہوگا ؟
فتاوی فیض الرسول میں ہے
امیر معاویہ پر زبان طعن دراز کرنے والا جہنمی کتا ہو جاتا ہے
[فتاوی فیض الرسول جلد اول ص 148]
بعض حضرات حضرت علی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فرمان عالی شان اخواننا بغوا علینا کی آڑ میں حضرت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی کہتے ہیں حالانکہ باغی جو معنی فی زماننا ہند میں رائج ہے اس معنی کی بغاوت حضرت علی کے رضی اللہ عنہ کے فرمان میں نہیں ہے بلکہ وہاں اس کا معنی امیر کے خلاف خروج کرنا ہے
اللہ کریم نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے کہ
وَ عَصٰى آدَمُ رَبَّهُ فغوی
اس آیت کا ترجمہ علما نے اس طرح فرمایا ہے کہ آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی۔ (ترجمہ کنز الایمان از اعلیٰ حضرت)
حالاں کہ قرآن کے اصل الفاظ عصی اور غوی ہیں۔ عصی کا لفظی معنی ہے: نافرمان ہوا، اور غوی کا لفظی معنی ہے گم راہ ہوا۔
کیا کوئی یہ جرات کر سکتا ہے کہ جس طرح اس نے حضرت امیر معاویہ کو بغاوت کے لفظ کی وجہ سے باغی کہا ہے اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کو بھی معاذ الله - عاصی اور غاوی کہہ دے؟
اگر یہاں ہمیں حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت تاویل پر مجبور کر رہی ہے، تو اسی طرح ہمیں بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت اور ان کے فضائل تاویل پر مجبور کر رہے ہیں۔ جسے ہم صحابی کہ رہے ہیں اور بعض حضرات باغی و مرتد ثابت کر رہے ہیں اس کو نبی کریم میں صلی اللہ علیہ وسلم نے مولا علی سے جنگ لڑ چکنے کے بعد مسلمان قرار دیا ہے۔ ( بخاری ۵۳۰/۱)
لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق وہ صحابی ہی تھے، باغی و مرتد نہیں ۔
حضرت عبد الله ابن عباس یہ فرماتے ہیں کہ معاویہ کو کچھ نہ کہو، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے۔ (بخاری ۱/ ۵۳)
لہذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، باغی اور مرتد نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر پار جہاد کرے گا ان پر جنت واجب ہو چکی ہے۔ (بخاری جلد اصفحہ ۳۱۰)
سب سے پہلے سمندر پار جہاد کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں اور اس حدیث میں اُن کی واضح اور زبردست منقبت موجود ہے ۔ اول جیش من امتی یغزون البحر فقد اوجبوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْقَبَةٌ لِمُعَاوِيَةَ ( حاشیه بخاری جلد ا صفحہ ۳۱۰)
لہذا امیر معاویہ جنتی ہے نہ کہ مرتد ۔ اور جو شخص اتنی تصریحات کے باوجود امیر معاویہ پر زبان درازی کرتا ہے، وہ خود باغی ہے اور مرتد ہو کر مرے گا۔ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَد آذنتہ بالحرب
جو اللہ کے ولی سے عداوت رکھتا ہے اس کے خلاف اللہ کا اعلان جنگ ہے۔
ایک اللہ کے ولی نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوبکر عمر، عثمان، علی اور معاویہ رضی اللہ عنھم موجود تھے۔ راشد الکندی نامی ایک شخص آیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شخص ہم میں نقص نکالتا ہے کندی نے کہا یا رسول اللہ میں ان سب میں عیب نہیں نکالتا بل کہ صرف اس ایک معاویہ میں عیب نکالتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا برا ہو کیا یہ میرا صحابی نہیں ہے ؟ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیزہ پکڑا اور معاویہ کو دے دیا اور فرمایا: یہ اس کے سینے میں مارو! انھوں نے اسے نیزہ مار دیا۔ میری آنکھ کھل گئی۔ صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ راشد کندی کو رات کے وقت سچ مچ کسی نے مار دیا ہے۔ ( البدایہ و النهایه جلد ۸ صفحه ۱۴۷)
اس واقعے سے مبغضین امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو درس عبرت لینا چاہیے اور لعن و طعن سے فی الفور تائب ہونا چاہیے لیکن اگر دل میں گستاخی کا مہر لگ چکا ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں
اب تو مبغضین کی جرأت اتنی بڑھ گئی ہے کہ حضرت امیر معاویہ کو کافر و جہمنی کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں یاد رہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کافر کہے وہ خود کافر و زندیق ہے
حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرنے والے کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا مکفر خود کافر ہے من و عن سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہمارے یہاں ایک جماعت بنام حلقہ قادریہ رشیدیہ ہے جس کے ممبران خود کو قادری کہلاتے ہوئے محرم کے مہینہ میں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے غم میں سینہ کوبی کرتے ہیں اور کالا کپڑا سوگ میں پہنتے ہیں اور صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ان کے یہ اقوال ہیں بلکہ ان لوگوں نے اپنی جانب سے ان ہی باتوں پر مشتمل تحریر بھی پیش کی ہے۔ ” معاویہ بے حیاء غدار مردود بلکہ قرآن کے مطابق ظالم، فاسق اور کافر ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسا کہنے والوں کے لئے شرعا کیا حکم ہے؟ اور یہ بتائیں کہ اگر وہ لوگ کسی سے مرید ہو چکے ہوں تو کیا ان کی بیعت بھی فسخ ہو گئی اور اگر پیر بھی اسی عقیدہ کا ہو تو کیا اس پیر سے علیحدگی اور اس سے بیزاری ضروری ہے؟ جواب با تفصیل قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔
مستفتی: سید آل رسول صاحب
الجواب
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول علیہ السلام ہیں اور بشارت عظمی: کلا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى [سوره نساء آیت ۹۵] میں یقینا آپ بھی داخل ہیں ان پر ایسا تبرا کرنے والا خود مکذب قرآن مبین و کافر بے دین ہے۔ اور قرآن پر افترا کرنے والا ہے جو یہ کہتا ہے کہ: معاذ اللہ قرآن کے مطابق ۔ الخ بلکہ ایسوں کے متعلق قرآن فرماتا ہے: ﴿ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ سوره فتح آیت ۲۹]
یعنی اللہ تعالیٰ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے صحابہ سے کافروں کو جلاتا ہے اور واقعی صحابہ سے جلتے ہیں تو محض صحابہ سے جلن ہی ان کے کافر ہونے کے لئے کافی ہے ان پر تبرا مزید دین و اسلام سے ان کی کافر کے لئے کافی ہے ان پر تبرا مزید دین اسلام سے ان کی تبری و بے راہ روی کی دلیل ہے ایسا شخص جب تک تو بہ و تجدید ایمان نہ کرے مسلمان نہیں۔ اور اگر کسی سے سے بیعت تھا تو بیعت فسخ ہوگئی اور نکاح بھی زائل ہو گیا اور پیر اگر ایسا عقیدہ فاسدہ پر ہے تو اس سے تبری و بیزاری ضروری۔ اور اس سے بیعت خود فسخ ہوگئی۔ اسے پیر جاننا منافی ایمان ہے اور ان لوگوں پر جو ایسے عقیدہ والے کو پیر جانیں تجدید ایمان و تجدید نکاح فرض ہے ۔ واللہ تعالی اعلم۔
[فتاوی تاج الشریعہ جلد اول 421]
متذکرہ بالا فتوی میں حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے تکفیر فقہی کی ہے اور یہ جرم ایسا ہے جس میں حاکم اسلام بر بنائے مصلحت چاہے تو کافر فقہی کو قتل بھی کر سکتا ہے لیکن آج کل بعض حضرات کفر فقہی کو اتنا ہلکا سمجھنے لگے ہیں گو ان کے نزدیک یہ کوئی جرم ہی نہیں ہے بس کفر کلامی نہیں ہے کفر فقہی ہے تو ان سے کلام سلام نشست و برخاست ان کے نزدیک بلا تکلف روا ہے معاذ اللہ رب العالمین یاد رہے
من ھوی الکفرۃ فھو معھم من احب قوما حشر اللہ معھم [فتاوی رضویہ جلد ششم ص 89]
جو کافروں سے محبت کرے گا وہ انھیں کے ساتھ ہوگا جو جس قوم کے ساتھ محبت کرے گا اللہ جل و علا اس کا حشر اسی قوم کے ساتھ فرمائے گا تو دیکھ لو تم کس کی ساتھ ہو
جو حضرات کفر فقہی کو بہت ہلکا جرم سمجھتے ہیں میں ان سے ہوچھنا چاہوں گا جن جگہوں پر قضاءََ طلاق ہو جاتی دیانۃ نہیں ہوتی ہے تو کیا تم یہ کہ کر بیوی کے پاس رہوگے اس کے پاس بیٹھو گے کہ ارے قضاءََ ہی تو طلاق ہوئی دیانۃ تھوڑی ہوئی ہے چلو اپنی بیوی سے مل لیتے ہیں؟
کیا کسی نے آج تک اس کی اجازت دی جب ایسا نہیں
تو پھر کافر فقہی شتر بے مہار کیوں چھوڑ دیا جائے گا اور اس کی گرفت کیوں نہیں کی جائے گی؟ کیوں اس کے پاس بیٹھا جائے گا؟ کیوں اس کے ساتھ دوستی نبھائی جائے گی؟
طوق تہذیب فرنگی توڑ ڈالو مومنو
تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیں
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق کیسا عقیدہ رکھنا چاہیے بہار شریعت سے ملاحظہ فرمائیں صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ السامی رقم طراز ہیں
تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔
کسی صحابی کے ساتھ سوئِ عقیدت بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے، کہ وہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بغض ہے، ایسا شخص رافضی ہے، اگرچہ چاروں خلفا کو مانے اور اپنے آپ کو سُنّی کہے، مثلاً حضرت امیرِ معاویہ اور اُن کے والدِ ماجد حضرت ابو سفیان اور والدۂ ماجدہ حضرت ہند، اسی طرح حضرت سیّدنا عَمرو بن عاص، و حضرت مغیرہ بن شعبہ، وحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہم، حتیٰ کہ حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنہوں نے قبلِ اسلام حضرت سیّدنا سید الشہدا حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا اور بعدِ اسلام اَخبث الناس خبیث مُسَیْلِمَہ کذّاب ملعون کو واصلِ جہنم کیا۔ وہ خود فرمایا کرتے تھے :کہ میں نے خیر النّاس و شر النّاس کو قتل کیا، اِن میں سے کسی کی شان میں گستاخی، تبرّا ہے اور اِس کا قائل رافضی، اگرچہ حضراتِ شیخین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی توہین کے مثل نہیں ہوسکتی، کہ ان کی توہین، بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام کے نزدیک کفر ہے۔
[بہار شریعت حصہ اول]
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت پر سختی سے قائم رہیں
مسلک اعلی حضرت وہ ہے جو فتاوی رضویہ سے ظاہر ہے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
بالجملہ ہم اہل حق کے نزدیک حضرت امام بخاری کو حضور پر نور امام اعظم سے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ حضور پر نور امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا و مولنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الاسنی سے کہ فرق مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن اُن پر بھی کار فجار، جو معاویہ کی حمایت میں عیاذ باللہ اسد اللہ کے سبقت واولیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی، اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحابیت و نسبت بارگاه حضرت رسالت بُھلادے وہ شیعی زیدی، یہی روش آداب بحمد الله تعالی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے
ایک دوسری جگہ فتاوی رضویہ میں ہے
امير المومنین مولى على رضى اللہ عنہ سے ابن عساکر کی حدیث ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تكون لاصحابي زلة يغفرها الله لهم لسابقتهم معى ثم يأتى قوم بعد هم يكبهم الله على مناخرهم في النار. ( المعجم الاوسط ، حدیث نمبر ۳۲۴۳ و مجمع الزوائد ۲۳۴/۷)
میرے اصحاب سے لغزش ہو گی جسے اللہ اس سابقہ کے سبب معاف فرمادے گا جو اُن کو میری بارگاہ میں ہے ۔ لیکن پھر ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئیں گے کہ انھیں اللہ تعالیٰ ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا . یہ وہ لوگ ہیں جو صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے۔
اگر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو یہ حدیث اس باب میں حرف اخیر کا درجہ رکھتی ہے اور تمام بھوکنے والوں کا ٹھکانہ متعین کرتی ہے اللہ جل جلالہ معاندین کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارا ایمان پر خاتمہ فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
معاویہ ہیں بحق کاتبِ رسول خدا
انھیں جسیم صحابہ نے مقتدا مانا
جو جنتی ہیں وہ سب کر چکے ہیں صلح مگر
جہنمی میں ابھی جنگ و معرکہ ہے بپا

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم
از قلم: محمد جسیم اکرم مرکزی
تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا
بریلی شریف 9523788434
گستاخ چار یار تبرائی رافضی
تیرا ٹھکانہ نار تبرائی رافضی
آثار خود بتاتے ہیں سب جھوٹا ہے ترا
مولی علی سے پیار تبرائی رافضی
سن کر تجھی کو نام امیر معاویہ
کیوں ہوتا ہے بخار تبرائی رافضی
اللہ جل جلالہ فرماتا ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ - وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَؕ-وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(سورۃ الفتح آیت 29)
ترجمہ کنز الایمان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے ان کی علامت اُن کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے یہ ان کی صفت توریت میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اُسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے تاکہ اُن سے کافروں کے دل جلیں اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں بخشش اور بڑے ثواب کا۔
اسی آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے
﴿لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ وَمِنْ هَذِهِ الْآيَةِ انْتَزَعَ الْإِمَامُ مَالِكٌ -رَحِمَهُ اللَّهُ، فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ-بِتَكْفِيرِ الرَّوَافِضِ الَّذِينَ يُبْغِضُونَ الصَّحَابَةَ، قَالَ: لِأَنَّهُمْ يَغِيظُونَهُمْ، وَمَنْ غَاظَ الصَّحَابَةُ فَهُوَ كَافِرٌ لِهَذِهِ الْآيَةِ. وَوَافَقَهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى ذَلِكَ.
حضرت امام رضی اللہ عنہ نے روافض کی تکفیر کی یہی بتائی کہ وہ صحابہ سے دشمنی کرتے ہیں اور ان سے جلتے ہیں اور جو صحابہ سے جلے تو وہ کافر ہے اور علما کی ایک جماعت نے اس کی موافقت کی
نسيم الرياض جلد چهارم ص ۵۶۹
ابو ذر غفاری حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ۔ کہ انہوں نے عبید اللہ بن عمر کی زبان کاٹنے کی نذرمانی یعنی یہ کام اپنے لیے لازم کر لیا ۔ لوگوں نے اس بارے میں ان سے گفتگو گی۔ اور کہا کہ معاف کر دیا جائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا۔ مجھے چھوڑ دو۔ اور اس کی زبان کاٹنے دو۔ یہاں تک اس کے بعد کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی دینے کی جراءت نہ کرے۔
اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوتے تو کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گستاخ کی زبان کاٹی نہیں جاتی ؟ سزائیں نہیں دیں جاتیں ؟ ضرور زبان کاٹ کر نشان عبرت بنا دیا جاتا
يعقوب بن إسحاق البغدادي، سمعت هارون الحمال يقول: سمعت أحمد بن حنبل، وأتاه رجل فقال : يا أبا عبد الله : إن ههنا رجل يفضل عمر بن عبد العزيز على معاوية بن ابی سفیان فقال أحمد: لا تجالسه، ولا تؤاكله، ولا تشاربه، وإذا مرض فلا تعده
[الذیل علی طبقات الحنابلہ جلد 3]
دیکھیے امام احمد بن حنبل اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر حضرت عمر بن عبد العزیز کو فضیلت دی تو تم اس کے پاس مت بیٹھو اس کے ساتھ مت کھاؤ مت پیو بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کو مت جاؤ
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ اس شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی نہیں دی طعن و تشنیع نہیں کی فقط عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ پر فوقیت دی تو امام احمد بن حنبل نے اس سے قطع تعلق کا حکم دیا تو بتائیے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی دے طعن و تشنیع کرے اس کا کتنا سخت حکم ہوگا ؟
فتاوی فیض الرسول میں ہے
امیر معاویہ پر زبان طعن دراز کرنے والا جہنمی کتا ہو جاتا ہے
[فتاوی فیض الرسول جلد اول ص 148]
بعض حضرات حضرت علی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فرمان عالی شان اخواننا بغوا علینا کی آڑ میں حضرت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی کہتے ہیں حالانکہ باغی جو معنی فی زماننا ہند میں رائج ہے اس معنی کی بغاوت حضرت علی کے رضی اللہ عنہ کے فرمان میں نہیں ہے بلکہ وہاں اس کا معنی امیر کے خلاف خروج کرنا ہے
اللہ کریم نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے کہ
وَ عَصٰى آدَمُ رَبَّهُ فغوی
اس آیت کا ترجمہ علما نے اس طرح فرمایا ہے کہ آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی۔ (ترجمہ کنز الایمان از اعلیٰ حضرت)
حالاں کہ قرآن کے اصل الفاظ عصی اور غوی ہیں۔ عصی کا لفظی معنی ہے: نافرمان ہوا، اور غوی کا لفظی معنی ہے گم راہ ہوا۔
کیا کوئی یہ جرات کر سکتا ہے کہ جس طرح اس نے حضرت امیر معاویہ کو بغاوت کے لفظ کی وجہ سے باغی کہا ہے اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کو بھی معاذ الله - عاصی اور غاوی کہہ دے؟
اگر یہاں ہمیں حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت تاویل پر مجبور کر رہی ہے، تو اسی طرح ہمیں بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت اور ان کے فضائل تاویل پر مجبور کر رہے ہیں۔ جسے ہم صحابی کہ رہے ہیں اور بعض حضرات باغی و مرتد ثابت کر رہے ہیں اس کو نبی کریم میں صلی اللہ علیہ وسلم نے مولا علی سے جنگ لڑ چکنے کے بعد مسلمان قرار دیا ہے۔ ( بخاری ۵۳۰/۱)
لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق وہ صحابی ہی تھے، باغی و مرتد نہیں ۔
حضرت عبد الله ابن عباس یہ فرماتے ہیں کہ معاویہ کو کچھ نہ کہو، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے۔ (بخاری ۱/ ۵۳)
لہذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، باغی اور مرتد نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر پار جہاد کرے گا ان پر جنت واجب ہو چکی ہے۔ (بخاری جلد اصفحہ ۳۱۰)
سب سے پہلے سمندر پار جہاد کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں اور اس حدیث میں اُن کی واضح اور زبردست منقبت موجود ہے ۔ اول جیش من امتی یغزون البحر فقد اوجبوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَنْقَبَةٌ لِمُعَاوِيَةَ ( حاشیه بخاری جلد ا صفحہ ۳۱۰)
لہذا امیر معاویہ جنتی ہے نہ کہ مرتد ۔ اور جو شخص اتنی تصریحات کے باوجود امیر معاویہ پر زبان درازی کرتا ہے، وہ خود باغی ہے اور مرتد ہو کر مرے گا۔ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَد آذنتہ بالحرب
جو اللہ کے ولی سے عداوت رکھتا ہے اس کے خلاف اللہ کا اعلان جنگ ہے۔
ایک اللہ کے ولی نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوبکر عمر، عثمان، علی اور معاویہ رضی اللہ عنھم موجود تھے۔ راشد الکندی نامی ایک شخص آیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شخص ہم میں نقص نکالتا ہے کندی نے کہا یا رسول اللہ میں ان سب میں عیب نہیں نکالتا بل کہ صرف اس ایک معاویہ میں عیب نکالتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا برا ہو کیا یہ میرا صحابی نہیں ہے ؟ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیزہ پکڑا اور معاویہ کو دے دیا اور فرمایا: یہ اس کے سینے میں مارو! انھوں نے اسے نیزہ مار دیا۔ میری آنکھ کھل گئی۔ صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ راشد کندی کو رات کے وقت سچ مچ کسی نے مار دیا ہے۔ ( البدایہ و النهایه جلد ۸ صفحه ۱۴۷)
اس واقعے سے مبغضین امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو درس عبرت لینا چاہیے اور لعن و طعن سے فی الفور تائب ہونا چاہیے لیکن اگر دل میں گستاخی کا مہر لگ چکا ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں
اب تو مبغضین کی جرأت اتنی بڑھ گئی ہے کہ حضرت امیر معاویہ کو کافر و جہمنی کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں یاد رہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کافر کہے وہ خود کافر و زندیق ہے
حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرنے والے کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا مکفر خود کافر ہے من و عن سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہمارے یہاں ایک جماعت بنام حلقہ قادریہ رشیدیہ ہے جس کے ممبران خود کو قادری کہلاتے ہوئے محرم کے مہینہ میں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے غم میں سینہ کوبی کرتے ہیں اور کالا کپڑا سوگ میں پہنتے ہیں اور صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ان کے یہ اقوال ہیں بلکہ ان لوگوں نے اپنی جانب سے ان ہی باتوں پر مشتمل تحریر بھی پیش کی ہے۔ ” معاویہ بے حیاء غدار مردود بلکہ قرآن کے مطابق ظالم، فاسق اور کافر ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسا کہنے والوں کے لئے شرعا کیا حکم ہے؟ اور یہ بتائیں کہ اگر وہ لوگ کسی سے مرید ہو چکے ہوں تو کیا ان کی بیعت بھی فسخ ہو گئی اور اگر پیر بھی اسی عقیدہ کا ہو تو کیا اس پیر سے علیحدگی اور اس سے بیزاری ضروری ہے؟ جواب با تفصیل قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔
مستفتی: سید آل رسول صاحب
الجواب
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول علیہ السلام ہیں اور بشارت عظمی: کلا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى [سوره نساء آیت ۹۵] میں یقینا آپ بھی داخل ہیں ان پر ایسا تبرا کرنے والا خود مکذب قرآن مبین و کافر بے دین ہے۔ اور قرآن پر افترا کرنے والا ہے جو یہ کہتا ہے کہ: معاذ اللہ قرآن کے مطابق ۔ الخ بلکہ ایسوں کے متعلق قرآن فرماتا ہے: ﴿ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ سوره فتح آیت ۲۹]
یعنی اللہ تعالیٰ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے صحابہ سے کافروں کو جلاتا ہے اور واقعی صحابہ سے جلتے ہیں تو محض صحابہ سے جلن ہی ان کے کافر ہونے کے لئے کافی ہے ان پر تبرا مزید دین و اسلام سے ان کی کافر کے لئے کافی ہے ان پر تبرا مزید دین اسلام سے ان کی تبری و بے راہ روی کی دلیل ہے ایسا شخص جب تک تو بہ و تجدید ایمان نہ کرے مسلمان نہیں۔ اور اگر کسی سے سے بیعت تھا تو بیعت فسخ ہوگئی اور نکاح بھی زائل ہو گیا اور پیر اگر ایسا عقیدہ فاسدہ پر ہے تو اس سے تبری و بیزاری ضروری۔ اور اس سے بیعت خود فسخ ہوگئی۔ اسے پیر جاننا منافی ایمان ہے اور ان لوگوں پر جو ایسے عقیدہ والے کو پیر جانیں تجدید ایمان و تجدید نکاح فرض ہے ۔ واللہ تعالی اعلم۔
[فتاوی تاج الشریعہ جلد اول 421]
متذکرہ بالا فتوی میں حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے تکفیر فقہی کی ہے اور یہ جرم ایسا ہے جس میں حاکم اسلام بر بنائے مصلحت چاہے تو کافر فقہی کو قتل بھی کر سکتا ہے لیکن آج کل بعض حضرات کفر فقہی کو اتنا ہلکا سمجھنے لگے ہیں گو ان کے نزدیک یہ کوئی جرم ہی نہیں ہے بس کفر کلامی نہیں ہے کفر فقہی ہے تو ان سے کلام سلام نشست و برخاست ان کے نزدیک بلا تکلف روا ہے معاذ اللہ رب العالمین یاد رہے
من ھوی الکفرۃ فھو معھم من احب قوما حشر اللہ معھم [فتاوی رضویہ جلد ششم ص 89]
جو کافروں سے محبت کرے گا وہ انھیں کے ساتھ ہوگا جو جس قوم کے ساتھ محبت کرے گا اللہ جل و علا اس کا حشر اسی قوم کے ساتھ فرمائے گا تو دیکھ لو تم کس کی ساتھ ہو
جو حضرات کفر فقہی کو بہت ہلکا جرم سمجھتے ہیں میں ان سے ہوچھنا چاہوں گا جن جگہوں پر قضاءََ طلاق ہو جاتی دیانۃ نہیں ہوتی ہے تو کیا تم یہ کہ کر بیوی کے پاس رہوگے اس کے پاس بیٹھو گے کہ ارے قضاءََ ہی تو طلاق ہوئی دیانۃ تھوڑی ہوئی ہے چلو اپنی بیوی سے مل لیتے ہیں؟
کیا کسی نے آج تک اس کی اجازت دی جب ایسا نہیں
تو پھر کافر فقہی شتر بے مہار کیوں چھوڑ دیا جائے گا اور اس کی گرفت کیوں نہیں کی جائے گی؟ کیوں اس کے پاس بیٹھا جائے گا؟ کیوں اس کے ساتھ دوستی نبھائی جائے گی؟
طوق تہذیب فرنگی توڑ ڈالو مومنو
تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیں
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق کیسا عقیدہ رکھنا چاہیے بہار شریعت سے ملاحظہ فرمائیں صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ السامی رقم طراز ہیں
تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔
کسی صحابی کے ساتھ سوئِ عقیدت بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے، کہ وہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بغض ہے، ایسا شخص رافضی ہے، اگرچہ چاروں خلفا کو مانے اور اپنے آپ کو سُنّی کہے، مثلاً حضرت امیرِ معاویہ اور اُن کے والدِ ماجد حضرت ابو سفیان اور والدۂ ماجدہ حضرت ہند، اسی طرح حضرت سیّدنا عَمرو بن عاص، و حضرت مغیرہ بن شعبہ، وحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ تعالیٰ عنہم، حتیٰ کہ حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنہوں نے قبلِ اسلام حضرت سیّدنا سید الشہدا حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا اور بعدِ اسلام اَخبث الناس خبیث مُسَیْلِمَہ کذّاب ملعون کو واصلِ جہنم کیا۔ وہ خود فرمایا کرتے تھے :کہ میں نے خیر النّاس و شر النّاس کو قتل کیا، اِن میں سے کسی کی شان میں گستاخی، تبرّا ہے اور اِس کا قائل رافضی، اگرچہ حضراتِ شیخین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی توہین کے مثل نہیں ہوسکتی، کہ ان کی توہین، بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام کے نزدیک کفر ہے۔
[بہار شریعت حصہ اول]
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت پر سختی سے قائم رہیں
مسلک اعلی حضرت وہ ہے جو فتاوی رضویہ سے ظاہر ہے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
بالجملہ ہم اہل حق کے نزدیک حضرت امام بخاری کو حضور پر نور امام اعظم سے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ حضور پر نور امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا و مولنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الاسنی سے کہ فرق مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن اُن پر بھی کار فجار، جو معاویہ کی حمایت میں عیاذ باللہ اسد اللہ کے سبقت واولیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی، اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحابیت و نسبت بارگاه حضرت رسالت بُھلادے وہ شیعی زیدی، یہی روش آداب بحمد الله تعالی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے
ایک دوسری جگہ فتاوی رضویہ میں ہے
امير المومنین مولى على رضى اللہ عنہ سے ابن عساکر کی حدیث ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تكون لاصحابي زلة يغفرها الله لهم لسابقتهم معى ثم يأتى قوم بعد هم يكبهم الله على مناخرهم في النار. ( المعجم الاوسط ، حدیث نمبر ۳۲۴۳ و مجمع الزوائد ۲۳۴/۷)
میرے اصحاب سے لغزش ہو گی جسے اللہ اس سابقہ کے سبب معاف فرمادے گا جو اُن کو میری بارگاہ میں ہے ۔ لیکن پھر ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئیں گے کہ انھیں اللہ تعالیٰ ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا . یہ وہ لوگ ہیں جو صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے۔
اگر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو یہ حدیث اس باب میں حرف اخیر کا درجہ رکھتی ہے اور تمام بھوکنے والوں کا ٹھکانہ متعین کرتی ہے اللہ جل جلالہ معاندین کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارا ایمان پر خاتمہ فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
معاویہ ہیں بحق کاتبِ رسول خدا
انھیں جسیم صحابہ نے مقتدا مانا
جو جنتی ہیں وہ سب کر چکے ہیں صلح مگر
جہنمی میں ابھی جنگ و معرکہ ہے بپا
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
94
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

سخنِ دل

ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢