صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دہم]
تحقیق و تعاقب

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دہم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط دہم]
[ تِلۡكَ عَشَرَةࣱ كَامِلَةࣱۗ]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
جس نے یہ بکا اگر خدا بھی آئے تو فیصلہ نہ ہو سکے گا ۔ اس پر توبہ و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے۔ اللہ عزو جل احکم الحاکمین ہے ، قادر و مقتدر ہے اور جملہ مذکورہ اللہ عز وجل کی ان صفات کا بظاہر انکار ہے لیکن اس جملہ کی تاویل ہو سکتی ہے، قائل کی مراد فیصلہ سے باہمی تصفیہ ہے، لوگوں کی عداوت کا دور ہونا، مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ ایسے ضدی ہیں کہ خدا کے حکم کو بھی نہیں مانیں گے، اپنی ضد پر اڑے رہیں گے۔ مگر چوں کہ ظاہر معنی کفر ہے ، اس لیے قائل پر تو بہ وتجدید ایمان و نکاح لازم ہے۔ درر و غرر وغیرہ میں ہے:
" وما فيه خلاف يومر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح.
[فتاوی شارح بخاری جلد اول ص : ٢٦٧]
دیکھیے معترض صاحب فقیہ اعظم ہند علامہ شارح بخاری رضی اللہ عنہ نےبظاہر کفر پر کیسا حکم ارشاد فرمایا ہے اب آپ خود دونوں فتوی کو ملا کر دیکھ لیجیے کہ حکم میں کتنا تفاوت ہے؟
اسی لیے فقیر راقم الحروف نے کہا کہ مفتی صاحب کے فتوی کے سیاق و سباق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مفتی صاحب نے مبحوث عنہ شعر کو مباح فرمایا ہے۔ فتأمل
رب الارباب کی تحقیق ـــــــــــــــــــ
اب رہا سوال یہ کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے یہ کیوں فرمایا کہ اللہ جل جلالہ کے لیے رب الارباب کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے؟
اقول:
اس کو سمجھنے سے پہلے قارئین چند باتیں ذہن نشین فرما لیں
عربی میں لفظ رب کے استعمال کی تین قسمیں ہیں:
١ ) لفظ رب کا استعمال بغیر اضافت کے جیسے : قال الرب رب نے کہا / رب نے فرمایا: الرب مالك الكونين، دونوں جہان کا مالک رب ہے، اور یہ خاص ہے اللہ جل جلالہ کے ساتھ، عربی میں بھی کسی کو بغیر اضافت کے رب نہیں کہہ سکتے جیسا کہ تفسیر ابن کثیر میں ہے:
( رب العلمين) والرب هو المالك المتصرف ويطلق في اللغة على السيد و على المتصرف للاصلاح و كل ذالك صحيح في حق الله تعالى ولا يستعمل الرب لغير الله بل بالاضافة تقول رب الدار رب كذا واما الرب فلا يقال الا لله عز وجل [ جلد ا ص ۱۳۱]
علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں:
ولا يطلق غير مضاف الاعلى الله تعالى - [ النہایہ فی غریب الحدیث، ج ۲، ص ۱۷۹]
اور شرح ابن بطال، شرح صحیح بخاری میں ہے:
وأما الرب، فهى كلمة وإن كانت مشتركة، وتقع على غير الخالق للشىء، كقولهم: رب الدار، ورب الدابة، يراد صاحبهما، فإنها لفظة تختص بالله فى الأغلب والأكثر، فوجب أن لا تستعمل فى المخلوقين، لنفى الشركة بينهم وبين الله، ألا ترى أنه لا يجوز أن يقال لأحد غير الله: إله، ولا رحمن، ويجوز أن يقال له: رحيم؛ لاختصاص الله بهذين الاسمين، فكذلك الرب لا يقال لغير الله.
[شرح صحيح البخارى لابن بطال - المجلد ٧ - الصفحة ٦٨- جامع الكتب الإسلامية]
رہی بات لفظ رب کی تو لفظ رب اگر چہ مشترک ہے اور خالق کے علاوہ دوسرے کے لیے بھی بولا جاتا ہے جیسے عرب کا قول: رب الدار، و رب الدابۃ، ان سے مراد ان کا مالک ہے لیکن زیادہ تر غالب استعمال میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے تو ضروری ہے کہ مخلوق کے لیے اس کا استعمال نہ کیا جائے، خالق اور مخلوق کے درمیان شرکت کی نفی ہو جائے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ کے سوا کسی کے لیے الہ، رحمان کہنا جائز نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ رحیم کہا جاتا ہے کیونکہ الہ، رحمان یہ دونوں اسم خاص ہے اللہ جل جلالہ کے ساتھ تو ایسے ہی رب غیر اللہ کے لیے نہیں کہا جائے گا
٢) عربی میں لفظ رب کا استعمال بالاضافت ذوی العقول کے ساتھ مکروہ ہے
٣) عربی میں لفظ رب کا استعمال غیر ذوی العقول کے ساتھ بلا کراہت جائز ہے
جیسا کہ الاذکار من کلام سید الابرار میں امام نووی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
قال العلماء: وإنما كره للمملوك أن يقول لمالكه : (ربي) لأن في لفظه مشاركة لله تعالى في الربوبية. وأما حديث: حتى يلقاها ربها ورب الصريمة وما في معناهما فإنما استعمل لأنها غير مكلفة، فهي كالدار والمال، ولا شك أنه لا كراهة في قول (رب المال) و (رب الدار).
[ الاذکار من کلام سید الابرار للامام النووی ص : ٤٠٢ ]
معجم اللغۃ العربیہ المعاصرہ میں ہے:
رب:
[مفرد]: ج أرباب (لغير المصدر) و رُبوب (لغير المصدر)، مؤ: ربَّة (لغير المصدر)، ج مؤ: ربّات (لغير المصدر) ورِباب (لغير المصدر)
مصدر رَبَّ:
سيِّد، مالك الشّيء
إذا كان ربُّ البيت بالدُّفِّ ضاربًا ... فشيمة أهل البيت كُلِّهم الرَّقصُ-
{أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا}

ارباب الحلّ والرَّبط: أصحاب السلطة وأولياؤها- ربَّات الشِّعر: العبقريَّة أو المقدرات الكبرى التي يتَّصف بها فنَّان أدبيّ- ربُّ العمل: صاحبه الذي له مكاسبه وعليه مخاطره- ربُّ المال/ ربُّ النِّعمة: صاحبه/ وليّه- ربَّة المنزل: التي تدبر حاجاته وتصرِّف أمره- مِنْ أرباب الدّيون: ممَّن يُكثر الاستدانة- مِنْ أرباب السَّوابق: ممَّن سبق عليه الحكم في قضيَّة ما- مِنْ أرباب المعاشات: ممَّن تقاعدوا عن العمل ويتقاضون راتبًا.
إله: {ءَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ}.
• الرَّبُّ: اسم من أسماء الله الحسنى، ومعناه: السَّيِّد، المالِك المتصرِّف في مخلوقاته بإرادته، والمُبلِغ كُلّ ما أبدع حدَّ كماله الذي قدَّره له، ولا يقال لغيره تعالى: الربّ بالإطلاق، بل بالإضافة {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}- {قُلْ أَغَيْرَ اللهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ}
ربُّ الأرباب: الله تعالى- ربَّاه: نداء بتضرُّع وتذلُّل- لَقِي ربَّه: مات، توفّي- يا ربِّي: أسلوب نداء للتعجُّب.انتھی
[معجم اللغة العربية المعاصرة - المجلد ٢ - الصفحة ٨٤٢ - جامع الكتب الإسلامية]
رب کی جمع ارباب اور ربوب ہے اور اس کی مونث ربۃ جمع ربات اور رباب ہے
رب کا معنی سردار، اور مالک ہے
جیسا کہ شاعر کا قول ہے:
إذا كان ربُّ البيت بالدُّفِّ ضاربًا ۔۔ فشيمة أهل البيت كُلِّهم الرَّقصُ-
جب گھر کا مالک ہی دف بجائے گا تو ظاہر ہے گھر والے رقص کریں گے ہی
اور اللہ تعالیٰ کا قول: {أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا}رہا تم دونوں میں سے ایک تو وہ اپنے بادشاہ کو شراب پلائے گا
ارباب الحل و الربط: یعنی صاحب اقتدار صاحب اختیار لوگ
ربات الشعر: جنھیں ادب میں اپنی صلاحیتوں کی کی وجہ سے بلند اقبالیاں حاصل ہوں ایسے ہی رب العمل، رب المال، رب النعمۃ ربۃ المنزل،
ارباب الدیون: جو کثرت سے قرض لیتے ہوں۔
ارباب السوابق: جن کا پہلے سے کسی مقدمے میں فیصلہ ہو چکا ہو
ارباب المعاشات : جنھیں وظیفے ملتے ہوں
اور لفظ رب اللہ جل جلالہ کے اسماء حسنی میں سے ایک ہے
قال اللہ تعالیٰ : {قلْ أَغَيْرَ اللهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ} الرب کا اطلاق بغیر اضافت کے اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے
رب الارباب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہے، رباہ عاجزی اور انکساری کے ساتھ رب کو پکارنے کے لیے بولا جاتا ہے، لقی ربہ یعنی وہ وفات پا گیا، یا ربی یہ اسلوب ندا ہے تعجب کے لیے۔
جب آپ اسے سمجھ گئے تو آتے ہیں جواب کی طرف کہ رب الارباب اللہ جل جلالہ کو کیوں بولا جاتا ہے؟
شرح ابن بطال وغیرہ کے حوالے سے گزرا کہ لفظ رب مشترک ہے خالق و مخلوق کے درمیان نیز قرآن اقدس کی ساری مثالوں سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ بغیر اضافت رب کا اطلاق غیر اللہ کے لیے جائز نہیں جس پر فقہا کرام کے تائیدی اقتباسات بھی آپ حضرات ملاحظہ فرما چکے ہیں
جن سے یہ واضح ہوا کہ عربی میں مخلوق پر ارباب الدیون ارباب الحل و الربط ارباب المعاشات ارباب السوابق کا بالاضافت اطلاق ہوتا ہے اور یہاں ارباب صاحب وغیرہ کے معنی میں آتا ہے
اب جو ارباب الدیون وغیرہ کا مضاف الیہ ہے اسے حذف کر دیجیے تو بچے گا ارباب اور اس سے پہلے لفظ رب مضاف لائیے تو ہو جائے گا رب ارباب اب جو مضاف الیہ کو حذف کیے تو اس مضاف الیہ کا عوض الف لام لے آئیے اور مضاف الیہ ارباب کو دے دیجیے تو ہو جائے گا رب الارباب یعنی رب اربابِ الدیون/ رب ارباب الحل و الربط / رب اربابِ المعاشات وغیرھم
اب سوال یہ ہوگا کہ کیا اس طرح مضاف الیہ کو حذف کر کے اس کے عوض میں الف لام لانا جائز ہے ؟
تو اس کا جواب طلبا پر بھی بخوبی ظاہر ہے کہ بسا اوقات مضاف الیہ کو حذف کر دیتے ہیں اور اس کے عوض میں مضاف پر الف لام بطور عوض لاتے ہیں
دیکھیے : مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب میں امام ابن ہشام فرماتے ہیں :
أجاز الكوفيون وبعض البصريين وكثير من المتأخرين نيابة أل" عن الضمير المضاف إليه ، وخَرَجُوا على ذلك ( فإنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى) ومررت برجل حَسَنٍ الوَجْهُ و ضُرِبَ زَيْدُ الظَّهْرُ والبَطْنُ إذا رفع الوجه والظهر والبطن والمانعون يقدرون هي المأوى له ، والوجه منه، والظهر والبطن منه [في الأمثلة] وقيد ابن مالك الجواز بغير الصلة. وقال الزمخشري في وعَلَّمَ آدَمَ الأسْمَاءَ كُلَّها : إن الأصل أسماء المسميات، وقال أبو شامة في قوله :
بَدَأَتُ بِبِسْمِ اللهِ فِي النَّظم أولا
إن الأصل في نظمي، فجوزا نيابتها عن الظاهر وعن ضمير الحاضر، والمعروف من كلامهم إنما هو التمثيل بضمير الغائب ."
[مغنی اللبیب ص : ٦٥]
کوفی اور بعض بصری اور بہت سے متاخرین نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ الف لام مضاف الیہ کی ضمیر کے قائم مقام ہو جائے گا جیسے ( فإنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى) اور مررت برجل حسن الوجہ و ضرب زید الظھر و البطن جب الوجہ، الظھر، البطن کو مرفوع پڑھا جائے تو ان کے نزدیک الف لام مضاف الیہ کے ضمیر کے قائم مقام ہوگا
البتہ جو نحویین اس کے قائل نہیں ہیں وہ محذوف ضمیر مقدر مانتے ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ اصل میں فإنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى له الوجہ منه و الظھر و البطن منه تھا
اور ابن مالک نے اس کے جواز کو بغیر صلہ کے ساتھ مقید کیا ہے اور زمخشری نے کہا: وعَلَّمَ آدَمَ الأسْمَاءَ كُلَّها میں کہ اس کی اصل اسماء المسمیات ہے اور ابو شامہ نے اپنے قول میں کہا :
بدَأَتُ بِبِسْمِ اللهِ فِي النَّظم أولا
یہ اصل میں فی نظمی ہے تو زمخشری اور ابو شامہ نے ال کے ظاہر اسم اور ضمیرِ حاضر کے قائم مقام ہونے کو بھی جائز قرار دیا ہے، حالانکہ اہلِ نحو کے کلام میں معروف اس کی مثال ضمیرِ غائب کے ساتھ ہے۔
ایسے ہی الالف و اللام فی کلام العرب میں ہے :
أجاز الزمخشرى أن تكون أل عوضا من الاسم الظاهر ، وعلى ذلك خرج قول الله تعالى : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء كُلَّهَا حيث نص على أن الأصل : وَعَلَّمَ آدَمَ أَسْمَاءَ الْمُسَمِّيَاتِ فحذف المضاف إليه لكونه معلوما ؛ مدلولا عليه بكلمة أَسْمَاء ؛ إذ إن الاسم لابد له من مسمى ، ثم عوض من المضاف إليه المحذوف الألف واللام
{الالف و اللام فی کلام العرب ص ٥٦}
معلوم ہوا کہ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء كُلَّهَا اصل میں وعَلَّمَ آدَمَ أَسْمَاء المسمیات كُلَّهَا ہے مسمیات کے عوض میں الف لام اسما پر ہے ایسے ہی اللہ جل جلالہ کا فرمان:
وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا [مريم ٢-٤]
یہ اصل میں وَاشْتَعَلَ رأْسُ زکریا شَيْبًا ہے زکریا مضاف الیہ کو حذف ہو کر اس کے عوض میں الف لام آیا ہے
تو ایسے ہی رب الارباب ہے کہ الارباب میں الف لام مضاف الیہ کے عوض میں ہے لہذا یہ اشکال پیدا کرنا کہ یہاں ارباب آیا ہے مطلقا اور ارباب رب کی جمع ہے لہذا غیر اللہ کو اس دلیل سے رب بولنا جائز ہوگا نیز اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا اس سے در حقیقت عربی قواعد کو یکسر پس پشت ڈالنا ہوگا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے رب الارباب سے یہ نہیں فرمایا کہ بندوں کو اردو میں بھی رب بولنا جائز ہوگا بلکہ آیات کے تناظر میں اس بات کا استدلال فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کو رب الارباب بولنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ ہے تمام ارباب کا رب اب وہ خواہ ارباب الدیون ہو یا ارباب المعاشات ہو یا ارباب الحل و العقد
نیز یہ بحث رب الارباب عربی لفظ سے متعلق ہے نہ کہ اردو سے کیونکہ جب رب کا استعمال غیر اللہ کے لیے اردو میں کرنے کی بات آئی تو خود حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے اسے کفر قرار دیا جس کا تذکرہ ماقبل میں تفصیلا گزر چکا
تو ثابت ہوا کہ مفتی صاحب کا اس فتویٰ سے اردو میں رب کے استعمال پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے یہ مفتی صاحب کا واضح تسامح ہے جس کا انکشاف قارئین پر ہو چکا
اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ پھر رب المال/ رب الدار/ رب السلم/ وغیرہ کا استعمال کیونکر جائز ہے تو اس کا جواب بھی ہو چکا کہ یہ غیر ذوی العقول کی طرف مضاف ہے اور امام نووی اور دیگر فقہا محدثین کی تصریحات کے مطابق یہ بلا کراہت جائز ہے
اس کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ لفظ خدا کا استعمال صرف اللہ جل جلالہ کے لیے خاص ہے غیر کے لیے کرنا کفر ہے جس کی تصریحات گزر چکیں لیکن کسی کو ترکیب کے ساتھ کہنا جیسے : ناخدا یعنی ملاح/ کشتی چلانے والا
با خدا یعنی متقی، پرہیز گار / پارسا
تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ فارسی زبان کے الفاظ فارسی میں جیسے تھے ویسے ہی رکھے گئے اور نہ بوقت ترکیب اس سے خدا مراد لینے پر کوئی عرف ہے
ایسے ہی لفظ رب اردو میں صرف اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے لیکن اگر کوئی رب المال، رب السلم بولے تو کوئی قباحت نہیں ہوگی کیونکہ یہ عربی میں فقہی ابواب کی اصطلاحات ہیں جو اردو میں رائج ہیں لیکن اردو مین اضافت کے ساتھ اگر کوئی یوں بولے کہ خالد ہمارا رب، تمہارا رب ، آسمان کا رب ہے ، زید زمین کا رب ہے تو یہ ضرور کفر ہوگا۔ فتدبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دہم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط دہم]
[ تِلۡكَ عَشَرَةࣱ كَامِلَةࣱۗ]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
جس نے یہ بکا اگر خدا بھی آئے تو فیصلہ نہ ہو سکے گا ۔ اس پر توبہ و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے۔ اللہ عزو جل احکم الحاکمین ہے ، قادر و مقتدر ہے اور جملہ مذکورہ اللہ عز وجل کی ان صفات کا بظاہر انکار ہے لیکن اس جملہ کی تاویل ہو سکتی ہے، قائل کی مراد فیصلہ سے باہمی تصفیہ ہے، لوگوں کی عداوت کا دور ہونا، مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ ایسے ضدی ہیں کہ خدا کے حکم کو بھی نہیں مانیں گے، اپنی ضد پر اڑے رہیں گے۔ مگر چوں کہ ظاہر معنی کفر ہے ، اس لیے قائل پر تو بہ وتجدید ایمان و نکاح لازم ہے۔ درر و غرر وغیرہ میں ہے:
" وما فيه خلاف يومر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح.
[فتاوی شارح بخاری جلد اول ص : ٢٦٧]
دیکھیے معترض صاحب فقیہ اعظم ہند علامہ شارح بخاری رضی اللہ عنہ نےبظاہر کفر پر کیسا حکم ارشاد فرمایا ہے اب آپ خود دونوں فتوی کو ملا کر دیکھ لیجیے کہ حکم میں کتنا تفاوت ہے؟
اسی لیے فقیر راقم الحروف نے کہا کہ مفتی صاحب کے فتوی کے سیاق و سباق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مفتی صاحب نے مبحوث عنہ شعر کو مباح فرمایا ہے۔ فتأمل
رب الارباب کی تحقیق ـــــــــــــــــــ
اب رہا سوال یہ کہ حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے یہ کیوں فرمایا کہ اللہ جل جلالہ کے لیے رب الارباب کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے؟
اقول:
اس کو سمجھنے سے پہلے قارئین چند باتیں ذہن نشین فرما لیں
عربی میں لفظ رب کے استعمال کی تین قسمیں ہیں:
١ ) لفظ رب کا استعمال بغیر اضافت کے جیسے : قال الرب رب نے کہا / رب نے فرمایا: الرب مالك الكونين، دونوں جہان کا مالک رب ہے، اور یہ خاص ہے اللہ جل جلالہ کے ساتھ، عربی میں بھی کسی کو بغیر اضافت کے رب نہیں کہہ سکتے جیسا کہ تفسیر ابن کثیر میں ہے:
( رب العلمين) والرب هو المالك المتصرف ويطلق في اللغة على السيد و على المتصرف للاصلاح و كل ذالك صحيح في حق الله تعالى ولا يستعمل الرب لغير الله بل بالاضافة تقول رب الدار رب كذا واما الرب فلا يقال الا لله عز وجل [ جلد ا ص ۱۳۱]
علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں:
ولا يطلق غير مضاف الاعلى الله تعالى - [ النہایہ فی غریب الحدیث، ج ۲، ص ۱۷۹]
اور شرح ابن بطال، شرح صحیح بخاری میں ہے:
وأما الرب، فهى كلمة وإن كانت مشتركة، وتقع على غير الخالق للشىء، كقولهم: رب الدار، ورب الدابة، يراد صاحبهما، فإنها لفظة تختص بالله فى الأغلب والأكثر، فوجب أن لا تستعمل فى المخلوقين، لنفى الشركة بينهم وبين الله، ألا ترى أنه لا يجوز أن يقال لأحد غير الله: إله، ولا رحمن، ويجوز أن يقال له: رحيم؛ لاختصاص الله بهذين الاسمين، فكذلك الرب لا يقال لغير الله.
[شرح صحيح البخارى لابن بطال - المجلد ٧ - الصفحة ٦٨- جامع الكتب الإسلامية]
رہی بات لفظ رب کی تو لفظ رب اگر چہ مشترک ہے اور خالق کے علاوہ دوسرے کے لیے بھی بولا جاتا ہے جیسے عرب کا قول: رب الدار، و رب الدابۃ، ان سے مراد ان کا مالک ہے لیکن زیادہ تر غالب استعمال میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے تو ضروری ہے کہ مخلوق کے لیے اس کا استعمال نہ کیا جائے، خالق اور مخلوق کے درمیان شرکت کی نفی ہو جائے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ کے سوا کسی کے لیے الہ، رحمان کہنا جائز نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ رحیم کہا جاتا ہے کیونکہ الہ، رحمان یہ دونوں اسم خاص ہے اللہ جل جلالہ کے ساتھ تو ایسے ہی رب غیر اللہ کے لیے نہیں کہا جائے گا
٢) عربی میں لفظ رب کا استعمال بالاضافت ذوی العقول کے ساتھ مکروہ ہے
٣) عربی میں لفظ رب کا استعمال غیر ذوی العقول کے ساتھ بلا کراہت جائز ہے
جیسا کہ الاذکار من کلام سید الابرار میں امام نووی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
قال العلماء: وإنما كره للمملوك أن يقول لمالكه : (ربي) لأن في لفظه مشاركة لله تعالى في الربوبية. وأما حديث: حتى يلقاها ربها ورب الصريمة وما في معناهما فإنما استعمل لأنها غير مكلفة، فهي كالدار والمال، ولا شك أنه لا كراهة في قول (رب المال) و (رب الدار).
[ الاذکار من کلام سید الابرار للامام النووی ص : ٤٠٢ ]
معجم اللغۃ العربیہ المعاصرہ میں ہے:
رب:
[مفرد]: ج أرباب (لغير المصدر) و رُبوب (لغير المصدر)، مؤ: ربَّة (لغير المصدر)، ج مؤ: ربّات (لغير المصدر) ورِباب (لغير المصدر)
مصدر رَبَّ:
سيِّد، مالك الشّيء
إذا كان ربُّ البيت بالدُّفِّ ضاربًا ... فشيمة أهل البيت كُلِّهم الرَّقصُ-
{أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا}

ارباب الحلّ والرَّبط: أصحاب السلطة وأولياؤها- ربَّات الشِّعر: العبقريَّة أو المقدرات الكبرى التي يتَّصف بها فنَّان أدبيّ- ربُّ العمل: صاحبه الذي له مكاسبه وعليه مخاطره- ربُّ المال/ ربُّ النِّعمة: صاحبه/ وليّه- ربَّة المنزل: التي تدبر حاجاته وتصرِّف أمره- مِنْ أرباب الدّيون: ممَّن يُكثر الاستدانة- مِنْ أرباب السَّوابق: ممَّن سبق عليه الحكم في قضيَّة ما- مِنْ أرباب المعاشات: ممَّن تقاعدوا عن العمل ويتقاضون راتبًا.
إله: {ءَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ}.
• الرَّبُّ: اسم من أسماء الله الحسنى، ومعناه: السَّيِّد، المالِك المتصرِّف في مخلوقاته بإرادته، والمُبلِغ كُلّ ما أبدع حدَّ كماله الذي قدَّره له، ولا يقال لغيره تعالى: الربّ بالإطلاق، بل بالإضافة {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}- {قُلْ أَغَيْرَ اللهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ}
ربُّ الأرباب: الله تعالى- ربَّاه: نداء بتضرُّع وتذلُّل- لَقِي ربَّه: مات، توفّي- يا ربِّي: أسلوب نداء للتعجُّب.انتھی
[معجم اللغة العربية المعاصرة - المجلد ٢ - الصفحة ٨٤٢ - جامع الكتب الإسلامية]
رب کی جمع ارباب اور ربوب ہے اور اس کی مونث ربۃ جمع ربات اور رباب ہے
رب کا معنی سردار، اور مالک ہے
جیسا کہ شاعر کا قول ہے:
إذا كان ربُّ البيت بالدُّفِّ ضاربًا ۔۔ فشيمة أهل البيت كُلِّهم الرَّقصُ-
جب گھر کا مالک ہی دف بجائے گا تو ظاہر ہے گھر والے رقص کریں گے ہی
اور اللہ تعالیٰ کا قول: {أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا}رہا تم دونوں میں سے ایک تو وہ اپنے بادشاہ کو شراب پلائے گا
ارباب الحل و الربط: یعنی صاحب اقتدار صاحب اختیار لوگ
ربات الشعر: جنھیں ادب میں اپنی صلاحیتوں کی کی وجہ سے بلند اقبالیاں حاصل ہوں ایسے ہی رب العمل، رب المال، رب النعمۃ ربۃ المنزل،
ارباب الدیون: جو کثرت سے قرض لیتے ہوں۔
ارباب السوابق: جن کا پہلے سے کسی مقدمے میں فیصلہ ہو چکا ہو
ارباب المعاشات : جنھیں وظیفے ملتے ہوں
اور لفظ رب اللہ جل جلالہ کے اسماء حسنی میں سے ایک ہے
قال اللہ تعالیٰ : {قلْ أَغَيْرَ اللهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ} الرب کا اطلاق بغیر اضافت کے اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے
رب الارباب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہے، رباہ عاجزی اور انکساری کے ساتھ رب کو پکارنے کے لیے بولا جاتا ہے، لقی ربہ یعنی وہ وفات پا گیا، یا ربی یہ اسلوب ندا ہے تعجب کے لیے۔
جب آپ اسے سمجھ گئے تو آتے ہیں جواب کی طرف کہ رب الارباب اللہ جل جلالہ کو کیوں بولا جاتا ہے؟
شرح ابن بطال وغیرہ کے حوالے سے گزرا کہ لفظ رب مشترک ہے خالق و مخلوق کے درمیان نیز قرآن اقدس کی ساری مثالوں سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ بغیر اضافت رب کا اطلاق غیر اللہ کے لیے جائز نہیں جس پر فقہا کرام کے تائیدی اقتباسات بھی آپ حضرات ملاحظہ فرما چکے ہیں
جن سے یہ واضح ہوا کہ عربی میں مخلوق پر ارباب الدیون ارباب الحل و الربط ارباب المعاشات ارباب السوابق کا بالاضافت اطلاق ہوتا ہے اور یہاں ارباب صاحب وغیرہ کے معنی میں آتا ہے
اب جو ارباب الدیون وغیرہ کا مضاف الیہ ہے اسے حذف کر دیجیے تو بچے گا ارباب اور اس سے پہلے لفظ رب مضاف لائیے تو ہو جائے گا رب ارباب اب جو مضاف الیہ کو حذف کیے تو اس مضاف الیہ کا عوض الف لام لے آئیے اور مضاف الیہ ارباب کو دے دیجیے تو ہو جائے گا رب الارباب یعنی رب اربابِ الدیون/ رب ارباب الحل و الربط / رب اربابِ المعاشات وغیرھم
اب سوال یہ ہوگا کہ کیا اس طرح مضاف الیہ کو حذف کر کے اس کے عوض میں الف لام لانا جائز ہے ؟
تو اس کا جواب طلبا پر بھی بخوبی ظاہر ہے کہ بسا اوقات مضاف الیہ کو حذف کر دیتے ہیں اور اس کے عوض میں مضاف پر الف لام بطور عوض لاتے ہیں
دیکھیے : مغنی اللبیب عن کتب الاعاریب میں امام ابن ہشام فرماتے ہیں :
أجاز الكوفيون وبعض البصريين وكثير من المتأخرين نيابة أل" عن الضمير المضاف إليه ، وخَرَجُوا على ذلك ( فإنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى) ومررت برجل حَسَنٍ الوَجْهُ و ضُرِبَ زَيْدُ الظَّهْرُ والبَطْنُ إذا رفع الوجه والظهر والبطن والمانعون يقدرون هي المأوى له ، والوجه منه، والظهر والبطن منه [في الأمثلة] وقيد ابن مالك الجواز بغير الصلة. وقال الزمخشري في وعَلَّمَ آدَمَ الأسْمَاءَ كُلَّها : إن الأصل أسماء المسميات، وقال أبو شامة في قوله :
بَدَأَتُ بِبِسْمِ اللهِ فِي النَّظم أولا
إن الأصل في نظمي، فجوزا نيابتها عن الظاهر وعن ضمير الحاضر، والمعروف من كلامهم إنما هو التمثيل بضمير الغائب ."
[مغنی اللبیب ص : ٦٥]
کوفی اور بعض بصری اور بہت سے متاخرین نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ الف لام مضاف الیہ کی ضمیر کے قائم مقام ہو جائے گا جیسے ( فإنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى) اور مررت برجل حسن الوجہ و ضرب زید الظھر و البطن جب الوجہ، الظھر، البطن کو مرفوع پڑھا جائے تو ان کے نزدیک الف لام مضاف الیہ کے ضمیر کے قائم مقام ہوگا
البتہ جو نحویین اس کے قائل نہیں ہیں وہ محذوف ضمیر مقدر مانتے ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ اصل میں فإنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى له الوجہ منه و الظھر و البطن منه تھا
اور ابن مالک نے اس کے جواز کو بغیر صلہ کے ساتھ مقید کیا ہے اور زمخشری نے کہا: وعَلَّمَ آدَمَ الأسْمَاءَ كُلَّها میں کہ اس کی اصل اسماء المسمیات ہے اور ابو شامہ نے اپنے قول میں کہا :
بدَأَتُ بِبِسْمِ اللهِ فِي النَّظم أولا
یہ اصل میں فی نظمی ہے تو زمخشری اور ابو شامہ نے ال کے ظاہر اسم اور ضمیرِ حاضر کے قائم مقام ہونے کو بھی جائز قرار دیا ہے، حالانکہ اہلِ نحو کے کلام میں معروف اس کی مثال ضمیرِ غائب کے ساتھ ہے۔
ایسے ہی الالف و اللام فی کلام العرب میں ہے :
أجاز الزمخشرى أن تكون أل عوضا من الاسم الظاهر ، وعلى ذلك خرج قول الله تعالى : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء كُلَّهَا حيث نص على أن الأصل : وَعَلَّمَ آدَمَ أَسْمَاءَ الْمُسَمِّيَاتِ فحذف المضاف إليه لكونه معلوما ؛ مدلولا عليه بكلمة أَسْمَاء ؛ إذ إن الاسم لابد له من مسمى ، ثم عوض من المضاف إليه المحذوف الألف واللام
{الالف و اللام فی کلام العرب ص ٥٦}
معلوم ہوا کہ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء كُلَّهَا اصل میں وعَلَّمَ آدَمَ أَسْمَاء المسمیات كُلَّهَا ہے مسمیات کے عوض میں الف لام اسما پر ہے ایسے ہی اللہ جل جلالہ کا فرمان:
وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا [مريم ٢-٤]
یہ اصل میں وَاشْتَعَلَ رأْسُ زکریا شَيْبًا ہے زکریا مضاف الیہ کو حذف ہو کر اس کے عوض میں الف لام آیا ہے
تو ایسے ہی رب الارباب ہے کہ الارباب میں الف لام مضاف الیہ کے عوض میں ہے لہذا یہ اشکال پیدا کرنا کہ یہاں ارباب آیا ہے مطلقا اور ارباب رب کی جمع ہے لہذا غیر اللہ کو اس دلیل سے رب بولنا جائز ہوگا نیز اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا اس سے در حقیقت عربی قواعد کو یکسر پس پشت ڈالنا ہوگا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے رب الارباب سے یہ نہیں فرمایا کہ بندوں کو اردو میں بھی رب بولنا جائز ہوگا بلکہ آیات کے تناظر میں اس بات کا استدلال فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کو رب الارباب بولنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ ہے تمام ارباب کا رب اب وہ خواہ ارباب الدیون ہو یا ارباب المعاشات ہو یا ارباب الحل و العقد
نیز یہ بحث رب الارباب عربی لفظ سے متعلق ہے نہ کہ اردو سے کیونکہ جب رب کا استعمال غیر اللہ کے لیے اردو میں کرنے کی بات آئی تو خود حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے اسے کفر قرار دیا جس کا تذکرہ ماقبل میں تفصیلا گزر چکا
تو ثابت ہوا کہ مفتی صاحب کا اس فتویٰ سے اردو میں رب کے استعمال پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے یہ مفتی صاحب کا واضح تسامح ہے جس کا انکشاف قارئین پر ہو چکا
اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ پھر رب المال/ رب الدار/ رب السلم/ وغیرہ کا استعمال کیونکر جائز ہے تو اس کا جواب بھی ہو چکا کہ یہ غیر ذوی العقول کی طرف مضاف ہے اور امام نووی اور دیگر فقہا محدثین کی تصریحات کے مطابق یہ بلا کراہت جائز ہے
اس کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ لفظ خدا کا استعمال صرف اللہ جل جلالہ کے لیے خاص ہے غیر کے لیے کرنا کفر ہے جس کی تصریحات گزر چکیں لیکن کسی کو ترکیب کے ساتھ کہنا جیسے : ناخدا یعنی ملاح/ کشتی چلانے والا
با خدا یعنی متقی، پرہیز گار / پارسا
تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ فارسی زبان کے الفاظ فارسی میں جیسے تھے ویسے ہی رکھے گئے اور نہ بوقت ترکیب اس سے خدا مراد لینے پر کوئی عرف ہے
ایسے ہی لفظ رب اردو میں صرف اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے لیکن اگر کوئی رب المال، رب السلم بولے تو کوئی قباحت نہیں ہوگی کیونکہ یہ عربی میں فقہی ابواب کی اصطلاحات ہیں جو اردو میں رائج ہیں لیکن اردو مین اضافت کے ساتھ اگر کوئی یوں بولے کہ خالد ہمارا رب، تمہارا رب ، آسمان کا رب ہے ، زید زمین کا رب ہے تو یہ ضرور کفر ہوگا۔ فتدبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
28
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل [قسط یازدہم]

صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 40

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 35 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
40
زمرجات
ادبیات 75
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 30
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
تاثرات 21
فقہ وفتاویٰ 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 7
رد بدمذہباں 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢