صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مفتیِ_دیوبند_اور_جامعۃ_الرضا_کا_امتحانی_پرچہ
رد دیوبندیت ووہابیت

مفتیِ_دیوبند_اور_جامعۃ_الرضا_کا_امتحانی_پرچہ

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مفتیِ_دیوبند_اور_جامعۃ_الرضا_کا_امتحانی_پرچہ
تحریر___محمد جسیم اکرم مرکزی رابطہ نمبر___9523788434 منجانب_جماعت سابعہ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی ہند
یادگار تاج الشریعہ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی میں ۲۰۲۳ء فروری اور مارچ ۱۴۴۴ھ رجب المرجب و شعبان المعظم کو سالانہ امتحان منعقد ہوا جو بحمدہ تعالیٰ بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا لیکن بعدِ امتحان شوشل میڈیا پر ایوان صلح کلیت و دیوبندیت میں ایک عجیب ہی کھلبلی مچی ہوئی دیکھی۔
اس کھلبلی کی وجہ امام عشق و محبت، امیر کشور فقاہت، کنز الکرامت، جبل الاستقامت، مجدد دین و ملت، عظیم المرتبت، رفیع الدرجت، اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز کی تصنیف لطیف حسام الحرمین علی منحر الکفر و المین کا امتحانی پرچہ تھا
یادگار تاج الشریعہ جامعۃ الرضا میں مطالعہ میں کیسی کیسی نایاب کتب داخل نصاب ہیں اس کو جاننے کے لیے راقم الحروف کی تحریر جامعۃ الرضا اور حسام الحرمین کا مطالعہ فرمائیں
یہاں پر میں صرف مفتیِ دیوبند صاحب کو آئینہ دکھانا چاہوں گا کہ جو باتیں وہ جامعۃ الرضا بریلی شریف کے متعلق کہہ رہے ہیں کیا ان کا دار العلوم دیوبند ان باتوں سے محفوظ ہے؟

مفتیِ دیوبند صاحب کہتے ہیں

معزز ناظرین! اہل سنت و جماعت احناف علمائے حق علمائے دیوبند فرقۂ و ضالہ و باطلہ کے سلسلے میں زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں خاص طور سے اپنے مدرسے میں ایسے افراد تیار نہیں کر رہے ہیں جس طریقے سے بریلی مذہب کے علما اپنے مدرسے میں اپنے طالب علموں کو تیار کر رہے ہیں اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے بالکل سچائی ہے کہ بریلی مذہب میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے کان میں اذان پڑھی جائے نہ پڑھی جائے اس سے فرق نہیں پڑتا اقامت کہی جائے نہ کہی جائے اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن اس کے کان میں یہ بات ضرور کہی جاتی ہے کہ دیوبندی فرقے سے بچ کر رہنا علمائے دیوبند سے بچ کر رہنا یہ گستاخ رسول ہیں یہ کافر ہیں
مفتیِ دیوبند صاحب نے بجا فرمایا کہ وہ فرقۂ ضالہ باطلہ میں زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں کیونکہ اگر اس پر توجہ دیں گے تو پھر کیسے کہیں گے کہ جو اوم ہے وہی اللہ ہے جو منو ہے وہی آدم ہے (نعوذ باللہ من الشیطٰن)
پھر یہ کیسے کہیں گے جیسا علم حضور کا ہے ایسا علم تو صبی مجنون گدھے خچر بلکہ جمیع بہائم کو بھی (نعوذ باللہ من خبط الایمان)
پھر یہ کیسے کہیں گے کہ نیا نبی آ بھی جائے تو خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا (نعوذ باللہ من اعداء خیر الناس و ہفوات تحذیر الناس)
صرف یہی نہیں کہ یہ حضرات توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ آگے کہتے ہیں خاص طور سے ایسے افراد بھی تیار نہیں کر رہے ہیں جو حق و باطل میں امتیاز کر سکے
تو ظاہر سی بات ہے جب عقائد کی حفاظت کے افراد تیار نہیں کریں گے تو رام کی گود میں جا بیٹھیں گے اوم کو سجدہ کریں گے اور ستم تو یہ ہے اگر کہیں ایسے افراد تیار کر لیے جائیں تو ان کی دکان بند ہو جائے گی
لیکن بحمدہ تعالیٰ بریلی شریف اور بریلی شریف کے ماننے والے تمام حضرات آج بھی اس طرف خاصی توجہ دیتے ہیں اور عقائد و ایمان کے تحفظ کے لیے علما تیار کرتے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ چمن حافظ ملت باغ فردوس الجامعۃ الاشرفیہ میں طلباء کرام سے قادیانی اور طواغیت اربعہ کی تکفیر کے سلسلے میں دستخط بھی لیے جاتے ہیں اور اس پر قائم رہنے کے لیے حلف بھی اٹھواتے ہیں
آج بھی منصفانہ جائزہ الجامعۃ الاشرفیہ میں کتب مطالعہ میں داخل نصاب ہے یہ ایک ایسی کتاب مستطاب ہے جس نے دیابنہ وہابیہ کے پرخچے اڑا کر رکھ دیا ہے
ہاں اسی لیے بریلی شریف اور اس کے متبعین ایسے افراد تیار کرتے ہیں جب کوئی گستاخ رسول آواز اٹھائے تو اس کی آواز کو اس کے حلق ہی میں دبوچ سکے اور بتا سکے
کلک رضا ہے خنجر خونخوار برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں
جی ہاں بالکل سچائی ہے کہ متبعینِ اعلی حضرت کو اپنی جان مال و دولت کسی چیز کی پروا نہیں ہے اگر پروا ہے تو ناموس رسالت کی حفاظت و صیانت کی پروا ہے تاکہ کوئی ناموس رسالت پر مغلظات نہ بک سکے حضور کو بڑا بھائی نہ کہے
جی ہاں بریلی شریف کے ماننے والے اپنے بچوں کے دلوں میں بچپنے ہی میں حضور کی محبت راسخ کر دیتے ہیں اور یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ کبھی گستاخ رسول سے سمجھوتا مت کرنا یہ وہابیہ دیابنہ گستاخ رسول ہیں کافر ہیں ان سے دور رہنا ان کی تعظیم مت کرنا ان کے پاس مت بیٹھنا ورنہ یہ تمہیں بھی یہی سکھائیں کہ حضور بڑے بھائی ہماری طرح بشر ہیں اوم اللہ ایک ہے منو آدم ایک ہے (نعوذ باللہ من اعداء الدین )
آگے مفتی دیوبند صاحب کہتے ہیں
اس کو سمجھنے کے لیے یہ ایک وائرل ہونے والا امتحان کا پرچہ ہی کافی ہے دیکھیے یہ پرچہ بریلی میں واقع ایک مدرسہ مرکزِ۔۔۔۔۔۔ایں۔۔۔۔۔جامعۃ الرضا جس میں تقریبا سات سو کے قریب بچے پڑھتے ہیں ان میں کیسے افراد تیار کیے جاتے ہیں اس پرچے کو پڑھنے کے بعد آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ بریلی مذہب کے علما اپنے طلبا کو کس طرح سے تیار کر رہے ہیں علمائے حق علمائے دیوبند کے خلاف
قارئین کرام! کچھ دیر کے لیے یہیں پر ٹھہر جائیں اور مفتی دیوبند کی عبارت خوانی اور اردو دانی کو ملاحظہ فرمائیں اور دل ہی دل میں مسکرائیں
مفتی دیوبند سے مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا کی عبارت بھی صحیح سے نہیں پڑھی گئی پھر بھی اس کی ہمت پر داد دینی چاہئیے کہ انھوں نے پڑھنے کا آغاز ضرور کیا اگر چہ انھیں مرکزِ کے بعد کیا ہے اس میں تأمل ہوا چلیے کوئی بات نہیں ایسا ہوتے رہتا ہے
البتہ اردو دانی ضرور دلفریب ہے موصوف مفتی دیوبند صاحب نے کہا تقریبا سات سو کے قریب بچے پڑھتے ہیں میرے خیال سے دنیائے اردو اس جملے کو کبھی قبول نہیں کرے گی البتہ تصحیح کرتے ہوئے یہ ضرور کہے گی مفتی صاحب اس طرح کہیں تو ہم آپ کے جملے کو ضائع ہونے سے بچا لیں گے تقریبا سات سو بچے پڑھتے ہیں
اب آئیے پرچے کا مالھا و ما علیھا مفتی دیوبند صاحب کی ہی زبانی ملاحظہ فرمائیں
"میرے پاس ایک پرچہ ہے یہ پرچہ درجۂ۔۔۔۔۔۔چھٹی جماعت کے لیے جسے الصف السادس کہا جاتا ہے چھٹی جماعت کے طلبا کے لیے یہ پرچہ تیار کیا گیا ہے یہ مطالعہ کا پرچہ ہے دیکھیے اس میں علمائے دیوبند کے سلسلے میں کیسے سوالات کیے گئے ہیں اس پرچے میں کل سات سوال ہے جن میں سے
پہلے سوال کا تعلق غلام احمد قادیانی سے ہے یعنی مرزائیت سے ہے
جب کہ دوسرا سوال مولانا امیر حسن نذیر حسین اور مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ کے متعلق ہے
جب کہ تیسرا قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ کے متعلق ہے یہ سوال کیا گیا کہ (نعوذ باللہ من ذلک) مولانا رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ نے جو اللہ کی شان میں گستاخی کی ہے اس گستاخی کو لکھتے ہوئے مولوی احمد رضا خاں بریلوی نے جو اس کے رد میں سبحان السبوح لکھی ہے اس کی روشنی میں اس کا رد لکھا جائے
اسی طریقے سے چوتھا سوال حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب حفظ الایمان کے متعلق کیا گیا ہے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں جو بات لکھی اس کی وضاحت کرو یعنی کہ جس طریقے سے مولنا اشرف علی تھانوی نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کو جتنا علم غیب ہے اتنا علم غیب تو بچوں اور مجنون کو ہے (نعوذ باللہ من ذلک) اسے لکھنے کا بعد اس پر رد لکھا جائے
پانچواں سوال حضرت مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ کی کتاب تحذیر الناس میں جو باتیں لکھی ہیں اس کے متعلق سوال کیا گیا ہے اسی طریقے سے خاص طور سے اس بات کو بھی پوچھا گیا ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت کے سلسلے میں واہیات ان کے قول کے مطابق لکھی ہیں اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس کا رد بھی لکھا جائے
جب کہ پانچویں اور ساتویں۔۔۔ایں۔۔۔۔۔۔ چھٹے اور ساتویں سوال کا تعلق حسام الحرمین پر جو علما نے تقاریظ لکھی ہیں ان میں سے دو علما کا نام لکھ کر انھوں نے تقریظ لکھی ہے ان تقاریظ کا خلاصہ مانگا گیا ہے
اب دیکھیے چھٹی جماعت کا مطالعہ کا پرچہ ہے اس پرچے میں کس طریقے سے سوالات کیے گئے ہیں کہ اب اندازہ لگائیں کہ یہ مولوی بنتے بنتے کتنی محنت کرتے ہوں گے خارجی مطالعہ میں خاص طور پر علماء حق علماء دیوبند کے خلاف کیسی تیاریاں کر رہے ہیں"
یہ ہوا مفتیِ دیوبند صاحب کی زبانی پرچے کا خلاصہ
میں مفتی دیوبند سے پوچھنا چاہوں گا
کیا تحذیر الناس میں قاسم نانوتوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت کا انکار نہیں کیا ؟
کیا حفظ الایمان میں اشرف علی تھانوی نے حضور کے علم بچے اور مجنون کے علم جیسا نہیں بتایا ؟
کیا رشید احمد گنگوہی نے امکان کذب باری تعالیٰ نہیں مانا؟
کیا مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا؟
یہ وہ باتیں ہیں جو اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں اسی لیے علمائے دیوبند گستاخ رسول کافر و مرتد ہیں اور قادیانی بھی اپنی واہیات و مغلظات کی وجہ سے،
رہی بات یہ کہ اگر آپ کو پرچے میں فرقۂ ضالہ باطلہ کے عقائد و نظریات کو بیان کرنے کی وجہ سے اعتراض ہے تو آپ یہ بتائیں ؟
کیا آپ کے یہاں معتزلہ کے بارے میں نہیں پڑھایا جاتا ہے کہ وہ بندوں کو ہی اپنے افعال کا خالق مانتے ہیں شفاعت کا انکار کرتے ہیں وغیرھما؟
کیا آپ کو قدریہ کے بارے نہیں پڑھایا جاتا ہے ؟
کیا رافضی تفصیلی کے بارے نہیں پڑھایا جاتا ہے ؟
کیا آپ کو خارجی کے عقائد و نظریات سے واقفیت نہیں دلائی جاتی ہے ؟
کیا آپ کو مودودی کے افکار باطلہ سے روشناس نہیں کرایا جاتا ہے ؟
اگر ان تمام سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو پھر اعتراض کیوں؟
اور اگر نفی میں ہے تو آپ جھوٹے ہیں
اور قابل غور بات یہ ہے کہ اگر آپ خود اپنے گھر کو کھنگال کر دیکھتے تو خود اپنے ہی پیر میں کلہاڑی نہیں مارتے
دیکھیے میں آپ کو آئینہ دکھاتا ہوں خود آپ ہی کے گھر دار العلوم دیوبند میں کس طرح فرقہ بندی کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں
یہ پرچہ ہے ۲۹ ربیع الاول ۱۴۴۰ھ جس کے سرے پہ لکھا ہے
امتحان ششماہی دار العلوم دیوبند
محاضرات علمیہ
محاضرہ رد مودودیت
اب آئیے پرچے کے سوالات پر بھی ایک نظر ڈالیے اور اپنے گھر کی نازیبا حرکت پر ماتم منائیے
سوال نمبر ۱: امت میں فرقہ بندی کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ساتھ ساتھ ابتدائے اسلام کے مشہور گمراہ فرقوں کے مختصر تعارف کرائیں! نیز خلاصۂ مودودیت بھی تحریر کریں۔(۳۰)
[مفتی دیوبند صاحب آپ کو تو بہت درد ہو رہا ہے ہوگا آپ ہی کے گھر میں فرقہ بندی کے بنیادی اسباب پوچھے جا رہے ہیں صرف یہی نہیں ابتدائے اسلام کے مشہور گمراہ فرقوں کا تعارف بھی کرایا جا رہا ہے آہ آپ کہاں پھنس گئے مفتیِ دیوبند صاحب
چلیے لگے ہاتھ دوسرا سوال بھی ملاحظہ فرما لیجیے شاید یہ آپ کے لیے تریاق ثابت ہو]
سوال نمبر ۲: مودودی صاحب کی تفسیر تفہیم القرآن کی بنیادی خامیاں کیا ہیں؟ تفہیم القرآن کن محرکات کے تحت لکھی گئی؟ تفسیر بالرائے پر کیا وعید ہے؟ اور مودودی صاحب کو تفسیر کی نازک وادی میں قدم نہ رکھنے کا مشورہ کس نے دیا تھا ؟ وہ کونسے نبی ہیں کہ جن سے بقول مودودی صاحب (العیاذ باللہ تعالیٰ) فریضۂ رسالت کی ادائگی میں کچھ کوتاہیاں ہو گئی تھیں؟ وضاحت سے لکھیں۔ (۳۰)
[اوہ میں نے تو سمجھا تھا شاید دوسرا سوال مفتی دیوبند صاحب آپ کے لیے تریاق ثابت ہوگا لیکن یہ تو اس سے بھی بڑھ کر زہر نکلا اس میں تو ایک ہی سوال میں چار چار سوال پوچھے گئے ہیں ستم بالائے ستم یہ کہ وضاحت کے ساتھ لکھنے کو کہا گیا ہے
چلیے مفتی دیوبند صاحب کچھ دیر اس درد کو اور سہ کر چند سوالات ملاحظہ فرما لیں]
سوال نمبر ۳: مودودی مکتب فکر میں دین کا کیا تصور ہے ؟ مودودی صاحب کی دعوت قبول نہ کرنے والے مسلمانوں کی انکے یہاں کیا پوزیشن ہے ؟ دعوت کی سربراہی اور اقامت دین کے علمبرداروں کی قلابازی پر مختصر روشنی ڈالیں۔ نیز بعثت انبیاء کے مقاصد بھی تحریر کریں۔ (۳۰)
[چلیے مفتی صاحب اور تھوڑی دیر رکیے مابقیہ دو سوال اور ملاحظہ فرما لیجیۓ ہو سکتا یہی آپ کے لیے باعث تسکین بن جائے]
سوال نمبر ٤: کیا صحابہ کرام معیار حق ہیں؟ اولا معیار حق کا مطلب لکھیں بعدہ صحابۂ کرام معیار حق ہونے کو دلائل سے مزین کریں، مودودی صاحب کا اس سلسلہ میں کیا نظریہ ہے ؟ صحابۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا تنقید سے بالا تر ہیں؟ اس مسئلے میں اہل حق کی کیا رائے ہے ؟ اور مودودی صاحب کیا رائے رکھتے ہیں ؟ واضح کریں (۳۰)
سوال نمبر ۵: تقلید ائمہ سے متعلق مودودی صاحب کا کیا مسلک ہے ؟ مودودی صاحب مقلد ہیں یا غیر مقلد ؟ وہ تلفیق بین المذاھب کسے کہتے ہیں؟ تلفیق کے بارے میں مودودی صاحب کا کیا فرمان ہے ؟ اور علماء حق کا متفقہ فیصلہ کیا ہے ؟ نیز داڑھی کی شرعی مقدار کے سلسلے میں مودودی نظریہ بھی لکھیے ۔ (۳۰)
مفتی دیوبند صاحب یہاں پر پانچوں سوال مکمل ہوئے لیکن آپ کے لیے آپ کا تریاق نہیں ملا لہذا آپ بیٹھ کر اپنے اہل خانہ دار العلوم دیوبند پر ماتم ہی منائیں اس کے علاوہ اور کوئی سبیل نہیں ہے
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
اب بتائیں مفتی دیوبند صاحب کیا کبھی آپ نے اس پرچے کے بارے میں بھی کچھ کہا ہے؟ یا یہاں آپ کی زبان خاموش ہو گئی فبھت الذی کفر کے زلزلے آ پڑے، قلم خشک ہو گیا یا سیاہی ہی نہیں ملی
اگر آپ کے یہاں رد فرقہائے باطلہ غلط نہیں تو بریلی شریف میں کیوں؟
میں تو یہی کہوں گا
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا
مفتی دیوبند صاحب اپنی قوم سے شکوہ کرتے ہوئے آگے کہتے ہیں
افسوس سے کہنا پڑتا ہے جب کبھی ہمیں فرقۂ باطلہ سے فرقۂ ضالہ سے بات کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمارے علما یہ کہہ کر دامن چھڑا دیتے ہیں کہ ارے ان کو تو سکھاتے سکھاتے ان کو بتاتے بتاتے دلائل دیتے دیتے صدی گزر گئی لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں ہو رہے ہیں لیکن یہ بتائیے کیا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ یہ ہماری بات نہیں مانتے نہ مانے نہ مانے لیکن کم سے کم اپنا دفاع تو کر سکتے ہیں
مفتی دیوبند صاحب کی یہ بہت بڑی جرأتانہ بات ہے جو مبنی بر حق ہے کہ یہ حضرات اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے بلکہ دامن چھڑانے میں پیش پیش رہتے ہیں
آج مفتی دیوبند صاحب نے کچھ تبدیلی کے ساتھ وہی بات کہی ہے جو ماضی قریب میں انھیں کے ایک مقتدر عالم دین مولانا عامر عثمانی دیوبندی نے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب زلزلہ کے تاثرات میں کہی تھی،

آپ حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں

مگر یہ کتاب ٫٫زلزلہ٫٫ جو نقد جواب طلب کر رہی ہے ، اس سے عہدہ بر آ ہونے کی صورت آخر کیا ہوگی؟ اپنی کسی غلطی کو تسلیم کرنا تو ہمارے آج کے بزرگان دین نے سیکھا ہی نہیں۔ انھوں نے صرف یہ سیکھا ہے اپنی کہے جاؤ۔ اور کسی کی مت سنو۔ ان شاءاللہ تعالیٰ اس کتاب کے ساتھ ان کا سلوک اس سے مخلتف نہیں ہوگا
[تجلی دسمبر ۱۹۷۲ء ص: ۹۰]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس لیے مفتیِ دیوبند صاحب آپ مان جائیے یہ لوگ اپنا دفاع کسی صورت نہیں کر سکیں گے
بس ایک ہی راستہ ہے اور وہ وہی جو آپ ہی کے مقتدر عالم دین مولانا عامر عثمانی دیوبندی نے اپنے علما کو دکھایا تھا،
کہ ان تمام کتب دیابنہ کو جن میں واہیات لکھی ہوئی ہیں بیچ چوراہے پر رکھ کر آگ لگا دو [حوالہ سابق] !
یہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے کہ یہ وار وار سے پار ہے

مفتیِ_دیوبند_اور_جامعۃ_الرضا_کا_امتحانی_پرچہ

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مفتیِ_دیوبند_اور_جامعۃ_الرضا_کا_امتحانی_پرچہ
تحریر___محمد جسیم اکرم مرکزی رابطہ نمبر___9523788434 منجانب_جماعت سابعہ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی ہند
یادگار تاج الشریعہ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی میں ۲۰۲۳ء فروری اور مارچ ۱۴۴۴ھ رجب المرجب و شعبان المعظم کو سالانہ امتحان منعقد ہوا جو بحمدہ تعالیٰ بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا لیکن بعدِ امتحان شوشل میڈیا پر ایوان صلح کلیت و دیوبندیت میں ایک عجیب ہی کھلبلی مچی ہوئی دیکھی۔
اس کھلبلی کی وجہ امام عشق و محبت، امیر کشور فقاہت، کنز الکرامت، جبل الاستقامت، مجدد دین و ملت، عظیم المرتبت، رفیع الدرجت، اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی قدس سرہ العزیز کی تصنیف لطیف حسام الحرمین علی منحر الکفر و المین کا امتحانی پرچہ تھا
یادگار تاج الشریعہ جامعۃ الرضا میں مطالعہ میں کیسی کیسی نایاب کتب داخل نصاب ہیں اس کو جاننے کے لیے راقم الحروف کی تحریر جامعۃ الرضا اور حسام الحرمین کا مطالعہ فرمائیں
یہاں پر میں صرف مفتیِ دیوبند صاحب کو آئینہ دکھانا چاہوں گا کہ جو باتیں وہ جامعۃ الرضا بریلی شریف کے متعلق کہہ رہے ہیں کیا ان کا دار العلوم دیوبند ان باتوں سے محفوظ ہے؟

مفتیِ دیوبند صاحب کہتے ہیں

معزز ناظرین! اہل سنت و جماعت احناف علمائے حق علمائے دیوبند فرقۂ و ضالہ و باطلہ کے سلسلے میں زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں خاص طور سے اپنے مدرسے میں ایسے افراد تیار نہیں کر رہے ہیں جس طریقے سے بریلی مذہب کے علما اپنے مدرسے میں اپنے طالب علموں کو تیار کر رہے ہیں اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے بالکل سچائی ہے کہ بریلی مذہب میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے کان میں اذان پڑھی جائے نہ پڑھی جائے اس سے فرق نہیں پڑتا اقامت کہی جائے نہ کہی جائے اس سے فرق نہیں پڑتا لیکن اس کے کان میں یہ بات ضرور کہی جاتی ہے کہ دیوبندی فرقے سے بچ کر رہنا علمائے دیوبند سے بچ کر رہنا یہ گستاخ رسول ہیں یہ کافر ہیں
مفتیِ دیوبند صاحب نے بجا فرمایا کہ وہ فرقۂ ضالہ باطلہ میں زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں کیونکہ اگر اس پر توجہ دیں گے تو پھر کیسے کہیں گے کہ جو اوم ہے وہی اللہ ہے جو منو ہے وہی آدم ہے (نعوذ باللہ من الشیطٰن)
پھر یہ کیسے کہیں گے جیسا علم حضور کا ہے ایسا علم تو صبی مجنون گدھے خچر بلکہ جمیع بہائم کو بھی (نعوذ باللہ من خبط الایمان)
پھر یہ کیسے کہیں گے کہ نیا نبی آ بھی جائے تو خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا (نعوذ باللہ من اعداء خیر الناس و ہفوات تحذیر الناس)
صرف یہی نہیں کہ یہ حضرات توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ آگے کہتے ہیں خاص طور سے ایسے افراد بھی تیار نہیں کر رہے ہیں جو حق و باطل میں امتیاز کر سکے
تو ظاہر سی بات ہے جب عقائد کی حفاظت کے افراد تیار نہیں کریں گے تو رام کی گود میں جا بیٹھیں گے اوم کو سجدہ کریں گے اور ستم تو یہ ہے اگر کہیں ایسے افراد تیار کر لیے جائیں تو ان کی دکان بند ہو جائے گی
لیکن بحمدہ تعالیٰ بریلی شریف اور بریلی شریف کے ماننے والے تمام حضرات آج بھی اس طرف خاصی توجہ دیتے ہیں اور عقائد و ایمان کے تحفظ کے لیے علما تیار کرتے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ چمن حافظ ملت باغ فردوس الجامعۃ الاشرفیہ میں طلباء کرام سے قادیانی اور طواغیت اربعہ کی تکفیر کے سلسلے میں دستخط بھی لیے جاتے ہیں اور اس پر قائم رہنے کے لیے حلف بھی اٹھواتے ہیں
آج بھی منصفانہ جائزہ الجامعۃ الاشرفیہ میں کتب مطالعہ میں داخل نصاب ہے یہ ایک ایسی کتاب مستطاب ہے جس نے دیابنہ وہابیہ کے پرخچے اڑا کر رکھ دیا ہے
ہاں اسی لیے بریلی شریف اور اس کے متبعین ایسے افراد تیار کرتے ہیں جب کوئی گستاخ رسول آواز اٹھائے تو اس کی آواز کو اس کے حلق ہی میں دبوچ سکے اور بتا سکے
کلک رضا ہے خنجر خونخوار برق بار
اعدا سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں
جی ہاں بالکل سچائی ہے کہ متبعینِ اعلی حضرت کو اپنی جان مال و دولت کسی چیز کی پروا نہیں ہے اگر پروا ہے تو ناموس رسالت کی حفاظت و صیانت کی پروا ہے تاکہ کوئی ناموس رسالت پر مغلظات نہ بک سکے حضور کو بڑا بھائی نہ کہے
جی ہاں بریلی شریف کے ماننے والے اپنے بچوں کے دلوں میں بچپنے ہی میں حضور کی محبت راسخ کر دیتے ہیں اور یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ کبھی گستاخ رسول سے سمجھوتا مت کرنا یہ وہابیہ دیابنہ گستاخ رسول ہیں کافر ہیں ان سے دور رہنا ان کی تعظیم مت کرنا ان کے پاس مت بیٹھنا ورنہ یہ تمہیں بھی یہی سکھائیں کہ حضور بڑے بھائی ہماری طرح بشر ہیں اوم اللہ ایک ہے منو آدم ایک ہے (نعوذ باللہ من اعداء الدین )
آگے مفتی دیوبند صاحب کہتے ہیں
اس کو سمجھنے کے لیے یہ ایک وائرل ہونے والا امتحان کا پرچہ ہی کافی ہے دیکھیے یہ پرچہ بریلی میں واقع ایک مدرسہ مرکزِ۔۔۔۔۔۔ایں۔۔۔۔۔جامعۃ الرضا جس میں تقریبا سات سو کے قریب بچے پڑھتے ہیں ان میں کیسے افراد تیار کیے جاتے ہیں اس پرچے کو پڑھنے کے بعد آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ بریلی مذہب کے علما اپنے طلبا کو کس طرح سے تیار کر رہے ہیں علمائے حق علمائے دیوبند کے خلاف
قارئین کرام! کچھ دیر کے لیے یہیں پر ٹھہر جائیں اور مفتی دیوبند کی عبارت خوانی اور اردو دانی کو ملاحظہ فرمائیں اور دل ہی دل میں مسکرائیں
مفتی دیوبند سے مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا کی عبارت بھی صحیح سے نہیں پڑھی گئی پھر بھی اس کی ہمت پر داد دینی چاہئیے کہ انھوں نے پڑھنے کا آغاز ضرور کیا اگر چہ انھیں مرکزِ کے بعد کیا ہے اس میں تأمل ہوا چلیے کوئی بات نہیں ایسا ہوتے رہتا ہے
البتہ اردو دانی ضرور دلفریب ہے موصوف مفتی دیوبند صاحب نے کہا تقریبا سات سو کے قریب بچے پڑھتے ہیں میرے خیال سے دنیائے اردو اس جملے کو کبھی قبول نہیں کرے گی البتہ تصحیح کرتے ہوئے یہ ضرور کہے گی مفتی صاحب اس طرح کہیں تو ہم آپ کے جملے کو ضائع ہونے سے بچا لیں گے تقریبا سات سو بچے پڑھتے ہیں
اب آئیے پرچے کا مالھا و ما علیھا مفتی دیوبند صاحب کی ہی زبانی ملاحظہ فرمائیں
"میرے پاس ایک پرچہ ہے یہ پرچہ درجۂ۔۔۔۔۔۔چھٹی جماعت کے لیے جسے الصف السادس کہا جاتا ہے چھٹی جماعت کے طلبا کے لیے یہ پرچہ تیار کیا گیا ہے یہ مطالعہ کا پرچہ ہے دیکھیے اس میں علمائے دیوبند کے سلسلے میں کیسے سوالات کیے گئے ہیں اس پرچے میں کل سات سوال ہے جن میں سے
پہلے سوال کا تعلق غلام احمد قادیانی سے ہے یعنی مرزائیت سے ہے
جب کہ دوسرا سوال مولانا امیر حسن نذیر حسین اور مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ کے متعلق ہے
جب کہ تیسرا قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ کے متعلق ہے یہ سوال کیا گیا کہ (نعوذ باللہ من ذلک) مولانا رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ نے جو اللہ کی شان میں گستاخی کی ہے اس گستاخی کو لکھتے ہوئے مولوی احمد رضا خاں بریلوی نے جو اس کے رد میں سبحان السبوح لکھی ہے اس کی روشنی میں اس کا رد لکھا جائے
اسی طریقے سے چوتھا سوال حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب حفظ الایمان کے متعلق کیا گیا ہے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں جو بات لکھی اس کی وضاحت کرو یعنی کہ جس طریقے سے مولنا اشرف علی تھانوی نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کو جتنا علم غیب ہے اتنا علم غیب تو بچوں اور مجنون کو ہے (نعوذ باللہ من ذلک) اسے لکھنے کا بعد اس پر رد لکھا جائے
پانچواں سوال حضرت مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ کی کتاب تحذیر الناس میں جو باتیں لکھی ہیں اس کے متعلق سوال کیا گیا ہے اسی طریقے سے خاص طور سے اس بات کو بھی پوچھا گیا ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت کے سلسلے میں واہیات ان کے قول کے مطابق لکھی ہیں اس کی وضاحت کرتے ہوئے اس کا رد بھی لکھا جائے
جب کہ پانچویں اور ساتویں۔۔۔ایں۔۔۔۔۔۔ چھٹے اور ساتویں سوال کا تعلق حسام الحرمین پر جو علما نے تقاریظ لکھی ہیں ان میں سے دو علما کا نام لکھ کر انھوں نے تقریظ لکھی ہے ان تقاریظ کا خلاصہ مانگا گیا ہے
اب دیکھیے چھٹی جماعت کا مطالعہ کا پرچہ ہے اس پرچے میں کس طریقے سے سوالات کیے گئے ہیں کہ اب اندازہ لگائیں کہ یہ مولوی بنتے بنتے کتنی محنت کرتے ہوں گے خارجی مطالعہ میں خاص طور پر علماء حق علماء دیوبند کے خلاف کیسی تیاریاں کر رہے ہیں"
یہ ہوا مفتیِ دیوبند صاحب کی زبانی پرچے کا خلاصہ
میں مفتی دیوبند سے پوچھنا چاہوں گا
کیا تحذیر الناس میں قاسم نانوتوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت کا انکار نہیں کیا ؟
کیا حفظ الایمان میں اشرف علی تھانوی نے حضور کے علم بچے اور مجنون کے علم جیسا نہیں بتایا ؟
کیا رشید احمد گنگوہی نے امکان کذب باری تعالیٰ نہیں مانا؟
کیا مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا؟
یہ وہ باتیں ہیں جو اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں اسی لیے علمائے دیوبند گستاخ رسول کافر و مرتد ہیں اور قادیانی بھی اپنی واہیات و مغلظات کی وجہ سے،
رہی بات یہ کہ اگر آپ کو پرچے میں فرقۂ ضالہ باطلہ کے عقائد و نظریات کو بیان کرنے کی وجہ سے اعتراض ہے تو آپ یہ بتائیں ؟
کیا آپ کے یہاں معتزلہ کے بارے میں نہیں پڑھایا جاتا ہے کہ وہ بندوں کو ہی اپنے افعال کا خالق مانتے ہیں شفاعت کا انکار کرتے ہیں وغیرھما؟
کیا آپ کو قدریہ کے بارے نہیں پڑھایا جاتا ہے ؟
کیا رافضی تفصیلی کے بارے نہیں پڑھایا جاتا ہے ؟
کیا آپ کو خارجی کے عقائد و نظریات سے واقفیت نہیں دلائی جاتی ہے ؟
کیا آپ کو مودودی کے افکار باطلہ سے روشناس نہیں کرایا جاتا ہے ؟
اگر ان تمام سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو پھر اعتراض کیوں؟
اور اگر نفی میں ہے تو آپ جھوٹے ہیں
اور قابل غور بات یہ ہے کہ اگر آپ خود اپنے گھر کو کھنگال کر دیکھتے تو خود اپنے ہی پیر میں کلہاڑی نہیں مارتے
دیکھیے میں آپ کو آئینہ دکھاتا ہوں خود آپ ہی کے گھر دار العلوم دیوبند میں کس طرح فرقہ بندی کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں
یہ پرچہ ہے ۲۹ ربیع الاول ۱۴۴۰ھ جس کے سرے پہ لکھا ہے
امتحان ششماہی دار العلوم دیوبند
محاضرات علمیہ
محاضرہ رد مودودیت
اب آئیے پرچے کے سوالات پر بھی ایک نظر ڈالیے اور اپنے گھر کی نازیبا حرکت پر ماتم منائیے
سوال نمبر ۱: امت میں فرقہ بندی کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ ساتھ ساتھ ابتدائے اسلام کے مشہور گمراہ فرقوں کے مختصر تعارف کرائیں! نیز خلاصۂ مودودیت بھی تحریر کریں۔(۳۰)
[مفتی دیوبند صاحب آپ کو تو بہت درد ہو رہا ہے ہوگا آپ ہی کے گھر میں فرقہ بندی کے بنیادی اسباب پوچھے جا رہے ہیں صرف یہی نہیں ابتدائے اسلام کے مشہور گمراہ فرقوں کا تعارف بھی کرایا جا رہا ہے آہ آپ کہاں پھنس گئے مفتیِ دیوبند صاحب
چلیے لگے ہاتھ دوسرا سوال بھی ملاحظہ فرما لیجیے شاید یہ آپ کے لیے تریاق ثابت ہو]
سوال نمبر ۲: مودودی صاحب کی تفسیر تفہیم القرآن کی بنیادی خامیاں کیا ہیں؟ تفہیم القرآن کن محرکات کے تحت لکھی گئی؟ تفسیر بالرائے پر کیا وعید ہے؟ اور مودودی صاحب کو تفسیر کی نازک وادی میں قدم نہ رکھنے کا مشورہ کس نے دیا تھا ؟ وہ کونسے نبی ہیں کہ جن سے بقول مودودی صاحب (العیاذ باللہ تعالیٰ) فریضۂ رسالت کی ادائگی میں کچھ کوتاہیاں ہو گئی تھیں؟ وضاحت سے لکھیں۔ (۳۰)
[اوہ میں نے تو سمجھا تھا شاید دوسرا سوال مفتی دیوبند صاحب آپ کے لیے تریاق ثابت ہوگا لیکن یہ تو اس سے بھی بڑھ کر زہر نکلا اس میں تو ایک ہی سوال میں چار چار سوال پوچھے گئے ہیں ستم بالائے ستم یہ کہ وضاحت کے ساتھ لکھنے کو کہا گیا ہے
چلیے مفتی دیوبند صاحب کچھ دیر اس درد کو اور سہ کر چند سوالات ملاحظہ فرما لیں]
سوال نمبر ۳: مودودی مکتب فکر میں دین کا کیا تصور ہے ؟ مودودی صاحب کی دعوت قبول نہ کرنے والے مسلمانوں کی انکے یہاں کیا پوزیشن ہے ؟ دعوت کی سربراہی اور اقامت دین کے علمبرداروں کی قلابازی پر مختصر روشنی ڈالیں۔ نیز بعثت انبیاء کے مقاصد بھی تحریر کریں۔ (۳۰)
[چلیے مفتی صاحب اور تھوڑی دیر رکیے مابقیہ دو سوال اور ملاحظہ فرما لیجیۓ ہو سکتا یہی آپ کے لیے باعث تسکین بن جائے]
سوال نمبر ٤: کیا صحابہ کرام معیار حق ہیں؟ اولا معیار حق کا مطلب لکھیں بعدہ صحابۂ کرام معیار حق ہونے کو دلائل سے مزین کریں، مودودی صاحب کا اس سلسلہ میں کیا نظریہ ہے ؟ صحابۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا تنقید سے بالا تر ہیں؟ اس مسئلے میں اہل حق کی کیا رائے ہے ؟ اور مودودی صاحب کیا رائے رکھتے ہیں ؟ واضح کریں (۳۰)
سوال نمبر ۵: تقلید ائمہ سے متعلق مودودی صاحب کا کیا مسلک ہے ؟ مودودی صاحب مقلد ہیں یا غیر مقلد ؟ وہ تلفیق بین المذاھب کسے کہتے ہیں؟ تلفیق کے بارے میں مودودی صاحب کا کیا فرمان ہے ؟ اور علماء حق کا متفقہ فیصلہ کیا ہے ؟ نیز داڑھی کی شرعی مقدار کے سلسلے میں مودودی نظریہ بھی لکھیے ۔ (۳۰)
مفتی دیوبند صاحب یہاں پر پانچوں سوال مکمل ہوئے لیکن آپ کے لیے آپ کا تریاق نہیں ملا لہذا آپ بیٹھ کر اپنے اہل خانہ دار العلوم دیوبند پر ماتم ہی منائیں اس کے علاوہ اور کوئی سبیل نہیں ہے
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
اب بتائیں مفتی دیوبند صاحب کیا کبھی آپ نے اس پرچے کے بارے میں بھی کچھ کہا ہے؟ یا یہاں آپ کی زبان خاموش ہو گئی فبھت الذی کفر کے زلزلے آ پڑے، قلم خشک ہو گیا یا سیاہی ہی نہیں ملی
اگر آپ کے یہاں رد فرقہائے باطلہ غلط نہیں تو بریلی شریف میں کیوں؟
میں تو یہی کہوں گا
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا
مفتی دیوبند صاحب اپنی قوم سے شکوہ کرتے ہوئے آگے کہتے ہیں
افسوس سے کہنا پڑتا ہے جب کبھی ہمیں فرقۂ باطلہ سے فرقۂ ضالہ سے بات کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمارے علما یہ کہہ کر دامن چھڑا دیتے ہیں کہ ارے ان کو تو سکھاتے سکھاتے ان کو بتاتے بتاتے دلائل دیتے دیتے صدی گزر گئی لیکن یہ ماننے کو تیار نہیں ہو رہے ہیں لیکن یہ بتائیے کیا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ یہ ہماری بات نہیں مانتے نہ مانے نہ مانے لیکن کم سے کم اپنا دفاع تو کر سکتے ہیں
مفتی دیوبند صاحب کی یہ بہت بڑی جرأتانہ بات ہے جو مبنی بر حق ہے کہ یہ حضرات اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتے بلکہ دامن چھڑانے میں پیش پیش رہتے ہیں
آج مفتی دیوبند صاحب نے کچھ تبدیلی کے ساتھ وہی بات کہی ہے جو ماضی قریب میں انھیں کے ایک مقتدر عالم دین مولانا عامر عثمانی دیوبندی نے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب زلزلہ کے تاثرات میں کہی تھی،

آپ حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں

مگر یہ کتاب ٫٫زلزلہ٫٫ جو نقد جواب طلب کر رہی ہے ، اس سے عہدہ بر آ ہونے کی صورت آخر کیا ہوگی؟ اپنی کسی غلطی کو تسلیم کرنا تو ہمارے آج کے بزرگان دین نے سیکھا ہی نہیں۔ انھوں نے صرف یہ سیکھا ہے اپنی کہے جاؤ۔ اور کسی کی مت سنو۔ ان شاءاللہ تعالیٰ اس کتاب کے ساتھ ان کا سلوک اس سے مخلتف نہیں ہوگا
[تجلی دسمبر ۱۹۷۲ء ص: ۹۰]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اس لیے مفتیِ دیوبند صاحب آپ مان جائیے یہ لوگ اپنا دفاع کسی صورت نہیں کر سکیں گے
بس ایک ہی راستہ ہے اور وہ وہی جو آپ ہی کے مقتدر عالم دین مولانا عامر عثمانی دیوبندی نے اپنے علما کو دکھایا تھا،
کہ ان تمام کتب دیابنہ کو جن میں واہیات لکھی ہوئی ہیں بیچ چوراہے پر رکھ کر آگ لگا دو [حوالہ سابق] !
یہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے کہ یہ وار وار سے پار ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
81
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

کائنات حسن

درد درون دل

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢