صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]
احوال قوم وملت

رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]
از____محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
متعلم جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی
حامیین طواغیت اربعہ یعنی فتنۂ سراویہ نے اپنی گمراہیت کی نشر و اشاعت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تحقیق کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے لگے لیکن خدا کی مار کہ وہ دھول سراویوں ہی کے سر جا پڑی
حالیہ دنوں میں حامی فتنۂ سراویہ محمد صدام صاحب کی ایک تحریر نظر سے گزری جس کو مولانا ذیشان مصباحی صاحب نے اختصارا اپنی وال سے نشر کیا۔
آئیے اس مختصر سی تمہید کے بعد موصوف کی تحریر پر تجزیاتی طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تاکہ آپ کے سامنے حقیقت کا انکشاف ہو جائے اور حق و باطل میں آپ خود خط امتیاز کھینچ سکیں
موصوف لکھتے ہیں ___
"حسب روایت عرس عارفی (2011) کے موقع پر بڑی درگاہ پر غسل سے پہلے محفل سماع منعقد کی گئی اس میں باہر سے آیا ہوا قوال جس کا تعلق خیرآباد شریف (سے) تھا حضرت بیدم شاہ وارثی کا یہ کلام پڑھ رہا تھا ۔
عشق کی ابتدا بھی تم حسن کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
اس مجلس میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اور دیگر مدارس کے طلبہ بھی موجود تھے۔ دوسرے مدرسے سے آئے ہوئے طلبہ اس شعر کو سمجھ نہ سکے اور اس کی تاویل بھی ان سے نہ بن سکی، ان کے دل میں ایک خلجان پیدا ہو گیا ، انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ خانقاہ کےصاحب سجادہ (ابو میاں قبلہ) سے اس معاملہ کا تصفیہ کر لیتے جن کی موجودگی میں یہ شعر پڑھا گیا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ وہ اس خلجان کے ساتھ اپنے اپنے دار العلوم لوٹ گئے ۔ واپس جا کر انہوں نے اس شعر کی خوب تشہیر کی جس کی وجہ سے ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ ظلم یہ ہوا کہ شعر و شاعری سے عدم واقفیت یا تجاہلِ عارفانہ کے سبب اس شعر کو خانقاہ عارفیہ کے صاحب سجادہ کی طرف منسوب کر دیا گیا ۔ پھر کیا تھا مفتیان کرام کی دینی حمیت بھڑک اٹھی فتویٰ کے گولے داغے جانے لگے نہ قرآنی تحقیق نہ مومنانہ تفتیش، گمراہی وضلالت کا حکم لگانے کے لئے خانقاہ عارفیہ کا نام ہی کافی تھا"
قارئین کرام: غور فرمائیں کہ مذکورہ تحریر میں موصوف نے اقرار کیا یہ شعر خانقاہ عارفیہ بڑی درگاہ میں ابو میاں کے سامنے پڑھا گیا اور در پردہ یہ بھی اقرار کیا کہ مصرع ثانی
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
سننے کے با وجود محفل میں ابو میاں خاموش رہے اور قوال گنگناتے رہے بلکہ یوں کہیے کہ رقص و سرور کی محفل جمی رہی اور متصوفانہ انداز میں یہ حضرات لطف اندوز ہوتے رہے
لیکن بعض اہل حق، حق پسند، حق شناس، حق آگاہ، حق کے متلاشی کو ابو میاں کی یہ ادا پسند نہ آئی اور وہ اپنے دار العلوم کی طرف رواں دواں ہو گئے ،
الزام____
ایک قدم آگے بڑھ کر موصوف نے سینۂ قرطاس پر یہ الزام بھی ارقام کیا :
ہماری محفل رقص و سرور کے مالہ و ما علیہ کو دیکھ کر متلاشیان حق کی دینی حمیت ایسی بھڑک اٹھی کہ انھوں نے ہمارے نازک سینے پر بغیر تحقیق و تفتیش کے ضلالت و گمرہی کے گولے داغے اور سینے چاک چاک کر دیے ،
الزام کی سرکوبی____
آئیے پھر ایک بار فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں اس الزام بلا دلیل باطل و ذلیل کی سر کوبی کرتے ہوئے سینۂ فتنۂ سراویہ پر گولے داغ کر چاک چاک کیے دیتے ہیں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ پہلے جو گولے داغے گئے تھے وہ بلا تحقیق و تفتیش بے محل نہیں بلکہ بالتحقیق و التفتیش بر محل تھے،
فتاوی رضویہ شریف سے سوال و جواب من و عن ملاحظہ فرمائیں:
مسئلہ:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئہ میں کہ
ہمارے سرور عالم کا رتبہ کوئی کیا کا جانے
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ شعر عام طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں ،
الجواب:
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے ہاں اگر بقرینۂ مصرعۂ اولی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو اللہ ہی جانتا ہے تو یہ معنی صحیح ہے ، مگر ایسا لفظ بولنا جائز نہیں رد المحتار میں ہے مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المعنی، و اللہ تعالیٰ اعلم
(فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص ٢٠٨ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی)
قارئین کرام: مذکورہ بالا فتوی میں مسطور شعر کی جگہ موصوف کا رقم کردہ شعر رکھیں اور پھر پڑھیں رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
کیا اس کا ظاہر صریح کفر نہیں ؟
کیا اس کے ظاہر پر اعتقاد رکھنے والا قطعا کفر نہیں؟
کیا معنئ احتمالی مراد لینے پر بھی اسے پڑھنا محفل میں حرام قرار نہیں دیا جائے گا؟
بار بار مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھیں اور خود فیصلہ کریں کیا حق اور کیا باطل ہے ؟
موصوف نے کہا :
جو حضرات محفل سے خانۂ اذہان میں خلجان لیے ہوئے چلے گئے انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ ابو میاں سے اس معاملے کا تصفیہ کر لیتے جن کی موجودگی میں یہ شعر پڑھا گیا تھا ،
موصوف نے تو ایک رخ پر عنانِ قلم کو خوب حرکت دی لیکن دوسرے رخ کی طرف خامہ فرسائی سے کیونکر دست بردار ہو گئے
انصاف کا تقاضا تو یہ بھی تھا کہ جس وقت قوال نے یہ شعر پڑھا ابو میاں بر جستہ اسے پڑھنے سے روک دیتے اور کہتے ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے محفل میں ہر طرح کے لوگ بیٹھتے ہیں پتہ نہیں کس کے دل میں کیا گزرے گا؟
اس کا ظاہری معنی کفر و ارتداد پر مشتمل ہے اسے بند کرو اور توبہ کرو آخر ان باتوں سے کیوں خاموش رہے ؟
ایسی صریح غلطی پر موصوف کے داعی اسلام کو لب کشائی کرنے سے کس چیز نے روک دیا ؟
کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ محفل کو ممنوعات و منھیات سے پاک و صاف رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے؟
یا اعمی فی الارادت میں اس شق کو فراموش کر گئے؟
لٹتی ہے سر بزم یہاں دین کی دولت
آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے
(جسیم اکرم)
موصوف لکھتے ہیں:
" تقریباً دو سال کے بعد (2013) بنارس میں ایک سیمینار ہوا جس میں ملک کے مختلف مدارس کے علماء تشریف لائے جس میں جامعہ عارفیہ کے اساتذہ میں سے مولانا مجیب الرحمٰن صاحب اور مولانا محمد ذیشان احمد مصباحی بھی تشریف لے گئے، اس مجلس میں محترم مولانا مجیب الرحمٰن علیمی نے حضرت بیدم شاہ وارثی کے اس کلام کو سامنے رکھتے ہوئے علماء سے سوال کیا کہ اس میں کیا قباحت ہے؟
اس پر بعض حضرات کی یہ رائے تھی کہ ایسا کلام نہیں پڑھنا چاہیئے جس کی وجہ سے عوام الناس کو جواب دینے میں پریشانی ہو لیکن حضرت پروفیسر سید شمیم الدین احمد منعمی صاحب فرمانے لگے کہ پریشانی تو کسی کو ، کسی سے بھی ہو سکتی ہے مثال کے طور پر کچھ لوگوں کو میرا مسلمان ہونا ہی پریشانی کا باعث ہے، کسی کو اذان سے پریشانی ہے کسی کو کلمہ پڑھنے سے پریشانی ہے تو کیا ہم کلمہ پڑھنا چھوڑ دیں؟"
مذکورہ بالا اقتباس کو بنظر غائر پڑھیں اور دیکھیں کہ کس طرح ان حضرات کے یہاں پروفیسرانہ اعتراضات کو سراہا جاتا ہے جب بعض حضرات نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اشعار سے احتراز چاہئیے جن کا عوام کو جواب دینے میں پریشانی ہو تو پروفیسر صاحب نے کہا:
لوگوں کو پریشانی تو ہمارے مسلمان ہونے میں بھی ہے ہمارے کلمہ پڑھنے پر بھی ہے تو کیا کلمہ پڑھنا چھوڑ دیں؟
واقعی یہ پروفیسرانہ اعتراض ذیشان مصباحی اور دگر اساتذۂ عارفیہ کے سامنے جو پیش کیا گیا کمال کا ہے
شاید پروفیسر صاحب بھول گئے کہ دنیا بہت بڑی ہے اگر چہ ان کے اس اعتراض کو ممدوحین سراویہ نے سراہا لیکن حلقۂ ارباب علم و دانش میں ان کی فقاہت دانی کا راز کھل گیا ،
پروفیسر صاحب سے پوچھا جائے کیا ایسے اشعار کو پڑھنے سے فقہا نے منع نہیں فرمایا جن سے عوام کا ذہن خلفشار کا شکار ہو جائے ؟
دیکھیے فتاوی رضویہ شریف میں ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئہ میں کہ اکثر میلاد خواں مجلس میلاد شریف میں مفصلہ تحت مضامین کے نظم یا نثر پڑھتے ہیں
١) میم کی چادر مکھ پر ڈالے احمد بن کر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
(اس کے بعد چھ سوالات اور ہیں جن کو بخوف طوالت نقل نہیں کیا ہوں میرا مستدل یہی سوال ہے اسی لیے اسی پر اکتفا کرتا ہوں ما بقی کے لیے اصل کتاب کی طرف مراجعت فرمائیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا ایسے مضامین کا پڑھنا اور سننا شرع شریف میں کیا حکم رکھتا ہے ؟
الجواب
١) اگر آیا کی ضمیر حضرت عز جلالہ کہ طرف ہے تو بے شک عوام کا ایسا بکنا صریح کلمۂ کفر ہے اور اگر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے تو حضور بے شک احد و احمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم دونوں حضور کے اسمائے طیبہ سے ہیں اور معنی یہ کہ حضور مظہر شان احدیت ہیں تجلی احدیت حضور کی عبدیت میں جلوہ گر ہے ، اگر میم کہ طوق و کمر پرستش ساتر نہ ہو تو عالم میں کوئی دیکھنے کی تاب نہ لائے، پھر بھی ایسے لفظ سے بچنے ہی کا حکم ہے کہ عوام کا ذہن ایسی دقیق توجیہ کی طرف نہ جائے گا اور ان کے فساد کا عقیدہ یا اس بات کا موہم ہوگا کہ وہ قائل کو گمراہ جانیں،
حدیث میں ہے
ایاک و ما یتعذر منہ فان الخیر لا یتعذر منہ
{المستدرک للحاکم کتاب الرقاق دار الفکر بیروت ٤/٣٢٧ }

ترجمہ :
ہر اس شئ سے بچو جس میں معذرت کرنی پڑے اور خیر میں معذرت نہیں کرنا پڑتی
دوسری حدیث میں ہے
ایاک و ما یسوء الاذن {مسند امام احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابو العادیہ دار الفکر بیروت ٤/٧٦}
ترجمہ: ہر اس شی سے بچو جسے کان برا جانیں
تیسری حدیث میں ہے

حدثوا الناس بما یعرفون {کنز العمال حدیث نمبر ٢٩٣١٨ موسسة الرسالة بيروت ١٠/ ٢٤٧}
ترجمہ: لوگوں سے وہی بیان کرو جو ان کے لیے معروف ہے ،
چوتھی حدیث میں ہے
ما انت بمحدث قوم حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ {صحیح مسلم باب النھی عنہ الروایہ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کرانچی ٩/١}
ترجمہ : جب کوئی کسی قوم کو ایسی بات بیان کرے گا جہاں تک ان کی عقل کی رسائی نہیں تو وہ ان میں فتنہ کا سبب بنے گا ،
(فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص ٢٠٦ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی)
اب اس فتوئ مستنیر اور ان چار احادیث نبویہ کی روشنی میں پروفیسر صاحب بتائیں کیا ان کا کہا ہوا درست ہے؟
حاشا للہ ہر گز نہیں بلکہ یہ اپنی بات منوانے کے لیے سامنے والے کو وقتی طور چپ تو کرا سکتے ہیں لیکن حق کو دبا نہیں سکتے حق تو سر چڑھ کر بولتا ہے
جو حق ہے اے جسیم کہو تم بر سر محفل
کہیں حق بات کہنے سے پشیمانی نہیں ہوتی
مزید موصوف لکھتے ہیں:
سب کو سننے دیکھنے کے بعد
حضرت مفتی عبید الرحمان رشیدی مصباحی صاحب قبلہ نے جو جواب دیا وہ قابل غور بھی ہے قابل توجہ بھی ہے قابل ذکر بھی ہے اور زندگی بھر یاد رکھنے اور سبق حاصل کرنے کے قابل بھی، آپ نے فرمایا کہ
جن کو یہ شعر سمجھ میں نہیں آ رہا ہے یا اعتراض کر رہے ہیں وہ مجھے قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ سمجھا دیں :
ھوَ الۡاَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الۡبَاطِنُ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ (سورة الحديد ٣) وہی اول ہے اور وہی آخر ، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہی ہرچیز کو بخوبی جاننے والا ہے ۔
اول سمجھ میں آتا ہے آخر سمجھ میں آتا ہے باطن سمجھ میں آتا ہے لیکن اللہ ظاہر کہاں ہے ؟ سمجھاؤ مجھکو ذرا ! چلو ٹھیک ہے !
یہ نہیں تو اعلی حضرت کا یہ شعر سمجھا دو
جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے

نورِ وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی ﷺ

اس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اللہ کے نور کا ٹکڑا بتایا گیا ہے اب ظاہر سی بات ہے ٹکڑا ہونے کا مطلب کسر کو قبول کرنا ہے اور جو چیز کسر کو قبول کرے وہ حادث ہے حادث کا قیام قدیم کے ساتھ نہیں ہو سکتا ۔ لہذا !جس دن قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا یہ شعر سمجھ جاؤ گے اس دن تم حضرت بیدم شاہ وارثی صاحب کا یہ شعر بھی سمجھ جاؤگے اعتراض کرنے والے پہلے ان چیزوں کو سمجھیں اس کے بعد اعتراض کریں۔"
ایک نظر ادھر بھی___
محترم قارئین کرام آپ مذکورہ بالا سطور مفتی عبید الرحمن رشیدی صاحب قبلہ کے حوالے سے پڑھ کر سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں اگر نہیں سمجھیں ہیں تو دو بارہ پڑھ لیجیے
آیت کریمہ کی توضیح_
مفتی صاحب قبلہ آیت کریمہ میں الظاہر کے بارے میں فرما رہے مجھے سمجھاؤ ذرا۔
تفسیر جلالین میں ہے
و الظاہر (بالادلۃ علیہ)
یعنی : ظاہر سے مراد یہ کہ اللہ جل و علا دلائل و براہین کے ذریعہ ایسا ظاہر ہے کہ ذرے ذرے پر اس کے وجود پر دلالت کرنے والے دلائل موجود ہیں یا اللہ تعالیٰ کے ظاہر ہونے کے معنی یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے
اور اگر سوال یہ ہے کہ اللہ جل و علا ظاہر ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا ؟
تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اللہ جل و علا کو حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اقدس کی آنکھوں سے دیکھا جس پر کثیر احادیث دال ہیں اگر اللہ جل و علا ظاہر نہ ہوتا تو پھر حضور کو زیارت کیسے ہوتی؟
اور ان شاءاللہ تعالیٰ تمام مومنین جنت میں اللہ جل و کو دیکھیں گے ،
شعر اعلی حضرت ____
نور وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی
اس مصرع کے بارے میں مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا :
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور ٹکڑا بتایا گیا ہے اب ظاہر سی بات ہے ٹکڑا ہونے کا مطلب کسر کو قبول کرنا ہے اور جو کسر کو قبول کرے وہ حادث ہے اور حادث کا قیام قدیم کے ساتھ نہیں ہو سکتا ،
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ٹکڑا کا معنی وہ نہیں ہے جو مفتی صاحب نے بیان کیا بلکہ یہاں ٹکڑا کا معنی پیارا ہے جیسا کہ عرف میں اولاد یا کسی عزیز کے لیے بولا جاتا ہے جگر کا ٹکڑا دل کا ٹکڑا چاند کا ٹکڑا لیکن عرف میں کبھی بھی کوئی بھی اس سے یہ نہیں سمجھتا ہے فلاں کو فلاں نے دل کا ٹکڑا کہا تو وہ واقعی نفس دل کا ٹکڑا ہو گیا نہ کسی کا یہاں ذہن جاتا ہے بلکہ ہر کوئی اس سے یہی سمجھتا ہے کہ اس سے مراد سامنے والے کو عزیز پیارا بتانا مقصود ہے جیسا کہ نور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل وعلا کا نور ذاتی کہنے سے نہ عین ذات نہ جزو ذات ہونا لازم ، نہ مسلمانوں پر بد گمانی جائز نہ عرف عام علماء و عوام میں اس سے یہ معنی مفہوم ،
ذاتی کی یہ اصطلاح کہ عین ذات یا جزو ماہیت ہو ، خاص ایسا غوجی کی اصطلاح ہے علماء عامہ کے عرف میں نہ یہ معنی مراد ہوتے ہیں نہ ہر گز مفہوم ، عام محاورہ میں کہتے ہیں یہ میں نے اپنے ذاتی علم سے کہتا ہوں یعنی کسی کی سنی سنائی نہیں ، یہ مسجد میں نے اپنے ذاتی روپیہ سے بنائی ہے یعنی چندہ وغیرہ مال غیر سے نہیں، یہاں پر ذاتی کے استعمال سے کوئی بھی عرف میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ شخص ذاتی کہہ کر عطائی کا انکار کر رہا ہے ورنہ یہ تو شرک ہوتا بلکہ یہاں ذاتی سے مراد وہ ذاتی حقیقی نہیں جو عطائی کے بالمقابل ہے بلکہ یہاں عرف مراد ہے ایسے ہی ٹکڑا جو عرف میں بولا جاتا پیارا یا عزیز کے معنی میں وہی مراد ہے
اب شعر کا مطلب یہ ہوگا
کہ جس نے چاند کے دو ٹکڑے کیے وہ نور وحدت کا پیارا ہمارا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
ہاں یہ بھی یاد رہے_
معترض اس توضیح پر یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ جب حضور اعلی حضرت کے شعر مذکور میں ٹکڑا کا معنی پیارا کر کے شعر کے صحیح معنی و مفاہیم کو بیان کیا گیا اسی طرح زیر بحث شعر میں زیر بحث مصرع یعنی
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
میں خدا کا معنی آقا کر لیا جائے اور یہیں سے مسئلہ کا تصفیہ کر لیا جائے؟
تو اس کا جواب یہ ہوگا
کہ زیر بحث میں مصرع میں جو لفظ خدا ہے تو آیا یہ کہ
کیا عرف میں لفظ خدا آقا کے معنی میں مستعمل ہے ؟
کیا کبھی آپ عام بول چال یعنی عرف میں اپنے باپ کو خدا کہتے ہیں جس طرح اپنے بیٹے کو جگر کا ٹکڑا کہتے ہیں؟
کیا عرف میں میں لفظ خدا سننے کے بعد سوائے خدا کے کسی اور طرف ذہن و دماغ متبادر ہوتا ہے ؟
آپ کہیں گے عرف میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا ہے تو پھر آپ ہی بتائیں کہ ان دونوں شعر کو ایک ہی پلے میں رکھ کر کیسے تصفیہ کر لیا جائے ؟
جب ان دونوں شعر میں اتنا بڑا فرق ہے تو کیونکر دونوں کو ایک ہی حکم میں شامل کیا جائے گا ؟
پتہ چلا زیر بحث شعر میں ضرور بالضرور شرعی خامی ہے جس کا حکم فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں اوپر بیان کیا جا چکا
چلیے اب مفتی عبید الرحمن رشیدی صاحب قبلہ کے دوسرے اقتباس کی طرف رخ کرتے ہیں
موصوف مفتی صاحب قبلہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"اس کے بعد فرمایا کہ
اب میری بات سنو !
رہی بات سید سراواں کی تو نہ یہ شعر سید سراواں سے جڑا ہوا کسی فرد کا ہے اور نہ ہی پڑھنے والا قوال سید سراواں کا ہے ، یہ شعر بیدم شاہ وارثی صاحب کا ہے اور پڑھنے والا قوال خیرآباد کا ہے۔ لیکن سید سراواں میں صرف ایک بار پڑھا گیا تھا۔
ہاں! ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ
جب وہاں پڑھا گیا تو روکا کیوں نہیں گیا ؟
البتہ یہ واضح رہے کہ اس کا جواب ابھی دیا جا چکا ہے کہ اس شعر میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔
وہ یوں کہ لفظ خدا فارسی ہے اور فارسی زبان سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والے بندہ کو معلوم ہے کہ خدا فارسی میں آقا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے
تو اس شعر
عشق کی ابتدا بھی تم حسن کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
کا مطلب یہ ہوگا کہ
یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و سلم
آپ اللہ کے بندے اور مخلوق خدا کے آقا ہیں
اسی مفہوم کو اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی نے آسان زبان میں یوں کہا ہے کہ
لیکن رضؔا نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے"
ایک طائرانہ نظر__
اس میں تو پہلے یہ کہا گیا کہ یہ شعر بیدم شاہ وارثی کا ہے
پہلے تو یہ ثابت ہو کہ یہ شعر بیدم شاہ وارثی کا ہے کیا یہ شعر کلیات بیدم شاہ وارثی میں اگر ہے تو ھاتوا برھانکم
ڈھونڈھ لیجیے پوری کلیات بیدم ڈھونڈتے ڈھونڈتے بے دم تو ہو جائیں گے لیکن سراوی کو مجال دم زدنی نہیں ہوگا
مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب وہاں پڑھا گیا تو روکا کیوں نہیں گیا ؟
اور اس جواب میں فرمایا :
وہ اس لیے کہ اس شعر میں شرعی کوئی قباحت نہیں
خدا کی پناہ فتاوی رضویہ شریف کی عبارت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ یہ پڑھنا حرام اس کا ظاہر صریح کفر کوئی معتقد ہو تو قطعا کافر ،
لیکن افسوس مفتی صاحب قبلہ کو اس کے اندر کچھ قباحت بھی نظر نہیں آئی اس پر مزید جرأت یہ کہ اس میں دلیل بھی پیش کی لفظ خدا فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی آقا بھی ہوتا ہے لہذا یہاں آقا کے معنی میں ہے
خدا خیر فرمائے
کیا مفتی صاحب قبلہ کے سامنے النبراس کی یہ عبارت بھی نہیں تھی
نبراس میں ہے
واذا ورد الشرع باطلاق اسم بلغۃ کلفظ الله فھو اذن باطلاق مایرادفہ من تلک اللغۃ کالواجب والقدیم او من لغۃ اخری کاسم خدا بالفارسیۃ
(النبراس للعلامۃ محمد عبدالعزیز الفرھاری ص ۲۴۸)
ترجمہ: اورجب شریعت میں ذات باری تعالیٰ پر کسی خاص زبان کے کسی لفظ کا اطلاق منقول ہو جیسے کہ لفظ اللہ تو اس لفظ کے دیگر مترادف الفاظ کے اطلاق کی بھی اجازت ہوگی، خواہ وہ مترادف لفظ اسی زبان کا ہو جیسے قدیم اور واجب (کیونکہ یہ دونوں لفظ عربی زبان کے ہیں اور لفظ اللہ کے مترادف ہیں) یا کسی دوسری زبان کا لفظ ہو جیسے کہ لفظ خدا جوکہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔
اس عبارت میں علامہ سعد الدین تفتازانی کی متن پر علامہ عبد العزیز فرھاری نے صراحت فرمائی ہے کہ لفظ اللہ اور خدا مترادف ہیں،فرق بس یہ ہےکہ اللہ عربی زبان کا لفظ ہے اور خدا فارسی زبان کا لفظ ہے۔
شرح عقائد کی شرح النبراس کی صراحت کے مطابق اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مطلقاً لفظ خدا لفظ اللہ کا مترادف ہے،
(ماخوذ از تحریر ڈاکٹر اختر مصباحی)
اتنی توضیح کے بعد اعلی حضرت کا شعر "خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے مفتی صاحب نے پیش کیا ہے وہ سب پر واضح ہو گیا ہوگا شعر بر محل ہے یا بے محل
کہاں امام کا شعر جس کو پڑھنے کے بعد انسان کا ایمان تازہ ہو جائے اور کہاں وہ شعر کہ جس کے پڑھنے سے انسان کو ایمان کے لالے پڑ جائے
اخیر میں ذیشان مصباحی صاحب کی نصیحت ذیشان مصباحی صاحب کو کچھ ترمیم کے ساتھ واپس کرتا ہوں کیونکہ اس کی ان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے
تعلیم یافتہ مومن اور پڑھا لکھا مسلمان
ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ اصولی ایمان و عقیدہ کے حوالے سے جاہلانہ رقص و سرور کے محافل نہ سجائیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم و تحقیق کے دینی شرعی تقاضے پورا کریں پھر زبان و قلم سے کوئی خدمت لیں کیونکہ آپ لوگ اپنے ایمان و عمل سے کسی کو مومن اور مسلمان نہیں بنا سکتے تو کسی مومن اور مسلمان کو رقص و سرور کی محفلیں سجا کر بظاہر کفری اشعار بھی نہ سنائیں اور آپ کی مومنانہ غیرت زندہ ہے تو خود بھی یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ بہر حال آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ عوام کو شش و پنج میں ڈال کر بے یار و مددگار چھوڑ دیں
آپ حضرات سوشل میڈیا میں دجالی مرگھٹ بنا کر مومنوں اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کے مضحکہ خیز جنازے نہ نکالیں کیونکہ اسے دیکھ کر شدید تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارے آستیں میں پلنے والے کس قدر فرصت میں ہیں کہ وہ سب کر رہے ہیں جو نہیں کرنا چاہیے اور اس کے لئے بالکل بھی ان کے پاس فرصت نہیں جو بہر حال کرنا چاہیے تو کیا آپ کو اس افراط و تفریط کا حساب و کتاب نہیں دینا ہوگا؟
عقل چوپایوں کو دے بیٹھے حکیم تھانوی
میں نہ کہتا تھا کہ صحبت دیو کی اچھی نہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دشت طیبہ چھوڑ کر میں سیر جنت کو چلوں
رہنے دیجیے شیخ جی دیوانگی اچھی نہیں
اللہ سراویوں کو ہدایت دے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
نوٹ__اعمی فی الارادت پیری مریدی میں اندھے شخص کو کہا جاتا ہے

رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

رہنے_دو_راز_کھل_گیا_! [اعمی فی الارادت سراویوں کا تعاقب]
از____محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
متعلم جامعۃ الرضا بریلی شریف یوپی
حامیین طواغیت اربعہ یعنی فتنۂ سراویہ نے اپنی گمراہیت کی نشر و اشاعت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تحقیق کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے لگے لیکن خدا کی مار کہ وہ دھول سراویوں ہی کے سر جا پڑی
حالیہ دنوں میں حامی فتنۂ سراویہ محمد صدام صاحب کی ایک تحریر نظر سے گزری جس کو مولانا ذیشان مصباحی صاحب نے اختصارا اپنی وال سے نشر کیا۔
آئیے اس مختصر سی تمہید کے بعد موصوف کی تحریر پر تجزیاتی طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تاکہ آپ کے سامنے حقیقت کا انکشاف ہو جائے اور حق و باطل میں آپ خود خط امتیاز کھینچ سکیں
موصوف لکھتے ہیں ___
"حسب روایت عرس عارفی (2011) کے موقع پر بڑی درگاہ پر غسل سے پہلے محفل سماع منعقد کی گئی اس میں باہر سے آیا ہوا قوال جس کا تعلق خیرآباد شریف (سے) تھا حضرت بیدم شاہ وارثی کا یہ کلام پڑھ رہا تھا ۔
عشق کی ابتدا بھی تم حسن کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
اس مجلس میں الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اور دیگر مدارس کے طلبہ بھی موجود تھے۔ دوسرے مدرسے سے آئے ہوئے طلبہ اس شعر کو سمجھ نہ سکے اور اس کی تاویل بھی ان سے نہ بن سکی، ان کے دل میں ایک خلجان پیدا ہو گیا ، انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ خانقاہ کےصاحب سجادہ (ابو میاں قبلہ) سے اس معاملہ کا تصفیہ کر لیتے جن کی موجودگی میں یہ شعر پڑھا گیا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ وہ اس خلجان کے ساتھ اپنے اپنے دار العلوم لوٹ گئے ۔ واپس جا کر انہوں نے اس شعر کی خوب تشہیر کی جس کی وجہ سے ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ ظلم یہ ہوا کہ شعر و شاعری سے عدم واقفیت یا تجاہلِ عارفانہ کے سبب اس شعر کو خانقاہ عارفیہ کے صاحب سجادہ کی طرف منسوب کر دیا گیا ۔ پھر کیا تھا مفتیان کرام کی دینی حمیت بھڑک اٹھی فتویٰ کے گولے داغے جانے لگے نہ قرآنی تحقیق نہ مومنانہ تفتیش، گمراہی وضلالت کا حکم لگانے کے لئے خانقاہ عارفیہ کا نام ہی کافی تھا"
قارئین کرام: غور فرمائیں کہ مذکورہ تحریر میں موصوف نے اقرار کیا یہ شعر خانقاہ عارفیہ بڑی درگاہ میں ابو میاں کے سامنے پڑھا گیا اور در پردہ یہ بھی اقرار کیا کہ مصرع ثانی
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
سننے کے با وجود محفل میں ابو میاں خاموش رہے اور قوال گنگناتے رہے بلکہ یوں کہیے کہ رقص و سرور کی محفل جمی رہی اور متصوفانہ انداز میں یہ حضرات لطف اندوز ہوتے رہے
لیکن بعض اہل حق، حق پسند، حق شناس، حق آگاہ، حق کے متلاشی کو ابو میاں کی یہ ادا پسند نہ آئی اور وہ اپنے دار العلوم کی طرف رواں دواں ہو گئے ،
الزام____
ایک قدم آگے بڑھ کر موصوف نے سینۂ قرطاس پر یہ الزام بھی ارقام کیا :
ہماری محفل رقص و سرور کے مالہ و ما علیہ کو دیکھ کر متلاشیان حق کی دینی حمیت ایسی بھڑک اٹھی کہ انھوں نے ہمارے نازک سینے پر بغیر تحقیق و تفتیش کے ضلالت و گمرہی کے گولے داغے اور سینے چاک چاک کر دیے ،
الزام کی سرکوبی____
آئیے پھر ایک بار فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں اس الزام بلا دلیل باطل و ذلیل کی سر کوبی کرتے ہوئے سینۂ فتنۂ سراویہ پر گولے داغ کر چاک چاک کیے دیتے ہیں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ پہلے جو گولے داغے گئے تھے وہ بلا تحقیق و تفتیش بے محل نہیں بلکہ بالتحقیق و التفتیش بر محل تھے،
فتاوی رضویہ شریف سے سوال و جواب من و عن ملاحظہ فرمائیں:
مسئلہ:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئہ میں کہ
ہمارے سرور عالم کا رتبہ کوئی کیا کا جانے
خدا سے ملنا چاہے تو محمد کو خدا جانے
یہ شعر عام طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میلاد میں پڑھنا درست ہے یا نہیں ،
الجواب:
اس شعر کا ظاہر صریح کفر ہے اور اس کا پڑھنا حرام ہے اور جو اس کے ظاہر مضمون کا معتقد ہو یقینا کافر ہے ہاں اگر بقرینۂ مصرعۂ اولی یہ تاویل کرے کہ خدا سے ملنا چاہے تو یوں سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو اللہ ہی جانتا ہے تو یہ معنی صحیح ہے ، مگر ایسا لفظ بولنا جائز نہیں رد المحتار میں ہے مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المعنی، و اللہ تعالیٰ اعلم
(فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص ٢٠٨ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی)
قارئین کرام: مذکورہ بالا فتوی میں مسطور شعر کی جگہ موصوف کا رقم کردہ شعر رکھیں اور پھر پڑھیں رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
کیا اس کا ظاہر صریح کفر نہیں ؟
کیا اس کے ظاہر پر اعتقاد رکھنے والا قطعا کفر نہیں؟
کیا معنئ احتمالی مراد لینے پر بھی اسے پڑھنا محفل میں حرام قرار نہیں دیا جائے گا؟
بار بار مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھیں اور خود فیصلہ کریں کیا حق اور کیا باطل ہے ؟
موصوف نے کہا :
جو حضرات محفل سے خانۂ اذہان میں خلجان لیے ہوئے چلے گئے انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ ابو میاں سے اس معاملے کا تصفیہ کر لیتے جن کی موجودگی میں یہ شعر پڑھا گیا تھا ،
موصوف نے تو ایک رخ پر عنانِ قلم کو خوب حرکت دی لیکن دوسرے رخ کی طرف خامہ فرسائی سے کیونکر دست بردار ہو گئے
انصاف کا تقاضا تو یہ بھی تھا کہ جس وقت قوال نے یہ شعر پڑھا ابو میاں بر جستہ اسے پڑھنے سے روک دیتے اور کہتے ایسے اشعار کا پڑھنا حرام ہے محفل میں ہر طرح کے لوگ بیٹھتے ہیں پتہ نہیں کس کے دل میں کیا گزرے گا؟
اس کا ظاہری معنی کفر و ارتداد پر مشتمل ہے اسے بند کرو اور توبہ کرو آخر ان باتوں سے کیوں خاموش رہے ؟
ایسی صریح غلطی پر موصوف کے داعی اسلام کو لب کشائی کرنے سے کس چیز نے روک دیا ؟
کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ محفل کو ممنوعات و منھیات سے پاک و صاف رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے؟
یا اعمی فی الارادت میں اس شق کو فراموش کر گئے؟
لٹتی ہے سر بزم یہاں دین کی دولت
آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے
(جسیم اکرم)
موصوف لکھتے ہیں:
" تقریباً دو سال کے بعد (2013) بنارس میں ایک سیمینار ہوا جس میں ملک کے مختلف مدارس کے علماء تشریف لائے جس میں جامعہ عارفیہ کے اساتذہ میں سے مولانا مجیب الرحمٰن صاحب اور مولانا محمد ذیشان احمد مصباحی بھی تشریف لے گئے، اس مجلس میں محترم مولانا مجیب الرحمٰن علیمی نے حضرت بیدم شاہ وارثی کے اس کلام کو سامنے رکھتے ہوئے علماء سے سوال کیا کہ اس میں کیا قباحت ہے؟
اس پر بعض حضرات کی یہ رائے تھی کہ ایسا کلام نہیں پڑھنا چاہیئے جس کی وجہ سے عوام الناس کو جواب دینے میں پریشانی ہو لیکن حضرت پروفیسر سید شمیم الدین احمد منعمی صاحب فرمانے لگے کہ پریشانی تو کسی کو ، کسی سے بھی ہو سکتی ہے مثال کے طور پر کچھ لوگوں کو میرا مسلمان ہونا ہی پریشانی کا باعث ہے، کسی کو اذان سے پریشانی ہے کسی کو کلمہ پڑھنے سے پریشانی ہے تو کیا ہم کلمہ پڑھنا چھوڑ دیں؟"
مذکورہ بالا اقتباس کو بنظر غائر پڑھیں اور دیکھیں کہ کس طرح ان حضرات کے یہاں پروفیسرانہ اعتراضات کو سراہا جاتا ہے جب بعض حضرات نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اشعار سے احتراز چاہئیے جن کا عوام کو جواب دینے میں پریشانی ہو تو پروفیسر صاحب نے کہا:
لوگوں کو پریشانی تو ہمارے مسلمان ہونے میں بھی ہے ہمارے کلمہ پڑھنے پر بھی ہے تو کیا کلمہ پڑھنا چھوڑ دیں؟
واقعی یہ پروفیسرانہ اعتراض ذیشان مصباحی اور دگر اساتذۂ عارفیہ کے سامنے جو پیش کیا گیا کمال کا ہے
شاید پروفیسر صاحب بھول گئے کہ دنیا بہت بڑی ہے اگر چہ ان کے اس اعتراض کو ممدوحین سراویہ نے سراہا لیکن حلقۂ ارباب علم و دانش میں ان کی فقاہت دانی کا راز کھل گیا ،
پروفیسر صاحب سے پوچھا جائے کیا ایسے اشعار کو پڑھنے سے فقہا نے منع نہیں فرمایا جن سے عوام کا ذہن خلفشار کا شکار ہو جائے ؟
دیکھیے فتاوی رضویہ شریف میں ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئہ میں کہ اکثر میلاد خواں مجلس میلاد شریف میں مفصلہ تحت مضامین کے نظم یا نثر پڑھتے ہیں
١) میم کی چادر مکھ پر ڈالے احمد بن کر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
(اس کے بعد چھ سوالات اور ہیں جن کو بخوف طوالت نقل نہیں کیا ہوں میرا مستدل یہی سوال ہے اسی لیے اسی پر اکتفا کرتا ہوں ما بقی کے لیے اصل کتاب کی طرف مراجعت فرمائیں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لہذا ایسے مضامین کا پڑھنا اور سننا شرع شریف میں کیا حکم رکھتا ہے ؟
الجواب
١) اگر آیا کی ضمیر حضرت عز جلالہ کہ طرف ہے تو بے شک عوام کا ایسا بکنا صریح کلمۂ کفر ہے اور اگر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے تو حضور بے شک احد و احمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم دونوں حضور کے اسمائے طیبہ سے ہیں اور معنی یہ کہ حضور مظہر شان احدیت ہیں تجلی احدیت حضور کی عبدیت میں جلوہ گر ہے ، اگر میم کہ طوق و کمر پرستش ساتر نہ ہو تو عالم میں کوئی دیکھنے کی تاب نہ لائے، پھر بھی ایسے لفظ سے بچنے ہی کا حکم ہے کہ عوام کا ذہن ایسی دقیق توجیہ کی طرف نہ جائے گا اور ان کے فساد کا عقیدہ یا اس بات کا موہم ہوگا کہ وہ قائل کو گمراہ جانیں،
حدیث میں ہے
ایاک و ما یتعذر منہ فان الخیر لا یتعذر منہ
{المستدرک للحاکم کتاب الرقاق دار الفکر بیروت ٤/٣٢٧ }

ترجمہ :
ہر اس شئ سے بچو جس میں معذرت کرنی پڑے اور خیر میں معذرت نہیں کرنا پڑتی
دوسری حدیث میں ہے
ایاک و ما یسوء الاذن {مسند امام احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابو العادیہ دار الفکر بیروت ٤/٧٦}
ترجمہ: ہر اس شی سے بچو جسے کان برا جانیں
تیسری حدیث میں ہے

حدثوا الناس بما یعرفون {کنز العمال حدیث نمبر ٢٩٣١٨ موسسة الرسالة بيروت ١٠/ ٢٤٧}
ترجمہ: لوگوں سے وہی بیان کرو جو ان کے لیے معروف ہے ،
چوتھی حدیث میں ہے
ما انت بمحدث قوم حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ {صحیح مسلم باب النھی عنہ الروایہ عن الضعفاء قدیمی کتب خانہ کرانچی ٩/١}
ترجمہ : جب کوئی کسی قوم کو ایسی بات بیان کرے گا جہاں تک ان کی عقل کی رسائی نہیں تو وہ ان میں فتنہ کا سبب بنے گا ،
(فتاوی رضویہ شریف جلد ششم ص ٢٠٦ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی)
اب اس فتوئ مستنیر اور ان چار احادیث نبویہ کی روشنی میں پروفیسر صاحب بتائیں کیا ان کا کہا ہوا درست ہے؟
حاشا للہ ہر گز نہیں بلکہ یہ اپنی بات منوانے کے لیے سامنے والے کو وقتی طور چپ تو کرا سکتے ہیں لیکن حق کو دبا نہیں سکتے حق تو سر چڑھ کر بولتا ہے
جو حق ہے اے جسیم کہو تم بر سر محفل
کہیں حق بات کہنے سے پشیمانی نہیں ہوتی
مزید موصوف لکھتے ہیں:
سب کو سننے دیکھنے کے بعد
حضرت مفتی عبید الرحمان رشیدی مصباحی صاحب قبلہ نے جو جواب دیا وہ قابل غور بھی ہے قابل توجہ بھی ہے قابل ذکر بھی ہے اور زندگی بھر یاد رکھنے اور سبق حاصل کرنے کے قابل بھی، آپ نے فرمایا کہ
جن کو یہ شعر سمجھ میں نہیں آ رہا ہے یا اعتراض کر رہے ہیں وہ مجھے قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ سمجھا دیں :
ھوَ الۡاَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الۡبَاطِنُ ۚ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ (سورة الحديد ٣) وہی اول ہے اور وہی آخر ، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہی ہرچیز کو بخوبی جاننے والا ہے ۔
اول سمجھ میں آتا ہے آخر سمجھ میں آتا ہے باطن سمجھ میں آتا ہے لیکن اللہ ظاہر کہاں ہے ؟ سمجھاؤ مجھکو ذرا ! چلو ٹھیک ہے !
یہ نہیں تو اعلی حضرت کا یہ شعر سمجھا دو
جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے

نورِ وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی ﷺ

اس میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اللہ کے نور کا ٹکڑا بتایا گیا ہے اب ظاہر سی بات ہے ٹکڑا ہونے کا مطلب کسر کو قبول کرنا ہے اور جو چیز کسر کو قبول کرے وہ حادث ہے حادث کا قیام قدیم کے ساتھ نہیں ہو سکتا ۔ لہذا !جس دن قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا یہ شعر سمجھ جاؤ گے اس دن تم حضرت بیدم شاہ وارثی صاحب کا یہ شعر بھی سمجھ جاؤگے اعتراض کرنے والے پہلے ان چیزوں کو سمجھیں اس کے بعد اعتراض کریں۔"
ایک نظر ادھر بھی___
محترم قارئین کرام آپ مذکورہ بالا سطور مفتی عبید الرحمن رشیدی صاحب قبلہ کے حوالے سے پڑھ کر سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں اگر نہیں سمجھیں ہیں تو دو بارہ پڑھ لیجیے
آیت کریمہ کی توضیح_
مفتی صاحب قبلہ آیت کریمہ میں الظاہر کے بارے میں فرما رہے مجھے سمجھاؤ ذرا۔
تفسیر جلالین میں ہے
و الظاہر (بالادلۃ علیہ)
یعنی : ظاہر سے مراد یہ کہ اللہ جل و علا دلائل و براہین کے ذریعہ ایسا ظاہر ہے کہ ذرے ذرے پر اس کے وجود پر دلالت کرنے والے دلائل موجود ہیں یا اللہ تعالیٰ کے ظاہر ہونے کے معنی یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے
اور اگر سوال یہ ہے کہ اللہ جل و علا ظاہر ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا ؟
تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اللہ جل و علا کو حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اقدس کی آنکھوں سے دیکھا جس پر کثیر احادیث دال ہیں اگر اللہ جل و علا ظاہر نہ ہوتا تو پھر حضور کو زیارت کیسے ہوتی؟
اور ان شاءاللہ تعالیٰ تمام مومنین جنت میں اللہ جل و کو دیکھیں گے ،
شعر اعلی حضرت ____
نور وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی
اس مصرع کے بارے میں مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا :
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نور ٹکڑا بتایا گیا ہے اب ظاہر سی بات ہے ٹکڑا ہونے کا مطلب کسر کو قبول کرنا ہے اور جو کسر کو قبول کرے وہ حادث ہے اور حادث کا قیام قدیم کے ساتھ نہیں ہو سکتا ،
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ٹکڑا کا معنی وہ نہیں ہے جو مفتی صاحب نے بیان کیا بلکہ یہاں ٹکڑا کا معنی پیارا ہے جیسا کہ عرف میں اولاد یا کسی عزیز کے لیے بولا جاتا ہے جگر کا ٹکڑا دل کا ٹکڑا چاند کا ٹکڑا لیکن عرف میں کبھی بھی کوئی بھی اس سے یہ نہیں سمجھتا ہے فلاں کو فلاں نے دل کا ٹکڑا کہا تو وہ واقعی نفس دل کا ٹکڑا ہو گیا نہ کسی کا یہاں ذہن جاتا ہے بلکہ ہر کوئی اس سے یہی سمجھتا ہے کہ اس سے مراد سامنے والے کو عزیز پیارا بتانا مقصود ہے جیسا کہ نور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل وعلا کا نور ذاتی کہنے سے نہ عین ذات نہ جزو ذات ہونا لازم ، نہ مسلمانوں پر بد گمانی جائز نہ عرف عام علماء و عوام میں اس سے یہ معنی مفہوم ،
ذاتی کی یہ اصطلاح کہ عین ذات یا جزو ماہیت ہو ، خاص ایسا غوجی کی اصطلاح ہے علماء عامہ کے عرف میں نہ یہ معنی مراد ہوتے ہیں نہ ہر گز مفہوم ، عام محاورہ میں کہتے ہیں یہ میں نے اپنے ذاتی علم سے کہتا ہوں یعنی کسی کی سنی سنائی نہیں ، یہ مسجد میں نے اپنے ذاتی روپیہ سے بنائی ہے یعنی چندہ وغیرہ مال غیر سے نہیں، یہاں پر ذاتی کے استعمال سے کوئی بھی عرف میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ شخص ذاتی کہہ کر عطائی کا انکار کر رہا ہے ورنہ یہ تو شرک ہوتا بلکہ یہاں ذاتی سے مراد وہ ذاتی حقیقی نہیں جو عطائی کے بالمقابل ہے بلکہ یہاں عرف مراد ہے ایسے ہی ٹکڑا جو عرف میں بولا جاتا پیارا یا عزیز کے معنی میں وہی مراد ہے
اب شعر کا مطلب یہ ہوگا
کہ جس نے چاند کے دو ٹکڑے کیے وہ نور وحدت کا پیارا ہمارا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
ہاں یہ بھی یاد رہے_
معترض اس توضیح پر یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ جب حضور اعلی حضرت کے شعر مذکور میں ٹکڑا کا معنی پیارا کر کے شعر کے صحیح معنی و مفاہیم کو بیان کیا گیا اسی طرح زیر بحث شعر میں زیر بحث مصرع یعنی
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
میں خدا کا معنی آقا کر لیا جائے اور یہیں سے مسئلہ کا تصفیہ کر لیا جائے؟
تو اس کا جواب یہ ہوگا
کہ زیر بحث میں مصرع میں جو لفظ خدا ہے تو آیا یہ کہ
کیا عرف میں لفظ خدا آقا کے معنی میں مستعمل ہے ؟
کیا کبھی آپ عام بول چال یعنی عرف میں اپنے باپ کو خدا کہتے ہیں جس طرح اپنے بیٹے کو جگر کا ٹکڑا کہتے ہیں؟
کیا عرف میں میں لفظ خدا سننے کے بعد سوائے خدا کے کسی اور طرف ذہن و دماغ متبادر ہوتا ہے ؟
آپ کہیں گے عرف میں ایسا ہر گز نہیں ہوتا ہے تو پھر آپ ہی بتائیں کہ ان دونوں شعر کو ایک ہی پلے میں رکھ کر کیسے تصفیہ کر لیا جائے ؟
جب ان دونوں شعر میں اتنا بڑا فرق ہے تو کیونکر دونوں کو ایک ہی حکم میں شامل کیا جائے گا ؟
پتہ چلا زیر بحث شعر میں ضرور بالضرور شرعی خامی ہے جس کا حکم فتاوی رضویہ شریف کی روشنی میں اوپر بیان کیا جا چکا
چلیے اب مفتی عبید الرحمن رشیدی صاحب قبلہ کے دوسرے اقتباس کی طرف رخ کرتے ہیں
موصوف مفتی صاحب قبلہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"اس کے بعد فرمایا کہ
اب میری بات سنو !
رہی بات سید سراواں کی تو نہ یہ شعر سید سراواں سے جڑا ہوا کسی فرد کا ہے اور نہ ہی پڑھنے والا قوال سید سراواں کا ہے ، یہ شعر بیدم شاہ وارثی صاحب کا ہے اور پڑھنے والا قوال خیرآباد کا ہے۔ لیکن سید سراواں میں صرف ایک بار پڑھا گیا تھا۔
ہاں! ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ
جب وہاں پڑھا گیا تو روکا کیوں نہیں گیا ؟
البتہ یہ واضح رہے کہ اس کا جواب ابھی دیا جا چکا ہے کہ اس شعر میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔
وہ یوں کہ لفظ خدا فارسی ہے اور فارسی زبان سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والے بندہ کو معلوم ہے کہ خدا فارسی میں آقا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے
تو اس شعر
عشق کی ابتدا بھی تم حسن کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندہ بھی تم خدا بھی تم
کا مطلب یہ ہوگا کہ
یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و سلم
آپ اللہ کے بندے اور مخلوق خدا کے آقا ہیں
اسی مفہوم کو اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی نے آسان زبان میں یوں کہا ہے کہ
لیکن رضؔا نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے"
ایک طائرانہ نظر__
اس میں تو پہلے یہ کہا گیا کہ یہ شعر بیدم شاہ وارثی کا ہے
پہلے تو یہ ثابت ہو کہ یہ شعر بیدم شاہ وارثی کا ہے کیا یہ شعر کلیات بیدم شاہ وارثی میں اگر ہے تو ھاتوا برھانکم
ڈھونڈھ لیجیے پوری کلیات بیدم ڈھونڈتے ڈھونڈتے بے دم تو ہو جائیں گے لیکن سراوی کو مجال دم زدنی نہیں ہوگا
مفتی صاحب قبلہ نے فرمایا ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب وہاں پڑھا گیا تو روکا کیوں نہیں گیا ؟
اور اس جواب میں فرمایا :
وہ اس لیے کہ اس شعر میں شرعی کوئی قباحت نہیں
خدا کی پناہ فتاوی رضویہ شریف کی عبارت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ یہ پڑھنا حرام اس کا ظاہر صریح کفر کوئی معتقد ہو تو قطعا کافر ،
لیکن افسوس مفتی صاحب قبلہ کو اس کے اندر کچھ قباحت بھی نظر نہیں آئی اس پر مزید جرأت یہ کہ اس میں دلیل بھی پیش کی لفظ خدا فارسی زبان سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی آقا بھی ہوتا ہے لہذا یہاں آقا کے معنی میں ہے
خدا خیر فرمائے
کیا مفتی صاحب قبلہ کے سامنے النبراس کی یہ عبارت بھی نہیں تھی
نبراس میں ہے
واذا ورد الشرع باطلاق اسم بلغۃ کلفظ الله فھو اذن باطلاق مایرادفہ من تلک اللغۃ کالواجب والقدیم او من لغۃ اخری کاسم خدا بالفارسیۃ
(النبراس للعلامۃ محمد عبدالعزیز الفرھاری ص ۲۴۸)
ترجمہ: اورجب شریعت میں ذات باری تعالیٰ پر کسی خاص زبان کے کسی لفظ کا اطلاق منقول ہو جیسے کہ لفظ اللہ تو اس لفظ کے دیگر مترادف الفاظ کے اطلاق کی بھی اجازت ہوگی، خواہ وہ مترادف لفظ اسی زبان کا ہو جیسے قدیم اور واجب (کیونکہ یہ دونوں لفظ عربی زبان کے ہیں اور لفظ اللہ کے مترادف ہیں) یا کسی دوسری زبان کا لفظ ہو جیسے کہ لفظ خدا جوکہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔
اس عبارت میں علامہ سعد الدین تفتازانی کی متن پر علامہ عبد العزیز فرھاری نے صراحت فرمائی ہے کہ لفظ اللہ اور خدا مترادف ہیں،فرق بس یہ ہےکہ اللہ عربی زبان کا لفظ ہے اور خدا فارسی زبان کا لفظ ہے۔
شرح عقائد کی شرح النبراس کی صراحت کے مطابق اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مطلقاً لفظ خدا لفظ اللہ کا مترادف ہے،
(ماخوذ از تحریر ڈاکٹر اختر مصباحی)
اتنی توضیح کے بعد اعلی حضرت کا شعر "خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے مفتی صاحب نے پیش کیا ہے وہ سب پر واضح ہو گیا ہوگا شعر بر محل ہے یا بے محل
کہاں امام کا شعر جس کو پڑھنے کے بعد انسان کا ایمان تازہ ہو جائے اور کہاں وہ شعر کہ جس کے پڑھنے سے انسان کو ایمان کے لالے پڑ جائے
اخیر میں ذیشان مصباحی صاحب کی نصیحت ذیشان مصباحی صاحب کو کچھ ترمیم کے ساتھ واپس کرتا ہوں کیونکہ اس کی ان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے
تعلیم یافتہ مومن اور پڑھا لکھا مسلمان
ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ اصولی ایمان و عقیدہ کے حوالے سے جاہلانہ رقص و سرور کے محافل نہ سجائیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم و تحقیق کے دینی شرعی تقاضے پورا کریں پھر زبان و قلم سے کوئی خدمت لیں کیونکہ آپ لوگ اپنے ایمان و عمل سے کسی کو مومن اور مسلمان نہیں بنا سکتے تو کسی مومن اور مسلمان کو رقص و سرور کی محفلیں سجا کر بظاہر کفری اشعار بھی نہ سنائیں اور آپ کی مومنانہ غیرت زندہ ہے تو خود بھی یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ بہر حال آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ عوام کو شش و پنج میں ڈال کر بے یار و مددگار چھوڑ دیں
آپ حضرات سوشل میڈیا میں دجالی مرگھٹ بنا کر مومنوں اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کے مضحکہ خیز جنازے نہ نکالیں کیونکہ اسے دیکھ کر شدید تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارے آستیں میں پلنے والے کس قدر فرصت میں ہیں کہ وہ سب کر رہے ہیں جو نہیں کرنا چاہیے اور اس کے لئے بالکل بھی ان کے پاس فرصت نہیں جو بہر حال کرنا چاہیے تو کیا آپ کو اس افراط و تفریط کا حساب و کتاب نہیں دینا ہوگا؟
عقل چوپایوں کو دے بیٹھے حکیم تھانوی
میں نہ کہتا تھا کہ صحبت دیو کی اچھی نہیں
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دشت طیبہ چھوڑ کر میں سیر جنت کو چلوں
رہنے دیجیے شیخ جی دیوانگی اچھی نہیں
اللہ سراویوں کو ہدایت دے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
نوٹ__اعمی فی الارادت پیری مریدی میں اندھے شخص کو کہا جاتا ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
58
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

حب الوطن من الایمان

بول بالے مری سرکاروں کے

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢