صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
شہزادگانِ حبیبِ کبریا ﷺ کی مارہرہ مطہرہ میں آمد!
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا امتی بنایا اور ہم کو اولیائے کرام کی محبت جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور لاکھ لاکھ درود و سلام ہو حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جن کے وسیلے سے ہم تک دینِ حق اسلام پہنچا۔ اس دین کی تبلیغ و اشاعت حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد جاں نثارانِ حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضراتِ صحابۂ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے فرمائی بعدہٗ تابعین و تبع تابعین و ائمہ مجتہدین و اولیائے کاملین نے دین حق کی تبلیغ و اشاعت فرمائی۔ اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کی وہ مبارک ذات ہے جن کی مدد اللّٰہ تعالیٰ نے فرمائی اور خدائے پاک کی عطا سے اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان نے لوگوں کے ایمان و عقیدے کو محفوظ فرمایا۔
اولیائے کاملین کی مبارک جماعت میں ایک جماعت مشائخِ مارہرہ مطہرہ کی ہے جن کے وسیلے سے خدائے وحدہٗ لاشریک نے اَن گنت لوگوں کو دینِ اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور اَن گنت بدمذہبوں کو سنی صحیح العقیدہ بننے کی توفیق بخشی۔ یہ وہ واحد خانقاہ ہے ہندوستان کی جہاں ایک ہی گنبد کے نیچے سات اقطاب آرام فرما ہیں۔
جہاں سلسلۂ برکاتیہ کے امام، حضور عین الحق عبدالمجید بدایونی کے مرشد، حضور امام اہلسنت سرکار اعلیٰ حضرت کے مرشد، حضور حجۃ الاسلام و حضور مفتئ اعظمِ ہند کے مرشد آرام فرما ہیں۔ حضور غوث الاعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے نائبین آرام فرما ہیں۔ یہ سگِ حضور پیر و مرشد و خاک پائے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا مختصراً تعارف پیش کرتا ہے، مطالعہ فرمائیں!
جنگِ کربلا کے دوران اللہ تعالیٰ نے حکمت کے تحت حضرتِ سیدنا امام علی اوسط سید سجّاد زین العابدین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو ظاہری بیماری میں مبتلا فرمایا جس سے جنگ میں شہادت کی اجازت نہیں ملی۔ شیرِ خدا، مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پوتے اور سید الشہداء، تاجدارِ کربلا، گل و شبیہ و نواسۂ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم امام عالی مقام سیدنا و مولانا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لخت جگر نے اہل بیت اطہار کی خوب حفاظت فرمائی۔ ظالموں کا ظلم سہا مگر حق پر قائم رہے۔
ظالموں نے شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شیر کو آزاد کرنے میں ہی اپنی بھلائی جانی اور مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہونے دیا۔ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسلِ پاک چھ شہزادگان سے چلی: [١] حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انھیں کی نسلِ پاک سے سلطان الہند، عطائے رسول ﷺ سیدنا خواجہ معین الدین چشتی سرکار غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، [٢] حضرت سید امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ مشائخِ مارہرہ و بلگرام و مسولی انہیں کی نسلِ پاک سے ہیں، [٣] حضرت سید محمد، [٤] حضرت سید عبداللہ، [۵] حضرت سید حسین الاصغر، [٦] حضرت سید علی الاصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے حضرت سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ واسط کے قریب تشریف لائے۔ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے ہوئے: [١] سید احمد مختفی، [٢] سید زید، [٣] سید محمد، [٤] سید حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم۔ مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا سلسلہ سید محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے جاری ہوا۔
سید محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسلِ پاک میں حضرت سیدنا ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے جو واسط میں ہی رہتے تھے۔ ایک بار حاکم سے ایک امر غیرِ شرعی صادر ہو گیا۔ حضرت سید ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس کو تنبیہ فرمائی مگر بادشاہ خاموش رہا اور بعد میں حاشیہ نشینوں کے بہکاوے میں آکر سیدنا ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو واسط سے جانے کہا۔ حضرت ابوالفرح واسطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی میں حکمت جانی اور محمود غزنوی کے دورِ حکومت میں غزنی پہنچے اور غزنی کے بعد سرہند میں قیام فرمایا۔ حاکمِ واسط کو اپنی بات پر پچھتاوا ہوا اور سیدنا ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے واپسی کی گزارش کی۔
پس سیدنا ابوالفرح واسطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس تشریف لے گئے۔ سیدنا ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے چار شہزادے تھے: [١] سید معزالدین، [٢] سید ابوالفراس، [٣] سید ابوالفضائل، [٤] سید داؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم۔
حضرت سید ابوالفراس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پوتے حضرت سید حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سب سے پہلے بلگرام شریف تشریف لائے جو اُس وقت ”سری نگر“ کے نام سے مشہور تھا، موضعِ پیونٹی قیام فرمایا۔ حضرت سید حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پوتے حضور فاتح بلگرام حضرت سید شاہ میر محمد دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جنہوں نے اپنے پیر و مرشد حضور سلطانِ دہلی سیدنا سرکار خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم پر اور سلطان التمش کے ذریعے سری نگر پر چڑھائی کی اور بلگرام شریف فتح فرمایا پھر آپ اور آپ کی اولادِ امجاد یہیں رہنے لگے۔

سند المحققین حضرت میر عبدالواحد بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت سید میر محمد دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسلِ پاک میں گیارہویں پشت میں صاحبِ سبع سنابل شریف، سند المحققین حضرتِ سید شاہ میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ پیر و مرشد مخدوم شیخ صفی قدس سرہٗ ہیں اور مرشدِ اجازت حضرت سید شاہ حسین سکندرآبادی ہیں جو حضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہٗ کے خلیفہ ہیں۔ جب شاہ میر عبدالواحد علیہ الرحمۃ اپنے مرشدِ اجازت سے ملاقات کی غرض سے یا ان کے عرس میں شرکت کی غرض سے سکندرآباد جاتے تو مارہرہ مطہرہ میں ہی قیام فرماتے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کی ایک نگاہِ رحمت سے بھی امت کی بگڑی بنا دیتا ہے۔ سیدنا میر عبدالواحد علیہ الرحمۃ والرضوان کا ایک عام محلہ میں کچھ دیر ٹھہرنا اتنی برکت کا باعث بنا کہ وہاں سے برکاتی سلسلہ پوری دنیا میں پھیل گیا، وہی مقام مدینہ منورہ سے نسبت رکھنے لگا۔ حضور نظؔمی میاں علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
میمِ مدینہ مارہرہ کی قسمت ہے
اِس گنبد کو اُس گنبد سے نسبت ہے
حضرت سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہی ذاتِ پاک ہے جن کی تصنیف بارگاہِ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں مقبول ہوئی، وہ تصنیفِ لطیف ”سبع سنابل (شریف)“ ہے۔
ولادت: حضرت سید شاہ میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ؁٩١٢ھ میں ہوئی اور حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحقیق کے مطابق ؁٩١۵ ھ یا ؁٩١٦ھ مطابق ؁١۵١٠ء میں ہوئی۔ وصالِ ظاہری : ٣؍رمضان المبارک ؁١٠١٧ھ مطابق ؁١٦٠٨ء، بلگرام شریف میں ہوا۔
ازواج و اولاد:
حضرت میر عبدالواحد بلگرامی علیہ الرحمۃ کی دو شادیاں ہوئیں، پہلی زوجہ سے ایک شہزادے حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک شہزادی کی ولادت ہوئی۔ دوسری زوجہ خاندانِ بنی عثمان سے قنوج کی رہنے والی تھیں۔ ان سے تین شہزادے[١] حضرت سید میر محمد فیروز، [٢] حضرت سید میر محمد یحییٰ، [٣] حضرت سید میر محمد طیب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ولادت ہوئی۔ سجادہ نشین حضرت سید میر محمد طیب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بنے اور آج تک ان کی اولادِ امجاد اس مقدس گدی پر بیٹھ کر ان بزرگانِ دین کا فیض عام کر رہی ہے۔

مقدام العارفین سید شاہ میر عبدالجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرتِ سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب سے بڑے شہزادے مقدام العارفین حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سجادہ نشین اپنے سب سے چھوٹے بھائی حضرت سید شاہ میر محمد طیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب فرمایا اور عاجزی میں ؁١٠١٧ھ میں مارہرہ مطہرہ تشریف لے گئے۔ بالکل جوانی کے عالَم میں جذب کی کیفیت طاری ہوئی اور پورے بارہ برس اسی حالت میں پورے عالَم کا دورہ فرماتے رہے۔
بشارتِ مصطفیٰ ﷺ:
مارہرہ مطہرہ جانے سے قبل اترنجی کھیڑہ تشریف لے گئے جو مارہرہ مطہرہ سے جانبِ مشرق (پورب) تیس کوس کے فاصلے پر ہے۔ وہاں رجال الغیب میں سے ایک نورانی بزرگ سے حضرتِ سیدنا میر عبدالجلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات ہوئی۔ نورانی بزرگ نے حضرت سید میر عبدالجلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دودھ چاول کھلایا اور ارشاد فرمایا: ”یہاں سے قریب ایک شہر مارہرہ آباد ہے، بارگاہِ الٰہی اور دربارِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آپ کو وہاں کی ولایت عطا کی گئی ہے۔ جائیے اور رشد و ہدایتِ خلق میں مشغول ہو جائیے۔“ چودھری وزیر محمد عرف چودھری وزیر خاں (رئیسِ مارہرہ مطہرہ) نے تین رات خواب دیکھا کہ سرورِ کون و مکاں، نبی آخر الزماں صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد ہے اور زبانِ رسالت صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرما رہی ہے: ”میری اولاد سے تیرا پیر اور یہاں کا صاحبِ ولایت، اترنجی کھیڑہ پر ہے، جاؤ استقبال کرکے لے آؤ۔“
وصالِ ظاہری:
حضرتِ سیدنا میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ٨؍صفر المظفر ؁١٠۵٧ھ، پیر شریف کے دن، مارہرہ شریف میں ہوا۔ عاجزی کا یہ عالم تھا کہ ارشاد فرمایا: ”میری قبر پر چھت نہ بنائی جائے۔ آج تک اتنے جلیل القدر ولئ کامل کی قبر پر گنبد نہیں۔“
مزار شریف: بارگاہِ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چند قدم کے فاصلے پر۔
شہزادگان:
حضرتِ سیدنا میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادگان تھے: [١] سید ابوالفتح، [٢] سید اویس، [٣] سید محمد، [٤] سید ابوالخیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ حضرتِ سیدنا میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلیفہ حضرت سید میر محمد اویس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تھے۔

سید الراحمین حضرت سید میر محمد اویس مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت سید میر محمد اویس مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد ماجد سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت ہوئے، اجازت حاصل کی۔ عفو و درگزر کے پکر، انتقام سے دوری اختیار فرمائے ہوئے، جانوروں پر بھی نہایت رحم دل۔ (معلوم ہوا کہ جانور قربانی کے ہوں یا نہ ہوں ان پر رحم کرنا اولیائے کرام کی سنت ہے) حضرت میر اویس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بلگرام شریف تشریف لے گئے۔
وصالِ ظاہری: ٢٠؍رجب المرجب ؁١٠٩٧ھ بلگرام شریف میں وصالِ ظاہری ہوا۔
شہزادگان: [١] حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقؔی (صاحبِ سلسلۂ برکاتیہ)، [٢] حضرت سید شاہ رحمت اللہ، [٣] حضرت سید شاہ عظمت اللہ، [٤] حضرت سید شاہ رہبر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم۔ مشہور خلفاء میں بھی شہزادگان کے نام ملتے ہیں۔
ان شاء اللہ العزیز سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے لے کر حضرت سید الراحمین علیہ الرحمۃ والرضوان تک چند مشائخ کی سیرت کا بھی بیان کیا جائے گا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب یہاں سے ابتداء ہوتی ہے اقطاب و مشائخِ مارہرہ مطہرہ کی سیرت کی۔
✍🏻: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
شہزادگانِ حبیبِ کبریا ﷺ کی مارہرہ مطہرہ میں آمد!
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا امتی بنایا اور ہم کو اولیائے کرام کی محبت جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور لاکھ لاکھ درود و سلام ہو حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جن کے وسیلے سے ہم تک دینِ حق اسلام پہنچا۔ اس دین کی تبلیغ و اشاعت حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد جاں نثارانِ حبیبِ خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضراتِ صحابۂ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے فرمائی بعدہٗ تابعین و تبع تابعین و ائمہ مجتہدین و اولیائے کاملین نے دین حق کی تبلیغ و اشاعت فرمائی۔ اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کی وہ مبارک ذات ہے جن کی مدد اللّٰہ تعالیٰ نے فرمائی اور خدائے پاک کی عطا سے اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان نے لوگوں کے ایمان و عقیدے کو محفوظ فرمایا۔
اولیائے کاملین کی مبارک جماعت میں ایک جماعت مشائخِ مارہرہ مطہرہ کی ہے جن کے وسیلے سے خدائے وحدہٗ لاشریک نے اَن گنت لوگوں کو دینِ اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور اَن گنت بدمذہبوں کو سنی صحیح العقیدہ بننے کی توفیق بخشی۔ یہ وہ واحد خانقاہ ہے ہندوستان کی جہاں ایک ہی گنبد کے نیچے سات اقطاب آرام فرما ہیں۔
جہاں سلسلۂ برکاتیہ کے امام، حضور عین الحق عبدالمجید بدایونی کے مرشد، حضور امام اہلسنت سرکار اعلیٰ حضرت کے مرشد، حضور حجۃ الاسلام و حضور مفتئ اعظمِ ہند کے مرشد آرام فرما ہیں۔ حضور غوث الاعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے نائبین آرام فرما ہیں۔ یہ سگِ حضور پیر و مرشد و خاک پائے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا مختصراً تعارف پیش کرتا ہے، مطالعہ فرمائیں!
جنگِ کربلا کے دوران اللہ تعالیٰ نے حکمت کے تحت حضرتِ سیدنا امام علی اوسط سید سجّاد زین العابدین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو ظاہری بیماری میں مبتلا فرمایا جس سے جنگ میں شہادت کی اجازت نہیں ملی۔ شیرِ خدا، مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پوتے اور سید الشہداء، تاجدارِ کربلا، گل و شبیہ و نواسۂ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم امام عالی مقام سیدنا و مولانا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لخت جگر نے اہل بیت اطہار کی خوب حفاظت فرمائی۔ ظالموں کا ظلم سہا مگر حق پر قائم رہے۔
ظالموں نے شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شیر کو آزاد کرنے میں ہی اپنی بھلائی جانی اور مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہونے دیا۔ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسلِ پاک چھ شہزادگان سے چلی: [١] حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، انھیں کی نسلِ پاک سے سلطان الہند، عطائے رسول ﷺ سیدنا خواجہ معین الدین چشتی سرکار غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، [٢] حضرت سید امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ مشائخِ مارہرہ و بلگرام و مسولی انہیں کی نسلِ پاک سے ہیں، [٣] حضرت سید محمد، [٤] حضرت سید عبداللہ، [۵] حضرت سید حسین الاصغر، [٦] حضرت سید علی الاصغر رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
امام زید الشہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے حضرت سید عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ واسط کے قریب تشریف لائے۔ سیدنا عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے ہوئے: [١] سید احمد مختفی، [٢] سید زید، [٣] سید محمد، [٤] سید حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم۔ مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا سلسلہ سید محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے جاری ہوا۔
سید محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نسلِ پاک میں حضرت سیدنا ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے جو واسط میں ہی رہتے تھے۔ ایک بار حاکم سے ایک امر غیرِ شرعی صادر ہو گیا۔ حضرت سید ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس کو تنبیہ فرمائی مگر بادشاہ خاموش رہا اور بعد میں حاشیہ نشینوں کے بہکاوے میں آکر سیدنا ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو واسط سے جانے کہا۔ حضرت ابوالفرح واسطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی میں حکمت جانی اور محمود غزنوی کے دورِ حکومت میں غزنی پہنچے اور غزنی کے بعد سرہند میں قیام فرمایا۔ حاکمِ واسط کو اپنی بات پر پچھتاوا ہوا اور سیدنا ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے واپسی کی گزارش کی۔
پس سیدنا ابوالفرح واسطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس تشریف لے گئے۔ سیدنا ابوالفرح واسطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے چار شہزادے تھے: [١] سید معزالدین، [٢] سید ابوالفراس، [٣] سید ابوالفضائل، [٤] سید داؤد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم۔
حضرت سید ابوالفراس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پوتے حضرت سید حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سب سے پہلے بلگرام شریف تشریف لائے جو اُس وقت ”سری نگر“ کے نام سے مشہور تھا، موضعِ پیونٹی قیام فرمایا۔ حضرت سید حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پوتے حضور فاتح بلگرام حضرت سید شاہ میر محمد دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جنہوں نے اپنے پیر و مرشد حضور سلطانِ دہلی سیدنا سرکار خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم پر اور سلطان التمش کے ذریعے سری نگر پر چڑھائی کی اور بلگرام شریف فتح فرمایا پھر آپ اور آپ کی اولادِ امجاد یہیں رہنے لگے۔

سند المحققین حضرت میر عبدالواحد بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت سید میر محمد دعوۃ الصغریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسلِ پاک میں گیارہویں پشت میں صاحبِ سبع سنابل شریف، سند المحققین حضرتِ سید شاہ میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ پیر و مرشد مخدوم شیخ صفی قدس سرہٗ ہیں اور مرشدِ اجازت حضرت سید شاہ حسین سکندرآبادی ہیں جو حضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہٗ کے خلیفہ ہیں۔ جب شاہ میر عبدالواحد علیہ الرحمۃ اپنے مرشدِ اجازت سے ملاقات کی غرض سے یا ان کے عرس میں شرکت کی غرض سے سکندرآباد جاتے تو مارہرہ مطہرہ میں ہی قیام فرماتے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کی ایک نگاہِ رحمت سے بھی امت کی بگڑی بنا دیتا ہے۔ سیدنا میر عبدالواحد علیہ الرحمۃ والرضوان کا ایک عام محلہ میں کچھ دیر ٹھہرنا اتنی برکت کا باعث بنا کہ وہاں سے برکاتی سلسلہ پوری دنیا میں پھیل گیا، وہی مقام مدینہ منورہ سے نسبت رکھنے لگا۔ حضور نظؔمی میاں علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
میمِ مدینہ مارہرہ کی قسمت ہے
اِس گنبد کو اُس گنبد سے نسبت ہے
حضرت سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہی ذاتِ پاک ہے جن کی تصنیف بارگاہِ حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں مقبول ہوئی، وہ تصنیفِ لطیف ”سبع سنابل (شریف)“ ہے۔
ولادت: حضرت سید شاہ میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ؁٩١٢ھ میں ہوئی اور حضور تاج العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحقیق کے مطابق ؁٩١۵ ھ یا ؁٩١٦ھ مطابق ؁١۵١٠ء میں ہوئی۔ وصالِ ظاہری : ٣؍رمضان المبارک ؁١٠١٧ھ مطابق ؁١٦٠٨ء، بلگرام شریف میں ہوا۔
ازواج و اولاد:
حضرت میر عبدالواحد بلگرامی علیہ الرحمۃ کی دو شادیاں ہوئیں، پہلی زوجہ سے ایک شہزادے حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک شہزادی کی ولادت ہوئی۔ دوسری زوجہ خاندانِ بنی عثمان سے قنوج کی رہنے والی تھیں۔ ان سے تین شہزادے[١] حضرت سید میر محمد فیروز، [٢] حضرت سید میر محمد یحییٰ، [٣] حضرت سید میر محمد طیب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ولادت ہوئی۔ سجادہ نشین حضرت سید میر محمد طیب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بنے اور آج تک ان کی اولادِ امجاد اس مقدس گدی پر بیٹھ کر ان بزرگانِ دین کا فیض عام کر رہی ہے۔

مقدام العارفین سید شاہ میر عبدالجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرتِ سیدنا میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب سے بڑے شہزادے مقدام العارفین حضرت سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سجادہ نشین اپنے سب سے چھوٹے بھائی حضرت سید شاہ میر محمد طیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب فرمایا اور عاجزی میں ؁١٠١٧ھ میں مارہرہ مطہرہ تشریف لے گئے۔ بالکل جوانی کے عالَم میں جذب کی کیفیت طاری ہوئی اور پورے بارہ برس اسی حالت میں پورے عالَم کا دورہ فرماتے رہے۔
بشارتِ مصطفیٰ ﷺ:
مارہرہ مطہرہ جانے سے قبل اترنجی کھیڑہ تشریف لے گئے جو مارہرہ مطہرہ سے جانبِ مشرق (پورب) تیس کوس کے فاصلے پر ہے۔ وہاں رجال الغیب میں سے ایک نورانی بزرگ سے حضرتِ سیدنا میر عبدالجلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات ہوئی۔ نورانی بزرگ نے حضرت سید میر عبدالجلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دودھ چاول کھلایا اور ارشاد فرمایا: ”یہاں سے قریب ایک شہر مارہرہ آباد ہے، بارگاہِ الٰہی اور دربارِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آپ کو وہاں کی ولایت عطا کی گئی ہے۔ جائیے اور رشد و ہدایتِ خلق میں مشغول ہو جائیے۔“ چودھری وزیر محمد عرف چودھری وزیر خاں (رئیسِ مارہرہ مطہرہ) نے تین رات خواب دیکھا کہ سرورِ کون و مکاں، نبی آخر الزماں صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد ہے اور زبانِ رسالت صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرما رہی ہے: ”میری اولاد سے تیرا پیر اور یہاں کا صاحبِ ولایت، اترنجی کھیڑہ پر ہے، جاؤ استقبال کرکے لے آؤ۔“
وصالِ ظاہری:
حضرتِ سیدنا میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ٨؍صفر المظفر ؁١٠۵٧ھ، پیر شریف کے دن، مارہرہ شریف میں ہوا۔ عاجزی کا یہ عالم تھا کہ ارشاد فرمایا: ”میری قبر پر چھت نہ بنائی جائے۔ آج تک اتنے جلیل القدر ولئ کامل کی قبر پر گنبد نہیں۔“
مزار شریف: بارگاہِ حضور صاحب البرکات رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چند قدم کے فاصلے پر۔
شہزادگان:
حضرتِ سیدنا میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادگان تھے: [١] سید ابوالفتح، [٢] سید اویس، [٣] سید محمد، [٤] سید ابوالخیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ حضرتِ سیدنا میر عبدالجلیل بلگرامی ثم مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلیفہ حضرت سید میر محمد اویس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تھے۔

سید الراحمین حضرت سید میر محمد اویس مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت سید میر محمد اویس مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد ماجد سید شاہ میر عبدالجلیل بلگرامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت ہوئے، اجازت حاصل کی۔ عفو و درگزر کے پکر، انتقام سے دوری اختیار فرمائے ہوئے، جانوروں پر بھی نہایت رحم دل۔ (معلوم ہوا کہ جانور قربانی کے ہوں یا نہ ہوں ان پر رحم کرنا اولیائے کرام کی سنت ہے) حضرت میر اویس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بلگرام شریف تشریف لے گئے۔
وصالِ ظاہری: ٢٠؍رجب المرجب ؁١٠٩٧ھ بلگرام شریف میں وصالِ ظاہری ہوا۔
شہزادگان: [١] حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقؔی (صاحبِ سلسلۂ برکاتیہ)، [٢] حضرت سید شاہ رحمت اللہ، [٣] حضرت سید شاہ عظمت اللہ، [٤] حضرت سید شاہ رہبر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم۔ مشہور خلفاء میں بھی شہزادگان کے نام ملتے ہیں۔
ان شاء اللہ العزیز سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے لے کر حضرت سید الراحمین علیہ الرحمۃ والرضوان تک چند مشائخ کی سیرت کا بھی بیان کیا جائے گا۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب یہاں سے ابتداء ہوتی ہے اقطاب و مشائخِ مارہرہ مطہرہ کی سیرت کی۔
✍🏻: محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعة الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
80
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 29
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

امامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ: عزیمت کے کوہِ ہمالہ

سکون کیسے حاصل کریں ؟(2)

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 29 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
احوال وطن 10
سیرت النبی ﷺ 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢