صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
حضور امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی اطال اللّٰہ تعالیٰ عمرہ
حضرت سید امان میاں قادری حفظه اللّٰہ تعالیٰ
حضرت سید عثمان میاں قادری حفظه اللّٰہ تعالیٰ

حضور امین ملت مدظلہ العالی

یا الہٰی! امن و ایماں دے امانت دار رکھ
مرشدی” سید امینِ“ بے ریا کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
نام و نسب:
آپ کا نام حضرت سید شاہ ”محمد امین“ ہے۔ لقب امین ملت اور تاج المشائخ ہے۔ حضور امین ملت دامت برکاتہم العالیہ حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے اور جانشین ہیں۔ والدہ ماجدہ کا نام سیدہ محبوب فاطمہ نقوی بنت سید محمد اسحاق ہے۔ نسبِ پدری و مادری حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت ( گیارہویں قسط) میں مذکور ہے۔
ولادتِ باسعادت:
حضور امین ملت مدظلہ العالی و النورانی کی ولادتِ باسعادت ٢٥؍ذی قعدہ ؁١٣٧١ھ مطابق ١٥؍اگست ؁١٩٥٢ء قصبہ کاسگنج کے مشن ہسپتال میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت:
درگاہِ معلیٰ کے مدرسہ قاسم البرکات سے حضور امین ملت مدظلہ العالی نے تعلیم کی ابتدا فرمائی۔ منشی سعید الدین صاحب نے اردو پڑھائی۔ قرآنِ عظیم حضرت والد ماجد علیہ الرحمۃ والرضوان اور حافظ عبدالرحمٰن صاحب سے پڑھا۔ دینی اور روحانی تعلیم اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء اور بڑے ابا حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حاصل فرمائی۔ دس پارے حفظ فرمائے۔ مارہرہ شریف سے ہائی اسکول کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فرسٹ ڈی ویژن ایم.اے اردو (MA Urdu) کیا اور وہیں سے میر تقی میؔر پر پی.ایچ.ڈی (PhD) کی ڈگری حاصل کی۔ ایم.اے کا رزلٹ نکلنے سے پہلے ہی شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرار کی حیثیت سے مقرر ہوئے۔ اس کے بعد کچھ اساتذہ و اقرباء کی گزارش پر آگرہ میں لیکچرر ہو گئے۔ لگ بھگ آٹھ برس درس و تدریس میں گزارے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیڈر کی حیثیت سے واپس تشریف لائے اور پروفیسر کے عہدۂ جلیلہ پر فائز رہے۔ جو یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم کی درس و تدریس کا سب سے بڑا منصب سمجھا جاتا ہے۔
بیعت و خلافت: حضور امین الملت و الدین سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی و النورانی حضور تاج العلماء سید شاہ محمد میاں علیہ الرحمۃ والرضوان سے بیعت ہوئے نیز اجازت حاصل ہوئی۔ والد ماجد حضور احسن العلماء سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں قادری برکاتی علیہ الرحمۃ والرضوان کے ؁١٩٥٦ء میں جانشین ہوئے نیز جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت ملی۔ عرسِ رضوی کے موقع پر شہزادۂ حضور اعلیٰ حضرت، حضور مفتئ اعظمِ ہند الشاہ محمد مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کو ایک ہی دن میں تین مرتبہ خلافت عطا فرمائی۔
اپنے اِس سگ سے حضور پیر و مرشد بیان فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مجھے مجمع میں خلافت عطا فرمائی، ایک مرتبہ گاڑی میں خلافت عطا فرمائی اور ایک مرتبہ اپنے گھر لے جا کر خلافت عطا فرمائی۔ جب سند پیش کیا گیا تو چونکہ کوئی نقلی مہر لگا دیا کرتا تھا اور ایسے اصلی اور نقلی خلفاء میں فرق مشکل ہوتا تھا تو میں (حضور پیر و مرشد حفظه اللہ تعالیٰ) نے اس مہر کی سند لینے سے انکار کر دیا۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علم ہوا تو ارشاد فرمایا: اے صاحبزادے! کیا بات ہے ؟ میں نے سارے معاملات عرض کیے تو حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے مہر لگا کر مجھے دی۔ سبحان اللہ تعالیٰ!
واقعۂ خلافت:
ڈاکٹر سید محمد امین میاں مدظلہ العالی کے والد ماجد حضور احسن العلماء پابندی سے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف کے جلسۂ دستار بندی میں شرکت فرماتے تھے۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بے حد محبت تھی۔ چنانچہ حضور امین میاں نے ارادہ کیا کہ جلسۂ دستار میں حاضر ہونا چاہیے تاکہ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو والد ماجد کی غیر موجودگی محسوس نہ ہو، چنانچہ ڈاکٹر سید محمد امین میاں قادری مدظلہ العالی ٤؍شعبان المعظم کو بریلی شریف حاضر ہوئے۔ پندرہویں شب میں جلسہ ہوا۔ جلسے کے دوران آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر حضور مفتئ اعظمِ قدس سرہٗ خلافت و اجازت سے نواز دیں تو بہت اچھا ہو۔ ساڑھے تین بجے رات کو جلسہ کا اختتام ہوا، اور حضور مفتئ اعظمِ ہند قدس سرہ العزیز نے ڈاکٹر سید محمد امین میاں مدظلہ العالی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے دولت کدے کے لیے روانہ ہوئے۔ ڈیوڑھی میں حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”میاں امین! یہ تو آپ کے آبائے کرام کی دی ہوئی نعمت ہے۔ میں آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ کالپویہ میں مجاز و ماذون کرتا ہوں اور خلافت نذر کرتا ہوں۔“
اس کے بعد ڈاکٹر سید محمد امین میاں حفظه اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیے اور کچھ پڑھتے رہے۔ اُس وقت آپ پر رقت طاری ہوگئی۔
عرسِ رضوی میں بریلی شریف تشریف لائے۔ قل شریف کی محفل جاری تھی۔ تقریباً ٨٠ یا ٩٠؍ہزار کا مجمع تھا۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند قدس سرہ العزیز نے مولانا مفتی محمد شریف الحق رضوی امجدی سے فرمایا: ”میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، چنانچہ کئی مائک مفتئ اعظمِ ہند کے سامنے رکھ دیے گئے۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ ابوالبرکات محی الدین آل رحمان مصطفیٰ رضا خان نورؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریباً آٹھ دس منٹ تقریر فرمائی جس میں حضور تاج المشائخ سیدی، آقائی، مولائی، مرشدی سرکار امین ملت مدظلہ العالی کی اجازت و خلافت کا اعلان فرمایا۔ پھر اپنے قلم مبارک سے مطبوعہ خلافت نامہ کی خانہ پری کر کے دستخط ثبت فرمائے۔“
شوال المکرم میں حضور مفتئ اعظمِ ہند قدس سرہٗ مارہرہ شریف تشریف لے گئے۔ حضور امین ملت مدظلہ العالی نے دلائل الخیرات شریف پیش کی اور عرض کی کہ اسے پڑھنے کی اجازت عطا فرمادیں۔ دریائے کرم جوش پر تھا، دلائل الخیرات کے ساتھ ساتھ جملہ اعمال و اذکار اور اشغال کی اجازت عطا فرمائی اور دوبارہ خلافت نامہ تحریر فرمایا۔
محبتِ اعلیٰ حضرت:
حضور تاج المشائخ سرکار امین ملت مدظلہ العالی فرماتے ہیں:
خانقاہِ برکاتیہ کا کوئی غلام آئے اور امام احمد رضا کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن ایسا نہیں ہے۔ احمد رضا کا ذکر ہماری رگوں میں ایسے دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو خانقاہِ برکاتیہ سے منسوب کرے، چاہے میرا بھتیجا ہو یا میرا بھانجا ہو اگر وہ احمد رضا کی برائی کرے اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین کرے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔
تصانیف: سید شاہ برکت اللہ؛ حیات اور علمی کارنامے، ترجمہ اردو: سراج العوارف، ترجمہ اردو: آداب السالکین، ترجمہ: رسالہ چہار انواع، میر تقی میؔر۔ ادب، ادیب اور اصناف، قائم چاند پوری؛ حالات اور کارنامے، شاہ حقانی کا اردو ترجمہ۔
چند مشہور خلفاء: سید شاہ نجیب حیدر، سید شاہ محمد امان، سید شاہ محمد عثمان، سید شاہ گلزار اسمٰعیل واسطی (گلزارِ ملت)، امامِ علم و فن خواجہ مظفر حسین، بحر العلوم مفتی عبدالمنان، علامہ محمد احمد مصباحی، مفتی عبدالمبین، مفتی محمد عسجد رضا خان (جانشین و شہزادۂ حضور تاج الشریعہ و سجادہ نشین خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ تاج الشریعہ) مفتی حبیب یار خاں، علامہ عبدالستار ہمدانی۔
اہم خدمات: سن 2004؍عیسوی میں البرکات کا قیام، ١٩٩٩؍میں مجلسِ برکات کا قیام، جامعہ اشرفیہ ٢٠٠٤؍میں مجلسِ شرعی کا احیا، ٢٠١٢؍میں مارہرہ مطہرہ میں جامعہ احسن البرکات کا قیام۔
حضور امین ملت مدظلہ العالی و النورانی مخلص، بے ریا، با کمال، با عمل پیر طریقت ہیں۔ سب کے سامنے آنا، اپنی کہلوانا، اختلافات کے پیچھے جانا قطعاً پسند نہیں۔ مہمان نوازی کرنا، خوش اخلاقی سے ملنا، بیٹا بیٹا کرکے بات کرنا، دوسروں کی باتیں سننا، اپنے گھر بلا کر خوب محبت لٹانا عاداتِ کریمہ میں سے ہے۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان سے حضور تاج المشائخ سرکار امین ملت مدظلہ العالی کو بہت زیادہ محبت تھی۔ حضور امین ملت حفظه اللہ تعالیٰ کو امریکہ اور جارڈن اسلامک اسٹڈیز سینٹر کے باہمی اشتراک سے ہوئے سروے سے پوری دنیا کے 500؍مشاہیر مسلمانوں میں 44؍واں مقام حاصل ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے حضور سیدی سرکار دامت برکاتہم العالیہ عالمی مشاہیر کی فہرست میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ طلبہ سے حضور سیدی سرکار حفظہ اللہ تعالیٰ کو بہت محبت ہے چاہے جامعہ احسن البرکات، مارہرہ مطہرہ کے طلبہ ہوں یا البرکات کے یا کسی اور اہل سنت کے ادارے کے طلبہ ہوں۔ کوئی حضور حفظہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے جاتا ہے تو ضرور مدد فرماتے ہیں، کوئی کچھ پیش کرتا ہے تو قبول فرماتے ہیں، بڑوں کی دعوت سے کوئی تعلق نہیں مگر غریبوں کی دعوت ضرور قبول فرماتے ہیں۔ سجادہ نشین ہو کر بھی لباس کی سادگی بزرگانِ دین کی یاد دلا دیتی ہے۔ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کو اہل سنت میں ”امین ملت“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
نکاح و شہزادگان:
حضور امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مارہروی مدظلہ العالی و النورانی کا نکاح سید عابد علی صاحب کی شہزادی سیدہ آمنہ خاتون حفظہا اللہ تعالیٰ سے الٰہ آباد میں ہوئی۔
دو شہزادے ہیں: حضرت سید محمد امان و حضرت سید محمد عثمان اور ایک شہزادی ہیں سیدہ ایمن فاطمہ۔
اللہ تعالیٰ حضور امین ملت مدظلہ العالی و النورانی کا سایہ اہل سنت و جماعت اور تمام مریدین و معتقدین و متوسلین پر تادیر قائم فرمائے، حضور کو تمام بیماریوں سے شفا عطا فرمائے، فیض کو عام فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔

امانِ اہل سنت سید محمد امان میاں قادری

آپ حضور امین ملت مدظلہ العالی کے بڑے شہزادے ہیں اور حضور کے جانشین اور مارہرہ مطہرہ کے ولی عہد ہیں۔
آپ کا نام حضرت سید شاہ ”محمد امان میاں “ قادری برکاتی ہے۔
حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت ہوئے۔ جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے تعلیم حاصل فرمائی۔
نہایت پاکیزہ اخلاق کے مالک ہیں۔ کینہ، تکبر، بڑا دکھانا، بہت مہنگے کپڑے پہننا، فضول بات کرنا قطعاً نا پسند ہے۔ سادگی، محبت اس قدر ہے کہ دوسروں کو اپنی باتوں کی طرف کھینچ ہی لیتے ہیں۔ تقریر نہایت سادہ زبان میں فرماتے ہیں تاکہ عوام سمجھ کر عمل کرے۔ امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان اور حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت تو خاندانی ہے۔ جب بھی ان بزرگانِ دین کا کلام سنتے ہیں فوراً جھوم جاتے ہیں۔
ابھی حضور امان اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس کے علاوہ چند مساجد اور مدارس سنبھالتے ہیں۔
بارگاہِ امامِ اہلسنّت میں ملاقات کا شرف:
یہ سگِ حضور امین ملت مدظلہ العالی ٦؍ذی الحجہ ؁١٤٤۵ھ / ؁٢٠٢٤ء کو جماعت-رابعہ میں زیرِ تعلیم تھا۔ سہ ماہی امتحان چل رہا تھا۔ دینیات کا امتحان دے کر گھر جانے سے پہلے مرکز الدراسات الاسلامیۃ، جامعۃ الرضا سے امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے نکلا۔ قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ درگاہ شریف کے راستے میں مڑتے ہی کچھ سامان لینے کھڑے ہوئے کہ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کی نظر اپنے سید و مربی پر پڑی۔ سب چھوڑ کر، بھول کر یہ غلام دوڑا اور دست بوسی کرکے مشرف ہوا۔ اپنا تعارف کرایا تو حضور مربی و سید مدظلہ العالی نے دریافت فرمایا: ”جامعۃ الرضا میں پڑھ رہے ہو نا ؟ تو پڑھائی چھوڑ کر اِدھر اُدھر کیسے ؟“ عرض کیا: ”سرکار! کل عصریات کا امتحان دے کر گھر نکلنا ہے اس لیے حاضری دینے آئے ہیں۔“ حضور مربی و سید مدظلہ العالی کو جلدی نکلنا تھا پس تشریف لے گئے۔ یہ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی آگے بڑھا لیکن دل اپنے مربی کی یاد میں ڈوبا ہوا تھا۔ پس واپس بھاگا اور تیزی میں جتنا ممکن ہوا دوڑا اور کافی دور جا کر بفضل اللہ تعالیٰ حضور سید مدظلہ العالی سے پھر ملاقات ہوئی۔ میرے سید نے فرمایا: ”کس کلاس میں ہو ؟“ فقیر نے عرض کیا: ”سرکار! رابعہ میں“ پھر دعائیں دیں اور تشریف لے جانے لگے۔ راستہ میں اپنی کاوش ”برکاتِ اصحابِ حضور ﷺ جلد-اول“ کے بارے میں اطلاع دی۔ حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی بارگاہ کے سامنے مارہرہ شریف کا ولی عہد ایک آٹو رکشہ میں بیٹھ کر تشریف لے گیا۔
البرکات کا سفر: رمضان المبارک ؁١٤٤٦ھ میں حضور سید امان اہلسنت مدظلہ العالی نے اس سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کو تراویح کے لیے آنے کا حکم دیا۔ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ یہ خبر اس وقت فقیر کو ملی جب یہ مرکز الدراسات الاسلامیۃ جامعۃ الرضا، بریلی شریف میں تھا۔ اسی وقت ٹکٹ کروایا۔ ٢٦؍فروری ؁٢٠٢۵ء کو دہلی سے روانہ ہوا۔ جیسے ہی گھر سے نکلا حضور امان میاں صاحب قبلہ حفظه اللہ تعالیٰ نے غلام کی خیریت دریافت فرمانے کے لیے کال کیا اور فرمایا: جیسے ہی علی گڑھ پہنچنے والے رہو کال کر دینا، کسی کو لینے بھیج دیا جائے گا۔ قسمت کا ستارہ بھی بڑی بلندی پر تھا۔ پہنچنے سے کچھ وقت پہلے کال آئی سرکار امان اہل سنت کی اور ارشاد فرمایا: تم کو میں ہی لینے آ گیا ہوں، کتنی دیر لگے گی ؟ دل خوشی اور خوف میں مچلنے لگا۔ خوشی اس کی کہ شہزادۂ امین ملت تشریف لائے ہیں اور خوف کہ کہیں ٹرین لیٹ نہ ہو جائے اور میرے سید کو میری وجہ سے پریشانی ہو۔ اسٹیشن سے نکل کر باہر ایک پیڑ کے پاس سرکار امانِ اہل سنت کی گاڑی کھڑی تھی۔ میں بھاگتا ہوا گیا، اتنے میں سرکار امانِ اہل سنت کے ساتھ گاڑی چلانے والے جناب نے سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھا اور سرکار امانِ اہل سنت نے جو مارہرہ شریف کے ولی عہد ہیں، اس ادنیٰ سے ادنیٰ اپنے غلام کے لیے کار کا دروازہ کھول دیا۔ اپنی گاڑی میں بیٹھا کر البرکات لے گئے اور مولانا احمد حسن سعدی امجدی صاحب کے حوالے کر دیا۔ (مہمان نوازی ہو تو ایسی ہو۔ یقیناً حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شہزادگان کی مہمان نوازی پر مہمان نوازی کو بھی ناز ہوتا ہے۔)
اس سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی نے زندگی میں پہلی بار اس ہستی کا دیدار کیا جس کے بارے میں بلا شک و شبہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہر وقت Busy رہتے ہیں۔ کبھی کبھی سرکار امان اہلسنت سے ملاقات ہوتی اور ہمیشہ مسکرا کر ملتے اور دریافت فرماتے: کوئی پریشانی تو نہیں ہے یہاں ؟ کتنے پارے ہو گئے ؟ زیادہ ٹینشن تو نہیں لیتے ؟
آفس میں لے جا کر اپنے سامنے کرسی پر بٹھا کر حالات دریافت فرماتے، مشورے دیتے، نصیحت فرماتے، پڑھائی محنت سے کرنے کو کہتے۔ نمازِ ظہر کے لیے اپنے ساتھ کار میں بیٹھا کر، خود کار چلا کر لے جاتے اور واپس لاتے۔
غیر سے ایسی بے لوث محبت صرف مارہرہ مطہرہ کے شہزادگان میں نظر آتی ہے۔ سرکار امان میاں صاحب قبلہ کا ہی کرم رہا کہ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی سے ملاقات کا شرف مل سکا۔
حضور سیدی سرکار مدظلہ العالی کی خدمت میں:
تراویح میں قرآنِ عظیم کی تکمیل کے بعد جب حضور سیدی سرکار مدظلہ العالی کی بارگاہِ اقدس میں ان کا یہ کتا پہنچا تو حضور شہزادۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آئیے آئیے“ حاضرِ خدمت ہوا۔ بیٹھنے کے لیے قدموں میں گرا مگر اجازت نہ ملی اور کرسی پر بالکل اپنے بازو میں بٹھائے۔ تحفۃ اپنی کاوش ”برکاتِ اصحابِ حضور ﷺ جلد-اول“ پیش کی نیز برکاتِ اصحابِ حضور ﷺ جلد-ثانی اور برکاتِ تربیت کی ہارڈ کاپی پیش کی برائے تقریظ۔ حضور سیدی سرکار مدظلہ العالی نے تعلیم کے سلسلے میں دریافت فرمایا۔ نصیحتیں فرمائیں۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خلافت کا واقعہ ارشاد فرمایا۔ جامعۃ الرضا کا نام سن کر حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کا تذکرہ فرمایا۔ اپنی تکالیف اس سگ نے بیان کی، حضور شہزادۂ رسول ﷺ نے سماعت فرمائی اور دعا فرمائی۔ آخر میں سگ نے دوبارہ بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی، دریائے رحمت جوش میں تھا، سگ قدموں میں پھر گرا مگر جلالِ شہزادۂ رسول ﷺ سنبھال نہ سکا اور دوبارہ پہلی والی جگہ پکڑی۔ سرکار شہزادۂ حبیبِ خدا ﷺ نے ہاتھوں کو اپنے دستہائے اقدس میں لیا اور پکڑ کر ارشاد فرمایا: ”کہیے: بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم میں اللہ پر، اس کے رسول (ﷺ) پر، دینِ اسلام پر، شریعت پر ایمان رکھتا ہوں، اور ان شاء اللہ قائم رہوں گا۔ میں داخل ہوا قادری سلسلے میں۔ میں نے اپنی جان، اور مال اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی خوشی کے بدلے میں بیچ ڈالے۔“
بعدہٗ اجازت طلب کرنی پڑی کہ آرام کا وقت ہو رہا تھا۔ سرکار مدظلہ العالی کھانا تناول فرما کر تشریف لائے ہی تھے۔ نیچے اترتے ہی سیدی و مربی حضور امان میاں صاحب قبلہ سے ملاقات ہوئی، اجازت طلب کی اور البرکات واپسی ہوئی۔ اگلے ہی دن صبح ۹؍بجے دہلی کے لیے نکلا۔
میرے سید ہمیشہ نصحیتیں فرماتے ہیں۔ پیاری پیاری باتیں کرتے ہیں۔ غلاموں سے خود کال یا میسیج کے ذریعے خیریت پوچھتے ہیں۔ میرے سید فرماتے ہیں: اپنے بچوں کی تربیت پر خوب دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احکام پر زندگی گزاریں۔ ہمیں ہر لمحہ حضور اکرم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھتے رہنا چاہیے۔
میرے سید حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک شہزادی اور ایک شہزادے سید حذیفہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ میرے سید کو ہر بیماری، نظرِ بد، پریشانی، تکلیف سے محفوظ فرمائے، ہم سب پر تادیر سایۂ اقدس دراز فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

سید ڈاکٹر محمد عثمان قادری برکاتی

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آپ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کے چھوٹے شہزادے ہیں۔ آپ کا نام حضرت سید محمد عثمان میاں قادری برکاتی ہے۔
تاریخِ ولادت 14؍جون ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے PhD کی۔ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی نے ٩٨؍ویں عرسِ قاسمی برکاتی کے مقدس موقع پر ١٤؍سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ با شرع، نہایت سادگی کے ساتھ رہنے والے ہیں۔ نورانیت سے پُر ہیں۔ اپنا پن بہت زیادہ ہے۔ جب بھی دل بے چین ہوتا ہے تو سرکار عثمان میاں کی یاد آتی ہے، عرض کیا جاتا ہے، جواب ملتا ہے اور ایک دو بات میں ہی سکون مل جاتا ہے۔ نومبر یا دسمبر 2025ء میں نکاح ہوا۔ اللہ تعالیٰ سرکار عثمان میاں صاحب قبلہ حفظه اللہ تعالیٰ کی عمر میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے، ہر بیماری اور پریشانی سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔
از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
حضور امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی اطال اللّٰہ تعالیٰ عمرہ
حضرت سید امان میاں قادری حفظه اللّٰہ تعالیٰ
حضرت سید عثمان میاں قادری حفظه اللّٰہ تعالیٰ

حضور امین ملت مدظلہ العالی

یا الہٰی! امن و ایماں دے امانت دار رکھ
مرشدی” سید امینِ“ بے ریا کے واسطے
(شجرۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ)
نام و نسب:
آپ کا نام حضرت سید شاہ ”محمد امین“ ہے۔ لقب امین ملت اور تاج المشائخ ہے۔ حضور امین ملت دامت برکاتہم العالیہ حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے شہزادے اور جانشین ہیں۔ والدہ ماجدہ کا نام سیدہ محبوب فاطمہ نقوی بنت سید محمد اسحاق ہے۔ نسبِ پدری و مادری حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت ( گیارہویں قسط) میں مذکور ہے۔
ولادتِ باسعادت:
حضور امین ملت مدظلہ العالی و النورانی کی ولادتِ باسعادت ٢٥؍ذی قعدہ ؁١٣٧١ھ مطابق ١٥؍اگست ؁١٩٥٢ء قصبہ کاسگنج کے مشن ہسپتال میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت:
درگاہِ معلیٰ کے مدرسہ قاسم البرکات سے حضور امین ملت مدظلہ العالی نے تعلیم کی ابتدا فرمائی۔ منشی سعید الدین صاحب نے اردو پڑھائی۔ قرآنِ عظیم حضرت والد ماجد علیہ الرحمۃ والرضوان اور حافظ عبدالرحمٰن صاحب سے پڑھا۔ دینی اور روحانی تعلیم اپنے والد ماجد حضور احسن العلماء اور بڑے ابا حضور سید العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حاصل فرمائی۔ دس پارے حفظ فرمائے۔ مارہرہ شریف سے ہائی اسکول کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فرسٹ ڈی ویژن ایم.اے اردو (MA Urdu) کیا اور وہیں سے میر تقی میؔر پر پی.ایچ.ڈی (PhD) کی ڈگری حاصل کی۔ ایم.اے کا رزلٹ نکلنے سے پہلے ہی شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرار کی حیثیت سے مقرر ہوئے۔ اس کے بعد کچھ اساتذہ و اقرباء کی گزارش پر آگرہ میں لیکچرر ہو گئے۔ لگ بھگ آٹھ برس درس و تدریس میں گزارے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیڈر کی حیثیت سے واپس تشریف لائے اور پروفیسر کے عہدۂ جلیلہ پر فائز رہے۔ جو یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم کی درس و تدریس کا سب سے بڑا منصب سمجھا جاتا ہے۔
بیعت و خلافت: حضور امین الملت و الدین سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی و النورانی حضور تاج العلماء سید شاہ محمد میاں علیہ الرحمۃ والرضوان سے بیعت ہوئے نیز اجازت حاصل ہوئی۔ والد ماجد حضور احسن العلماء سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں قادری برکاتی علیہ الرحمۃ والرضوان کے ؁١٩٥٦ء میں جانشین ہوئے نیز جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت ملی۔ عرسِ رضوی کے موقع پر شہزادۂ حضور اعلیٰ حضرت، حضور مفتئ اعظمِ ہند الشاہ محمد مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کو ایک ہی دن میں تین مرتبہ خلافت عطا فرمائی۔
اپنے اِس سگ سے حضور پیر و مرشد بیان فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مجھے مجمع میں خلافت عطا فرمائی، ایک مرتبہ گاڑی میں خلافت عطا فرمائی اور ایک مرتبہ اپنے گھر لے جا کر خلافت عطا فرمائی۔ جب سند پیش کیا گیا تو چونکہ کوئی نقلی مہر لگا دیا کرتا تھا اور ایسے اصلی اور نقلی خلفاء میں فرق مشکل ہوتا تھا تو میں (حضور پیر و مرشد حفظه اللہ تعالیٰ) نے اس مہر کی سند لینے سے انکار کر دیا۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علم ہوا تو ارشاد فرمایا: اے صاحبزادے! کیا بات ہے ؟ میں نے سارے معاملات عرض کیے تو حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے مہر لگا کر مجھے دی۔ سبحان اللہ تعالیٰ!
واقعۂ خلافت:
ڈاکٹر سید محمد امین میاں مدظلہ العالی کے والد ماجد حضور احسن العلماء پابندی سے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف کے جلسۂ دستار بندی میں شرکت فرماتے تھے۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بے حد محبت تھی۔ چنانچہ حضور امین میاں نے ارادہ کیا کہ جلسۂ دستار میں حاضر ہونا چاہیے تاکہ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو والد ماجد کی غیر موجودگی محسوس نہ ہو، چنانچہ ڈاکٹر سید محمد امین میاں قادری مدظلہ العالی ٤؍شعبان المعظم کو بریلی شریف حاضر ہوئے۔ پندرہویں شب میں جلسہ ہوا۔ جلسے کے دوران آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر حضور مفتئ اعظمِ قدس سرہٗ خلافت و اجازت سے نواز دیں تو بہت اچھا ہو۔ ساڑھے تین بجے رات کو جلسہ کا اختتام ہوا، اور حضور مفتئ اعظمِ ہند قدس سرہ العزیز نے ڈاکٹر سید محمد امین میاں مدظلہ العالی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے دولت کدے کے لیے روانہ ہوئے۔ ڈیوڑھی میں حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”میاں امین! یہ تو آپ کے آبائے کرام کی دی ہوئی نعمت ہے۔ میں آپ کو سلسلۂ عالیہ قادریہ کالپویہ میں مجاز و ماذون کرتا ہوں اور خلافت نذر کرتا ہوں۔“
اس کے بعد ڈاکٹر سید محمد امین میاں حفظه اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیے اور کچھ پڑھتے رہے۔ اُس وقت آپ پر رقت طاری ہوگئی۔
عرسِ رضوی میں بریلی شریف تشریف لائے۔ قل شریف کی محفل جاری تھی۔ تقریباً ٨٠ یا ٩٠؍ہزار کا مجمع تھا۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند قدس سرہ العزیز نے مولانا مفتی محمد شریف الحق رضوی امجدی سے فرمایا: ”میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، چنانچہ کئی مائک مفتئ اعظمِ ہند کے سامنے رکھ دیے گئے۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ ابوالبرکات محی الدین آل رحمان مصطفیٰ رضا خان نورؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریباً آٹھ دس منٹ تقریر فرمائی جس میں حضور تاج المشائخ سیدی، آقائی، مولائی، مرشدی سرکار امین ملت مدظلہ العالی کی اجازت و خلافت کا اعلان فرمایا۔ پھر اپنے قلم مبارک سے مطبوعہ خلافت نامہ کی خانہ پری کر کے دستخط ثبت فرمائے۔“
شوال المکرم میں حضور مفتئ اعظمِ ہند قدس سرہٗ مارہرہ شریف تشریف لے گئے۔ حضور امین ملت مدظلہ العالی نے دلائل الخیرات شریف پیش کی اور عرض کی کہ اسے پڑھنے کی اجازت عطا فرمادیں۔ دریائے کرم جوش پر تھا، دلائل الخیرات کے ساتھ ساتھ جملہ اعمال و اذکار اور اشغال کی اجازت عطا فرمائی اور دوبارہ خلافت نامہ تحریر فرمایا۔
محبتِ اعلیٰ حضرت:
حضور تاج المشائخ سرکار امین ملت مدظلہ العالی فرماتے ہیں:
خانقاہِ برکاتیہ کا کوئی غلام آئے اور امام احمد رضا کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن ایسا نہیں ہے۔ احمد رضا کا ذکر ہماری رگوں میں ایسے دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو خانقاہِ برکاتیہ سے منسوب کرے، چاہے میرا بھتیجا ہو یا میرا بھانجا ہو اگر وہ احمد رضا کی برائی کرے اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توہین کرے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔
تصانیف: سید شاہ برکت اللہ؛ حیات اور علمی کارنامے، ترجمہ اردو: سراج العوارف، ترجمہ اردو: آداب السالکین، ترجمہ: رسالہ چہار انواع، میر تقی میؔر۔ ادب، ادیب اور اصناف، قائم چاند پوری؛ حالات اور کارنامے، شاہ حقانی کا اردو ترجمہ۔
چند مشہور خلفاء: سید شاہ نجیب حیدر، سید شاہ محمد امان، سید شاہ محمد عثمان، سید شاہ گلزار اسمٰعیل واسطی (گلزارِ ملت)، امامِ علم و فن خواجہ مظفر حسین، بحر العلوم مفتی عبدالمنان، علامہ محمد احمد مصباحی، مفتی عبدالمبین، مفتی محمد عسجد رضا خان (جانشین و شہزادۂ حضور تاج الشریعہ و سجادہ نشین خانقاہِ عالیہ قادریہ برکاتیہ تاج الشریعہ) مفتی حبیب یار خاں، علامہ عبدالستار ہمدانی۔
اہم خدمات: سن 2004؍عیسوی میں البرکات کا قیام، ١٩٩٩؍میں مجلسِ برکات کا قیام، جامعہ اشرفیہ ٢٠٠٤؍میں مجلسِ شرعی کا احیا، ٢٠١٢؍میں مارہرہ مطہرہ میں جامعہ احسن البرکات کا قیام۔
حضور امین ملت مدظلہ العالی و النورانی مخلص، بے ریا، با کمال، با عمل پیر طریقت ہیں۔ سب کے سامنے آنا، اپنی کہلوانا، اختلافات کے پیچھے جانا قطعاً پسند نہیں۔ مہمان نوازی کرنا، خوش اخلاقی سے ملنا، بیٹا بیٹا کرکے بات کرنا، دوسروں کی باتیں سننا، اپنے گھر بلا کر خوب محبت لٹانا عاداتِ کریمہ میں سے ہے۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان سے حضور تاج المشائخ سرکار امین ملت مدظلہ العالی کو بہت زیادہ محبت تھی۔ حضور امین ملت حفظه اللہ تعالیٰ کو امریکہ اور جارڈن اسلامک اسٹڈیز سینٹر کے باہمی اشتراک سے ہوئے سروے سے پوری دنیا کے 500؍مشاہیر مسلمانوں میں 44؍واں مقام حاصل ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے حضور سیدی سرکار دامت برکاتہم العالیہ عالمی مشاہیر کی فہرست میں جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ طلبہ سے حضور سیدی سرکار حفظہ اللہ تعالیٰ کو بہت محبت ہے چاہے جامعہ احسن البرکات، مارہرہ مطہرہ کے طلبہ ہوں یا البرکات کے یا کسی اور اہل سنت کے ادارے کے طلبہ ہوں۔ کوئی حضور حفظہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے جاتا ہے تو ضرور مدد فرماتے ہیں، کوئی کچھ پیش کرتا ہے تو قبول فرماتے ہیں، بڑوں کی دعوت سے کوئی تعلق نہیں مگر غریبوں کی دعوت ضرور قبول فرماتے ہیں۔ سجادہ نشین ہو کر بھی لباس کی سادگی بزرگانِ دین کی یاد دلا دیتی ہے۔ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کو اہل سنت میں ”امین ملت“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
نکاح و شہزادگان:
حضور امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مارہروی مدظلہ العالی و النورانی کا نکاح سید عابد علی صاحب کی شہزادی سیدہ آمنہ خاتون حفظہا اللہ تعالیٰ سے الٰہ آباد میں ہوئی۔
دو شہزادے ہیں: حضرت سید محمد امان و حضرت سید محمد عثمان اور ایک شہزادی ہیں سیدہ ایمن فاطمہ۔
اللہ تعالیٰ حضور امین ملت مدظلہ العالی و النورانی کا سایہ اہل سنت و جماعت اور تمام مریدین و معتقدین و متوسلین پر تادیر قائم فرمائے، حضور کو تمام بیماریوں سے شفا عطا فرمائے، فیض کو عام فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔

امانِ اہل سنت سید محمد امان میاں قادری

آپ حضور امین ملت مدظلہ العالی کے بڑے شہزادے ہیں اور حضور کے جانشین اور مارہرہ مطہرہ کے ولی عہد ہیں۔
آپ کا نام حضرت سید شاہ ”محمد امان میاں “ قادری برکاتی ہے۔
حضور احسن العلماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت ہوئے۔ جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے تعلیم حاصل فرمائی۔
نہایت پاکیزہ اخلاق کے مالک ہیں۔ کینہ، تکبر، بڑا دکھانا، بہت مہنگے کپڑے پہننا، فضول بات کرنا قطعاً نا پسند ہے۔ سادگی، محبت اس قدر ہے کہ دوسروں کو اپنی باتوں کی طرف کھینچ ہی لیتے ہیں۔ تقریر نہایت سادہ زبان میں فرماتے ہیں تاکہ عوام سمجھ کر عمل کرے۔ امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان اور حضور مفتئ اعظمِ ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت تو خاندانی ہے۔ جب بھی ان بزرگانِ دین کا کلام سنتے ہیں فوراً جھوم جاتے ہیں۔
ابھی حضور امان اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس کے علاوہ چند مساجد اور مدارس سنبھالتے ہیں۔
بارگاہِ امامِ اہلسنّت میں ملاقات کا شرف:
یہ سگِ حضور امین ملت مدظلہ العالی ٦؍ذی الحجہ ؁١٤٤۵ھ / ؁٢٠٢٤ء کو جماعت-رابعہ میں زیرِ تعلیم تھا۔ سہ ماہی امتحان چل رہا تھا۔ دینیات کا امتحان دے کر گھر جانے سے پہلے مرکز الدراسات الاسلامیۃ، جامعۃ الرضا سے امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے نکلا۔ قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ درگاہ شریف کے راستے میں مڑتے ہی کچھ سامان لینے کھڑے ہوئے کہ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کی نظر اپنے سید و مربی پر پڑی۔ سب چھوڑ کر، بھول کر یہ غلام دوڑا اور دست بوسی کرکے مشرف ہوا۔ اپنا تعارف کرایا تو حضور مربی و سید مدظلہ العالی نے دریافت فرمایا: ”جامعۃ الرضا میں پڑھ رہے ہو نا ؟ تو پڑھائی چھوڑ کر اِدھر اُدھر کیسے ؟“ عرض کیا: ”سرکار! کل عصریات کا امتحان دے کر گھر نکلنا ہے اس لیے حاضری دینے آئے ہیں۔“ حضور مربی و سید مدظلہ العالی کو جلدی نکلنا تھا پس تشریف لے گئے۔ یہ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی آگے بڑھا لیکن دل اپنے مربی کی یاد میں ڈوبا ہوا تھا۔ پس واپس بھاگا اور تیزی میں جتنا ممکن ہوا دوڑا اور کافی دور جا کر بفضل اللہ تعالیٰ حضور سید مدظلہ العالی سے پھر ملاقات ہوئی۔ میرے سید نے فرمایا: ”کس کلاس میں ہو ؟“ فقیر نے عرض کیا: ”سرکار! رابعہ میں“ پھر دعائیں دیں اور تشریف لے جانے لگے۔ راستہ میں اپنی کاوش ”برکاتِ اصحابِ حضور ﷺ جلد-اول“ کے بارے میں اطلاع دی۔ حضرت علامہ نقی علی خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی بارگاہ کے سامنے مارہرہ شریف کا ولی عہد ایک آٹو رکشہ میں بیٹھ کر تشریف لے گیا۔
البرکات کا سفر: رمضان المبارک ؁١٤٤٦ھ میں حضور سید امان اہلسنت مدظلہ العالی نے اس سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کو تراویح کے لیے آنے کا حکم دیا۔ سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ یہ خبر اس وقت فقیر کو ملی جب یہ مرکز الدراسات الاسلامیۃ جامعۃ الرضا، بریلی شریف میں تھا۔ اسی وقت ٹکٹ کروایا۔ ٢٦؍فروری ؁٢٠٢۵ء کو دہلی سے روانہ ہوا۔ جیسے ہی گھر سے نکلا حضور امان میاں صاحب قبلہ حفظه اللہ تعالیٰ نے غلام کی خیریت دریافت فرمانے کے لیے کال کیا اور فرمایا: جیسے ہی علی گڑھ پہنچنے والے رہو کال کر دینا، کسی کو لینے بھیج دیا جائے گا۔ قسمت کا ستارہ بھی بڑی بلندی پر تھا۔ پہنچنے سے کچھ وقت پہلے کال آئی سرکار امان اہل سنت کی اور ارشاد فرمایا: تم کو میں ہی لینے آ گیا ہوں، کتنی دیر لگے گی ؟ دل خوشی اور خوف میں مچلنے لگا۔ خوشی اس کی کہ شہزادۂ امین ملت تشریف لائے ہیں اور خوف کہ کہیں ٹرین لیٹ نہ ہو جائے اور میرے سید کو میری وجہ سے پریشانی ہو۔ اسٹیشن سے نکل کر باہر ایک پیڑ کے پاس سرکار امانِ اہل سنت کی گاڑی کھڑی تھی۔ میں بھاگتا ہوا گیا، اتنے میں سرکار امانِ اہل سنت کے ساتھ گاڑی چلانے والے جناب نے سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھا اور سرکار امانِ اہل سنت نے جو مارہرہ شریف کے ولی عہد ہیں، اس ادنیٰ سے ادنیٰ اپنے غلام کے لیے کار کا دروازہ کھول دیا۔ اپنی گاڑی میں بیٹھا کر البرکات لے گئے اور مولانا احمد حسن سعدی امجدی صاحب کے حوالے کر دیا۔ (مہمان نوازی ہو تو ایسی ہو۔ یقیناً حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شہزادگان کی مہمان نوازی پر مہمان نوازی کو بھی ناز ہوتا ہے۔)
اس سگِ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی نے زندگی میں پہلی بار اس ہستی کا دیدار کیا جس کے بارے میں بلا شک و شبہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہر وقت Busy رہتے ہیں۔ کبھی کبھی سرکار امان اہلسنت سے ملاقات ہوتی اور ہمیشہ مسکرا کر ملتے اور دریافت فرماتے: کوئی پریشانی تو نہیں ہے یہاں ؟ کتنے پارے ہو گئے ؟ زیادہ ٹینشن تو نہیں لیتے ؟
آفس میں لے جا کر اپنے سامنے کرسی پر بٹھا کر حالات دریافت فرماتے، مشورے دیتے، نصیحت فرماتے، پڑھائی محنت سے کرنے کو کہتے۔ نمازِ ظہر کے لیے اپنے ساتھ کار میں بیٹھا کر، خود کار چلا کر لے جاتے اور واپس لاتے۔
غیر سے ایسی بے لوث محبت صرف مارہرہ مطہرہ کے شہزادگان میں نظر آتی ہے۔ سرکار امان میاں صاحب قبلہ کا ہی کرم رہا کہ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی سے ملاقات کا شرف مل سکا۔
حضور سیدی سرکار مدظلہ العالی کی خدمت میں:
تراویح میں قرآنِ عظیم کی تکمیل کے بعد جب حضور سیدی سرکار مدظلہ العالی کی بارگاہِ اقدس میں ان کا یہ کتا پہنچا تو حضور شہزادۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آئیے آئیے“ حاضرِ خدمت ہوا۔ بیٹھنے کے لیے قدموں میں گرا مگر اجازت نہ ملی اور کرسی پر بالکل اپنے بازو میں بٹھائے۔ تحفۃ اپنی کاوش ”برکاتِ اصحابِ حضور ﷺ جلد-اول“ پیش کی نیز برکاتِ اصحابِ حضور ﷺ جلد-ثانی اور برکاتِ تربیت کی ہارڈ کاپی پیش کی برائے تقریظ۔ حضور سیدی سرکار مدظلہ العالی نے تعلیم کے سلسلے میں دریافت فرمایا۔ نصیحتیں فرمائیں۔ حضور مفتئ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خلافت کا واقعہ ارشاد فرمایا۔ جامعۃ الرضا کا نام سن کر حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان کا تذکرہ فرمایا۔ اپنی تکالیف اس سگ نے بیان کی، حضور شہزادۂ رسول ﷺ نے سماعت فرمائی اور دعا فرمائی۔ آخر میں سگ نے دوبارہ بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی، دریائے رحمت جوش میں تھا، سگ قدموں میں پھر گرا مگر جلالِ شہزادۂ رسول ﷺ سنبھال نہ سکا اور دوبارہ پہلی والی جگہ پکڑی۔ سرکار شہزادۂ حبیبِ خدا ﷺ نے ہاتھوں کو اپنے دستہائے اقدس میں لیا اور پکڑ کر ارشاد فرمایا: ”کہیے: بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم میں اللہ پر، اس کے رسول (ﷺ) پر، دینِ اسلام پر، شریعت پر ایمان رکھتا ہوں، اور ان شاء اللہ قائم رہوں گا۔ میں داخل ہوا قادری سلسلے میں۔ میں نے اپنی جان، اور مال اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی خوشی کے بدلے میں بیچ ڈالے۔“
بعدہٗ اجازت طلب کرنی پڑی کہ آرام کا وقت ہو رہا تھا۔ سرکار مدظلہ العالی کھانا تناول فرما کر تشریف لائے ہی تھے۔ نیچے اترتے ہی سیدی و مربی حضور امان میاں صاحب قبلہ سے ملاقات ہوئی، اجازت طلب کی اور البرکات واپسی ہوئی۔ اگلے ہی دن صبح ۹؍بجے دہلی کے لیے نکلا۔
میرے سید ہمیشہ نصحیتیں فرماتے ہیں۔ پیاری پیاری باتیں کرتے ہیں۔ غلاموں سے خود کال یا میسیج کے ذریعے خیریت پوچھتے ہیں۔ میرے سید فرماتے ہیں: اپنے بچوں کی تربیت پر خوب دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احکام پر زندگی گزاریں۔ ہمیں ہر لمحہ حضور اکرم سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھتے رہنا چاہیے۔
میرے سید حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک شہزادی اور ایک شہزادے سید حذیفہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ میرے سید کو ہر بیماری، نظرِ بد، پریشانی، تکلیف سے محفوظ فرمائے، ہم سب پر تادیر سایۂ اقدس دراز فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

سید ڈاکٹر محمد عثمان قادری برکاتی

ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
آپ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی کے چھوٹے شہزادے ہیں۔ آپ کا نام حضرت سید محمد عثمان میاں قادری برکاتی ہے۔
تاریخِ ولادت 14؍جون ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے PhD کی۔ حضور پیر و مرشد مدظلہ العالی نے ٩٨؍ویں عرسِ قاسمی برکاتی کے مقدس موقع پر ١٤؍سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی۔ با شرع، نہایت سادگی کے ساتھ رہنے والے ہیں۔ نورانیت سے پُر ہیں۔ اپنا پن بہت زیادہ ہے۔ جب بھی دل بے چین ہوتا ہے تو سرکار عثمان میاں کی یاد آتی ہے، عرض کیا جاتا ہے، جواب ملتا ہے اور ایک دو بات میں ہی سکون مل جاتا ہے۔ نومبر یا دسمبر 2025ء میں نکاح ہوا۔ اللہ تعالیٰ سرکار عثمان میاں صاحب قبلہ حفظه اللہ تعالیٰ کی عمر میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے، ہر بیماری اور پریشانی سے محفوظ فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔
از: سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
36
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 28
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]

مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢