صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے
رد دیوبندیت ووہابیت

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے

✍️ Amir Fuzail Markazi

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے
ہندوؤں کے چندے سے دیوبندی مدرسے بنتے ہیں
آج دیوبندی حضرات بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارے مدارس اور مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے، دارالعلوم دیوبند ایک عظیم الشان ادارہ بن چکا ہے، لیکن کاش کوئی ان دیوبندیوں سے پوچھے کہ جناب! آپ کے مدرسوں کی فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ اس میں چندے کون دیتے ہیں ،اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اس راز کو بھی خود انہی کی زبان سے فاش کروا دیا،چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے مشہور دیوبندی عالم علامہ سید محبوب صاحب لکھتے ہیں:
*دارالعلوم سے تعاون اور چندے کے سلسلے میں شروع ہی سے یہ طریقہ رہا کہ اس میں ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے چندے کو قبول کیا جاتا رہا۔ دارالعلوم کے آئین چندہ کی پہلی دفعہ یہ ہے کہ چندے کی کوئی مقدار مقرر نہیں، اور نہ ہی اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید ہے۔ چنانچہ دارالعلوم کی رودادوں میں جگہ جگہ ہندوؤں اور دوسرے غیر مسلم چندہ دہندگان کے نام موجود ہیں، اور یہ سلسلہ شروع سے لے کر آج تک جاری ہے۔
(تاریخ دارالعلوم دیوبند، صفحہ 194، سید محبوب رضوی دیوبندی)
اسی بات کی تصدیق دیوبندیوں کے بڑے قلمکار سید مناظر احسن گیلانی بھی کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
عہدِ قاسمی کی ان ہی قدیم رودادوں میں ’دستورالعملِ چندہ‘ اور ’آئینِ چندہ‘ کا عنوان قائم کر کے یہی الفاظ ملتے ہیں کہ ’چندے کی کوئی مقدار مقرر نہیں، اور نہ اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید ہے۔‘ انہی رودادوں میں چندہ دینے والوں کی فہرست میں اسلامی ناموں کے ساتھ ساتھ بنشی تلسی رام، رام سہائے، ہردواری لال، لالہ بیجینا، منشی موتی لال، رام لال، سیوا رام، سوار وغیرہ کے نام صاف نظر آتے ہیں۔
(سوانح قاسمی، جلد دوم، صفحہ 317، مکتبہ رحمانیہ لاہور)
اب دیوبندی علما سے پوچھا جائے کہ آخر کفار کی حمایت سے چلنے والے مدارس کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟ ہندوؤں کو دیوبندیوں کے مدرسے کی امداد دینے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کفار نے دیوبندیوں کو چندے اس لیے دیے ہوں کہ وہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کریں؟ اور پھر غور کیجئے کہ دیوبندی مولوی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے!یہ مقولہ بالکل درست ہے بے حیا باش چہ می خواہی کن
دیوبندی مدارس بانجھ ہیں
شاید یہی وجہ ہے کہ اب دیوبندی مدارس سے دہشت گرد تو پیدا ہوتے ہیں لیکن کوئی صحیح عالمِ دین یا ولی اللہ پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ اس کا اعتراف بھی خود دیوبندیوں کے مفتی اعظم محمد رفیع عثمانی نے ان الفاظ میں کیا:
میں نے اپنے والد محترم [مفتی محمد شفیع] سے بار بار سنا کہ ہمارے دینی مدارس گزشتہ تیس سال سے عقیم (بانجھ) ہو گئے ہیں، یعنی یہاں سے کوئی مولوی پیدا نہیں ہوتا۔ والد صاحب کو فوت ہوئے اب اٹھائیس سال ہو چکے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب سے تقریباً اٹھاون سال سے ہمارے دینی مدارس اس زبوں حالی کا شکار ہیں۔ فرمایا: مولانا تو بہت پیدا ہوتے ہیں، مولوی پیدا نہیں ہوتے۔ مولوی کس کو کہتے ہیں؟ لفظ مولوی کی نسبت مولا کی طرف ہے، یعنی اس کے معنی ہیں ’مولا والا‘ یعنی اللہ والا، یعنی ولی اللہ۔
(اصلاحی تقریریں، جلد ہفتم، صفحہ 160، بیت العلوم، انار کلی لاہور)
ایک اور دیوبندی عالم نے اس زبوں حالی کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:
دیوبند والے حضرات خوش ہوتے ہوں گے کہ ہمارے پاس اتنے طالب علم ہر سال جمع ہوتے ہیں، یہ نہیں معلوم کہ سب کوڑا کرکٹ ہے۔ آخر کوڑا کرکٹ ہی تو ہے جس کا دماغ اور ذہن نہ ہو۔

(مجالس حضرت رائے پوری، صفحہ 144، بحوالہ: دست و گریباں کا تحقیقی جائزہ)
دیوبندی مشائخ گندی فلمیں دیکھتے ہیں
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر دیوبندی مدارس میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ تو سنیے! دیوبندی مدارس کے اساتذہ اور مشائخ کے اندر تصوف اور روحانیت باقی نہیں رہی، بلکہ اب وہ اپنے مدرسوں میں بیٹھ کر فحش فلمیں دیکھتے ہیں۔جس کا یہ نتیجہ ہے ۔
چنانچہ خود دیوبندی مولوی عتیق الرحمن گیلانی لکھتے ہیں:
مجھے مدرسے میں طلباء نے بتایا کہ ہر جمعرات کو مدرسے کے مہتمم کے صاحبزادے فحش ویڈیو لے کر آتے ہیں اور بند کمرے میں اسے دیکھتے ہیں۔ چونکہ میں جمعرات کو مدرسے میں موجود نہیں ہوتا تھا، ایک دن جمعرات کے علاوہ بھی وہ لوگ ویڈیو دیکھ رہے تھے۔ میں ڈنڈا لے کر وہاں پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا، میرا خیال تھا کہ مولوی خلیل احمد درخواستی نکلیں گے، جس کو دو چار ضربیں لگانا مناسب ہو گا۔ مگر جب دروازہ کھلا تو مولانا رشید احمد درخواستی اور ایک اور مدرس اندر سے برآمد ہوئے۔ ان کی شکلیں دیکھ کر، جنہوں نے جرم کیا تھا، شرم مجھے آ رہی تھی۔ یہ 1987ء کی بات ہے، جب عام معاشرے میں بھی ویڈیو کو انتہائی برا سمجھا جاتا تھا۔
(جاندار کی تصویر کے جواز کا شرعی حکم، از عتیق الرحمن گیلانی، صفحہ 35، 36)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین کرام! جب دیوبندی مشائخ و مدارس کی یہ پستی اور زبوں حالی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، جب ان کے افکار میں گمراہی، ان کے اقوال میں تضاد، اور ان کے اعمال میں ابتری سرایت کر چکی ہو، تو کیا کسی دیوبندی کے لیے یہ زیبندہ ہے کہ وہ اپنی ہی تباہی پر ناز کرے؟ کیا یہ بھی کوئی فخر کی بات ہے کہ زوال کو کمال سمجھا جائے اور انحطاط کو امتیاز گردانا جائے؟
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے
( القول الاحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ کذاب کون ؟ص 45تا49)
از قلم :محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے

مضمون نگار: Amir Fuzail Markazi

دیوبندی مدارس کی زبوں حالی اور وہاں کے اساتذہ کا گھٹیا کردار دیوبندی قلم سے
ہندوؤں کے چندے سے دیوبندی مدرسے بنتے ہیں
آج دیوبندی حضرات بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہمارے مدارس اور مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے، دارالعلوم دیوبند ایک عظیم الشان ادارہ بن چکا ہے، لیکن کاش کوئی ان دیوبندیوں سے پوچھے کہ جناب! آپ کے مدرسوں کی فنڈنگ کہاں سے آتی ہے؟ اس میں چندے کون دیتے ہیں ،اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اس راز کو بھی خود انہی کی زبان سے فاش کروا دیا،چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے مشہور دیوبندی عالم علامہ سید محبوب صاحب لکھتے ہیں:
*دارالعلوم سے تعاون اور چندے کے سلسلے میں شروع ہی سے یہ طریقہ رہا کہ اس میں ہر مذہب و ملت کے لوگوں کے چندے کو قبول کیا جاتا رہا۔ دارالعلوم کے آئین چندہ کی پہلی دفعہ یہ ہے کہ چندے کی کوئی مقدار مقرر نہیں، اور نہ ہی اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید ہے۔ چنانچہ دارالعلوم کی رودادوں میں جگہ جگہ ہندوؤں اور دوسرے غیر مسلم چندہ دہندگان کے نام موجود ہیں، اور یہ سلسلہ شروع سے لے کر آج تک جاری ہے۔
(تاریخ دارالعلوم دیوبند، صفحہ 194، سید محبوب رضوی دیوبندی)
اسی بات کی تصدیق دیوبندیوں کے بڑے قلمکار سید مناظر احسن گیلانی بھی کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
عہدِ قاسمی کی ان ہی قدیم رودادوں میں ’دستورالعملِ چندہ‘ اور ’آئینِ چندہ‘ کا عنوان قائم کر کے یہی الفاظ ملتے ہیں کہ ’چندے کی کوئی مقدار مقرر نہیں، اور نہ اس میں مذہب و ملت کی کوئی قید ہے۔‘ انہی رودادوں میں چندہ دینے والوں کی فہرست میں اسلامی ناموں کے ساتھ ساتھ بنشی تلسی رام، رام سہائے، ہردواری لال، لالہ بیجینا، منشی موتی لال، رام لال، سیوا رام، سوار وغیرہ کے نام صاف نظر آتے ہیں۔
(سوانح قاسمی، جلد دوم، صفحہ 317، مکتبہ رحمانیہ لاہور)
اب دیوبندی علما سے پوچھا جائے کہ آخر کفار کی حمایت سے چلنے والے مدارس کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟ ہندوؤں کو دیوبندیوں کے مدرسے کی امداد دینے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کفار نے دیوبندیوں کو چندے اس لیے دیے ہوں کہ وہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کریں؟ اور پھر غور کیجئے کہ دیوبندی مولوی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے!یہ مقولہ بالکل درست ہے بے حیا باش چہ می خواہی کن
دیوبندی مدارس بانجھ ہیں
شاید یہی وجہ ہے کہ اب دیوبندی مدارس سے دہشت گرد تو پیدا ہوتے ہیں لیکن کوئی صحیح عالمِ دین یا ولی اللہ پیدا نہیں ہوتے ہیں۔ اس کا اعتراف بھی خود دیوبندیوں کے مفتی اعظم محمد رفیع عثمانی نے ان الفاظ میں کیا:
میں نے اپنے والد محترم [مفتی محمد شفیع] سے بار بار سنا کہ ہمارے دینی مدارس گزشتہ تیس سال سے عقیم (بانجھ) ہو گئے ہیں، یعنی یہاں سے کوئی مولوی پیدا نہیں ہوتا۔ والد صاحب کو فوت ہوئے اب اٹھائیس سال ہو چکے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب سے تقریباً اٹھاون سال سے ہمارے دینی مدارس اس زبوں حالی کا شکار ہیں۔ فرمایا: مولانا تو بہت پیدا ہوتے ہیں، مولوی پیدا نہیں ہوتے۔ مولوی کس کو کہتے ہیں؟ لفظ مولوی کی نسبت مولا کی طرف ہے، یعنی اس کے معنی ہیں ’مولا والا‘ یعنی اللہ والا، یعنی ولی اللہ۔
(اصلاحی تقریریں، جلد ہفتم، صفحہ 160، بیت العلوم، انار کلی لاہور)
ایک اور دیوبندی عالم نے اس زبوں حالی کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:
دیوبند والے حضرات خوش ہوتے ہوں گے کہ ہمارے پاس اتنے طالب علم ہر سال جمع ہوتے ہیں، یہ نہیں معلوم کہ سب کوڑا کرکٹ ہے۔ آخر کوڑا کرکٹ ہی تو ہے جس کا دماغ اور ذہن نہ ہو۔

(مجالس حضرت رائے پوری، صفحہ 144، بحوالہ: دست و گریباں کا تحقیقی جائزہ)
دیوبندی مشائخ گندی فلمیں دیکھتے ہیں
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر دیوبندی مدارس میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ تو سنیے! دیوبندی مدارس کے اساتذہ اور مشائخ کے اندر تصوف اور روحانیت باقی نہیں رہی، بلکہ اب وہ اپنے مدرسوں میں بیٹھ کر فحش فلمیں دیکھتے ہیں۔جس کا یہ نتیجہ ہے ۔
چنانچہ خود دیوبندی مولوی عتیق الرحمن گیلانی لکھتے ہیں:
مجھے مدرسے میں طلباء نے بتایا کہ ہر جمعرات کو مدرسے کے مہتمم کے صاحبزادے فحش ویڈیو لے کر آتے ہیں اور بند کمرے میں اسے دیکھتے ہیں۔ چونکہ میں جمعرات کو مدرسے میں موجود نہیں ہوتا تھا، ایک دن جمعرات کے علاوہ بھی وہ لوگ ویڈیو دیکھ رہے تھے۔ میں ڈنڈا لے کر وہاں پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا، میرا خیال تھا کہ مولوی خلیل احمد درخواستی نکلیں گے، جس کو دو چار ضربیں لگانا مناسب ہو گا۔ مگر جب دروازہ کھلا تو مولانا رشید احمد درخواستی اور ایک اور مدرس اندر سے برآمد ہوئے۔ ان کی شکلیں دیکھ کر، جنہوں نے جرم کیا تھا، شرم مجھے آ رہی تھی۔ یہ 1987ء کی بات ہے، جب عام معاشرے میں بھی ویڈیو کو انتہائی برا سمجھا جاتا تھا۔
(جاندار کی تصویر کے جواز کا شرعی حکم، از عتیق الرحمن گیلانی، صفحہ 35، 36)
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین کرام! جب دیوبندی مشائخ و مدارس کی یہ پستی اور زبوں حالی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، جب ان کے افکار میں گمراہی، ان کے اقوال میں تضاد، اور ان کے اعمال میں ابتری سرایت کر چکی ہو، تو کیا کسی دیوبندی کے لیے یہ زیبندہ ہے کہ وہ اپنی ہی تباہی پر ناز کرے؟ کیا یہ بھی کوئی فخر کی بات ہے کہ زوال کو کمال سمجھا جائے اور انحطاط کو امتیاز گردانا جائے؟
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے
( القول الاحسن فی کشف زور الگھمن المعروف بہ کذاب کون ؟ص 45تا49)
از قلم :محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Amir Fuzail Markazi

Student - Takhassus 1st | Jamiatur Raza
2
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 36
Kalam 12
Amir Fuzail Markazi
زمرہ جات

الحاد اور ملحدین ایک تحقیقی مطالعہ

کیا اہل بیت اطہار معصوم ہیں ایک تحقیقی جائزہ

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
اسلامیات 12
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
رد دیوبندیت ووہابیت 11
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
اوراد و وظائف 2
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢