صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
سیرت النبی ﷺ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ: 9523788434
بت شکن آیا یہ کہہ کر منھ کے بل بت گر پڑے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام
اللہ جل جلالہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ نے سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، ماحیِ کفریاتِ کافرین و بددین، حضور پُرنور، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا تو ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ لات، عزیٰ سمیت بے شمار بتوں کو پوجتے تھے۔ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی وہ باطل معبود منہ کے بل گر پڑے، گویا یہ اعلان عام ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ہیں اور اب دینِ اسلام کا غلبہ ہر طرف ظاہر ہو کر رہے گا۔
چنانچہ اللہ جل جلالہ نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا:
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا {سورۃ الفتح آیت ٢٨}
ترجمۂ کنز الایمان: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اُسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ۔
اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب فرمایا، اور بے شک اللہ جل و علا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بطورِ شاہد کافی ہے۔ [مدارک التنزیل، تحتِ آیتِ مذکور]
نیز اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ {سورۃ الصف، آیت ٨}
ترجمۂ کنز الایمان: چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونھوں سے بجھادیں اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا، پڑے بُرا مانیں کافر۔
اللہ تعالیٰ ہر حال میں دینِ اسلام کو غالب فرمائے گا، اگرچہ کفار اس کو ناپسند کریں۔ [تفسیر خازن، تحت آیت مذکور]
صحیح بخاری شریف کی حدیث ہے:
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ۔ (رقم الحدیث: ٣٥٣٢)
ترجمۂ حدیث: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں یعنی وہ کہ جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، اور میں عاقب ہوں یعنی وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔[تخریج حدیث: اجلّہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالك و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی]
بخاری شریف کی حدیثِ مذکور سے بالکل واضح ہے کہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفر و شرک کو مٹانے والے بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ ہی کی دعوت، تبلیغ اور سعیِ مسلسل کا نتیجہ ہے کہ اسلام عرب کے ریگ زاروں سے نکل کر آج ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس راہِ حق میں بے شمار مصائب و تکالیف برداشت کرنا پڑیں، جن میں واقعۂ طائف خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہاں تک کہ بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ! بنو ثقیف کے لیے دعائے ضرر فرمائیے! مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم، جو رحمۃ للعالمین ہیں، نے اس کے برخلاف دعائے خیر فرمائی کہ اے اللہ بنو ثقیف کو ہدایت عطا فرما! جیسا کہ سنن ترمذی شریف کی حدیث میں ہے: قالوا: يا رسولَ اللهِ ! أَحْرَقَتْنا نِبالُ ثَقِيفٍ، فادْعُ اللهَ عليهم. فقال: اللهم اهْدِ ثَقِيفًا {رقم الحدیث: ٣٩٤٢}
یہ دعا قبول ہوئی۔ بنو ثقیف نے باہمی مشورے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرلی، اور اپنا ایک وفد کنانہ بن عبد یالیل کی قیادت میں مدینہ منورہ، بارگاہِ رسالت میں روانہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجدِ نبوی شریف ہی میں خیمہ نصب کر کے قیام کرنے کا حکم فرمایا، تاکہ وہ قرآن کی تلاوت سنیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھیں۔
یہ وفد کئی دن تک مسجدِ نبوی میں ٹھہرا رہا، اور وقتاً فوقتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ خود مختارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے جاتے اور نہایت حکمت اور نرمی سے دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ {سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۴}
ابن سعد نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات نمازِ عشاء کے بعد تشریف لاتے اور کھڑے کھڑے ان سے گفتگو فرماتے، حتیٰ کہ کبھی آپ تھکاوٹ کی وجہ سے ایک قدم پر بوجھ ڈالتے اور کبھی دوسرے پر۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸]
موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب مغازی میں روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بھی اسی وفد میں شامل تھے اور سب سے کم عمر تھے۔ وفد کے لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتے تو انھیں خیمے میں چھوڑ جاتے، لیکن جب یہ لوگ دوپہر میں قیلولہ کرنے کے لیے واپس آتے تو عثمان بن ابوالعاص چپکے سے نکل کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے، قرآن سیکھتے اور دین کے متعلق بار بار سوالات کرتے۔ یہاں تک کہ آپ نے دین میں کافی سمجھ حاصل کر لی۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم محوِ استراحت ہوتے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر دین کا علم حاصل کرتے۔ وہ یہ سب کچھ اپنے ساتھیوں سے مخفی رکھتے۔ ان کی اسی محنت اور خلوص کی بدولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خوش ہوئے اور ان پر خاص عنایت فرمانے لگے۔
رفتہ رفتہ دینِ اسلام قبیلۂ ثقیف کے دلوں میں اُتر گیا۔ وفد کے سردار کنانہ بن عبد یالیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: زنا کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ ہم بکثرت سفر کرتے ہیں، اس لیے یہ ضرورت بن چکی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم پر حرام ہے۔ اور بے شک اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا {بنی اسرائیل: ۳۲}
ترجمۂ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ! بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔
پھر سود کے بارے میں پوچھا حضور نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ {سورۃ البقرہ آہت ۲۷۸}
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ۔
اسی طرح شراب کے متعلق دریافت کیا، حضور ﷺ نے فرمایا شراب حرام ہے اور پھر حرمت شراب کی آیت تلاوت فرمائی۔ پھر ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم سے نماز معاف کر دیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا خیر فی دین بلا صلوٰۃ یعنی نماز کے بغیر دین میں کوئی بھلائی نہیں۔
بعد ازاں وہ سب مشورہ کرکے واپس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتیں مان لیں، سوائے اس کے کہ ان کا بت لات تین سال تک نہ گرایا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا۔ وہ مہلت کو ایک سال کر کے کم کرتے رہے، حتیٰ کہ جب یہ لوگ اپنے علاقے میں پہنچے تو ایک ماہ کا مطالبہ کیا، لیکن حضور نے قلیل مدت کی مہلت بھی دینے سے انکار فرما دیا۔
ابن اسحاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ یہ مہلت اس لیے مانگتے تھے تاکہ اپنی قوم کے جاہل، عورتوں اور بچوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ اور انھیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ لوگ بگڑ ہی نہ جائیں۔ ان کا ارادہ تھا کہ جب ایمان دلوں میں اچھی طرح جاگزیں ہو جائے، تب بت کو گرایا جائے۔
پھر انہوں نے عرض کیا کہ ہم خود بت کو نہیں گرائیں گے، البتہ ان کے گرانے کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عنقریب تمہارے ساتھ کسی کو بھیجوں گا جو یہ کام انجام دے گا۔
اس وفد کے روانہ ہونے کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ان کے پیچھے ایک وفد روانہ فرمایا، جس میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے لات کو منہدم کرنا شروع کیا۔ تو قبیلۂ ثقیف کی عورتیں ننگے سر گھروں سے باہر نکل آئیں، آہ و بکا کرنے لگیں اور اشعار پڑھتے ہوئے واویلا کرنے لگیں۔ جب حضرت مغیرہ بن شعبہ کلہاڑی سے بت پر ضرب لگاتے تو حضرت ابو سفیان کہتے جاتے:
واها لك واها لك!
یعنی افسوس! افسوس! ہائے لات! آہ لات!
[سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۷]
اس سے ان کا مقصد بت کا تمسخر اڑانا اور ان عورتوں کی نقل اتارنا تھا جو اس موقع پر رو پیٹ رہی تھیں۔
ابن سعد اپنی طبقات میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: اس طرح ثقیف کے تمام افراد کے دلوں میں اسلام داخل ہو گیا۔ اور میں نے عرب میں کوئی ایسا قبیلہ یا کسی باپ کی اولاد ایسی نہیں دیکھی جن کا اسلام اتنا مضبوط، عقیدہ اتنا خالص اور پاک ہو جتنا قبیلۂ ثقیف کا تھا۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸، بحوالہ فقہ السیرۃ ص ۶۰۲–۶۰۵، فرید بُک اسٹال، اردو بازار، لاہور]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com

خلاصۂ کلام:

قرآن مجید، احادیثِ کریمہ، آثار و روایات سے یہ امر بالیقین ثابت ہے کہ حضور پُرنور سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل جلالہ نے ماحی یعنی کفر و شرک کو مٹانے والا، بشیر و نذیر، اور ہادی و منجی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بت پرستی کو جڑ سے اکھاڑ دیا، اور توحید کی روشنی کو چہار سو پھیلا دیا۔

مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ماحی کفر
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ: 9523788434
بت شکن آیا یہ کہہ کر منھ کے بل بت گر پڑے
جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام
اللہ جل جلالہ، وحدہٗ لا شریک لہٗ نے سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، ماحیِ کفریاتِ کافرین و بددین، حضور پُرنور، سرکار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب عرب کی سرزمین پر مبعوث فرمایا تو ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ لات، عزیٰ سمیت بے شمار بتوں کو پوجتے تھے۔ حضور کی تشریف آوری کے ساتھ ہی وہ باطل معبود منہ کے بل گر پڑے، گویا یہ اعلان عام ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے ہیں اور اب دینِ اسلام کا غلبہ ہر طرف ظاہر ہو کر رہے گا۔
چنانچہ اللہ جل جلالہ نے قرآن مقدس میں ارشاد فرمایا:
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا {سورۃ الفتح آیت ٢٨}
ترجمۂ کنز الایمان: وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اُسے سب دینوں پر غالب کرے اور اللہ کافی ہے گواہ۔
اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو تمام ادیانِ باطلہ پر غالب فرمایا، اور بے شک اللہ جل و علا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر بطورِ شاہد کافی ہے۔ [مدارک التنزیل، تحتِ آیتِ مذکور]
نیز اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے:
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ {سورۃ الصف، آیت ٨}
ترجمۂ کنز الایمان: چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونھوں سے بجھادیں اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا، پڑے بُرا مانیں کافر۔
اللہ تعالیٰ ہر حال میں دینِ اسلام کو غالب فرمائے گا، اگرچہ کفار اس کو ناپسند کریں۔ [تفسیر خازن، تحت آیت مذکور]
صحیح بخاری شریف کی حدیث ہے:
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ۔ (رقم الحدیث: ٣٥٣٢)
ترجمۂ حدیث: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں یعنی وہ کہ جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں کہ میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، اور میں عاقب ہوں یعنی وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔[تخریج حدیث: اجلّہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالك و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی]
بخاری شریف کی حدیثِ مذکور سے بالکل واضح ہے کہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفر و شرک کو مٹانے والے بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ ہی کی دعوت، تبلیغ اور سعیِ مسلسل کا نتیجہ ہے کہ اسلام عرب کے ریگ زاروں سے نکل کر آج ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس راہِ حق میں بے شمار مصائب و تکالیف برداشت کرنا پڑیں، جن میں واقعۂ طائف خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہاں تک کہ بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ! بنو ثقیف کے لیے دعائے ضرر فرمائیے! مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم، جو رحمۃ للعالمین ہیں، نے اس کے برخلاف دعائے خیر فرمائی کہ اے اللہ بنو ثقیف کو ہدایت عطا فرما! جیسا کہ سنن ترمذی شریف کی حدیث میں ہے: قالوا: يا رسولَ اللهِ ! أَحْرَقَتْنا نِبالُ ثَقِيفٍ، فادْعُ اللهَ عليهم. فقال: اللهم اهْدِ ثَقِيفًا {رقم الحدیث: ٣٩٤٢}
یہ دعا قبول ہوئی۔ بنو ثقیف نے باہمی مشورے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرلی، اور اپنا ایک وفد کنانہ بن عبد یالیل کی قیادت میں مدینہ منورہ، بارگاہِ رسالت میں روانہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجدِ نبوی شریف ہی میں خیمہ نصب کر کے قیام کرنے کا حکم فرمایا، تاکہ وہ قرآن کی تلاوت سنیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھیں۔
یہ وفد کئی دن تک مسجدِ نبوی میں ٹھہرا رہا، اور وقتاً فوقتاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ خود مختارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے جاتے اور نہایت حکمت اور نرمی سے دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ {سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۴}
ابن سعد نے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات نمازِ عشاء کے بعد تشریف لاتے اور کھڑے کھڑے ان سے گفتگو فرماتے، حتیٰ کہ کبھی آپ تھکاوٹ کی وجہ سے ایک قدم پر بوجھ ڈالتے اور کبھی دوسرے پر۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸]
موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب مغازی میں روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بھی اسی وفد میں شامل تھے اور سب سے کم عمر تھے۔ وفد کے لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتے تو انھیں خیمے میں چھوڑ جاتے، لیکن جب یہ لوگ دوپہر میں قیلولہ کرنے کے لیے واپس آتے تو عثمان بن ابوالعاص چپکے سے نکل کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے، قرآن سیکھتے اور دین کے متعلق بار بار سوالات کرتے۔ یہاں تک کہ آپ نے دین میں کافی سمجھ حاصل کر لی۔
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم محوِ استراحت ہوتے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر دین کا علم حاصل کرتے۔ وہ یہ سب کچھ اپنے ساتھیوں سے مخفی رکھتے۔ ان کی اسی محنت اور خلوص کی بدولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خوش ہوئے اور ان پر خاص عنایت فرمانے لگے۔
رفتہ رفتہ دینِ اسلام قبیلۂ ثقیف کے دلوں میں اُتر گیا۔ وفد کے سردار کنانہ بن عبد یالیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: زنا کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ ہم بکثرت سفر کرتے ہیں، اس لیے یہ ضرورت بن چکی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم پر حرام ہے۔ اور بے شک اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا {بنی اسرائیل: ۳۲}
ترجمۂ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ! بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ۔
پھر سود کے بارے میں پوچھا حضور نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ {سورۃ البقرہ آہت ۲۷۸}
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ۔
اسی طرح شراب کے متعلق دریافت کیا، حضور ﷺ نے فرمایا شراب حرام ہے اور پھر حرمت شراب کی آیت تلاوت فرمائی۔ پھر ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم سے نماز معاف کر دیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا خیر فی دین بلا صلوٰۃ یعنی نماز کے بغیر دین میں کوئی بھلائی نہیں۔
بعد ازاں وہ سب مشورہ کرکے واپس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام باتیں مان لیں، سوائے اس کے کہ ان کا بت لات تین سال تک نہ گرایا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا۔ وہ مہلت کو ایک سال کر کے کم کرتے رہے، حتیٰ کہ جب یہ لوگ اپنے علاقے میں پہنچے تو ایک ماہ کا مطالبہ کیا، لیکن حضور نے قلیل مدت کی مہلت بھی دینے سے انکار فرما دیا۔
ابن اسحاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ یہ مہلت اس لیے مانگتے تھے تاکہ اپنی قوم کے جاہل، عورتوں اور بچوں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ اور انھیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ لوگ بگڑ ہی نہ جائیں۔ ان کا ارادہ تھا کہ جب ایمان دلوں میں اچھی طرح جاگزیں ہو جائے، تب بت کو گرایا جائے۔
پھر انہوں نے عرض کیا کہ ہم خود بت کو نہیں گرائیں گے، البتہ ان کے گرانے کی ذمہ داری آپ ہی کے سپرد ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عنقریب تمہارے ساتھ کسی کو بھیجوں گا جو یہ کام انجام دے گا۔
اس وفد کے روانہ ہونے کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ان کے پیچھے ایک وفد روانہ فرمایا، جس میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے لات کو منہدم کرنا شروع کیا۔ تو قبیلۂ ثقیف کی عورتیں ننگے سر گھروں سے باہر نکل آئیں، آہ و بکا کرنے لگیں اور اشعار پڑھتے ہوئے واویلا کرنے لگیں۔ جب حضرت مغیرہ بن شعبہ کلہاڑی سے بت پر ضرب لگاتے تو حضرت ابو سفیان کہتے جاتے:
واها لك واها لك!
یعنی افسوس! افسوس! ہائے لات! آہ لات!
[سیرت ابن ہشام، جلد ۲، ص ۳۲۷]
اس سے ان کا مقصد بت کا تمسخر اڑانا اور ان عورتوں کی نقل اتارنا تھا جو اس موقع پر رو پیٹ رہی تھیں۔
ابن سعد اپنی طبقات میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: اس طرح ثقیف کے تمام افراد کے دلوں میں اسلام داخل ہو گیا۔ اور میں نے عرب میں کوئی ایسا قبیلہ یا کسی باپ کی اولاد ایسی نہیں دیکھی جن کا اسلام اتنا مضبوط، عقیدہ اتنا خالص اور پاک ہو جتنا قبیلۂ ثقیف کا تھا۔
[طبقات ابن سعد، جلد ۲، ص ۷۸، بحوالہ فقہ السیرۃ ص ۶۰۲–۶۰۵، فرید بُک اسٹال، اردو بازار، لاہور]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com

خلاصۂ کلام:

قرآن مجید، احادیثِ کریمہ، آثار و روایات سے یہ امر بالیقین ثابت ہے کہ حضور پُرنور سرکارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل جلالہ نے ماحی یعنی کفر و شرک کو مٹانے والا، بشیر و نذیر، اور ہادی و منجی بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بت پرستی کو جڑ سے اکھاڑ دیا، اور توحید کی روشنی کو چہار سو پھیلا دیا۔
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
58
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

تقریب افتتاح درجۂ عالمیت- مرکز الدراسات الاسلامیہ للبنات

عشقِ رسول ﷺ اور اس کے تقاضے

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢