صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ
رضویات

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ
اللہ جل و علا نے دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے انبیا علیھم السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ تمام انسان ایک خدا کی پرستش کرے سب سے آخر میں خاتم النبیین حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انسان کو کفر و شرک کی تاریک گھاٹیوں سے نکال کر اسلام کی کھلی فضاؤں میں زندگی بسر کرنے کی ہدایت مرحمت فرمائی،
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات کے بعد تبلیغ اسلام کی نشر و اشاعت کا بیڑا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اٹھایا بعدھم اس عظیم منصب کو علماء کرام نے سنبھالا،
انھیں علماء کرام کی جماعت میں ایک ذات ستودہ صفات کو دنیا منفرد الکمال فقید الجمال عدیم المثال کنز الکرامت جبل الاستقامت عظیم المرتبت نیر برج فقاہت قاطع کفر و ضلالت دافع شرک و بدعت مجدد دین و ملت عاشق شاہ رسالت محب جان نبوت آیت من آیات اللہ معجزۃ من معجزات رسول اللہ اعلی حضرت سیدنا سندنا مولانا المفتی الحافظ القاری الشاہ الامام احمد رضا خان القادری البریلوی علیہ رحمۃ المنان کے نام سے یاد کرتی ہے
جن کی حیات کا ہر ورق نہایت صاف و شفاف ہے جنھوں نے مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع جلائی اور عظمت رسالت سے الجھنے والوں کا شدت سے تعاقب کیا،
وہ زندگی کے ہر شعبے میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حامی و ناصر رہے، سائنسدانوں کے باطل نظریات کی تردید میں کتابیں تصنیف فرما کر سائنسدانوں کو انگشت بدندان کر دیا، جن کی کتاب حیات کے ہر ورق سے عشق رسالت بزرگوں کی عقیدت فصاحت و بلاغت اخوت و محبت کی خوشبو پھوٹتی ہے جس سے ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں جانیں معطر ہو رہیں ہیں
یہی وجہ ہے کہ ان کے عہد میں شرق و غرب شمال و جنوب میں کوئی ان کا ہم پلہ ہمسر نہیں تھا ، پورے عالم اسلام میں ان کی حیثیت فیصل کی تھی ، دنیا کے ہر خطے کے علما، مشائخ ، حکما ، فلاسفہ، مدبرین ، محققین، محدثین، مفکرین، بلکہ بڑے بڑے سائندان بھی ان سے رجوع کرتے تھے اور اپنی نگاہیں ان کی طرف مرکوز رکھتے تھے جو گھتی کہیں نہیں سلجھتی اسے آپ دلائل و براہین سے مزین و آراستہ کر کے بآسانی سلجھا دیا کرتے تھے
اسی لیے تو دنیا آج بھی تسلیم کرتی ہے اور ان شاءاللہ تا قیام قیامت کرتی ل رہے گی
ملک سخن کے شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی علمی جلالت کو دیکھ کر علماء عرب و عجم نے اپنا مرجع و مرکز مانا ،
جس پر کثیر شواہد و دلائل موجود ہیں آئیے ہم سب سے پہلے مرکز کا معنی لغۃ اور اصطلاحا آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں پھر دلائل و شواہد کے ذریعے اس کو ثابت کیا جائے گا کہ حضور اعلی حضرت کی ذات سنیت کا مرکز و معیار ہے،

مرکز کا معنی______*

مرکز کا لغوی معنی :
رکَز، یرکز (شیئا فی شیء) باب نصر ینصر سے ہے،
معنی ہے : جمانا، گاڑنا، مرکوز کرنا، زمین میں گاڑنا، پیدا کرنا جیسے
رکز السھم فی الارض ۔
رکز اللہ المعادن فی الارض او الجبال
ترجمہ: اللہ نے زمین میں دھاتوں کو پیدا کیا ،
ھذا شیء مرکوز فی العقول : یہ چیز عقلوں میں راسخ ہے
[القاموس الوحید ص ٦٦٣]
اللہ جل و علا کا فرمان عالیشان ہے:
و لئن زالتا ان امسكهما من احد من بعده
(سورۂ فاطر آیت ٤١)
ترجمہ: اور اگر وہ (زمین و آسمان سرکیں) تو اللہ کے سوا کوئی نہ روکے،
علامہ نظام الدین حسن نیشاپوری نے رغائب الفرقان میں اس آیۂ کریمہ کی یہ تفسیر فرمائی:
(ان تزولا) کراھۃ زولاھما عن مقر ھما و مرکزھما:
یعنی اللہ تعالیٰ زمین وآسمان آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں اپنے مقر سے ہٹ نہ جائے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا عطف تفسیری مرکزھما زائد کیا مرکز جائے رکز، جمانا، گاڑنا یعنی زمین و آسمان جہاں جمے ہوئے گڑے ہوئے ہیں وہاں سے نہ سرکیں،
[فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ رساله ٣ نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان ص ٦ ]
مرکز کا اصطلاحی معنی:
اصطلاح میں جس شی کا جو مرکز ہوگا اسی کے مطابق اس کی تعریف ہوگی لیکن یہاں دور حاضر میں علما کا مرکز مراد ہے ،
اصطلاحی معنی_
عقائد ونظریات میں علماء اہل سنت کی نظریں جس ذات ستودہ صفات پر مرکوز ہو جائیں قلوب و اذہان جم جائیں کہ ان کے قرآن و احادیث و آثار فقہا سے مزین و آراستہ اقوال کو فیصل سمجھیں وہی مرکز ہے،
اب اس اصطلاحی معنی کے تناظر میں ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ کونسی ذات ہے جس کی طرف علماء اہل سنت و عوام اہل سنت کی نگاہیں مرکوز ہیں ،

علماء عرب کا فیصلہ _____

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب الدولۃ المکیہ فی مادۃ الغیبیہ میں دلائل و براہین کا بحر بیکراں دیکھ کر شیخ مختار عطارد الجاوی (مسجد حرام، مکہ معظمہ) نے امام احمد رضا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:
فکأنہ من معجزات نبینا صلی اللہ علیہ وسلم اظھرہ اللہ تعالیٰ علی ید ھذا الامام الاوحد [الدولۃ المکیہ فی مادۃ الغیبیہ مطبوعہ کراچی ص ٧٢]
ترجمہ: گویا وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ نے اس یکتائے زماں امام کے ہاتھوں ظاہر فرمایا ،
مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھیں اور بحر حیرت و استعجاب میں ڈوب جائیں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے ارقام فرمائے ہوئے دلائل و براہین پر شیخ عرب کی نگاہیں اس طرح مرکوز ہوئیں کہ انھیں حضور کے معجزات میں سے ایک معجزہ کہا اور اس معجزے کا ظہور امام اہل سنت علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوا جس کے سبب مسلمانان عرب و عجم کے ایمان و عقائد کی حفاظت ہوئی،
حضرت سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ جو نہایت ہی با صلاحیت ذی شعور عالم دین ہیں، باب السلام کے آس پاس بیٹھ کر درس حدیث دیا کرتے تھے، وہ اعلی حضرت فاضل بریلوی ہی کی ذات مقدسہ کو سنیت کا مرکز و معیار اور حق و صداقت کی کسوٹی قرار دیتے تھے ،
فرماتے ہیں :
اذا جاء رجل من الھند نسئلہ عن الشیخ احمد رضا خان فان مدحہ علمنا انہ من اھل السنۃ و ان ذمہ علمنا انہ من اھل البدع ھذا لمعیار عندنا
ترجمہ: جب کوئی شخص ہندوستان سے آتا ہے تو ہم ان سے شیخ احمد رضا کے بارے میں سوال کرتے ہیں اگر وہ ان کی تعریف کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ اہل سنت سے ہے اور اگر ان کی برائی کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ اہل بدعت سے ہے یہ ہی میرے نزدیک (حق و باطل کو پرکھنے کا ) معیار ہے
[مسلک اعلی حضرت منظر پس منظر ص ١٨٣]
ان الفاظ کو پڑھیے اور بار بار پڑھیے کہ حضرت سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ میرے نزدیک امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی کی ذات معیار و مرکز حق و صداقت ہے جو ان کی تعریف کرے گا وہی اہل سنت سے ہوگا اور جو ان کی مذمت کرے گا وہ اہل سنت سے خارج ہوگا،
مذکورہ بالا دونوں اقتباس سے واضح ہوتا ہے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو یہ مقام و معیار دربار رسالت سے عطا ہوا ہے آپ کی ذات میان حق و باطل خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے،
سنیت کی پہچان اسی ذات سے ہوتی ہے،
یہ دو اقتباس محض تمثیل کے لیے قارئین کرام کے نذر ہے ورنہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے متعلق علماء عرب کے تاثرات پر مستقل کتابیں تصنیف کی گئی ہیں جو سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہیں،

علماء عجم کا فیصلہ __

حضور سید شاہ علی حسین اشرفی میاں (کچھوچھہ شریف) فرماتے ہیں:
میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ تعالیٰ علیہ کا ہے ، میرے مسلک پر چلنے کے لیے اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے،
شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خان (پیلی بھیت شریف) فرماتے ہیں:
دین و اسلام کا سچا خلاصہ مسلک اعلی حضرت ہے ، یہی وہ مجمع البحار ہے جس پر آج حنفیت و شافعیت ، مالکیت و حنبلیت، قادریت و چشتیت ، سہروردیت و نقشبندیت ، مجدد و برکاتیت وغیرھم سب سمندروں کا سنگم ہے ۔
مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
"میں مسلک اہل سنت پر زندہ رہا اور مسلک اہل سنت وہی ہے جو مسلک اعلی حضرت ہے،
اعلی حضرت کی کتابوں میں مرقوم ہے، الحمد للہ اسی پر میری عمر گزری اور الحمد للہ آخری وقت اسی مسلک پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر میرا خاتمہ بالخیر ہو رہا ہے ،
امام الملت و الدین امام العلما علامہ امام الدین کوٹلوی پاکستانی فرماتے ہیں:
بشر مجھ سے مصافحہ کر لو اب میں جانے والا ہوں اور میری تمہارے لیے دعا ہے ، دیکھ تمہارے والد فقیہ اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور تمہارے تایا مولانا عبد اللہ قادری رضوی اور میں اعلی حضرت بریلی شریف والے کے مسلک کی تبلیغ کرتے رہے تم بھی اسی مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہنا ، اللہ تمہاری مدد فرمائے گا ۔
حضور وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
میں تمام مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلی حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت علامہ فقیہ مفتی محمد احمد رضا خان بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے ۔ مسلمانوں اس مسلک کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اسی پر قائم رہنا ۔
حضرت شاہ جی میاں محمد شیر خان نقشبندی فرماتے ہیں:
جو ان کا مسلک وہی میرا مسلک جو ان کا نہیں وہ میرا نہیں ۔
محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد سردار احمد فرماتے ہیں:
امام اہل سنت مجدد دین و ملت اعلی حضرت عظیم البرکت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب قدس سرہ العزیز کے مسلک پر مضبوطی سے قائم رہیں، ان کا مذہب مسلک اہل سنت و جماعت ہے،
[سنی آواز ناگپور ستمبر، اکتوبر ١٩٩٥ء]
مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ سید احمد قادری فرماتے ہیں:
تعجب ہے اعلی حضرت امام اہل سنت فاضل بریلوی کا فتوٰی ہوتے ہوئے فقیر سے استفسار کیا جا رہا ہے ۔ فقیر کا اور فقیر کے آبا و اجداد کا وہی مسلک ہے جو اعلی حضرت قدس سرہ کا ہے
[ماہنامہ سنی آواز ناگپور ستمبر ، اکتوبر ١٩٩٥ء]
تاج الشریعہ تاج الاسلام علامہ اختر رضا خان ازہری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلی حضرت در حقیقت مسلک حنفی ہے اور حقانیت کی پہچان ہے،۔
رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
سارے فرقہائے باطلہ کے مقابلے میں اپنی دینی جماعتی شناخت کے لیے ہمارے پاس بریلوی یا مسلک اعلی حضرت کے لفظ سے زیادہ جامع کوئی دوسرا لفظ نہیں۔
فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں :
کہ اس زمانہ میں مسلک اعلی حضرت ہی کہنا ضروری ہوگا اور اس سے روکنے والا بدمذیب ہوگا یا حاسد،
[فتاوی فقیہ ملت ج ٢ص ٤٣٠]
[ماخوذ مذکورہ فرامین علماء کرام از تقدیم مسلک اعلی حضرت منظر پس منظر]
مذکورہ بالا فرامین علماء کرام کے مطالعہ سے قارئین پر خوب ظاہر و باہر ہو گیا ہوگا کہ حضور اعلی حضرت کی تعلیمات پر علما کی نگاہیں کس درجہ مرکوز تھیں،
حق و باطل میں فرق اور سنیت کی پہچان کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات کی طرف انتساب کافی مانا جاتا رہا ہے اور ہنوز مانا جاتا ہے اور ان شاءاللہ تعالیٰ مانا جاتا رہے گا
قارئین کرام مرکز کا مطلب اوپر پڑھ کر آئے ہیں کہ مرکز اسے کہتے ہیں جس کی طرف ہر چہار جہت کے علماء کرام رجوع کرتے ہیں ،
مذکورہ بالا فرمامین سے یہ آشکار ہوا کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات مرکز العلما تھی مزید شواہد کے لیے فتاوی رضویہ شریف کے فتاوی کے صرف شروع حصے کا مطالعہ فرمائیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عوام تو عوام خواص، علماء کرام بھی آپ کو اپنا مرکز و مرجع تسلیم کرتے ہیں،

بریلی شریف مرکز کیوں؟___

مرجع العلما و الفضلاء مجدد دین و ملت عظیم البرکت پروانۂ شمع رسالت سیدنا سندنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ذات ستودہ صفات کی وجہ سے بریلی شریف کو سنیوں کا مرکز کہا جاتا ہے ،
ایسا نہیں ہے کہ نفس بریلی شریف میں از خود ایسی صلاحیت و جاذبیت ہے جس کی وجہ اسے مرکز کہا جاتا ہے بلکہ یہ تمام خوبی بریلی شریف کو حضور اعلی حضرت کی وجہ سے عطا ہوئی ہے،
جیسے کوفہ اور بصرہ نحویوں کا مرکز ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ نفس کوفہ اور بصرہ از خود مرکز نحویان ہے بلکہ اسے مرکز اس لیے کہا جاتا ہے کہ امام فرا امام سیبویہ امام خلیل یعنی بڑے بڑے نحویوں نے یہاں سے علم نحو کی نشر و اشاعت کی اور تشنگان نحو کی پیاس بجھائی اسی لیے اللہ جل و علا نے ان اماموں کی برکت سے ان جگہوں کو قبولیت و مرکزیت کے شرف سے مشرف فرمایا،
اگر اعلی حضرت علیہ الرحمہ بریلی میں تشریف نہ لاتے اسے آماجگاہ علم و فن نہ بناتے تو کون ہے جو اسے اپنا مرکز تصور کرتا ؟
کہا جاتا ہے فلاں جگہ سے علم کی کرنیں پھوٹتی ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نفس جگہ سے علم کی کرنیں پھوٹتی ہے نہیں بلکہ وہاں کے علمی شخصیات کی پیشانیوں سے علم و عمل کی کرنیں پھوٹتی ہیں ،

بریلی شریف ہی مرکز کیوں؟ ___

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے زمانے میں بہت سارے فتنے تھے اور سب اہل سنت و جماعت میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، جیسے دیوبندی ، وہابی ، نیچری، قادیانی، غیر مقلد، شیعی، رافضی، ناصبی وغیرھم
تو ایسے نازک وقت میں یہ کیسے پتہ چلتا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل ہے؟
حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے تمام فرقہائے باطلہ کا رد بلیغ فرمایا اور ان کے دھرے نظریے سے نقاب اٹھا کر بے نقاب کر دیا ایسے دلائل و براہین کے ذریعے تردید فرمائی کہ آج بھی ایوان باطلہ میں زلزلہ برپا ہے جواب دینے سے عاجز و قاصر ہیں بلکہ بہتوں نے حضور اعلی حضرت کی چوکھٹ پر سر رکھ دیے اور بولے
# میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہے جا بجا تھانے والے
جب آپ ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں گے جن میں فرقہائے باطلہ کی تردید کی گئی ہے تو آپ پر حق کا انکشاف ایسے ہی ہوگا جیسے دن میں سورج کی روشنی کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے،
چند کتابوں کے نام ملاحظہ فرمائیں:
حسام الحرمین ،فتاوی الحرمین الدولۃ المکيہ، الکوکبۃالشہابيۃ، سبحان السبوح، النہی الاکيد ،ازالۃ الاثار،اطائب الصیب، رسالہ في علم العقائد والکلام ،تمہيدايمان، الامن والعلا ،تجلی اليقين ،الصمصام ،رد الرفضہ ،جزاء الله يعجبه ،خالص الاعتقاء، انباء المصطفى، الزبده الزكيه،شمائم العنبر، دوام العيش، انفس الفكر،الفضل الموہبی ۔ مذکورہ بالا سطور کی تائید کے لیے ان ساری کتابوں کا مطالعہ کرنا کافی ہے۔
اسی لیے جو فرقہائے باطلہ ہیں حضور اعلی حضرت کے نام پاک سے چڑھنے لگے اس نام سے ان کی طبیعت میں کوفت ہونے لگی چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا جس سے یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ فلاں شخص بد مذہب ہے اسی لیے ذات اعلی حضرت کو میان حق و باطل خط امتیاز کی حیثیت حاصل ہوئی جیسا کہ ماقبل میں صراحتا ذکر ہوا اور اسی ذات کی بنا پر بریلی شریف سنیوں کا مرکز بن گیا سنیت کی پہچان یہیں سے ہونے لگی ،
اب رہی بات کہ بریلی شریف ہی مرکز کیوں اگر کوئی دوسری جگہ مرکز بنانا چاہے تو کیا بن نہیں سکتا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی دوسری جگہ بھی سنیوں کا مرکز بن سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ممکن ہے۔۔۔۔۔۔لیکن جس ذات کی وجہ سے مرکز قرار دیں گے تو وہ ذات کس معیار کی ہے یہ تو دیکھا جائے گا اگر واقعی وہ مرکز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ضرور اس کو مرکز مانا جائے گا
لیکن پہلے یہ تو ثابت ہو کہ علما عوام سب ان کی طرف رجوع کرتے ہوں اور ان کو اپنا مرکز تصور کرتے ہوں اس سے حق و باطل کے درمیان امتیاز ہوتا ہو
اگر اس کسوٹی پر کوئی کھڑا اترے تو ضرور اسے مرکز تصور کیا جائے جیسے ایک زمانے میں دہلی سنیوں کا مرکز رہا ہے ایسے ہی ایک زمانے میں ماہریرہ مطہرہ مرکز رہا ہے پھر بریلی شریف مرکز بنا
تو ہو سکتا ہے کہ مسلک اعلی حضرت میں بھی امتداد زمانہ کی وجہ سے کچھ شر پسند پیدا ہو جائیں اور وہ بھی اپنے کو مسلک اعلی حضرت والے کہتے ہوں پھر اللہ جل و علا کا فضل ہو کہ وہ ایسا بندہ پیدا فرمائے جو مسلک اعلی حضرت میں گھسے ہوئے شر پسندوں کو نکال کر باہر پھینک دے، اور پھر مسلک اعلی حضرت والا کون ہے؟ اس کی شناخت اس ذات سے ہونے لگے، جس نے ان شر پسندوں کو نکال پھینکا، جیسے مسلک اہل سنت کی شناخت مسلک اعلی حضرت سے ہوتی ہے،
لیکن جو یہ دعویٰ کرے تو آنکھ بند کر کے ان کی بات مان تو نہیں لی جائے گی اس کو ضرور ہر زاویے سے پرکھا جائے گا ،
فی زماننا اگر دیکھیں تو ایسا تو کچھ نہیں ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات خط امتیاز نہ ہوں بلکہ آج بھی حق و باطل کے درمیان اعلی حضرت کی ذات خط فاصل ہے سنیوں کی نگاہیں آپ پر مرکوز ہیں یہ اللہ کی عنایت ہے اللہ جسے چاہے عطا فرمائے کوئی لاکھ چاہے مرکز بنانا لیکن بنا نہ پائے کیونکہ لوگ ہی اسے مرکز نہ مانے تو پھر کاہے کا مرکز رہ جائے

بریلی شریف کی مرکزیت پر اکابر کا متفقہ فیصلہ __

یہاں پر ان علماء کرام کے اسماء گرامی ذکر کیے جاتے ہیں جنھوں نے بریلی شریف تا دم اخیر سنیوں کا مرکز مانا،
١) حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز
٢) حضور مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد مصطفی رضا خان قادری قدس سرہ العزیز
٣) حضرت علامہ مفتی سید احمد اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھہ شریف قدس سرہ العزیز
٤) صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
٥) ملک العلما علامہ مفتی سید محمد ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ
٦) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ
٧) برہان ملت علامہ مفتی محمد برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ
٨) حضرت علامہ مفتی مظہر اللہ نقشبندی دہلوی علیہ الرحمہ
٩) حضور مجاہد ملت علامہ مفتی حبیب الرحمن عباسی اڑیسوی علیہ الرحمہ
١٠) امین شریعت مفتی اعظم کانپور حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین مظفر پوری قدس سرہ العزیز
١١) حضور حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی قدس سرہ العزیز
١٢) حضرت علامہ مفتی محمد سلیمان بھاگلپوری علیہ الرحمہ
١٣) حضرت علامہ مقبول احمد خان بہاری علیہ الرحمہ
١٤) حضور سید العلماء حضرت علامہ سید آل مصطفی برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ
١٥) حضور احسن العلما حضرت علامہ مفتی سید حیدر حسین مارہروی علیہ الرحمہ
١٦) شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ
١٧) شمس العلما حضرت علامہ مفتی نظام الدین الہ آبادی
١٨) بحر العلوم علامہ مفتی عبد المنان اعظمی قدس سرہ العزیز
١٩) پاسبان ملت حضرت علامہ مفتی محمد مشتاق احمد نظامی الہ آبادی قدس سرہ العزیز
٢٠) حضرت علامہ مفتی خادم حسین گیاوی علیہ الرحمہ
٢١) مرشدنا سیدنا سندنا تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ
اور بھی بہت سارے مقتدر اسما میرے پیش نظر ہیں لیکن طوالت کے خوف سے چھوڑ رہا ہوں بس یوں سمجھیے تمام اکابر علما کرام بریلی شریف کی مرکزیت پر متفق ہیں اگر بعض نہیں ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ مثل مشہور ہے للاکثر حکم الکل
بزرگوں نے فرمایا ہے
کہ مسلک اعلی سے نہیں ہٹتا مگر وہی جس کے دل میں کجی ہوتی ہے
اللہ جل و علا ہمیں اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے
تیرے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

خلاصۂ کلام ___

تمام گفتگو کا زبدہ یہ ہے کہ مرجع العلما حضور اعلی حضرت کی ذات ستودہ صفات کی وجہ سے بریلی شریف کو تمام علماء اکابر مرکز تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس میں اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ آئینے کی طرح جھلکتی ہے حق و باطل کو جانچنے کے لیے اس سے بہتر کوئی کسوٹی نہیں کہ وہ بریلی شریف کو مرکز مانتا ہے یا نہیں اگر مانتا ہے تو حق پر ہے اور اگر نہیں مانتا ہے تو بقول سید مغربی علیہ الرحمہ وہ بدعتی ہے،
اسی لیے حضور تاج الشریعہ نے فرمایا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
اللہ جل و علا ہمیں تا دم مرگ مسلک اعلی حضرت پر قائم رکھے اور بریلی شریف کی مرکزیت سلامت رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ
اللہ جل و علا نے دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے انبیا علیھم السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ تمام انسان ایک خدا کی پرستش کرے سب سے آخر میں خاتم النبیین حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انسان کو کفر و شرک کی تاریک گھاٹیوں سے نکال کر اسلام کی کھلی فضاؤں میں زندگی بسر کرنے کی ہدایت مرحمت فرمائی،
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات کے بعد تبلیغ اسلام کی نشر و اشاعت کا بیڑا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اٹھایا بعدھم اس عظیم منصب کو علماء کرام نے سنبھالا،
انھیں علماء کرام کی جماعت میں ایک ذات ستودہ صفات کو دنیا منفرد الکمال فقید الجمال عدیم المثال کنز الکرامت جبل الاستقامت عظیم المرتبت نیر برج فقاہت قاطع کفر و ضلالت دافع شرک و بدعت مجدد دین و ملت عاشق شاہ رسالت محب جان نبوت آیت من آیات اللہ معجزۃ من معجزات رسول اللہ اعلی حضرت سیدنا سندنا مولانا المفتی الحافظ القاری الشاہ الامام احمد رضا خان القادری البریلوی علیہ رحمۃ المنان کے نام سے یاد کرتی ہے
جن کی حیات کا ہر ورق نہایت صاف و شفاف ہے جنھوں نے مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع جلائی اور عظمت رسالت سے الجھنے والوں کا شدت سے تعاقب کیا،
وہ زندگی کے ہر شعبے میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حامی و ناصر رہے، سائنسدانوں کے باطل نظریات کی تردید میں کتابیں تصنیف فرما کر سائنسدانوں کو انگشت بدندان کر دیا، جن کی کتاب حیات کے ہر ورق سے عشق رسالت بزرگوں کی عقیدت فصاحت و بلاغت اخوت و محبت کی خوشبو پھوٹتی ہے جس سے ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں جانیں معطر ہو رہیں ہیں
یہی وجہ ہے کہ ان کے عہد میں شرق و غرب شمال و جنوب میں کوئی ان کا ہم پلہ ہمسر نہیں تھا ، پورے عالم اسلام میں ان کی حیثیت فیصل کی تھی ، دنیا کے ہر خطے کے علما، مشائخ ، حکما ، فلاسفہ، مدبرین ، محققین، محدثین، مفکرین، بلکہ بڑے بڑے سائندان بھی ان سے رجوع کرتے تھے اور اپنی نگاہیں ان کی طرف مرکوز رکھتے تھے جو گھتی کہیں نہیں سلجھتی اسے آپ دلائل و براہین سے مزین و آراستہ کر کے بآسانی سلجھا دیا کرتے تھے
اسی لیے تو دنیا آج بھی تسلیم کرتی ہے اور ان شاءاللہ تا قیام قیامت کرتی ل رہے گی
ملک سخن کے شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی علمی جلالت کو دیکھ کر علماء عرب و عجم نے اپنا مرجع و مرکز مانا ،
جس پر کثیر شواہد و دلائل موجود ہیں آئیے ہم سب سے پہلے مرکز کا معنی لغۃ اور اصطلاحا آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں پھر دلائل و شواہد کے ذریعے اس کو ثابت کیا جائے گا کہ حضور اعلی حضرت کی ذات سنیت کا مرکز و معیار ہے،

مرکز کا معنی______*

مرکز کا لغوی معنی :
رکَز، یرکز (شیئا فی شیء) باب نصر ینصر سے ہے،
معنی ہے : جمانا، گاڑنا، مرکوز کرنا، زمین میں گاڑنا، پیدا کرنا جیسے
رکز السھم فی الارض ۔
رکز اللہ المعادن فی الارض او الجبال
ترجمہ: اللہ نے زمین میں دھاتوں کو پیدا کیا ،
ھذا شیء مرکوز فی العقول : یہ چیز عقلوں میں راسخ ہے
[القاموس الوحید ص ٦٦٣]
اللہ جل و علا کا فرمان عالیشان ہے:
و لئن زالتا ان امسكهما من احد من بعده
(سورۂ فاطر آیت ٤١)
ترجمہ: اور اگر وہ (زمین و آسمان سرکیں) تو اللہ کے سوا کوئی نہ روکے،
علامہ نظام الدین حسن نیشاپوری نے رغائب الفرقان میں اس آیۂ کریمہ کی یہ تفسیر فرمائی:
(ان تزولا) کراھۃ زولاھما عن مقر ھما و مرکزھما:
یعنی اللہ تعالیٰ زمین وآسمان آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ کہیں اپنے مقر سے ہٹ نہ جائے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا عطف تفسیری مرکزھما زائد کیا مرکز جائے رکز، جمانا، گاڑنا یعنی زمین و آسمان جہاں جمے ہوئے گڑے ہوئے ہیں وہاں سے نہ سرکیں،
[فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٧ رساله ٣ نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان ص ٦ ]
مرکز کا اصطلاحی معنی:
اصطلاح میں جس شی کا جو مرکز ہوگا اسی کے مطابق اس کی تعریف ہوگی لیکن یہاں دور حاضر میں علما کا مرکز مراد ہے ،
اصطلاحی معنی_
عقائد ونظریات میں علماء اہل سنت کی نظریں جس ذات ستودہ صفات پر مرکوز ہو جائیں قلوب و اذہان جم جائیں کہ ان کے قرآن و احادیث و آثار فقہا سے مزین و آراستہ اقوال کو فیصل سمجھیں وہی مرکز ہے،
اب اس اصطلاحی معنی کے تناظر میں ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ کونسی ذات ہے جس کی طرف علماء اہل سنت و عوام اہل سنت کی نگاہیں مرکوز ہیں ،

علماء عرب کا فیصلہ _____

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی کتاب مستطاب الدولۃ المکیہ فی مادۃ الغیبیہ میں دلائل و براہین کا بحر بیکراں دیکھ کر شیخ مختار عطارد الجاوی (مسجد حرام، مکہ معظمہ) نے امام احمد رضا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:
فکأنہ من معجزات نبینا صلی اللہ علیہ وسلم اظھرہ اللہ تعالیٰ علی ید ھذا الامام الاوحد [الدولۃ المکیہ فی مادۃ الغیبیہ مطبوعہ کراچی ص ٧٢]
ترجمہ: گویا وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ نے اس یکتائے زماں امام کے ہاتھوں ظاہر فرمایا ،
مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھیں اور بحر حیرت و استعجاب میں ڈوب جائیں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے ارقام فرمائے ہوئے دلائل و براہین پر شیخ عرب کی نگاہیں اس طرح مرکوز ہوئیں کہ انھیں حضور کے معجزات میں سے ایک معجزہ کہا اور اس معجزے کا ظہور امام اہل سنت علیہ الرحمہ کے ہاتھوں ہوا جس کے سبب مسلمانان عرب و عجم کے ایمان و عقائد کی حفاظت ہوئی،
حضرت سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ جو نہایت ہی با صلاحیت ذی شعور عالم دین ہیں، باب السلام کے آس پاس بیٹھ کر درس حدیث دیا کرتے تھے، وہ اعلی حضرت فاضل بریلوی ہی کی ذات مقدسہ کو سنیت کا مرکز و معیار اور حق و صداقت کی کسوٹی قرار دیتے تھے ،
فرماتے ہیں :
اذا جاء رجل من الھند نسئلہ عن الشیخ احمد رضا خان فان مدحہ علمنا انہ من اھل السنۃ و ان ذمہ علمنا انہ من اھل البدع ھذا لمعیار عندنا
ترجمہ: جب کوئی شخص ہندوستان سے آتا ہے تو ہم ان سے شیخ احمد رضا کے بارے میں سوال کرتے ہیں اگر وہ ان کی تعریف کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ اہل سنت سے ہے اور اگر ان کی برائی کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہ اہل بدعت سے ہے یہ ہی میرے نزدیک (حق و باطل کو پرکھنے کا ) معیار ہے
[مسلک اعلی حضرت منظر پس منظر ص ١٨٣]
ان الفاظ کو پڑھیے اور بار بار پڑھیے کہ حضرت سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ میرے نزدیک امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی کی ذات معیار و مرکز حق و صداقت ہے جو ان کی تعریف کرے گا وہی اہل سنت سے ہوگا اور جو ان کی مذمت کرے گا وہ اہل سنت سے خارج ہوگا،
مذکورہ بالا دونوں اقتباس سے واضح ہوتا ہے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کو یہ مقام و معیار دربار رسالت سے عطا ہوا ہے آپ کی ذات میان حق و باطل خط امتیاز کی حیثیت رکھتی ہے،
سنیت کی پہچان اسی ذات سے ہوتی ہے،
یہ دو اقتباس محض تمثیل کے لیے قارئین کرام کے نذر ہے ورنہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے متعلق علماء عرب کے تاثرات پر مستقل کتابیں تصنیف کی گئی ہیں جو سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہیں،

علماء عجم کا فیصلہ __

حضور سید شاہ علی حسین اشرفی میاں (کچھوچھہ شریف) فرماتے ہیں:
میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ تعالیٰ علیہ کا ہے ، میرے مسلک پر چلنے کے لیے اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے،
شیر بیشۂ اہل سنت علامہ حشمت علی خان (پیلی بھیت شریف) فرماتے ہیں:
دین و اسلام کا سچا خلاصہ مسلک اعلی حضرت ہے ، یہی وہ مجمع البحار ہے جس پر آج حنفیت و شافعیت ، مالکیت و حنبلیت، قادریت و چشتیت ، سہروردیت و نقشبندیت ، مجدد و برکاتیت وغیرھم سب سمندروں کا سنگم ہے ۔
مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
"میں مسلک اہل سنت پر زندہ رہا اور مسلک اہل سنت وہی ہے جو مسلک اعلی حضرت ہے،
اعلی حضرت کی کتابوں میں مرقوم ہے، الحمد للہ اسی پر میری عمر گزری اور الحمد للہ آخری وقت اسی مسلک پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر میرا خاتمہ بالخیر ہو رہا ہے ،
امام الملت و الدین امام العلما علامہ امام الدین کوٹلوی پاکستانی فرماتے ہیں:
بشر مجھ سے مصافحہ کر لو اب میں جانے والا ہوں اور میری تمہارے لیے دعا ہے ، دیکھ تمہارے والد فقیہ اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور تمہارے تایا مولانا عبد اللہ قادری رضوی اور میں اعلی حضرت بریلی شریف والے کے مسلک کی تبلیغ کرتے رہے تم بھی اسی مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہنا ، اللہ تمہاری مدد فرمائے گا ۔
حضور وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
میں تمام مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلی حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت علامہ فقیہ مفتی محمد احمد رضا خان بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے ۔ مسلمانوں اس مسلک کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اسی پر قائم رہنا ۔
حضرت شاہ جی میاں محمد شیر خان نقشبندی فرماتے ہیں:
جو ان کا مسلک وہی میرا مسلک جو ان کا نہیں وہ میرا نہیں ۔
محدث اعظم پاکستان حضرت علامہ محمد سردار احمد فرماتے ہیں:
امام اہل سنت مجدد دین و ملت اعلی حضرت عظیم البرکت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب قدس سرہ العزیز کے مسلک پر مضبوطی سے قائم رہیں، ان کا مذہب مسلک اہل سنت و جماعت ہے،
[سنی آواز ناگپور ستمبر، اکتوبر ١٩٩٥ء]
مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ سید احمد قادری فرماتے ہیں:
تعجب ہے اعلی حضرت امام اہل سنت فاضل بریلوی کا فتوٰی ہوتے ہوئے فقیر سے استفسار کیا جا رہا ہے ۔ فقیر کا اور فقیر کے آبا و اجداد کا وہی مسلک ہے جو اعلی حضرت قدس سرہ کا ہے
[ماہنامہ سنی آواز ناگپور ستمبر ، اکتوبر ١٩٩٥ء]
تاج الشریعہ تاج الاسلام علامہ اختر رضا خان ازہری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلی حضرت در حقیقت مسلک حنفی ہے اور حقانیت کی پہچان ہے،۔
رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
سارے فرقہائے باطلہ کے مقابلے میں اپنی دینی جماعتی شناخت کے لیے ہمارے پاس بریلوی یا مسلک اعلی حضرت کے لفظ سے زیادہ جامع کوئی دوسرا لفظ نہیں۔
فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں :
کہ اس زمانہ میں مسلک اعلی حضرت ہی کہنا ضروری ہوگا اور اس سے روکنے والا بدمذیب ہوگا یا حاسد،
[فتاوی فقیہ ملت ج ٢ص ٤٣٠]
[ماخوذ مذکورہ فرامین علماء کرام از تقدیم مسلک اعلی حضرت منظر پس منظر]
مذکورہ بالا فرامین علماء کرام کے مطالعہ سے قارئین پر خوب ظاہر و باہر ہو گیا ہوگا کہ حضور اعلی حضرت کی تعلیمات پر علما کی نگاہیں کس درجہ مرکوز تھیں،
حق و باطل میں فرق اور سنیت کی پہچان کے لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات کی طرف انتساب کافی مانا جاتا رہا ہے اور ہنوز مانا جاتا ہے اور ان شاءاللہ تعالیٰ مانا جاتا رہے گا
قارئین کرام مرکز کا مطلب اوپر پڑھ کر آئے ہیں کہ مرکز اسے کہتے ہیں جس کی طرف ہر چہار جہت کے علماء کرام رجوع کرتے ہیں ،
مذکورہ بالا فرمامین سے یہ آشکار ہوا کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات مرکز العلما تھی مزید شواہد کے لیے فتاوی رضویہ شریف کے فتاوی کے صرف شروع حصے کا مطالعہ فرمائیں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ عوام تو عوام خواص، علماء کرام بھی آپ کو اپنا مرکز و مرجع تسلیم کرتے ہیں،

بریلی شریف مرکز کیوں؟___

مرجع العلما و الفضلاء مجدد دین و ملت عظیم البرکت پروانۂ شمع رسالت سیدنا سندنا الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ذات ستودہ صفات کی وجہ سے بریلی شریف کو سنیوں کا مرکز کہا جاتا ہے ،
ایسا نہیں ہے کہ نفس بریلی شریف میں از خود ایسی صلاحیت و جاذبیت ہے جس کی وجہ اسے مرکز کہا جاتا ہے بلکہ یہ تمام خوبی بریلی شریف کو حضور اعلی حضرت کی وجہ سے عطا ہوئی ہے،
جیسے کوفہ اور بصرہ نحویوں کا مرکز ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ نفس کوفہ اور بصرہ از خود مرکز نحویان ہے بلکہ اسے مرکز اس لیے کہا جاتا ہے کہ امام فرا امام سیبویہ امام خلیل یعنی بڑے بڑے نحویوں نے یہاں سے علم نحو کی نشر و اشاعت کی اور تشنگان نحو کی پیاس بجھائی اسی لیے اللہ جل و علا نے ان اماموں کی برکت سے ان جگہوں کو قبولیت و مرکزیت کے شرف سے مشرف فرمایا،
اگر اعلی حضرت علیہ الرحمہ بریلی میں تشریف نہ لاتے اسے آماجگاہ علم و فن نہ بناتے تو کون ہے جو اسے اپنا مرکز تصور کرتا ؟
کہا جاتا ہے فلاں جگہ سے علم کی کرنیں پھوٹتی ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نفس جگہ سے علم کی کرنیں پھوٹتی ہے نہیں بلکہ وہاں کے علمی شخصیات کی پیشانیوں سے علم و عمل کی کرنیں پھوٹتی ہیں ،

بریلی شریف ہی مرکز کیوں؟ ___

حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے زمانے میں بہت سارے فتنے تھے اور سب اہل سنت و جماعت میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، جیسے دیوبندی ، وہابی ، نیچری، قادیانی، غیر مقلد، شیعی، رافضی، ناصبی وغیرھم
تو ایسے نازک وقت میں یہ کیسے پتہ چلتا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل ہے؟
حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ حضور پُرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے تمام فرقہائے باطلہ کا رد بلیغ فرمایا اور ان کے دھرے نظریے سے نقاب اٹھا کر بے نقاب کر دیا ایسے دلائل و براہین کے ذریعے تردید فرمائی کہ آج بھی ایوان باطلہ میں زلزلہ برپا ہے جواب دینے سے عاجز و قاصر ہیں بلکہ بہتوں نے حضور اعلی حضرت کی چوکھٹ پر سر رکھ دیے اور بولے
# میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہے جا بجا تھانے والے
جب آپ ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں گے جن میں فرقہائے باطلہ کی تردید کی گئی ہے تو آپ پر حق کا انکشاف ایسے ہی ہوگا جیسے دن میں سورج کی روشنی کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے،
چند کتابوں کے نام ملاحظہ فرمائیں:
حسام الحرمین ،فتاوی الحرمین الدولۃ المکيہ، الکوکبۃالشہابيۃ، سبحان السبوح، النہی الاکيد ،ازالۃ الاثار،اطائب الصیب، رسالہ في علم العقائد والکلام ،تمہيدايمان، الامن والعلا ،تجلی اليقين ،الصمصام ،رد الرفضہ ،جزاء الله يعجبه ،خالص الاعتقاء، انباء المصطفى، الزبده الزكيه،شمائم العنبر، دوام العيش، انفس الفكر،الفضل الموہبی ۔ مذکورہ بالا سطور کی تائید کے لیے ان ساری کتابوں کا مطالعہ کرنا کافی ہے۔
اسی لیے جو فرقہائے باطلہ ہیں حضور اعلی حضرت کے نام پاک سے چڑھنے لگے اس نام سے ان کی طبیعت میں کوفت ہونے لگی چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا جس سے یہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ فلاں شخص بد مذہب ہے اسی لیے ذات اعلی حضرت کو میان حق و باطل خط امتیاز کی حیثیت حاصل ہوئی جیسا کہ ماقبل میں صراحتا ذکر ہوا اور اسی ذات کی بنا پر بریلی شریف سنیوں کا مرکز بن گیا سنیت کی پہچان یہیں سے ہونے لگی ،
اب رہی بات کہ بریلی شریف ہی مرکز کیوں اگر کوئی دوسری جگہ مرکز بنانا چاہے تو کیا بن نہیں سکتا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی دوسری جگہ بھی سنیوں کا مرکز بن سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ممکن ہے۔۔۔۔۔۔لیکن جس ذات کی وجہ سے مرکز قرار دیں گے تو وہ ذات کس معیار کی ہے یہ تو دیکھا جائے گا اگر واقعی وہ مرکز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ضرور اس کو مرکز مانا جائے گا
لیکن پہلے یہ تو ثابت ہو کہ علما عوام سب ان کی طرف رجوع کرتے ہوں اور ان کو اپنا مرکز تصور کرتے ہوں اس سے حق و باطل کے درمیان امتیاز ہوتا ہو
اگر اس کسوٹی پر کوئی کھڑا اترے تو ضرور اسے مرکز تصور کیا جائے جیسے ایک زمانے میں دہلی سنیوں کا مرکز رہا ہے ایسے ہی ایک زمانے میں ماہریرہ مطہرہ مرکز رہا ہے پھر بریلی شریف مرکز بنا
تو ہو سکتا ہے کہ مسلک اعلی حضرت میں بھی امتداد زمانہ کی وجہ سے کچھ شر پسند پیدا ہو جائیں اور وہ بھی اپنے کو مسلک اعلی حضرت والے کہتے ہوں پھر اللہ جل و علا کا فضل ہو کہ وہ ایسا بندہ پیدا فرمائے جو مسلک اعلی حضرت میں گھسے ہوئے شر پسندوں کو نکال کر باہر پھینک دے، اور پھر مسلک اعلی حضرت والا کون ہے؟ اس کی شناخت اس ذات سے ہونے لگے، جس نے ان شر پسندوں کو نکال پھینکا، جیسے مسلک اہل سنت کی شناخت مسلک اعلی حضرت سے ہوتی ہے،
لیکن جو یہ دعویٰ کرے تو آنکھ بند کر کے ان کی بات مان تو نہیں لی جائے گی اس کو ضرور ہر زاویے سے پرکھا جائے گا ،
فی زماننا اگر دیکھیں تو ایسا تو کچھ نہیں ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ذات خط امتیاز نہ ہوں بلکہ آج بھی حق و باطل کے درمیان اعلی حضرت کی ذات خط فاصل ہے سنیوں کی نگاہیں آپ پر مرکوز ہیں یہ اللہ کی عنایت ہے اللہ جسے چاہے عطا فرمائے کوئی لاکھ چاہے مرکز بنانا لیکن بنا نہ پائے کیونکہ لوگ ہی اسے مرکز نہ مانے تو پھر کاہے کا مرکز رہ جائے

بریلی شریف کی مرکزیت پر اکابر کا متفقہ فیصلہ __

یہاں پر ان علماء کرام کے اسماء گرامی ذکر کیے جاتے ہیں جنھوں نے بریلی شریف تا دم اخیر سنیوں کا مرکز مانا،
١) حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز
٢) حضور مفتی اعظم ہند علامہ مفتی محمد مصطفی رضا خان قادری قدس سرہ العزیز
٣) حضرت علامہ مفتی سید احمد اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھہ شریف قدس سرہ العزیز
٤) صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
٥) ملک العلما علامہ مفتی سید محمد ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ
٦) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ
٧) برہان ملت علامہ مفتی محمد برہان الحق جبل پوری علیہ الرحمہ
٨) حضرت علامہ مفتی مظہر اللہ نقشبندی دہلوی علیہ الرحمہ
٩) حضور مجاہد ملت علامہ مفتی حبیب الرحمن عباسی اڑیسوی علیہ الرحمہ
١٠) امین شریعت مفتی اعظم کانپور حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین مظفر پوری قدس سرہ العزیز
١١) حضور حافظ ملت حضرت علامہ عبد العزیز محدث مرادآبادی قدس سرہ العزیز
١٢) حضرت علامہ مفتی محمد سلیمان بھاگلپوری علیہ الرحمہ
١٣) حضرت علامہ مقبول احمد خان بہاری علیہ الرحمہ
١٤) حضور سید العلماء حضرت علامہ سید آل مصطفی برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ
١٥) حضور احسن العلما حضرت علامہ مفتی سید حیدر حسین مارہروی علیہ الرحمہ
١٦) شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ
١٧) شمس العلما حضرت علامہ مفتی نظام الدین الہ آبادی
١٨) بحر العلوم علامہ مفتی عبد المنان اعظمی قدس سرہ العزیز
١٩) پاسبان ملت حضرت علامہ مفتی محمد مشتاق احمد نظامی الہ آبادی قدس سرہ العزیز
٢٠) حضرت علامہ مفتی خادم حسین گیاوی علیہ الرحمہ
٢١) مرشدنا سیدنا سندنا تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ
اور بھی بہت سارے مقتدر اسما میرے پیش نظر ہیں لیکن طوالت کے خوف سے چھوڑ رہا ہوں بس یوں سمجھیے تمام اکابر علما کرام بریلی شریف کی مرکزیت پر متفق ہیں اگر بعض نہیں ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ مثل مشہور ہے للاکثر حکم الکل
بزرگوں نے فرمایا ہے
کہ مسلک اعلی سے نہیں ہٹتا مگر وہی جس کے دل میں کجی ہوتی ہے
اللہ جل و علا ہمیں اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے
تیرے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے

خلاصۂ کلام ___

تمام گفتگو کا زبدہ یہ ہے کہ مرجع العلما حضور اعلی حضرت کی ذات ستودہ صفات کی وجہ سے بریلی شریف کو تمام علماء اکابر مرکز تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس میں اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ آئینے کی طرح جھلکتی ہے حق و باطل کو جانچنے کے لیے اس سے بہتر کوئی کسوٹی نہیں کہ وہ بریلی شریف کو مرکز مانتا ہے یا نہیں اگر مانتا ہے تو حق پر ہے اور اگر نہیں مانتا ہے تو بقول سید مغربی علیہ الرحمہ وہ بدعتی ہے،
اسی لیے حضور تاج الشریعہ نے فرمایا
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
اللہ جل و علا ہمیں تا دم مرگ مسلک اعلی حضرت پر قائم رکھے اور بریلی شریف کی مرکزیت سلامت رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
38
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

فرقۂ ضالہ “مولائی” کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں

گلابی وہابی مولانا عبد القیوم مجیںی (بڑے مولانا صاحب) کی حقیقت

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢