صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
شخصیات اسلاف واخلاف

مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

مختصر سیرتِ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و خلافتِ مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم [آخری قسط]
رحلتِ رسول ﷺ و خلافتِ صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما:
حجۃ الوداع کے موقع پر بھی حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ١٢؍ربیع الاول شریف ١١ھ؁ کو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا۔ بعدہٗ خلافتِ حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ میں آپ مجلسِ شوریٰ کے اہم رکن رہے اور آپ کے مشوروں کو بہت اہمیت دی جاتی۔
خلافت:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے تقریباََ ١٢؍سال خلافت فرمائی۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبلِ شہادت چھ لوگوں کا نام تجویز فرمایا کہ جن پانچوں کا ایک پر اتفاق ہو جائے اُنہیں خلیفہ بنا لیا جائے: (١) حضرتِ عثمانِ غنی (٢) حضرتِ مولیٰ علی (٣) حضرت طلحہ بن عبیداللہ (٤) حضرتِ زبیر بن عوّام (٥) حضرتِ سعد بن ابی وقّاص (٦) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعد مسئلۂ خلافت کے سلسلے میں مسلسل دو دن بحث ہوتی رہی، لیکن کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ تیسرے دن حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ وصیت چھ لوگوں کے درمیان مشترک ہے اِسے تین میں کر دینا چاہیے اور جو جس کو مستحق سمجھتا ہو وہ اُسے پیش کرے۔ حضرتِ زبیر نے حضرتِ علی کے متعلق راۓ دی، حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو پیش کیا، حضرتِ طلحہ بن عبیداللہ نے حضرت عثمان کا نام لیا۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اپنے حق سے دست بردار ہوتا ہوں۔ اب معاملہ دو حضرات کے درمیان رہ گیا۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ دونوں حضرات یعنی حضرتِ عثمان و مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اِس فیصلہ کا اختیار مجھے دے دیں، دونوں حضرات راضی ہو گئے۔ اِس رائے کے بعد حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین مسجدِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مختصراً تقریر فرمائی اور اُس کے بعد حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست پر بیعت ہو گئے، اُس کے بعد حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعت ہوئے۔ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیعت ہوتے ہی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بیعت کے لیے امڈ پڑے۔ ٢٩؍ذی الحجہ ٢٣ھ؁ میں لوگوں نے بیعت کی اور آپ نے یکم محرم الحرام ٢٤ھ؁ کو خلافت کو سنبھالا اور ١٢؍سال تک مسندِ خلافت پر تشریف فرما رہے۔
خلافت کے آخری 6؍سال:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں شروع کے چھ سال بہت ہی امن و سکون سے گزرے۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرز پر نظامِ سلطنت قائم رہا، لیکن خلافت کے آخری چھ سال شدید فتنہ و گرفت میں رہے۔
ابن سبا کا فتنہ:
جزیرۃ العرب اسلامی اقتدار کا آغاز ہوتے ہی حجاز کے یہود نے اسلام کے خلاف خفیہ سازشوں کا آغاز کر دیا۔ دشمنی کے مختلف طریقے اپنائے گئے۔ وہ دشمن ظاہر میں مسلمان بن کر اسلام اور مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچاتے۔ یہودی شروع سے ہی اسلام کے سخت دشمن رہے۔ لیکن عہدِ نبوی سے عہدِ فاروقی تک وہ لوگ زیادہ کچھ نہیں کر پائے۔ لیکن حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں خلافتِ عثمانی پر نکتہ چینیاں شروع کر دیں تو اُس وقت عبداللہ بن سبا یہودی کو پرانی دشمنی نکالنے کا موقع ملا۔ وہ یہودی رہ کر کچھ نہیں کر سکتا تھا اِس لیے اُس نے ایک چال چلی اور ظاہر میں مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر پیٹھ پیچھے سازشیں شروع کر دیں۔ مختصر یہ کہ وہ الگ الگ مقام پر گیا اور چالیں چلتا رہا اور لوگوں کے دلوں میں حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف باتیں بھرتا رہا۔ جب کافی لوگ ابنِ سبا کے فتنے کی زد میں آگئے تو اُس نے دارالحکومت مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی ایک اسکیم تیار کی۔ اُس اسکیم کے مطابق اُن لوگوں کا ایک گروہ مدینہ شریف کے قریب پہنچ گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو صحابہ کو بھیجا کہ وہ اُن سے پوچھیں کہ ان کے مطالبات کون ہیں ؟ اُن حضرات نے واپَس آکر بتایا کہ وہ آپ کی خلافت سے خوش نہیں ہیں اور آپ کی کافی غلطیاں نکال رہے ہیں اور آپ کو خلافت سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کی خواہشات تو یہ بھی ہیں کہ اگر آپ خلافت سے الگ نہیں ہوئے تو وہ آپ کو قتل کر دیں گے۔ اتنا سننا تھا کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ پڑی اور انصار و مہاجرین سے مشورہ کیا کہ اُن لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اُن فتنہ برپا کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تاکہ فتنہ یہیں رک جائے۔ لیکن حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے اِسی لیے سب کی بات سنی اور سب کو جواب دیا۔
#شہادتِ امیر المومنین عثمانِ غنی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ:
مصریوں کا مطالبہ تھا کہ امیر عبداللہ بن ابی سرح کو معزول کر دیا جائے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مصری اپنا امیر خود چون لیں، چنانچہ اُنہوں نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام پیش کیا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابی سرح کی معزولی اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تقرر کا پروانہ لکھ کر کے دے دیا۔ جسے لے کر محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصریوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ظاہراً مطمئن ہو کر باغی جماعتیں اپنے اپنے صوبوں کی طرف لوٹ گئیں۔ اہلِ مدینہ منورہ کو سکون حاصل ہوا، مگر ابھی چند دن گزرے تھے کہ اچانک رات کے وقت مدینہ منورہ کے ارد گرد نعرۂ تکبیر اور انتقام انتقام کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ صبح ہوئی تو حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر بلوائیوں کے گھیرے میں تھا۔ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلوائیوں سے پوچھا کہ واپس چلے جانے کے بعد تمہیں کس چیز نے بلایا ؟ بلوائیوں نے جواب دیا کہ ہم نے راستے میں ایک قاصد کو پکڑا جس سے امیرِ مصر کے نام یہ خط برآمد ہوا: (یعنی: ملا)
”جس وقت تیرے پاس محمد (بن ابی بکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما) اور فلاں فلاں اشخاص جائیں تو تم اُن کو کسی حیلہ سے قتل کر دینا اور جو لوگ تمہاری شکایتیں یہاں لے کر آئے تھے ان کو قید کر دینا اور دوسرے حکم تک اپنے عہدہ پر قائم رہنا۔“ حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ دیکھا تو حضرتِ محمد بن مَسلمہ کو ساتھ لے کر امیر المؤمنین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزد گئے اور حقیقت دریافت کی۔ اُنہوں نے اِس خط سے لا علمی کا اظہار کیا اور فرمایا: مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم، نہ مَیں نے ایسا کچھ لکھا نہ لکھوایا۔
وہ خط کس کا تھا اس کی تحقیق: یہ خط جس نے فتنہ کی آگ لگائی کس نے لکھا ایک مُعَمّٰی ہے، عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے میر منشی مروان بن حکم نے لکھ کر اُس پر خلیفہ کی مہر لگا دی۔ لیکن قرینہ اِس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ جعلی خط ابن سبا یا اُس کے کسی مددگار کا کرشمہ تھا۔ جیسے: ان لوگوں نے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے گورنروں کی خلاف پورے عالم میں غلط باتیں پھیلا دیں تو اِس طرح کا جعلی خط تیار کرنا اُن کے لیے کوئی مشکل نہ تھا۔
ابتداءً بلوائیوں کا محاصرہ سخت نہ تھا۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آتے جاتے اور لوگوں کی امامت فرماتے حتیٰ کے خود بلوائی بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھتے۔ وقتاً فوقتاً خلیفۃ المسلمین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کو ہدایتیں کرتے، مگر ان پر کسی بات کا کچھ اثر نہ ہوتا۔ روز بہ روز اُن کے محاصرے میں سختی آتی گئی۔ یہ حالت دیکھ کر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے چاہا کہ شمشیر کے زور سے اِن غداروں کو باہر کیا جائے، جب یہ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم چلا تو آپ نے سب کو روک دیا۔
باغیوں کو یہ خوف بھی تھا کہ اگر محاصرے کی خبر دور دور تک پھیل گئی تو باہر سے بھی فوجیں آجائیں گی اور حج کے ایام بالکل قریب ہی تھے، اس لیے باغیوں کو خوف تھا کہ حج کے ایام پورا کر لینے کے بعد لوگ امیر المؤمنین کا یہ حال سن کر مکہ شریف سے مدینہ منورہ کی جانب رخ کر لیں گے اور وہ مقصد میں کامیاب نہ ہو پائیں گے۔ اِس لیے اُن لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ جلد از جلد عثمان ذوالنورین کو قتل کر دیا جائے۔ محاصرے کے چالیس دن پورے ہو گئے تب بلوائی پورے عزم کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھے۔ جہاں حضرتِ حسن و حسین و ابن زبیر و محمد بن طلحہ وغیرہم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اُنہیں آگے نہ بڑھنے دیا۔ حضرتِ امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو قتل کرنے کا ایسا جنون دل و دماغ پر سوار تھا کہ باغیوں نے عَمرو بن حزم کے مکان کی جانب سے سیڑھی لگائی اور پیچھے سے گھر میں داخل ہو گئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تلاوتِ قرآن شریف میں مصروف ہیں۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی یہ خصلتِ پاک تھی کہ آپ ہر نماز کے لیے وضو فرماتے اگرچہ وضو رہتا ہو، اگر بیچ میں قرآن شریف پڑھنا ہوتا تو وضو چھ بار ہو جاتا اور حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قرآن شریف کی بہت زیادہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ایک شخص آگے بڑھا اور اُس نے کہا کہ آپ خلافت سے دست بردار ہو جائیں، حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے صاف منع فرما دیا۔ اُس کے بعد محمد بن ابی‌بکر آگے بڑھے اور آپ کی داڑھی مبارک پکڑ کر گستاخی کرنے لگے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ: بھتیجے! آج اگر تمہارے والد زندہ ہوتے تو اُنہیں تمہاری یہ حرکت بالکل پسند نہ آتی۔ محمد بن ابی‌بکر شرمندہ ہوئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ اُس کے بعد قُتیرہ، سودان بن حُمران اور غافقی نے حملہ کیا۔ غافقی نے لوہے کی سلاخ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سر پر ماری۔ سرِ مبارک سے خون کا فوارہ چھوٹنے لگا اور قرآن مقدس کے اوراق خون آلود ہو گئے۔ پھر سودان نے تلوار سے حملہ کیا۔ حضرتِ نائلہ بنت فراضہ بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو تلوار کی زد میں آگریں اور ہاتھ کی تین انگلیاں کٹ گئیں۔ سودان کے ہی حملے سے امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، دامادِ مصطفیٰ ﷺ، پیکرِ شرم و حیا حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے۔ شہید ہوتے وقت آپ کی لسانِ مبارک پر یہ آیتِ کریمہ تھی: ”فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰهُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ“ [سورۃ: البقرۃ، آیت: ١٣٧] ترجمۂ کنز الایمان: تو اے محبوب عنقریب اللّٰه ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔
ازواج و اولاد:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور بعض سے اولاد بھی ہوئیں۔ (١) حضرتِ سیدہ رقیہ بنت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ اولاد: حضرتِ عبدالرحمٰن، اِن کا بچپن میں انتقال ہو گیا۔ (٢) حضرتِ ام کلثوم بنت رسولِ خدا ﷺ، کوئی اولاد نہ ہوئی۔ (٣) فاختہ بنت غزوان مُضری، اولاد: عبداللّٰہ اصغر۔ (٤) ام عَمرو بنت جندب ازدی، اولاد: عَمرو، خالد، ابان، عُمر، مریم۔ (٥) فاطمہ بنت ولید مخزومی، اولاد: ولید، سعید، ام سعید۔ (٦) ام البنین بنت عُیَیْنہ بن حصن، اولاد: عبد الملک۔ (٧) رملہ بنت شیبہ بن ربیعہ، اولاد: عائشہ، ام ابان، ام عَمرو۔ (٨) نائلہ بنت فراضہ، اولاد: مریم صغریٰ، ام خالد، ام ابان صغریٰ (٩) اسما بنت ابی جہل، اولاد: مغیرہ۔ (١٠) کنیز، اولاد: ام البنین۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دینِ اسلام کی بہت خدمات انجام دیں۔ آپ نے تمام مسلمانوں کو ایک قرآن اور ایک قرأت پر متحد کر دیا۔ تعمیری کاموں میں سب سے عمدہ کارنامہ مسجدِ نبوی کی توسیع ہے۔
اخلاق و کردار:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بہت ہی نرم دل، بامروت اور دوسروں کا درد و غم محسوس کرنے والے، عالی ظرف انسان تھے۔ خوفِ خدا، محبتِ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم، شرم و حیا، اور طہارت و پاکیزگی آپ کی امتیازی صفت تھی۔ ایک مرتبہ جب حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پیارے نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر آئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سب سے الگ اہتمام فرماتے ہوئے ان کے لیے اپنے پائجامہ مبارک کو تھوڑا اور نیچے کر لیا اور کہا کہ مَیں اُس شخص سے حیا نہ کروں ؟ جس سے آسمان کے فرشتے حیا کرتے ہیں۔ عہدِ جاہلیت جو کہ شراب و شباب کا زمانہ تھا اُس میں بھی آپ نے کبھی شراب کو منہ سے نہیں لگایا۔ مخلوقِ خدا کی مدد کے لیے ہمیشہ حاضر رہتے۔
خلافتِ امیر المومنین مولیٰ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد چند دن مسندِ خلافت خالی رہی، اس میں مختلف اقوال ہیں: ایک دن، تین دن، پانچ دن۔ طبری کے مطابق حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بیعت بروز جمعہ ٢٤ یا ٢٥؍ذی الحجہ ٣٥؍ہجری میں ہوئی۔
جب حضرتِ سیدنا امیر المومنین عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرتِ سیدنا مولیٰ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہمیں امیر المؤمنین کی ضرورت ہے۔ حضرتِ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اُن حضرات کی مرضی پاتے ہوئے فرمایا کہ مجھے خلافت کی کوئی حاجت نہیں۔ تم لوگ جس کو چاہو امیر منتخب کر لو مَیں اس پر راضی ہوں، تو سبھی نے کہا کہ ہم آپ کے علاوہ کسی کو امیر منتخب نہیں کریں گے، ہم حکومت کے لیے نہ کسی کو آپ سے بہتر سمجھتے ہیں نہ کسی کو جانتے ہیں جو آپ پر فوقیت رکھتا ہو۔ حضرتِ سیدنا علی شیرِ خدا رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ لوگ مجھے مجبور نہ کریں مجھے امیر بننے سے زیادہ وزیر بننا پسند ہے۔ لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم آپ کو تب تک نہیں چھوڑیں گے جب تک آپ کے ہاتھ پر بیعت نہ کر لیں۔ جب حضرتِ سیدنا علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جان لیا کہ لوگ آپ کو چھوڑیں گے نہیں تو فرمایا کہ ایسا ہے تو میری بیعت پوشیدہ طور پر نہیں ہوگی، بلکہ یہ علانیہ مسجد نبوی میں ہوگی۔ پھر سبھی حضرات مسجدِ نبوی میں پہنچے، اور سب نے آپ کی بیعت کر لی۔ سب سے پہلے حضرتِ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بیعت کی۔ چار سال اور ٩؍مہینہ حضرتِ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بہترین خلافت فرمائی۔ حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کے بعد آپ کے بڑے شہزادے امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا امامِ پاک حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کرسئ خلافت پر بیٹھے اور چھ مہینہ زبردست حکومت فرمائی، پھر حضرتِ سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کرسئ خلافت پر بیٹھ کر حکومت فرمائی۔
اللّٰہ رب العٰلمین ہم سب کو حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائے اور آپ کی پیاری پیاری عادتوں پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کے فیضان سے ہمیں مالامال فرمائے۔ ہمیں بھی شرم و حیا عطا فرمائے اور شرم و حیا کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا ربَّ العٰلمین۔ امامِ اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دُرِّ منثورِ قرآں کی سِلکِ بَہی
زوجِ دو نورِ عفَّت پہ لاکھوں سلام
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

مختصر سیرتِ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و خلافتِ مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم [آخری قسط]
رحلتِ رسول ﷺ و خلافتِ صدیق و فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما:
حجۃ الوداع کے موقع پر بھی حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ١٢؍ربیع الاول شریف ١١ھ؁ کو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا۔ بعدہٗ خلافتِ حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ میں آپ مجلسِ شوریٰ کے اہم رکن رہے اور آپ کے مشوروں کو بہت اہمیت دی جاتی۔
خلافت:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے تقریباََ ١٢؍سال خلافت فرمائی۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبلِ شہادت چھ لوگوں کا نام تجویز فرمایا کہ جن پانچوں کا ایک پر اتفاق ہو جائے اُنہیں خلیفہ بنا لیا جائے: (١) حضرتِ عثمانِ غنی (٢) حضرتِ مولیٰ علی (٣) حضرت طلحہ بن عبیداللہ (٤) حضرتِ زبیر بن عوّام (٥) حضرتِ سعد بن ابی وقّاص (٦) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعد مسئلۂ خلافت کے سلسلے میں مسلسل دو دن بحث ہوتی رہی، لیکن کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ تیسرے دن حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ وصیت چھ لوگوں کے درمیان مشترک ہے اِسے تین میں کر دینا چاہیے اور جو جس کو مستحق سمجھتا ہو وہ اُسے پیش کرے۔ حضرتِ زبیر نے حضرتِ علی کے متعلق راۓ دی، حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو پیش کیا، حضرتِ طلحہ بن عبیداللہ نے حضرت عثمان کا نام لیا۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اپنے حق سے دست بردار ہوتا ہوں۔ اب معاملہ دو حضرات کے درمیان رہ گیا۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ دونوں حضرات یعنی حضرتِ عثمان و مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اِس فیصلہ کا اختیار مجھے دے دیں، دونوں حضرات راضی ہو گئے۔ اِس رائے کے بعد حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین مسجدِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مختصراً تقریر فرمائی اور اُس کے بعد حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست پر بیعت ہو گئے، اُس کے بعد حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعت ہوئے۔ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیعت ہوتے ہی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بیعت کے لیے امڈ پڑے۔ ٢٩؍ذی الحجہ ٢٣ھ؁ میں لوگوں نے بیعت کی اور آپ نے یکم محرم الحرام ٢٤ھ؁ کو خلافت کو سنبھالا اور ١٢؍سال تک مسندِ خلافت پر تشریف فرما رہے۔
خلافت کے آخری 6؍سال:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں شروع کے چھ سال بہت ہی امن و سکون سے گزرے۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرز پر نظامِ سلطنت قائم رہا، لیکن خلافت کے آخری چھ سال شدید فتنہ و گرفت میں رہے۔
ابن سبا کا فتنہ:
جزیرۃ العرب اسلامی اقتدار کا آغاز ہوتے ہی حجاز کے یہود نے اسلام کے خلاف خفیہ سازشوں کا آغاز کر دیا۔ دشمنی کے مختلف طریقے اپنائے گئے۔ وہ دشمن ظاہر میں مسلمان بن کر اسلام اور مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچاتے۔ یہودی شروع سے ہی اسلام کے سخت دشمن رہے۔ لیکن عہدِ نبوی سے عہدِ فاروقی تک وہ لوگ زیادہ کچھ نہیں کر پائے۔ لیکن حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں خلافتِ عثمانی پر نکتہ چینیاں شروع کر دیں تو اُس وقت عبداللہ بن سبا یہودی کو پرانی دشمنی نکالنے کا موقع ملا۔ وہ یہودی رہ کر کچھ نہیں کر سکتا تھا اِس لیے اُس نے ایک چال چلی اور ظاہر میں مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر پیٹھ پیچھے سازشیں شروع کر دیں۔ مختصر یہ کہ وہ الگ الگ مقام پر گیا اور چالیں چلتا رہا اور لوگوں کے دلوں میں حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف باتیں بھرتا رہا۔ جب کافی لوگ ابنِ سبا کے فتنے کی زد میں آگئے تو اُس نے دارالحکومت مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی ایک اسکیم تیار کی۔ اُس اسکیم کے مطابق اُن لوگوں کا ایک گروہ مدینہ شریف کے قریب پہنچ گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو صحابہ کو بھیجا کہ وہ اُن سے پوچھیں کہ ان کے مطالبات کون ہیں ؟ اُن حضرات نے واپَس آکر بتایا کہ وہ آپ کی خلافت سے خوش نہیں ہیں اور آپ کی کافی غلطیاں نکال رہے ہیں اور آپ کو خلافت سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کی خواہشات تو یہ بھی ہیں کہ اگر آپ خلافت سے الگ نہیں ہوئے تو وہ آپ کو قتل کر دیں گے۔ اتنا سننا تھا کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ پڑی اور انصار و مہاجرین سے مشورہ کیا کہ اُن لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اُن فتنہ برپا کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تاکہ فتنہ یہیں رک جائے۔ لیکن حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے اِسی لیے سب کی بات سنی اور سب کو جواب دیا۔
#شہادتِ امیر المومنین عثمانِ غنی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ:
مصریوں کا مطالبہ تھا کہ امیر عبداللہ بن ابی سرح کو معزول کر دیا جائے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مصری اپنا امیر خود چون لیں، چنانچہ اُنہوں نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام پیش کیا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابی سرح کی معزولی اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تقرر کا پروانہ لکھ کر کے دے دیا۔ جسے لے کر محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصریوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ظاہراً مطمئن ہو کر باغی جماعتیں اپنے اپنے صوبوں کی طرف لوٹ گئیں۔ اہلِ مدینہ منورہ کو سکون حاصل ہوا، مگر ابھی چند دن گزرے تھے کہ اچانک رات کے وقت مدینہ منورہ کے ارد گرد نعرۂ تکبیر اور انتقام انتقام کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ صبح ہوئی تو حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر بلوائیوں کے گھیرے میں تھا۔ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلوائیوں سے پوچھا کہ واپس چلے جانے کے بعد تمہیں کس چیز نے بلایا ؟ بلوائیوں نے جواب دیا کہ ہم نے راستے میں ایک قاصد کو پکڑا جس سے امیرِ مصر کے نام یہ خط برآمد ہوا: (یعنی: ملا)
”جس وقت تیرے پاس محمد (بن ابی بکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما) اور فلاں فلاں اشخاص جائیں تو تم اُن کو کسی حیلہ سے قتل کر دینا اور جو لوگ تمہاری شکایتیں یہاں لے کر آئے تھے ان کو قید کر دینا اور دوسرے حکم تک اپنے عہدہ پر قائم رہنا۔“ حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ دیکھا تو حضرتِ محمد بن مَسلمہ کو ساتھ لے کر امیر المؤمنین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزد گئے اور حقیقت دریافت کی۔ اُنہوں نے اِس خط سے لا علمی کا اظہار کیا اور فرمایا: مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم، نہ مَیں نے ایسا کچھ لکھا نہ لکھوایا۔
وہ خط کس کا تھا اس کی تحقیق: یہ خط جس نے فتنہ کی آگ لگائی کس نے لکھا ایک مُعَمّٰی ہے، عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے میر منشی مروان بن حکم نے لکھ کر اُس پر خلیفہ کی مہر لگا دی۔ لیکن قرینہ اِس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ جعلی خط ابن سبا یا اُس کے کسی مددگار کا کرشمہ تھا۔ جیسے: ان لوگوں نے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے گورنروں کی خلاف پورے عالم میں غلط باتیں پھیلا دیں تو اِس طرح کا جعلی خط تیار کرنا اُن کے لیے کوئی مشکل نہ تھا۔
ابتداءً بلوائیوں کا محاصرہ سخت نہ تھا۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آتے جاتے اور لوگوں کی امامت فرماتے حتیٰ کے خود بلوائی بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھتے۔ وقتاً فوقتاً خلیفۃ المسلمین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کو ہدایتیں کرتے، مگر ان پر کسی بات کا کچھ اثر نہ ہوتا۔ روز بہ روز اُن کے محاصرے میں سختی آتی گئی۔ یہ حالت دیکھ کر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے چاہا کہ شمشیر کے زور سے اِن غداروں کو باہر کیا جائے، جب یہ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم چلا تو آپ نے سب کو روک دیا۔
باغیوں کو یہ خوف بھی تھا کہ اگر محاصرے کی خبر دور دور تک پھیل گئی تو باہر سے بھی فوجیں آجائیں گی اور حج کے ایام بالکل قریب ہی تھے، اس لیے باغیوں کو خوف تھا کہ حج کے ایام پورا کر لینے کے بعد لوگ امیر المؤمنین کا یہ حال سن کر مکہ شریف سے مدینہ منورہ کی جانب رخ کر لیں گے اور وہ مقصد میں کامیاب نہ ہو پائیں گے۔ اِس لیے اُن لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ جلد از جلد عثمان ذوالنورین کو قتل کر دیا جائے۔ محاصرے کے چالیس دن پورے ہو گئے تب بلوائی پورے عزم کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھے۔ جہاں حضرتِ حسن و حسین و ابن زبیر و محمد بن طلحہ وغیرہم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اُنہیں آگے نہ بڑھنے دیا۔ حضرتِ امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو قتل کرنے کا ایسا جنون دل و دماغ پر سوار تھا کہ باغیوں نے عَمرو بن حزم کے مکان کی جانب سے سیڑھی لگائی اور پیچھے سے گھر میں داخل ہو گئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تلاوتِ قرآن شریف میں مصروف ہیں۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی یہ خصلتِ پاک تھی کہ آپ ہر نماز کے لیے وضو فرماتے اگرچہ وضو رہتا ہو، اگر بیچ میں قرآن شریف پڑھنا ہوتا تو وضو چھ بار ہو جاتا اور حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قرآن شریف کی بہت زیادہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ایک شخص آگے بڑھا اور اُس نے کہا کہ آپ خلافت سے دست بردار ہو جائیں، حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے صاف منع فرما دیا۔ اُس کے بعد محمد بن ابی‌بکر آگے بڑھے اور آپ کی داڑھی مبارک پکڑ کر گستاخی کرنے لگے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ: بھتیجے! آج اگر تمہارے والد زندہ ہوتے تو اُنہیں تمہاری یہ حرکت بالکل پسند نہ آتی۔ محمد بن ابی‌بکر شرمندہ ہوئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ اُس کے بعد قُتیرہ، سودان بن حُمران اور غافقی نے حملہ کیا۔ غافقی نے لوہے کی سلاخ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سر پر ماری۔ سرِ مبارک سے خون کا فوارہ چھوٹنے لگا اور قرآن مقدس کے اوراق خون آلود ہو گئے۔ پھر سودان نے تلوار سے حملہ کیا۔ حضرتِ نائلہ بنت فراضہ بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو تلوار کی زد میں آگریں اور ہاتھ کی تین انگلیاں کٹ گئیں۔ سودان کے ہی حملے سے امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، دامادِ مصطفیٰ ﷺ، پیکرِ شرم و حیا حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے۔ شہید ہوتے وقت آپ کی لسانِ مبارک پر یہ آیتِ کریمہ تھی: ”فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰهُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ“ [سورۃ: البقرۃ، آیت: ١٣٧] ترجمۂ کنز الایمان: تو اے محبوب عنقریب اللّٰه ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔
ازواج و اولاد:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور بعض سے اولاد بھی ہوئیں۔ (١) حضرتِ سیدہ رقیہ بنت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ اولاد: حضرتِ عبدالرحمٰن، اِن کا بچپن میں انتقال ہو گیا۔ (٢) حضرتِ ام کلثوم بنت رسولِ خدا ﷺ، کوئی اولاد نہ ہوئی۔ (٣) فاختہ بنت غزوان مُضری، اولاد: عبداللّٰہ اصغر۔ (٤) ام عَمرو بنت جندب ازدی، اولاد: عَمرو، خالد، ابان، عُمر، مریم۔ (٥) فاطمہ بنت ولید مخزومی، اولاد: ولید، سعید، ام سعید۔ (٦) ام البنین بنت عُیَیْنہ بن حصن، اولاد: عبد الملک۔ (٧) رملہ بنت شیبہ بن ربیعہ، اولاد: عائشہ، ام ابان، ام عَمرو۔ (٨) نائلہ بنت فراضہ، اولاد: مریم صغریٰ، ام خالد، ام ابان صغریٰ (٩) اسما بنت ابی جہل، اولاد: مغیرہ۔ (١٠) کنیز، اولاد: ام البنین۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دینِ اسلام کی بہت خدمات انجام دیں۔ آپ نے تمام مسلمانوں کو ایک قرآن اور ایک قرأت پر متحد کر دیا۔ تعمیری کاموں میں سب سے عمدہ کارنامہ مسجدِ نبوی کی توسیع ہے۔
اخلاق و کردار:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بہت ہی نرم دل، بامروت اور دوسروں کا درد و غم محسوس کرنے والے، عالی ظرف انسان تھے۔ خوفِ خدا، محبتِ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم، شرم و حیا، اور طہارت و پاکیزگی آپ کی امتیازی صفت تھی۔ ایک مرتبہ جب حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پیارے نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر آئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سب سے الگ اہتمام فرماتے ہوئے ان کے لیے اپنے پائجامہ مبارک کو تھوڑا اور نیچے کر لیا اور کہا کہ مَیں اُس شخص سے حیا نہ کروں ؟ جس سے آسمان کے فرشتے حیا کرتے ہیں۔ عہدِ جاہلیت جو کہ شراب و شباب کا زمانہ تھا اُس میں بھی آپ نے کبھی شراب کو منہ سے نہیں لگایا۔ مخلوقِ خدا کی مدد کے لیے ہمیشہ حاضر رہتے۔
خلافتِ امیر المومنین مولیٰ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ:
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد چند دن مسندِ خلافت خالی رہی، اس میں مختلف اقوال ہیں: ایک دن، تین دن، پانچ دن۔ طبری کے مطابق حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بیعت بروز جمعہ ٢٤ یا ٢٥؍ذی الحجہ ٣٥؍ہجری میں ہوئی۔
جب حضرتِ سیدنا امیر المومنین عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرتِ سیدنا مولیٰ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہمیں امیر المؤمنین کی ضرورت ہے۔ حضرتِ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اُن حضرات کی مرضی پاتے ہوئے فرمایا کہ مجھے خلافت کی کوئی حاجت نہیں۔ تم لوگ جس کو چاہو امیر منتخب کر لو مَیں اس پر راضی ہوں، تو سبھی نے کہا کہ ہم آپ کے علاوہ کسی کو امیر منتخب نہیں کریں گے، ہم حکومت کے لیے نہ کسی کو آپ سے بہتر سمجھتے ہیں نہ کسی کو جانتے ہیں جو آپ پر فوقیت رکھتا ہو۔ حضرتِ سیدنا علی شیرِ خدا رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ لوگ مجھے مجبور نہ کریں مجھے امیر بننے سے زیادہ وزیر بننا پسند ہے۔ لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم آپ کو تب تک نہیں چھوڑیں گے جب تک آپ کے ہاتھ پر بیعت نہ کر لیں۔ جب حضرتِ سیدنا علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جان لیا کہ لوگ آپ کو چھوڑیں گے نہیں تو فرمایا کہ ایسا ہے تو میری بیعت پوشیدہ طور پر نہیں ہوگی، بلکہ یہ علانیہ مسجد نبوی میں ہوگی۔ پھر سبھی حضرات مسجدِ نبوی میں پہنچے، اور سب نے آپ کی بیعت کر لی۔ سب سے پہلے حضرتِ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بیعت کی۔ چار سال اور ٩؍مہینہ حضرتِ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بہترین خلافت فرمائی۔ حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کے بعد آپ کے بڑے شہزادے امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا امامِ پاک حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کرسئ خلافت پر بیٹھے اور چھ مہینہ زبردست حکومت فرمائی، پھر حضرتِ سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کرسئ خلافت پر بیٹھ کر حکومت فرمائی۔
اللّٰہ رب العٰلمین ہم سب کو حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائے اور آپ کی پیاری پیاری عادتوں پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کے فیضان سے ہمیں مالامال فرمائے۔ ہمیں بھی شرم و حیا عطا فرمائے اور شرم و حیا کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا ربَّ العٰلمین۔ امامِ اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دُرِّ منثورِ قرآں کی سِلکِ بَہی
زوجِ دو نورِ عفَّت پہ لاکھوں سلام
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
72
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 28
Kalam 10
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

کیا اسلام میں بغیر شادی کے عورت سے تعلق رکھنا جائز ہے ؟

مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢