مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
حجۃ الوداع کے موقع پر بھی حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ١٢؍ربیع الاول شریف ١١ھ کو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا۔ بعدہٗ خلافتِ حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ میں آپ مجلسِ شوریٰ کے اہم رکن رہے اور آپ کے مشوروں کو بہت اہمیت دی جاتی۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے تقریباََ ١٢؍سال خلافت فرمائی۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبلِ شہادت چھ لوگوں کا نام تجویز فرمایا کہ جن پانچوں کا ایک پر اتفاق ہو جائے اُنہیں خلیفہ بنا لیا جائے: (١) حضرتِ عثمانِ غنی (٢) حضرتِ مولیٰ علی (٣) حضرت طلحہ بن عبیداللہ (٤) حضرتِ زبیر بن عوّام (٥) حضرتِ سعد بن ابی وقّاص (٦) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعد مسئلۂ خلافت کے سلسلے میں مسلسل دو دن بحث ہوتی رہی، لیکن کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ تیسرے دن حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ وصیت چھ لوگوں کے درمیان مشترک ہے اِسے تین میں کر دینا چاہیے اور جو جس کو مستحق سمجھتا ہو وہ اُسے پیش کرے۔ حضرتِ زبیر نے حضرتِ علی کے متعلق راۓ دی، حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو پیش کیا، حضرتِ طلحہ بن عبیداللہ نے حضرت عثمان کا نام لیا۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اپنے حق سے دست بردار ہوتا ہوں۔ اب معاملہ دو حضرات کے درمیان رہ گیا۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ دونوں حضرات یعنی حضرتِ عثمان و مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اِس فیصلہ کا اختیار مجھے دے دیں، دونوں حضرات راضی ہو گئے۔ اِس رائے کے بعد حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین مسجدِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مختصراً تقریر فرمائی اور اُس کے بعد حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست پر بیعت ہو گئے، اُس کے بعد حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعت ہوئے۔ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیعت ہوتے ہی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بیعت کے لیے امڈ پڑے۔ ٢٩؍ذی الحجہ ٢٣ھ میں لوگوں نے بیعت کی اور آپ نے یکم محرم الحرام ٢٤ھ کو خلافت کو سنبھالا اور ١٢؍سال تک مسندِ خلافت پر تشریف فرما رہے۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں شروع کے چھ سال بہت ہی امن و سکون سے گزرے۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرز پر نظامِ سلطنت قائم رہا، لیکن خلافت کے آخری چھ سال شدید فتنہ و گرفت میں رہے۔
ابن سبا کا فتنہ:
جزیرۃ العرب اسلامی اقتدار کا آغاز ہوتے ہی حجاز کے یہود نے اسلام کے خلاف خفیہ سازشوں کا آغاز کر دیا۔ دشمنی کے مختلف طریقے اپنائے گئے۔ وہ دشمن ظاہر میں مسلمان بن کر اسلام اور مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچاتے۔ یہودی شروع سے ہی اسلام کے سخت دشمن رہے۔ لیکن عہدِ نبوی سے عہدِ فاروقی تک وہ لوگ زیادہ کچھ نہیں کر پائے۔ لیکن حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں خلافتِ عثمانی پر نکتہ چینیاں شروع کر دیں تو اُس وقت عبداللہ بن سبا یہودی کو پرانی دشمنی نکالنے کا موقع ملا۔ وہ یہودی رہ کر کچھ نہیں کر سکتا تھا اِس لیے اُس نے ایک چال چلی اور ظاہر میں مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر پیٹھ پیچھے سازشیں شروع کر دیں۔ مختصر یہ کہ وہ الگ الگ مقام پر گیا اور چالیں چلتا رہا اور لوگوں کے دلوں میں حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف باتیں بھرتا رہا۔ جب کافی لوگ ابنِ سبا کے فتنے کی زد میں آگئے تو اُس نے دارالحکومت مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی ایک اسکیم تیار کی۔ اُس اسکیم کے مطابق اُن لوگوں کا ایک گروہ مدینہ شریف کے قریب پہنچ گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو صحابہ کو بھیجا کہ وہ اُن سے پوچھیں کہ ان کے مطالبات کون ہیں ؟ اُن حضرات نے واپَس آکر بتایا کہ وہ آپ کی خلافت سے خوش نہیں ہیں اور آپ کی کافی غلطیاں نکال رہے ہیں اور آپ کو خلافت سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کی خواہشات تو یہ بھی ہیں کہ اگر آپ خلافت سے الگ نہیں ہوئے تو وہ آپ کو قتل کر دیں گے۔ اتنا سننا تھا کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ پڑی اور انصار و مہاجرین سے مشورہ کیا کہ اُن لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اُن فتنہ برپا کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تاکہ فتنہ یہیں رک جائے۔ لیکن حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے اِسی لیے سب کی بات سنی اور سب کو جواب دیا۔
مصریوں کا مطالبہ تھا کہ امیر عبداللہ بن ابی سرح کو معزول کر دیا جائے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مصری اپنا امیر خود چون لیں، چنانچہ اُنہوں نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام پیش کیا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابی سرح کی معزولی اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تقرر کا پروانہ لکھ کر کے دے دیا۔ جسے لے کر محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصریوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ظاہراً مطمئن ہو کر باغی جماعتیں اپنے اپنے صوبوں کی طرف لوٹ گئیں۔ اہلِ مدینہ منورہ کو سکون حاصل ہوا، مگر ابھی چند دن گزرے تھے کہ اچانک رات کے وقت مدینہ منورہ کے ارد گرد نعرۂ تکبیر اور انتقام انتقام کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ صبح ہوئی تو حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر بلوائیوں کے گھیرے میں تھا۔ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلوائیوں سے پوچھا کہ واپس چلے جانے کے بعد تمہیں کس چیز نے بلایا ؟ بلوائیوں نے جواب دیا کہ ہم نے راستے میں ایک قاصد کو پکڑا جس سے امیرِ مصر کے نام یہ خط برآمد ہوا: (یعنی: ملا)
”جس وقت تیرے پاس محمد (بن ابی بکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما) اور فلاں فلاں اشخاص جائیں تو تم اُن کو کسی حیلہ سے قتل کر دینا اور جو لوگ تمہاری شکایتیں یہاں لے کر آئے تھے ان کو قید کر دینا اور دوسرے حکم تک اپنے عہدہ پر قائم رہنا۔“ حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ دیکھا تو حضرتِ محمد بن مَسلمہ کو ساتھ لے کر امیر المؤمنین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزد گئے اور حقیقت دریافت کی۔ اُنہوں نے اِس خط سے لا علمی کا اظہار کیا اور فرمایا: مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم، نہ مَیں نے ایسا کچھ لکھا نہ لکھوایا۔
وہ خط کس کا تھا اس کی تحقیق: یہ خط جس نے فتنہ کی آگ لگائی کس نے لکھا ایک مُعَمّٰی ہے، عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے میر منشی مروان بن حکم نے لکھ کر اُس پر خلیفہ کی مہر لگا دی۔ لیکن قرینہ اِس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ جعلی خط ابن سبا یا اُس کے کسی مددگار کا کرشمہ تھا۔ جیسے: ان لوگوں نے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے گورنروں کی خلاف پورے عالم میں غلط باتیں پھیلا دیں تو اِس طرح کا جعلی خط تیار کرنا اُن کے لیے کوئی مشکل نہ تھا۔
ابتداءً بلوائیوں کا محاصرہ سخت نہ تھا۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آتے جاتے اور لوگوں کی امامت فرماتے حتیٰ کے خود بلوائی بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھتے۔ وقتاً فوقتاً خلیفۃ المسلمین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کو ہدایتیں کرتے، مگر ان پر کسی بات کا کچھ اثر نہ ہوتا۔ روز بہ روز اُن کے محاصرے میں سختی آتی گئی۔ یہ حالت دیکھ کر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے چاہا کہ شمشیر کے زور سے اِن غداروں کو باہر کیا جائے، جب یہ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم چلا تو آپ نے سب کو روک دیا۔
باغیوں کو یہ خوف بھی تھا کہ اگر محاصرے کی خبر دور دور تک پھیل گئی تو باہر سے بھی فوجیں آجائیں گی اور حج کے ایام بالکل قریب ہی تھے، اس لیے باغیوں کو خوف تھا کہ حج کے ایام پورا کر لینے کے بعد لوگ امیر المؤمنین کا یہ حال سن کر مکہ شریف سے مدینہ منورہ کی جانب رخ کر لیں گے اور وہ مقصد میں کامیاب نہ ہو پائیں گے۔ اِس لیے اُن لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ جلد از جلد عثمان ذوالنورین کو قتل کر دیا جائے۔ محاصرے کے چالیس دن پورے ہو گئے تب بلوائی پورے عزم کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھے۔ جہاں حضرتِ حسن و حسین و ابن زبیر و محمد بن طلحہ وغیرہم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اُنہیں آگے نہ بڑھنے دیا۔ حضرتِ امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو قتل کرنے کا ایسا جنون دل و دماغ پر سوار تھا کہ باغیوں نے عَمرو بن حزم کے مکان کی جانب سے سیڑھی لگائی اور پیچھے سے گھر میں داخل ہو گئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تلاوتِ قرآن شریف میں مصروف ہیں۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی یہ خصلتِ پاک تھی کہ آپ ہر نماز کے لیے وضو فرماتے اگرچہ وضو رہتا ہو، اگر بیچ میں قرآن شریف پڑھنا ہوتا تو وضو چھ بار ہو جاتا اور حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قرآن شریف کی بہت زیادہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ایک شخص آگے بڑھا اور اُس نے کہا کہ آپ خلافت سے دست بردار ہو جائیں، حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے صاف منع فرما دیا۔ اُس کے بعد محمد بن ابیبکر آگے بڑھے اور آپ کی داڑھی مبارک پکڑ کر گستاخی کرنے لگے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ: بھتیجے! آج اگر تمہارے والد زندہ ہوتے تو اُنہیں تمہاری یہ حرکت بالکل پسند نہ آتی۔ محمد بن ابیبکر شرمندہ ہوئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ اُس کے بعد قُتیرہ، سودان بن حُمران اور غافقی نے حملہ کیا۔ غافقی نے لوہے کی سلاخ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سر پر ماری۔ سرِ مبارک سے خون کا فوارہ چھوٹنے لگا اور قرآن مقدس کے اوراق خون آلود ہو گئے۔ پھر سودان نے تلوار سے حملہ کیا۔ حضرتِ نائلہ بنت فراضہ بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو تلوار کی زد میں آگریں اور ہاتھ کی تین انگلیاں کٹ گئیں۔ سودان کے ہی حملے سے امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، دامادِ مصطفیٰ ﷺ، پیکرِ شرم و حیا حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے۔ شہید ہوتے وقت آپ کی لسانِ مبارک پر یہ آیتِ کریمہ تھی: ”فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰهُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ“ [سورۃ: البقرۃ، آیت: ١٣٧] ترجمۂ کنز الایمان: تو اے محبوب عنقریب اللّٰه ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور بعض سے اولاد بھی ہوئیں۔ (١) حضرتِ سیدہ رقیہ بنت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ اولاد: حضرتِ عبدالرحمٰن، اِن کا بچپن میں انتقال ہو گیا۔ (٢) حضرتِ ام کلثوم بنت رسولِ خدا ﷺ، کوئی اولاد نہ ہوئی۔ (٣) فاختہ بنت غزوان مُضری، اولاد: عبداللّٰہ اصغر۔ (٤) ام عَمرو بنت جندب ازدی، اولاد: عَمرو، خالد، ابان، عُمر، مریم۔ (٥) فاطمہ بنت ولید مخزومی، اولاد: ولید، سعید، ام سعید۔ (٦) ام البنین بنت عُیَیْنہ بن حصن، اولاد: عبد الملک۔ (٧) رملہ بنت شیبہ بن ربیعہ، اولاد: عائشہ، ام ابان، ام عَمرو۔ (٨) نائلہ بنت فراضہ، اولاد: مریم صغریٰ، ام خالد، ام ابان صغریٰ (٩) اسما بنت ابی جہل، اولاد: مغیرہ۔ (١٠) کنیز، اولاد: ام البنین۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دینِ اسلام کی بہت خدمات انجام دیں۔ آپ نے تمام مسلمانوں کو ایک قرآن اور ایک قرأت پر متحد کر دیا۔ تعمیری کاموں میں سب سے عمدہ کارنامہ مسجدِ نبوی کی توسیع ہے۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بہت ہی نرم دل، بامروت اور دوسروں کا درد و غم محسوس کرنے والے، عالی ظرف انسان تھے۔ خوفِ خدا، محبتِ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم، شرم و حیا، اور طہارت و پاکیزگی آپ کی امتیازی صفت تھی۔ ایک مرتبہ جب حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پیارے نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر آئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سب سے الگ اہتمام فرماتے ہوئے ان کے لیے اپنے پائجامہ مبارک کو تھوڑا اور نیچے کر لیا اور کہا کہ مَیں اُس شخص سے حیا نہ کروں ؟ جس سے آسمان کے فرشتے حیا کرتے ہیں۔ عہدِ جاہلیت جو کہ شراب و شباب کا زمانہ تھا اُس میں بھی آپ نے کبھی شراب کو منہ سے نہیں لگایا۔ مخلوقِ خدا کی مدد کے لیے ہمیشہ حاضر رہتے۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد چند دن مسندِ خلافت خالی رہی، اس میں مختلف اقوال ہیں: ایک دن، تین دن، پانچ دن۔ طبری کے مطابق حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بیعت بروز جمعہ ٢٤ یا ٢٥؍ذی الحجہ ٣٥؍ہجری میں ہوئی۔
جب حضرتِ سیدنا امیر المومنین عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرتِ سیدنا مولیٰ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہمیں امیر المؤمنین کی ضرورت ہے۔ حضرتِ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اُن حضرات کی مرضی پاتے ہوئے فرمایا کہ مجھے خلافت کی کوئی حاجت نہیں۔ تم لوگ جس کو چاہو امیر منتخب کر لو مَیں اس پر راضی ہوں، تو سبھی نے کہا کہ ہم آپ کے علاوہ کسی کو امیر منتخب نہیں کریں گے، ہم حکومت کے لیے نہ کسی کو آپ سے بہتر سمجھتے ہیں نہ کسی کو جانتے ہیں جو آپ پر فوقیت رکھتا ہو۔ حضرتِ سیدنا علی شیرِ خدا رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ لوگ مجھے مجبور نہ کریں مجھے امیر بننے سے زیادہ وزیر بننا پسند ہے۔ لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم آپ کو تب تک نہیں چھوڑیں گے جب تک آپ کے ہاتھ پر بیعت نہ کر لیں۔ جب حضرتِ سیدنا علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جان لیا کہ لوگ آپ کو چھوڑیں گے نہیں تو فرمایا کہ ایسا ہے تو میری بیعت پوشیدہ طور پر نہیں ہوگی، بلکہ یہ علانیہ مسجد نبوی میں ہوگی۔ پھر سبھی حضرات مسجدِ نبوی میں پہنچے، اور سب نے آپ کی بیعت کر لی۔ سب سے پہلے حضرتِ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بیعت کی۔ چار سال اور ٩؍مہینہ حضرتِ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بہترین خلافت فرمائی۔ حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کے بعد آپ کے بڑے شہزادے امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا امامِ پاک حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کرسئ خلافت پر بیٹھے اور چھ مہینہ زبردست حکومت فرمائی، پھر حضرتِ سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کرسئ خلافت پر بیٹھ کر حکومت فرمائی۔
اللّٰہ رب العٰلمین ہم سب کو حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائے اور آپ کی پیاری پیاری عادتوں پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کے فیضان سے ہمیں مالامال فرمائے۔ ہمیں بھی شرم و حیا عطا فرمائے اور شرم و حیا کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا ربَّ العٰلمین۔ امامِ اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
jamiaturrazastudents.com
زوجِ دو نورِ عفَّت پہ لاکھوں سلام
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
حجۃ الوداع کے موقع پر بھی حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ١٢؍ربیع الاول شریف ١١ھ کو پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ہوا۔ بعدہٗ خلافتِ حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ و حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ میں آپ مجلسِ شوریٰ کے اہم رکن رہے اور آپ کے مشوروں کو بہت اہمیت دی جاتی۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے تقریباََ ١٢؍سال خلافت فرمائی۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبلِ شہادت چھ لوگوں کا نام تجویز فرمایا کہ جن پانچوں کا ایک پر اتفاق ہو جائے اُنہیں خلیفہ بنا لیا جائے: (١) حضرتِ عثمانِ غنی (٢) حضرتِ مولیٰ علی (٣) حضرت طلحہ بن عبیداللہ (٤) حضرتِ زبیر بن عوّام (٥) حضرتِ سعد بن ابی وقّاص (٦) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تجہیز و تکفین کے بعد مسئلۂ خلافت کے سلسلے میں مسلسل دو دن بحث ہوتی رہی، لیکن کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ تیسرے دن حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ وصیت چھ لوگوں کے درمیان مشترک ہے اِسے تین میں کر دینا چاہیے اور جو جس کو مستحق سمجھتا ہو وہ اُسے پیش کرے۔ حضرتِ زبیر نے حضرتِ علی کے متعلق راۓ دی، حضرت سعد بن ابی وقاص نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو پیش کیا، حضرتِ طلحہ بن عبیداللہ نے حضرت عثمان کا نام لیا۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں اپنے حق سے دست بردار ہوتا ہوں۔ اب معاملہ دو حضرات کے درمیان رہ گیا۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ دونوں حضرات یعنی حضرتِ عثمان و مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما اِس فیصلہ کا اختیار مجھے دے دیں، دونوں حضرات راضی ہو گئے۔ اِس رائے کے بعد حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین مسجدِ نبوی میں حاضر ہوئے۔ حضرتِ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مختصراً تقریر فرمائی اور اُس کے بعد حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست پر بیعت ہو گئے، اُس کے بعد حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیعت ہوئے۔ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیعت ہوتے ہی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بیعت کے لیے امڈ پڑے۔ ٢٩؍ذی الحجہ ٢٣ھ میں لوگوں نے بیعت کی اور آپ نے یکم محرم الحرام ٢٤ھ کو خلافت کو سنبھالا اور ١٢؍سال تک مسندِ خلافت پر تشریف فرما رہے۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں شروع کے چھ سال بہت ہی امن و سکون سے گزرے۔ حضرتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرز پر نظامِ سلطنت قائم رہا، لیکن خلافت کے آخری چھ سال شدید فتنہ و گرفت میں رہے۔
ابن سبا کا فتنہ:
جزیرۃ العرب اسلامی اقتدار کا آغاز ہوتے ہی حجاز کے یہود نے اسلام کے خلاف خفیہ سازشوں کا آغاز کر دیا۔ دشمنی کے مختلف طریقے اپنائے گئے۔ وہ دشمن ظاہر میں مسلمان بن کر اسلام اور مسلمانوں کو کافی نقصان پہنچاتے۔ یہودی شروع سے ہی اسلام کے سخت دشمن رہے۔ لیکن عہدِ نبوی سے عہدِ فاروقی تک وہ لوگ زیادہ کچھ نہیں کر پائے۔ لیکن حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں خلافتِ عثمانی پر نکتہ چینیاں شروع کر دیں تو اُس وقت عبداللہ بن سبا یہودی کو پرانی دشمنی نکالنے کا موقع ملا۔ وہ یہودی رہ کر کچھ نہیں کر سکتا تھا اِس لیے اُس نے ایک چال چلی اور ظاہر میں مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر پیٹھ پیچھے سازشیں شروع کر دیں۔ مختصر یہ کہ وہ الگ الگ مقام پر گیا اور چالیں چلتا رہا اور لوگوں کے دلوں میں حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف باتیں بھرتا رہا۔ جب کافی لوگ ابنِ سبا کے فتنے کی زد میں آگئے تو اُس نے دارالحکومت مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی ایک اسکیم تیار کی۔ اُس اسکیم کے مطابق اُن لوگوں کا ایک گروہ مدینہ شریف کے قریب پہنچ گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو صحابہ کو بھیجا کہ وہ اُن سے پوچھیں کہ ان کے مطالبات کون ہیں ؟ اُن حضرات نے واپَس آکر بتایا کہ وہ آپ کی خلافت سے خوش نہیں ہیں اور آپ کی کافی غلطیاں نکال رہے ہیں اور آپ کو خلافت سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کی خواہشات تو یہ بھی ہیں کہ اگر آپ خلافت سے الگ نہیں ہوئے تو وہ آپ کو قتل کر دیں گے۔ اتنا سننا تھا کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ پڑی اور انصار و مہاجرین سے مشورہ کیا کہ اُن لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ لوگوں نے مشورہ دیا کہ اُن فتنہ برپا کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تاکہ فتنہ یہیں رک جائے۔ لیکن حضرتِ سیدنا امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے اِسی لیے سب کی بات سنی اور سب کو جواب دیا۔
مصریوں کا مطالبہ تھا کہ امیر عبداللہ بن ابی سرح کو معزول کر دیا جائے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مصری اپنا امیر خود چون لیں، چنانچہ اُنہوں نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام پیش کیا۔ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابی سرح کی معزولی اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تقرر کا پروانہ لکھ کر کے دے دیا۔ جسے لے کر محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصریوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ظاہراً مطمئن ہو کر باغی جماعتیں اپنے اپنے صوبوں کی طرف لوٹ گئیں۔ اہلِ مدینہ منورہ کو سکون حاصل ہوا، مگر ابھی چند دن گزرے تھے کہ اچانک رات کے وقت مدینہ منورہ کے ارد گرد نعرۂ تکبیر اور انتقام انتقام کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ صبح ہوئی تو حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر بلوائیوں کے گھیرے میں تھا۔ حضرتِ مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلوائیوں سے پوچھا کہ واپس چلے جانے کے بعد تمہیں کس چیز نے بلایا ؟ بلوائیوں نے جواب دیا کہ ہم نے راستے میں ایک قاصد کو پکڑا جس سے امیرِ مصر کے نام یہ خط برآمد ہوا: (یعنی: ملا)
”جس وقت تیرے پاس محمد (بن ابی بکر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما) اور فلاں فلاں اشخاص جائیں تو تم اُن کو کسی حیلہ سے قتل کر دینا اور جو لوگ تمہاری شکایتیں یہاں لے کر آئے تھے ان کو قید کر دینا اور دوسرے حکم تک اپنے عہدہ پر قائم رہنا۔“ حضرتِ مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ دیکھا تو حضرتِ محمد بن مَسلمہ کو ساتھ لے کر امیر المؤمنین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزد گئے اور حقیقت دریافت کی۔ اُنہوں نے اِس خط سے لا علمی کا اظہار کیا اور فرمایا: مجھے اس بارے میں کچھ نہیں معلوم، نہ مَیں نے ایسا کچھ لکھا نہ لکھوایا۔
وہ خط کس کا تھا اس کی تحقیق: یہ خط جس نے فتنہ کی آگ لگائی کس نے لکھا ایک مُعَمّٰی ہے، عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے میر منشی مروان بن حکم نے لکھ کر اُس پر خلیفہ کی مہر لگا دی۔ لیکن قرینہ اِس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ جعلی خط ابن سبا یا اُس کے کسی مددگار کا کرشمہ تھا۔ جیسے: ان لوگوں نے حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے گورنروں کی خلاف پورے عالم میں غلط باتیں پھیلا دیں تو اِس طرح کا جعلی خط تیار کرنا اُن کے لیے کوئی مشکل نہ تھا۔
ابتداءً بلوائیوں کا محاصرہ سخت نہ تھا۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر آتے جاتے اور لوگوں کی امامت فرماتے حتیٰ کے خود بلوائی بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھتے۔ وقتاً فوقتاً خلیفۃ المسلمین عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کو ہدایتیں کرتے، مگر ان پر کسی بات کا کچھ اثر نہ ہوتا۔ روز بہ روز اُن کے محاصرے میں سختی آتی گئی۔ یہ حالت دیکھ کر صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے چاہا کہ شمشیر کے زور سے اِن غداروں کو باہر کیا جائے، جب یہ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم چلا تو آپ نے سب کو روک دیا۔
باغیوں کو یہ خوف بھی تھا کہ اگر محاصرے کی خبر دور دور تک پھیل گئی تو باہر سے بھی فوجیں آجائیں گی اور حج کے ایام بالکل قریب ہی تھے، اس لیے باغیوں کو خوف تھا کہ حج کے ایام پورا کر لینے کے بعد لوگ امیر المؤمنین کا یہ حال سن کر مکہ شریف سے مدینہ منورہ کی جانب رخ کر لیں گے اور وہ مقصد میں کامیاب نہ ہو پائیں گے۔ اِس لیے اُن لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ جلد از جلد عثمان ذوالنورین کو قتل کر دیا جائے۔ محاصرے کے چالیس دن پورے ہو گئے تب بلوائی پورے عزم کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھے۔ جہاں حضرتِ حسن و حسین و ابن زبیر و محمد بن طلحہ وغیرہم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اُنہیں آگے نہ بڑھنے دیا۔ حضرتِ امیر المؤمنین عثمانِ ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو قتل کرنے کا ایسا جنون دل و دماغ پر سوار تھا کہ باغیوں نے عَمرو بن حزم کے مکان کی جانب سے سیڑھی لگائی اور پیچھے سے گھر میں داخل ہو گئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تلاوتِ قرآن شریف میں مصروف ہیں۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی یہ خصلتِ پاک تھی کہ آپ ہر نماز کے لیے وضو فرماتے اگرچہ وضو رہتا ہو، اگر بیچ میں قرآن شریف پڑھنا ہوتا تو وضو چھ بار ہو جاتا اور حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ قرآن شریف کی بہت زیادہ تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ایک شخص آگے بڑھا اور اُس نے کہا کہ آپ خلافت سے دست بردار ہو جائیں، حضرتِ عثمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے صاف منع فرما دیا۔ اُس کے بعد محمد بن ابیبکر آگے بڑھے اور آپ کی داڑھی مبارک پکڑ کر گستاخی کرنے لگے۔ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ: بھتیجے! آج اگر تمہارے والد زندہ ہوتے تو اُنہیں تمہاری یہ حرکت بالکل پسند نہ آتی۔ محمد بن ابیبکر شرمندہ ہوئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ اُس کے بعد قُتیرہ، سودان بن حُمران اور غافقی نے حملہ کیا۔ غافقی نے لوہے کی سلاخ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے سر پر ماری۔ سرِ مبارک سے خون کا فوارہ چھوٹنے لگا اور قرآن مقدس کے اوراق خون آلود ہو گئے۔ پھر سودان نے تلوار سے حملہ کیا۔ حضرتِ نائلہ بنت فراضہ بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو تلوار کی زد میں آگریں اور ہاتھ کی تین انگلیاں کٹ گئیں۔ سودان کے ہی حملے سے امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، دامادِ مصطفیٰ ﷺ، پیکرِ شرم و حیا حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی ذوالنورین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے۔ شہید ہوتے وقت آپ کی لسانِ مبارک پر یہ آیتِ کریمہ تھی: ”فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰهُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ“ [سورۃ: البقرۃ، آیت: ١٣٧] ترجمۂ کنز الایمان: تو اے محبوب عنقریب اللّٰه ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور بعض سے اولاد بھی ہوئیں۔ (١) حضرتِ سیدہ رقیہ بنت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ اولاد: حضرتِ عبدالرحمٰن، اِن کا بچپن میں انتقال ہو گیا۔ (٢) حضرتِ ام کلثوم بنت رسولِ خدا ﷺ، کوئی اولاد نہ ہوئی۔ (٣) فاختہ بنت غزوان مُضری، اولاد: عبداللّٰہ اصغر۔ (٤) ام عَمرو بنت جندب ازدی، اولاد: عَمرو، خالد، ابان، عُمر، مریم۔ (٥) فاطمہ بنت ولید مخزومی، اولاد: ولید، سعید، ام سعید۔ (٦) ام البنین بنت عُیَیْنہ بن حصن، اولاد: عبد الملک۔ (٧) رملہ بنت شیبہ بن ربیعہ، اولاد: عائشہ، ام ابان، ام عَمرو۔ (٨) نائلہ بنت فراضہ، اولاد: مریم صغریٰ، ام خالد، ام ابان صغریٰ (٩) اسما بنت ابی جہل، اولاد: مغیرہ۔ (١٠) کنیز، اولاد: ام البنین۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دینِ اسلام کی بہت خدمات انجام دیں۔ آپ نے تمام مسلمانوں کو ایک قرآن اور ایک قرأت پر متحد کر دیا۔ تعمیری کاموں میں سب سے عمدہ کارنامہ مسجدِ نبوی کی توسیع ہے۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ بہت ہی نرم دل، بامروت اور دوسروں کا درد و غم محسوس کرنے والے، عالی ظرف انسان تھے۔ خوفِ خدا، محبتِ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم، شرم و حیا، اور طہارت و پاکیزگی آپ کی امتیازی صفت تھی۔ ایک مرتبہ جب حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پیارے نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر آئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سب سے الگ اہتمام فرماتے ہوئے ان کے لیے اپنے پائجامہ مبارک کو تھوڑا اور نیچے کر لیا اور کہا کہ مَیں اُس شخص سے حیا نہ کروں ؟ جس سے آسمان کے فرشتے حیا کرتے ہیں۔ عہدِ جاہلیت جو کہ شراب و شباب کا زمانہ تھا اُس میں بھی آپ نے کبھی شراب کو منہ سے نہیں لگایا۔ مخلوقِ خدا کی مدد کے لیے ہمیشہ حاضر رہتے۔
حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد چند دن مسندِ خلافت خالی رہی، اس میں مختلف اقوال ہیں: ایک دن، تین دن، پانچ دن۔ طبری کے مطابق حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بیعت بروز جمعہ ٢٤ یا ٢٥؍ذی الحجہ ٣٥؍ہجری میں ہوئی۔
جب حضرتِ سیدنا امیر المومنین عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرتِ سیدنا مولیٰ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہمیں امیر المؤمنین کی ضرورت ہے۔ حضرتِ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اُن حضرات کی مرضی پاتے ہوئے فرمایا کہ مجھے خلافت کی کوئی حاجت نہیں۔ تم لوگ جس کو چاہو امیر منتخب کر لو مَیں اس پر راضی ہوں، تو سبھی نے کہا کہ ہم آپ کے علاوہ کسی کو امیر منتخب نہیں کریں گے، ہم حکومت کے لیے نہ کسی کو آپ سے بہتر سمجھتے ہیں نہ کسی کو جانتے ہیں جو آپ پر فوقیت رکھتا ہو۔ حضرتِ سیدنا علی شیرِ خدا رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ لوگ مجھے مجبور نہ کریں مجھے امیر بننے سے زیادہ وزیر بننا پسند ہے۔ لوگوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم آپ کو تب تک نہیں چھوڑیں گے جب تک آپ کے ہاتھ پر بیعت نہ کر لیں۔ جب حضرتِ سیدنا علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے جان لیا کہ لوگ آپ کو چھوڑیں گے نہیں تو فرمایا کہ ایسا ہے تو میری بیعت پوشیدہ طور پر نہیں ہوگی، بلکہ یہ علانیہ مسجد نبوی میں ہوگی۔ پھر سبھی حضرات مسجدِ نبوی میں پہنچے، اور سب نے آپ کی بیعت کر لی۔ سب سے پہلے حضرتِ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بیعت کی۔ چار سال اور ٩؍مہینہ حضرتِ امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بہترین خلافت فرمائی۔ حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے شہید ہونے کے بعد آپ کے بڑے شہزادے امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا امامِ پاک حسن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کرسئ خلافت پر بیٹھے اور چھ مہینہ زبردست حکومت فرمائی، پھر حضرتِ سیدنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کرسئ خلافت پر بیٹھ کر حکومت فرمائی۔
اللّٰہ رب العٰلمین ہم سب کو حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائے اور آپ کی پیاری پیاری عادتوں پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کے فیضان سے ہمیں مالامال فرمائے۔ ہمیں بھی شرم و حیا عطا فرمائے اور شرم و حیا کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا ربَّ العٰلمین۔ امامِ اہل سنت، سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
jamiaturrazastudents.com
زوجِ دو نورِ عفَّت پہ لاکھوں سلام
یعنی عثمان صاحبِ قمیصِ ہُدیٰ
حُلّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
- 1 ہمارے بارہ کا دندان شکن جواب
- 2 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 3 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 4 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 5 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 6 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 7 اخلاص
- 8 کسی کا انتظار ہے
- 9 انتظار
- 10 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 11 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 12 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 13 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 14 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 15 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 16 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 17 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 18 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 19 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 20 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 21 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 22 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 24 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 25 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 26 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 27 اسلام اور رزقِ حلال
- 28 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 2 تنہائی میں
- 3 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 4 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 5 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 6 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 7 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 8 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 9 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 10 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
کیا اسلام میں بغیر شادی کے عورت سے تعلق رکھنا جائز ہے ؟
کیا اسلام میں بغیر شادی کے عورت سے تعلق جائز ہے؟ #اعتراض : غیر مسلم کا اعتراض یہ ہیکہ اسلام جب مکمل ضابطہ حیات ہے اور سب سے بہترین مذہب ہے تو پھر بغیر شادی...
مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
مختصر سیرتِ حضرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط] اِس ارضِ جہاں پر اللہ رب العٰلمین نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے نیک اور صادق پیغمبروں کو بھیجا۔ انبیائے کرام علیہم...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us