صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
242 Posts
1

بلبل و قمری کے لب پر ہے صدا پروردگار

2

فرازِ عرش سے اونچا ہے جھنڈا انکی عظمت کا

3

منقبت ِ غوث پاک/ طفیلِ مصطفیٰ ہے فیضِ باری غوثِ صمدانی

4

قیامت تک لحد کا گوشہ گوشہ جگمگائے گا

5

جوش پر جب آئی رحمت آپ کی

6

ملے گا مجھکو حصہ جنتِ محبوب داور سے

7

جھوٹ سے پردہ اٹھایا تو برا مان گیے

8

رحمت و نور کے انبار میں آ جاتے ہیں

9

منقبت ِ سیدنا صدیق اکبر/ وَ مِنھُم سَابقٌ صدقہ مرے صدیق اکبر کا

10

منقبت خواجہ غریب نواز/ تو گلِ باغِ حیدری خواجہ

11

سِل گئے ہونٹ زباں اپنی ہلائیں کیسے

12

منقبت مفتی اعظم/ جام و مینا ساغر و خم مَے کشی اچھی نہیں

13

بیٹھا تھا سانپ برسوں سے بس اسی انتظار میں

14

زمانے میں آہ و فغاں دیکھتے ہیں

15

برکاتِ قرآن

16

مخالف ہیں ہمارے سب نہ جانے کیوں یہاں کب سے

17

کس کے لیے بنائیں گے پکوان عید کا

18

ساتھ تا عمر رہیں گے یہ کہا تھا تو نے

19

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

20

درمیاں دوری ہیں جتنی وہ مٹائیں جاناں

21

کیا بتاؤں کہ کیا ضروری ہے

22

حالت ایسی ہوئی ہماری ہے

23

دیدار یار یار کو کرنے نہیں دیا

24

شکایتوں کو بھلاؤ کہ عید آئی ہے

25

کبھی تو ساتھ میں یاروں کے یار! یار چلے

26

ہے یہ ارمان کے دیدار کو آؤں جاناں

27

یہی ہے فرض مجھ پہ میں کروں کوشش منانے کی

28

اس عشق و محبت سے گزر جاؤ گے تم بھی

29

تمہیں ہر دم منانے میں لگا ہوں

30

کس طرح سے بتلاؤں کہ کیا کیا ہے مرا دوست

31

ہمیں بھی راہوں میں تنہا ملا کرے کوئی

32

تام الفت کا مرا یہ سلسلہ ہو جائے گا

33

شمول کس کا ہے اب آپ کی دعاؤں میں ؟

34

یقین مانو اے یارو ! میں بے شراب رہا

35

وہ شخص میری آنکھوں کا تارا نہ ہو سکا

36

تم ایک بات سنو اس کو بے وفا نہ کہو

37

ہاتھ دینا نہ کسی کو بھی تھما میرے بعد

38

تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد اعظم رضا خان مرکزی بلگرامی

39

تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد مستوین رضا مرکزی

40

آئے ہیں آج وہ شاہ کون و مکاں مرحبا مرحبا

41

سر پہ دستار فضیلت سج گئی ساجد رضا

42

مچی ہے دھوم آیا جشن کیا تحقیق و افتا کا

43

صاحب حسن و وجاہت آمنہ کا لعل ہے

44

پھول سا کھلتاترا چہرہ جدھر جاۓگا

45

غریبوں میں آہ وفغاں دیکھتے ہیں

46

ظلم کی تیرگی دنیا سے مٹانے کے لئے

47

مفتی اعظم کے تقوی کی ضیا شیر بہار

48

عرس ہے آج احمد رضا خان کا مرحبا مرحبا

49

رضویت کے ہیں علمبردار تاج الاصفیا

50

تہنیت بموقع دستار فضیلت عزیز القدر مولانا آفرید رضا مرکزی سلمہ الباری

51

کیسے بتاؤں کیا ہے میں رتبہ حضور کا

52

فرش سے عرش بریں تک رحمت وانوار ہے

53

نعمت و رحمتِ یزدان رسول عربی

54

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

55

اے مدینے کے شہریار سلام

56

میرے اللّٰہ کے نگار سلام

57

یا رسول اللّٰہ یا خیر الانام

58

منقبت حضور بحر العلوم – گلشن علم کی بہار ہوئے

59

منقبت حضور امین شریعت -چھوڑ کر آپ سارا جہاں چل دیئے

60

اے نقیب اعلیٰ حضرت مصطفیٰ حیدر حسن

61

حق پسند و حق نوا و حق نما ملتا نہیں

62

دل نے کہا مجاہد ملت کو ڈھونڈیئے

63

مصطفیٰ کی ضیا شمع امجد علی

64

عرس امجد علی میں چلے آ یئے

65

کس کے غم میں ہائے تڑ پاتا ہے دل

66

حامی دین ہدیٰ تھے شاہ جیلانی میاں

67

زینت سجاده و بزم قضا ملتا نہیں

68

چل دئیے تم آنکھ میں اشکوں کا در یا چھوڑ کر

69

مفتی اعظم دین خیر الوریٰ

70

حضرت مسعود غازی اختر برج هدیٰ

71

خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

72

پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد

73

باغ تسلیم و رضا میں گل کھلاتے ہیں حسین

74

شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے

75

اے صبا لے جا مدینے کو پیام

76

قطعہ 3 جبین وہابی یہ دل کی سیاہی

77

قطعہ 2سویا نہیں میں رات بھر عشق حضور میں

78

قطعہ 1 الٰہی ! رحم کن بر حال زارم

79

تمہارے رخ کے جلووں سے منور ہوگیا عالم

80

سوز نہاں اشک رواں آہ و فغاں دیتے ہیں

81

نہیں جاتی کسی صورت پریشانی نہیں جاتی

82

تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے

83

پی کے جو مست ہو گیا بادۂ عشق مصطفیٰ

84

وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت

85

غیر اپنے ہوگئے جو ہمارے بدل گئے

86

ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجا دہل جائے گا

87

میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے

88

نت نئ ایک الجھن ہے

89

تخت زریں ہے نہ تاج شاہی ہے

90

در احمد پہ اب میری جبیں ہے

91

گر ہمیں ذوق طلب سا رہنما ملتا نہیں

92

عرش پر ہیں ان کی ہر سو جلوہ گستر ایڑیاں

93

اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال

94

نظر پہ کسی کی نظر ہو رہی ہے

95

شمیم زلف نبی لا صبا مدینے سے

96

فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تربت ہے

97

ہمارے باغ ارماں میں بہار بے خزاں آئے

98

اپنے رندوں کی ضیافت کیجئے

99

مرکے جینے کا پاؤں مزہ خیر سے

100

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے

101

تیرے دامنے کرم میں جسے نیند آ گئی ہے

102

شہنشاہ دو عالم کا کرم ہے

103

رہنمائی کے لئے ذوق طلب درکار ہے

104

مست مے الست ہے وہ بادشاہ وقت ہے

105

نہاں جس دل میں سرکار دو عالم کی محبت ہے

106

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

107

میر ی خلوت میں مزے انجمن آرائی کے

108

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے

109

دور اے دل رہیں مدینے سے

110

صدر بزم کثرت یا رسول اللّٰہ

111

وہ چھائی گھٹا بادہ بار مدینہ

112

در جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو

113

اپنے دَر پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو

114

لب جاں بخش کا اے جاں مجھے صدقہ دے دو

115

چاند سے ان کے چہرے پہ گیسوئے مشک فام دو

116

تمہارے در پہ جو میں باریاب ہو جاؤں

117

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

118

بو الہوس سن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں

119

تیری چوکھٹ پہ جو سر اپنا جھکا جاتے ہیں

120

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں

121

تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدۂ تر میں

122

آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات

123

جھکے نہ بار صد احساں سے کیوں بناۓ فلک

124

جب کبھی ہم نے غم جاناں کو بھلایا ہوگا

125

وہ بڑھتا سایہ رحمت چلا زلف معنبر کا

126

لب کوثر ہے میلا تشنہ کامان محبت کا

127

تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں

128

داغ فرقت طیبہ قلبِ مضمحل جاتا

129

وجہ نشاطِ زندگی راحتِ جاں تم ہی تو ہو

130

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں

131

نعت ِ رسول ﷺ

132

ابر کرم گیسوۓ محمّد*ﷺ*

133

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لئے

134

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

135

واقعاتِ رضویہ

136

کوئی مشکل مجھے سرکار اگر ہوتی ہے

137

منقبت در شان مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ – مہک رہا ہے گلستانِ مفتی اعظم

138

خدا کے فضل کا دھارا مرے غریب نواز

139

ہوائے ستم ہے چلی غوث اعظم

140

رب کے محبوب کے دلدار ہیں غوث اعظم

141

کوئی جا کے اب بھی پوچھ لے کہتی ہے زمینِ کربلا

142

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – میرے خیال و خواب کا کعبہ حسین ہے

143

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – ہے جسے تم سے محبت اے حسین ابن علی

144

منقبت در شان امام حسین ۔راہ خدا میں بر سر پیکار ہیں حسین

145

رہ وفا میں کوئی راہبر نہیں آیا

146

منقبت در شان امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔جہاں سے ظلم مٹانے حسین آۓ ہیں

147

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – کرم کے پھول کھلانے حسین آئے ہیں

148

کرو روشن دیوار و در مرے سرکار آئے ہیں

149

خدا کے نور سے دل جگمگانے والے ہیں

150

کاش قسمت سے شرف میں نے یہ پایا ہوتا

151

جانِ قلب و جگر مدینہ ہے

152

دل ہے روشن مرا مدینے سے

153

جو جام ہمیں ساقی کوثر سے عطا ہو

154

ہوتی ہے سخاوت کی برسات مدینے میں

155

ان سے دعوائے محبت کو یوں زندہ رکھنا

156

ادراک سے ورا ہے سراپا حضور کا

157

حمد باری تعالیٰ ۔ بحکم شیخ الحدیث حضور مفتی صالح صاحب قبلہ – تو ہے خالق برایا تری بے عدد عطایا

158

نہ اس کی ابتدا نہ انتھا ہے

159

قرار چاہیے بیمار زندگی کے لئے

160

لکھو نعت نبی شام و سحر آہستہ آہستہ

161

جلوہ گاہِ مصطفیٰ صل علی کیا خوب ہے

162

سرکار آگئے مرے سرکار آگئے

163

سارا جہاں ہے روشن سرکار آرہے ہیں

164

درود کی محفلیں سجاؤ حضور تشریف لا رہے ہیں

165

غم کے مارو ! مسکراؤ آمد سرکار ہے

166

بہت ہی خوبصورت ہے نبی کا در مدینے میں

167

باغ فردوس کا آؤ چلو نقشہ دیکھیں

168

منقبتِ حضور شیرِ بہار

169

آپ پر ہے رب کی رحمت

170

دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا

171

تنہائی میں

172

بہارِ گلشنِ ایمان مفتئ اسلم

173

کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے

174

دل لگانا بری بلا ہے

175

سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو

176

دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا

177

جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا

178

سستے ہوئے ہیں دہر میں سودے زبان کے

179

چھوڑ کر راہِ خدا حشر میں رسوا ہوگا

180

ہمارے بچے ادب سے کلام کرنے لگے

181

ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے

182

جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں

183

حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا

184

کوئی بات نہیں

185

عین شین قاف نہ کر

186

کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے

187

دردِ دل سے مجھے شفا دے دے

188

رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے

189

تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا

190

حال یہ میری مفلسی کا ہوا

191

خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل

192

تبسم ریز مثل گل لبوں سے

193

آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں

194

عشق ہے زہرِ ہلال

195

مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں

196

خوب آتا ہے تمہیں درد کا درماں کرنا

197

تری شوکت تری رفعت مرے مخدوم سمنانی

198

امن و راحت کی غزل گاتے ہیں گھر

199

منور عشق شہ سے قوم کے افکار کرتے ہیں

200

ہم ہیں تیار ستم گر کو ستانے کے لئے

201

ہو گیا جو دل سے شیدہ احمد مختار کا

202

سوائے آپ کے ہے کون میرا یا رسول اللہ

203

مدح رسول پاک میں لکھوں تو کیا لکھوں

204

دکھا دے يا خدا روضہ مجھے محبوبِ داور کا

205

رحمت کی گھٹاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں

206

فکر و خیالِ جلوۂ گلفام آگیا

207

چلے بادِ صبا طیبہ سے میرے آشیانے کو

208

صفحۂ دل پہ نقش ہے نام ابو الحسین کا

209

مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں

210

المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ

211

سبطِ رسول ابن علی مرتضٰی حسن

212

یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر

213

ایسا کوئی بھی بندۂ رب العُلیٰ نہیں

214

عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں

215

میرے مرشد کا عرس آ گیا

216

گلشن کے عنادل یہی سب نغمہ سرا ہیں

217

نازشِ اہلِ سنن اختر رضا

218

خالقِ کل کی عطا قرآن ہے

219

افقِ فضل کے خاور وہ ہمارے اختر

220

حسین سبطِ پیمبر حسین ابنِ علی

221

عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا

222

حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا

223

رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری

224

خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری

225

ہیں عطائے‌خدا شاہ اختر رضا

226

آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ

227

لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت

228

تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء

229

ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک

230

رسول  پاک  کو  رب  نے  کیا  مختار  سو فیصد

231

راہ میں چھوڑ کے تو مُجھ کو اگر جائے گا

232

سیم و زر  لعل  و گہر سے  دل  لگی  اچھی نہیں

233

اہل  سنن  کے  دل کی  صدا  مصطفےٰ رضا

234

کروں شان   تیری  بیاں   اعلیٰ  حضرت

235

اُس دل پہ کفر و شرک کا پھر کیسے آئے داغ

236

کعبہ کے بدرالدجیٰ تم پر کروڑوں سلام

237

حضور ﷺ دیکھیں نا

238

گُل عِذاروں کی نہ لالہ زار کی

239

العقد الفريد في حمد الرب المجيد

240

نعتِ نبیِ کونین ﷺ

241

آسان میری مشکل فرما شہ مدینہ

242

ان ﷺ کے کرم کی بارش

تلاش جاری ہے...