صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
621 Posts
1

حضور ﷺ میری پکار سن لیں

2

بَيْنَ الْوَفَاءِ وَالْجَفَاءِ

3

أُنْشُودَةُ التَّبْرِيكِ وَأَدْعِيَةُ التَّوْفِيقِ

4

مَنْقَبَةٌ فِي شَانِ سَيِّدِنَا الإمامِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

5

مدحُ خیرِ البریة ﷺ

6

دُرُّ السَّحَاب فِي مَدْحِ حَفِيدِ الْإِمَامِ الْمُسْتَطَاب

7

استغاثة بِنورِ الهُدَى ﷺ

8

شُكْرُ الْوَهَّاب عَلٰی مَوْلِدِ قُرَّةِ الْعَيْنِ مُحَمَّد أَرْقَم رِضَا حُبَاب

9

منقبة في مدح الشيخ المفتي محمد عاشق الرحمن الحبيبي خمار القادري نور الله مرقده

10

منقبت في مدح سيدة نساء العالمين فاطمة الزهراء رضي الله تعالى عنها

11

مَرْحَبًا يَا شَهْرَ جُودٍ وَ سَلَامْ

12

مدح خاتم النبیین ﷺ

13

نعتُ النبيِّ المصطفى ﷺ

14

نورٌ تجلّى في سما شعبانٖ

15

منقبة في مدح سيدنا معاوىة بن أبي سفيان رضي الله تعالى عنهما و ارضاهما عنا

16

قصیدۃ النجمی فی المدیح النبوی

17

منقبة في مدح إمام الأعظم سيدنا أبي حنيفة النعمان بن ثابت رضي الله عنه و ارضاه عنا

18

سَلِ القَطَرَاتِ

19

نعت خاتم النبیین ﷺ

20

زمانہ کیا سمجھ پائے مقام اختر رضا خاں کا

21

کتنی فزوں ہے عظمت سلطان اولیاء

22

درد کی کوئی انتہا ہی نہیں

23

“نبی کے شہر مقدس میں وہ قضا”چاہے

24

محفل شاہ امم جس کے بھی گھر ہوتی ہے

25

عطائے مصطفیٰ ،شاہ ہدیٰ ہیں غوث جیلانی

26

والضحی والشمس ہیں جس کے رخ تاباں کی مدح

27

سرکار ﷺ کی گر ہم پہ عنایت نہیں ہوتی

28

بھتیجے کی ولادت کے موقع پر

29

ہماری نگاہوں میں سارا زماں ہے

30

منقبت حضور سید اویس مصطفی واسطی بلگرامی مدظلہ العالی والنورانی

31

مجھ کو دیدار جب یار کا ہو گیا

32

منقبت در شانِ قلم رضا- سمندر میں چرچا، رضا کے قلم کا

33

میرے بکھرے ہوئے دل کو بھی سجایا ہر بار

34

ہم سے جسے بھی چاہت و الفت نہیں رہی

35

ذکرِ سرکار مری زیست کا عنوان ہوا

36

میں نے جب ڈھونڈا تو پاس اپنے ہی پایا ہر بار

37

گر کسی شخص سے الفت نہیں ہوتی مجھ کو

38

ہرا بھرا ہے گلستان مفتیِ اسلم

39

کہیں فرعون بیٹھا ہو کہیں شداد بیٹھا ہو

40

فرعون کو بھگایا تو نمرود آ گیا

41

مدتوں بعد مقدر میں وہ لمحہ آیا

42

دستار افتا تیری ہے شوکت ابو الکلام

43

دستار فضیلت کی عجب شان ہے حیدر

44

تجھ پر ہے اکابر کی عنایت اے رفاقت

45

گمرہی میں جا رہے ہیں بھولے سنی ہائے ہائے

46

چمک جائے فن تیرا عبد المصوّر

47

ذرے ذرے پہ شہِ دیں کی نظر ہوتی ہے

48

ہاں اُسی کو خسروی ہے دستیاب

49

شَرِّی ہیں نابکار ہیں علمائے دیوبند

50

بخت ہے اوجِ فلک پر مرے یارا تیرا

51

اندھیرا چھٹ گیا ہر سمت سے ظلم و جہالت کا

52

عزت ، وقار ، جاہ و حشم ، مرتبہ دیا

53

جو ذرے مس ہوئے شاہِ اُمم کے پاؤں سے

54

دلوں کوخوب بھائ ہے مرے شمشیر کی دستار

55

دیکھتے ہی جچتا ہے سہرا ضیاالدین کا

56

تمہارے واسطے لائے ہیں ہم سب ہار ظفر الدین

57

نقائص سے منزہ طاہر و اطہر بنایا ہے

58

ہوتا ہے افسوس مجھ کو یہ تماشا دیکھ کر

59

عزت ، وقار ، شہرت و سطوت کا فائدہ

60

عشق بازی کا تماشہ اور ہے

61

لالہ ، عبیر ، مشک نہ یہ نیلوفر کی ہے

62

او برائے بہشت وا باشد

63

ہے حقیقت میں وہ بشر بہتر

64

حقیقت میں وہ اعلیٰ ہو گیا ہے

65

جب بکا میں ان کے ہاتھوں بیدام خود

66

قسم ہے آپ کو اپنی ہی عز و عظمت کی

67

ہے زمیں مجاہد کی آسماں مجاہد کا

68

ان کو چاند سا کہنا ہے فقط یہ نادانی

69

مقام دونوں جہاں میں اسی کا عالی ہے

70

علم و عرفان کی ہیں کان امام العلماء

71

مت پریشاں ہو اے دل طیبہ میں چل ، کرلینا

72

لب و رخسار،ابرو، زلف و مژگاں، چشم، پیشانی

73

جو تمہاری یاد سے غافل ہوا

74

آشیاں وہی اپنا خلد میں بناتے ہیں

75

کمال ، پاۓ شہِ بحر و بر کے دیکھتے ہیں

76

اگر دل میں نبی کا عشق پوشیدہ نہیں ہوتا

77

بس ! اسی سے سمجھ لو مقام حسین

78

کہا نہیں ہے اگر چہ انہیں خدا میں نے

79

نام ان کا لیا ابھی کے ابھی

80

وہ خود کو نار جہنم سے ہے بچائے حضور

81

فدائی سب اختر کے اس طرح چمکے

82

سوزِ دروں کا درد ہے درماں مرے لیے

83

نہ چندا کی ، نہ سورج کی، نہ تاروں کی ضرورت ہے

84

مستی میں جھومتے ہوئے بیمار آئے ہیں

85

ہاں وہی مدہوش رہتا ہے گدا شام و سحر

86

💖جب سے ہیں دل میں مصطفےٰ محفوظ💖

87

کیا بولوں ؟ ہیں کیسے مرے سرکار کے عاض

88

بصد خلوص ہوں محوِ ثنا کئی دن سے

89

اس جیسا جہاں میں کبھی دیکھا نہ گیا پھول

90

*بیٹھنا ، سوچنا، بولنا ، نعت ہے*

91

امید ہے یہی مجھے عالم پناہ سے

92

حال دل غیب داں آ قا کو سنانا کیا ہے

93

زبرجد نہ یاقوت و دولت کی بارش

94

لب و رخسار کعبانِ محمدﷺ

95

ہاشمی ، امّی ، بشر ہے سب سے خاص

96

آپ کی آغوش میں خوشیوں کے ہوں گنگ وجمن

97

“تُجھ “سا نہ کوئی آیا پیکر” إِنَّاۤ أَعۡطَیۡنَـٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ”

98

یادِ نبی میں صبح تری اور شام ہو

99

واقف رمز جنوں ، حق کا شناسا ہو جائے

100

صبر و رضا کے پیکر میدان کربلا میں

101

آپ گر کرم کر دیں میرے حال پر خواجہ

102

تکمیل میری چاہت ہوگی ضرور ہوگی

103

ماحئ کفر و ضلالت نور والا آگیا

104

مژدہ خوشی کا سناتے یہ ہیں

105

رات رانی ترے جوبن پہ فدا دیکھی ہے

106

جام و مینا بھی نہ دے اور نہ دے خُم جاناں

107

نہ مال و زر نہ کوئی شئ ہے عاقبت میری

108

مال و زر پر اور نہ لالہ زار پر

109

تیری جلالتوں کا جلوہ کہاں کہاں ہے

110

مہ و انجم عقیدت کے دیے ہر سو جلاتے ہیں

111

سب آمدِ سرکارِ مدینہ کی عطا ہے

112

یا دو میں اس کی ہر گھڑی کھویا نہیں رہا

113

یہ اِکرام ہے مصطفیٰ پر خدا کا

114

ہم نے تقصیر کی عادت کرلی

115

ہوں جو یادِ رُخِ پرنور میں مرغانِ قفس

116

ہو اگر مدحِ کف پا سے منور کاغذ

117

ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا

118

واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا

119

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

120

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیال رحمت تھپک رہا ہے

121

نہ مایوس ہو میرے دُکھ دَرد والے

122

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

123

نہ کیوں آرائشیں کرتا خدا دنیا کے ساماں میں

124

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

125

شکرِ خالق کس طرح سے ہو ادا

126

ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دَربار

127

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے

128

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے

129

سن لو میری اِلتجا اچھے میاں

130

مَدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع

131

مرحبا عزت و کمالِ حضور

132

اے حبِ وطن ساتھ نہ یوں سوئے نجف جا

133

اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا

134

نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا

135

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا

136

مُعْطِیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہوگیا

137

مجرمِ ہیبت زَدہ جب فردِ عصیاں لے چلا

138

خواجۂ ہند وہ دَربار ہے اَعلیٰ تیرا

139

ہوگیا ختم یہ رسالہ آج

140

کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی

141

کیا خدا داد آپ کی اِمداد ہے

142

کیا کریں محفلِ دِلدار کو کیونکر دیکھیں

143

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں

144

کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف

145

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج

146

کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا

147

نعتِ حسن آمدہ نعتِ حسن

148

شیخِ زمانہ حضرتِ سید ابوالحسین

149

قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا

150

فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اَعلٰی تیرا

151

اَلسَّلَام اے خسروِ دنیا و دِیں

152

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

153

عجب کرم شہِ والا تبار کرتے ہیں

154

عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

155

طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شانِ جمال

156

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

157

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض

158

سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر

159

سحابِ رحمت باری ہے بارہویں تاریخ

160

سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب

161

سر صبح سعادت نے گریباں سے نکالا

162

جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو

163

رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف

164

رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند

165

ذاتِ والا پہ بار بار دُرود

166

یہ چند وَرق نعت کے لایا ہے غلام آج

167

اچھے کے پیارے میرے سہارے

168

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئے

169

شاید اب ان کو ہم سے محبت نہیں رہی

170

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

171

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو

172

دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح

173

دردِ دِل کر مجھے عطا یارب

174

دشمن ہے گلے کا ہار آقا

175

دل مرا دنیا پہ شیدا ہوگیا

176

خوشبوئے دشت ِطیبہ سے بس جائے گر دِماغ

177

خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وَقعت محفوظ

178

خدا کی خلق میں سب انبیا خاص

179

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے

180

چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط

181

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کے

182

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی

183

جاتے ہیں سوئے مَدینہ گھر سے ہم

184

جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تک

185

وہ مجھ سے بچھڑ کر چلا بھی گیا

186

جنابِ مصطفیٰ ہوں جس سے نا خوش

187

جتنا مِرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز

188

جو نور بار ہوا آفتابِ ُحسنِ َملیح

189

جاں بلب ہوں آ مری جاں اَلْغِیَاث

190

جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب

191

جن و اِنسان و مَلک کو ہے بھروسا تیرا

192

ہے یہ دیوان اُس کی مدحت میں

193

جُبِّ آلِ رسول بحرِ عرفاں

194

حسنؔ اپنے محسن کی ہو کچھ ثنا

195

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے

196

تم ہو حسرت نکالنے والے

197

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

198

تیرے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم

199

ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق

200

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا

201

تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سروَر کا

202

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے

203

پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یاغوث

204

پرنور ہے زمانہ صبحِ شبِ وِلادت

205

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

206

باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے

207

بزمِ محشر منعقد کر میرِ سامانِ جمال

208

باغ جنت کے ہیں بہرِ مَدح خوانِ اَہلِ بیت

209

اے کریم ابنِ کریم اے رہنما اے مقتدا

210

اللہ اللہ شہِ کونین جلالت تیری

211

اے راحت جاں جو تِرے قدموں سے لگا ہو

212

اَسیروں کے مشکل کشا غوثِ اعظم

213

اللہ برائے غوثِ اعظم

214

اے مَدینے کے تاجدار سلام

215

اے دین حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم

216

اگر چمکا مقدر خاک پائے رہرواں ہو کر

217

اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا

218

ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا

219

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہے

220

آسماں گر تیرے تلووں کا نظارہ کرتا

221

شاید ہو آخری مرا دیدار دیکھ لو

222

رحمت رحمان سایہ بن کے چھائی دیکھ لو

223

میرے حالات سے جب تو بھی گزر جائے گا

224

خیر یہ بات ہے ابھی کل کی

225

آؤ پھر سے شروع کرتے ہیں

226

بات یہ وہ بھی جانتے ہوں گے

227

ان کی ناموس پہ قربان دل و جاں کرنا

228

ہے یہی آقا کا فرمان اے بنت حوا

229

یا اِلٰہی ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ را

230

یَا اِبْنَ ہٰذَا الْمُرْتَجٰی یَا عَبْدَ رَزَّاقِ الْوَریٰ

231

یَلَّلے خوش آمدَم در کُوئے بغداد آمدَم

232

یا شہیدِ کربلا یا دافعِ کرب و بلا

233

یا خدا بہرِ جنابِ مصطفٰی امداد کُن

234

یاالہٰی رحم فرما مصطفٰی کے واسطے

235

یاالہٰی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

236

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو

237

یادِ وطن سِتم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

238

ہم خاک ہیں اور خاک ہی مَاوا ہے ہمارا

239

ہے لبِ عیسٰی سے جاں بخشی نِرالی ہاتھ میں

240

ہے کلامِ الہٰی میں شَمس و ضُحٰے ترے چہرۂ نور فزا کی قسم

241

واہ کیاجُود و کرم ہے شَہِ بَطْحا تیرا

242

وہی ربّ ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا

243

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

244

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

245

وصفِ رُخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس وضُحٰے کرتے ہیں

246

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نَقْص جہاں نہیں

247

وہ سُوئے لالہ زار پِھرتے ہیں

248

آج یومِ ولادت ہے سرکار کا مرحبا مرحبا

249

چمکاہےماہِ انور سرکار آگئے ہیں

250

ماضی میں جو مرا تھا وہ میرا نہیں رہا

251

اس شخص کی یادوں مِیں مَیں الجھا نہیں رہا

252

حَمْدًا لَکَ یَا مُفَضِّلِ عَبْدُالْقَادِر یَا ذَاالْاَفْضَال

253

نظر اِک چمن سے دو چار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے

254

نہ عرشِ ایمن نہ اِنِّیْ ذَاھِبٌ میں میہمانی ہے

255

نبی سرورِ ہر رسول و ولی ہے

256

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہار عارِض

257

نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا

258

نہ آسمان کو یوں سرکَشیدہ ہونا تھا

259

مژدہ باد اے عاصیو! شافِع شہِ اَبرار ہے

260

گریۂ کُن بُلبلا از رنج و غم

261

ماہ سیما ہے اَحْمدِ نوری

262

مُرتَضیٰ شیرِ خدا مَرحَب کُشا خَیبر کَشا

263

مژدۂ رحمت حق ہم کو سنانے والے

264

ملکِ خاصِ کِبریا ہو

265

مصطفٰی خیرُالْوَرٰے ہو

266

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دِل سے

267

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا

268

لَحد میں عشقِ رخِ شہ کاداغ لے کے چلے

269

“لَم یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ”مثلِ تو نہ شُد پیدا جانا

270

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا

271

گنہ گاروں کو ہاتِف سے نوید خوش مآلی ہے

272

گزرے جس راہ سے وہ سیِّدِ والا ہو کر

273

کعبہ کے بَدرالدُّجی تم پہ کروروں درود

274

کِس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے

275

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

276

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ

277

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل

278

قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی

279

غم ہو گئے بے شمار آقا

280

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

281

عرشِ حق ہے مسندِ رِفعت رسول اللہ کی

282

عِشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

283

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

284

طوبے میں جو سب سے اُونچی نازُک سیدھی نکلی شاخ

285

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث

286

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

287

شکر خدا کہ آج گھڑی اُس سفر کی ہے

288

شاہِ بَرَکات اے ابُو البرکات اے سلطانِ جُود

289

شورِ مہِ نو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

290

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

291

سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖ

292

سچی بات سکھاتے یہ ہیں

293

سیّد کونین سلطانِ جہاں

294

سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے

295

سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے

296

سرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے

297

سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمَارا نبی

298

سر تا بقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول

299

زمین و زماں تمہارے لئے مَکِین و مکاں تمہارے لئے

300

زِ عکست ماہِ تاباں آفرِیدَند

301

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو

302

زائرو پاسِ اَدب رکھو ہَوَس جانے دو

303

زہے عزّت و اِعتلائے مُحَمَّد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہ سَلَّم

304

آتے رہے اَنبیا” کَمَا قِیْلَ لَھُمْ”

305

پیشہ ِمرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کو

306

راہ پُرخار ہے کیا ہونا ہے

307

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

308

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

309

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

310

رشکِ قمر ہُوں رنگ رُخِ آفتاب ہُوں

311

ذرّے جھڑ کر تری پیزاروں کے

312

دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

313

دل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے

314

خوشا دِلے کہ دِہندَش ولائے آلِ رسول

315

خراب حال کیا دِل کو پُرمَلال کیا

316

حرزِ جاں ذِکرِ شفاعت کیجیے

317

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا رَوضہ دیکھو

318

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

319

چمنِ طیبہ میں سُنبل جو سنوارے گیسو

320

جو تیرا طِفْل ہے کامل ہے یا غوث

321

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائی دوست

322

تِرا ذرّہ مَہِ کامل ہے یا غوث

323

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

324

تمہارے ذَرِّے کے پر تو ستارہائے فلک

325

تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب

326

پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زَار ہم

327

پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب

328

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سُناتے جائیں گے

329

پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو

330

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھو کریں سب کی کھائے کیوں

331

پُوچھتے کیا ہو عَرش پر یوں گئے مصطفٰے کہ یوں

332

برتر قیاس سے ہے مقامِ ابُوالحسین

333

بَکارِ خَویْش حَیرانَم” اَغِثْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہ”

334

بَندہ اَم وَالْاَمْرُ اَمْرُکْ آنچہ دانی کُن بمن

335

باقیِ اَسیاد یا سَجّاد یا شاہِ جواد

336

بَدل یا فَرد جو کامل ہے یا غوث

337

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر

338

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر

339

بھینی سُہانی صبح میں ٹھنڈک جِگر کی ہے

340

بندہ ملنے کو قریب حضرتِ قادر گیا

341

اَیْکِہ صَد جاں بَستہ در ہر گوشۂ داماں توئی

342

اے بَدَورِ خود امامِ اہلِ اِیقاں آمدَہ

343

اے اِمامُ الہدیٰ محب رسول

344

میں تو ترا تھا پر تو مرا کیوں ہوا نہیں ؟

345

اَلسَّلام اے اَحمدَت صِہْر و بَرادر آمدَہ

346

“اَلَا یٰایُّھَا السَّاقِیْ اَدِرْ کَاْسًاوَّ نَاوِلْھَا”

347

اُمَّتان و سیاہ کاریْہا

348

اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے

349

ایمان ہے قالِ مُصطَفائی

350

اے شافعِ تردامناں وَے چارۂ دردِ نِہاں

351

اے شافعِ اُمَم شہِ ذِی جاہ لے خبر

352

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تِیکھا تیرا

353

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

354

اُٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حجاب میں ہے

355

اللہ اللہ کے نبی سے

356

اُن کی مہک نے دِل کے غُنچے کِھلا دئیے ہیں

357

اہلِ صِراط رُوحِ امیں کو خبر کریں

358

آہ یا غَوثاہ یا غَیثاہ یا امداد کن

359

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

360

میں نے چاہا جسے دل و جاں سے

361

عرس رضا مبارک ہو! – محفوظ مرا دین اور ایمان رہا ہے

362

اس کو محبوب میں تو تھا ہی نہیں

363

یہ عرسِ رضا عرسِ رضا عرسِ رضا ہے

364

سیدی احمد رضا

365

آپ کو پانے کی ہے اِس دل میں حسرت آج بھی

366

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

367

میرے غمگین دل کی فرحت ہو

368

کیا بتاؤں کہ کیا ہوا جاناں

369

مت ہو ناراض کہ ہے دور منانے والا

370

میں جو کہتا ہوں وہ سنا کیجے

371

جو ان کے بارے میں سوچا وہ اب کس حال میں ہوں گے

372

میری نظروں میں فقط رہتا ہے چہرہ ان کا

373

زمانے بھر میں ہے چرچا مرے مخدومِ ملت کا

374

درد دل سینے سے ہم اپنے لگائے ہوئے ہیں

375

غیر تو غیر ہیں جو خوار سمجھتے ہیں مجھے

376

بہت مشکل میں ہے بندہ تمہارا یا رسول اللہ

377

بہت ہی خوف تھا وحشت تھی تب کہاں تھے تم

378

تلاش کر لو ملے گا کلامِ خان میں کیا ؟

379

ہے ٹوٹا مجھ پہ جبالِ الم غریب نواز

380

حاضرِ در ہے تجھے دل میں بسانے والا

381

بلبل و قمری کے لب پر ہے صدا پروردگار

382

فرازِ عرش سے اونچا ہے جھنڈا انکی عظمت کا

383

منقبت ِ غوث پاک/ طفیلِ مصطفیٰ ہے فیضِ باری غوثِ صمدانی

384

قیامت تک لحد کا گوشہ گوشہ جگمگائے گا

385

جوش پر جب آئی رحمت آپ کی

386

ملے گا مجھکو حصہ جنتِ محبوب داور سے

387

جھوٹ سے پردہ اٹھایا تو برا مان گیے

388

رحمت و نور کے انبار میں آ جاتے ہیں

389

منقبت ِ سیدنا صدیق اکبر/ وَ مِنھُم سَابقٌ صدقہ مرے صدیق اکبر کا

390

منقبت خواجہ غریب نواز/ تو گلِ باغِ حیدری خواجہ

391

سِل گئے ہونٹ زباں اپنی ہلائیں کیسے

392

منقبت مفتی اعظم/ جام و مینا ساغر و خم مَے کشی اچھی نہیں

393

بیٹھا تھا سانپ برسوں سے بس اسی انتظار میں

394

زمانے میں آہ و فغاں دیکھتے ہیں

395

برکاتِ قرآن

396

مخالف ہیں ہمارے سب نہ جانے کیوں یہاں کب سے

397

کس کے لیے بنائیں گے پکوان عید کا

398

ساتھ تا عمر رہیں گے یہ کہا تھا تو نے

399

آپ سے عشق ہو گیا مجھ کو

400

درمیاں دوری ہیں جتنی وہ مٹائیں جاناں

401

کیا بتاؤں کہ کیا ضروری ہے

402

حالت ایسی ہوئی ہماری ہے

403

دیدار یار یار کو کرنے نہیں دیا

404

شکایتوں کو بھلاؤ کہ عید آئی ہے

405

کبھی تو ساتھ میں یاروں کے یار! یار چلے

406

ہے یہ ارمان کے دیدار کو آؤں جاناں

407

یہی ہے فرض مجھ پہ میں کروں کوشش منانے کی

408

اس عشق و محبت سے گزر جاؤ گے تم بھی

409

تمہیں ہر دم منانے میں لگا ہوں

410

کس طرح سے بتلاؤں کہ کیا کیا ہے مرا دوست

411

ہمیں بھی راہوں میں تنہا ملا کرے کوئی

412

تام الفت کا مرا یہ سلسلہ ہو جائے گا

413

شمول کس کا ہے اب آپ کی دعاؤں میں ؟

414

یقین مانو اے یارو ! میں بے شراب رہا

415

وہ شخص میری آنکھوں کا تارا نہ ہو سکا

416

تم ایک بات سنو اس کو بے وفا نہ کہو

417

ہاتھ دینا نہ کسی کو بھی تھما میرے بعد

418

تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد اعظم رضا خان مرکزی بلگرامی

419

تہنیت نامہ جشن دستار فضیلت مولانا محمد مستوین رضا مرکزی

420

آئے ہیں آج وہ شاہ کون و مکاں مرحبا مرحبا

421

سر پہ دستار فضیلت سج گئی ساجد رضا

422

مچی ہے دھوم آیا جشن کیا تحقیق و افتا کا

423

صاحب حسن و وجاہت آمنہ کا لعل ہے

424

پھول سا کھلتاترا چہرہ جدھر جاۓگا

425

غریبوں میں آہ وفغاں دیکھتے ہیں

426

ظلم کی تیرگی دنیا سے مٹانے کے لئے

427

مفتی اعظم کے تقوی کی ضیا شیر بہار

428

عرس ہے آج احمد رضا خان کا مرحبا مرحبا

429

رضویت کے ہیں علمبردار تاج الاصفیا

430

تہنیت بموقع دستار فضیلت عزیز القدر مولانا آفرید رضا مرکزی سلمہ الباری

431

کیسے بتاؤں کیا ہے میں رتبہ حضور کا

432

فرش سے عرش بریں تک رحمت وانوار ہے

433

نعمت و رحمتِ یزدان رسول عربی

434

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

435

اے مدینے کے شہریار سلام

436

میرے اللّٰہ کے نگار سلام

437

یا رسول اللّٰہ یا خیر الانام

438

منقبت حضور بحر العلوم – گلشن علم کی بہار ہوئے

439

منقبت حضور امین شریعت -چھوڑ کر آپ سارا جہاں چل دیئے

440

اے نقیب اعلیٰ حضرت مصطفیٰ حیدر حسن

441

حق پسند و حق نوا و حق نما ملتا نہیں

442

دل نے کہا مجاہد ملت کو ڈھونڈیئے

443

مصطفیٰ کی ضیا شمع امجد علی

444

عرس امجد علی میں چلے آ یئے

445

کس کے غم میں ہائے تڑ پاتا ہے دل

446

حامی دین ہدیٰ تھے شاہ جیلانی میاں

447

زینت سجاده و بزم قضا ملتا نہیں

448

چل دئیے تم آنکھ میں اشکوں کا در یا چھوڑ کر

449

مفتی اعظم دین خیر الوریٰ

450

حضرت مسعود غازی اختر برج هدیٰ

451

خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

452

پیروں کے آپ پیر ہیں یا غوث المدد

453

باغ تسلیم و رضا میں گل کھلاتے ہیں حسین

454

شجاعت ناز کرتی ہے جلالت ناز کرتی ہے

455

اے صبا لے جا مدینے کو پیام

456

قطعہ 3 جبین وہابی یہ دل کی سیاہی

457

قطعہ 2سویا نہیں میں رات بھر عشق حضور میں

458

قطعہ 1 الٰہی ! رحم کن بر حال زارم

459

تمہارے رخ کے جلووں سے منور ہوگیا عالم

460

سوز نہاں اشک رواں آہ و فغاں دیتے ہیں

461

نہیں جاتی کسی صورت پریشانی نہیں جاتی

462

تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے

463

پی کے جو مست ہو گیا بادۂ عشق مصطفیٰ

464

وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت

465

غیر اپنے ہوگئے جو ہمارے بدل گئے

466

ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجا دہل جائے گا

467

میری میت پہ یہ احباب کا ماتم کیا ہے

468

نت نئ ایک الجھن ہے

469

تخت زریں ہے نہ تاج شاہی ہے

470

در احمد پہ اب میری جبیں ہے

471

گر ہمیں ذوق طلب سا رہنما ملتا نہیں

472

عرش پر ہیں ان کی ہر سو جلوہ گستر ایڑیاں

473

اس طرف بھی اک نظر مہر درخشانِ جمال

474

نظر پہ کسی کی نظر ہو رہی ہے

475

شمیم زلف نبی لا صبا مدینے سے

476

فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تربت ہے

477

ہمارے باغ ارماں میں بہار بے خزاں آئے

478

اپنے رندوں کی ضیافت کیجئے

479

مرکے جینے کا پاؤں مزہ خیر سے

480

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے

481

تیرے دامنے کرم میں جسے نیند آ گئی ہے

482

شہنشاہ دو عالم کا کرم ہے

483

رہنمائی کے لئے ذوق طلب درکار ہے

484

مست مے الست ہے وہ بادشاہ وقت ہے

485

نہاں جس دل میں سرکار دو عالم کی محبت ہے

486

سنبھل جا اے دل مضطر مدینہ آنے والا ہے

487

میر ی خلوت میں مزے انجمن آرائی کے

488

صبا یہ کیسی چلی آج دشت بطحا سے

489

دور اے دل رہیں مدینے سے

490

صدر بزم کثرت یا رسول اللّٰہ

491

وہ چھائی گھٹا بادہ بار مدینہ

492

در جاناں پہ فدائی کو اجل آئی ہو

493

اپنے دَر پہ جو بلاؤ تو بہت اچھا ہو

494

لب جاں بخش کا اے جاں مجھے صدقہ دے دو

495

چاند سے ان کے چہرے پہ گیسوئے مشک فام دو

496

تمہارے در پہ جو میں باریاب ہو جاؤں

497

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

498

بو الہوس سن سیم و زر کی بندگی اچھی نہیں

499

تیری چوکھٹ پہ جو سر اپنا جھکا جاتے ہیں

500

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں

501

تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدۂ تر میں

502

آج کی رات ضیاؤں کی ہے بارات کی رات

503

جھکے نہ بار صد احساں سے کیوں بناۓ فلک

504

جب کبھی ہم نے غم جاناں کو بھلایا ہوگا

505

وہ بڑھتا سایہ رحمت چلا زلف معنبر کا

506

لب کوثر ہے میلا تشنہ کامان محبت کا

507

تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں

508

داغ فرقت طیبہ قلبِ مضمحل جاتا

509

وجہ نشاطِ زندگی راحتِ جاں تم ہی تو ہو

510

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں

511

نعت ِ رسول ﷺ

512

ابر کرم گیسوۓ محمّد*ﷺ*

513

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لئے

514

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں

515

واقعاتِ رضویہ

516

کوئی مشکل مجھے سرکار اگر ہوتی ہے

517

مہک رہا ہے گلستانِ مفتی اعظم

518

خدا کے فضل کا دھارا مرے غریب نواز

519

ہوائے ستم ہے چلی غوث اعظم

520

رب کے محبوب کے دلدار ہیں غوث اعظم

521

کوئی جا کے اب بھی پوچھ لے کہتی ہے زمینِ کربلا

522

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – میرے خیال و خواب کا کعبہ حسین ہے

523

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – ہے جسے تم سے محبت اے حسین ابن علی

524

منقبت در شان امام حسین ۔راہ خدا میں بر سر پیکار ہیں حسین

525

رہ وفا میں کوئی راہبر نہیں آیا

526

منقبت در شان امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔جہاں سے ظلم مٹانے حسین آۓ ہیں

527

منقبت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ – کرم کے پھول کھلانے حسین آئے ہیں

528

کرو روشن دیوار و در مرے سرکار آئے ہیں

529

خدا کے نور سے دل جگمگانے والے ہیں

530

کاش قسمت سے شرف میں نے یہ پایا ہوتا

531

جانِ قلب و جگر مدینہ ہے

532

دل ہے روشن مرا مدینے سے

533

جو جام ہمیں ساقی کوثر سے عطا ہو

534

ہوتی ہے سخاوت کی برسات مدینے میں

535

ان سے دعوائے محبت کو یوں زندہ رکھنا

536

ادراک سے ورا ہے سراپا حضور کا

537

حمد باری تعالیٰ ۔ بحکم شیخ الحدیث حضور مفتی صالح صاحب قبلہ – تو ہے خالق برایا تری بے عدد عطایا

538

نہ اس کی ابتدا نہ انتھا ہے

539

قرار چاہیے بیمار زندگی کے لئے

540

لکھو نعت نبی شام و سحر آہستہ آہستہ

541

جلوہ گاہِ مصطفیٰ صل علی کیا خوب ہے

542

سرکار آگئے مرے سرکار آگئے

543

سارا جہاں ہے روشن سرکار آرہے ہیں

544

درود کی محفلیں سجاؤ حضور تشریف لا رہے ہیں

545

غم کے مارو ! مسکراؤ آمد سرکار ہے

546

بہت ہی خوبصورت ہے نبی کا در مدینے میں

547

باغ فردوس کا آؤ چلو نقشہ دیکھیں

548

منقبتِ حضور شیرِ بہار

549

آپ پر ہے رب کی رحمت

550

دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا

551

تنہائی میں

552

بہارِ گلشنِ ایمان مفتئ اسلم

553

کیا کہوں دل صورتِ ظالم پہ کیوں قربان ہے

554

دل لگانا بری بلا ہے

555

سنو، سنو دلِ نجمیؔ میں جاگزیں تم ہو

556

دورِ وفا جہان سے کب کا گزر گیا

557

جب سے دل کو ملا رابطہ آپ کا

558

سستے ہوئے ہیں دہر میں سودے زبان کے

559

چھوڑ کر راہِ خدا حشر میں رسوا ہوگا

560

ہمارے بچے ادب سے کلام کرنے لگے

561

ہم ان کو دیکھ کے زار و قطار روئیں گے

562

جائیں کس سمت راستہ ہی نہیں

563

حسیں تو تھا ہی مگر تُو ذہین کتنا تھا

564

کوئی بات نہیں

565

عین شین قاف نہ کر

566

کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے

567

دردِ دل سے مجھے شفا دے دے

568

رخِ محبوبِ من مثلِ قمر ہے

569

تری گلی میں نہ آتے جاتے تو اچھا ہوتا

570

حال یہ میری مفلسی کا ہوا

571

خون کے آنسو رلاتا ہے مجھے یہ دردِ دل

572

تبسم ریز مثل گل لبوں سے

573

آ جاؤ محبت کا چلو سوگ منائیں

574

عشق ہے زہرِ ہلال

575

مرے یارو! بڑی دشواریاں ہیں

576

خوب آتا ہے تمہیں درد کا درماں کرنا

577

تری شوکت تری رفعت مرے مخدوم سمنانی

578

امن و راحت کی غزل گاتے ہیں گھر

579

منور عشق شہ سے قوم کے افکار کرتے ہیں

580

ہم ہیں تیار ستم گر کو ستانے کے لئے

581

ہو گیا جو دل سے شیدہ احمد مختار کا

582

سوائے آپ کے ہے کون میرا یا رسول اللہ

583

مدح رسول پاک میں لکھوں تو کیا لکھوں

584

دکھا دے يا خدا روضہ مجھے محبوبِ داور کا

585

رحمت کی گھٹاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں

586

فکر و خیالِ جلوۂ گلفام آگیا

587

چلے بادِ صبا طیبہ سے میرے آشیانے کو

588

صفحۂ دل پہ نقش ہے نام ابو الحسین کا

589

مرے حضور ﷺ کرم بے شمار کرتے ہیں

590

المدد اے سرورِ کون و مکاں ﷺ

591

سبطِ رسول ابن علی مرتضٰی حسن

592

یوں رندِ میکدہ کو ساقی بے قرار نہ کر

593

ایسا کوئی بھی بندۂ رب العُلیٰ نہیں

594

عشق محبوب ﷺ میں سرشار ہوا جاتا ہوں

595

میرے مرشد کا عرس آ گیا

596

گلشن کے عنادل یہی سب نغمہ سرا ہیں

597

نازشِ اہلِ سنن اختر رضا

598

خالقِ کل کی عطا قرآن ہے

599

افقِ فضل کے خاور وہ ہمارے اختر

600

حسین سبطِ پیمبر حسین ابنِ علی

601

عظیم الشان کتنا مرتبہ محبوب داور ﷺ کا

602

حرم و قبلہ و کعبہ یوں ہی طیبہ تیرا

603

رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری

604

خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری

605

ہیں عطائے‌خدا شاہ اختر رضا

606

آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ

607

لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت

608

تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء

609

ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک

610

رسول  پاک  کو  رب  نے  کیا  مختار  سو فیصد

611

راہ میں چھوڑ کے تو مُجھ کو اگر جائے گا

612

سیم و زر  لعل  و گہر سے  دل  لگی  اچھی نہیں

613

اہل  سنن  کے  دل کی  صدا  مصطفےٰ رضا

614

کروں شان   تیری  بیاں   اعلیٰ  حضرت

615

اُس دل پہ کفر و شرک کا پھر کیسے آئے داغ

616

حضور ﷺ دیکھیں نا

617

گُل عِذاروں کی نہ لالہ زار کی

618

العقد الفريد في حمد الرب المجيد

619

نعتِ نبیِ کونین ﷺ

620

آسان میری مشکل فرما شہ مدینہ

621

ان ﷺ کے کرم کی بارش

تلاش جاری ہے...