صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
فرقۂ ضالہ “مولائی” کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں
رد بدمذہباں

فرقۂ ضالہ “مولائی” کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

فرقۂ ضالہ مولائی کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے
اللہ جل و علا وحدہ لاشریک کا بے پناہ احسان ہے کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا اور احسان بالائے احسان یہ کہ مسلک اہل سنت و جماعت کے دامن سے وابستہ فرمایا جس کو عرف عام میں مسلک اعلی حضرت کے نام سے دنیا یاد کرتی ہے،
یہ وہی مسلک ہے جس پر تمام صحابہ کرام ائمۂ عظام تابعین تبع تابعین مجتھدین اغواث اقطاب ابدال مفسرین محدثین محققین متکلمین خطبا اصفیا اولیا نجبا شرفا فقہا قائم و دائم رہے
اور جنھوں نے مسلک اہل سنت و جماعت سے روگردانی کی تو وہ فرقۂ خارجی، رافضی، ناصبی، معتزلی، شیعی، زیدی، سبائی، نجدی، وہابی، دیوبندی، نیچری، قادیانی کی شکل میں رونما ہوئے انھیں میں سے ایک فرقۂ ضالہ مولائی ہے
جنھوں نے افضلیت شیخین کا انکار کیا اور شیخین رضی اللہ عنھما سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل بتایا جو چودہ سو سال کے متفقہ فیصلۂ افضلیت سے کھلا انحراف ہے ،
ایمان ابو طالب ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور جو نہ مانے ان کو ناصبی و خارجی تک کہہ ڈالا ،
جو صحابہ کرام کربلا معلی تشریف نہ لے گئے ان پر بے جا اعتراض کیا،
جنگ جمل میں اور صفین میں شریک ہونے والے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین خصوصا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر تبرا بازی کی ،
عید غدیر خم کو صحیح ثابت کرنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے،
ان شاءاللہ تعالیٰ عزیز اس تحریر میں حق و باطل کے مابین خط امتیاز کھینچ دیا جائے گا جس سے ان مولائیوں کا اصل چہرہ کھل کر قارئین کے سامنے آ جائے گا اور یہ بھی آشکار ہو جائے گا کہ یہ حضرات مولائی ہیں یا حجاب مولائی میں رہزن دین و ایمان ہیں،

مولائی اور افضلیت شیخین _________

مولائی حضرات کہتے ہیں:
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنھما و ارضاھما سے افضل ہیں،
فرقۂ ضالہ مولائی کے اس عقیدے کی حقیقت کیا ہے ؟ آئیے قرآن و احادیث اور اجماع گئےکے تناظر میں پرکھتے ہیں ،

آیات قرآنیہ__________

اللہ جل و علا کا فرمان ہے :
ان اکرمکم عند اللہ اتقکم [سورۃ الحجرات رقم الآیت ١٣]
بے شک تم سب میں بزرگ تر اللہ کے نزدیک تمہارا اتقی ہے یعنی بڑا پرہیز گار ،
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
وَسَیُجَنَّبُهَا ٱلۡأَتۡقَى ٱلَّذِی یُؤۡتِی مَالَهُۥ یَتَزَكَّىٰ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةࣲ تُجۡزَىٰۤ إِلَّا ٱبۡتِغَاۤءَ وَجۡهِ رَبِّهِ ٱلۡأَعۡلَىٰ وَلَسَوۡفَ یَرۡضَىٰ [سورة الليل رقم الآية ١٧ تا ٢٠]
یعنی اور نزدیک ہے کہ جھنم سے بچایا جائے وہ بڑا پرہیز گار جو اپنا مال دیتا ہے ستھرا ہونے کو اور اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے گا ، مگر تلاش اپنے برتر پروردگار کی رضامندی کی ، اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہو جائے گا ،
آیت کریمہ میں باجماع مفسرین اتقی سے جناب سیدنا امام المتقین ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مراد ہیں ،
امام محی السنہ بغوی فرماتے ہیں : یعنی ابابکر فی قول الجمیع [تفسیر معالم التنزیل، تفسیر سورۃ اللیل ، آیت نمبر ١٨ ج ٨، صفحہ ٤٤٨]
اور امام علامہ شمس الدین ابن الجوزی نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ، [علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے : الاتقی یعنی ابابکر الصدیق فی قول جمیع المفسرین حوالہ: زاد المسیر فی علم التفسیر، تفسیر سورۃ و اللیل ، آیت ١٧ ، ج٦ ، ص ١٦٧]
اس آیت کے لیے دوسرا محمل صحیح متصور ہی نہیں کہ بالضرور یہاں وہی مقصود جو افضل امت محمدی ہے (مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ص ١٦٧ تا ١٧٠)
اللہ جل و علا کا فرمان ہے:
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةࣲ تُجۡزَىٰۤ [سورۃ اللیل آیت نمبر ١٩]
اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا عوض دیا جائے ،
اور دوسری جگہ فرمایا :
وَمَاۤ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَیۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِیَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِینَ [سورۃ الشعرا آیت نمبر١٠٩]
کہ میں نہیں مانگتا ہدایت پر تم سے کچھ نیگ ، میرا نیگ تو اللہ ہی پر ہے جو پالنے والا سارے جہان کا ۔
شاید اسی لحاظ سے قرآن میں قید تجزی فرمائی گئی ،
اب اس آیت کو صغری اور پہلی کو کبری کیجیے تو شکل اول بدیہی الانتاج سے یہ نتیجہ بشہادت قرآن عزیز نکلتا ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل امت ہیں ،
[ تلخیصا مطلع القمرین ص ١٧٢ تا ١٧٣]

نتیجہ کی تفصیل______

صغری کبری
صدیق اکبر اتقی ہر اتقی اکرم عند اللہ
نتیجہ صدیق اکبر اکرم عند اللہ
یہاں سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اکرمیت ثابت ہوئی
صغری کبری
مولی علی اکرم عند اللہ ہر اکرم عند اللہ اجر میں زیادہ
نتیجہ مولی علی اجر میں زیادہ
یہاں سے مولی علی رضی اللہ عنہ کے لیے اجر و ثواب میں زیادتی ثابت ہوئی
مولائی تو کہتا تھا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اجر و ثواب میں زیادہ تو ہیں لیکن اکرمیت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے لیے ہے لیکن بار بار مذکورہ آیات کو پڑھیے اور غور کیجیے کہ قرآنی آیات کے ذریعے مولائی کے اس اعتقاد کا بطلان ہوا اور اکرمیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت ہوئی ، اور اس کے بر عکس جن کی اکرمیت کا دعویٰ تھا ان کے لیے کثرت ثواب ظہور پا گیا ، دلیل دونوں دعوؤں پر صاف لوٹ گئی اب کوئی اشکال باقی نہ رہا، فتدبر

احادیث نبویہ______

طبرانی سیدنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں حضور سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ما طلعت الشمس علی احد منکم افضل من ابی بکر [المتفق و المفترق للخطیب بغدادی ، من اسمہ اسماعیل بن زیاد الابلی ، جلد ١، صفحہ ٥١٧، رقم الحدیث ١٨١]
ترجمہ: تم میں سے کسی ایسے پر آفتاب نہ نکلا جو ابو بکر سے افضل ہو ،
مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:
عن أبي جُحَيفةَ، قال: كُنتُ أرى أنّ عليًّا أفضَلَ النّاسِ بعدَ رسولِ اللهِ ﷺفذكَر الحديثَ- قُلتُ: لا واللهِ يا أميرَ المُؤمِنينَ، إنِّي لم أكُنْ أرى أنّ أحَدًا منَ المُسلِمينَ بعدَ رسولِ اللهِ ﷺ أفضَلَ منكَ. قال: أفلا أُحدِّثُكَ بأفضَلِ النّاسِ كان بعدَ رسولِ اللهِ ﷺ؟ قال: قُلتُ: بَلى، فقال: أبو بكْرٍ، فقال: أفلا أُخبِرُكَ بخَيرِ النّاسِ كان بعدَ رسولِ اللهِ ﷺ، وأبي بكْرٍ؟ قُلتُ: بَلى. قال: عمرُ [مسند امام احمد بن حنبل جلد اول حدیث نمبر ١٠٥٤]
ترجمہ: حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی علیہ السلام کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام لوگوں میں سب سے افضل سمجھتا تھا میں کہا نہیں بخدا اے امیر المومنین میں نہیں سمجھتا کہ نبی علیہ السلام کے بعد مسلمانوں میں آپ سے افضل بھی کوئی ہوگا انھوں نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں اس امت میں نبی علیہ السلام کے بعد سب سے افضل شخص کون ہے میں نے عرض کیا کیوں نہیں انھوں نے فرمایا وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے میں کہا کیوں نہیں انھوں نے فرمایا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں ،
قارئین کرام اس حدیث شریف کو بار بار پڑھیں اور غور کریں کہ خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جب حضرت جحیفہ نے کہا میں آپ کو افضل سمجھتا ہوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ افضل میں نہیں بلکہ افضل تمام امتوں میں انبیا علیھم السلام کے بعد حضرت شیخین کریمین رضی اللہ عنہما ہیں
اگر یہ حضرات واقعی مولائی ہیں تو انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ مولا علی کے فرمان کو دل و جان سے مانتے اور کبھی یہ نہ کہتے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ شیخین کریمین سے افضل ہیں بلکہ جو یہ کہتے تو اسے منع کرتے لیکن نہیں انھیں تو اپنے نفس کی ماننی ہے جماعت بندی کرنی ہے اسلاف کے عقائد ونظریات سے انحراف ان کا اپنا محبوب مشغلہ ہے یہ کہاں کی محبت ہے کہ جن سے محبت کا دعویٰ کرے انھیں کے فرامین سے رو گردانی کر لے اور اپنے من کی بات کرے
اگر حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ان مولائیوں کی خرق اجماع باتوں کو سنتے تو ضرور حد مفتری لگاتے ،

تاریخ مدینہ دمشق میں ہے:

قال علی : لا اجد احدا یفضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حد المفتری[تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر جلد ٣٠ ص ٣٨٣ مطبوعہ بیروت]
ترجمہ: حضرت مولا علی نے فرمایا جس کو بھی میں پاؤں گا کہ وہ مجھے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے رہا ہے تو اسے وہی سزا دوں گا جو مفتری کی سزا (اسی کوڑے) ہیں،
حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے اس فرمان سے پتہ چلا کہ یہ مولائی اسی کوڑے کھانے حقدار ہیں اگر حضرت مولا علی ہوتے تو ضرور ان کی عقلیں ٹھکانے لگ جاتیں اور ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے سے باز آجاتے ،

ایمان ابو طالب اور مولائی__________

فرقۂ مولائی ایمان ابو طالب کا قائل تو ہے ہی لیکن جو ایمان ابو طالب کا قائل نہیں ہے اس پر ناصبیت اور خارجیت کا الزام لگاتا ہے جب کہ جمہور کفر ابو طالب کے قائل ہیں
دور حاضر میں اکثر و بیشتر جو شخص ایمان ابو طالب کے قائل ہوتا ہے وہ یا تو شیعوں میں سے ہوتا ہے یا رافضیوں میں سے ہوتا ہے
ایک بار راقم الحروف مکتبہ رحمانیہ [بریلی شریف دیار اعلی حضرت] میں کتابیں دیکھ رہا تھا کہ شہید ابن شہید پر نظر پڑی تو اس کو اٹھایا پڑھا تو انکشاف ہوا کہ صاحب کتاب ایمان ابو طالب کے قائل ہیں تو میرے دل میں شک گزرا کہیں یہ شیعہ تو نہیں جب اس پر مزید تفتیش کی تو پتہ چلا کہ صاحب کتاب صائم چشتی رافضیوں کا ہمنوا ہے انھیں کی بولی بولتا ہے جس پر اس کی کتاب مشکل کشا صریح دال ہے نیز صائم چشتی کے باطل عقائد و نظریات کی تردید پر دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ قابل مطالعہ ہے

کفر ابو طالب خود مولا علی کی زبانی_______

کفر ابو طالب کے قائل خود حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے مولا علی نے عرض کی :
ان عمك الشيخ الكافر قد مات فما تری فیہ ، قال ، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اری ان تغسلہ و امرہ بالفعل ،
[المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائز باب فی الرجل یموت لہ قرابۃ المشرک ادارۃ القرآن کراچی ٣٤٨/٣ بحوالہ شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ص ٢٧٨]
ترجمہ: حضور کا چچا وہ بڈھا کافر مر گیا ، اس کے بارے میں حضور کی کیا رائے ہے یعنی غسل وغیرہ دیا جائے یا نہیں ؟ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہلا کر دبا دو ،
امام شافعی کی روایت میں ہے :
فقلت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انه مات مشرکا قال اذھب فوارہ
[نصب الرایۃ بحوالۃ الشافعی کتاب الصلاۃ فصل، فی الصلاۃ علی المیت النوریۃ الرضویہ ٢٩٠/٢ بحوالہ سابق]
اس حدیث کریمہ سے خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زبانی ثابت ہوا کہ ابو طالب کفر و شرک کی حالت میں فوت ہوا ایمان نہ لایا ورنہ ضرور حضور نماز جنازہ کا حکم دیتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ دبا دو
کفر ابو طالب پر تفاسیر، کثیر احادیث دال ہیں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ابو طالب کافر و مشرک ہے ،
تو اب مولائیوں پر سوال وارد ہوتا ہے :
کیا مذہب جمہور کے مطابق عقیدہ رکھنا ناصبی ہے ؟
کیا اس اصول پر امام شافعی رحمہ اللہ ناصبی نہیں ٹھہرتے؟
کیا یہی بنو امیہ سے محبت اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین سے عداوت کی دلیل ہے ؟
کفر ابو طالب تو مذہب جمہور ہے تو کیا جمہور صحابہ ، علما مولائیوں کے اصول کے مطابق ناصبی کہلائیں گے ؟ مثلا:
امیر المومنین ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ
امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم
حبرۃ الامہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
یہ ایک لمبی فہرست ہے جس میں جمہور صحابہ کرام و علماء عظام کے اسماء گرامی ہیں جس کو ضبط تحریر میں لانے کے لیے ایک دفتر درکار پھر بھی بہت سارے اسماء شرح المطالب فی مبحث ابی طالب کی فصل نہم میں مندرج ہیں اہل ذوق وہاں دیکھ لیں ،

عید غدیر اور مولائی___________

جامع القرآن ذو النورین امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات جس دن ہے اسی دن اہل تشیع عید غدیر مناتے ہیں اس لیے کہ اہل تشیع کے عقیدے کے مطابق آج ہی کے دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلافت بلا فصل ملی تھی ، اس لیے عید غدیر ان کے لیے عید اکبر مذہبی تہوار ہے ،

ابن اثیر جزری لکھتے ہیں:

و فیھا فی الثامن عشر ذی الحجہ ، امر معز الدولہ باظہار الزینۃ فی البلد ، و اشعلت النیران بمجلس الشرطۃ ، و اظھر الفرح ، و فتحت الاسواق باللیل ، کما یفعل لیالی الاعیاد فعل ذلك فرحا بعید الغدیر ، و ضربت الدبادب و البوقات ، وکان یوما مشہودا
[الکامل فی التاریخ جلد ٧ ص ٢٤٦]
ترجمہ: اور سن ٣٥٢ ھ ١٨ ذي الحجه کو معز الدولہ نے شہر سجانے کا حکم دیا ، اور درباریوں کی مجلس میں چراغاں کیا گیا ، اور خوشی کا اظہار کیا گیا ، بازار کھولے گئے رات کو ، جس طرح عیدوں کی راتوں کو جاتے، خوب خوشیاں منائی گئی عید غدیر خم میں باجے بگل بجائے گئے اور وہ دیکھنے کا دن تھا ،
قارئین کرام مذکورہ بالا اقتباس سے آپ پر یہ واضح ہو گیا ہوگا کہ عید غدیر کیوں منائی جاتی ہے لیکن آئیے اس مستدل پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں جس سے یہ حضرات خلافت بلا فصل ملنے کا استدلال کرتے ہیں،
حدیث میں ہے:
من کنت مولاہ فعلی مولاہ
[مسند البزار مسند زید بن ارقم جلد ٣ ص ٦٧ رقم الحديث ٤٢٩٨ ، السنن للترمذي مناقب علي ابن ابي طالب ، جلد ٢ ص ١٧٠ رقم الحديث ٣٦٤٦]
اس حدیث کا پس منظر شارحین حدیث نے یہ بیان کیا ہے:
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے مولا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نہیں ہیں میرے مولا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو حضور نے فرمایا:
من کنت مولاہ فعلی مولاہ
میں جس کا مولی ہوں علی اس کا مولی ہے،
[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ١١ ص ٢٤٧]
اس سے مولی کا معنی اہل تشیع نے خلیفہ لیا جو بالکل غلط ہے کسی مفسر کسی محدث و شارح و ماہر لغت نے یہ معنی بیان نہیں کیا جو اہل تشیع نے گڑھا،
مولی کے متعدد معنی ہوتے ہیں انھیں میں سے حامی و ناصر ہے اور اس جگہ یہی معنی مراد ہے الصوعق المحرقہ میں مولی کا معنی خلیفہ بتانے والوں کا رد بلیغ موجود مسطور مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ص ١٣٧ تا ١٣٨ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہوگا یہ مقام اس تفصیل کا متحمل نہیں لیکن اتنی وضاحت سے یہ بات ضرور سامنے آجاتی ہے کہ مولائی فقط نام کا مولائی ہے ورنہ در حقیقت مولائی اور شیعہ دونوں سگے بھائی ہے جس کا باپ ایک معز الدولہ ہے،

حضرت امیر معاویہ اور مولائی_________

امیر المومنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کرنا ان بدعتیوں کا وطیرہ رہا ہے بعض حامیان مولائیت وہ ہے جو جگر گوشۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار حضرت امیر معاویہ کو ٹھہراتے ہیں، جیسا کہ بعض مولائی نے لکھا:
اگر کوئی حضرت امیر معاویہ کی ان خطاؤں کا ذکر کر دے جن کی قیمت یہ امت خلافت راشدہ کے انہدام اور امام حسین کی شہادت کے ساتھ آج تک چکا رہی ہے تو وہ گستاخ صحابہ اور جہنمی ہوجاتا ہے،
کیا موصوف نے اکابرین کی کتابوں میں یہ نہیں پڑھا کہ مشاجرات صحابہ میں پڑنا نہیں چاہئے تمام صحابہ عادل ہیں ، کوئی ذکر کرے تو خیر کے ساتھ کرے ان کی ذات کو نشانہ نہ بنائے ،
ترمذی شریف میں ہے :
لما عزل عمرُ بنُ الخطّابِ عُميرَ بنَ سعدٍ عن حمصَ ولّى معاويةَ فقال الناسُ عزلَ عُميرًا وولّى معاويةَ فقال عميرُ لا تذكروا معاويةَ إلّا بخيرٍ فإني سمعتُ رسولَ اللهِ ﷺ يقول اللهمَّ اهدِ بِهِ
[ترمذی شریف جلد دوم فصل ذکر معاویہ]
ترجمہ: جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو حمص سے معزول کر کے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حمص کا والی بنا دیا تو لوگوں نے کہا: حضرت عمیر کو معزول کر کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ کو حمص کا والی بنادیا ؟
تو حضرت عمیر بولے حضرت امیر معاویہ کا ذکر صرف خیر کے ساتھ کرو کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اے اللہ معاویہ کو ھادی بنا ،
@ إھدَہُ إھدَ بهِ کی دی دعا سرکار نے
کیا مقام و رتبۂ ابن ابو سفیان ہے
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین تو فرما رہے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کا ذکر خیر کے ساتھ کرو لیکن یہ کیسا مولائی ہے جو اس مقدس ہستی پر الزام لگاتے ہوئے بھی خدا کا خوف نہیں کھاتے ،
ہاں اگر کوئی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے جیسا کہ مولائی وغیرہ تو ضرور وہ کلب من کلاب النار ہے
ہمارا عقیدہ تو وہی ہے جو ہمارے امام ، امام عشق و محبت اعلی حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز نے بتایا ،
فرقِ مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار،
مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن اُن پر بھی کارِ فجّار،
جو معاویہ کی حمایت میں عیاذباﷲاسد اﷲ کے سبقت واولیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ نا صبی یزیدی، اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحا بیت و نسبت بارگاہِ حضرت رسالت بُھلادے وہ شیعی زیدی، یہی روشِ آداب بحمد اﷲتعالےٰ ہم اہلِ توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے،
[فتاوی رضویہ شریف جلد ١٠ کتاب الزکوۃ ص ١٩٩]
صرف حضرت امیر معاویہ پر ہی نہیں بلکہ جنگ جمل جنگ صفین میں شرکت کرنے والے صحابہ پر یہ حضرات طعن و تشنیع کرتے ہیں اگر فردا فردا تمام باتوں کا ذکر کرنا چاہوں تو اس مختصر سی تحریر میں سب کا احاطہ کرنا ایک امر مشکل ہے لیکن یہ اجمالی تحریر بحمدہ تعالی چشم بینا اہل خرد حق پسند کے لیے کافی وافی و شافی ثابت ہوگی

خلاصہ کلام________

فتنۂ و فساد ہر دور میں سر اٹھاتے رہے اور اٹھاتے رہیں گے لیکن علماء حق کی یہ ذمہ داری ہے اس کی سرکوبی کے لیے مستعد رہیں اور جہاں جیسا موقع میسر آئے فرقۂ ضالہ کو دندان شکن جواب دیں قعر مذلت میں گرائیں ہاں اگر حق تسلیم کر لے تو گلے سے لگا لیں ،
معاشرے کو ان فتنۂ و فساد سے محفوظ رکھنا فرقۂ ضالہ باطلہ کی تردید کرنا علما کرام کا اہم فریضہ ہے خاص کر مولائی کیونکہ یہ حضرات خود کو شیعہ بھی نہیں کہتے ہیں بلکہ جماعت اہل سنت و جماعت میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عقائد ونظریات شیعوں جیسے رکھتے ہیں تو ان با پردہ چہروں سے نقاب اٹھانا ہمارے لیے از حد ضروری ہے ،
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بد بخت ریا کار ہے مولائی نہیں ہے
مکار ہے عیار ہے مولائی نہیں ہے
ہے اس کی ہر اک بات سے یہ ظاہر و باہر
شیعوں کا وفادار ہے مولائی نہیں ہے
اللہ جل و علا ہمارے دین و ایمان کی حفاظت فرمائے مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

فرقۂ ضالہ “مولائی” کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

فرقۂ ضالہ مولائی کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو اس حال میں جینا لازم ہے
اللہ جل و علا وحدہ لاشریک کا بے پناہ احسان ہے کہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا اور احسان بالائے احسان یہ کہ مسلک اہل سنت و جماعت کے دامن سے وابستہ فرمایا جس کو عرف عام میں مسلک اعلی حضرت کے نام سے دنیا یاد کرتی ہے،
یہ وہی مسلک ہے جس پر تمام صحابہ کرام ائمۂ عظام تابعین تبع تابعین مجتھدین اغواث اقطاب ابدال مفسرین محدثین محققین متکلمین خطبا اصفیا اولیا نجبا شرفا فقہا قائم و دائم رہے
اور جنھوں نے مسلک اہل سنت و جماعت سے روگردانی کی تو وہ فرقۂ خارجی، رافضی، ناصبی، معتزلی، شیعی، زیدی، سبائی، نجدی، وہابی، دیوبندی، نیچری، قادیانی کی شکل میں رونما ہوئے انھیں میں سے ایک فرقۂ ضالہ مولائی ہے
جنھوں نے افضلیت شیخین کا انکار کیا اور شیخین رضی اللہ عنھما سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل بتایا جو چودہ سو سال کے متفقہ فیصلۂ افضلیت سے کھلا انحراف ہے ،
ایمان ابو طالب ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور جو نہ مانے ان کو ناصبی و خارجی تک کہہ ڈالا ،
جو صحابہ کرام کربلا معلی تشریف نہ لے گئے ان پر بے جا اعتراض کیا،
جنگ جمل میں اور صفین میں شریک ہونے والے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین خصوصا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر تبرا بازی کی ،
عید غدیر خم کو صحیح ثابت کرنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے،
ان شاءاللہ تعالیٰ عزیز اس تحریر میں حق و باطل کے مابین خط امتیاز کھینچ دیا جائے گا جس سے ان مولائیوں کا اصل چہرہ کھل کر قارئین کے سامنے آ جائے گا اور یہ بھی آشکار ہو جائے گا کہ یہ حضرات مولائی ہیں یا حجاب مولائی میں رہزن دین و ایمان ہیں،

مولائی اور افضلیت شیخین _________

مولائی حضرات کہتے ہیں:
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنھما و ارضاھما سے افضل ہیں،
فرقۂ ضالہ مولائی کے اس عقیدے کی حقیقت کیا ہے ؟ آئیے قرآن و احادیث اور اجماع گئےکے تناظر میں پرکھتے ہیں ،

آیات قرآنیہ__________

اللہ جل و علا کا فرمان ہے :
ان اکرمکم عند اللہ اتقکم [سورۃ الحجرات رقم الآیت ١٣]
بے شک تم سب میں بزرگ تر اللہ کے نزدیک تمہارا اتقی ہے یعنی بڑا پرہیز گار ،
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
وَسَیُجَنَّبُهَا ٱلۡأَتۡقَى ٱلَّذِی یُؤۡتِی مَالَهُۥ یَتَزَكَّىٰ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةࣲ تُجۡزَىٰۤ إِلَّا ٱبۡتِغَاۤءَ وَجۡهِ رَبِّهِ ٱلۡأَعۡلَىٰ وَلَسَوۡفَ یَرۡضَىٰ [سورة الليل رقم الآية ١٧ تا ٢٠]
یعنی اور نزدیک ہے کہ جھنم سے بچایا جائے وہ بڑا پرہیز گار جو اپنا مال دیتا ہے ستھرا ہونے کو اور اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے گا ، مگر تلاش اپنے برتر پروردگار کی رضامندی کی ، اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہو جائے گا ،
آیت کریمہ میں باجماع مفسرین اتقی سے جناب سیدنا امام المتقین ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مراد ہیں ،
امام محی السنہ بغوی فرماتے ہیں : یعنی ابابکر فی قول الجمیع [تفسیر معالم التنزیل، تفسیر سورۃ اللیل ، آیت نمبر ١٨ ج ٨، صفحہ ٤٤٨]
اور امام علامہ شمس الدین ابن الجوزی نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ، [علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے : الاتقی یعنی ابابکر الصدیق فی قول جمیع المفسرین حوالہ: زاد المسیر فی علم التفسیر، تفسیر سورۃ و اللیل ، آیت ١٧ ، ج٦ ، ص ١٦٧]
اس آیت کے لیے دوسرا محمل صحیح متصور ہی نہیں کہ بالضرور یہاں وہی مقصود جو افضل امت محمدی ہے (مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ص ١٦٧ تا ١٧٠)
اللہ جل و علا کا فرمان ہے:
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعۡمَةࣲ تُجۡزَىٰۤ [سورۃ اللیل آیت نمبر ١٩]
اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا عوض دیا جائے ،
اور دوسری جگہ فرمایا :
وَمَاۤ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَیۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِیَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَـٰلَمِینَ [سورۃ الشعرا آیت نمبر١٠٩]
کہ میں نہیں مانگتا ہدایت پر تم سے کچھ نیگ ، میرا نیگ تو اللہ ہی پر ہے جو پالنے والا سارے جہان کا ۔
شاید اسی لحاظ سے قرآن میں قید تجزی فرمائی گئی ،
اب اس آیت کو صغری اور پہلی کو کبری کیجیے تو شکل اول بدیہی الانتاج سے یہ نتیجہ بشہادت قرآن عزیز نکلتا ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل امت ہیں ،
[ تلخیصا مطلع القمرین ص ١٧٢ تا ١٧٣]

نتیجہ کی تفصیل______

صغری کبری
صدیق اکبر اتقی ہر اتقی اکرم عند اللہ
نتیجہ صدیق اکبر اکرم عند اللہ
یہاں سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اکرمیت ثابت ہوئی
صغری کبری
مولی علی اکرم عند اللہ ہر اکرم عند اللہ اجر میں زیادہ
نتیجہ مولی علی اجر میں زیادہ
یہاں سے مولی علی رضی اللہ عنہ کے لیے اجر و ثواب میں زیادتی ثابت ہوئی
مولائی تو کہتا تھا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اجر و ثواب میں زیادہ تو ہیں لیکن اکرمیت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے لیے ہے لیکن بار بار مذکورہ آیات کو پڑھیے اور غور کیجیے کہ قرآنی آیات کے ذریعے مولائی کے اس اعتقاد کا بطلان ہوا اور اکرمیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے لیے ثابت ہوئی ، اور اس کے بر عکس جن کی اکرمیت کا دعویٰ تھا ان کے لیے کثرت ثواب ظہور پا گیا ، دلیل دونوں دعوؤں پر صاف لوٹ گئی اب کوئی اشکال باقی نہ رہا، فتدبر

احادیث نبویہ______

طبرانی سیدنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں حضور سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ما طلعت الشمس علی احد منکم افضل من ابی بکر [المتفق و المفترق للخطیب بغدادی ، من اسمہ اسماعیل بن زیاد الابلی ، جلد ١، صفحہ ٥١٧، رقم الحدیث ١٨١]
ترجمہ: تم میں سے کسی ایسے پر آفتاب نہ نکلا جو ابو بکر سے افضل ہو ،
مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:
عن أبي جُحَيفةَ، قال: كُنتُ أرى أنّ عليًّا أفضَلَ النّاسِ بعدَ رسولِ اللهِ ﷺفذكَر الحديثَ- قُلتُ: لا واللهِ يا أميرَ المُؤمِنينَ، إنِّي لم أكُنْ أرى أنّ أحَدًا منَ المُسلِمينَ بعدَ رسولِ اللهِ ﷺ أفضَلَ منكَ. قال: أفلا أُحدِّثُكَ بأفضَلِ النّاسِ كان بعدَ رسولِ اللهِ ﷺ؟ قال: قُلتُ: بَلى، فقال: أبو بكْرٍ، فقال: أفلا أُخبِرُكَ بخَيرِ النّاسِ كان بعدَ رسولِ اللهِ ﷺ، وأبي بكْرٍ؟ قُلتُ: بَلى. قال: عمرُ [مسند امام احمد بن حنبل جلد اول حدیث نمبر ١٠٥٤]
ترجمہ: حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی علیہ السلام کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام لوگوں میں سب سے افضل سمجھتا تھا میں کہا نہیں بخدا اے امیر المومنین میں نہیں سمجھتا کہ نبی علیہ السلام کے بعد مسلمانوں میں آپ سے افضل بھی کوئی ہوگا انھوں نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں اس امت میں نبی علیہ السلام کے بعد سب سے افضل شخص کون ہے میں نے عرض کیا کیوں نہیں انھوں نے فرمایا وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے میں کہا کیوں نہیں انھوں نے فرمایا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں ،
قارئین کرام اس حدیث شریف کو بار بار پڑھیں اور غور کریں کہ خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جب حضرت جحیفہ نے کہا میں آپ کو افضل سمجھتا ہوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ افضل میں نہیں بلکہ افضل تمام امتوں میں انبیا علیھم السلام کے بعد حضرت شیخین کریمین رضی اللہ عنہما ہیں
اگر یہ حضرات واقعی مولائی ہیں تو انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ مولا علی کے فرمان کو دل و جان سے مانتے اور کبھی یہ نہ کہتے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ شیخین کریمین سے افضل ہیں بلکہ جو یہ کہتے تو اسے منع کرتے لیکن نہیں انھیں تو اپنے نفس کی ماننی ہے جماعت بندی کرنی ہے اسلاف کے عقائد ونظریات سے انحراف ان کا اپنا محبوب مشغلہ ہے یہ کہاں کی محبت ہے کہ جن سے محبت کا دعویٰ کرے انھیں کے فرامین سے رو گردانی کر لے اور اپنے من کی بات کرے
اگر حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ان مولائیوں کی خرق اجماع باتوں کو سنتے تو ضرور حد مفتری لگاتے ،

تاریخ مدینہ دمشق میں ہے:

قال علی : لا اجد احدا یفضلنی علی ابی بکر و عمر الا جلدتہ حد المفتری[تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر جلد ٣٠ ص ٣٨٣ مطبوعہ بیروت]
ترجمہ: حضرت مولا علی نے فرمایا جس کو بھی میں پاؤں گا کہ وہ مجھے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے رہا ہے تو اسے وہی سزا دوں گا جو مفتری کی سزا (اسی کوڑے) ہیں،
حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے اس فرمان سے پتہ چلا کہ یہ مولائی اسی کوڑے کھانے حقدار ہیں اگر حضرت مولا علی ہوتے تو ضرور ان کی عقلیں ٹھکانے لگ جاتیں اور ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے سے باز آجاتے ،

ایمان ابو طالب اور مولائی__________

فرقۂ مولائی ایمان ابو طالب کا قائل تو ہے ہی لیکن جو ایمان ابو طالب کا قائل نہیں ہے اس پر ناصبیت اور خارجیت کا الزام لگاتا ہے جب کہ جمہور کفر ابو طالب کے قائل ہیں
دور حاضر میں اکثر و بیشتر جو شخص ایمان ابو طالب کے قائل ہوتا ہے وہ یا تو شیعوں میں سے ہوتا ہے یا رافضیوں میں سے ہوتا ہے
ایک بار راقم الحروف مکتبہ رحمانیہ [بریلی شریف دیار اعلی حضرت] میں کتابیں دیکھ رہا تھا کہ شہید ابن شہید پر نظر پڑی تو اس کو اٹھایا پڑھا تو انکشاف ہوا کہ صاحب کتاب ایمان ابو طالب کے قائل ہیں تو میرے دل میں شک گزرا کہیں یہ شیعہ تو نہیں جب اس پر مزید تفتیش کی تو پتہ چلا کہ صاحب کتاب صائم چشتی رافضیوں کا ہمنوا ہے انھیں کی بولی بولتا ہے جس پر اس کی کتاب مشکل کشا صریح دال ہے نیز صائم چشتی کے باطل عقائد و نظریات کی تردید پر دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ قابل مطالعہ ہے

کفر ابو طالب خود مولا علی کی زبانی_______

کفر ابو طالب کے قائل خود حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے مولا علی نے عرض کی :
ان عمك الشيخ الكافر قد مات فما تری فیہ ، قال ، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اری ان تغسلہ و امرہ بالفعل ،
[المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائز باب فی الرجل یموت لہ قرابۃ المشرک ادارۃ القرآن کراچی ٣٤٨/٣ بحوالہ شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ص ٢٧٨]
ترجمہ: حضور کا چچا وہ بڈھا کافر مر گیا ، اس کے بارے میں حضور کی کیا رائے ہے یعنی غسل وغیرہ دیا جائے یا نہیں ؟ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہلا کر دبا دو ،
امام شافعی کی روایت میں ہے :
فقلت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انه مات مشرکا قال اذھب فوارہ
[نصب الرایۃ بحوالۃ الشافعی کتاب الصلاۃ فصل، فی الصلاۃ علی المیت النوریۃ الرضویہ ٢٩٠/٢ بحوالہ سابق]
اس حدیث کریمہ سے خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی زبانی ثابت ہوا کہ ابو طالب کفر و شرک کی حالت میں فوت ہوا ایمان نہ لایا ورنہ ضرور حضور نماز جنازہ کا حکم دیتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ دبا دو
کفر ابو طالب پر تفاسیر، کثیر احادیث دال ہیں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ابو طالب کافر و مشرک ہے ،
تو اب مولائیوں پر سوال وارد ہوتا ہے :
کیا مذہب جمہور کے مطابق عقیدہ رکھنا ناصبی ہے ؟
کیا اس اصول پر امام شافعی رحمہ اللہ ناصبی نہیں ٹھہرتے؟
کیا یہی بنو امیہ سے محبت اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین سے عداوت کی دلیل ہے ؟
کفر ابو طالب تو مذہب جمہور ہے تو کیا جمہور صحابہ ، علما مولائیوں کے اصول کے مطابق ناصبی کہلائیں گے ؟ مثلا:
امیر المومنین ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ
امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم
حبرۃ الامہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
یہ ایک لمبی فہرست ہے جس میں جمہور صحابہ کرام و علماء عظام کے اسماء گرامی ہیں جس کو ضبط تحریر میں لانے کے لیے ایک دفتر درکار پھر بھی بہت سارے اسماء شرح المطالب فی مبحث ابی طالب کی فصل نہم میں مندرج ہیں اہل ذوق وہاں دیکھ لیں ،

عید غدیر اور مولائی___________

جامع القرآن ذو النورین امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات جس دن ہے اسی دن اہل تشیع عید غدیر مناتے ہیں اس لیے کہ اہل تشیع کے عقیدے کے مطابق آج ہی کے دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلافت بلا فصل ملی تھی ، اس لیے عید غدیر ان کے لیے عید اکبر مذہبی تہوار ہے ،

ابن اثیر جزری لکھتے ہیں:

و فیھا فی الثامن عشر ذی الحجہ ، امر معز الدولہ باظہار الزینۃ فی البلد ، و اشعلت النیران بمجلس الشرطۃ ، و اظھر الفرح ، و فتحت الاسواق باللیل ، کما یفعل لیالی الاعیاد فعل ذلك فرحا بعید الغدیر ، و ضربت الدبادب و البوقات ، وکان یوما مشہودا
[الکامل فی التاریخ جلد ٧ ص ٢٤٦]
ترجمہ: اور سن ٣٥٢ ھ ١٨ ذي الحجه کو معز الدولہ نے شہر سجانے کا حکم دیا ، اور درباریوں کی مجلس میں چراغاں کیا گیا ، اور خوشی کا اظہار کیا گیا ، بازار کھولے گئے رات کو ، جس طرح عیدوں کی راتوں کو جاتے، خوب خوشیاں منائی گئی عید غدیر خم میں باجے بگل بجائے گئے اور وہ دیکھنے کا دن تھا ،
قارئین کرام مذکورہ بالا اقتباس سے آپ پر یہ واضح ہو گیا ہوگا کہ عید غدیر کیوں منائی جاتی ہے لیکن آئیے اس مستدل پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں جس سے یہ حضرات خلافت بلا فصل ملنے کا استدلال کرتے ہیں،
حدیث میں ہے:
من کنت مولاہ فعلی مولاہ
[مسند البزار مسند زید بن ارقم جلد ٣ ص ٦٧ رقم الحديث ٤٢٩٨ ، السنن للترمذي مناقب علي ابن ابي طالب ، جلد ٢ ص ١٧٠ رقم الحديث ٣٦٤٦]
اس حدیث کا پس منظر شارحین حدیث نے یہ بیان کیا ہے:
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے مولا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نہیں ہیں میرے مولا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو حضور نے فرمایا:
من کنت مولاہ فعلی مولاہ
میں جس کا مولی ہوں علی اس کا مولی ہے،
[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ١١ ص ٢٤٧]
اس سے مولی کا معنی اہل تشیع نے خلیفہ لیا جو بالکل غلط ہے کسی مفسر کسی محدث و شارح و ماہر لغت نے یہ معنی بیان نہیں کیا جو اہل تشیع نے گڑھا،
مولی کے متعدد معنی ہوتے ہیں انھیں میں سے حامی و ناصر ہے اور اس جگہ یہی معنی مراد ہے الصوعق المحرقہ میں مولی کا معنی خلیفہ بتانے والوں کا رد بلیغ موجود مسطور مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ص ١٣٧ تا ١٣٨ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہوگا یہ مقام اس تفصیل کا متحمل نہیں لیکن اتنی وضاحت سے یہ بات ضرور سامنے آجاتی ہے کہ مولائی فقط نام کا مولائی ہے ورنہ در حقیقت مولائی اور شیعہ دونوں سگے بھائی ہے جس کا باپ ایک معز الدولہ ہے،

حضرت امیر معاویہ اور مولائی_________

امیر المومنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کرنا ان بدعتیوں کا وطیرہ رہا ہے بعض حامیان مولائیت وہ ہے جو جگر گوشۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار حضرت امیر معاویہ کو ٹھہراتے ہیں، جیسا کہ بعض مولائی نے لکھا:
اگر کوئی حضرت امیر معاویہ کی ان خطاؤں کا ذکر کر دے جن کی قیمت یہ امت خلافت راشدہ کے انہدام اور امام حسین کی شہادت کے ساتھ آج تک چکا رہی ہے تو وہ گستاخ صحابہ اور جہنمی ہوجاتا ہے،
کیا موصوف نے اکابرین کی کتابوں میں یہ نہیں پڑھا کہ مشاجرات صحابہ میں پڑنا نہیں چاہئے تمام صحابہ عادل ہیں ، کوئی ذکر کرے تو خیر کے ساتھ کرے ان کی ذات کو نشانہ نہ بنائے ،
ترمذی شریف میں ہے :
لما عزل عمرُ بنُ الخطّابِ عُميرَ بنَ سعدٍ عن حمصَ ولّى معاويةَ فقال الناسُ عزلَ عُميرًا وولّى معاويةَ فقال عميرُ لا تذكروا معاويةَ إلّا بخيرٍ فإني سمعتُ رسولَ اللهِ ﷺ يقول اللهمَّ اهدِ بِهِ
[ترمذی شریف جلد دوم فصل ذکر معاویہ]
ترجمہ: جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو حمص سے معزول کر کے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حمص کا والی بنا دیا تو لوگوں نے کہا: حضرت عمیر کو معزول کر کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ کو حمص کا والی بنادیا ؟
تو حضرت عمیر بولے حضرت امیر معاویہ کا ذکر صرف خیر کے ساتھ کرو کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اے اللہ معاویہ کو ھادی بنا ،
@ إھدَہُ إھدَ بهِ کی دی دعا سرکار نے
کیا مقام و رتبۂ ابن ابو سفیان ہے
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین تو فرما رہے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کا ذکر خیر کے ساتھ کرو لیکن یہ کیسا مولائی ہے جو اس مقدس ہستی پر الزام لگاتے ہوئے بھی خدا کا خوف نہیں کھاتے ،
ہاں اگر کوئی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے جیسا کہ مولائی وغیرہ تو ضرور وہ کلب من کلاب النار ہے
ہمارا عقیدہ تو وہی ہے جو ہمارے امام ، امام عشق و محبت اعلی حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز نے بتایا ،
فرقِ مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار،
مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن اُن پر بھی کارِ فجّار،
جو معاویہ کی حمایت میں عیاذباﷲاسد اﷲ کے سبقت واولیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ نا صبی یزیدی، اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحا بیت و نسبت بارگاہِ حضرت رسالت بُھلادے وہ شیعی زیدی، یہی روشِ آداب بحمد اﷲتعالےٰ ہم اہلِ توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے،
[فتاوی رضویہ شریف جلد ١٠ کتاب الزکوۃ ص ١٩٩]
صرف حضرت امیر معاویہ پر ہی نہیں بلکہ جنگ جمل جنگ صفین میں شرکت کرنے والے صحابہ پر یہ حضرات طعن و تشنیع کرتے ہیں اگر فردا فردا تمام باتوں کا ذکر کرنا چاہوں تو اس مختصر سی تحریر میں سب کا احاطہ کرنا ایک امر مشکل ہے لیکن یہ اجمالی تحریر بحمدہ تعالی چشم بینا اہل خرد حق پسند کے لیے کافی وافی و شافی ثابت ہوگی

خلاصہ کلام________

فتنۂ و فساد ہر دور میں سر اٹھاتے رہے اور اٹھاتے رہیں گے لیکن علماء حق کی یہ ذمہ داری ہے اس کی سرکوبی کے لیے مستعد رہیں اور جہاں جیسا موقع میسر آئے فرقۂ ضالہ کو دندان شکن جواب دیں قعر مذلت میں گرائیں ہاں اگر حق تسلیم کر لے تو گلے سے لگا لیں ،
معاشرے کو ان فتنۂ و فساد سے محفوظ رکھنا فرقۂ ضالہ باطلہ کی تردید کرنا علما کرام کا اہم فریضہ ہے خاص کر مولائی کیونکہ یہ حضرات خود کو شیعہ بھی نہیں کہتے ہیں بلکہ جماعت اہل سنت و جماعت میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عقائد ونظریات شیعوں جیسے رکھتے ہیں تو ان با پردہ چہروں سے نقاب اٹھانا ہمارے لیے از حد ضروری ہے ،
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بد بخت ریا کار ہے مولائی نہیں ہے
مکار ہے عیار ہے مولائی نہیں ہے
ہے اس کی ہر اک بات سے یہ ظاہر و باہر
شیعوں کا وفادار ہے مولائی نہیں ہے
اللہ جل و علا ہمارے دین و ایمان کی حفاظت فرمائے مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم رکھے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
57
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

کیا غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟_______

بریلی شریف کی مرکزیت ۔ اکابر کا متفقہ فیصلہ

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢