صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
کیا غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟_______
رد بدمذہباں

کیا غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟_______

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

کیا غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟_______
سوال:
کیا حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟
جواب:
جی ہاں حضور غوث الاعظم پیران پیر روشن ضمیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرشتوں کے پیروں کے بھی پیر ہیں اللہ جل و علا نے انھیں اس رفعت جلیلہ سے نوازا ہے ،
چنانچہ فتاوی رضویہ شریف میں نزھۃ الخاطر الفاتر کے حوالے سے لکھا ہے:
قال رضی اللہ تعالٰی عنہ وعزّۃ ربّی ان السعداء والاشقیاء یعرضون علی وان بؤبؤعینی فی اللوح المحفوظ انا حجۃ اللہ علیکم جمیعکم انا نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ووارثہ فی الارض ویقول الانس لھم مشائخ والجن لھم مشائخ والملٰئکۃ لھم مشائخ وانا شیخ الکل، رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ونفعنابہ
ترجمہ:
حضورسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
مجھے عزت پروردگار کی قسم! بے شک سعید وشقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں، بیشک میری آنکھ کی پُتلی لوح محفوظ میں ہے میں تم سب پر اللہ کی حجت ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نائب اور تمام زمین میں ان کا وارث ہوں۔ اور فرمایا کرتے :
آدمیوں کے پیر ہیں،قومِ جن کے پیر ہیں ، فرشتوں کے پیر ہیں اور میں ان سب کا پیر ہوں،
علی قاری اسے نقل کر کے عر ض کرتے ہیں : اللہ عزوجل کی رضوان حضور پر ہو اورحضور کے برکات سے ہم کو نفع دے
[نزہۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ سید الشریف عبدالقادر (قلمی نسخہ)ص۳۲ بحوالہ فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٨ ص ٣٩٦ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن]
مذکورہ بالا اقتباس سے نیم روز کی طرح واضح ہو گیا کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرشتوں کے پیروں کے بھی پیر ہیں
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرشتے تو معصوم ہیں پھر انھیں بیعت کی کیا حاجت ؟ بیعت تو اصلاح حال کے لیے ہوتی ہے ؟
اس کا جواب یہ کہ ہے کہ بیعت نام ہے عہد و پیمان کا اور یہ ضروری نہیں کہ عہد و پیمان غیر معصوم ہی سے لیں بلکہ معصومین سے بھی عہد و پیمان لیا جاتا ہے ، جس کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔

بیعت کا لغوی معنی :

المنجد میں ہے : البیعۃ، عہد و پیمان [المنجد ص ٧٨ ]
القاموس الوحید میں ہے: البیعۃ ، عہدو پیمان [القاموس الوحید ص ١٩٠]
ساتھ میں میثاق کا معنی بھی دیکھ لیں تاکہ آگے کی باتیں سمجھنے میں آسانی میسر ہوں گی ،
المنجد میں ہے : الموثق المیثاق، عہد جمع مواثق و میاثیق [المجد ص ٩٥٩]

بیعت کا اصطلاحی معنی___

دینی و دنیوی امور میں شریعت کی پیروی کرنے کے لیے کسی کو رہبر و رہنما ماننے اور اس کے کہنے پر عمل کرنے کا عہد۔
اب اس تعریف کے تناظر میں دیکھتے ہیں کہ جو معصومین یعنی انبیا علیھم السلام ہیں ان سے عہد لیا گیا یا نہیں شریعت پر عمل کرنے کے لیے انبیا علیھم السلام نے کسی کو اپنا رہبر و رہنما منتخب کیا یا نہیں،
دیکھیے اللہ جل و نے فرمایا :
وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ [سورۃ آل عمران آیت نمبر ٨١/٨٢]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔ تو جو کوئی اس کے بعد پھرے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔
اب اس آیت کریمہ کے تحت حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے کچھ اہم نکات فتاوی رضویہ شریف رسالہ تجلی الیقین سے ملاحظہ فرمائیں،
فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
آیۂ لتؤمنن بہٖ ولتنصرنہ کے بعض لطائف
اقول: وباللہ التوفیق (میں اللہ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں) پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس مضمون کو قرآن عظیم نے کس قدر مہتم بالشان ٹھہرایا اورطرح طرح سے مؤکد فرمایا۔
اوّلاً انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء معصومین ہیں۔
زنہار حکم الہٰی کاخلاف ان سے محتمل نہیں ۔ کافی تھا کہ رب تبارک وتعالٰی بطریق امر انہیں ارشادفرماتا اگر وہ نبی تمہارے پاس آئے اس پر ایمان لانا اوراس کی مدد کرنا، مگر اس قدر پر اکتفاء نہ فرمایا بلکہ ان سے عہد وپیمان لیا، یہ عہد عہدِ الست بربکم (؂القرآن الکریم ۷ /۱۷۲)
(کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں)کے بعد دوسرا پیمان تھا، جیسے کلمہ طیبہ میں
لاالہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ تاکہ ظاہر ہوکہ تمام ماسوائے اللہ پر پہلا فرض ربوبیت الہٰیہ کا اذعان ہے ۔
پھر اس کے برابر رسالت محمدیہ پر ایمان ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک وشرف وبجل وعظم۔
ثانیاً اس عہد کو لامِ قسم سے مؤکد فرمایا:
لتؤمنن بہٖ ولتنصرنہ (؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
تم ضرور اس کی مدد کرنا اورضروراس پر ایمان لانا۔
جس طرح نوابوں سے بیعتِ سلاطین پر قسمیں لی جاتی ہیں ۔ امام سُبکی فرماتے ہیں : شاید سوگندِ بیعت اسی آیت سے ماخوذ ہوئی ہے ۔
ثالثاً نون تاکید۔
رابعاً وہ بھی ثقیلہ لاکر ثقل تاکید کو اور دوبالا فرمایا۔
خامساً یہ کمال اہتمام ملاحظہ کیجئے کہ حضرات انبیاء ابھی جواب نہ دینے پائے کہ خود ہی تقدیم فرما کر پوچھتے ہیں : ء اقررتم کیا اس امر پر اقرارلاتے ہو ؟یعنی کمال تعجیل وتسجیل مقصود ہے ۔
سادساً اس قدر پر بھی بس نہ فرمائی بلکہ ارشاد ہوا :
واخذتم علٰی ذٰلکم اصری۔ (؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
خالی اقرار ہی نہیں بلکہ اس پر میرا بھاری ذمہ لو۔
سابعاً علیہ یا علٰی ھٰذا کی جگہ
علٰی ذٰلکم (؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
فرمایاکہ بُعد اشارت عظمت ہو۔
ثامناً اورترقی ہوئی کہ
فاشھدوا (؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ ۔ حالانکہ معاذ اللہ اقرار کر کے مُکر جانا ان پاک مقدس جنابوں سے معقول نہ تھا۔
تاسعاً کمال یہ ہے کہ فقط ان کی گواہیوں پر بھی اکتفا نہ ہوئی بلکہ ارشادفرمایا:
وانا معکم من الشاھدین۔(؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہوں سے ہوں ۔
عاشراً سب سے زیادہ نہایت کاریہ ہے کہ اس قدر عظیم جلیل تاکیدوں کے بعد بآنکہ انبیاء کو عصمت عطافرمائی ، یہ سخت شدید تہدید بھی فرمادی گئی کہ :
فمن تولّی بعدذٰلک فاولٰئک ھم الفٰسقون(؂القرآن الکریم ۳ /۸۲)
اب وہ جو اس اقرار کے بعد پھرے گا فاسق ٹھہرے گا۔
اللہ ، اللہ ! یہ وہی اعتنائے تام واہتمام تمام ہے جو باری تعالٰی کو اپنی توحید کے بارے میں منظورہوا کہ ملائکہ معصومین کے حق میں ارشاد کرتاہے :
من یقل منھم انی الٰہ من دونہ فذٰلک نجزیہ جھنم کذٰلک نجزی الظٰلمین (۶؂القرآ ن الکریم ۲۱ /۲۹)
جو ان میں سے کہے گا میں اللہ کے سوا معبود ہوں اسے ہم جہنم کی سزادیں گے ، ہم ایسی ہی سزادیتے ہیں ستمگاروں کو ۔
گویا اشارہ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہمیں ایمان کے جز اول لا الٰہ الا اللہ کا اہتمام ہے یونہی جز دوم محمد رسول اللہ سے اعتنائے تام ہے ، میں تمام جہان کا خدا کہ ملائکہ مقربین بھی میری بندگی سے سرنہیں پھیر سکتے اور میرا محبوب سارے عالم کا رسول ومقتدا کہ انبیاء ومرسلین بھی ا س کی بیعت وخدمت کے محیط دائرہ میں داخل ہوئے ۔
[فتاوی رضویہ شریف جلد تیسویں رسالہ نمبر ایک ص ١١/١٢]
قارئین بغور ملاحظہ فرمائیں
حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اتنی وضاحت فرمانے کے بعد اخیر میں فرمایا کہ میرا محبوب سارے عالم کا رسول ومقتدا کہ انبیاء ومرسلین بھی ا سکی بیعت وخدمت کے محیط دائرہ میں داخل ہوئے ۔
اس سے نیم روز کی طرح عیاں ہو گیا کہ تمام انبیا علیھم السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے احاطے میں ہیں یعنی حضور پیر کامل و اکمل ہیں اور تمام انبیا علیھم السلام حضور کے کامل و اکمل مریدین ہیں ،
تو اب وہ سوال تو یہاں پر بھی وارد ہوگا کہ انبیا علیھم السلام کو حضور کی بیعت کے تحت داخل ہونے کیا ضرورت؟
وہ تو معصوم عن الخطا ہیں اور بیعت تو اس لیے لیتے ہیں تاکہ مریدین گناہوں سے بچیں،
اب اس کا جواب کیا ہوگا ؟ تو پتہ چلا کہ بیعت ایک عہدو پیمان کا نام ہے جو کہ اطاعت شریعت پر گامزن رہنے کا عہد و پیمان ہے نہ کہ گناہوں سے بچنے والی علت ہے،
اس مختصر سی تحریر کا خلاصہ یہ نکلا کہ حضرات انبیاء علیھم السلام حضور کی بیعت کے احاطے میں ہیں فرشتے بھی حضور کی بیعت احاطے میں ہیں
معصومین کو بھی بیعت کی حاجت ہے یہ قرآن کریم کی آیت کریمہ سے ثابت ہوا،
لیکن اب ایک سوال یہ اٹھتا ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت میں داخل ہیں خواہ فرشتے ہوں یا انبیا علیھم السلام کیوں کہ حضور افضل الخلق ہیں،
لیکن یہ بات کہاں سے مان لوں کہ حضرت غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے بھی پیر ہیں ؟
تو اس جواب یہ ہے کہ فقہا نے لکھا ہے کہ بعض انسان بعض فرشتوں سے بہتر ہیں ،
بعض فرشتے رسل ہیں تو ظاہر ہے وہ غیر رسل انسان سے بہتر ہیں
حضور غوث الاعظم ان سے افضل ہر گز نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ رسل ہیں اور رسل غیر رسل سے کروڑوں درجہ افضل ہوتے ہیں
بعض فرشتے وہ ہیں جو رسل نہیں ہیں تو حسب مراتب حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ان کے پیر اور ان سے افضل ہیں ہیں ،

مکاشفۃ القلوب میں ہے :

ان اللہ تعالیٰ خلق الخلق علی ثلثۃ ضروب خلق الملائکۃ و رکب فیھم العقل و لم یرکب فیھم الشھوۃ ، و علی البھائم و رکب فیھا الشھوۃ و لم یرکب فیھا العقل ، و خلق ابن آدم و رکب فیہ العقل و الشھوۃ فمن غلبت شھوتہ عقلہ فالبھائم خیر منہ و من غلب عقلہ شھوتہ فھو خیر من الملائکۃ
[مکاشفۃ القلوب الباب الخامس ص ١٥]
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو تین قسموں پر پیدا فرمایا
١) فرشتوں کو پیدا فرمایا ان میں عقل رکھی مگر شہوت سے پاک و منزہ رکھا
٢ ) جانوروں کو پیدا کیا ان میں شہوت رکھی مگر عقل سے عاری رکھا
٣) انسانوں کو پیدا کیا ان میں عقل اور اور شہوت دونوں ودیعت فرمائے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب جس انسان کی عقل پر اس کی شہوت غالب آ جاتی ہے وہ جانوروں سے بد تر ہے اور جس مسلمان کی شہوت پر اس کی عقل غالب آجاتی ہے تو وہ فرشتوں سے بہتر ہے ،
اس اقتباس سے یہ واضح ہو گیا کہ فرشتوں سے انسان افضل ہوتے ہیں جس کی قدرے تفصیل ما قبل میں گزری،
اللہ جل و علا ہمیں حق سننے اور حق بولنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

کیا غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟_______

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

کیا غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟_______
سوال:
کیا حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ فرشتوں کے پیروں کے پیر ہیں؟
جواب:
جی ہاں حضور غوث الاعظم پیران پیر روشن ضمیر عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرشتوں کے پیروں کے بھی پیر ہیں اللہ جل و علا نے انھیں اس رفعت جلیلہ سے نوازا ہے ،
چنانچہ فتاوی رضویہ شریف میں نزھۃ الخاطر الفاتر کے حوالے سے لکھا ہے:
قال رضی اللہ تعالٰی عنہ وعزّۃ ربّی ان السعداء والاشقیاء یعرضون علی وان بؤبؤعینی فی اللوح المحفوظ انا حجۃ اللہ علیکم جمیعکم انا نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ووارثہ فی الارض ویقول الانس لھم مشائخ والجن لھم مشائخ والملٰئکۃ لھم مشائخ وانا شیخ الکل، رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ونفعنابہ
ترجمہ:
حضورسیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
مجھے عزت پروردگار کی قسم! بے شک سعید وشقی مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں، بیشک میری آنکھ کی پُتلی لوح محفوظ میں ہے میں تم سب پر اللہ کی حجت ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا نائب اور تمام زمین میں ان کا وارث ہوں۔ اور فرمایا کرتے :
آدمیوں کے پیر ہیں،قومِ جن کے پیر ہیں ، فرشتوں کے پیر ہیں اور میں ان سب کا پیر ہوں،
علی قاری اسے نقل کر کے عر ض کرتے ہیں : اللہ عزوجل کی رضوان حضور پر ہو اورحضور کے برکات سے ہم کو نفع دے
[نزہۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ سید الشریف عبدالقادر (قلمی نسخہ)ص۳۲ بحوالہ فتاوی رضویہ شریف جلد ٢٨ ص ٣٩٦ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن]
مذکورہ بالا اقتباس سے نیم روز کی طرح واضح ہو گیا کہ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرشتوں کے پیروں کے بھی پیر ہیں
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرشتے تو معصوم ہیں پھر انھیں بیعت کی کیا حاجت ؟ بیعت تو اصلاح حال کے لیے ہوتی ہے ؟
اس کا جواب یہ کہ ہے کہ بیعت نام ہے عہد و پیمان کا اور یہ ضروری نہیں کہ عہد و پیمان غیر معصوم ہی سے لیں بلکہ معصومین سے بھی عہد و پیمان لیا جاتا ہے ، جس کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔

بیعت کا لغوی معنی :

المنجد میں ہے : البیعۃ، عہد و پیمان [المنجد ص ٧٨ ]
القاموس الوحید میں ہے: البیعۃ ، عہدو پیمان [القاموس الوحید ص ١٩٠]
ساتھ میں میثاق کا معنی بھی دیکھ لیں تاکہ آگے کی باتیں سمجھنے میں آسانی میسر ہوں گی ،
المنجد میں ہے : الموثق المیثاق، عہد جمع مواثق و میاثیق [المجد ص ٩٥٩]

بیعت کا اصطلاحی معنی___

دینی و دنیوی امور میں شریعت کی پیروی کرنے کے لیے کسی کو رہبر و رہنما ماننے اور اس کے کہنے پر عمل کرنے کا عہد۔
اب اس تعریف کے تناظر میں دیکھتے ہیں کہ جو معصومین یعنی انبیا علیھم السلام ہیں ان سے عہد لیا گیا یا نہیں شریعت پر عمل کرنے کے لیے انبیا علیھم السلام نے کسی کو اپنا رہبر و رہنما منتخب کیا یا نہیں،
دیکھیے اللہ جل و نے فرمایا :
وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ [سورۃ آل عمران آیت نمبر ٨١/٨٢]
ترجمۂ کنز الایمان:
اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔ تو جو کوئی اس کے بعد پھرے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔
اب اس آیت کریمہ کے تحت حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے کچھ اہم نکات فتاوی رضویہ شریف رسالہ تجلی الیقین سے ملاحظہ فرمائیں،
فتاوی رضویہ شریف میں ہے:
آیۂ لتؤمنن بہٖ ولتنصرنہ کے بعض لطائف
اقول: وباللہ التوفیق (میں اللہ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں) پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس مضمون کو قرآن عظیم نے کس قدر مہتم بالشان ٹھہرایا اورطرح طرح سے مؤکد فرمایا۔
اوّلاً انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء معصومین ہیں۔
زنہار حکم الہٰی کاخلاف ان سے محتمل نہیں ۔ کافی تھا کہ رب تبارک وتعالٰی بطریق امر انہیں ارشادفرماتا اگر وہ نبی تمہارے پاس آئے اس پر ایمان لانا اوراس کی مدد کرنا، مگر اس قدر پر اکتفاء نہ فرمایا بلکہ ان سے عہد وپیمان لیا، یہ عہد عہدِ الست بربکم (؂القرآن الکریم ۷ /۱۷۲)
(کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں)کے بعد دوسرا پیمان تھا، جیسے کلمہ طیبہ میں
لاالہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ تاکہ ظاہر ہوکہ تمام ماسوائے اللہ پر پہلا فرض ربوبیت الہٰیہ کا اذعان ہے ۔
پھر اس کے برابر رسالت محمدیہ پر ایمان ، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک وشرف وبجل وعظم۔
ثانیاً اس عہد کو لامِ قسم سے مؤکد فرمایا:
لتؤمنن بہٖ ولتنصرنہ (؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
تم ضرور اس کی مدد کرنا اورضروراس پر ایمان لانا۔
جس طرح نوابوں سے بیعتِ سلاطین پر قسمیں لی جاتی ہیں ۔ امام سُبکی فرماتے ہیں : شاید سوگندِ بیعت اسی آیت سے ماخوذ ہوئی ہے ۔
ثالثاً نون تاکید۔
رابعاً وہ بھی ثقیلہ لاکر ثقل تاکید کو اور دوبالا فرمایا۔
خامساً یہ کمال اہتمام ملاحظہ کیجئے کہ حضرات انبیاء ابھی جواب نہ دینے پائے کہ خود ہی تقدیم فرما کر پوچھتے ہیں : ء اقررتم کیا اس امر پر اقرارلاتے ہو ؟یعنی کمال تعجیل وتسجیل مقصود ہے ۔
سادساً اس قدر پر بھی بس نہ فرمائی بلکہ ارشاد ہوا :
واخذتم علٰی ذٰلکم اصری۔ (؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
خالی اقرار ہی نہیں بلکہ اس پر میرا بھاری ذمہ لو۔
سابعاً علیہ یا علٰی ھٰذا کی جگہ
علٰی ذٰلکم (؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
فرمایاکہ بُعد اشارت عظمت ہو۔
ثامناً اورترقی ہوئی کہ
فاشھدوا (؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ ۔ حالانکہ معاذ اللہ اقرار کر کے مُکر جانا ان پاک مقدس جنابوں سے معقول نہ تھا۔
تاسعاً کمال یہ ہے کہ فقط ان کی گواہیوں پر بھی اکتفا نہ ہوئی بلکہ ارشادفرمایا:
وانا معکم من الشاھدین۔(؂القرآن الکریم ۳ /۸۱)
میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہوں سے ہوں ۔
عاشراً سب سے زیادہ نہایت کاریہ ہے کہ اس قدر عظیم جلیل تاکیدوں کے بعد بآنکہ انبیاء کو عصمت عطافرمائی ، یہ سخت شدید تہدید بھی فرمادی گئی کہ :
فمن تولّی بعدذٰلک فاولٰئک ھم الفٰسقون(؂القرآن الکریم ۳ /۸۲)
اب وہ جو اس اقرار کے بعد پھرے گا فاسق ٹھہرے گا۔
اللہ ، اللہ ! یہ وہی اعتنائے تام واہتمام تمام ہے جو باری تعالٰی کو اپنی توحید کے بارے میں منظورہوا کہ ملائکہ معصومین کے حق میں ارشاد کرتاہے :
من یقل منھم انی الٰہ من دونہ فذٰلک نجزیہ جھنم کذٰلک نجزی الظٰلمین (۶؂القرآ ن الکریم ۲۱ /۲۹)
جو ان میں سے کہے گا میں اللہ کے سوا معبود ہوں اسے ہم جہنم کی سزادیں گے ، ہم ایسی ہی سزادیتے ہیں ستمگاروں کو ۔
گویا اشارہ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہمیں ایمان کے جز اول لا الٰہ الا اللہ کا اہتمام ہے یونہی جز دوم محمد رسول اللہ سے اعتنائے تام ہے ، میں تمام جہان کا خدا کہ ملائکہ مقربین بھی میری بندگی سے سرنہیں پھیر سکتے اور میرا محبوب سارے عالم کا رسول ومقتدا کہ انبیاء ومرسلین بھی ا س کی بیعت وخدمت کے محیط دائرہ میں داخل ہوئے ۔
[فتاوی رضویہ شریف جلد تیسویں رسالہ نمبر ایک ص ١١/١٢]
قارئین بغور ملاحظہ فرمائیں
حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اتنی وضاحت فرمانے کے بعد اخیر میں فرمایا کہ میرا محبوب سارے عالم کا رسول ومقتدا کہ انبیاء ومرسلین بھی ا سکی بیعت وخدمت کے محیط دائرہ میں داخل ہوئے ۔
اس سے نیم روز کی طرح عیاں ہو گیا کہ تمام انبیا علیھم السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے احاطے میں ہیں یعنی حضور پیر کامل و اکمل ہیں اور تمام انبیا علیھم السلام حضور کے کامل و اکمل مریدین ہیں ،
تو اب وہ سوال تو یہاں پر بھی وارد ہوگا کہ انبیا علیھم السلام کو حضور کی بیعت کے تحت داخل ہونے کیا ضرورت؟
وہ تو معصوم عن الخطا ہیں اور بیعت تو اس لیے لیتے ہیں تاکہ مریدین گناہوں سے بچیں،
اب اس کا جواب کیا ہوگا ؟ تو پتہ چلا کہ بیعت ایک عہدو پیمان کا نام ہے جو کہ اطاعت شریعت پر گامزن رہنے کا عہد و پیمان ہے نہ کہ گناہوں سے بچنے والی علت ہے،
اس مختصر سی تحریر کا خلاصہ یہ نکلا کہ حضرات انبیاء علیھم السلام حضور کی بیعت کے احاطے میں ہیں فرشتے بھی حضور کی بیعت احاطے میں ہیں
معصومین کو بھی بیعت کی حاجت ہے یہ قرآن کریم کی آیت کریمہ سے ثابت ہوا،
لیکن اب ایک سوال یہ اٹھتا ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت میں داخل ہیں خواہ فرشتے ہوں یا انبیا علیھم السلام کیوں کہ حضور افضل الخلق ہیں،
لیکن یہ بات کہاں سے مان لوں کہ حضرت غوث اعظم فرشتوں کے پیروں کے بھی پیر ہیں ؟
تو اس جواب یہ ہے کہ فقہا نے لکھا ہے کہ بعض انسان بعض فرشتوں سے بہتر ہیں ،
بعض فرشتے رسل ہیں تو ظاہر ہے وہ غیر رسل انسان سے بہتر ہیں
حضور غوث الاعظم ان سے افضل ہر گز نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ رسل ہیں اور رسل غیر رسل سے کروڑوں درجہ افضل ہوتے ہیں
بعض فرشتے وہ ہیں جو رسل نہیں ہیں تو حسب مراتب حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ان کے پیر اور ان سے افضل ہیں ہیں ،

مکاشفۃ القلوب میں ہے :

ان اللہ تعالیٰ خلق الخلق علی ثلثۃ ضروب خلق الملائکۃ و رکب فیھم العقل و لم یرکب فیھم الشھوۃ ، و علی البھائم و رکب فیھا الشھوۃ و لم یرکب فیھا العقل ، و خلق ابن آدم و رکب فیہ العقل و الشھوۃ فمن غلبت شھوتہ عقلہ فالبھائم خیر منہ و من غلب عقلہ شھوتہ فھو خیر من الملائکۃ
[مکاشفۃ القلوب الباب الخامس ص ١٥]
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو تین قسموں پر پیدا فرمایا
١) فرشتوں کو پیدا فرمایا ان میں عقل رکھی مگر شہوت سے پاک و منزہ رکھا
٢ ) جانوروں کو پیدا کیا ان میں شہوت رکھی مگر عقل سے عاری رکھا
٣) انسانوں کو پیدا کیا ان میں عقل اور اور شہوت دونوں ودیعت فرمائے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
اب جس انسان کی عقل پر اس کی شہوت غالب آ جاتی ہے وہ جانوروں سے بد تر ہے اور جس مسلمان کی شہوت پر اس کی عقل غالب آجاتی ہے تو وہ فرشتوں سے بہتر ہے ،
اس اقتباس سے یہ واضح ہو گیا کہ فرشتوں سے انسان افضل ہوتے ہیں جس کی قدرے تفصیل ما قبل میں گزری،
اللہ جل و علا ہمیں حق سننے اور حق بولنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
59
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

رد مولائیت

فرقۂ ضالہ “مولائی” کا رد بلیغ دلائل کی روشنی میں

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢