صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]
شخصیات اسلاف واخلاف

یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
٢٠١٤ء میں راقم الحروف جامعہ قادریہ کنز الایمان ممبئی اندھیری [بانی ادارہ خلیفۂ تاج الشریعہ ناصر ملت حضرت مولانا غلام ناصر دام ظلہ العالی] میں دورۂ حفظ میں زیر تعلیم تھا دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی [بانی ادارہ خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضور سراج ملت علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ] میں تقریری و تحریری مقابلہ کا پروگرام رکھا گیا تھا جس پرگرام میں برائے تقریر حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی غفر لہ المولی القدیر نے بھی حصہ لیا خلیفۂ تاج الشریعہ صاحب تصانیف کثیرہ ادیب شہیر فقیہ عصر خلیق و شفیق حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد رضوی مصباحی علیگ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی نے تقریر لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی جس کا عنوان ہے
حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین
اس تقریر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ محبت ہونی چاہیے اس کو اجاگر کیا گیا ہے اور اسی کی روشنی میں خلیفۂ و تلمیذ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ مفتی الشاہ سید ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ الباری کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسی محبت و انسیت تھی اور آپ کے اندر کس درجہ تصلب فی الدین تھا دلائل و براہین سے مزین اچھے پیرائے میں پرو کر ثابت کیا گیا ہے یہ تقریر دور حاضر کے خانقاہی غیر خانقاہی تمامی حضرات کے لیے مشعل راہ ہے خصوصاً وہ حضرات جو سب فرقے کے لوگوں کو صحیح بتاتے ہیں اور خود کے صلح کلی ہونے کا پتہ دیتے ہیں اور گستاخان نبی و صحابہ کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں ان کے لیے سامان عبرت ہے
مکمل تقریر قارئین کرام کے باصر نواز کرتا ہوں تاکہ پڑھ کر راقم الحروف کو دعاؤں سے نوازیں اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے لیے بلندی درجات کی دعا فرمائیں
تقریر ________
حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح}
لَّا تَجِدُ قَوۡمࣰا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ یُوَاۤدُّونَ مَنۡ حَاۤدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوۤا۟ ءَابَاۤءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَاۤءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَ ٰ⁠نَهُمۡ أَوۡ عَشِیرَتَهُمۡۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَتَبَ فِی قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِیمَـٰنَ وَأَیَّدَهُم بِرُوحࣲ مِّنۡهُۖ {سورة المجادلة}
حضرات محترم مدینے کے آقا ہم سب کے داتا حضور پُرنور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ گوہر بار میں جھوم جھوم کر درد و سلام کی ڈالیاں نچاور کریں اور پڑھیں بآواز بلند
اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد معدن الجود و الکرم و آلہ الکرام و ابنہ الکریم و آلہ و بارک و سلم
حضرات محترم میں نے ابھی ابھی آپ کے سامنے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس کا ترجمہ اعلی حضرت کنز الکرامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ یوں قلم بند کرتے ہیں
محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔
تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سےجنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اسی لیے تو ڈاکٹر اقبال ارشاد فرماتے ہیں
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
حضور سرور کائنات فخر موجودات سید المرسلین خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے والہانہ عشق کا تقاضا ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے عداوت اور دوری رکھی جائے یہ عمل اللہ کی بارگاہ میں بے حد مقبول ہے۔ حدیث پاک میں ہے
احب الاعمال الی اللہ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے کے لیے اللہ کے محبوبوں سے سے محبت کرے اور اللہ کی رضا کے لیے اس کے دشمنوں سے نفرت کرے
اسی لیے تو سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ پکار اٹھتے ہیں
دشمن احمد پہ شدت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروت کیجیے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجیے
غیظ میں جل جائے بے دینوں کے دل
یا رسول اللہ کی کثرت کیجیے
حضرات گرامی سورۂ فتح کی میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس میں اللہ رب العزت عاشقان رسول حضرات صحابۂ کرام کی مدح فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح}
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دشمنوں پر شدت اور اللہ کے دوستوں اور مسلمانوں پر رحمت اللہ کو اس قدر محبوب ہے کہ خود قرآن میں اس کی مدحت میں آیت کریمہ اتارتا ہے اسے اپنی پسندیدگی کی نشانی قرار دیتا ہے اسے اپنی محبت کی علامت فرماتا ہے جبھی ڈاکٹر اقبال بندۂ مومن کی پہچان یہ بتاتے ہیں
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
دوسری آیت کریمہ میں حضرات صحابہ خاص طور سے حضور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں ارشاد فرماتا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ و رسول سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان بارگاہوں کی دشمنوں اور گستاخوں سے یاری نہیں کر سکتے دوستی نہیں کر سکتے انھیں اپنا نہیں سمجھ سکتے ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں قائم کر سکتے اگر چہ وہ دنیاوی رشتے میں کچھ بھی لگتے ہوں چاہے وہ بھائی ہوں یا باپ چچا ہوں یا دادا، دادیہالی رشتہ دار ہوں یا نانیہالی یا بیوی کے گھر والے ہوں یا شوہر کے اگر وہ اللہ و رسول سے کٹ گئے تو پھر ان سے کوئی رشتہ نہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تصلب فی الدین اللہ تعالی کو کس قدر محبوب اور مطلوب ہے اسی لیے سرکار مفتی اعظم کے پیر و مرشد سرکار نور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ فرماتے ہیں
اپنے سچے دین پر اتنے سخت اور مضبوط ہوں کہ دوسرے متعصب جانیں، اس لیے کہ دین حق میں مضبوطی پسندیدہ بات ہے اور دین باطل پر مضبوطی حماقت اور بری چیز ہے
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حضور ملک العلما فاضل بہار سید شاہ محمد ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ میں اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تصلب فی الدین کس درجہ موجود تھا حضور سرکار ملک العلما فاضل بہار سید شاہ ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ جو بہار کی نامور سر زمین میں پیدا ہوئے ١٠ محرم الحرام ١٣٠٣ھ میں ایک دیندار سید گھرانے میں آپ کی آنکھ کھلی اور مختلف مدارس سے ہوتے ہوئے سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت عاشق ماہ رسالت مجدد دین و ملت الشاہ احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں کیا پہنچے کہ ذرہ سے آفتاب بن گئے قطرہ سے دریا بن گئے ظفر الدین سے ملک العلما بن گئے وہی اعلی حضرت جن کے بارے میں انھیں کے نیاز مند فاتح یورپ و ایشیا حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیم جام عرفان اے شہ احمد رضا تم ہو
ملک العلما اسی مجدد وقت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے فیض یافتہ تھے جن کا تصلب فی الدین پوری دنیائے سنیت میں مشہور ہے انھیں کا فرمان عالی شان ہے
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رب العزت جل جلالہ کے نور ہیں حضور سے صحابہ روشن ہوئے ان سے تابعین روشن ہوئے تابعین سے تبع تابعین روشن ہوئے ان سے ائمۂ مجتہدین روشن ہوئے ان سے ہم روشن ہوئے اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو،
وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت ان کی تعظیم اور ان کے دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم اور ان کے دشمنوں سے سچی عداوت جس سے خدا اور رسول کی شان میں ادنی بھی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فورا اس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو
تو بھلا حضرت ملک العلما کا تصلب فی الدین کیسا ہوگا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے حضرت ملک العلما پوری زندگی تصلب فی الدین کی فکری اور عملی تصویر تھے آپ نے ہمیشہ احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام دیا وہابیوں غیر مقلدوں سے مناظرے کیے خود آپ کے مربی استاد و مرشد اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو کئی جگہ مناظرے کے لیے بھیجا آپ نے طالب علمی کے زمانے میں بریلی شریف میں اپنے ہم درس سید عبد الرشید عظیم آبادی کے ساتھ جا کر اشرف علی تھانوی سے بحث و مناظرہ کیا اور اسے لاجواب کر دیا آپ نے اپنے فتاوی میں دیوبندیوں، شیعوں، غیر مقلدوں، وہابیوں سب کا رد کیا اور اہل سنت کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا آپ نے بائیس سال کی عمر میں میوات میں ١٣٢٦ھ میں وہابیوں دیوبندیوں سے مناظرہ کیا اور فاتح رہے اس کی روداد اپنی کتاب شکست سفاہت میں بیان فرمائی
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے راندیر مناظرہ کے لیے بھیجا جہاں آپ نے وہابیوں دیوبندیوں کو خاموش کر دیا ١٩٢٥ء میں پٹنہ ضلع لوگرا میں غیر مقلدوں وہابیوں سے مناظرہ کیا وہابی مناظر آپ کے سامنے نہیں آیا اور وہابیوں کی ذلت آمیز شکست ہوئی جس کو دیکھ کر سامعین میں سے دو سو سے زیادہ غیر مقلد آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوئے آپ کی نو کتابیں بد مذہبوں سے رد و مناظرہ کے موضوع پر ہیں
پٹنہ میں ایک مرتبہ چاند کے مسئلے پر وہابیوں نے طوفان اٹھا رکھا تھا آپ نے اپنی کتاب عید کا چاند میں مولانا شاہ فرید الحق عمادی کو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
امسال وہابیوں اور امارتیوں نے محض ریڈیو اور فون پر روضہ توڑا اور دوسروں کا روضہ توڑوایا اس لیے ارادہ ہے کہ مشاہیر علما سے فتاوی حاصل کر کے ایک کمیٹی بنا دی جائے کہ اس کے اعلان کے بغیر لوگ عید میں کسی کی بات نہ سنیں اور کمیٹی کا اصول و دستور حسب فتاوی علما ہوگا
غرض اعلی حضرت کے شیر ہمارے سرکار ملک العلما زندگی بھر تصلب فی الدین کی تصویر تھے بد مذہبوں کا تعاقب کرنا اور ان سے دور و نفور رہنا ان کا شیوہ رہا اسی لیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
[علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کی لکھی ہوئی تقریر مکمل ہوئی]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
متذکرہ بالا تقریر علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ نے لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی میں نے اسے زبانی یاد کی اور مقررہ تاریخ میں دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی پہنچا میرا نام لیا گیا میں نے تقریر کی اور وہیں بیٹھا رہا کچھ دیر کے بعد علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ تشریف لائے سب کھڑے ہو گئے میں اس منظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور دل ہی دل میں سوچا کہ علامہ ساحل شہسرامی کی تعظیم کے لیے اتنے بڑے بڑے علما جو عمر میں بھی بہت بڑے ہیں کھڑے ہو گئے پھر جب رات ہوئی تو جلسے میں نقیب صاحب ممبر رسول میں بیٹھے ہوئے علما کا تعارف پیش کر رہے تھے جب علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کا نام لیا تو اخیر میں بولا یہ کیا کیا ہیں میں آپ حضرات کو کیا بتاؤں یعنی بہت کچھ ہیں جس کی وجہ سے میرے دل میں ان کی محبت اور راسخ ہو گئی اور ان کا علمی قد دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اختتام جلسہ پر تمام شرکاء مقابلہ کو حضور سراج ملت خلیفۂ تاجدار اہل سنت مفتی اعظم ہند علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ نے انعامات تقسیم کیے انھیں انعامات میں مجھے ایک کتاب خطرہ کی گھنٹی ملی جو طاہر القادری کی تردید میں لکھی گئی ہے تبھی سے میں واصف عیسائی و یہودی طاہر القادری کے باطل عقائد و نظریات سے واقف ہوں
غرض یہ کہ علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی کی رہنمائی راقم الحروف کو ہر موڑ پر حاصل رہی جس کی وجہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا آج ان کے جیسا ایک مخلص مربی کی تلاش راقم الحروف کو ہے اللہ کرے کہ جلد ملائے اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

یادگار ساحل بقلم ساحل [حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی
تخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
رابطہ نمبر: 9523788434
٢٠١٤ء میں راقم الحروف جامعہ قادریہ کنز الایمان ممبئی اندھیری [بانی ادارہ خلیفۂ تاج الشریعہ ناصر ملت حضرت مولانا غلام ناصر دام ظلہ العالی] میں دورۂ حفظ میں زیر تعلیم تھا دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی [بانی ادارہ خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضور سراج ملت علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ] میں تقریری و تحریری مقابلہ کا پروگرام رکھا گیا تھا جس پرگرام میں برائے تقریر حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی غفر لہ المولی القدیر نے بھی حصہ لیا خلیفۂ تاج الشریعہ صاحب تصانیف کثیرہ ادیب شہیر فقیہ عصر خلیق و شفیق حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد رضوی مصباحی علیگ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی نے تقریر لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی جس کا عنوان ہے
حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین
اس تقریر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ محبت ہونی چاہیے اس کو اجاگر کیا گیا ہے اور اسی کی روشنی میں خلیفۂ و تلمیذ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ مفتی الشاہ سید ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ الباری کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسی محبت و انسیت تھی اور آپ کے اندر کس درجہ تصلب فی الدین تھا دلائل و براہین سے مزین اچھے پیرائے میں پرو کر ثابت کیا گیا ہے یہ تقریر دور حاضر کے خانقاہی غیر خانقاہی تمامی حضرات کے لیے مشعل راہ ہے خصوصاً وہ حضرات جو سب فرقے کے لوگوں کو صحیح بتاتے ہیں اور خود کے صلح کلی ہونے کا پتہ دیتے ہیں اور گستاخان نبی و صحابہ کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں ان کے لیے سامان عبرت ہے
مکمل تقریر قارئین کرام کے باصر نواز کرتا ہوں تاکہ پڑھ کر راقم الحروف کو دعاؤں سے نوازیں اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے لیے بلندی درجات کی دعا فرمائیں
تقریر ________
حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح}
لَّا تَجِدُ قَوۡمࣰا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ یُوَاۤدُّونَ مَنۡ حَاۤدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوۤا۟ ءَابَاۤءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَاۤءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَ ٰ⁠نَهُمۡ أَوۡ عَشِیرَتَهُمۡۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَتَبَ فِی قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِیمَـٰنَ وَأَیَّدَهُم بِرُوحࣲ مِّنۡهُۖ {سورة المجادلة}
حضرات محترم مدینے کے آقا ہم سب کے داتا حضور پُرنور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ گوہر بار میں جھوم جھوم کر درد و سلام کی ڈالیاں نچاور کریں اور پڑھیں بآواز بلند
اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد معدن الجود و الکرم و آلہ الکرام و ابنہ الکریم و آلہ و بارک و سلم
حضرات محترم میں نے ابھی ابھی آپ کے سامنے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس کا ترجمہ اعلی حضرت کنز الکرامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ یوں قلم بند کرتے ہیں
محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔
تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سےجنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اسی لیے تو ڈاکٹر اقبال ارشاد فرماتے ہیں
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
حضور سرور کائنات فخر موجودات سید المرسلین خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے والہانہ عشق کا تقاضا ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے عداوت اور دوری رکھی جائے یہ عمل اللہ کی بارگاہ میں بے حد مقبول ہے۔ حدیث پاک میں ہے
احب الاعمال الی اللہ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے کے لیے اللہ کے محبوبوں سے سے محبت کرے اور اللہ کی رضا کے لیے اس کے دشمنوں سے نفرت کرے
اسی لیے تو سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ پکار اٹھتے ہیں
دشمن احمد پہ شدت کیجیے
ملحدوں کی کیا مروت کیجیے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجیے
غیظ میں جل جائے بے دینوں کے دل
یا رسول اللہ کی کثرت کیجیے
حضرات گرامی سورۂ فتح کی میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس میں اللہ رب العزت عاشقان رسول حضرات صحابۂ کرام کی مدح فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح}
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دشمنوں پر شدت اور اللہ کے دوستوں اور مسلمانوں پر رحمت اللہ کو اس قدر محبوب ہے کہ خود قرآن میں اس کی مدحت میں آیت کریمہ اتارتا ہے اسے اپنی پسندیدگی کی نشانی قرار دیتا ہے اسے اپنی محبت کی علامت فرماتا ہے جبھی ڈاکٹر اقبال بندۂ مومن کی پہچان یہ بتاتے ہیں
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
دوسری آیت کریمہ میں حضرات صحابہ خاص طور سے حضور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں ارشاد فرماتا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ و رسول سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان بارگاہوں کی دشمنوں اور گستاخوں سے یاری نہیں کر سکتے دوستی نہیں کر سکتے انھیں اپنا نہیں سمجھ سکتے ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں قائم کر سکتے اگر چہ وہ دنیاوی رشتے میں کچھ بھی لگتے ہوں چاہے وہ بھائی ہوں یا باپ چچا ہوں یا دادا، دادیہالی رشتہ دار ہوں یا نانیہالی یا بیوی کے گھر والے ہوں یا شوہر کے اگر وہ اللہ و رسول سے کٹ گئے تو پھر ان سے کوئی رشتہ نہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تصلب فی الدین اللہ تعالی کو کس قدر محبوب اور مطلوب ہے اسی لیے سرکار مفتی اعظم کے پیر و مرشد سرکار نور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ فرماتے ہیں
اپنے سچے دین پر اتنے سخت اور مضبوط ہوں کہ دوسرے متعصب جانیں، اس لیے کہ دین حق میں مضبوطی پسندیدہ بات ہے اور دین باطل پر مضبوطی حماقت اور بری چیز ہے
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حضور ملک العلما فاضل بہار سید شاہ محمد ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ میں اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تصلب فی الدین کس درجہ موجود تھا حضور سرکار ملک العلما فاضل بہار سید شاہ ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ جو بہار کی نامور سر زمین میں پیدا ہوئے ١٠ محرم الحرام ١٣٠٣ھ میں ایک دیندار سید گھرانے میں آپ کی آنکھ کھلی اور مختلف مدارس سے ہوتے ہوئے سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت عاشق ماہ رسالت مجدد دین و ملت الشاہ احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں کیا پہنچے کہ ذرہ سے آفتاب بن گئے قطرہ سے دریا بن گئے ظفر الدین سے ملک العلما بن گئے وہی اعلی حضرت جن کے بارے میں انھیں کے نیاز مند فاتح یورپ و ایشیا حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیم جام عرفان اے شہ احمد رضا تم ہو
ملک العلما اسی مجدد وقت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے فیض یافتہ تھے جن کا تصلب فی الدین پوری دنیائے سنیت میں مشہور ہے انھیں کا فرمان عالی شان ہے
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رب العزت جل جلالہ کے نور ہیں حضور سے صحابہ روشن ہوئے ان سے تابعین روشن ہوئے تابعین سے تبع تابعین روشن ہوئے ان سے ائمۂ مجتہدین روشن ہوئے ان سے ہم روشن ہوئے اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو،
وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت ان کی تعظیم اور ان کے دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم اور ان کے دشمنوں سے سچی عداوت جس سے خدا اور رسول کی شان میں ادنی بھی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فورا اس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو
تو بھلا حضرت ملک العلما کا تصلب فی الدین کیسا ہوگا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے حضرت ملک العلما پوری زندگی تصلب فی الدین کی فکری اور عملی تصویر تھے آپ نے ہمیشہ احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام دیا وہابیوں غیر مقلدوں سے مناظرے کیے خود آپ کے مربی استاد و مرشد اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو کئی جگہ مناظرے کے لیے بھیجا آپ نے طالب علمی کے زمانے میں بریلی شریف میں اپنے ہم درس سید عبد الرشید عظیم آبادی کے ساتھ جا کر اشرف علی تھانوی سے بحث و مناظرہ کیا اور اسے لاجواب کر دیا آپ نے اپنے فتاوی میں دیوبندیوں، شیعوں، غیر مقلدوں، وہابیوں سب کا رد کیا اور اہل سنت کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا آپ نے بائیس سال کی عمر میں میوات میں ١٣٢٦ھ میں وہابیوں دیوبندیوں سے مناظرہ کیا اور فاتح رہے اس کی روداد اپنی کتاب شکست سفاہت میں بیان فرمائی
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے راندیر مناظرہ کے لیے بھیجا جہاں آپ نے وہابیوں دیوبندیوں کو خاموش کر دیا ١٩٢٥ء میں پٹنہ ضلع لوگرا میں غیر مقلدوں وہابیوں سے مناظرہ کیا وہابی مناظر آپ کے سامنے نہیں آیا اور وہابیوں کی ذلت آمیز شکست ہوئی جس کو دیکھ کر سامعین میں سے دو سو سے زیادہ غیر مقلد آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوئے آپ کی نو کتابیں بد مذہبوں سے رد و مناظرہ کے موضوع پر ہیں
پٹنہ میں ایک مرتبہ چاند کے مسئلے پر وہابیوں نے طوفان اٹھا رکھا تھا آپ نے اپنی کتاب عید کا چاند میں مولانا شاہ فرید الحق عمادی کو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
امسال وہابیوں اور امارتیوں نے محض ریڈیو اور فون پر روضہ توڑا اور دوسروں کا روضہ توڑوایا اس لیے ارادہ ہے کہ مشاہیر علما سے فتاوی حاصل کر کے ایک کمیٹی بنا دی جائے کہ اس کے اعلان کے بغیر لوگ عید میں کسی کی بات نہ سنیں اور کمیٹی کا اصول و دستور حسب فتاوی علما ہوگا
غرض اعلی حضرت کے شیر ہمارے سرکار ملک العلما زندگی بھر تصلب فی الدین کی تصویر تھے بد مذہبوں کا تعاقب کرنا اور ان سے دور و نفور رہنا ان کا شیوہ رہا اسی لیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
میرے ظفر کو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں
[علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کی لکھی ہوئی تقریر مکمل ہوئی]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
متذکرہ بالا تقریر علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ نے لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی میں نے اسے زبانی یاد کی اور مقررہ تاریخ میں دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی پہنچا میرا نام لیا گیا میں نے تقریر کی اور وہیں بیٹھا رہا کچھ دیر کے بعد علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ تشریف لائے سب کھڑے ہو گئے میں اس منظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور دل ہی دل میں سوچا کہ علامہ ساحل شہسرامی کی تعظیم کے لیے اتنے بڑے بڑے علما جو عمر میں بھی بہت بڑے ہیں کھڑے ہو گئے پھر جب رات ہوئی تو جلسے میں نقیب صاحب ممبر رسول میں بیٹھے ہوئے علما کا تعارف پیش کر رہے تھے جب علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کا نام لیا تو اخیر میں بولا یہ کیا کیا ہیں میں آپ حضرات کو کیا بتاؤں یعنی بہت کچھ ہیں جس کی وجہ سے میرے دل میں ان کی محبت اور راسخ ہو گئی اور ان کا علمی قد دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اختتام جلسہ پر تمام شرکاء مقابلہ کو حضور سراج ملت خلیفۂ تاجدار اہل سنت مفتی اعظم ہند علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ نے انعامات تقسیم کیے انھیں انعامات میں مجھے ایک کتاب خطرہ کی گھنٹی ملی جو طاہر القادری کی تردید میں لکھی گئی ہے تبھی سے میں واصف عیسائی و یہودی طاہر القادری کے باطل عقائد و نظریات سے واقف ہوں
غرض یہ کہ علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی کی رہنمائی راقم الحروف کو ہر موڑ پر حاصل رہی جس کی وجہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا آج ان کے جیسا ایک مخلص مربی کی تلاش راقم الحروف کو ہے اللہ کرے کہ جلد ملائے اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
61
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

فخر اہل سنت ایوارڈ و ناموس صحابہ و اہل بیت ایوارڈ

تمرن مناظرہ کی ایک جھلک______

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢