صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سرکار اعلیٰ حضرت بحیثیتِ فقیہ
شخصیات اسلاف واخلاف

سرکار اعلیٰ حضرت بحیثیتِ فقیہ

✍️ Muhammad Anas Raza Haami

سرکار اعلیٰ حضرت بحیثیتِ فقیہ
چشم و چراغِ خاندانِ برکات، مجددِ دین و ملت، امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے کثیر علوم و فنون میں غیر معمولی مہارت عطا فرمائی- عاشق ماہِ نبوت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمتہ والرضوان کی علمی شخصیت ایسی ہمہ گیر ہے کہ کوئی فن ایسا نہیں جس میں سرکار اعلیٰ حضرت نے اپنے قلم سے تحقیق و تدقیق کے انمول موتی نہ بکھیرے ہوں۔ علم تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث، اسانید، تخریج، جرح و تعدیل، اسماء الرجال، لغت، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، فرائض، تجوید، کلام، مناظرہ، سیرت و فضائل، تاریخ، تصوف و سلوک، اذکار، اخلاق، ادب، نحو، صرف، منطق، فلسفہ، لغت، عروض، توقیت، اوفاق، جفر، زیجات اور لوگارثم وغیرہ جیسے متعدد علوم میں امام اہل سنت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی مہارت اہلِ علم سے خراجِ تحسین حاصل کر چکی ہے۔
تاہم ان تمام علوم میں ”فقہ“ وہ میدان ہے جس میں امامِ اہلِ سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا میدان سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ امام کی قوتِ استنباط، دقتِ نظر، وسعتِ مطالعہ اور فقہی بصیرت ایسی ہے کہ اکابر علماء بھی امام کے علمی تبحر کے معترف رہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہِ حنفی کی تاریخ میں امام کا مقام نہایت بلند اور منفرد دکھائی دیتا ہے۔ امام اہل سنت رضی الله تعالیٰ عنہ کی فقہی بصیرت کے چند روشن پہلووں کا مطالعہ کریں۔
فقہ میں امام اہل سنت رضی اللہ کی تصنیفات:
کسی فن میں انسان کی مہارت کا ایک واضح معیار اس فن میں اس کی علمی خدمات اور تصانیف ہوتی ہیں۔ سیدنا سکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقہِ اسلامی کی خدمت میں جو سرمایہ چھوڑا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقہ پر تقریبا 235؍کتابیں تحریر فرمائی ہیں جن میں 47؍بڑی کتب بر حواشی ہیں۔ نیز اصول فقہ میں 6؍کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ یہ اعداد ہی اس بات پر شاہد ہیں کہ فقہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خصوصی میدان تھا۔
امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فقہی تصانیف میں اعلام الإعلام بأن هندوستان دار الإسلام، انوار الانتباه فى حل نداء یا رسول الله ﷺ، انجح الجد في حفظ المسجد، الجود الحلو في احكام الوضو، تنویر القنديل فى اوصاف المنديل، نبه القوم ان الوضوء من اى نوم، بركات السماء فی حکم اسراف الماء، جمل النور في نهى النساء عن زيارة القبور اور اور دیگر کثیر تعداد میں علمی شاہکار شامل ہیں۔
البتہ ان تمام تصانیف میں ”فتاویٰ رضویہ“ کو امتیازِ خاص حاصل- یہ عظیم فقہی انسائیکلوپیڈیا صرف فتاویٰ کا مجموعہ نہیں بلکہ فقہ حنفی، اصول فقہ، حدیث و تفسیر اور دلائل شرعیہ کا ایک ایسا علمی خزانہ ہے جس کا ہر ہر صفحہ امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غیر معمولی فقہی تبحر اور قوتِ استنباط کی روشن دلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی علمائے اہل سنت اس سے فیض حاصل کر رہے ہیں۔ حضرت سید محمد اشرف میاں قادری مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں:
منار قصر رضا تو بلند کافی ہے
تم اس کے پہلے ہی زینے یہ چڑھ کے دکھلا دو
فتاویٰ رضویہ تو اک کرامت ہے
ذرا حدائق بخشش ہی پڑھ کے دکھلا دو
جزئی فقہی مسائل میں بصیرت :
امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک قول بیان کیا جاتا ہے:
ہاتھ پر اگر کوئی نجاست لگی ہے کہ ہاتھ سے چھوٹ کر لگ جائے گی تو چھونا جائز نہیں اگرچہ لوٹا نہ مسجد کا ہو نہ کسی دوسرے شخص کا بلکہ خود اپنی ملک ہو کہ بلا ضرورت پاک شئ کو ناپاک کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ بحر الرائق بحث ماء مستعمل میں بدائع سے ہے تنجیش الطاهر حرام (پاک کو ناپاک کرنا حرام ہے) اور اگر نجاست نہیں صرف نہانے کی حاجت ہے تو جائز ہے اگرچہ ہاتھ یا لوٹا تر ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ شریف، ج1)
امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فقہی دقتِ نظر اور جزئی مسائل پر غیر معمولی عبور کا اندازہ سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان کی کتاب ”النور والرونق لاسفار الماء المطلق“ سے بخوبی ہوتا ہے۔ اس عظیم و فقہی شاہکار میں سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان نے صرف مسئلہ بیان فرمانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پانی اور تیمم سے متعلق کثیر جزئی صورتوں کا ایسا جامع احاطہ فرمایا ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کے لئے قابل استعمال پانی کی 160؍صورتیں اور ناقابل استعمال پانی کی 146؍صورتیں تفصیل کے ساتھ ذکر فرمائیں۔ حق یہ ہے کہ پانی کی اقسام و انواع کا تجزیہ کر کے پانی پانی کر دیا۔
مزید یہ کہ 175؍ایسی صورتیں بیان فرمائیں جن میں پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے تیمم جائز ہوتا ہے۔ اسی طرح تیمم کے لئے جن چیزوں کا استعمال درست ہے ان کی 181؍اقسام شمار فرمائیں جن میں 107؍صورتیں آپ کے اپنی دقیق نظر اور قوت استنباط کا نتیجہ ہیں۔ جبکہ جن اشیاء سے تیمم جائز نہیں ان کی 130؍صورتیں ذکر فرمائیں جن میں 72؍کا اضافہ بھی خود امام اہل سنت کی تحقیق کا ثمرہ ہے۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمة والرضوان فقہ کے کلیات نہیں بلکہ اس کی باریک ترین جزئیات پر بھی ہے مثال مہارت رکھتے۔
نصف صدی کا احاطہ کرتی فقہی خدمات:
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی پوری حیاتِ مبارکہ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تقریبا 55؍سال تک مسلسل فتویٰ نویسی کی عظیم خدمات انجام دیں۔ وجہ یہ ہے کہ پہلا فتویٰ امام نے 13؍سال، 10؍ماہ، 4؍دن کی عمر میں تحریر فرمایا، جبکہ وصال شریف تقریباً 68؍سال کی کی عمر میں ہوا، تو اس اعتبار سے فتویٰ نویسی کا زمانہ تقریبا 55؍سال پر محیط بنتا ہے۔ یہ طویل مدت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقیہِ بے نظیر ہیں۔ خدمات و حالات بھی ایسے کہ فقہ میں سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حدیث میں امام محمد بن اسمٰعیل بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان پر نازاں ہیں۔
پیچیدہ مسائل میں بے مثال فقاہت:
جب بڑے بڑے علماء بھی پیچیدہ مسئلے کے حل سے عاجز آجاتے تو بارگاہِ اعلیٰ حضرت کی طرف رجوع کرتے۔ سیدنا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان اس کا مدلل و محقق اور فیصلہ کن جواب مرحمت فرماتے۔ اس کی نمایاں مثال کرنسی نوٹ کا مسئلہ ہے۔ نوٹ کے ایجاد کے بعد اس کی شرعی حیثیت متعین نہ ہو سکی اور اکابر علماء و فقہاء اس مسئلے میں متحیر تھے اس پر سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان نے ”کفل الفقيه الفاهم فى احكام القرطاس ولادراہم“ کے نام سے مستقل رسالہ تحریر فرمایا۔
علامہ شامی کے کلام پر امام اہل سنت کی محققانہ نظر:
علامہ سید محمد امین ابن عابد شامی فقہ کے جلیل القدر محقق، مدقق اور معتمد فقیہ ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف ”رد المحتار“ صدیوں سے فقہ حنفی کا بنیادی مرجع چلا آ رہا ہے۔ ایسے عظیم فقیہ کی بعض عبارات پر بھی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے علمی استدراکات فرمائے۔ جو امام کے غیر معمولی فقہی تبحر کی روشن دلیل ہے۔
رد المحتار میں ہے کہ کتاب کے اوپر قلمداں رکھنا مکروہ ہے، البتہ اگر لکھنے کی ضرورت ہو تو اجازت ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لکھنے کے لئے بھی کتاب پر رکھنے کی اجازت اس وقت ہوگی جب ضرورت ہو۔ [رد المحتار]
امام احمد رضا خان علیہ الرحمة والرضوان نے ”والظاهر“ پر اعتراض کرتے ہوئے تحریر فرمایا: یہ استظہار کا موقع نہیں بلکہ وہی قطعی طور پر متعین ہے۔ (جد الممتار، ص22]
علامہ شامی نے تعلیق طلاق کے ایک مسئلے کی صورت بیان کرتے ہوئے فرمایا: قضاء ایک طلاق واقع ہوگی اور تنزھا دو۔ (رد المحتار، ج٢، ص، ٢٥٢)
اس پر جدالممتار میں فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اقول هذا من زلة الفاضل المحشی۔ دیانت اور تنزہ کے حکم میں بڑا فرق ہے۔ مناسب یہ تعبیر ہے کہ اول کو حکم و فتویٰ پر اور دوم کو تنزہ و تقویٰ پر محمول کیا جائے گا۔ [جد الممتار، ج۲، ص۱۶۱)
علامہ شامی نے محیط کے حوالے سے نقل فرمایا کہ سیدنا امام محمد رحمه الله تعالیٰ نے سیر کیر میں بیان فرمایا ہے کہ اس میں حرج نہیں کہ مسلمان کہ کسی حربی یا ذمی کافر کو ہدیہ دے اور قبول کرے۔ [رد المحتار، ج،۲ ص٦٧]
اس پر سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے تنبیہ فرمائی کہ کتاب الوصایا میں ہے کہ امام سرخسی کی شریح سیر کبیر کی عبارت ہے سیدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں۔ [جد الممتار، ج۲، ص١٤]
علامہ شامی علیہ الرحمة والرضوان جیسی ہستیوں کی عبادت پر کلام کرنا بتاتا ہے کہ سرکار اعلیٰ حضرت کتنے بڑے فقیہ ہیں۔
فقیہ کی عظمت صرف اس کے علم سے نہیں بلکہ اس کے علم کی بقا اور اس کے اثرات سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان کی فقاہت ایک زندہ حقیقت ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلے وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑے۔ بلکہ آج بھی دار الافتاء، مدارس، جامعات اور علمی مجالس میں ان سے رہنمائی حاصل کی جا رہی ہے۔ نئے مسائل ہوں یا قدیم فقہی مباحث، امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحقیقات ہر دور کے اہل علم کو غور و فکر کا سرمایہ فراہم کرتی ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہ کسی فقیہ کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس کا علم صرف اپنے عہد تک محدود نہ رہے بلکہ آنے والی نسلوں کی علمی رہنمائی کا ذریعہ بن جائے۔ بلا شبہ امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقہ حنفی کی ایسی خدمت انجام دی جو تاریخ فقہ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور جب تک فقہ اسلامی کا چرچہ رہے گا امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام اہل فقہ کے سرخیل محققین میں پوری آب و تاب کے ساتھ کیا جاتا رہے گا۔
از:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی

سرکار اعلیٰ حضرت بحیثیتِ فقیہ

مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami

سرکار اعلیٰ حضرت بحیثیتِ فقیہ
چشم و چراغِ خاندانِ برکات، مجددِ دین و ملت، امامِ اہلِ سنت سرکار اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے کثیر علوم و فنون میں غیر معمولی مہارت عطا فرمائی- عاشق ماہِ نبوت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمتہ والرضوان کی علمی شخصیت ایسی ہمہ گیر ہے کہ کوئی فن ایسا نہیں جس میں سرکار اعلیٰ حضرت نے اپنے قلم سے تحقیق و تدقیق کے انمول موتی نہ بکھیرے ہوں۔ علم تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصولِ حدیث، اسانید، تخریج، جرح و تعدیل، اسماء الرجال، لغت، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، فرائض، تجوید، کلام، مناظرہ، سیرت و فضائل، تاریخ، تصوف و سلوک، اذکار، اخلاق، ادب، نحو، صرف، منطق، فلسفہ، لغت، عروض، توقیت، اوفاق، جفر، زیجات اور لوگارثم وغیرہ جیسے متعدد علوم میں امام اہل سنت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی مہارت اہلِ علم سے خراجِ تحسین حاصل کر چکی ہے۔
تاہم ان تمام علوم میں ”فقہ“ وہ میدان ہے جس میں امامِ اہلِ سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا میدان سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ امام کی قوتِ استنباط، دقتِ نظر، وسعتِ مطالعہ اور فقہی بصیرت ایسی ہے کہ اکابر علماء بھی امام کے علمی تبحر کے معترف رہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہِ حنفی کی تاریخ میں امام کا مقام نہایت بلند اور منفرد دکھائی دیتا ہے۔ امام اہل سنت رضی الله تعالیٰ عنہ کی فقہی بصیرت کے چند روشن پہلووں کا مطالعہ کریں۔
فقہ میں امام اہل سنت رضی اللہ کی تصنیفات:
کسی فن میں انسان کی مہارت کا ایک واضح معیار اس فن میں اس کی علمی خدمات اور تصانیف ہوتی ہیں۔ سیدنا سکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقہِ اسلامی کی خدمت میں جو سرمایہ چھوڑا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقہ پر تقریبا 235؍کتابیں تحریر فرمائی ہیں جن میں 47؍بڑی کتب بر حواشی ہیں۔ نیز اصول فقہ میں 6؍کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ یہ اعداد ہی اس بات پر شاہد ہیں کہ فقہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خصوصی میدان تھا۔
امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فقہی تصانیف میں اعلام الإعلام بأن هندوستان دار الإسلام، انوار الانتباه فى حل نداء یا رسول الله ﷺ، انجح الجد في حفظ المسجد، الجود الحلو في احكام الوضو، تنویر القنديل فى اوصاف المنديل، نبه القوم ان الوضوء من اى نوم، بركات السماء فی حکم اسراف الماء، جمل النور في نهى النساء عن زيارة القبور اور اور دیگر کثیر تعداد میں علمی شاہکار شامل ہیں۔
البتہ ان تمام تصانیف میں ”فتاویٰ رضویہ“ کو امتیازِ خاص حاصل- یہ عظیم فقہی انسائیکلوپیڈیا صرف فتاویٰ کا مجموعہ نہیں بلکہ فقہ حنفی، اصول فقہ، حدیث و تفسیر اور دلائل شرعیہ کا ایک ایسا علمی خزانہ ہے جس کا ہر ہر صفحہ امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غیر معمولی فقہی تبحر اور قوتِ استنباط کی روشن دلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی علمائے اہل سنت اس سے فیض حاصل کر رہے ہیں۔ حضرت سید محمد اشرف میاں قادری مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں:
منار قصر رضا تو بلند کافی ہے
تم اس کے پہلے ہی زینے یہ چڑھ کے دکھلا دو
فتاویٰ رضویہ تو اک کرامت ہے
ذرا حدائق بخشش ہی پڑھ کے دکھلا دو
جزئی فقہی مسائل میں بصیرت :
امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک قول بیان کیا جاتا ہے:
ہاتھ پر اگر کوئی نجاست لگی ہے کہ ہاتھ سے چھوٹ کر لگ جائے گی تو چھونا جائز نہیں اگرچہ لوٹا نہ مسجد کا ہو نہ کسی دوسرے شخص کا بلکہ خود اپنی ملک ہو کہ بلا ضرورت پاک شئ کو ناپاک کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ بحر الرائق بحث ماء مستعمل میں بدائع سے ہے تنجیش الطاهر حرام (پاک کو ناپاک کرنا حرام ہے) اور اگر نجاست نہیں صرف نہانے کی حاجت ہے تو جائز ہے اگرچہ ہاتھ یا لوٹا تر ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ شریف، ج1)
امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فقہی دقتِ نظر اور جزئی مسائل پر غیر معمولی عبور کا اندازہ سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان کی کتاب ”النور والرونق لاسفار الماء المطلق“ سے بخوبی ہوتا ہے۔ اس عظیم و فقہی شاہکار میں سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان نے صرف مسئلہ بیان فرمانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پانی اور تیمم سے متعلق کثیر جزئی صورتوں کا ایسا جامع احاطہ فرمایا ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کے لئے قابل استعمال پانی کی 160؍صورتیں اور ناقابل استعمال پانی کی 146؍صورتیں تفصیل کے ساتھ ذکر فرمائیں۔ حق یہ ہے کہ پانی کی اقسام و انواع کا تجزیہ کر کے پانی پانی کر دیا۔
مزید یہ کہ 175؍ایسی صورتیں بیان فرمائیں جن میں پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے تیمم جائز ہوتا ہے۔ اسی طرح تیمم کے لئے جن چیزوں کا استعمال درست ہے ان کی 181؍اقسام شمار فرمائیں جن میں 107؍صورتیں آپ کے اپنی دقیق نظر اور قوت استنباط کا نتیجہ ہیں۔ جبکہ جن اشیاء سے تیمم جائز نہیں ان کی 130؍صورتیں ذکر فرمائیں جن میں 72؍کا اضافہ بھی خود امام اہل سنت کی تحقیق کا ثمرہ ہے۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمة والرضوان فقہ کے کلیات نہیں بلکہ اس کی باریک ترین جزئیات پر بھی ہے مثال مہارت رکھتے۔
نصف صدی کا احاطہ کرتی فقہی خدمات:
امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی پوری حیاتِ مبارکہ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تقریبا 55؍سال تک مسلسل فتویٰ نویسی کی عظیم خدمات انجام دیں۔ وجہ یہ ہے کہ پہلا فتویٰ امام نے 13؍سال، 10؍ماہ، 4؍دن کی عمر میں تحریر فرمایا، جبکہ وصال شریف تقریباً 68؍سال کی کی عمر میں ہوا، تو اس اعتبار سے فتویٰ نویسی کا زمانہ تقریبا 55؍سال پر محیط بنتا ہے۔ یہ طویل مدت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقیہِ بے نظیر ہیں۔ خدمات و حالات بھی ایسے کہ فقہ میں سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حدیث میں امام محمد بن اسمٰعیل بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان پر نازاں ہیں۔
پیچیدہ مسائل میں بے مثال فقاہت:
جب بڑے بڑے علماء بھی پیچیدہ مسئلے کے حل سے عاجز آجاتے تو بارگاہِ اعلیٰ حضرت کی طرف رجوع کرتے۔ سیدنا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان اس کا مدلل و محقق اور فیصلہ کن جواب مرحمت فرماتے۔ اس کی نمایاں مثال کرنسی نوٹ کا مسئلہ ہے۔ نوٹ کے ایجاد کے بعد اس کی شرعی حیثیت متعین نہ ہو سکی اور اکابر علماء و فقہاء اس مسئلے میں متحیر تھے اس پر سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان نے ”کفل الفقيه الفاهم فى احكام القرطاس ولادراہم“ کے نام سے مستقل رسالہ تحریر فرمایا۔
علامہ شامی کے کلام پر امام اہل سنت کی محققانہ نظر:
علامہ سید محمد امین ابن عابد شامی فقہ کے جلیل القدر محقق، مدقق اور معتمد فقیہ ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف ”رد المحتار“ صدیوں سے فقہ حنفی کا بنیادی مرجع چلا آ رہا ہے۔ ایسے عظیم فقیہ کی بعض عبارات پر بھی سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے علمی استدراکات فرمائے۔ جو امام کے غیر معمولی فقہی تبحر کی روشن دلیل ہے۔
رد المحتار میں ہے کہ کتاب کے اوپر قلمداں رکھنا مکروہ ہے، البتہ اگر لکھنے کی ضرورت ہو تو اجازت ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ لکھنے کے لئے بھی کتاب پر رکھنے کی اجازت اس وقت ہوگی جب ضرورت ہو۔ [رد المحتار]
امام احمد رضا خان علیہ الرحمة والرضوان نے ”والظاهر“ پر اعتراض کرتے ہوئے تحریر فرمایا: یہ استظہار کا موقع نہیں بلکہ وہی قطعی طور پر متعین ہے۔ (جد الممتار، ص22]
علامہ شامی نے تعلیق طلاق کے ایک مسئلے کی صورت بیان کرتے ہوئے فرمایا: قضاء ایک طلاق واقع ہوگی اور تنزھا دو۔ (رد المحتار، ج٢، ص، ٢٥٢)
اس پر جدالممتار میں فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اقول هذا من زلة الفاضل المحشی۔ دیانت اور تنزہ کے حکم میں بڑا فرق ہے۔ مناسب یہ تعبیر ہے کہ اول کو حکم و فتویٰ پر اور دوم کو تنزہ و تقویٰ پر محمول کیا جائے گا۔ [جد الممتار، ج۲، ص۱۶۱)
علامہ شامی نے محیط کے حوالے سے نقل فرمایا کہ سیدنا امام محمد رحمه الله تعالیٰ نے سیر کیر میں بیان فرمایا ہے کہ اس میں حرج نہیں کہ مسلمان کہ کسی حربی یا ذمی کافر کو ہدیہ دے اور قبول کرے۔ [رد المحتار، ج،۲ ص٦٧]
اس پر سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے تنبیہ فرمائی کہ کتاب الوصایا میں ہے کہ امام سرخسی کی شریح سیر کبیر کی عبارت ہے سیدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں۔ [جد الممتار، ج۲، ص١٤]
علامہ شامی علیہ الرحمة والرضوان جیسی ہستیوں کی عبادت پر کلام کرنا بتاتا ہے کہ سرکار اعلیٰ حضرت کتنے بڑے فقیہ ہیں۔
فقیہ کی عظمت صرف اس کے علم سے نہیں بلکہ اس کے علم کی بقا اور اس کے اثرات سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمة والرضوان کی فقاہت ایک زندہ حقیقت ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلے وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑے۔ بلکہ آج بھی دار الافتاء، مدارس، جامعات اور علمی مجالس میں ان سے رہنمائی حاصل کی جا رہی ہے۔ نئے مسائل ہوں یا قدیم فقہی مباحث، امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحقیقات ہر دور کے اہل علم کو غور و فکر کا سرمایہ فراہم کرتی ہیں۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
یہ کسی فقیہ کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس کا علم صرف اپنے عہد تک محدود نہ رہے بلکہ آنے والی نسلوں کی علمی رہنمائی کا ذریعہ بن جائے۔ بلا شبہ امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقہ حنفی کی ایسی خدمت انجام دی جو تاریخ فقہ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور جب تک فقہ اسلامی کا چرچہ رہے گا امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام اہل فقہ کے سرخیل محققین میں پوری آب و تاب کے ساتھ کیا جاتا رہے گا۔
از:
سگِ خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Muhammad Anas Raza Haami

Student - Sadesa | Jamiatur Raza
30
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 81
Kalam 16
Muhammad Anas Raza Haami
زمرہ جات

حضور حجۃ الاسلام کا علمی مقام

آئینے میں کھڑا ہوا ایک اجنبی(صدیوں کے جھروکوں سے)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 45

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 98 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 81 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 63 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 36 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

8 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
45
زمرجات
ادبیات 79
شخصیات اسلاف واخلاف 53
اصلاح معاشرہ 47
تحقیق و تعاقب 34
عقائد و نظریات 27
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 22
سیرت النبی ﷺ 22
تاثرات 21
احوال وطن 14
اسلامیات 12
رد دیوبندیت ووہابیت 12
متفرقات 12
نمایاں مضامین 11
ناویل 11
دفاع اہل سنت 10
خیر وخبر 9
رد بدمذہباں 6
عبادات 5
رضویات 5
ترغیبات 5
تاریخی حقائق 4
حکایات 4
فقہ، اصول فقہ 4
مبارک شب وروز 4
حدیث واہمیت حدیث 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
اوراد و وظائف 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1
ماہ و سال 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢