صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
احوال قوم وملت

سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
منہ پر نقاب ڈال کر اس دور میں جسیم
ہر شخص کر رہا ہے تقاضا جہیز کا
جہیز (Trousseau) عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ جہاز سے بنا ہے یعنی ہر وہ سازو سامان جس کی زوجین کو گھر بسانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے
جہیز اب ایک ایسا سماجی مسئلہ بن چکا ہے جس سے بچہ بچہ واقف ہے یہ لفظ جیسے بولا جاتا ہے ذہن میں عجیب سا تصور پیدا ہو جاتا ہے
ایسا لگتا ہے جہیز کسی شمشیر بے نیام کا نام ہے جو انسان کی گردن پر معلق ہے اگر اس کو بروئے کار نہیں لایا گیا تو ایک سر کیا چیز ہے خاندان کا خاندان تباہ و برباد کر دے گا
یہاں تک کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جائے گا
لیکن یہ فقط ایک تصور ہی نہیں بلکہ بارہا یہ تصور ہمارے سامنے ایک قیامت بن کر کھڑا ہو گیا جس کو دیکھنے کے بعد پتھر سے پتھر دل بھی اپنے آنسوؤں کو ضبط نہ کر سکے
میں اس وقت بات کر رہا ہوں سیمانچل کے بارے میں (سیمانچل بہار کے شمال مشرقی حصے میں میتھیلا علاقے کا ایک ذیلی علاقہ ہے جس میں چار اضلاع ارریہ، پورنیہ، کشن گنج اور کٹیہار شامل ہیں)
جہاں روز بروز جہیز کی وجہ سے سیکڑوں حادثات در پیش ہوتے رہتے ہیں
ماں باپ اپنے سامان گروی رکھ کر دوسروں سے قرض لے کر جہیز ادا کر رہے ہیں
ماں باپ روتے رہتے ہیں بیٹی کی سوچ کر
بیٹی کی جان لے لی تماشا جہیز کا
افسوس صد افسوس
ہمارے یہاں جہیز کلچر اتنا پھول پھل گیا ہے کہ اب آدمی اپنی اوقات سے باہر جاکر شرم و حیا گروی رکھ کر لمبی سی ڈیمناڈ لسٹ پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں
کچھ ایسا ہی حیرت انگیز واقعہ میرے گاؤں میں در پیش ہوا جس کو سنے کے بعد آپ کا بھی دل دہل جائے گا
لڑکی کا باپ تقریبا پانچ سال پہلے طویل مدت تک بستر علالت میں رہ کر داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے جان بحق ہو گیا تھا
اور گھر کا سارا ساز و سامان مہیا کرنا ماں کی ذمہ داری تھی
کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا جس کی عمر صرف آٹھ یا نو سال تھی
ماں ایک بیٹا اور چار بیٹیوں کو بڑے ہی لاڈ پیار سے پالتی تھی کبھی کسی قسم کی دکھ تکلیف پہنچنے نہیں دیتی تھی اپنے بیٹے کو مدرسے میں پڑھاتی بھی تھی
اسی درمیان اپنے ایک بیٹی کی شادی قریب ہی ایک گاؤں میں دلا دی دیکھتے ہی دیکھتے دوسری بیٹی بھی جوان ہو گئی
جو دیکھنے میں نہایت ہی حسین و جمیل تھی اب ماں کو ان کی شادی کی فکر لاحق ہوئی
امید میں تھی کہ ان شاء اللہ میری بیٹی کے لیے کوئی اچھا سا رشتہ آئے گا
ایک دن امید کا سورج دل میں طلوع ہوا
اور لڑکے والے دیکھنے کے لیے گھر پر آئے ماں بہت خوش تھی بڑے ہی فراخ دلی سے مہمان نوازی کی گفتگو و شنید ہوئی جس میں لڑکے والوں نے یہ طے کیا کہ رشتہ یہیں ہوگا
پھر خوشی خوشی مہمانوں کو ماں نے روانہ کیا
لیکن افسوس جب لڑکے والے اپنے گھر پہنچے تو فون کر کے سب سے پہلے جہیز میں بائیک کی مانگ کی
جب ماں نے سنا تو ان کی امیدوں کا سورج شام ہونے سے پہلے ہی دل میں غروب ہو گیا اور بے ساختہ کہنے لگی ہمیں ایسے رشتوں کی کوئی ضرورت نہیں جن کے نزدیک انسان سے زیادہ مال و دولت کی اہمیت ہو
ہمیں یہ رشتہ ہر گز قبول نہیں
پھر اسی امید میں کہ کوئی اچھا رشتہ آجائے امید کا سورج روز طلوع ہوتا پھر غروب ہو جاتا
ایک دن اپنے میکے جارہی تھی کہ اچانک سڑک حادثے میں امیدوں کا چراغ بجھا کر ہمیشہ کے لیے سو گئی
کاش اگر یہ جہیز کی رسم نہیں ہوتی تو ضرور ماں اپنی لاڈلی بیٹی کے ہاتھوں کو رنگ حنا سے رنگین دیکھتی
لیکن افسوس اس جہیز نے ایک ماں کی امید کو پورا نہ ہونے دیا
اللہ ان یتیم بچوں کی غیب سے مدد فرمائے اور مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین
ہم ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں پر امیر لوگ دکھانے کے لیے شادیوں میں خوب خرچ کرتے ہیں مہنگے مہنگے جہیز دیتے ہیں
لیکن جب کسی غریب کی شادی میں مدد کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ساری مصیبتیں انھیں پر آن پڑتیں ہیں
جو ہمارے بھائی غریب طبقہ کے ہیں ان کے یہاں حسین و جمیل تین تین چار چار بیٹیاں ہیں
لیکن جہیز کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کے ہاتھوں کو سرخ کرنے سے مجبور ہیں
اب تو حال یہ ہے کہ لوگ گھر بنا لیتے ہیں اور گھر کو خالی چھوڑ دیتے ہیں
جب ان سے پوچھتے ہیں کیا بات ہے گھر میں کوئی سامان نہیں ہے تو کہتے ہیں ہمارے چار بیٹے ہیں جب ان کی شادی ہوگی تو جہیز میں تو سامان آئے گا ہی پھر کیا کرنے کے لیے خریدیں گے
یعنی اب لوگ اپنا گھر بھی دوسرے کے گھر کو لوٹ کر بسانا چاہتے ہیں
کیسا عجیب رنگ ہے چھایا جہان میں
گھر بار بن رہا ہے نوالہ جہیز کا
بھولا ڈانگی (کٹیہار) میں بڑی دھوم دھام سے بارات آئی ماحول بہت ہی خوش گوار تھا سب کو ناشتہ کرایا جا رہا تھا لیکن کچھ لوگ جو جہیز کے بھکاری ہوتے ہیں کبھی ادھر دیکھتے کبھی ادھر دیکھتے بالآخر ان سے رہا نہ گیا تو کہنے لگے بائیک کہاں ہے کیا لڑکی والے جہیز میں بائیک نہیں دیں گے اب جو سکون سے بیٹھ کر میز پر ناشتہ کھا رہے تھے ان کو بھی ناشتہ تک کھانے نہ دیا اور ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جہیز میں بائیک کیوں نہیں ہے؟
ہمیں ابھی چاہیے بات اتنی بڑھی کہ سب باراتی کھانا کھائے بغیر واپس چلے گئے
ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کر بڑی شان سے یہاں
کم ظرف دیکھتے ہیں ڈرامہ جہیز کا
اب کوئی ان سے پوچھے یہ لوگ شادی کرنے کے لیے جاتے ہیں یا پھر بھیک مانگنے کے لیے جاتے ہیں
لیکن بھیک مانگنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں کبھی کسی فقیر نے بھیک نہ ملنے پر لڑائی نہیں کی
لیکن یہ اتنے بڑے بھکاری ہوتے ہیں کہ بھیک نہ ملنے پر جان تک لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں
اسی لیے تو رفیق ملت سید نجیب میاں برکاتی مارہروی دام ظلہ العالی یوم شہادت شہزادۂ گلگوں قبا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقع پر فرماتے ہیں
تم جہیز مانگنا چھوڑ دو غریبوں کے گھر میں شادی کرنا شروع کر دو شادیاں سادی سادی کر لو شادی کی شین پر جو تین نقطے ہیں ان تین نقطوں کو اڑا دو اور شادی-----سادی سادی کر لو آپ سوچ رہے ہوں گے آج کربلا کا دن ہے اور بات شادی کی ہو رہی ہے یہی تو امام حسین رضی اللہ عنہ کا پیغام ہے (کہ ہر کام میں شریعت کی پابندی ہو) آج کل تم مانگ کرتے ہو یہ مل جائے وہ مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھکاری ہو گئے ہیں ، بیٹیوں کی شادی میں جلدی کرو جہیز کا لالچ چھوڑ دو آج خانقاہ برکاتیہ ماہریرہ مطہرہ سے یہ عہد کر کے جائیں ان شاءاللہ تعالیٰ ہم جہیز نہیں لیں گے
ہاں اگر جہیز دینا ہی ہے تو بس اتنا ہی دو اس سے زیادہ ہرگز نہ دو
برتن ایک عدد، چارپائی درمیانی ایک عدد، (اس دور میں چارپائی کی جگہ درمیانی چوکی یا پلنگ ایک عدد) لحاف ایک عدد، توشک (گدیلا) ایک عدد، تکیہ ایک عدد، چادر ایک عدد، دلہن کو جوڑے چار عدد ، جس میں دو عدد سوتی ہوں اور دو ریشمی، دولہا کو جوڑے دو عدد ، دولہا کے والد کو جوڑا ایک عدد، دولہا کی ماں کو جوڑا ایک عدد، مصلی ایک عدد، قرآن شریف مع رحل ایک عدد، زیور بقدر ہمت مگر اس پر بھی زیادتی نہ کرو ، اگر ہو سکے تو اس کے علاوہ نقد روپیہ لڑکی کے نام میں جمع کرا دو اور اگر تم اللہ عز و جل نے دیا ہے تو لڑکی کو کوئی مکان ،دوکان جائداد کی شکل میں خرید دو لڑکی کے نام پر رجسٹری ہو ، یہ بھی یاد رکھو کہ تمام لڑکیوں کے لیے برابری ہونا ضروری ہے اگر نقدی روپیہ یا جائداد ایک کو دی ہے تو تو سب کو دو ورنہ گنہگار ہو گئے ، جو اولاد میں برابری نہ رکھے حدیث شریف میں اس کو ظالم کہا گیا-
اس واقعے کو بھی ذہن نشیں کر لو
حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا۔ کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ اپنی بیٹی کو جہیز میں ہر چیز دوں گا ۔ اب کیا کروں کہ قسم پوری ہو ۔ کیونکہ ہر چیز تو بادشاہ بھی نہیں دے سکتا ۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی لڑکی کو جہیز میں قرآن شریف دے دے کیونکہ قرآن شریف میں ہر چیز ہے اور یہ آیت پڑھ دی
(وَلَا رَطۡبࣲ وَلَا یَابِسٍ إِلَّا فِی كِتَـٰبࣲ مُّبِینࣲ﴾ [الأنعام ٥٩]
ترجمہ کنز الایمان: اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں نہ لکھا ہو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
لہذا لڑکیوں اور ان کے ساس نند کو کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس نے جہیز میں قرآن شریف دے دیا اس نے سب کچھ دے دیا کیا بائیک، فریج، واشنگ مشین ، کولر، یہ سب قرآن شریف سے بڑھ کر ہیں ؟
لہذا ہمیں چاہیے بے جا جہیز سے بالکل ہی پرہیز کریں
اور جو غریب ہیں ان کی مدد کریں
اللہ جل و علا ہمیں راہ راست پر گامزن فرمائے آمین ثم آمین
تاریخ رکھ دی سامنے لاکر خلوص سے
اب اس کے آگے کام تمہاری نظر کا ہے

سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

سیمانچل میں جہیز کا بڑھتا ہوا رواج سیمانچل کے لیے ناسور
منہ پر نقاب ڈال کر اس دور میں جسیم
ہر شخص کر رہا ہے تقاضا جہیز کا
جہیز (Trousseau) عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ جہاز سے بنا ہے یعنی ہر وہ سازو سامان جس کی زوجین کو گھر بسانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے
جہیز اب ایک ایسا سماجی مسئلہ بن چکا ہے جس سے بچہ بچہ واقف ہے یہ لفظ جیسے بولا جاتا ہے ذہن میں عجیب سا تصور پیدا ہو جاتا ہے
ایسا لگتا ہے جہیز کسی شمشیر بے نیام کا نام ہے جو انسان کی گردن پر معلق ہے اگر اس کو بروئے کار نہیں لایا گیا تو ایک سر کیا چیز ہے خاندان کا خاندان تباہ و برباد کر دے گا
یہاں تک کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جائے گا
لیکن یہ فقط ایک تصور ہی نہیں بلکہ بارہا یہ تصور ہمارے سامنے ایک قیامت بن کر کھڑا ہو گیا جس کو دیکھنے کے بعد پتھر سے پتھر دل بھی اپنے آنسوؤں کو ضبط نہ کر سکے
میں اس وقت بات کر رہا ہوں سیمانچل کے بارے میں (سیمانچل بہار کے شمال مشرقی حصے میں میتھیلا علاقے کا ایک ذیلی علاقہ ہے جس میں چار اضلاع ارریہ، پورنیہ، کشن گنج اور کٹیہار شامل ہیں)
جہاں روز بروز جہیز کی وجہ سے سیکڑوں حادثات در پیش ہوتے رہتے ہیں
ماں باپ اپنے سامان گروی رکھ کر دوسروں سے قرض لے کر جہیز ادا کر رہے ہیں
ماں باپ روتے رہتے ہیں بیٹی کی سوچ کر
بیٹی کی جان لے لی تماشا جہیز کا
افسوس صد افسوس
ہمارے یہاں جہیز کلچر اتنا پھول پھل گیا ہے کہ اب آدمی اپنی اوقات سے باہر جاکر شرم و حیا گروی رکھ کر لمبی سی ڈیمناڈ لسٹ پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں
کچھ ایسا ہی حیرت انگیز واقعہ میرے گاؤں میں در پیش ہوا جس کو سنے کے بعد آپ کا بھی دل دہل جائے گا
لڑکی کا باپ تقریبا پانچ سال پہلے طویل مدت تک بستر علالت میں رہ کر داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے جان بحق ہو گیا تھا
اور گھر کا سارا ساز و سامان مہیا کرنا ماں کی ذمہ داری تھی
کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا جس کی عمر صرف آٹھ یا نو سال تھی
ماں ایک بیٹا اور چار بیٹیوں کو بڑے ہی لاڈ پیار سے پالتی تھی کبھی کسی قسم کی دکھ تکلیف پہنچنے نہیں دیتی تھی اپنے بیٹے کو مدرسے میں پڑھاتی بھی تھی
اسی درمیان اپنے ایک بیٹی کی شادی قریب ہی ایک گاؤں میں دلا دی دیکھتے ہی دیکھتے دوسری بیٹی بھی جوان ہو گئی
جو دیکھنے میں نہایت ہی حسین و جمیل تھی اب ماں کو ان کی شادی کی فکر لاحق ہوئی
امید میں تھی کہ ان شاء اللہ میری بیٹی کے لیے کوئی اچھا سا رشتہ آئے گا
ایک دن امید کا سورج دل میں طلوع ہوا
اور لڑکے والے دیکھنے کے لیے گھر پر آئے ماں بہت خوش تھی بڑے ہی فراخ دلی سے مہمان نوازی کی گفتگو و شنید ہوئی جس میں لڑکے والوں نے یہ طے کیا کہ رشتہ یہیں ہوگا
پھر خوشی خوشی مہمانوں کو ماں نے روانہ کیا
لیکن افسوس جب لڑکے والے اپنے گھر پہنچے تو فون کر کے سب سے پہلے جہیز میں بائیک کی مانگ کی
جب ماں نے سنا تو ان کی امیدوں کا سورج شام ہونے سے پہلے ہی دل میں غروب ہو گیا اور بے ساختہ کہنے لگی ہمیں ایسے رشتوں کی کوئی ضرورت نہیں جن کے نزدیک انسان سے زیادہ مال و دولت کی اہمیت ہو
ہمیں یہ رشتہ ہر گز قبول نہیں
پھر اسی امید میں کہ کوئی اچھا رشتہ آجائے امید کا سورج روز طلوع ہوتا پھر غروب ہو جاتا
ایک دن اپنے میکے جارہی تھی کہ اچانک سڑک حادثے میں امیدوں کا چراغ بجھا کر ہمیشہ کے لیے سو گئی
کاش اگر یہ جہیز کی رسم نہیں ہوتی تو ضرور ماں اپنی لاڈلی بیٹی کے ہاتھوں کو رنگ حنا سے رنگین دیکھتی
لیکن افسوس اس جہیز نے ایک ماں کی امید کو پورا نہ ہونے دیا
اللہ ان یتیم بچوں کی غیب سے مدد فرمائے اور مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین
ہم ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں پر امیر لوگ دکھانے کے لیے شادیوں میں خوب خرچ کرتے ہیں مہنگے مہنگے جہیز دیتے ہیں
لیکن جب کسی غریب کی شادی میں مدد کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ساری مصیبتیں انھیں پر آن پڑتیں ہیں
جو ہمارے بھائی غریب طبقہ کے ہیں ان کے یہاں حسین و جمیل تین تین چار چار بیٹیاں ہیں
لیکن جہیز کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کے ہاتھوں کو سرخ کرنے سے مجبور ہیں
اب تو حال یہ ہے کہ لوگ گھر بنا لیتے ہیں اور گھر کو خالی چھوڑ دیتے ہیں
جب ان سے پوچھتے ہیں کیا بات ہے گھر میں کوئی سامان نہیں ہے تو کہتے ہیں ہمارے چار بیٹے ہیں جب ان کی شادی ہوگی تو جہیز میں تو سامان آئے گا ہی پھر کیا کرنے کے لیے خریدیں گے
یعنی اب لوگ اپنا گھر بھی دوسرے کے گھر کو لوٹ کر بسانا چاہتے ہیں
کیسا عجیب رنگ ہے چھایا جہان میں
گھر بار بن رہا ہے نوالہ جہیز کا
بھولا ڈانگی (کٹیہار) میں بڑی دھوم دھام سے بارات آئی ماحول بہت ہی خوش گوار تھا سب کو ناشتہ کرایا جا رہا تھا لیکن کچھ لوگ جو جہیز کے بھکاری ہوتے ہیں کبھی ادھر دیکھتے کبھی ادھر دیکھتے بالآخر ان سے رہا نہ گیا تو کہنے لگے بائیک کہاں ہے کیا لڑکی والے جہیز میں بائیک نہیں دیں گے اب جو سکون سے بیٹھ کر میز پر ناشتہ کھا رہے تھے ان کو بھی ناشتہ تک کھانے نہ دیا اور ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جہیز میں بائیک کیوں نہیں ہے؟
ہمیں ابھی چاہیے بات اتنی بڑھی کہ سب باراتی کھانا کھائے بغیر واپس چلے گئے
ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کر بڑی شان سے یہاں
کم ظرف دیکھتے ہیں ڈرامہ جہیز کا
اب کوئی ان سے پوچھے یہ لوگ شادی کرنے کے لیے جاتے ہیں یا پھر بھیک مانگنے کے لیے جاتے ہیں
لیکن بھیک مانگنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں کبھی کسی فقیر نے بھیک نہ ملنے پر لڑائی نہیں کی
لیکن یہ اتنے بڑے بھکاری ہوتے ہیں کہ بھیک نہ ملنے پر جان تک لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں
اسی لیے تو رفیق ملت سید نجیب میاں برکاتی مارہروی دام ظلہ العالی یوم شہادت شہزادۂ گلگوں قبا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقع پر فرماتے ہیں
تم جہیز مانگنا چھوڑ دو غریبوں کے گھر میں شادی کرنا شروع کر دو شادیاں سادی سادی کر لو شادی کی شین پر جو تین نقطے ہیں ان تین نقطوں کو اڑا دو اور شادی-----سادی سادی کر لو آپ سوچ رہے ہوں گے آج کربلا کا دن ہے اور بات شادی کی ہو رہی ہے یہی تو امام حسین رضی اللہ عنہ کا پیغام ہے (کہ ہر کام میں شریعت کی پابندی ہو) آج کل تم مانگ کرتے ہو یہ مل جائے وہ مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بھکاری ہو گئے ہیں ، بیٹیوں کی شادی میں جلدی کرو جہیز کا لالچ چھوڑ دو آج خانقاہ برکاتیہ ماہریرہ مطہرہ سے یہ عہد کر کے جائیں ان شاءاللہ تعالیٰ ہم جہیز نہیں لیں گے
ہاں اگر جہیز دینا ہی ہے تو بس اتنا ہی دو اس سے زیادہ ہرگز نہ دو
برتن ایک عدد، چارپائی درمیانی ایک عدد، (اس دور میں چارپائی کی جگہ درمیانی چوکی یا پلنگ ایک عدد) لحاف ایک عدد، توشک (گدیلا) ایک عدد، تکیہ ایک عدد، چادر ایک عدد، دلہن کو جوڑے چار عدد ، جس میں دو عدد سوتی ہوں اور دو ریشمی، دولہا کو جوڑے دو عدد ، دولہا کے والد کو جوڑا ایک عدد، دولہا کی ماں کو جوڑا ایک عدد، مصلی ایک عدد، قرآن شریف مع رحل ایک عدد، زیور بقدر ہمت مگر اس پر بھی زیادتی نہ کرو ، اگر ہو سکے تو اس کے علاوہ نقد روپیہ لڑکی کے نام میں جمع کرا دو اور اگر تم اللہ عز و جل نے دیا ہے تو لڑکی کو کوئی مکان ،دوکان جائداد کی شکل میں خرید دو لڑکی کے نام پر رجسٹری ہو ، یہ بھی یاد رکھو کہ تمام لڑکیوں کے لیے برابری ہونا ضروری ہے اگر نقدی روپیہ یا جائداد ایک کو دی ہے تو تو سب کو دو ورنہ گنہگار ہو گئے ، جو اولاد میں برابری نہ رکھے حدیث شریف میں اس کو ظالم کہا گیا-
اس واقعے کو بھی ذہن نشیں کر لو
حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا۔ کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ اپنی بیٹی کو جہیز میں ہر چیز دوں گا ۔ اب کیا کروں کہ قسم پوری ہو ۔ کیونکہ ہر چیز تو بادشاہ بھی نہیں دے سکتا ۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی لڑکی کو جہیز میں قرآن شریف دے دے کیونکہ قرآن شریف میں ہر چیز ہے اور یہ آیت پڑھ دی
(وَلَا رَطۡبࣲ وَلَا یَابِسٍ إِلَّا فِی كِتَـٰبࣲ مُّبِینࣲ﴾ [الأنعام ٥٩]
ترجمہ کنز الایمان: اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں نہ لکھا ہو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
لہذا لڑکیوں اور ان کے ساس نند کو کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس نے جہیز میں قرآن شریف دے دیا اس نے سب کچھ دے دیا کیا بائیک، فریج، واشنگ مشین ، کولر، یہ سب قرآن شریف سے بڑھ کر ہیں ؟
لہذا ہمیں چاہیے بے جا جہیز سے بالکل ہی پرہیز کریں
اور جو غریب ہیں ان کی مدد کریں
اللہ جل و علا ہمیں راہ راست پر گامزن فرمائے آمین ثم آمین
تاریخ رکھ دی سامنے لاکر خلوص سے
اب اس کے آگے کام تمہاری نظر کا ہے
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
62
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی

ایثار علامہ شاہ تراب الحق_

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 29

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 44 | Poetry: 40
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 41 | Poetry: 13
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 26 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 10 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
29
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 45
ادبیات 38
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 20
تاثرات 15
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
نمایاں مضامین 10
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
اسلامیات 8
متفرقات 7
رد دیوبندیت ووہابیت 6
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 5
تحقیق و تعاقب 5
دفاع اہل سنت 4
عبادات 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
رضویات 3
حکایات 3
تصوف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
اوراد و وظائف 2
وفیات و تعزیہ جات 1
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢