مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
✍️ Muhammad Anas Raza Haami
تیسرے قطب: شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
و سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
کر شہیدِ عشقِ ”حمزہ“ پیشوا کے واسطے (آمین)
حضرتِ حمزہ شیرِ خدا و رسول ﷺ
زینتِ قادریت پہ لاکھوں سلام
(سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ)
آپ کا نام سید شاہ ”حمزہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ القاب: اسد العارفین، قطب الکاملین اور بڑے میاں ہے۔ تخلص عینیؔ ہے۔ کلام
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے
حضرت سید شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت ١٤؍ربیع الآخر ١١٣١ھ میں مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔
حضور شاہ حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تربیت حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی۔ حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل والد بزرگوار حضرت سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے اور شمس العلماء حضرت محمد باقر رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حاصل فرمائی۔ فن طب علماً و عملاً حکیم عطاء اللّٰہ صاحب سے سیکھا اور شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات کو حاصل فرمایا۔
اجازت و خلافت والد بزرگوار حضور سیدنا آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہوئی۔ مقاماتِ سلوک و معرفت بھی والد بزرگوار نے اپنے شہزادے کو عطا فرمائے۔ بچپن دادا جان حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں گزرا۔ حضور حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک جب چار سال ہوئی تو سرکار سلطان العاشقین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ٹوپی اور اور سیلی (ایک طرح کا کمر میں باندھنے والا پٹہ) عطا فرمایا۔ بچپن سے ہی ذہانت و کرامت کے آثار پیشانی مبارک پر نمایاں تھے۔
اسدُ العارفین، قطبُ الکاملین، حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے پینتیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علم و فضل کے آسمان پر آفتابِ درخشاں، معرفت و ولایت کے میدان میں یکتائے روزگار، اور تصنیف و تالیف کی دنیا میں ایک ممتاز و منفرد شخصیت ہی ہیں۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکابر اولیاء میں شمار ہوتے ہیں اور کرامت و تصرف کے مالک ہیں۔ ریاضت و مجاہدہ کی دشوار منزلیں حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طے فرمائیں اور سلوک و معرفت کے بلند مقامات حاصل فرمائے۔
قدرت نے حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غیر معمولی ذہانت اور فطانت سے نوازا تھا۔ صرف گیارہ برس کی عمرِ مبارک میں آپ جملہ علوم و فنون سے فراغت حاصل کر چکے تھے۔ اس کے بعد مسلسل گیارہ سال تک اپنے جدِ امجد، حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تربیت و نگرانی میں رہ کر روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔
اگرچہ حضرت شاہ برکت اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار برس کی عمر ہی میں اپنی مبارک کلاہ آپ کے سرِ اقدس پر رکھ دی تھی اور خلافت کی ابتدائی بشارت عطا فرما دی تھی، لیکن بعد کے سالوں میں آپ کو ظاہری و باطنی تربیت کے ذریعے اس منصبِ عظیم کے لیے مکمل طور پر تیار فرمایا۔
حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بالخصوص شیخ الشیوخ محی الدین عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تصانیف سے گہرا شغف تھا۔ آپ خود بھی ان کا مطالعہ فرمایا کرتے اور اپنے خاص خدام و تلامذہ کو ان کا درس دیتے تھے۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی عظمت کا اندازہ آپ کی مشہور تصنیف ”فصّ الکلمات“ سے بخوبی ہوتا ہے۔ یہ کتاب علوم و معارف کا ایک عظیم خزانہ ہے، جس میں مختلف فنون، اصول، کلیات اور ضروری مسائل نہایت دلنشیں اور محققانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ تصنیف حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی گہرائی اور فکری وسعت کی روشن دلیل ہے۔
حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کی جامعیت اور ہمہ گیری حیران کن تھی۔ کبھی حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسے عالمِ ربانی نظر آتے جو پوری قوت کے ساتھ شریعتِ مطہرہ کی خدمت اور حمایت میں مصروف ہیں، اور کبھی ایک ایسے شہنشاہِ دلنواز کہ محتاجوں، بے کسوں اور ضرورت مندوں کی دستگیری میں مشغول ہیں۔ ایک طرف آپ کامل شیخِ طریقت ہیں جن سے ہزاروں طالبانِ حق روحانی فیض حاصل کرتے ہیں، تو دوسری جانب ایسے طبیبِ انفس ہیں کہ بے شمار دلوں کے امراض کا علاج آپ کی صحبت سے ہوتا ہے۔ کبھی آپ سخاوت و کرم کے سمندر دکھائی دیتے ہیں اور حاجت مندوں کی تلاش میں رہتے ہیں، اور کبھی ایسے مدبر و شجاع کہ بڑے بڑے اہلِ عقل و دانش مشکل معاملات میں آپ سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔ اہم فیصلوں اور پیچیدہ امور میں آپ کی رائے کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آپ کی تمام شانوں اور مختلف اوصاف میں ایک خاص وحدت اور توازن نمایاں تھا۔ دنیا و دین، فقر و سلطنت، زہد و قیادت اور علم و عمل کا ایسا حسین امتزاج کم ہی شخصیات میں نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقیری اور شہنشاہی کو ایک ساتھ جمع کرنا نہایت دشوار امر ہے، مگر یہ امتیاز حضرت شاہ سید حمزہ قدس سرہٗ کے خصائص میں سے تھا۔
عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ دس برس کی عمرِ مبارک میں نمازِ تہجد کا آغاز فرمایا، اور پھر وصالِ مبارک تک ایسا کبھی نہ ہوا کہ تہجد کی نماز قضا ہوئی ہو۔ آپ کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی، عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، خدمتِ خلق اور رشد و ہدایت کا روشن نمونہ تھی۔
حضور سیدنا شاہ حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر ٣٢؍سال تھی، سرِ اقدس پر تاجِ خلافت رکھا گیا۔ والد بزرگوار حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عرشِ چہلم شریف میں مشائخِ کرام کے مقدس ہاتھوں سے سر پر دستارِ فضیلت باندھی گئی۔ حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں: ”٣٤؍برس ہوئے کہ میں نے اِس مکان میں اقامت اختیار فرمائی اور اب میری عمر ٦٣؍برس کو پہنچی۔“
حضور سیدنا شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے وصف کو ہمیشہ اخفا میں رکھتے اور اظہار سے پرہیز فرماتے، اور اپنی نسبتِ خاندان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”ایک روز فقیر کو خیال آیا کہ نسبت ظنی سے ہر چند کہ سادات بلگرام مشہور و مسلم ہے لیکن یقین و وثوق نہیں، معا دیکھتا ہوں کہ حضور مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں اور دونوں بازو چوکھٹ سنگی کے جو خانقاہِ برکاتیہ میں نصب ہے تھامے کھڑے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ: تم ہمارے بیٹے ہو اور پیارے بیٹے ہو۔ الحمد للہ علی ذالک۔“
سجادہ نشین بنتے ہی آل محمدی رنگ میں ڈھل گئے۔
درودِ شریف کی برکت اور زیارتِ مصطفیٰ ﷺ: منقول ہے کہ ایک باکمال پشاوری درویش نے حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ اقدس میں ایک خاص درود شریف بطورِ نذرانہ پیش کیا۔ حضور علیہ الرحمۃ والرضوان نے اسے پسند فرمایا اور اپنے پاس محفوظ رکھ لیا۔ اسی شب حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت شفقت کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”صاحبزادے! اٹھو اور درود شریف پڑھو۔“ یہ مبارک ارشاد سن کر حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً بیدار ہو گئے۔ غسل فرمایا، خوشبو لگائی، بخور روشن کیا اور نہایت ادب و عقیدت کے ساتھ اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا۔ ابھی درود شریف مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ بیداری کی حالت میں دوبارہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ جب نگاہِ عقیدت سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آرا پر پڑی تو آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور بقیہ درود شریف حالتِ قیام میں مکمل کیا۔
درود شریف ختم ہونے تک حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کے پاس جلوہ افروز رہے۔ یہ سعادتِ عظمیٰ حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ایک عظیم روحانی انعام اور بے مثال شرف تھا۔ اس مبارک موقع پر شہزادۂ شہنشاہِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں چند اشعار بھی عرض کیے۔ ان اشعار کو سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پسند فرمایا اور اپنے خصوصی الطاف و عنایات سے نوازا۔ روایت ہے کہ اس کے نتیجے میں حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دونوں جہانوں کی نعمتوں اور سعادتوں سے مالا مال فرما دیا گیا۔ یہ واقعہ اور اس موقع پر کہے گئے اشعار حضرت شاہ مہدی حسن اور حضرت سید شاہ کے دعا خوانوں کے پاس منقول ہیں۔
جس پشاوری درویش نے وہ درود شریف پیش کیا تھا، ان کا نام مولوی محمد مکرم مرید شاہ پشاوری تھا۔ وہ احمد شاہ درانی کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے اور حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر درودِ صلوٰۃ الختام پیش کرنے کی سعادت سے مشرف ہوئے۔
حضرت عیؔنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ادبی صلاحیتیں کیسی روشن تھیں اس کی دلیل ان کے کمال سے ظاہر ہیں، حضرت حمزہ عینؔی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں جو شاعری فرمائی اس کی سلاست اور روانی دیکھنے کے قابل ہے۔ قصیدہ غوثیہ ان کا ایک عظیم شاہکار ہے جس کی پوری عبارت سرکار قادریت کے عقیدت مندوں کے لیے وظیفہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے
مظہر سر ازل گوشتہ چشمے کرمے
مہیطِ فیضِ ادب وقف پنہاں مددے
ما گدایم تو سلطانِ دو عالم ہستی
از تو داریم تمنا شہِ جیلاں مددے
انتظارِ کرم تست بعیؔنی مارا
اے خدا بین خدا جو جدا داں مددے
حضور شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جود و سخا، فیاضی اور مہمان نوازی میں اپنے عہد کی ایک بے مثال شخصیت تھے۔ آپ کی بخشش و عطا کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا، اور آپ نے اپنے والدِ گرامی کے عرس مبارک کے موقع پر مہمان نوازی اور خدمتِ خلق کی ایسی یادگار قائم فرمائی کہ اس زمانے کے بڑے بڑے سلاطین اور شہنشاہ بھی اس شان کی دعوت کا اہتمام نہ کر سکتے تھے۔ مارہرہ شریف کے عرس مبارک میں ہر سال ملک کے مختلف علاقوں سے زائرین اور عقیدت مندوں کا ایک عظیم ہجوم جمع ہوتا تھا۔ حاضرین کی کثرت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سال عرس کے موقع پر آستانہ کے باغات کے بیر اور آم تقسیم کیے گئے۔ ہر شخص کو صرف ایک بیر دیا گیا، بعد میں جب ان بیروں کی تعداد شمار کی گئی تو وہ چوبیس ہزار نکلی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرس مبارک میں کس قدر بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے۔
عرسِ مبارک کا انتظام نہایت شان و شوکت اور حسنِ انتظام کے ساتھ کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ پورے ہندوستان میں اس عرس کی شہرت تھی۔ حضور حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اور مہمان نوازی کو سعادت سمجھتے تھے۔ عرس کے دنوں میں بلا مبالغہ سو سے زائد اقسام کے کھانے تیار کیے جاتے اور حاضرین کی خدمت میں پیش کیے جاتے تھے۔
زندگی کے آخری دور میں اگرچہ آپ نے عرس کے اخراجات میں خاصی کمی فرما دی تھی، لیکن اس کے باوجود ہر سال پچیس مختلف اقسام کے کھانے مہمانوں میں تقسیم کیے جاتے رہے۔ اس دسترخوانِ کرم میں امیر و غریب، شاہ و گدا، بزرگ و نووارد، سب یکساں شریک ہوتے تھے اور کسی قسم کی تخصیص یا امتیاز روا نہ رکھا جاتا تھا۔
حضور قطب الکاملین حضرت شاہ سید حمزہ قدس سرہٗ اپنے اسلافِ کرام کے اوصاف و کمالات کے حقیقی وارث تھے۔ آپ کی خانقاہ روحانی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ اہلِ محبت و عقیدت کا مرجع بھی ہے۔ بڑے بڑے امراء، رؤساء اور سلاطینِ وقت اپنے خدام، لشکروں اور مصاحبین کے ساتھ مارہرہ شریف حاضر ہوتے اور بسا اوقات کئی کئی ماہ خانقاہ میں قیام پذیر رہتے۔ ان تمام مہمانوں کی نہایت عزت و اکرام کے ساتھ خدمت کی جاتی، ان کے قیام و طعام کا بہترین انتظام ہوتا اور انواع و اقسام کے کھانوں سے ان کی ضیافت کی جاتی، لیکن حضرت کی شانِ استغناء اور بے نیازی کا عالم یہ تھا کہ آپ دنیاوی جاہ و منصب رکھنے والوں سے کسی قسم کی مرعوبیت محسوس نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ بڑے بڑے حکمران اور صاحبِ اقتدار افراد آپ کی زیارت اور ملاقات کے خواہش مند ہوتے، حضرت اپنے معمولاتِ عبادت، اذکار اور دینی مشاغل میں مشغول رہتے اور محض دنیاوی حیثیت یا سلطنت کی بنیاد پر کسی کو خصوصی باریابی کا شرف عطا نہ فرماتے۔ آپ کی نگاہ میں عزت و فضیلت کا معیار صرف تقویٰ، اخلاص اور قربِ الٰہی تھا، نہ کہ دنیاوی اقتدار و حکومت۔
شاہ عینی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی زندگی مبارکہ کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ کی سخاوت بڑی انوکھی تھی۔ سرکار حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ہی زمانۂ مبارکہ میں پیارے حبیب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدم مبارک کا نشان، موئے مبارک اور نعل شریف کے تبرکات مارہرہ شریف میں آئے۔ یہ تبرکات حاجی جمال الدین صاحب علیہ الرحمۃ کے ذریعے مارہرہ مطہرہ میں آئے، یہ صحابئ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یا ان کے بھائی کے خاندان سے تھے۔ نیز مولائے کائنات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے مزار اقدس کا ٹکڑا اور سرکار غوث پاک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی لکھی بسم اللّٰہ شریف بھی حضور شاہ عینیؔ قدس سرہٗ نے جمع فرمائی۔ ان تبرکات کی زیارت عرسِ قاسمی برکاتی و عرسِ نوری برکاتی میں کرائی جاتی ہے۔
حضور شاہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ظاہری وصال ١٤؍محرم الحرام ١١٩٨ھ کو مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ مزار شریف: حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ سے داہنی طرف ایک راستہ گیا ہے، چہرہ کا رخ داہنی جانب کرتے ہی سفید رنگ کے ایک خوبصورت گنبد میں ہے۔
حضور اسد العارفین حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح سیدہ دیانت فاطمہ قدس سرہا بنت حضرت سید محمد محسن بلگرامی عرف سید محمد روشن قدس سرہٗ سے ہوا۔ حضور شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے ہوئے: (١) حضور سیدنا و ماوانا آل احمد اچھے میاں، (٢) حضور سیدنا و مولانا آل برکات ستھرے میاں (٣) حضور سیدنا و ملجانا آل حسنین سچے میاں (٤) حضرت سیدنا علی (ان کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا) رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔
حضرت سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
jamiaturrazastudents.com
(١) عنایت رسول ﷺ کی:
۹۰۰؍صفحات پر قرآنِ حکیم کی تفسیر آپ نے ساٹھ سال کی عمر میں صرف چار مہینے میں فرمائی۔ اس کی جدید اشاعت حضرت امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی و النورانی ( سجادہ نشین: خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ) کے دست مبارک سے ہوئی ہے۔
(٢) نعت رسول ﷺ کی:
حدیثوں کے انتخاب ”کتاب الاخیار“ کا ترجمہ ہے۔ اس میں ٤٠٠؍حدیثیں جمع ہیں۔
حضور شاہ حقانی علیہ الرحمۃ والرضوان نے نہ کسی کو مرید فرمایا نہ خلافت عطا فرمائی۔ خانقاہ کا دیوان خانہ، حویلی سجادہ نشینی، نئی نئی عمارتیں بنوانا آپ کی زندگی کے نمایاں کارنامے ہیں۔ حضور شرف ملت مدظلہ العالی فرماتے ہیں: ”حضرت شاہ محمد حقانی مارہرہ مطہرہ کے شاہ جہاں ہیں“
حضور سیدنا شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٧؍ذی الحجہ ١٢٠١ھ بروز جمعہ کو ہوا۔ مارہرہ مطہرہ میں آخری قیام گاہ ہے۔
حضور شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چچا کی شہزادی سے منسوب تھے، ان سکے نکاح نہ ہوا تو پوری زندگی سادگی میں گزارنے کا فیصلہ فرمایا۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
مزید ان مضامین کا مطالعہ فرمائیں
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
مضمون نگار: Muhammad Anas Raza Haami
تیسرے قطب: شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
و سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ
کر شہیدِ عشقِ ”حمزہ“ پیشوا کے واسطے (آمین)
حضرتِ حمزہ شیرِ خدا و رسول ﷺ
زینتِ قادریت پہ لاکھوں سلام
(سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ)
آپ کا نام سید شاہ ”حمزہ“ ہے رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ۔ القاب: اسد العارفین، قطب الکاملین اور بڑے میاں ہے۔ تخلص عینیؔ ہے۔ کلام
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے
حضرت سید شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت ١٤؍ربیع الآخر ١١٣١ھ میں مارہرہ مطہرہ میں ہوئی۔
حضور شاہ حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تربیت حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی۔ حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے علومِ ظاہری و باطنی کی تکمیل والد بزرگوار حضرت سید شاہ آل محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے اور شمس العلماء حضرت محمد باقر رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ سے حاصل فرمائی۔ فن طب علماً و عملاً حکیم عطاء اللّٰہ صاحب سے سیکھا اور شیخ ڈھڈھا لاہوری سے بھی متعدد درسیات کو حاصل فرمایا۔
اجازت و خلافت والد بزرگوار حضور سیدنا آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاصل ہوئی۔ مقاماتِ سلوک و معرفت بھی والد بزرگوار نے اپنے شہزادے کو عطا فرمائے۔ بچپن دادا جان حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں گزرا۔ حضور حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک جب چار سال ہوئی تو سرکار سلطان العاشقین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ٹوپی اور اور سیلی (ایک طرح کا کمر میں باندھنے والا پٹہ) عطا فرمایا۔ بچپن سے ہی ذہانت و کرامت کے آثار پیشانی مبارک پر نمایاں تھے۔
اسدُ العارفین، قطبُ الکاملین، حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ کے پینتیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علم و فضل کے آسمان پر آفتابِ درخشاں، معرفت و ولایت کے میدان میں یکتائے روزگار، اور تصنیف و تالیف کی دنیا میں ایک ممتاز و منفرد شخصیت ہی ہیں۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکابر اولیاء میں شمار ہوتے ہیں اور کرامت و تصرف کے مالک ہیں۔ ریاضت و مجاہدہ کی دشوار منزلیں حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طے فرمائیں اور سلوک و معرفت کے بلند مقامات حاصل فرمائے۔
قدرت نے حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غیر معمولی ذہانت اور فطانت سے نوازا تھا۔ صرف گیارہ برس کی عمرِ مبارک میں آپ جملہ علوم و فنون سے فراغت حاصل کر چکے تھے۔ اس کے بعد مسلسل گیارہ سال تک اپنے جدِ امجد، حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تربیت و نگرانی میں رہ کر روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔
اگرچہ حضرت شاہ برکت اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار برس کی عمر ہی میں اپنی مبارک کلاہ آپ کے سرِ اقدس پر رکھ دی تھی اور خلافت کی ابتدائی بشارت عطا فرما دی تھی، لیکن بعد کے سالوں میں آپ کو ظاہری و باطنی تربیت کے ذریعے اس منصبِ عظیم کے لیے مکمل طور پر تیار فرمایا۔
حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بالخصوص شیخ الشیوخ محی الدین عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تصانیف سے گہرا شغف تھا۔ آپ خود بھی ان کا مطالعہ فرمایا کرتے اور اپنے خاص خدام و تلامذہ کو ان کا درس دیتے تھے۔ حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی عظمت کا اندازہ آپ کی مشہور تصنیف ”فصّ الکلمات“ سے بخوبی ہوتا ہے۔ یہ کتاب علوم و معارف کا ایک عظیم خزانہ ہے، جس میں مختلف فنون، اصول، کلیات اور ضروری مسائل نہایت دلنشیں اور محققانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ تصنیف حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی گہرائی اور فکری وسعت کی روشن دلیل ہے۔
حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کی جامعیت اور ہمہ گیری حیران کن تھی۔ کبھی حضرت شاہ سید حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسے عالمِ ربانی نظر آتے جو پوری قوت کے ساتھ شریعتِ مطہرہ کی خدمت اور حمایت میں مصروف ہیں، اور کبھی ایک ایسے شہنشاہِ دلنواز کہ محتاجوں، بے کسوں اور ضرورت مندوں کی دستگیری میں مشغول ہیں۔ ایک طرف آپ کامل شیخِ طریقت ہیں جن سے ہزاروں طالبانِ حق روحانی فیض حاصل کرتے ہیں، تو دوسری جانب ایسے طبیبِ انفس ہیں کہ بے شمار دلوں کے امراض کا علاج آپ کی صحبت سے ہوتا ہے۔ کبھی آپ سخاوت و کرم کے سمندر دکھائی دیتے ہیں اور حاجت مندوں کی تلاش میں رہتے ہیں، اور کبھی ایسے مدبر و شجاع کہ بڑے بڑے اہلِ عقل و دانش مشکل معاملات میں آپ سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔ اہم فیصلوں اور پیچیدہ امور میں آپ کی رائے کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آپ کی تمام شانوں اور مختلف اوصاف میں ایک خاص وحدت اور توازن نمایاں تھا۔ دنیا و دین، فقر و سلطنت، زہد و قیادت اور علم و عمل کا ایسا حسین امتزاج کم ہی شخصیات میں نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقیری اور شہنشاہی کو ایک ساتھ جمع کرنا نہایت دشوار امر ہے، مگر یہ امتیاز حضرت شاہ سید حمزہ قدس سرہٗ کے خصائص میں سے تھا۔
عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا کہ دس برس کی عمرِ مبارک میں نمازِ تہجد کا آغاز فرمایا، اور پھر وصالِ مبارک تک ایسا کبھی نہ ہوا کہ تہجد کی نماز قضا ہوئی ہو۔ آپ کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی، عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، خدمتِ خلق اور رشد و ہدایت کا روشن نمونہ تھی۔
حضور سیدنا شاہ حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر ٣٢؍سال تھی، سرِ اقدس پر تاجِ خلافت رکھا گیا۔ والد بزرگوار حضور آل محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عرشِ چہلم شریف میں مشائخِ کرام کے مقدس ہاتھوں سے سر پر دستارِ فضیلت باندھی گئی۔ حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ارشاد فرماتے ہیں: ”٣٤؍برس ہوئے کہ میں نے اِس مکان میں اقامت اختیار فرمائی اور اب میری عمر ٦٣؍برس کو پہنچی۔“
حضور سیدنا شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے وصف کو ہمیشہ اخفا میں رکھتے اور اظہار سے پرہیز فرماتے، اور اپنی نسبتِ خاندان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”ایک روز فقیر کو خیال آیا کہ نسبت ظنی سے ہر چند کہ سادات بلگرام مشہور و مسلم ہے لیکن یقین و وثوق نہیں، معا دیکھتا ہوں کہ حضور مولی المسلمین، امیر المؤمنین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تشریف فرما ہیں اور دونوں بازو چوکھٹ سنگی کے جو خانقاہِ برکاتیہ میں نصب ہے تھامے کھڑے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ: تم ہمارے بیٹے ہو اور پیارے بیٹے ہو۔ الحمد للہ علی ذالک۔“
سجادہ نشین بنتے ہی آل محمدی رنگ میں ڈھل گئے۔
درودِ شریف کی برکت اور زیارتِ مصطفیٰ ﷺ: منقول ہے کہ ایک باکمال پشاوری درویش نے حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ اقدس میں ایک خاص درود شریف بطورِ نذرانہ پیش کیا۔ حضور علیہ الرحمۃ والرضوان نے اسے پسند فرمایا اور اپنے پاس محفوظ رکھ لیا۔ اسی شب حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت شفقت کے ساتھ ارشاد فرمایا: ”صاحبزادے! اٹھو اور درود شریف پڑھو۔“ یہ مبارک ارشاد سن کر حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً بیدار ہو گئے۔ غسل فرمایا، خوشبو لگائی، بخور روشن کیا اور نہایت ادب و عقیدت کے ساتھ اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا۔ ابھی درود شریف مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ بیداری کی حالت میں دوبارہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ جب نگاہِ عقیدت سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آرا پر پڑی تو آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور بقیہ درود شریف حالتِ قیام میں مکمل کیا۔
درود شریف ختم ہونے تک حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کے پاس جلوہ افروز رہے۔ یہ سعادتِ عظمیٰ حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ایک عظیم روحانی انعام اور بے مثال شرف تھا۔ اس مبارک موقع پر شہزادۂ شہنشاہِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں چند اشعار بھی عرض کیے۔ ان اشعار کو سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پسند فرمایا اور اپنے خصوصی الطاف و عنایات سے نوازا۔ روایت ہے کہ اس کے نتیجے میں حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دونوں جہانوں کی نعمتوں اور سعادتوں سے مالا مال فرما دیا گیا۔ یہ واقعہ اور اس موقع پر کہے گئے اشعار حضرت شاہ مہدی حسن اور حضرت سید شاہ کے دعا خوانوں کے پاس منقول ہیں۔
جس پشاوری درویش نے وہ درود شریف پیش کیا تھا، ان کا نام مولوی محمد مکرم مرید شاہ پشاوری تھا۔ وہ احمد شاہ درانی کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے اور حضور حمزہ عینؔی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر درودِ صلوٰۃ الختام پیش کرنے کی سعادت سے مشرف ہوئے۔
حضرت عیؔنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی ادبی صلاحیتیں کیسی روشن تھیں اس کی دلیل ان کے کمال سے ظاہر ہیں، حضرت حمزہ عینؔی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں جو شاعری فرمائی اس کی سلاست اور روانی دیکھنے کے قابل ہے۔ قصیدہ غوثیہ ان کا ایک عظیم شاہکار ہے جس کی پوری عبارت سرکار قادریت کے عقیدت مندوں کے لیے وظیفہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے
مظہر سر ازل گوشتہ چشمے کرمے
مہیطِ فیضِ ادب وقف پنہاں مددے
ما گدایم تو سلطانِ دو عالم ہستی
از تو داریم تمنا شہِ جیلاں مددے
انتظارِ کرم تست بعیؔنی مارا
اے خدا بین خدا جو جدا داں مددے
حضور شاہ حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جود و سخا، فیاضی اور مہمان نوازی میں اپنے عہد کی ایک بے مثال شخصیت تھے۔ آپ کی بخشش و عطا کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا، اور آپ نے اپنے والدِ گرامی کے عرس مبارک کے موقع پر مہمان نوازی اور خدمتِ خلق کی ایسی یادگار قائم فرمائی کہ اس زمانے کے بڑے بڑے سلاطین اور شہنشاہ بھی اس شان کی دعوت کا اہتمام نہ کر سکتے تھے۔ مارہرہ شریف کے عرس مبارک میں ہر سال ملک کے مختلف علاقوں سے زائرین اور عقیدت مندوں کا ایک عظیم ہجوم جمع ہوتا تھا۔ حاضرین کی کثرت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سال عرس کے موقع پر آستانہ کے باغات کے بیر اور آم تقسیم کیے گئے۔ ہر شخص کو صرف ایک بیر دیا گیا، بعد میں جب ان بیروں کی تعداد شمار کی گئی تو وہ چوبیس ہزار نکلی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرس مبارک میں کس قدر بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے۔
عرسِ مبارک کا انتظام نہایت شان و شوکت اور حسنِ انتظام کے ساتھ کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ پورے ہندوستان میں اس عرس کی شہرت تھی۔ حضور حمزہ عیؔنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اور مہمان نوازی کو سعادت سمجھتے تھے۔ عرس کے دنوں میں بلا مبالغہ سو سے زائد اقسام کے کھانے تیار کیے جاتے اور حاضرین کی خدمت میں پیش کیے جاتے تھے۔
زندگی کے آخری دور میں اگرچہ آپ نے عرس کے اخراجات میں خاصی کمی فرما دی تھی، لیکن اس کے باوجود ہر سال پچیس مختلف اقسام کے کھانے مہمانوں میں تقسیم کیے جاتے رہے۔ اس دسترخوانِ کرم میں امیر و غریب، شاہ و گدا، بزرگ و نووارد، سب یکساں شریک ہوتے تھے اور کسی قسم کی تخصیص یا امتیاز روا نہ رکھا جاتا تھا۔
حضور قطب الکاملین حضرت شاہ سید حمزہ قدس سرہٗ اپنے اسلافِ کرام کے اوصاف و کمالات کے حقیقی وارث تھے۔ آپ کی خانقاہ روحانی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ اہلِ محبت و عقیدت کا مرجع بھی ہے۔ بڑے بڑے امراء، رؤساء اور سلاطینِ وقت اپنے خدام، لشکروں اور مصاحبین کے ساتھ مارہرہ شریف حاضر ہوتے اور بسا اوقات کئی کئی ماہ خانقاہ میں قیام پذیر رہتے۔ ان تمام مہمانوں کی نہایت عزت و اکرام کے ساتھ خدمت کی جاتی، ان کے قیام و طعام کا بہترین انتظام ہوتا اور انواع و اقسام کے کھانوں سے ان کی ضیافت کی جاتی، لیکن حضرت کی شانِ استغناء اور بے نیازی کا عالم یہ تھا کہ آپ دنیاوی جاہ و منصب رکھنے والوں سے کسی قسم کی مرعوبیت محسوس نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ باوجود اس کے کہ بڑے بڑے حکمران اور صاحبِ اقتدار افراد آپ کی زیارت اور ملاقات کے خواہش مند ہوتے، حضرت اپنے معمولاتِ عبادت، اذکار اور دینی مشاغل میں مشغول رہتے اور محض دنیاوی حیثیت یا سلطنت کی بنیاد پر کسی کو خصوصی باریابی کا شرف عطا نہ فرماتے۔ آپ کی نگاہ میں عزت و فضیلت کا معیار صرف تقویٰ، اخلاص اور قربِ الٰہی تھا، نہ کہ دنیاوی اقتدار و حکومت۔
شاہ عینی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کی زندگی مبارکہ کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ کی سخاوت بڑی انوکھی تھی۔ سرکار حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ہی زمانۂ مبارکہ میں پیارے حبیب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدم مبارک کا نشان، موئے مبارک اور نعل شریف کے تبرکات مارہرہ شریف میں آئے۔ یہ تبرکات حاجی جمال الدین صاحب علیہ الرحمۃ کے ذریعے مارہرہ مطہرہ میں آئے، یہ صحابئ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ یا ان کے بھائی کے خاندان سے تھے۔ نیز مولائے کائنات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے مزار اقدس کا ٹکڑا اور سرکار غوث پاک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی لکھی بسم اللّٰہ شریف بھی حضور شاہ عینیؔ قدس سرہٗ نے جمع فرمائی۔ ان تبرکات کی زیارت عرسِ قاسمی برکاتی و عرسِ نوری برکاتی میں کرائی جاتی ہے۔
حضور شاہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ظاہری وصال ١٤؍محرم الحرام ١١٩٨ھ کو مارہرہ مطہرہ میں ہوا۔ مزار شریف: حضور صاحب البرکات رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ سے داہنی طرف ایک راستہ گیا ہے، چہرہ کا رخ داہنی جانب کرتے ہی سفید رنگ کے ایک خوبصورت گنبد میں ہے۔
حضور اسد العارفین حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا نکاح سیدہ دیانت فاطمہ قدس سرہا بنت حضرت سید محمد محسن بلگرامی عرف سید محمد روشن قدس سرہٗ سے ہوا۔ حضور شاہ حمزہ عینی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے چار شہزادے ہوئے: (١) حضور سیدنا و ماوانا آل احمد اچھے میاں، (٢) حضور سیدنا و مولانا آل برکات ستھرے میاں (٣) حضور سیدنا و ملجانا آل حسنین سچے میاں (٤) حضرت سیدنا علی (ان کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا) رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم۔
حضرت سید شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
jamiaturrazastudents.com
(١) عنایت رسول ﷺ کی:
۹۰۰؍صفحات پر قرآنِ حکیم کی تفسیر آپ نے ساٹھ سال کی عمر میں صرف چار مہینے میں فرمائی۔ اس کی جدید اشاعت حضرت امین ملت سید شاہ محمد امین میاں قادری برکاتی مدظلہ العالی و النورانی ( سجادہ نشین: خانقاہِ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ) کے دست مبارک سے ہوئی ہے۔
(٢) نعت رسول ﷺ کی:
حدیثوں کے انتخاب ”کتاب الاخیار“ کا ترجمہ ہے۔ اس میں ٤٠٠؍حدیثیں جمع ہیں۔
حضور شاہ حقانی علیہ الرحمۃ والرضوان نے نہ کسی کو مرید فرمایا نہ خلافت عطا فرمائی۔ خانقاہ کا دیوان خانہ، حویلی سجادہ نشینی، نئی نئی عمارتیں بنوانا آپ کی زندگی کے نمایاں کارنامے ہیں۔ حضور شرف ملت مدظلہ العالی فرماتے ہیں: ”حضرت شاہ محمد حقانی مارہرہ مطہرہ کے شاہ جہاں ہیں“
حضور سیدنا شاہ محمد حقانی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا وصالِ ظاہری ١٧؍ذی الحجہ ١٢٠١ھ بروز جمعہ کو ہوا۔ مارہرہ مطہرہ میں آخری قیام گاہ ہے۔
حضور شاہ محمد حقانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چچا کی شہزادی سے منسوب تھے، ان سکے نکاح نہ ہوا تو پوری زندگی سادگی میں گزارنے کا فیصلہ فرمایا۔
محمد انس رضا حاؔمی برکاتی
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف
- 1 ”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب
- 2 ”ہمارے بارہ“ کا دندان شکن جواب
- 3 مسلمانوں کی سستی اور اس کے برے نتائج
- 4 سیرتِ نبوی ﷺ اور خواتین کے حقوق کا تحفظ
- 5 حبیبِ کبریا ﷺ کا بچپن
- 6 واقعاتِ رضویہ: منفرد علمی کارنامہ
- 7 فیصلہ کرنے سے پہلے
- 8 اخلاص
- 9 کسی کا انتظار ہے
- 10 انتظار
- 11 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چودہویں و آخری قسط]
- 12 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیرہویں قسط]
- 13 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [بارہویں قسط]
- 14 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [گیارہویں قسط]
- 15 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دسویں قسط]
- 16 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [نویں قسط]
- 17 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [آٹھویں قسط]
- 18 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [ساتویں قسط]
- 19 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چھٹی قسط]
- 20 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پانچویں قسط]
- 21 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [چوتھی قسط]
- 22 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [تیسری قسط]
- 23 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [دوسری قسط]
- 24 مشائخِ مارہرہ مطہرہ کا تعارف [پہلی قسط]
- 25 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [آخری قسط]
- 26 مختصر سیرتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ [پہلی قسط]
- 27 حضرت سید زید شہید و حضرت عیسیٰ موتم الاشبال رضی اللہ تعالیٰ عنہما
- 28 اسلام اور رزقِ حلال
- 29 دور سیدنا صدیق اکبر میں اسلام کا عروج
- 1 دل میں محبتوں کا کھلتا گلاب دیکھا
- 2 تنہائی میں
- 3 خالقِ کل کی عطا قرآن ہے
- 4 رضا کے پیر و مرشد کا دلارا حضرتِ نوری
- 5 خلاقِ جہاں کی ہیں عطا حضرتِ نوری
- 6 ہیں عطائےخدا شاہ اختر رضا
- 7 آرہے ہیں آ رہے ہیں آ رہے ہیں مصطفیٰ ﷺ
- 8 لعنۃ اللہ علیکم دشمنانِ اہلِ بیت
- 9 تضمین بر کلامِ حضور تاج الشریعہ: منقبتِ حضور احسن العلماء
- 10 ہادئ حق تیری سیرت سیدی مخدومِ پاک
ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی
ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی باسمہ تعالٰی ونصلی علی نبیہ الاعلی میں آج اس سوال کے جواب کے...
یومِ عاشوراء کے تقدس کی پامالی
یومِ عاشوراء کے تقدس کی پامالی روئیں وہ جو منکر ہیں شہادتِ حسین کا ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے ہے عشق اپنی جاں سے زیادہ آلِ رسولﷺ سے یوں سرِ عام ہم...
متعلقہ مضامین
حالیہ مضامین
مضمون نگاران 28

Md Maruf Raza Markazi
منتخب مضامین
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]
شخصیات اسلاف واخلاف
کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اطلبوا العلم و لو بالصين
دین کے لیے زہرِ قاتل؟
کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:
مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں













تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

تجارت سیرت مصطفیﷺ کی روشنی میں
مؤلف: محمد ریحان رضا مرکزی

رسومات شادی
مؤلف: محمد تنویر رضا مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

برکات تربیت
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی

سخن زار نعوت
شاعر: محمد شمس تبریز خاکی مرکزی

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

مختصر حیات حضور غوث اعظم
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Hazrat Makhdoom Munawwar Baghdadi
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

Huzoor Mujahide Millat
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری
مکمل کتاب خریدنے کے لیے براہِ کرم خریدیں کے بٹن پر کلک کر کے مصنف سے براہِ راست رابطہ کریں۔ شکریہ!
مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

منتخب فتوے
مصنف: زبدۃ الاتقیاء علامہ مفتی الشاہ محمد صالح قادری نوری

واقعات رضویہ
مؤلف: ابو حمدان مفتی محمد شاعر رضا قادری رضوی
حضرت مولانا افضل مرکزی صاحب
جامعۃ الرضا، بریلی شریف

افضلیت صدیق اکبر خاندان نبوت کی زبانی
مصنف: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

مہر بخشش
شاعر: مفتی جسیم اکرم مرکزی

کذاب کون؟
مؤلف: محمد عامر فضیل مرکزی
رابطہ نمبر :7492077390

ثبوت ایصال ثواب
مترجم: مفتی محمد رضوان عالم مرکزی

اربعین نکاح
مترجم: مفتی جسیم اکرم مرکزی

تعریفات رضویہ جدید ایڈیشن
ترتیب و تخریج: مفتی فیضان رضا مرکزی جبلپور
التعریفات الرضویۃ لمعرفة الأحکام الشرعیۃ
(المعروف بہ)
**تعریفاتِ رضویہ**
**تعریفاتِ رضویہ** ایک جامع، مستند اور منفرد علمی کاوش ہے، جس میں تقریباً چار سو فقہی تعریفات، اصطلاحات، احکامات اور افادیاتِ مہمہ کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ تمام اصطلاحات بالخصوص امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر تصانیف، خصوصاً فتاویٰ رضویہ شریف سے ماخوذ ہے۔
اس کتاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف فقہی اصطلاحات کی تعریف پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ ہر تعریف کے ساتھ اس سے متعلق شرعی احکام اور اہم علمی افادیات بھی ذکر کیے گئے ہیں، جس سے اس کی علمی افادیت اور اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
کتاب کو بائیس (22) ابواب پر مرتب کیا گیا ہے، تاکہ قارئین مطلوبہ تعریف تک نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ رسائی حاصل کر سکیں ۔
فقہی احکام کے صحیح فہم اور معرفت کے لیے علمِ تعریفات بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ احکامِ شرعیہ کی درست تفہیم انہیں اصطلاحات کے صحیح ادراک پر موقوف ہوتی ہے۔ اسی لیے اس فن سے واقفیت اہلِ علم، طلبۂ دینیہ، مفتیانِ کرام اور فقہِ اسلامی کے ہر طالب کے لیے نہایت ضروری ہے۔
زبانِ اردو میں اتنی بڑی تعداد میں فقہی تعریفات کا ایک ہی مجموعہ میں دستیاب ہونا نادر و نایاب ہے، اور جب یہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ کی تحریرات سے ماخوذ ہوں تو ان کی علمی قدر و قیمت مزید نمایاں ہے،
جس کا صحیح اندازہ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
یہ مجموعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے زبانِ اردو میں فقہی تعریفات پر ایک بے مثال، گراں قدر اور قابلِ قدر علمی پیشکش ہے۔
📞 کتاب حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ فرمائیں۔
8475047011
مفتی فیضان رضا مرکزی [ خادم دار الافتاء عید الاسلام جبلپور ]

افضلیت مطلقہ اور فضیلت جزئیہ میں فرق
کاتب: محمد میاں قادری صدیقی مرکزی ازہری

برکات اصحاب حضور جلد ثانی
مصنف: محمد انس رضا حامی برکاتی مرکزی
Who We Are
Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.
Welcome to Jamiatur Raza Students Portal
A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.
Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.
جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے
حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔
چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔
The Spark of Inspiration
The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.
جذبہ اور سوچ کی شروعات
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک
جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔
A Legacy of Knowledge and Research
Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.
علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ
علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔
Preserving Knowledge Securely
Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.
تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔
Bridging Tradition and Modern Technology
In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.
روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ
ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔
Igniting the Passion for Writing
When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.
طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا
جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔
Future Horizons: Expanding to Fatawa
While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.
مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز
اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔
Subscribe / Join Us
ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں
ABOUT OUR JAMIA
Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا
Founder's Message
Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director's Message
About Our Jamia
Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder's Message
Qazil Quozaat Fil Hind Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan
Alias: Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Usually to Ahle sunnat wa Jamat and specially to followers of sisila Qadirya, Barkatia, Razvia that make your stability on Maslake Ahle Sunnat Wa Jamat which is known as “Maslake Aala Hazrat”.
Huzoor Tajushsharia, Hazrat Allama Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan, is a revered figure in the Ahle Sunnat wa Jamaat, particularly among the followers of the Qadiriyyah, Barkatiyyah, and Razviyah orders. His teachings and guidance are deeply rooted in the principles of Maslake Ahle Sunnat wa Jamaat, which is more widely recognized as “Maslake Aala Hazrat.”
➙ Upholding the Teachings of Maslake Aala Hazrat
Huzoor Tajushsharia strongly emphasizes the importance of remaining steadfast in the true path of Maslake Aala Hazrat. It is vital for every follower to distance themselves from all forms of deviance and corruption. He specifically warns against the influence of groups such as the Rafzees, Qadiyanis, Wahabis, Deobandis, and proponents of Sulh-e-Kullism. These groups, through their misguided beliefs and practices, pose a threat to the purity of one's faith and have the potential to lead believers astray.
Huzoor Tajushsharia advises that even maintaining social relations with these groups can be detrimental, as their influence might subtly distance one from the true teachings of Islam. Therefore, it is essential to remain vigilant and safeguard your faith by avoiding any form of association with such individuals.
➙ Commitment to Worship and Good Deeds
A devout Muslim must be unwavering in their commitment to performing daily prayers (Namaz), fasting (Roza), and other righteous deeds. Huzoor Tajushsharia encourages his followers not only to observe these obligations with dedication but also to inspire others to do the same. Engaging in acts of worship and good deeds strengthens one's faith and brings the community closer to the ideals of Islam.
At the same time, it is equally important to abstain from all forms of sinful behavior and to discourage others from engaging in such actions. By embodying good morals and true Islamic behavior in every aspect of life, one can set a positive example for others and contribute to the betterment of society.
➙ Compassion and Support for the Needy
Huzoor Tajushsharia urges his followers to actively participate in charitable activities, particularly in supporting the poor, the underprivileged, and their families. This support should extend to helping them with education, marriage, and other essential needs. Charity, especially when directed towards Deeni madrasas, plays a crucial role in sustaining Islamic education and preserving the faith.
When paying Sadaqah (charity) and Zakat (obligatory almsgiving), it is essential to remember the Deeni madrasas, especially the Markaz-e-Ahle Sunnat and your beloved Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. By contributing to these institutions, you not only fulfill your religious obligations but also support the noble mission of spreading Islamic knowledge and preserving the teachings of Maslake Aala Hazrat.
➙ Establishing and Supporting Sunni Institutions
Huzoor Tajushsharia encourages the establishment of madrasas and libraries in your localities, staffed exclusively by Sunni scholars. These institutions should serve as centers of learning and guidance for the community. Providing accommodation, food, and other necessary facilities for the scholars will ensure they can dedicate themselves fully to teaching and guiding others. Staying connected with these scholars will help you navigate your religious duties.
Managing Director's Message
➙ I am glad to introduce The Center of Islamic Studies Jamiatur Raza to you all. Now this Islamic Institution is going to enter in its tenth Year of Successful running. As you know that this institution is fast growing and consolidating its position.
➙ I am delighted to introduce The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza, to all of you. As we approach the tenth year of our institution’s successful journey, it fills me with immense pride to reflect on the growth and consolidation of our position as a leading center of Islamic education. Our institution was founded with a clear and noble motto: to provide higher and quality education that nurtures not only the intellect but also the soul.
➙ At Jamiatur Raza, we are deeply committed to equipping our students with a profound understanding of the Quran and Sunnah, as well as instilling in them the authentic Islamic character and conduct defined by Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Khan, Bareilvi. This commitment is at the heart of everything we do, guiding our efforts to prepare our learners to be knowledgeable, ethical, and spiritually grounded individuals.
➙ One of the key aspects that sets our institution apart is our ability to maintain a delicate balance between the depth and breadth of Islamic knowledge and the demands of modern education. We believe that Islamic education should not be isolated from the realities of the contemporary world. Therefore, we have designed our programs to meaningfully integrate traditional Islamic teachings with modern educational practices, ensuring that our students are well-prepared to navigate the complexities of modern society while remaining steadfast in their faith.
➙ Our emphasis on coordinating Islamic values with modern education is driven by the desire to empower our students. We want them to enter the world of work with confidence, fully prepared to contribute to society without being looked down upon for their educational background. To achieve this, we have placed the all-round physical and mental development of our students as a top priority. We recognize that the holistic development of our students is essential for their success in both their personal and professional lives.
➙ In our pursuit of excellence, we also believe in the power of research and practical experience. Learning at Jamiatur Raza is not confined to the classroom; it is enriched through participation in research, starting as early as the fifth year of study. We encourage our students to engage in meaningful work assignments, and where possible, we provide opportunities for them to earn while they learn. This hands-on experience not only reinforces their academic learning but also prepares them for the challenges of the real world.
➙ Our teachers and students are integral to the success of our institution, and we view them as two sides of the same coin. They must work together, challenging and supporting each other’s thinking and research endeavors. It is this collaborative spirit that fosters an atmosphere of dynamic teaching and learning at every level of our institution.
➙ As we continue to grow and evolve, I am confident that Jamiatur Raza will remain a beacon of Islamic education, producing graduates who are not only knowledgeable but also exemplary in their character and conduct. I extend my heartfelt gratitude to our dedicated faculty, our hardworking students, and the entire Jamiatur Raza community for their unwavering commitment to our shared mission.
➙ May Allah Ta’ala continue to bless our efforts and guide us in our quest to serve Islam and the Muslim Ummah with sincerity and dedication.
Need Help or Have a Question?
Contact us for any guidance regarding the library, books, or website.
Contact Us