صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط دہم]
[تِلۡكَ عَشَرَةࣱ كَامِلَةࣱۗ]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مسلک اعلی حضرت اکابر کی نظر میں ـــــــــــــــــــ
ایک زمانے تک اکابر علما مسلک اعلی حضرت کو سنیت کی پہچان قرار دیتے رہے مانتے رہے یہاں تک کہ اسی کی نشر و اشاعت اور باطلوں کی سرکوبی میں اپنی زندگیاں گزار دیں لیکن بعض آستینی موذیوں نے انگشت نمائی کی اور خود داغدار ہو گئے لیکن حق کا پرچم ہمیشہ شان و شوکت کے ساتھ لہراتا رہا اور ان شاءاللہ تعالیٰ تا قیام قیامت لہراتا رہے گا
سب ان سے جلنے والوں کے گل ہو گئے چراغ
احمد رضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی
جو حضرات مسلک اعلی حضرت پہ چیں بہ جبیں ہوتے ہیں انھیں دیکھنا چاہیے کہ اکابر علما نے مسلک اعلی حضرت کے بارے کیا عندیہ پیش کیا ہے۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں:
حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ حضور سید شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی رضی اللہ عنہ کے بارے تحریر فرماتے ہیں:
"حضرت سید شاہ اسمعیل حسن میاں صاحب کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا شاه ابوالحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہ العزیز نے مجھ سے فرمایا کہ اب اس وقت دین داری کی علامت یہ ہے کہ جو شخص مولانا عبد القادر صاحب بدایونی اور مولانا احمد رضا خاں صاحب سے محبت رکھے، اسے دین دار جانو، اور جو ان دونوں سے بغض وعداوت رکھے، اسے سمجھ لو کہ بد مذہب ہے، یا کسی بد مذہب کے پھیر میں پھنسا ہوا ہے۔ اور جس مسئلہ پر ان دونوں کا اتفاق ہو اسے جانو کہ یہ مسئلہ بہت ہی محقق ہے۔ اور جس مسئلہ سے ان دونوں کو اختلاف ہو اسے جان لو کہ یہ غیر محقق اور غلط ہے۔ اور فرماتے کہ ہمارا تواب یہی دستور العمل ہے کہ جو مسئلہ مولانا احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا ، اس پر دل فورا مطمئن ہو گیا، اور آپ کی اعلی تحقیق اور غور و تدبر کے کثیر در کثیر مشاہدات و واقعات نے یہ حالت کر دی تھی کہ جو مسئلہ دریافت کرتا اس کی نسبت لکھ دیتا کہ مسئلہ کا حکم لکھ دیجیے دلیل کی ضرورت نہیں۔
[حیات اعلی حضرت کامل ص ٧٣٣]
اہم نکات ــــــــــــ
حضور سیدنا ابو الحسن احمد نوری مارہروی رضی اللہ عنہ کے فرمان سے یہ درج ذیل اہم نکات معلوم ہوئے ۔
١۔ امام احمد رضا خان اور علامہ عبد القادر بدایونی رضی اللہ عنہما کی محبت دین دار یعنی سنی صحیح العقیدہ ہونے کی علامت ہے۔
٢۔ ان سے عداوت بدمذہبیت یا زلت [یعنی پھسلنے] کی علامت ہے
٣۔ اور جس مسئلے میں ان دونوں کا اتفاق ہو وہ مسئلہ محقق ہے
٤۔ اور جس مسئلے سے ان دونوں کو اختلاف ہو وہ غیر محقق غلط ہے
٥۔ سیدنا ابو الحسن احمد نوری رضی اللہ عنہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ پر اس قدر اعتماد تھا کہ فقط حکم مسئلہ دریافت فرماتے تھے گویا ان کے نزدیک خود امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی ذات ہی دلیل بن گئی تھی۔
حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ حیات اعلی حضرت میں عالم کبیر علامہ علامہ قادر بخش سہسرامی رضی اللہ عنہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
مولانا مولوی قادر بخش صاحب سہسرامی جو ایک بہت بڑے مشہور عالم اور زبردست واعظ تھے۔ ایک مرتبہ بسلسلہ وعظ موضع رجہت ضلع گیا تشریف لے گئے۔ یہ بستی سادات کرام کی ہے، اس بستی کے لوگ سجادہ نشینان سہسرام کے رشتہ دار ہیں۔ ان کی شادیاں اس وقت تک رجہت اور پچھر وکھی وغیرہ میں ہوا کرتی ہیں۔ رجہت ہی کے رہنے والے میرے دوست مولوی سید شاہ غیاث الدین صاحب چشتی نظامی فخری رجہتی بہاری اور پچھر وکھی کے رہنے والے میرے مخلص محترم مولانا مولوی سید احمد عالم صاحب قادری برکاتی رضوی صدر مدرس مدرسہ قادریہ بسرام پور شیر گھاٹی ہیں۔ یہاں کے باشندے پہلے سب کے سب سنی حنفی تھے تھوڑے دنوں سے کچھ وہابیت کا اثر ہو گیا اور کچھ لوگ غیر مقلد ہو گئے ۔ ان لوگوں کی برادری کی وجہ سے سجادہ نشین صاحب سہسرام کے یہاں آمد و رفت ہے مگر اختلاف مذہب کی وجہ سے مسجد میں اعلان مذہب سے ممنوع تھے۔ تاکہ اختلاف و خلفشار پیدا نہ ہو سب سنی حنفی تھے۔ وہ لوگ جب آتے کمرہ ہی پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ رجہت کے سنیوں نے مولانا قادر بخش صاحب سہسرامی کو ر جہت وعظ کے لیے بلایا۔ وعظ کے بعد کھانا کھانے کے لیے بیٹھے، تو کسی نے پوچھا کہ مولانا سنی اور وہابی کی کیا پہچان ہے؟ ایسی بات بتائیے کہ جس کو ہم لوگ بھی کر سکیں، اور اس کے ذریعہ سنی وہابی کو پہچان سکیں ، کوئی بڑی علمی بات نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا:
ایسا آسان عمدہ اور کھرا قاعدہ آپ لوگوں کو بتا دیتا ہوں کہ اس سے اچھا ملنا مشکل ہے۔ آپ جس کسی کے بارے میں مشتبہ ہوں کہ سنی ہے یا وہابی یا بد مذہب؟ تو اس کے سامنے مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کا تذکرہ چھیڑ دیجیے، اور اس کے چہرے کو بغور دیکھیے اگر چہرہ پر بشاشت اور خوشی کے آثار دیکھئے، تو یقین جانیے کہ سنی ہے۔ اور اگر چہرہ پر پژمردگی اور کورت دیکھئے تو سمجھئے کہ وہابی ہے ، اور اگر وہابی نہیں جب بھی اس میں کسی قسم کی بے دینی ضرور ہے۔ اس زمانہ مين لا يحبه الامؤمن ولا يبغضه الامنافق [اس سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی عداوت کرے گا] میں یہ ضمیریں مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی طرف پھرتی ہیں
[حیات اعلی حضرت کامل ص : ٧٣٨/٧٣٩]
مذکور بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات ستودہ صفات معیار سنیت ہے ۔
اسی لیے فقیہ اعظم ہند شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی ذات گرامی اس دور میں حق و باطل کی معیار ہے ۔ ان سے محبت ان کی عظمت کا اعتراف سنی صحیح العقیدہ ہونے کی علامت ہے اور ان کے ذکر سے چڑھنا اگر حسد اور ذاتی عناد کی وجہ سے نہیں تو بد مذہبی کی دلیل ہے۔
[ فتاوی شارح بخاری جلد سوم ص: ٣٧٦]
قطب وقت حضرت تیغ علی شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلی حضرت ہی میرا مسلک ہے اور جو مسلک اعلی حضرت کا پابند ہے وہی میرا مرید ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٧٨]
عارف باللہ حضرت شاہ جی میاں محمد شیر خان نقشبندی رضی اللہ عنہ سے ان کے مریدوں نے عرض کیا کہ آپ نے تو کوئی کتاب تصنیف نہیں فرمائی؟ تو شاہ جی میاں رضی اللہ عنہ نے جوابا ارشاد فرمایا:
کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ بڑے مولوی صاحب اعلیٰ حضرت نے اپنی کتابوں میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔ ان ہی کی کتابیں پڑھو اور انہیں کے مسلک پر قائم رہو ۔ جو ان کا مسلک وہی میرا مسلک ہے۔ جو شخص ان کا نہیں وہ میرا نہیں
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٢٤]
امانتِ اہل سنت حضرت علامہ امانت رسول قادری پیلی بھیتی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
میرے استاد گرامی خطیب ہلدوانی تلمیذ اعلیٰ حضرت و تلمیذ حضور محدث سورتی علامہ الحاج حافظ قاری مفتی قاضی غلام محی الدین خان صاحب نقشبندی مفتی و قاضی ہلدوانی چشم و چراغ خاندان شیریہ علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ فرمایا قاری امانت رسول سنو !
میرے استاذ شيخ المحدثین استاذ الاولیاء استاذ الاساتذہ علامہ مفتی فقیہ مولانا وصی احمد محدث سورتی حنفی حنیفی انصاری ثم پیلی بھیتی قدس سرہ النورانی اپنی عمر کے اخیر سال میں اکثر اپنے بیانات میں ارشاد فرماتے تھے:
میں تمام مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجد د دین و ملت علامه فقیه مفتی محمد احمد رضا خان صاحب بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے ۔ مسلمانوں اس مسلک کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اسی پر قائم رہنا۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٢٤-٢٢٣]
حضور محدث سورتی رضی اللہ عنہ کے متعلق ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
حضرت محدث سورتی صاحب اور اعلیٰ حضرت کے تعلقات کو دیکھ کر ایک بار حضرت محدث صاحب کے آخری تلمیذ مولانا سید محمد صاحب کچھوچھوی نے پوچھا کہ آپ کو شرف بیعت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن صاحب گنج مرادآبادی سے حاصل ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ آپ کا شوق جو اعلیٰ حضرت سے ہے، وہ کسی سے نہیں۔ اعلیٰ حضرت کی یاد، ان کا تذکرہ، ان کے فضل و کمال کا خطبہ آپ کی زندگی کے لیے روح کا مقام رکھتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو فرمایا کہ سب سے بڑی دولت وہ علم نہیں ہے، جو میں نے مولوی اسحاق محشی بخاری سے پائی ، اور وہ بیعت نہیں ہے جو گنج مراد آباد میں نصیب ہوئی، بلکہ وہ ایمان جو مدار نجات ہے، میں نے صرف اعلیٰ حضرت سے پایا، اور میرے سینہ میں پوری عظمت کے ساتھ مدینہ کا بسانے والا اعلیٰ حضرت ہیں۔ اسی لیے ان کے تذکرہ سے میری روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے، اور ان کے ایک ایک کلمہ کو اپنے لیے مشعل ہدایت جانتا ہوں۔
[حیات اعلی حضرت کامل ص: ٧٣٩]
یہی سے ان حضرات کا بھی جواب ہو گیا جو بار بار یہ پوچھتے ہیں کہ آپ سنی حضرات اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا زیادہ ذکر کیوں کرتے ہیں۔
شیخ المشائخ حضرت علامہ سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو حضور پر نور اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا ہے۔
[ماہنامہ سنی آواز ، ناگپور مئی، جون ۱۹۹۷ء]
شیر بیشۂ اہل سنت امام المناظرین مظہر اعلیٰ حضرت علامہ مفتی حشمت علی خاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
دین ومذہب اہلسنت کا سچا و مختصر خلاصہ مسلک اعلیٰ حضرت ہے یہی وہ مجمع البحار ہے جو آج حنفیت و شافعیت و مالکیت و حنبلیت اور قادریت و چشیت و سہروردیت و نقشبندیت و مجدددیت و برکاتبیت و اشرفیت و غیرہم سب سمندروں کا سنگم ہے ۔
[۵۰ واں خصوصی شماره افکار رضا ممبئی بحوالہ سنی آواز ، ناگپور ]
مرشدی الکریم تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
بلا شبہ مسلک اعلیٰ حضرت اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ مسلک اہل سنت کا دوسرا نام اور اسکی صحیح پہچان ہے اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کا اس زمانے میں نشان ہے۔ اس سے منع کرنا حق و باطل کا امتیاز مٹانا ہے اور اتحاد کے بہانے انتشار و افتراق پھیلانا اور سنیوں کا برا چاہتا ہے
[امتیاز اہل سنت ص: ٢١٣]
حضور فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
"بد مذہبوں سے امتیاز کے لئے مسلک اولیاء امت کہنا کافی نہ ہوگا۔ اس کے لئے اس زمانہ میں مسلک اعلیٰ حضرت ہی کہنا ضروری ہوگا اور اس سے روکنے والا بد مذہب ہوگا یا حاسد۔
[فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص: ٤٣٠]
علامہ مفتی سید شاہد علی رضوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلیٰ حضرت ایک عظیم سچائی ہے، اس سچائی پر جو غبار ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ خود غبار کی تہوں میں دب جائے گا۔
[امتیاز اہل سنت ص: ١٧]
استاذی الکریم مستجاب الدعوات نمونۂ اسلاف تاج الاصفیا عظیم فقیہ و مفتی علامہ شیخ صالح رضوی محدث بریلوی حفظہ اللہ القوی ارقام فرماتے ہیں:
جب بدعت ، وہابیت، دیوبندیت وغیرہ پیدا ہوئی اور بغاوت و سرکشی نے سر ابھارا تو اس سے امتیاز کے لیے ایک عظیم فائدے اور اہم مناسبت کی وجہ سے، مسلک اہل سنت کی تعبیر کے لیے لفظ ”مسلک اعلیٰ حضرت حکماء امت نے تجویز کیا تا کہ وہابیوں اور دوسرے بدعتیوں، دیوبندیوں سے نمایاں امتیاز حاصل ہو جائے ۔ کیوں کہ وہ بھی خود کو اہلسنت کہیے اور اپنے منہ سنی بنتے ہیں۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢١٧]
حضور سراج ملت سید شاہ سراج اظہر قدس سرہ العزیز پھول گلی ممبئی ارقام فرماتے ہیں:
مسلک علیٰ حضرت فی زماننا سوا داعظم اہلسنت و جماعت کی پہچان و علامتی نشان ہے۔ صرف اہلسنت کہنے سے اہل حق کا امتیاز مشکل ہی نہیں بعید الوقوع ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٤٩]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا مشائخ عظام اور وقت کے جید علماء کرام مفتیان ذوی الاحترام نے کیسی کیسی رائے قائم فرمائی جب کہ محض مسلمانان اہل سنت ہی کسی چیز کو اچھی جانیں تو اس پر اچھائی کا حکم لگتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:
ما رأی المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن
یعنی جسے مسلمانان اہل سنت اچھا گمان کرے وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے
تو اب سوچیے جس اصطلاح پر مشائخ خانقاہ، مدرسین، محدثین، محقیقین، صالحین، مفتیانِ کرام کا اتفاق ہو چکا ہو کیا اس کی اچھائی پر بھی کوئی شک کرے گا؟ کوئی نہیں کرے گا ہر گز نہیں کرے گا ہاں مگر وہ جس کے دل میں کجی ہو اس کا کوئی علاج نہیں۔
برصغیر کے سارے علماء کرام مشائخ عظام نے متفقہ طور پر حق و باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچنے کے لیے مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح قائم فرمائی اور اس کی نشر و اشاعت کی یہاں تک کہ اب ہر سنی کا بچہ بچہ خود کو مسلک اعلی حضرت والا کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت میں زندگی بسر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور اسی پر ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے ۔
ختم شد

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط دہم] [اخیر قسط]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط دہم]
[تِلۡكَ عَشَرَةࣱ كَامِلَةࣱۗ]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
مسلک اعلی حضرت اکابر کی نظر میں ـــــــــــــــــــ
ایک زمانے تک اکابر علما مسلک اعلی حضرت کو سنیت کی پہچان قرار دیتے رہے مانتے رہے یہاں تک کہ اسی کی نشر و اشاعت اور باطلوں کی سرکوبی میں اپنی زندگیاں گزار دیں لیکن بعض آستینی موذیوں نے انگشت نمائی کی اور خود داغدار ہو گئے لیکن حق کا پرچم ہمیشہ شان و شوکت کے ساتھ لہراتا رہا اور ان شاءاللہ تعالیٰ تا قیام قیامت لہراتا رہے گا
سب ان سے جلنے والوں کے گل ہو گئے چراغ
احمد رضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی
جو حضرات مسلک اعلی حضرت پہ چیں بہ جبیں ہوتے ہیں انھیں دیکھنا چاہیے کہ اکابر علما نے مسلک اعلی حضرت کے بارے کیا عندیہ پیش کیا ہے۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں:
حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ حضور سید شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی رضی اللہ عنہ کے بارے تحریر فرماتے ہیں:
"حضرت سید شاہ اسمعیل حسن میاں صاحب کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا شاه ابوالحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہ العزیز نے مجھ سے فرمایا کہ اب اس وقت دین داری کی علامت یہ ہے کہ جو شخص مولانا عبد القادر صاحب بدایونی اور مولانا احمد رضا خاں صاحب سے محبت رکھے، اسے دین دار جانو، اور جو ان دونوں سے بغض وعداوت رکھے، اسے سمجھ لو کہ بد مذہب ہے، یا کسی بد مذہب کے پھیر میں پھنسا ہوا ہے۔ اور جس مسئلہ پر ان دونوں کا اتفاق ہو اسے جانو کہ یہ مسئلہ بہت ہی محقق ہے۔ اور جس مسئلہ سے ان دونوں کو اختلاف ہو اسے جان لو کہ یہ غیر محقق اور غلط ہے۔ اور فرماتے کہ ہمارا تواب یہی دستور العمل ہے کہ جو مسئلہ مولانا احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا ، اس پر دل فورا مطمئن ہو گیا، اور آپ کی اعلی تحقیق اور غور و تدبر کے کثیر در کثیر مشاہدات و واقعات نے یہ حالت کر دی تھی کہ جو مسئلہ دریافت کرتا اس کی نسبت لکھ دیتا کہ مسئلہ کا حکم لکھ دیجیے دلیل کی ضرورت نہیں۔
[حیات اعلی حضرت کامل ص ٧٣٣]
اہم نکات ــــــــــــ
حضور سیدنا ابو الحسن احمد نوری مارہروی رضی اللہ عنہ کے فرمان سے یہ درج ذیل اہم نکات معلوم ہوئے ۔
١۔ امام احمد رضا خان اور علامہ عبد القادر بدایونی رضی اللہ عنہما کی محبت دین دار یعنی سنی صحیح العقیدہ ہونے کی علامت ہے۔
٢۔ ان سے عداوت بدمذہبیت یا زلت [یعنی پھسلنے] کی علامت ہے
٣۔ اور جس مسئلے میں ان دونوں کا اتفاق ہو وہ مسئلہ محقق ہے
٤۔ اور جس مسئلے سے ان دونوں کو اختلاف ہو وہ غیر محقق غلط ہے
٥۔ سیدنا ابو الحسن احمد نوری رضی اللہ عنہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ پر اس قدر اعتماد تھا کہ فقط حکم مسئلہ دریافت فرماتے تھے گویا ان کے نزدیک خود امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی ذات ہی دلیل بن گئی تھی۔
حضور ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ حیات اعلی حضرت میں عالم کبیر علامہ علامہ قادر بخش سہسرامی رضی اللہ عنہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
مولانا مولوی قادر بخش صاحب سہسرامی جو ایک بہت بڑے مشہور عالم اور زبردست واعظ تھے۔ ایک مرتبہ بسلسلہ وعظ موضع رجہت ضلع گیا تشریف لے گئے۔ یہ بستی سادات کرام کی ہے، اس بستی کے لوگ سجادہ نشینان سہسرام کے رشتہ دار ہیں۔ ان کی شادیاں اس وقت تک رجہت اور پچھر وکھی وغیرہ میں ہوا کرتی ہیں۔ رجہت ہی کے رہنے والے میرے دوست مولوی سید شاہ غیاث الدین صاحب چشتی نظامی فخری رجہتی بہاری اور پچھر وکھی کے رہنے والے میرے مخلص محترم مولانا مولوی سید احمد عالم صاحب قادری برکاتی رضوی صدر مدرس مدرسہ قادریہ بسرام پور شیر گھاٹی ہیں۔ یہاں کے باشندے پہلے سب کے سب سنی حنفی تھے تھوڑے دنوں سے کچھ وہابیت کا اثر ہو گیا اور کچھ لوگ غیر مقلد ہو گئے ۔ ان لوگوں کی برادری کی وجہ سے سجادہ نشین صاحب سہسرام کے یہاں آمد و رفت ہے مگر اختلاف مذہب کی وجہ سے مسجد میں اعلان مذہب سے ممنوع تھے۔ تاکہ اختلاف و خلفشار پیدا نہ ہو سب سنی حنفی تھے۔ وہ لوگ جب آتے کمرہ ہی پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ رجہت کے سنیوں نے مولانا قادر بخش صاحب سہسرامی کو ر جہت وعظ کے لیے بلایا۔ وعظ کے بعد کھانا کھانے کے لیے بیٹھے، تو کسی نے پوچھا کہ مولانا سنی اور وہابی کی کیا پہچان ہے؟ ایسی بات بتائیے کہ جس کو ہم لوگ بھی کر سکیں، اور اس کے ذریعہ سنی وہابی کو پہچان سکیں ، کوئی بڑی علمی بات نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا:
ایسا آسان عمدہ اور کھرا قاعدہ آپ لوگوں کو بتا دیتا ہوں کہ اس سے اچھا ملنا مشکل ہے۔ آپ جس کسی کے بارے میں مشتبہ ہوں کہ سنی ہے یا وہابی یا بد مذہب؟ تو اس کے سامنے مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کا تذکرہ چھیڑ دیجیے، اور اس کے چہرے کو بغور دیکھیے اگر چہرہ پر بشاشت اور خوشی کے آثار دیکھئے، تو یقین جانیے کہ سنی ہے۔ اور اگر چہرہ پر پژمردگی اور کورت دیکھئے تو سمجھئے کہ وہابی ہے ، اور اگر وہابی نہیں جب بھی اس میں کسی قسم کی بے دینی ضرور ہے۔ اس زمانہ مين لا يحبه الامؤمن ولا يبغضه الامنافق [اس سے مومن ہی محبت کرے گا اور منافق ہی عداوت کرے گا] میں یہ ضمیریں مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی طرف پھرتی ہیں
[حیات اعلی حضرت کامل ص : ٧٣٨/٧٣٩]
مذکور بالا اقتباس سے معلوم ہوا کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ذات ستودہ صفات معیار سنیت ہے ۔
اسی لیے فقیہ اعظم ہند شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی ذات گرامی اس دور میں حق و باطل کی معیار ہے ۔ ان سے محبت ان کی عظمت کا اعتراف سنی صحیح العقیدہ ہونے کی علامت ہے اور ان کے ذکر سے چڑھنا اگر حسد اور ذاتی عناد کی وجہ سے نہیں تو بد مذہبی کی دلیل ہے۔
[ فتاوی شارح بخاری جلد سوم ص: ٣٧٦]
قطب وقت حضرت تیغ علی شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلی حضرت ہی میرا مسلک ہے اور جو مسلک اعلی حضرت کا پابند ہے وہی میرا مرید ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٧٨]
عارف باللہ حضرت شاہ جی میاں محمد شیر خان نقشبندی رضی اللہ عنہ سے ان کے مریدوں نے عرض کیا کہ آپ نے تو کوئی کتاب تصنیف نہیں فرمائی؟ تو شاہ جی میاں رضی اللہ عنہ نے جوابا ارشاد فرمایا:
کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ بڑے مولوی صاحب اعلیٰ حضرت نے اپنی کتابوں میں سب کچھ لکھ دیا ہے۔ ان ہی کی کتابیں پڑھو اور انہیں کے مسلک پر قائم رہو ۔ جو ان کا مسلک وہی میرا مسلک ہے۔ جو شخص ان کا نہیں وہ میرا نہیں
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٢٤]
امانتِ اہل سنت حضرت علامہ امانت رسول قادری پیلی بھیتی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
میرے استاد گرامی خطیب ہلدوانی تلمیذ اعلیٰ حضرت و تلمیذ حضور محدث سورتی علامہ الحاج حافظ قاری مفتی قاضی غلام محی الدین خان صاحب نقشبندی مفتی و قاضی ہلدوانی چشم و چراغ خاندان شیریہ علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ فرمایا قاری امانت رسول سنو !
میرے استاذ شيخ المحدثین استاذ الاولیاء استاذ الاساتذہ علامہ مفتی فقیہ مولانا وصی احمد محدث سورتی حنفی حنیفی انصاری ثم پیلی بھیتی قدس سرہ النورانی اپنی عمر کے اخیر سال میں اکثر اپنے بیانات میں ارشاد فرماتے تھے:
میں تمام مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجد د دین و ملت علامه فقیه مفتی محمد احمد رضا خان صاحب بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے ۔ مسلمانوں اس مسلک کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور اسی پر قائم رہنا۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٢٤-٢٢٣]
حضور محدث سورتی رضی اللہ عنہ کے متعلق ملک العلما علامہ سید ظفر الدین بہاری رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
حضرت محدث سورتی صاحب اور اعلیٰ حضرت کے تعلقات کو دیکھ کر ایک بار حضرت محدث صاحب کے آخری تلمیذ مولانا سید محمد صاحب کچھوچھوی نے پوچھا کہ آپ کو شرف بیعت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمن صاحب گنج مرادآبادی سے حاصل ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ آپ کا شوق جو اعلیٰ حضرت سے ہے، وہ کسی سے نہیں۔ اعلیٰ حضرت کی یاد، ان کا تذکرہ، ان کے فضل و کمال کا خطبہ آپ کی زندگی کے لیے روح کا مقام رکھتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو فرمایا کہ سب سے بڑی دولت وہ علم نہیں ہے، جو میں نے مولوی اسحاق محشی بخاری سے پائی ، اور وہ بیعت نہیں ہے جو گنج مراد آباد میں نصیب ہوئی، بلکہ وہ ایمان جو مدار نجات ہے، میں نے صرف اعلیٰ حضرت سے پایا، اور میرے سینہ میں پوری عظمت کے ساتھ مدینہ کا بسانے والا اعلیٰ حضرت ہیں۔ اسی لیے ان کے تذکرہ سے میری روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے، اور ان کے ایک ایک کلمہ کو اپنے لیے مشعل ہدایت جانتا ہوں۔
[حیات اعلی حضرت کامل ص: ٧٣٩]
یہی سے ان حضرات کا بھی جواب ہو گیا جو بار بار یہ پوچھتے ہیں کہ آپ سنی حضرات اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا زیادہ ذکر کیوں کرتے ہیں۔
شیخ المشائخ حضرت علامہ سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو حضور پر نور اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا ہے۔
[ماہنامہ سنی آواز ، ناگپور مئی، جون ۱۹۹۷ء]
شیر بیشۂ اہل سنت امام المناظرین مظہر اعلیٰ حضرت علامہ مفتی حشمت علی خاں قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
دین ومذہب اہلسنت کا سچا و مختصر خلاصہ مسلک اعلیٰ حضرت ہے یہی وہ مجمع البحار ہے جو آج حنفیت و شافعیت و مالکیت و حنبلیت اور قادریت و چشیت و سہروردیت و نقشبندیت و مجدددیت و برکاتبیت و اشرفیت و غیرہم سب سمندروں کا سنگم ہے ۔
[۵۰ واں خصوصی شماره افکار رضا ممبئی بحوالہ سنی آواز ، ناگپور ]
مرشدی الکریم تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
بلا شبہ مسلک اعلیٰ حضرت اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ مسلک اہل سنت کا دوسرا نام اور اسکی صحیح پہچان ہے اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کا اس زمانے میں نشان ہے۔ اس سے منع کرنا حق و باطل کا امتیاز مٹانا ہے اور اتحاد کے بہانے انتشار و افتراق پھیلانا اور سنیوں کا برا چاہتا ہے
[امتیاز اہل سنت ص: ٢١٣]
حضور فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:
"بد مذہبوں سے امتیاز کے لئے مسلک اولیاء امت کہنا کافی نہ ہوگا۔ اس کے لئے اس زمانہ میں مسلک اعلیٰ حضرت ہی کہنا ضروری ہوگا اور اس سے روکنے والا بد مذہب ہوگا یا حاسد۔
[فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص: ٤٣٠]
علامہ مفتی سید شاہد علی رضوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
مسلک اعلیٰ حضرت ایک عظیم سچائی ہے، اس سچائی پر جو غبار ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ خود غبار کی تہوں میں دب جائے گا۔
[امتیاز اہل سنت ص: ١٧]
استاذی الکریم مستجاب الدعوات نمونۂ اسلاف تاج الاصفیا عظیم فقیہ و مفتی علامہ شیخ صالح رضوی محدث بریلوی حفظہ اللہ القوی ارقام فرماتے ہیں:
جب بدعت ، وہابیت، دیوبندیت وغیرہ پیدا ہوئی اور بغاوت و سرکشی نے سر ابھارا تو اس سے امتیاز کے لیے ایک عظیم فائدے اور اہم مناسبت کی وجہ سے، مسلک اہل سنت کی تعبیر کے لیے لفظ ”مسلک اعلیٰ حضرت حکماء امت نے تجویز کیا تا کہ وہابیوں اور دوسرے بدعتیوں، دیوبندیوں سے نمایاں امتیاز حاصل ہو جائے ۔ کیوں کہ وہ بھی خود کو اہلسنت کہیے اور اپنے منہ سنی بنتے ہیں۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢١٧]
حضور سراج ملت سید شاہ سراج اظہر قدس سرہ العزیز پھول گلی ممبئی ارقام فرماتے ہیں:
مسلک علیٰ حضرت فی زماننا سوا داعظم اہلسنت و جماعت کی پہچان و علامتی نشان ہے۔ صرف اہلسنت کہنے سے اہل حق کا امتیاز مشکل ہی نہیں بعید الوقوع ہے۔
[امتیاز اہل سنت ص: ٢٤٩]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرمایا مشائخ عظام اور وقت کے جید علماء کرام مفتیان ذوی الاحترام نے کیسی کیسی رائے قائم فرمائی جب کہ محض مسلمانان اہل سنت ہی کسی چیز کو اچھی جانیں تو اس پر اچھائی کا حکم لگتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے:
ما رأی المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن
یعنی جسے مسلمانان اہل سنت اچھا گمان کرے وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے
تو اب سوچیے جس اصطلاح پر مشائخ خانقاہ، مدرسین، محدثین، محقیقین، صالحین، مفتیانِ کرام کا اتفاق ہو چکا ہو کیا اس کی اچھائی پر بھی کوئی شک کرے گا؟ کوئی نہیں کرے گا ہر گز نہیں کرے گا ہاں مگر وہ جس کے دل میں کجی ہو اس کا کوئی علاج نہیں۔
برصغیر کے سارے علماء کرام مشائخ عظام نے متفقہ طور پر حق و باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچنے کے لیے مسلک اعلی حضرت کی اصطلاح قائم فرمائی اور اس کی نشر و اشاعت کی یہاں تک کہ اب ہر سنی کا بچہ بچہ خود کو مسلک اعلی حضرت والا کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے
اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت میں زندگی بسر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور اسی پر ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
مسلک اعلی حضرت سلامت رہے
ایک پہچان دین نبی کے لیے
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے ۔
ختم شد
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
20
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

واقعاتِ رضویہ منفرد المثال دفتر

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط نہم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢