صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]
تحقیق و تعاقب

صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط نہم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
فتاوی شارح بخاری سے استدلال کا تعاقب ـــــــــــــــــــــ
مفتی صاحب نے فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا فتوی اپنی دلیل میں ارقام کیا کہ باعتبار لغت رب مجازی معنی میں بولنے میں حرج نہیں ہے اس معنی کر درست ہے مفتی صاحب لکھتے ہیں:
حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ سے ایک سوال ہوا کہ اللہ تعالی کے لیے رب الارباب کا استعمال درست ہے یا نہیں " اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا:
اللہ عز و جل پر اس کے اطلاق میں کوئی حرج نہیں، شرک تو بہت دور ہے ، نا جائز ہونے کی بھی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ جس نے اسے شرک کہا، اس بنا پر کہا کہ اس کا گمان یہ ہے کہ رب کا اطلاق غیر خدا پر جائز نہیں اور رب الارباب کا مطلب یہ ہوا کہ حقیقت میں بہت سے رب ہیں اللہ عز و جل کے علاوہ تو یہ شرک ہوا کہ اللہ عزوجل کے غیر کو رب مانا۔
لیکن قرآن واحادیث میں رب کا اطلاق اضافت کے ساتھ غیر خدا پر وارد ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قول مذکور ہے: إِنَّه رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ . وہ عزیز (مصر) تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے ، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔ اور فرمایا: اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا۔ اور فرمایا: ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ. اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا۔
ان تینوں آیتوں میں سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی مراد رب سے بادشاہ مصر ہے۔ یہاں رب بمعنی مجازی ہے۔ اس لحاظ سے رب الارباب کہنے میں کوئی حرج نہیں، جو شخص اسے شرک کہے وہ خاطی ہے ۔
(فتاوی شارح بخاری ، ج:۱، ص: ۱۳۴، عقائد متعلقہ ذات وصفات الہی، ط: دائرة البرکات گھوسی )
اور جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں یا سننے میں کوئی حرج نہیں
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: عن عائشۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقول:
مفتی صاحب نے جس انداز میں اپنی عبارتوں کو رکھا ہے کہ پہلے لغت کے اعتبار سے تاویلا معنی کی درستگی دکھائی اور فرمایا کہ اس معنی کر مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کو رب کہنا درست ہے
پھر غیر اللہ پر رب کے اطلاق کے لیے شارح بخاری علیہ الرحمہ کے فتوی سے استدلال کیا اور بالکل اسی کے بعد لکھا"
اور جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں یا سننے میں کوئی حرج نہیں
باعتبار لغت درست ہے اور پھر حرج نہیں کیا یہ نہیں بتا رہا ہے کہ جس شعر کو آپ نے بظاہر کفر فرمایا تھا اسے اب تاویل کے بعد مباح قرار دے دیا اور تاویل بھی ایسی جس کی حقیقت گزشتہ تحریر سے واضح ہو چکی ہے
اب اس پر کوئی یہ اشکال پیش نہ کرے کہ یہاں مفتی صاحب نے تو ان اشعار کے بارے میں فرمایا ہے جو مباح ہیں مبحوث عنہ شعر کے بارے میں کہاں فرمایا ہے؟
تو ان سے میرا سوال یہ ہے پھر اس عبارت کی مطابقت گزشتہ عبارت سے کیسے ہوگی؟
مثلا کوئی بات کر رہا تھا کہ
فلاں صاحب بہت بڑے جانکار ہیں بڑی شخصیتوں میں سے ہیں ان کی ہر بات دلائل کے میزان سے نپی تلی ہوتی ہے
اور جونہی چور کو میں نے مارا تو بہت رویا جیسا کہ ...........
اب بتائیے اگر ایسی بے تکی کوئی بات کرے کہ پہلے کسی کی تعریف کر رہا تھا پھر اور جونہی کے بعد ایسی بات کہے جس کا پیچھے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو تو اس کو آپ کیا کہیں گے یہی نا کہ دماغ ٹھکانے میں نہیں ہے جنون کا غلبہ ہے اسی لیے بے ربط کلام کیے جا رہا ہے
تو ثابت ہوا کہ اس طرح کی تاویل مجنون لوگوں کے کلام میں صحیح ہے لیکن ایک مفتی کے کلام میں ایسی بے تکی بات نہیں ہو سکتی ہے اس لیے ماننا پڑے گا کہ مفتی صاحب دلائل کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مبحوث عنہ شعر مباح ہے اور جو مباح شعر ہو اس کے پڑھنے میں سننے میں کوئی حرج نہیں اسی لیے مفتی صاحب نے پڑھنے والے اور سننے والے پر کوئی حکم نہیں لگایا بلکہ مباح اشعار پڑھنے کی تائید میں جزئیات بھی پیش کیے۔
اس کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں:
جیسے کہا جائے کہ نعت پڑھنا کار خیر ہے اور جو کار خیر ہے اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
جھوٹ بولنا حرام ہے اور جو جھوٹ بولے اس کو فاسق کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
سبیل لگانا مباح ہے اور جو مباح ہے اس کے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
تو اب مفتی صاحب کی عبارت سیاق و سباق کو دیکھتے ہوئے یوں ہوگی
فتاوی شارح بخاری سے ثابت ہوا کہ رب کہنے میں حرج نہیں تو شعر مباح ہوا اور جو اشعار مباح ہوں ان کے سننے میں یا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
تو اب بتائیں معترض صاحب آپ کا اشکال درست ہے ؟ یا جو راقم الحروف نے کہا وہ صحیح ہے؟ فتدبر
اب کوئی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ نہیں نہیں سیاق کے اعتبار سے کیسے آپ کی بات مانی جا سکتی ہے جب کہ مفتی صاحب نے شعر کو بظاہر کفر کہا ہے اور سیاق میں بھی لکھا ہے:
البته نعت خواں پر لازم ہے کہ حدود شرع میں رہ کر نعت خوانی کریں اور ہر گز ہر گز آئندہ اپنی زبان پر اس طرح کا شعر نہ لائیں جو کفر و حرام کے معنی کا احتمال رکھتا ہو۔
اقول:
اگر معترض صاحب آپ کی بات مان لی جائے تو اب آپ ہی خود بتائیے کہ جو شعر بظاہر کفر ہو اس پر صرف اتنا ہی حکم لگے گا کہ
ہر گز ہر گز آئندہ اپنی زبان پر اس طرح کا شعر نہ لائیں
بس! توبہ، تجدید ایمان کچھ بھی نہیں
یہ تو ایسے ہی ہو گیا جب گاؤں وغیرہ میں دو بچوں میں لڑائی ہو جاتی ہے ان دونوں بچوں میں سے ایک کی ماں آتی ہے اور اپنے بچے سے کہتی ہے ہر گز اپنے پڑوسی کو تکلیف مت دینا ٹھیک ہے جاؤ جاؤ گھر جاؤ اور پھر اپنے بیٹے کے پیچھے پیچھے چلی جاتی ہے اور اتنی سی ڈانٹ اپنے بچے کو اس لیے لگاتی ہے تاکہ دوسرے بچے کو لگے کہ ہاں اپنے بچے کو ڈانٹ تو دی میری خیر خواہی کی خاطر،
لیکن وہیں اگر دوسرے کا بیٹا اس عورت کے بیٹے کو مار دے اور وہ عورت یہ جان لے میرے بیٹے کو فلاں کے بیٹے نے مارا اور اتفاق سے اس کے بیٹے کو مارنے والا لڑکا مل گیا تو وہیں دو چار طمانچہ رسید کر دیتی ہے اور کہتی ہے تم کو نہیں پتہ زید کس کا بیٹا ہے آئندہ آنکھ اٹھا کر بھی مت دیکھنا میرے بیٹے کی طرف ورنہ آنکھ نکال لیں گے
اب دیکھیے عورت ایک ہی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کی بات آئی تو صرف ہر گز ہر گز ایسا مت کرنا بولی اور جب دوسرے کے بیٹے کی بات آئی تو پہلے طمانچہ پھر دھمکی تاکہ آج ہی باز آجائے اور آیندہ جرأت نہ کرے
لیکن اس میں ایک بات غور کرنے کی ہے کہ عورت نے اپنے بیٹے کو صرف دکھاوے کے لیے ڈانٹ کر بھگا دی تو اب یہ بچہ اور جری ہوگا اب جا کر دوسرے کو بھی مارے گا کیونکہ اس کو پتہ ہے میری ماں تو سب سنبھال لے گی
لیکن وہیں وہ دوسرا بچہ طمانچہ کھانے کے بعد اب کسی کو نہیں مارے گا وہ سدھر جائے گا، کاش وہ اپنائیت میں مستقبل کا خیال کرتی تو اس کا بیٹا جری نہ ہوتا ۔
بس اس کو بھی یونہی سمجھیے کہ فقہاء کرام نے جو کفر فقہی پر رجوع ، توبہ، تجدید ایمان، تجدید نکاح وغیرہ کا حکم لگایا ہے وہ احتیاطا زجر و توبیخ کے لیے لگایا ہے تاکہ اس سے وہ بعض آجائے راہ راست پر گامزن ہو جائے
جیسے انسان طمانچہ کھانے کے بعد سدھرنے لگتا ہے ایسے ہی جب کوئی سخت حکم سنتا ہے تو اپنے کو ملامت کرتا ہے اور صراط مستقیم کی طرف آنے کی سعی کرتا ہے لیکن جب کوئی حکم بیان نہ ہو تو شتر بے مہار بن جاتا ہے جیسے بچہ لاڈ پیار کی وجہ سے بسا اوقات بے کار بن جاتا ہے
الدر المختار میں ہے :
ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح وأولاده أولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح
کفر اتفاقی جس کفر میں فقہا اور متکلمین سب متفق ہوتے ہیں یعنی کفر کلامی تو اس میں سارے اعمال اور نکاح باطل ہو جاتے ہیں اور جس میں فقہا اور متکلمین کا اختلاف ہوتا ہے یعنی کفر فقہی تو اس میں توبہ استغفار اور تجدید نکاح کا حکم دیا جاتا۔
رد المحتار میں ہے:
قوْلُهُ وَالتَّوْبَةِ أَيْ تَجْدِيدِ الْإِسْلَامِ قَوْلُهُ وَتَجْدِيدِ النِّكَاحِ أَيْ احْتِيَاطًا
[ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - المجلد ٤ - الصفحة ٢٤٧ - جامع الكتب الإسلامية]
توبہ اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا حکم احتیاطا دیا جاتا ہے
فقہا جس پر حکم کفر لگاتے ہیں متکلمین بھی اس پر زجر و توبیخ روا رکھتے ہیں
جیسا کہ قاضی عیاض رضی اللہ عنہ نے شفا شریف میں فرمایا کہ جس کی متکلمین تکفیر نہیں کرتے ہیں ان پر زجر و توبیخ ضرور روا رکھتے ہیں
لكنهم يغلظ عليهم بوجيع الادب وشديد الزجر والهجر حتى يرجعوا عن بدعتهم .
[جلد دوم، ص: ۲۹۴]
لیکن ان بدعتیوں پر سخت ڈانٹ ڈپٹ اور شدید زجر و توبیخ کی جائے نیز بائکاٹ کیا جائے یہاں تک کہ وہ اپنی گمراہیت سے رجوع کر لے
اب بتائیے معترض صاحب مفتی صاحب نے تو یہ بتایا کہ مبحوث عنہ مصرع متکلمین کے نزدیک کفر نہیں ہے لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ کفر نہیں ہے پھر بھی اس پر سختی کی جائے گی زجر کیا جائے گا نہ مانے تو اس کا سماجی مقاطعہ [بائکاٹ] کیا جائے گا یہاں تک کہ بظاہر کفریہ مصرع سے رجوع کر لے آخر اس میں کیا وجہ ہے؟
الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
الصواب أنه لا يكفر في مسألتي التشبيه انتهى. ولا يغتر بذلك وإن فعله أكثر الناس حتى من له نسبة إلى العلم، فإنه يصير مرتداً على قول جماعة، وكفى بهذا خساراً وتفريطاً.
[لإعلام بقواطع الإسلام - المجلد 1 - الصفحة 123 - جامع الكتب الإسلاميه]
درست یہ ہے کہ تشبیہ کے دونوں مسئلوں میں تکفیر نہیں ہوگی۔ ہاں مگر اس پر خوش نہ ہوا جائے اگر چہ بہت سے لوگ یہاں تک کہ بعض علما کہلانے والے بھی اس میں مبتلا ہوئے ، کیوں کہ علما کی ایک جماعت کے نزدیک یہ ارتداد ہے جو ہلاک و برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔
یعنی علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں کہ کفر فقہی سمجھ کر خوش نہ ہوا جائے کہ یہ تو فقہا کے نزدیک ہے متکلمین کے نزدیک تو نہیں جیسا کہ بعض علما بھی اس میں مبتلا ہیں تو واضح رہے کہ جب فقہا کے نزدیک کفر و ارتداد ہے تو یہی ہلاک و برباد کرنے کے لیے کافی ہے اس لیے خدا سے ڈرو اور توبہ و رجوع کرو اسی میں بھلائی ہے
حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ فتاوی مصطفویہ میں فرماتے ہیں:
فی الواقع صورت مسئولہ میں عمر پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم تھی اسی کا عالم دین نے حکم دیا۔ اگر عمرو اپنے اس بیان میں سچا بھی ہو کہ اس نے یہ ہازلا کہا تھا جب بھی یہی حکم ہے۔ جب لفظ معنی کفر میں ظاہر ہو تو نیت و عدم نیت کا فرق نہیں ہوتا ۔ اس کے قائل پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح ہی کا حکم ہوتا ہے۔
[فتاوی مصطفویہ ص: ١٦]
دور نہ جائیے بلکہ خود فتاوی مرکز تربیت و افتا میں ملاحظہ فرمائیے کہ بظاہر کفر یعنی کفر فقہی پر کیسا حکم نافذ کیا گیا ہے :
یہ کہنا کہ اپنا اسلام اپنے پاس رکھو، بظاہر مذہب اسلام کی توہین ہے اور اسلام کی توہین کفر ہے البتہ اس میں احتمال تاویل بھی ہے اس لئے قائل پر از راہ احتیاط علانیہ توبہ واستغفار و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں
[فتاوی مرکز تربیت و افتا ص ٧٩]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تو اب بتائیے معترض صاحب سیاق سے اگر وہی مستفاد ہوتا کہ مفتی صاحب نے بظاہر کفر ہی مانا ہے تو حکم صرف اتنا ہی لگاتے کہ آئندہ خیال رکھیں یا حکم ایسا لگاتے جیسا کہ کفر فقہی کا حکم فتاوی مرکز تربیت و افتا میں موجود ہے جو خود مفتی صاحب کا مصدقہ فتوی ہے
اب بتائیے آئندہ ہر گز ہر گز اس طرح کا شعر نہ پڑھے کہنے سے یہ ثابت ہو گیا کہ توبہ تجدید نکاح تجدید ایمان رجوع لازم ہے؟
بلکہ مفتی صاحب کے مصدقہ فتوی سے یہ بھی واضح ہے کہ نہ مانے تو بائکاٹ کیا جائے ؟ تو بتائیے ہر ہر گز آیندہ نہ پڑھنے کہنے سے بائکاٹ کا حکم مستفاد ہو گیا؟
آخر وہ کونسی چیز ہے جو مبحوث عنہ مصرع کو بظاہر کفر تسلیم کرنے کے باوجود حکم کفر فقہی جس طرح مذکور بالا فتوی میں لگایا گیا مبحوث عنہ مصرع میں نہیں لگایا گیا؟
مذکور بالا فتوی میں از راہ احتیاط توبہ تجدید ایمان تجدید نکاح سب کا حکم لگایا گیا نہ ماننے پر بائکاٹ کا حکم لگایا گیا تو اب سوال یہ ہے کہ یہاں نہ مانے تو بائکاٹ کا حکم دیا جائے گا ؟ یا پھر شریعت میں رو رعایت کی گنجائش ہے؟
دور نہ جائیے معترض صاحب خود مفتی صاحب نے جس کتاب مستطاب فتاوی شارح بخاری سے استدلال کیا ہے اسی کتاب کو دیکھ لیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

صورتِ اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط نہم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

[صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا]
شعر و شرع
[قسط نہم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
فتاوی شارح بخاری سے استدلال کا تعاقب ـــــــــــــــــــــ
مفتی صاحب نے فقیہ اعظم ہند حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا فتوی اپنی دلیل میں ارقام کیا کہ باعتبار لغت رب مجازی معنی میں بولنے میں حرج نہیں ہے اس معنی کر درست ہے مفتی صاحب لکھتے ہیں:
حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ سے ایک سوال ہوا کہ اللہ تعالی کے لیے رب الارباب کا استعمال درست ہے یا نہیں " اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا:
اللہ عز و جل پر اس کے اطلاق میں کوئی حرج نہیں، شرک تو بہت دور ہے ، نا جائز ہونے کی بھی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ جس نے اسے شرک کہا، اس بنا پر کہا کہ اس کا گمان یہ ہے کہ رب کا اطلاق غیر خدا پر جائز نہیں اور رب الارباب کا مطلب یہ ہوا کہ حقیقت میں بہت سے رب ہیں اللہ عز و جل کے علاوہ تو یہ شرک ہوا کہ اللہ عزوجل کے غیر کو رب مانا۔
لیکن قرآن واحادیث میں رب کا اطلاق اضافت کے ساتھ غیر خدا پر وارد ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا قول مذکور ہے: إِنَّه رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ . وہ عزیز (مصر) تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے ، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔ اور فرمایا: اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا۔ اور فرمایا: ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ. اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا۔
ان تینوں آیتوں میں سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی مراد رب سے بادشاہ مصر ہے۔ یہاں رب بمعنی مجازی ہے۔ اس لحاظ سے رب الارباب کہنے میں کوئی حرج نہیں، جو شخص اسے شرک کہے وہ خاطی ہے ۔
(فتاوی شارح بخاری ، ج:۱، ص: ۱۳۴، عقائد متعلقہ ذات وصفات الہی، ط: دائرة البرکات گھوسی )
اور جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں یا سننے میں کوئی حرج نہیں
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے: عن عائشۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقول:
مفتی صاحب نے جس انداز میں اپنی عبارتوں کو رکھا ہے کہ پہلے لغت کے اعتبار سے تاویلا معنی کی درستگی دکھائی اور فرمایا کہ اس معنی کر مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کو رب کہنا درست ہے
پھر غیر اللہ پر رب کے اطلاق کے لیے شارح بخاری علیہ الرحمہ کے فتوی سے استدلال کیا اور بالکل اسی کے بعد لکھا"
اور جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں یا سننے میں کوئی حرج نہیں
باعتبار لغت درست ہے اور پھر حرج نہیں کیا یہ نہیں بتا رہا ہے کہ جس شعر کو آپ نے بظاہر کفر فرمایا تھا اسے اب تاویل کے بعد مباح قرار دے دیا اور تاویل بھی ایسی جس کی حقیقت گزشتہ تحریر سے واضح ہو چکی ہے
اب اس پر کوئی یہ اشکال پیش نہ کرے کہ یہاں مفتی صاحب نے تو ان اشعار کے بارے میں فرمایا ہے جو مباح ہیں مبحوث عنہ شعر کے بارے میں کہاں فرمایا ہے؟
تو ان سے میرا سوال یہ ہے پھر اس عبارت کی مطابقت گزشتہ عبارت سے کیسے ہوگی؟
مثلا کوئی بات کر رہا تھا کہ
فلاں صاحب بہت بڑے جانکار ہیں بڑی شخصیتوں میں سے ہیں ان کی ہر بات دلائل کے میزان سے نپی تلی ہوتی ہے
اور جونہی چور کو میں نے مارا تو بہت رویا جیسا کہ ...........
اب بتائیے اگر ایسی بے تکی کوئی بات کرے کہ پہلے کسی کی تعریف کر رہا تھا پھر اور جونہی کے بعد ایسی بات کہے جس کا پیچھے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو تو اس کو آپ کیا کہیں گے یہی نا کہ دماغ ٹھکانے میں نہیں ہے جنون کا غلبہ ہے اسی لیے بے ربط کلام کیے جا رہا ہے
تو ثابت ہوا کہ اس طرح کی تاویل مجنون لوگوں کے کلام میں صحیح ہے لیکن ایک مفتی کے کلام میں ایسی بے تکی بات نہیں ہو سکتی ہے اس لیے ماننا پڑے گا کہ مفتی صاحب دلائل کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مبحوث عنہ شعر مباح ہے اور جو مباح شعر ہو اس کے پڑھنے میں سننے میں کوئی حرج نہیں اسی لیے مفتی صاحب نے پڑھنے والے اور سننے والے پر کوئی حکم نہیں لگایا بلکہ مباح اشعار پڑھنے کی تائید میں جزئیات بھی پیش کیے۔
اس کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں:
جیسے کہا جائے کہ نعت پڑھنا کار خیر ہے اور جو کار خیر ہے اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
جھوٹ بولنا حرام ہے اور جو جھوٹ بولے اس کو فاسق کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
سبیل لگانا مباح ہے اور جو مباح ہے اس کے لگانے میں کوئی حرج نہیں۔
تو اب مفتی صاحب کی عبارت سیاق و سباق کو دیکھتے ہوئے یوں ہوگی
فتاوی شارح بخاری سے ثابت ہوا کہ رب کہنے میں حرج نہیں تو شعر مباح ہوا اور جو اشعار مباح ہوں ان کے سننے میں یا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
تو اب بتائیں معترض صاحب آپ کا اشکال درست ہے ؟ یا جو راقم الحروف نے کہا وہ صحیح ہے؟ فتدبر
اب کوئی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ نہیں نہیں سیاق کے اعتبار سے کیسے آپ کی بات مانی جا سکتی ہے جب کہ مفتی صاحب نے شعر کو بظاہر کفر کہا ہے اور سیاق میں بھی لکھا ہے:
البته نعت خواں پر لازم ہے کہ حدود شرع میں رہ کر نعت خوانی کریں اور ہر گز ہر گز آئندہ اپنی زبان پر اس طرح کا شعر نہ لائیں جو کفر و حرام کے معنی کا احتمال رکھتا ہو۔
اقول:
اگر معترض صاحب آپ کی بات مان لی جائے تو اب آپ ہی خود بتائیے کہ جو شعر بظاہر کفر ہو اس پر صرف اتنا ہی حکم لگے گا کہ
ہر گز ہر گز آئندہ اپنی زبان پر اس طرح کا شعر نہ لائیں
بس! توبہ، تجدید ایمان کچھ بھی نہیں
یہ تو ایسے ہی ہو گیا جب گاؤں وغیرہ میں دو بچوں میں لڑائی ہو جاتی ہے ان دونوں بچوں میں سے ایک کی ماں آتی ہے اور اپنے بچے سے کہتی ہے ہر گز اپنے پڑوسی کو تکلیف مت دینا ٹھیک ہے جاؤ جاؤ گھر جاؤ اور پھر اپنے بیٹے کے پیچھے پیچھے چلی جاتی ہے اور اتنی سی ڈانٹ اپنے بچے کو اس لیے لگاتی ہے تاکہ دوسرے بچے کو لگے کہ ہاں اپنے بچے کو ڈانٹ تو دی میری خیر خواہی کی خاطر،
لیکن وہیں اگر دوسرے کا بیٹا اس عورت کے بیٹے کو مار دے اور وہ عورت یہ جان لے میرے بیٹے کو فلاں کے بیٹے نے مارا اور اتفاق سے اس کے بیٹے کو مارنے والا لڑکا مل گیا تو وہیں دو چار طمانچہ رسید کر دیتی ہے اور کہتی ہے تم کو نہیں پتہ زید کس کا بیٹا ہے آئندہ آنکھ اٹھا کر بھی مت دیکھنا میرے بیٹے کی طرف ورنہ آنکھ نکال لیں گے
اب دیکھیے عورت ایک ہی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کی بات آئی تو صرف ہر گز ہر گز ایسا مت کرنا بولی اور جب دوسرے کے بیٹے کی بات آئی تو پہلے طمانچہ پھر دھمکی تاکہ آج ہی باز آجائے اور آیندہ جرأت نہ کرے
لیکن اس میں ایک بات غور کرنے کی ہے کہ عورت نے اپنے بیٹے کو صرف دکھاوے کے لیے ڈانٹ کر بھگا دی تو اب یہ بچہ اور جری ہوگا اب جا کر دوسرے کو بھی مارے گا کیونکہ اس کو پتہ ہے میری ماں تو سب سنبھال لے گی
لیکن وہیں وہ دوسرا بچہ طمانچہ کھانے کے بعد اب کسی کو نہیں مارے گا وہ سدھر جائے گا، کاش وہ اپنائیت میں مستقبل کا خیال کرتی تو اس کا بیٹا جری نہ ہوتا ۔
بس اس کو بھی یونہی سمجھیے کہ فقہاء کرام نے جو کفر فقہی پر رجوع ، توبہ، تجدید ایمان، تجدید نکاح وغیرہ کا حکم لگایا ہے وہ احتیاطا زجر و توبیخ کے لیے لگایا ہے تاکہ اس سے وہ بعض آجائے راہ راست پر گامزن ہو جائے
جیسے انسان طمانچہ کھانے کے بعد سدھرنے لگتا ہے ایسے ہی جب کوئی سخت حکم سنتا ہے تو اپنے کو ملامت کرتا ہے اور صراط مستقیم کی طرف آنے کی سعی کرتا ہے لیکن جب کوئی حکم بیان نہ ہو تو شتر بے مہار بن جاتا ہے جیسے بچہ لاڈ پیار کی وجہ سے بسا اوقات بے کار بن جاتا ہے
الدر المختار میں ہے :
ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح وأولاده أولاد زنا، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح
کفر اتفاقی جس کفر میں فقہا اور متکلمین سب متفق ہوتے ہیں یعنی کفر کلامی تو اس میں سارے اعمال اور نکاح باطل ہو جاتے ہیں اور جس میں فقہا اور متکلمین کا اختلاف ہوتا ہے یعنی کفر فقہی تو اس میں توبہ استغفار اور تجدید نکاح کا حکم دیا جاتا۔
رد المحتار میں ہے:
قوْلُهُ وَالتَّوْبَةِ أَيْ تَجْدِيدِ الْإِسْلَامِ قَوْلُهُ وَتَجْدِيدِ النِّكَاحِ أَيْ احْتِيَاطًا
[ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - المجلد ٤ - الصفحة ٢٤٧ - جامع الكتب الإسلامية]
توبہ اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح کا حکم احتیاطا دیا جاتا ہے
فقہا جس پر حکم کفر لگاتے ہیں متکلمین بھی اس پر زجر و توبیخ روا رکھتے ہیں
جیسا کہ قاضی عیاض رضی اللہ عنہ نے شفا شریف میں فرمایا کہ جس کی متکلمین تکفیر نہیں کرتے ہیں ان پر زجر و توبیخ ضرور روا رکھتے ہیں
لكنهم يغلظ عليهم بوجيع الادب وشديد الزجر والهجر حتى يرجعوا عن بدعتهم .
[جلد دوم، ص: ۲۹۴]
لیکن ان بدعتیوں پر سخت ڈانٹ ڈپٹ اور شدید زجر و توبیخ کی جائے نیز بائکاٹ کیا جائے یہاں تک کہ وہ اپنی گمراہیت سے رجوع کر لے
اب بتائیے معترض صاحب مفتی صاحب نے تو یہ بتایا کہ مبحوث عنہ مصرع متکلمین کے نزدیک کفر نہیں ہے لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ کفر نہیں ہے پھر بھی اس پر سختی کی جائے گی زجر کیا جائے گا نہ مانے تو اس کا سماجی مقاطعہ [بائکاٹ] کیا جائے گا یہاں تک کہ بظاہر کفریہ مصرع سے رجوع کر لے آخر اس میں کیا وجہ ہے؟
الاعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
الصواب أنه لا يكفر في مسألتي التشبيه انتهى. ولا يغتر بذلك وإن فعله أكثر الناس حتى من له نسبة إلى العلم، فإنه يصير مرتداً على قول جماعة، وكفى بهذا خساراً وتفريطاً.
[لإعلام بقواطع الإسلام - المجلد 1 - الصفحة 123 - جامع الكتب الإسلاميه]
درست یہ ہے کہ تشبیہ کے دونوں مسئلوں میں تکفیر نہیں ہوگی۔ ہاں مگر اس پر خوش نہ ہوا جائے اگر چہ بہت سے لوگ یہاں تک کہ بعض علما کہلانے والے بھی اس میں مبتلا ہوئے ، کیوں کہ علما کی ایک جماعت کے نزدیک یہ ارتداد ہے جو ہلاک و برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔
یعنی علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں کہ کفر فقہی سمجھ کر خوش نہ ہوا جائے کہ یہ تو فقہا کے نزدیک ہے متکلمین کے نزدیک تو نہیں جیسا کہ بعض علما بھی اس میں مبتلا ہیں تو واضح رہے کہ جب فقہا کے نزدیک کفر و ارتداد ہے تو یہی ہلاک و برباد کرنے کے لیے کافی ہے اس لیے خدا سے ڈرو اور توبہ و رجوع کرو اسی میں بھلائی ہے
حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ فتاوی مصطفویہ میں فرماتے ہیں:
فی الواقع صورت مسئولہ میں عمر پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم تھی اسی کا عالم دین نے حکم دیا۔ اگر عمرو اپنے اس بیان میں سچا بھی ہو کہ اس نے یہ ہازلا کہا تھا جب بھی یہی حکم ہے۔ جب لفظ معنی کفر میں ظاہر ہو تو نیت و عدم نیت کا فرق نہیں ہوتا ۔ اس کے قائل پر توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح ہی کا حکم ہوتا ہے۔
[فتاوی مصطفویہ ص: ١٦]
دور نہ جائیے بلکہ خود فتاوی مرکز تربیت و افتا میں ملاحظہ فرمائیے کہ بظاہر کفر یعنی کفر فقہی پر کیسا حکم نافذ کیا گیا ہے :
یہ کہنا کہ اپنا اسلام اپنے پاس رکھو، بظاہر مذہب اسلام کی توہین ہے اور اسلام کی توہین کفر ہے البتہ اس میں احتمال تاویل بھی ہے اس لئے قائل پر از راہ احتیاط علانیہ توبہ واستغفار و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں
[فتاوی مرکز تربیت و افتا ص ٧٩]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
تو اب بتائیے معترض صاحب سیاق سے اگر وہی مستفاد ہوتا کہ مفتی صاحب نے بظاہر کفر ہی مانا ہے تو حکم صرف اتنا ہی لگاتے کہ آئندہ خیال رکھیں یا حکم ایسا لگاتے جیسا کہ کفر فقہی کا حکم فتاوی مرکز تربیت و افتا میں موجود ہے جو خود مفتی صاحب کا مصدقہ فتوی ہے
اب بتائیے آئندہ ہر گز ہر گز اس طرح کا شعر نہ پڑھے کہنے سے یہ ثابت ہو گیا کہ توبہ تجدید نکاح تجدید ایمان رجوع لازم ہے؟
بلکہ مفتی صاحب کے مصدقہ فتوی سے یہ بھی واضح ہے کہ نہ مانے تو بائکاٹ کیا جائے ؟ تو بتائیے ہر ہر گز آیندہ نہ پڑھنے کہنے سے بائکاٹ کا حکم مستفاد ہو گیا؟
آخر وہ کونسی چیز ہے جو مبحوث عنہ مصرع کو بظاہر کفر تسلیم کرنے کے باوجود حکم کفر فقہی جس طرح مذکور بالا فتوی میں لگایا گیا مبحوث عنہ مصرع میں نہیں لگایا گیا؟
مذکور بالا فتوی میں از راہ احتیاط توبہ تجدید ایمان تجدید نکاح سب کا حکم لگایا گیا نہ ماننے پر بائکاٹ کا حکم لگایا گیا تو اب سوال یہ ہے کہ یہاں نہ مانے تو بائکاٹ کا حکم دیا جائے گا ؟ یا پھر شریعت میں رو رعایت کی گنجائش ہے؟
دور نہ جائیے معترض صاحب خود مفتی صاحب نے جس کتاب مستطاب فتاوی شارح بخاری سے استدلال کیا ہے اسی کتاب کو دیکھ لیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
24
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط دہم]

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا[قسط ہشتم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢