صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط چہارم]
تحقیق و تعاقب

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط چہارم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط چہارم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
جو میرا دین میری کتب سے ظاہر ہے کی توضیح.ــــــــــــــــــ
شبہ:
بعض حضرات کو یہ شبہ گزرا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اُس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔
{ وصایا شریف ص : ٢٠}
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کا دین الگ ہے اسی لیے کہا کہ میرا دین یہ نہیں کہا کہ دین اسلام جو قرآن و حدیث کی روشنی میں میری کتب سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے بلکہ اپنے بنائے ہوئے دین کی بات کی اور اس پر قائم رہنے کی تاکید کی اسی لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ مسلک اعلی حضرت ایک نیا مسلک ہے۔
ازالۂ شبہ ـــــــــــــــــ
معترض کو شبہ اس وجہ سے ہوا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ نے دین کی اضافت اپنی طرف کر کے فرمایا ہے کہ میرا دین اس سے نتیجہ معترض نے یہ نکالا کہ اس کا مطلب ہوا امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ کا اپنا الگ دین ہے معاذ اللہ
اگر یہی مان لیا جائے کہ دین کی اضافت اپنی طرف کر کے میرا دین کہنے کا مطلب نیا دین بنانا ہو جائے تو کوئی مسلمان ہی نہیں رہے گا کیونکہ نیا دین جو گڑھے گا وہ دین سے نکل جائے گا جیسے اکبر نے دین الٰہی نیا دین گڑھ لیا ایسے تو پوری دنیا میں مسلمان کا وجود ہی معدوم ہو جائے گا فقط نام کے ہی مسلمان رہ جائیں گے کیونکہ عام طور پر لوگ اپنی گفتگو میں کہتے ہیں میرا دین سچا دین ہے تو کیا وہ مسلمان نہیں رہا؟ کیا اس سے دین اسلام کو جھٹلانا لازم آیا؟ کیا وہ اکبر کی فہرست میں آ گیا؟
معاذ اللہ ہر گز نہیں بلکہ میرا دین کہنے سے مراد ہر شخص کی یہی ہوتی ہے کہ جس دین پر میں عمل پیرا ہوں وہ دین سب سے سچا ہے وہ اسلام ہے
حدیث شریف میں ہے:
قال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم و ذكَر قَبْضَ رُوحِ المُؤمِنِ فقال: يأتيه آتٍ، يعني في قَبْرِه، فيقولُ: مَن رَبُّكَ؟ وما دِينُكَ؟ ومَن نَبيُّكَ؟ فيقولُ: ربِّيَ اللهُ، ودِيني الإسلامُ، ونَبِيِّي مُحمَّدٌ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم
[صحیح البخاری. ١٣٦٩]
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم روح قبض کیے جانے کا ذکر فرمایا:
پھر فرمایا مرنے والے کی قبر میں ایک فرشتہ آتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے مَن رَبُّكَ؟ یعنی تیرا رب کون ہے؟ وما دِينُكَ؟ اور تیرا دین کیا ہے ومَن نَبيُّكَ؟ اور تیرا نبی کون ہے تو مرنے والا کہتا ہے: ربی اللہ یعنی میرا رب اللہ ہے و دینی الاسلام میرا دین اسلام ہے و نبیی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور میرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
قارئین کرام غور فرمائیں:
فرشتے کے پوچھنے پر بندۂ مومن یہ جواب دے گا کہ میرا دین اسلام ہے معلوم ہوا دین کی اضافت اپنی طرف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ دین کی اضافت جو اپنی طرف نہ کرے اس کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوگا ایمان مکمل ہی تب ہوتا ہے جب انسان یہ کہے کہ میرا دین یہ ہے انسان لاکھ کہے تیرا دین یہ ہے اس کا دین یہ ہے بلکہ یہ بھی کہے تیرا دین سچا ہے اس کا دین سچا ہے لیکن پھر بھی اتنا کہنا ایمان کے لیے کافی نہیں ہوگا بلکہ یہ کہنا پڑے گا کہ میرا دین سچا ہے اور وہ اسلام ہے
دیکھیے جناب ابو طالب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب تعریف کی لیکن دین محمدی کو اپنایا نہیں عار کی وجہ سے نار کو پسند کیا اسی لیے جمہور آج بھی ابو طالب کے ایمان کے قائل نہیں ہیں اگر وہ دینی دین محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- کہتے تو ابو طالب کے ایمان پر کوئی کلام نہیں ہوتا۔
مطلب دین کو جب تک اپنا دین نہ مانے تب تک کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ہے لہذا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا میرا دین کہنا بالکل قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے البتہ جو دین اسلام کو میرا دین یعنی اپنا دین نہ کہے اس کو خود اپنے ایمان کا محاسبہ کرنا چاہیے ۔
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ جب دین کی نسبت کسی نبی کی طرف کی جائے جیسے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم دین عیسیٰ علیہ السلام دین موسیٰ علیہ السلام تو اس سے مراد نئی شریعت ہوتی ہے اور جب اسی دین کی اضافت ان کے ماننے والے کی طرف ہوتی ہے جیسے دین ابو بکر رضی اللہ عنہ دین اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تو اس سے مراد نئی شریعت نہیں ہوتی ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ایمان لانا اور اس پر چلنا مراد ہوتی ہے یعنی جس دین کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیروی کی وہ دین، دین محمدی ہے ایسے ہی جس دین کی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کی نشرو اشاعت کی وہ دین، دین محمدی ہے۔
شبہ:
اب اس پر کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ دینی الاسلام میں دینی یعنی میرا دین کے بعد اس دین کی خبر بھی موجود ہے کہ وہ دین کوئی اور دین نہیں بلکہ دین اسلام ہی ہے لیکن اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت میں یہ بات موجود نہیں بلکہ وہاں تو صرف یہ لکھا ہے کہ میرا دین جو میری کتب سے ظاہر ہے یہاں تو اسلام کی بات ہی نہیں اس لیے اس کو دینی الاسلام سے استدلال کر کے ثابت کرنا صحیح نہیں ہوگا۔
ازالۂ شبہ ــــــــــــــــــــــــ
ہم کہتے ہیں معترض نے میری کتب پر غور نہیں کیا ورنہ اس کو یہ شبہ ہی نہیں ہوتا۔
قارئین اس کو یوں سمجھیں:
ایک شخص نے ایک پرچے میں لکھا:
اللہ ایک ہے، پاک اور بے عیب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل جلالہ کے بندے اور رسول ہیں، اور حضور ہی آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا جو یہ کہے کہ حضور کے بعد بھی نیا نبی آ سکتا ہے تو وہ کافر و مرتد ہو جائے گا۔
اب اس شخص نے جانکنی کے وقت اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے ایک کاغذ میں لکھوایا کہ بیٹا میرا دین و مذہب وہی ہے جو اس پرچے سے ظاہر ہے تم بھی اسی پر قائم رہنا بلکہ اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
اب معترض بتائے کہ وصیت کرنے والے نے پرچے سے جو ظاہر ہے اسی کو اپنا دین و مذہب کہا ہے اور اسی پر قائم رہنے کو ہر فرض سے اہم فرض کہا ہے حالانکہ لفظ اسلام وصیت میں کہیں موجود نہیں ہے تو کیا وصیت کرنے والے کا اسے اپنا دین و مذہب کہنا صحیح نہیں ہوا؟
اگر معترض کہے کہ لفظ اسلام نہیں ہے اسی لیے اس کو دین و مذہب کہنا صحیح نہیں ہوگا تو معترض خود کافر ہو جائے گا کیونکہ اس پرچے میں لکھا ہے
اللہ ایک ہے پاک اور بے عیب ہے حضور آخری نبی ہیں
یہ دین و مذہب نہیں تو اور کیا ہے؟ جو اسے دین و مذہب نہ مانے خود کافر ہے
تو اس کا مطلب کیا ہوا یہی نا کہ اسلام کا لفظ اگر چہ وصیت میں موجود نہیں ہے لیکن پرچے میں جو بات لکھی ہے وہ ساری باتوں کو ماننے کا نام ہی اسلام ہے تو مطلب یہ ہوا وصیت کرنے والے نے گویا یہ کہا کہ بیٹا میرا دین و مذہب وہی ہے جو اس پرچے سے ظاہر ہے یعنی اسلام اور اسی پر یعنی اسلام پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
اب دیکھیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اب کتب سے کیا ظاہر ہے تو وہی ہے جسے اسلام کہتے ہیں یعنی اللہ پاک ہے، بے عیب ہے ، حضور آخری نبی ہیں، ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، حضور کا علم ساری مخلوق میں سب سے زیادہ ہے، اعلی حضرت کی کتابوں سے اسلام کی حقانیت ظاہر ہے ضروریات دین ضروریات اہل سنت موجود ہیں اور یہی اسلام ہے تو اس عبارت کو اب یوں بھی رکھ سکتے ہیں
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے یعنی اسلام اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
دینی الاسلام کو اب یوں رکھیے
میرا دین و مذہب مطلب: دینی
میری کتب سے ظاہر مطلب: الاسلام
یعنی دینی الاسلام
تو ثابت ہوا کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت کی صحت پر دلیل دینی الاسلام سے لانا بالکل صحیح ہے
خلاصہ کے طور پر اتنا سمجھیں کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:
میرا دین و مذہب
اب سوال یہ ہوگا کہ کونسا دین مذہب؟
تو جواب ہوگا وہ جو میری کتب سے ظاہر ہے۔
اب سوال یہ ہوگا کہ کتب سے کونسا مذہب ظاہر ہے؟
تو جواب ہوگا لامحالہ وہ مذہب اسلام ہے۔
اور مذہب اسلام پر قائم رہنا فرض قطعی ہے لہذا یہ ہر فرض سے اہم فرض ہوا اب اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ اعلی حضرت کی کتب سے کوئی دوسرا مذہب ظاہر ہے تو وہ ایک دلیل لے آئے کوئی ایک مسئلہ نکال کر پیش کرے جو اسلام کے خلاف ہو ہم کہہ دیتے ہیں بدمذہبوں کی ساری ذریت مل کر بھی اسلام کے خلاف کوئی ایک مسئلہ بھی نہیں دکھا سکتا۔
کتابوں کی قید کیوں لگائی؟ ـــــــــــــــــ
سوال:
ایک سوال اس پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ یہ وصیت بھی فرما سکتے تھے کہ قرآن و احادیث پر سختی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تركتُ فيكم أمرين، لن تضلّوا ما تمسَّكتم بهما، كتاب الله وسُنَّة نبيه
[رواه مالك في الموطأ ٢/ ٨٩٩ بلاغاً]
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک ان دونوں کو پکڑے رہوگے ہر گز گمراہ نہیں ہوگے وہ ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ -جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم-
لیکن یہ نہ فرما کر فرمایا میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے آخر ایسا کیوں؟
جواب:
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ نبی پاک صلی علیہ وسلم نے قرآن سنت دونوں کو جمع فرمایا کر فرمایا ہے جو ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن پڑھتے اور قرآن کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھتے وہ قرآن کی ایسی تشریح نہیں فرماتے جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حدیث کے خلاف ہو ایسے ہی تابعین تبع تابعین ائمۂ مجتہدین کا منہج تفہیم رہا ائمۂ مجتہدین نے قرآن و حدیث سے مسائل کا استخراج فرمایا لیکن کبھی کسی مسئلے میں بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں گئے۔
مگر پھر ایسا زمانہ آیا کہ کچھ شر پسندوں نے اپنی طرف سے قرآن کی شرح کی جس کی وجہ سے کئی فرقے وجود میں آئے
قارئین پر بخوبی واضح ہے کہ بد مذہب بھی قرآن پڑھتے ہیں تفسیر پڑھتے ہیں باوجود اس کے راہ حق پر نہیں ہیں کیا وجہ ہے؟
وجہ یہی ہے کہ وہ قرآن کو اپنے دماغ سے سمجھتے ہیں احادیث کی روشنی میں نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے قعر مذلت میں جا گرے۔ مثلا:
ابو الاعلیٰ مودودی نے قرآن کی تفسیر لکھی لیکن اسلام ہاتھ سے چھوٹ گیا وجہ کیا رہی؟
یہی کہ اس نے اپنے دماغ سے تفسیر کی حدیث سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جیسا کہ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے:
ابوالاعلیٰ مودودی اپنے عقائدِ کفریہ کی وجہ سے کافر، مرتد، بد دین ہے، منجملہ اس کے عقائدِ کفریہ ہیں کہ وہ حدیث کا مطلقًا منکر ہے اور حدیث کا مطلقًا انکار کفر ہے۔
تنقیحات میں صاف لکھتا ہے:
’’کتاب و سنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر و حدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں‘‘۔[تنقیحات]
اس عبارت میں اس نے تفسیر و حدیث کا مطلق انکار کیا اور کتبِ تفسیر و حدیث کی توہین بھی کی اور ان کتب کی توہین ظاہر ہے کہ تفسیر و حدیث کی توہین ہے تو یہ دوہرا کفر ہوا
مودودی کا الٹا مذہب" مصنفہ مولانا محبوب علی خاں صاحب منگا کر دیکھیں اس میں اس کے بکثرت کفریات گنائے ہیں.
[فتاوی تاج الشریعہ جلد دوم ص: ٣١٥]
نیز دیکھیے ابو الاعلیٰ مودودی نے کس طرح تفسیر قرآن کو چھوڑ کر جدیدیت کو جگہ دی ہے تنقیحات میں ہے:
قرآن کے لیے کسی تفسیر کی حاجت نہیں۔ ایک اعلیٰ درجے کا پروفیسر کافی ہے جس نے قرآن کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا ہو اور جو طرز جدید پر قرآن پڑھانے اور سمجھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ وہ اپنے لیکچروں سے انٹر میڈیٹ میں طلبہ کے اندر قرآن فہمی کی ضروری استعداد پیدا کرے گا
[تنقیحات ص: ٢٢٩]
تنقیحات میں دوسری جگہ ہے:
میری تجاویز میں فرقی اختلافات کی گنجائش بہت کم ہے۔ تاہم اس باب میں علمائے شیعہ سے استصواب کیا جائے کہ وہ کس حد تک اس طرز تعلیم میں شیعہ طلبہ کو سنی طلبہ کے ساتھ رکھنا پسند کریں گے
[ تنقیحات ص : ٢٣٠ ]
اشرف علی تھانوی نے بھی تفسیر کی کتاب لکھی لیکن حفظ الایمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو صبی مجنون کے علم سے تشبیہ دی اور کافر و مرتد ہو گیا
قاسم نانوتوی نے بھی قرآن پڑھا لیکن خاتم النبیین کا انکار کیا اور کافر و مرتد ہو گیا
تو سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں نے قرآن کیسے پڑھا حدیث کیسے پڑھی؟ ان لوگوں کی تو تفسیر و حدیث میں تصنیف بھی ملتی ہے پھر کافر و مرتد کیسے ہو گئے؟
یہی جواب ہوگا نا کہ ان لوگوں نے اپنی طبیعت کو شریعت پر غالب رکھا قرآن پڑھا ضرور لیکن احادیث کی روشنی میں قرآن نہیں سمجھا بلکہ طبیعت کی چاشنی میں سمجھا۔
آج بھی بہت ایسے لوگ ملیں گے جو تفسیر میں اپنا بے علم دماغ لگاتے ہیں اور مودودی کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں
دور نہ جائیے ٢٠٢٦ء ماہ جولائی میں ایک خطیب نے اپنے دماغ سے آیت کریمہ
لَن تَنَالُوا۟ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا۟ مِمَّا تُحِبُّونَۚ
[آل عمران ٩٢]
کی ذاتی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی محبوب شئی کو راہ خدا میں تین بار انفاق کیا پہلی مرتبہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اس وقت دوسری بار جب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور تیسری بار جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اس وقت اپنی محبوب شئی کو راہ خدا میں انفاق کر دیا گویا خطیب صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خلافت کے حقدار حضرت علی تھے لیکن اپنی محبوب شئی خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پھر دوسری مرتبہ خلیفۂ ثانی اور تیسری مرتبہ خلیفۂ ثالث کو سونپ دی معاذ اللہ
یہ کھلی گمراہی ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین دیکھیں قرآن وہی ہے لیکن اپنی من مانی تفسیر کرنے کی وجہ سے کوئی کافر و مرتد ہوا کوئی گمراہ ضال مضل ہوا
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے ان تمام باطل ذہنیت کی تعمیر کردہ عمارات کو منہدم کر دیا اور جو لوگ اہل سنت و جماعت میں عقائد باطلہ کی ملاوٹ کر رہے تھے ان کا پردہ چاک کیا اور خالص عقائد اہل سنت کو اپنی کتب میں قرآن و حدیث اقوال صحابہ و ائمہ کی روشنی میں ثابت کیا
اسی لیے امام نے فرمایا میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے کیونکہ آج کل باطل فرقے دین میں ملاوٹ بہت کر رہے ہیں اور وہ بھی قرآن و حدیث سناتے ہیں لیکن ان کا منشا عوام کو راہ راست سے نکال کر گمراہیت کی طرف لے جانا ہے
الزامی جواب ـــــــــــــــــــــ
اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی معترضین دیابنہ کو سکون نہ ملے اور یہی کہے کہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ کی عبارت کا مطلب نیا دین بنانا ہی ہے تو انھیں اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے
دیکھیے صحبتے با اولیا ملفوظات مولانا محمد زکریا کاندھلوی میں مولانا تقی الدین ندوی مظاہری نے لکھا ہے :
ہمارے اکابر حضرت گنگوہی حضرت نانوتوی نے جو دین قائم کیا تھا اسے مضبوطی سے تھام لو
[صحبتے با اولیا ص: ١٣٥]
تو اب معترضین بتائیں کہ دین کس نے قائم کیا نیا دین کس نے بنایا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے یا ان کے اکابر نے ؟
بقول خود دیابنہ کے یہ لازم آیا کہ دیابنہ کا دین نیا دین ہے دیکھیے کیسے اپنے ہی منہ قبول دیا کہ دیابنہ کے رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی نے نیا دین قائم کیا۔
یہی وجہ ہے کہ سارے دیابنہ قرآن و حدیث چھوڑ کر طواغیت اربعہ اشرف علی تھانوی قاسم نانوتوی رشید احمد گنگوہی خلیل احمد انبیٹھوی کی پیروی کرتے ہیں انھیں لاکھ سمجھاؤ کہ ان لوگوں نے خاتم النبیین کا انکار کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو جانور کے علم سے تشبیہ دی شیطان کے علم سے کم بتایا، اللہ جل جلالہ کا جھوٹ بولنا ممکن مانا یہ سب قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں باوجود اس کے دیابنہ کہتے ہیں یہ سب صحیح ہیں کیونکہ نیا دین جو ٹھہرا معاذ اللہ رب العلمین
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط چہارم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز-
[قسط چہارم]
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
جامعۃ الازہر، قاہرہ، مصر
جو میرا دین میری کتب سے ظاہر ہے کی توضیح.ــــــــــــــــــ
شبہ:
بعض حضرات کو یہ شبہ گزرا کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اُس پر مضبوطی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔
{ وصایا شریف ص : ٢٠}
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کا دین الگ ہے اسی لیے کہا کہ میرا دین یہ نہیں کہا کہ دین اسلام جو قرآن و حدیث کی روشنی میں میری کتب سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے بلکہ اپنے بنائے ہوئے دین کی بات کی اور اس پر قائم رہنے کی تاکید کی اسی لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ مسلک اعلی حضرت ایک نیا مسلک ہے۔
ازالۂ شبہ ـــــــــــــــــ
معترض کو شبہ اس وجہ سے ہوا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ نے دین کی اضافت اپنی طرف کر کے فرمایا ہے کہ میرا دین اس سے نتیجہ معترض نے یہ نکالا کہ اس کا مطلب ہوا امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ کا اپنا الگ دین ہے معاذ اللہ
اگر یہی مان لیا جائے کہ دین کی اضافت اپنی طرف کر کے میرا دین کہنے کا مطلب نیا دین بنانا ہو جائے تو کوئی مسلمان ہی نہیں رہے گا کیونکہ نیا دین جو گڑھے گا وہ دین سے نکل جائے گا جیسے اکبر نے دین الٰہی نیا دین گڑھ لیا ایسے تو پوری دنیا میں مسلمان کا وجود ہی معدوم ہو جائے گا فقط نام کے ہی مسلمان رہ جائیں گے کیونکہ عام طور پر لوگ اپنی گفتگو میں کہتے ہیں میرا دین سچا دین ہے تو کیا وہ مسلمان نہیں رہا؟ کیا اس سے دین اسلام کو جھٹلانا لازم آیا؟ کیا وہ اکبر کی فہرست میں آ گیا؟
معاذ اللہ ہر گز نہیں بلکہ میرا دین کہنے سے مراد ہر شخص کی یہی ہوتی ہے کہ جس دین پر میں عمل پیرا ہوں وہ دین سب سے سچا ہے وہ اسلام ہے
حدیث شریف میں ہے:
قال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم و ذكَر قَبْضَ رُوحِ المُؤمِنِ فقال: يأتيه آتٍ، يعني في قَبْرِه، فيقولُ: مَن رَبُّكَ؟ وما دِينُكَ؟ ومَن نَبيُّكَ؟ فيقولُ: ربِّيَ اللهُ، ودِيني الإسلامُ، ونَبِيِّي مُحمَّدٌ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم
[صحیح البخاری. ١٣٦٩]
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم روح قبض کیے جانے کا ذکر فرمایا:
پھر فرمایا مرنے والے کی قبر میں ایک فرشتہ آتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے مَن رَبُّكَ؟ یعنی تیرا رب کون ہے؟ وما دِينُكَ؟ اور تیرا دین کیا ہے ومَن نَبيُّكَ؟ اور تیرا نبی کون ہے تو مرنے والا کہتا ہے: ربی اللہ یعنی میرا رب اللہ ہے و دینی الاسلام میرا دین اسلام ہے و نبیی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور میرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
قارئین کرام غور فرمائیں:
فرشتے کے پوچھنے پر بندۂ مومن یہ جواب دے گا کہ میرا دین اسلام ہے معلوم ہوا دین کی اضافت اپنی طرف کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ دین کی اضافت جو اپنی طرف نہ کرے اس کا ایمان ہی مکمل نہیں ہوگا ایمان مکمل ہی تب ہوتا ہے جب انسان یہ کہے کہ میرا دین یہ ہے انسان لاکھ کہے تیرا دین یہ ہے اس کا دین یہ ہے بلکہ یہ بھی کہے تیرا دین سچا ہے اس کا دین سچا ہے لیکن پھر بھی اتنا کہنا ایمان کے لیے کافی نہیں ہوگا بلکہ یہ کہنا پڑے گا کہ میرا دین سچا ہے اور وہ اسلام ہے
دیکھیے جناب ابو طالب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب تعریف کی لیکن دین محمدی کو اپنایا نہیں عار کی وجہ سے نار کو پسند کیا اسی لیے جمہور آج بھی ابو طالب کے ایمان کے قائل نہیں ہیں اگر وہ دینی دین محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- کہتے تو ابو طالب کے ایمان پر کوئی کلام نہیں ہوتا۔
مطلب دین کو جب تک اپنا دین نہ مانے تب تک کوئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ہے لہذا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کا میرا دین کہنا بالکل قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے البتہ جو دین اسلام کو میرا دین یعنی اپنا دین نہ کہے اس کو خود اپنے ایمان کا محاسبہ کرنا چاہیے ۔
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ جب دین کی نسبت کسی نبی کی طرف کی جائے جیسے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم دین عیسیٰ علیہ السلام دین موسیٰ علیہ السلام تو اس سے مراد نئی شریعت ہوتی ہے اور جب اسی دین کی اضافت ان کے ماننے والے کی طرف ہوتی ہے جیسے دین ابو بکر رضی اللہ عنہ دین اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تو اس سے مراد نئی شریعت نہیں ہوتی ہے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ایمان لانا اور اس پر چلنا مراد ہوتی ہے یعنی جس دین کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیروی کی وہ دین، دین محمدی ہے ایسے ہی جس دین کی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کی نشرو اشاعت کی وہ دین، دین محمدی ہے۔
شبہ:
اب اس پر کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ دینی الاسلام میں دینی یعنی میرا دین کے بعد اس دین کی خبر بھی موجود ہے کہ وہ دین کوئی اور دین نہیں بلکہ دین اسلام ہی ہے لیکن اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت میں یہ بات موجود نہیں بلکہ وہاں تو صرف یہ لکھا ہے کہ میرا دین جو میری کتب سے ظاہر ہے یہاں تو اسلام کی بات ہی نہیں اس لیے اس کو دینی الاسلام سے استدلال کر کے ثابت کرنا صحیح نہیں ہوگا۔
ازالۂ شبہ ــــــــــــــــــــــــ
ہم کہتے ہیں معترض نے میری کتب پر غور نہیں کیا ورنہ اس کو یہ شبہ ہی نہیں ہوتا۔
قارئین اس کو یوں سمجھیں:
ایک شخص نے ایک پرچے میں لکھا:
اللہ ایک ہے، پاک اور بے عیب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل جلالہ کے بندے اور رسول ہیں، اور حضور ہی آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا جو یہ کہے کہ حضور کے بعد بھی نیا نبی آ سکتا ہے تو وہ کافر و مرتد ہو جائے گا۔
اب اس شخص نے جانکنی کے وقت اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے ایک کاغذ میں لکھوایا کہ بیٹا میرا دین و مذہب وہی ہے جو اس پرچے سے ظاہر ہے تم بھی اسی پر قائم رہنا بلکہ اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
اب معترض بتائے کہ وصیت کرنے والے نے پرچے سے جو ظاہر ہے اسی کو اپنا دین و مذہب کہا ہے اور اسی پر قائم رہنے کو ہر فرض سے اہم فرض کہا ہے حالانکہ لفظ اسلام وصیت میں کہیں موجود نہیں ہے تو کیا وصیت کرنے والے کا اسے اپنا دین و مذہب کہنا صحیح نہیں ہوا؟
اگر معترض کہے کہ لفظ اسلام نہیں ہے اسی لیے اس کو دین و مذہب کہنا صحیح نہیں ہوگا تو معترض خود کافر ہو جائے گا کیونکہ اس پرچے میں لکھا ہے
اللہ ایک ہے پاک اور بے عیب ہے حضور آخری نبی ہیں
یہ دین و مذہب نہیں تو اور کیا ہے؟ جو اسے دین و مذہب نہ مانے خود کافر ہے
تو اس کا مطلب کیا ہوا یہی نا کہ اسلام کا لفظ اگر چہ وصیت میں موجود نہیں ہے لیکن پرچے میں جو بات لکھی ہے وہ ساری باتوں کو ماننے کا نام ہی اسلام ہے تو مطلب یہ ہوا وصیت کرنے والے نے گویا یہ کہا کہ بیٹا میرا دین و مذہب وہی ہے جو اس پرچے سے ظاہر ہے یعنی اسلام اور اسی پر یعنی اسلام پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
اب دیکھیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اب کتب سے کیا ظاہر ہے تو وہی ہے جسے اسلام کہتے ہیں یعنی اللہ پاک ہے، بے عیب ہے ، حضور آخری نبی ہیں، ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، حضور کا علم ساری مخلوق میں سب سے زیادہ ہے، اعلی حضرت کی کتابوں سے اسلام کی حقانیت ظاہر ہے ضروریات دین ضروریات اہل سنت موجود ہیں اور یہی اسلام ہے تو اس عبارت کو اب یوں بھی رکھ سکتے ہیں
میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے یعنی اسلام اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے
دینی الاسلام کو اب یوں رکھیے
میرا دین و مذہب مطلب: دینی
میری کتب سے ظاہر مطلب: الاسلام
یعنی دینی الاسلام
تو ثابت ہوا کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی عبارت کی صحت پر دلیل دینی الاسلام سے لانا بالکل صحیح ہے
خلاصہ کے طور پر اتنا سمجھیں کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے:
میرا دین و مذہب
اب سوال یہ ہوگا کہ کونسا دین مذہب؟
تو جواب ہوگا وہ جو میری کتب سے ظاہر ہے۔
اب سوال یہ ہوگا کہ کتب سے کونسا مذہب ظاہر ہے؟
تو جواب ہوگا لامحالہ وہ مذہب اسلام ہے۔
اور مذہب اسلام پر قائم رہنا فرض قطعی ہے لہذا یہ ہر فرض سے اہم فرض ہوا اب اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ اعلی حضرت کی کتب سے کوئی دوسرا مذہب ظاہر ہے تو وہ ایک دلیل لے آئے کوئی ایک مسئلہ نکال کر پیش کرے جو اسلام کے خلاف ہو ہم کہہ دیتے ہیں بدمذہبوں کی ساری ذریت مل کر بھی اسلام کے خلاف کوئی ایک مسئلہ بھی نہیں دکھا سکتا۔
کتابوں کی قید کیوں لگائی؟ ـــــــــــــــــ
سوال:
ایک سوال اس پر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ یہ وصیت بھی فرما سکتے تھے کہ قرآن و احادیث پر سختی سے قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تركتُ فيكم أمرين، لن تضلّوا ما تمسَّكتم بهما، كتاب الله وسُنَّة نبيه
[رواه مالك في الموطأ ٢/ ٨٩٩ بلاغاً]
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک ان دونوں کو پکڑے رہوگے ہر گز گمراہ نہیں ہوگے وہ ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ -جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم-
لیکن یہ نہ فرما کر فرمایا میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے آخر ایسا کیوں؟
جواب:
اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ نبی پاک صلی علیہ وسلم نے قرآن سنت دونوں کو جمع فرمایا کر فرمایا ہے جو ان دونوں کو مضبوطی سے تھام لے گا وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن پڑھتے اور قرآن کو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھتے وہ قرآن کی ایسی تشریح نہیں فرماتے جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حدیث کے خلاف ہو ایسے ہی تابعین تبع تابعین ائمۂ مجتہدین کا منہج تفہیم رہا ائمۂ مجتہدین نے قرآن و حدیث سے مسائل کا استخراج فرمایا لیکن کبھی کسی مسئلے میں بھی قرآن و حدیث کے خلاف نہیں گئے۔
مگر پھر ایسا زمانہ آیا کہ کچھ شر پسندوں نے اپنی طرف سے قرآن کی شرح کی جس کی وجہ سے کئی فرقے وجود میں آئے
قارئین پر بخوبی واضح ہے کہ بد مذہب بھی قرآن پڑھتے ہیں تفسیر پڑھتے ہیں باوجود اس کے راہ حق پر نہیں ہیں کیا وجہ ہے؟
وجہ یہی ہے کہ وہ قرآن کو اپنے دماغ سے سمجھتے ہیں احادیث کی روشنی میں نہیں سمجھتے جس کی وجہ سے قعر مذلت میں جا گرے۔ مثلا:
ابو الاعلیٰ مودودی نے قرآن کی تفسیر لکھی لیکن اسلام ہاتھ سے چھوٹ گیا وجہ کیا رہی؟
یہی کہ اس نے اپنے دماغ سے تفسیر کی حدیث سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جیسا کہ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے:
ابوالاعلیٰ مودودی اپنے عقائدِ کفریہ کی وجہ سے کافر، مرتد، بد دین ہے، منجملہ اس کے عقائدِ کفریہ ہیں کہ وہ حدیث کا مطلقًا منکر ہے اور حدیث کا مطلقًا انکار کفر ہے۔
تنقیحات میں صاف لکھتا ہے:
’’کتاب و سنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر و حدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں‘‘۔[تنقیحات]
اس عبارت میں اس نے تفسیر و حدیث کا مطلق انکار کیا اور کتبِ تفسیر و حدیث کی توہین بھی کی اور ان کتب کی توہین ظاہر ہے کہ تفسیر و حدیث کی توہین ہے تو یہ دوہرا کفر ہوا
مودودی کا الٹا مذہب" مصنفہ مولانا محبوب علی خاں صاحب منگا کر دیکھیں اس میں اس کے بکثرت کفریات گنائے ہیں.
[فتاوی تاج الشریعہ جلد دوم ص: ٣١٥]
نیز دیکھیے ابو الاعلیٰ مودودی نے کس طرح تفسیر قرآن کو چھوڑ کر جدیدیت کو جگہ دی ہے تنقیحات میں ہے:
قرآن کے لیے کسی تفسیر کی حاجت نہیں۔ ایک اعلیٰ درجے کا پروفیسر کافی ہے جس نے قرآن کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا ہو اور جو طرز جدید پر قرآن پڑھانے اور سمجھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ وہ اپنے لیکچروں سے انٹر میڈیٹ میں طلبہ کے اندر قرآن فہمی کی ضروری استعداد پیدا کرے گا
[تنقیحات ص: ٢٢٩]
تنقیحات میں دوسری جگہ ہے:
میری تجاویز میں فرقی اختلافات کی گنجائش بہت کم ہے۔ تاہم اس باب میں علمائے شیعہ سے استصواب کیا جائے کہ وہ کس حد تک اس طرز تعلیم میں شیعہ طلبہ کو سنی طلبہ کے ساتھ رکھنا پسند کریں گے
[ تنقیحات ص : ٢٣٠ ]
اشرف علی تھانوی نے بھی تفسیر کی کتاب لکھی لیکن حفظ الایمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو صبی مجنون کے علم سے تشبیہ دی اور کافر و مرتد ہو گیا
قاسم نانوتوی نے بھی قرآن پڑھا لیکن خاتم النبیین کا انکار کیا اور کافر و مرتد ہو گیا
تو سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں نے قرآن کیسے پڑھا حدیث کیسے پڑھی؟ ان لوگوں کی تو تفسیر و حدیث میں تصنیف بھی ملتی ہے پھر کافر و مرتد کیسے ہو گئے؟
یہی جواب ہوگا نا کہ ان لوگوں نے اپنی طبیعت کو شریعت پر غالب رکھا قرآن پڑھا ضرور لیکن احادیث کی روشنی میں قرآن نہیں سمجھا بلکہ طبیعت کی چاشنی میں سمجھا۔
آج بھی بہت ایسے لوگ ملیں گے جو تفسیر میں اپنا بے علم دماغ لگاتے ہیں اور مودودی کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں
دور نہ جائیے ٢٠٢٦ء ماہ جولائی میں ایک خطیب نے اپنے دماغ سے آیت کریمہ
لَن تَنَالُوا۟ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا۟ مِمَّا تُحِبُّونَۚ
[آل عمران ٩٢]
کی ذاتی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی محبوب شئی کو راہ خدا میں تین بار انفاق کیا پہلی مرتبہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اس وقت دوسری بار جب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور تیسری بار جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اس وقت اپنی محبوب شئی کو راہ خدا میں انفاق کر دیا گویا خطیب صاحب یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خلافت کے حقدار حضرت علی تھے لیکن اپنی محبوب شئی خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پھر دوسری مرتبہ خلیفۂ ثانی اور تیسری مرتبہ خلیفۂ ثالث کو سونپ دی معاذ اللہ
یہ کھلی گمراہی ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
قارئین دیکھیں قرآن وہی ہے لیکن اپنی من مانی تفسیر کرنے کی وجہ سے کوئی کافر و مرتد ہوا کوئی گمراہ ضال مضل ہوا
حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے ان تمام باطل ذہنیت کی تعمیر کردہ عمارات کو منہدم کر دیا اور جو لوگ اہل سنت و جماعت میں عقائد باطلہ کی ملاوٹ کر رہے تھے ان کا پردہ چاک کیا اور خالص عقائد اہل سنت کو اپنی کتب میں قرآن و حدیث اقوال صحابہ و ائمہ کی روشنی میں ثابت کیا
اسی لیے امام نے فرمایا میرا دین و مذہب جو میری کتب سے ظاہر ہے اس پر قائم رہنا ہر فرض سے اہم فرض ہے کیونکہ آج کل باطل فرقے دین میں ملاوٹ بہت کر رہے ہیں اور وہ بھی قرآن و حدیث سناتے ہیں لیکن ان کا منشا عوام کو راہ راست سے نکال کر گمراہیت کی طرف لے جانا ہے
الزامی جواب ـــــــــــــــــــــ
اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی معترضین دیابنہ کو سکون نہ ملے اور یہی کہے کہ امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ کی عبارت کا مطلب نیا دین بنانا ہی ہے تو انھیں اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے
دیکھیے صحبتے با اولیا ملفوظات مولانا محمد زکریا کاندھلوی میں مولانا تقی الدین ندوی مظاہری نے لکھا ہے :
ہمارے اکابر حضرت گنگوہی حضرت نانوتوی نے جو دین قائم کیا تھا اسے مضبوطی سے تھام لو
[صحبتے با اولیا ص: ١٣٥]
تو اب معترضین بتائیں کہ دین کس نے قائم کیا نیا دین کس نے بنایا اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے یا ان کے اکابر نے ؟
بقول خود دیابنہ کے یہ لازم آیا کہ دیابنہ کا دین نیا دین ہے دیکھیے کیسے اپنے ہی منہ قبول دیا کہ دیابنہ کے رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی نے نیا دین قائم کیا۔
یہی وجہ ہے کہ سارے دیابنہ قرآن و حدیث چھوڑ کر طواغیت اربعہ اشرف علی تھانوی قاسم نانوتوی رشید احمد گنگوہی خلیل احمد انبیٹھوی کی پیروی کرتے ہیں انھیں لاکھ سمجھاؤ کہ ان لوگوں نے خاتم النبیین کا انکار کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک کو جانور کے علم سے تشبیہ دی شیطان کے علم سے کم بتایا، اللہ جل جلالہ کا جھوٹ بولنا ممکن مانا یہ سب قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں باوجود اس کے دیابنہ کہتے ہیں یہ سب صحیح ہیں کیونکہ نیا دین جو ٹھہرا معاذ اللہ رب العلمین
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
17
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 97
Kalam 9
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط پنجم]

مسلک اعلی حضرت -خط امتیاز- [قسط سوم]

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢