صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
علامہ ساحل سہسرامی ایک علمی شخصیت
شخصیات اسلاف واخلاف

علامہ ساحل سہسرامی ایک علمی شخصیت

✍️ Md Zishan Raza Markazi

علامہ ساحل سہسرامی ایک علمی شخصیت

نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسول الکریم

اس فرش گیتی پر تخلیق آدم سے لے کر ابھی تک بے شمار انسانوں نے جنم لیا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا لیکن ان پیدا شدگان میں چند ایسی شخصیات اس عالم فانی میں جلوہ گر ہوئی ہیں جن پر اسلام اور دین و سنیت کو فخر حاصل ہے وہ شخصیتیں حکمت و دانائی طہارت و پاکیزگی بلند کردار اخلاق و اخلاص کی پیکر و مجسمہ بن کر اس طرح ظہور فرمائیں کہ دل خود بخود ان کی طرف کھنچنے لگتے ہیں اور قلوب ان کی یاد میں مچلنے لگتے ہیں وہ روۓ زمین میں اللہ جل و علی کی ایک بڑی نعمت اور عظیم امانت ہوتی ہیں فلاح و نجات کی ایسی ہی ضامن شخصیتوں میں ایک عظیم علمی قد آور شخصیت دور حاضر میں علامہ ارشاد احمد مصباحی ساحل سہسرامی قدس سرہ السامی کی ذات تھی
مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی
الحمدللہ ساحل سہسرامی صاحب کی ذات محتاج تعارف نہیں ہے ان کی ہستی کو جو خدا داد مقبولیت حاصل ہے جو کہ ایک لازوال نعمت ہے اور فضل ربی سے انسانوں کے دلوں میں ان کی محبت جاگزیں ہے ، وہ فی الحال ہمارے مابین موجود نہیں ہیں نہ ان کا لشکر جرار کوئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی مادی قوت کا سامان مگر واللہ باللہ تااللہ دین و سنیت کے اس رہنما کو جو بلندی و شہرت ملی ہے وہ نہ کسی بادشاہ وقت اور نہ ہی وزیر سلطان کو حاصل ہوئی اگر ہوئی بھی تو کہاں انسانوں کے دلوں پر جیسے ان کو دلوں پر روحانی حکومت حاصل ہے بارگاہ رب العلی میں اس سے آپ کی مقبولیت و قرب کا پتہ چلتا ہے اور یہ بلندی و شہرت جو دینداری اور تبلیغ دین کی بنیاد پر ملی ہے وہ گھٹتی نہیں بلکہ روز بروز بڑھتی ہی رہتی ہے۔ کیونکہ۔
اونچا جو چڑھ گیا ہے گرایا نہ جائے گا
رفعت کی منزلوں سے ہٹایا نہ جائے گا
خود رب کائنات نے روشن کیا جسے
پھونکوں سے وہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
علامہ ساحل سہسرامی صاحب بیک وقت کئی خوبیوں اور اوصاف حمیدہ کے مالک تھے آپ دور حاضر کے مایہ ناز عالم نبیل اور عظیم مصنف و مؤلف اور شاعر بھی تھے معًا اسکالر کی حیثیت سے عوام کے مابین معروف تھے ان اوصاف کے جامع ہونے کے ساتھ ساتھ آپ شریعت مطہرہ کے پابند اور اخلاق حسنہ کے پیکر تھے گویا یہ ایک ہی شخص اس کرہ کے مثل ہے جو منشاء ہوتی ہے منطقہ دوائر الصغار اقطاب محاور کے انتزاع کا اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے متمائز ہوتی ہے آثار میں یوں ہی ذات ساحل سہسرامی کبھی صدور فتوی کبھی تصنیفی وہ تالیفی کارنامہ کبھی تقریر تحریر کا مصدر نظر آتے ہیں اور ہر ایک فن میں کمال تک پہنچے ہوئے ہیں موصوف علیہ الرحمہ کئی علوم کے بحر بے کراں و علومِ دینیہ کے مشرب نایاب تھے جس سے ایک مدت تک تشنگان علم و ادب سیراب ہوتے رہے راقم الحروف اگر انہیں ایک مقرر کی حیثیت سے متعارف کرائے تو ان کی تحریر گلہ کرتے ہوئے نظر آتی ہے اور اگر ان کی ذات کو علوم و فنون و اخلاق حسنہ کے اوصاف و کمالات سے متعارف کرائے تو جملے احساس کمتری کے شکار نظر آتے ہیں اور عقیدت تشنہ رہ جاتی ہے مگر اذہان و قلوب کو یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
میرے ممدوح ان شیوخ اور خلوص و للّٰہیت دین و سنیت کے مبلغین میں آتا ہے جو بناوٹ و نمود سے مستغنی خود ستائش سے دور و نفور دنیاوی منشاء سے نظریں پھیرنے والے حرص و طمع سے لا تعلق تعریف و توصیف سے بے پرواہ اخلاق رذیلہ سے دور دنیاوی خواہشات سے مجتنب سادہ مزاج اخلاق حسنہ کے پیکر باکمال ہیں تو بھلا کیوں نہیں عوام بالخصوص خواص کے دلوں میں بسیں گے چنانچہ مسلم شریف میں ہے
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله إذا احب عبدا دعا جبريل، فقال: إني احب فلانا فاحبه، قال: فيحبه جبريل، ثم ينادي في السماء، فيقول: إن الله يحب فلانا فاحبوه فيحبه اهل السماء، قال: ثم يوضع له القبول في الارض
،۔صحيح مسلم 6705"
ترجمہ ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے: میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، کہا: تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں، کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتاہے، تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، کہا: پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
ایں سعادت زور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
ان کے علاوہ میرے ممدوح کی علمائے اکابر کے مابین امتیازی خصوصیات میں سے ہے کہ آپ کو علمی مضامین اور فتاوی نویسی تصنیف و تالیف سے بھی شغف تھا آپ کی کتب علمیہ سے اہل علم بھی استفادہ کرتے ہیں اور درجنوں کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اصغر علی رضوی 36 گڑھی نے مندرجہ ذیل تصنیفات کا ذکر کیا ہے
١.شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن - ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ ٢.مولانا سید غیاث الدین حسن شریفی رضوی، حیات اور شاعری ٣.حضرات محدثین کے اخلاق کریمانہ.٤ خواجہ ہند کی صوفیانہ شاعری .٥.مخدوم سمنانی کے علمی آثار.٦. قطب الاقطاب دیوان محمد رشید مصطفی عثمانی حیات و افکار .٧۔حافظ ملت ۔٨.شارح بخاری -٩. حکیم الاسلام مفتی مظفر احمد قادری برکاتی - حیات و خدمات .١٠متنبی ایک خصوصی مطالعہ .١١. عرفان عرب.١٢. دائره قادر یه بلگرام شریف.١٣. مساهمة العلامه فضل حق خير آبادى فى الدراسات الاسلاميه والفلسفيه (پی ایچ ڈی کا عربی مقاله) .١٤.حضرت صادق شهسرامی، حیات و شاعری.١٥. جمالیات اور قرآن حکیم۔١٦. فن ترجمہ اور قرآنی تراجم.١٧. امام عظم اور علم حدیث .١٨. فقہ وافتا اور اس کے تقاضے .١٩. تصوف - چند وضاحتیں ۔٢٠. وہابیہ کی کفری عبارتوں کی تاویلات۔ ٢١.ایک تنقیدی جائزہ ۔٢٢. مخدوم سمنانی کے علمی آثار ۔٢٣ مسلمانوں کی علمی معیشت .٢٤. ہندوستانی تناظر میں..٢٥. مسلمانوں کے زوال کا نقطه آغاز .٢٦.ہندوستانی تناظر میں. ٢٧. تحفہ حجاز .٢٨. اوراد کا مجموعہ .٢٩.اوراد قادریہ۔٣٠ سلاسل صوفیه ۔٣١.تاریخ ولادت ٣٢. کاشف الاستار، سند السعادات فى حسن خاتمة السادات ، نظم اللآلى في نسب آل علاء الدين العالی (صغروی سادات، بلگرام )۔٣٣..سلاسل الانوار فى سير الاخيار ۔٣٤.وفيات الاعلام (زير تکميل)۔.٣٥. اسد العارفین حضرت سید شاہ عینی مارہروى ٣٦. النور والبهاء اسانيد الحديث وسلاسل الاولياء ٣٧... وجود العاشقین ٣٩.. مقالات شارح بخاری.٤٠. منبع الانساب محمد سید معین الحق جھونسوی، الہ آبادی
آپ کی تصنیفات میں سے زیر مطالعہ ایک کتاب منبع الانساب ہے
جو قریب 600 سال پرانی کتاب ہے جن کے مصنف سید معین الحق جھونسوی نور اللہ مرقدہ ہیں جس میں حضرت آدم علی نبینا علیہ السلام سے لے کر حضور جان جاناں صلی اللہ علیہ وسلم تک کے اخلاف کا ذکر ہے اور مولائے کائنات شیر خدا سے لے کر غوث پاک سے ہوتے ہوئے حضور مخدوم شعبان ملت تک کے مفصل حالات کو بیان کیا گیا ہے ایسی قدیم اور قیمتی مخطوطہ گراں قدر وہ عظیم الشان کتاب کو زبان اردو میں منظر عام پر لانے کی نیک بختی علامہ ساحل سہسرامی کو عطا ہوئی جو کہ دراصل بزبان فارسی تھی جب یہ کتاب منبع الانساب ترجمہ کے لیے علامہ ساحل سہسرامی صاحب کو دی گئی تو جمیل احمد نوری اسی کتاب میں دعائیہ کلمات لکھتے ہوئے یہ بھی رقم طراز ہیں کہ جب سید جمال احمد صاحب نے منبع الانساب ترجمہ کے لیے مفتی صاحب کو دی تو میں نے اسی وقت کہا تھا کہ (حق بحقدار رسید )
حضرت نے کتاب میں مخدوم شیخ محمد بن عیسی جن کا( شمار جونپور کے اولیائے کبار میں ہوتا ہے) کے واقعے پر حاشیہ چڑھاتے ہوئے ان ہی کے متعلق صفحہ نمبر 246 پر ایک قابل ذکر بات بیان فرماتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیاء یاد الہی میں کس قدر محو و مستغرق رہتے ہیں کہ ظاہر کی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شیخ محمد بن عیسی کے حجرے کے باہر ایک درخت اُگا اور خوب بڑا ہو گیا لیکن ایک مدت تک اس کی آپ کو خبر نہیں یہاں تک کہ اس درخت کے پتے جب آپ کی نشست گاہ میں گرے آپ نے فرمایا کہ یہ کہاں سے ائے لوگوں نے بتایا کہ حضور حجرہ کے دروازے پر ایک پیڑ اگ گیا ہے غرض کے شیخ محمد بن عیسی ہمیشہ مراقبے میں رہتے یہاں تک کہ جسم کی تمام ہڈیاں اور اس کے ساتھ گردن کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں اور سینہ بھی اندر کی طرف دھنس گیا تھا (ماخوذ از منبع الانساب)
علامہ ساحل سہسرامی صاحب نے اس کتاب کا ترجمہ آسان لب و لہجے میں کیا ہے جو کہ ایک قیمتی معلومات پر مشتمل ہے کسی بھی زبان کی کتاب کو دوسری زبان میں ڈھالنا کتنا مشکل امر ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جنہوں نے ترجمہ نگاری کی دنیا میں قدم رکھا ہو آپ کی کتاب کو پڑھنے والا بخوبی یہ جان جائے گا کہ آپ کس قدر لائق و فائق اور بہترین نثر نگار تھے اور سلاست سے اس قدر لبریز کہ محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کتاب اردو ہی میں لکھی گئی ہے
بعد از ایں ۔

فروغ رضویات میں آپ کا کار نامہ ۔

فروغ رضویات میں آپ کے گراں قدر کاوش کو دنیائے سنیت کبھی فراموش نہیں کر سکتی جب بھی کوئی فروغ رضویات پر قلم اٹھائے گا یقینا آپ کا حوالہ دیۓ بغیر نہیں رہ سکتا اور یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ فروغ رضویات میں اپ کے انقلاب افریں کارنامے اس پر شاہد ہیں جو یا تو اعلی حضرت یا آپ کے پیر و مرشد و پیر خانہ یا آپ کے تلمیذ و خلیفہ کے کتب و رسائل کی ترتیب پر مبنی ہیں مثلا(۔1) ١.حسام الحرمین اور بہار کے علماء و مشائخ .٢. رضا شناسی کے تقاضے اور خانوادۂ رضویات کی خصوصیات .٣.مخدوم جہاں اور امام احمد رضا .٤. امام احمد رضا اور سہسرام
(2) .١.فتاوی ملک العلماء کو ترتیب دی..٢. اسلام کا نظریہ موت ترتیب و تقدیم کے ساتھ شائع کیا
(3)..١. خاندان برکات کی علمی خدمات .٢.تبرکات خاندان برکات .٣.تصانیف خاندان برکات .٤.صاحب عرس قاسمی
(4)..١.صدر الشریعہ(5) .١.مفتی اعظم ہند(6) .١.شدی تحریک اور صدر الافاضل(7) .١.ملک العلماء
اور ان سیمیناروں میں قلمی یا عملی طور پر آپ کی شرکت رہی
(۱) امام احمد رضا سیمینارو کانفرنس، موضوع : فکر رضا کے تعارف کے عصری تقاضے ، (۲) امام احمد رضا سیمینار و کانفرنس، موضوع: ، امام احمد رضا سے خانقاہوں کے روابط ، (۳) تاج الشریعہ سیمینار، موضوع: حضرت تاج الشریعہ ایک مرشد کامل (۴) تاج الشریعہ سیمینار و امام احمد رضا سیمینار و کانفرنس، موضوع: امام احمد رضا کی مقبولیت اور حاسدین کی ریشہ دوانیہ، (۵) صدر الشریعہ سیمینار ، موضوع: صدر الشریعہ کی اردو نثر نگاری۔
:اور تقریبا ایک ہزار فتاوی جو فقیہ اعظم ہند علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی تصدیقات سے مزین ہیں۔
( ماخوذ از فروغ رضویات میں فرزندان اشرفیہ کی خدمات)
گویا کہ حضرت ہر انداز میں منفرد تھے مسلک حق مسلک اعلی حضرت کے علمبردار تھے ان کی علمی جلالت کو سلام ان کی خاموش مزاجی کو سلام ان کی استقامت شریعت اور فکری استحکام کو سلام ان کی تمام تر کاوشوں کو سلام
چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بنائے صحرا کو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وما علینا الا البلاغ المبین
از۔قلم
محمد ذیشان رضا مرکزی
اودے پور راجستھان

علامہ ساحل سہسرامی ایک علمی شخصیت

مضمون نگار: Md Zishan Raza Markazi

علامہ ساحل سہسرامی ایک علمی شخصیت

نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسول الکریم

اس فرش گیتی پر تخلیق آدم سے لے کر ابھی تک بے شمار انسانوں نے جنم لیا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا لیکن ان پیدا شدگان میں چند ایسی شخصیات اس عالم فانی میں جلوہ گر ہوئی ہیں جن پر اسلام اور دین و سنیت کو فخر حاصل ہے وہ شخصیتیں حکمت و دانائی طہارت و پاکیزگی بلند کردار اخلاق و اخلاص کی پیکر و مجسمہ بن کر اس طرح ظہور فرمائیں کہ دل خود بخود ان کی طرف کھنچنے لگتے ہیں اور قلوب ان کی یاد میں مچلنے لگتے ہیں وہ روۓ زمین میں اللہ جل و علی کی ایک بڑی نعمت اور عظیم امانت ہوتی ہیں فلاح و نجات کی ایسی ہی ضامن شخصیتوں میں ایک عظیم علمی قد آور شخصیت دور حاضر میں علامہ ارشاد احمد مصباحی ساحل سہسرامی قدس سرہ السامی کی ذات تھی
مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی
الحمدللہ ساحل سہسرامی صاحب کی ذات محتاج تعارف نہیں ہے ان کی ہستی کو جو خدا داد مقبولیت حاصل ہے جو کہ ایک لازوال نعمت ہے اور فضل ربی سے انسانوں کے دلوں میں ان کی محبت جاگزیں ہے ، وہ فی الحال ہمارے مابین موجود نہیں ہیں نہ ان کا لشکر جرار کوئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی مادی قوت کا سامان مگر واللہ باللہ تااللہ دین و سنیت کے اس رہنما کو جو بلندی و شہرت ملی ہے وہ نہ کسی بادشاہ وقت اور نہ ہی وزیر سلطان کو حاصل ہوئی اگر ہوئی بھی تو کہاں انسانوں کے دلوں پر جیسے ان کو دلوں پر روحانی حکومت حاصل ہے بارگاہ رب العلی میں اس سے آپ کی مقبولیت و قرب کا پتہ چلتا ہے اور یہ بلندی و شہرت جو دینداری اور تبلیغ دین کی بنیاد پر ملی ہے وہ گھٹتی نہیں بلکہ روز بروز بڑھتی ہی رہتی ہے۔ کیونکہ۔
اونچا جو چڑھ گیا ہے گرایا نہ جائے گا
رفعت کی منزلوں سے ہٹایا نہ جائے گا
خود رب کائنات نے روشن کیا جسے
پھونکوں سے وہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
علامہ ساحل سہسرامی صاحب بیک وقت کئی خوبیوں اور اوصاف حمیدہ کے مالک تھے آپ دور حاضر کے مایہ ناز عالم نبیل اور عظیم مصنف و مؤلف اور شاعر بھی تھے معًا اسکالر کی حیثیت سے عوام کے مابین معروف تھے ان اوصاف کے جامع ہونے کے ساتھ ساتھ آپ شریعت مطہرہ کے پابند اور اخلاق حسنہ کے پیکر تھے گویا یہ ایک ہی شخص اس کرہ کے مثل ہے جو منشاء ہوتی ہے منطقہ دوائر الصغار اقطاب محاور کے انتزاع کا اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے متمائز ہوتی ہے آثار میں یوں ہی ذات ساحل سہسرامی کبھی صدور فتوی کبھی تصنیفی وہ تالیفی کارنامہ کبھی تقریر تحریر کا مصدر نظر آتے ہیں اور ہر ایک فن میں کمال تک پہنچے ہوئے ہیں موصوف علیہ الرحمہ کئی علوم کے بحر بے کراں و علومِ دینیہ کے مشرب نایاب تھے جس سے ایک مدت تک تشنگان علم و ادب سیراب ہوتے رہے راقم الحروف اگر انہیں ایک مقرر کی حیثیت سے متعارف کرائے تو ان کی تحریر گلہ کرتے ہوئے نظر آتی ہے اور اگر ان کی ذات کو علوم و فنون و اخلاق حسنہ کے اوصاف و کمالات سے متعارف کرائے تو جملے احساس کمتری کے شکار نظر آتے ہیں اور عقیدت تشنہ رہ جاتی ہے مگر اذہان و قلوب کو یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
میرے ممدوح ان شیوخ اور خلوص و للّٰہیت دین و سنیت کے مبلغین میں آتا ہے جو بناوٹ و نمود سے مستغنی خود ستائش سے دور و نفور دنیاوی منشاء سے نظریں پھیرنے والے حرص و طمع سے لا تعلق تعریف و توصیف سے بے پرواہ اخلاق رذیلہ سے دور دنیاوی خواہشات سے مجتنب سادہ مزاج اخلاق حسنہ کے پیکر باکمال ہیں تو بھلا کیوں نہیں عوام بالخصوص خواص کے دلوں میں بسیں گے چنانچہ مسلم شریف میں ہے
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله إذا احب عبدا دعا جبريل، فقال: إني احب فلانا فاحبه، قال: فيحبه جبريل، ثم ينادي في السماء، فيقول: إن الله يحب فلانا فاحبوه فيحبه اهل السماء، قال: ثم يوضع له القبول في الارض
،۔صحيح مسلم 6705"
ترجمہ ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے: میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، کہا: تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں، کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتاہے، تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، کہا: پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے
ایں سعادت زور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
ان کے علاوہ میرے ممدوح کی علمائے اکابر کے مابین امتیازی خصوصیات میں سے ہے کہ آپ کو علمی مضامین اور فتاوی نویسی تصنیف و تالیف سے بھی شغف تھا آپ کی کتب علمیہ سے اہل علم بھی استفادہ کرتے ہیں اور درجنوں کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اصغر علی رضوی 36 گڑھی نے مندرجہ ذیل تصنیفات کا ذکر کیا ہے
١.شاہ حقانی کا اردو ترجمہ و تفسیر قرآن - ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ ٢.مولانا سید غیاث الدین حسن شریفی رضوی، حیات اور شاعری ٣.حضرات محدثین کے اخلاق کریمانہ.٤ خواجہ ہند کی صوفیانہ شاعری .٥.مخدوم سمنانی کے علمی آثار.٦. قطب الاقطاب دیوان محمد رشید مصطفی عثمانی حیات و افکار .٧۔حافظ ملت ۔٨.شارح بخاری -٩. حکیم الاسلام مفتی مظفر احمد قادری برکاتی - حیات و خدمات .١٠متنبی ایک خصوصی مطالعہ .١١. عرفان عرب.١٢. دائره قادر یه بلگرام شریف.١٣. مساهمة العلامه فضل حق خير آبادى فى الدراسات الاسلاميه والفلسفيه (پی ایچ ڈی کا عربی مقاله) .١٤.حضرت صادق شهسرامی، حیات و شاعری.١٥. جمالیات اور قرآن حکیم۔١٦. فن ترجمہ اور قرآنی تراجم.١٧. امام عظم اور علم حدیث .١٨. فقہ وافتا اور اس کے تقاضے .١٩. تصوف - چند وضاحتیں ۔٢٠. وہابیہ کی کفری عبارتوں کی تاویلات۔ ٢١.ایک تنقیدی جائزہ ۔٢٢. مخدوم سمنانی کے علمی آثار ۔٢٣ مسلمانوں کی علمی معیشت .٢٤. ہندوستانی تناظر میں..٢٥. مسلمانوں کے زوال کا نقطه آغاز .٢٦.ہندوستانی تناظر میں. ٢٧. تحفہ حجاز .٢٨. اوراد کا مجموعہ .٢٩.اوراد قادریہ۔٣٠ سلاسل صوفیه ۔٣١.تاریخ ولادت ٣٢. کاشف الاستار، سند السعادات فى حسن خاتمة السادات ، نظم اللآلى في نسب آل علاء الدين العالی (صغروی سادات، بلگرام )۔٣٣..سلاسل الانوار فى سير الاخيار ۔٣٤.وفيات الاعلام (زير تکميل)۔.٣٥. اسد العارفین حضرت سید شاہ عینی مارہروى ٣٦. النور والبهاء اسانيد الحديث وسلاسل الاولياء ٣٧... وجود العاشقین ٣٩.. مقالات شارح بخاری.٤٠. منبع الانساب محمد سید معین الحق جھونسوی، الہ آبادی
آپ کی تصنیفات میں سے زیر مطالعہ ایک کتاب منبع الانساب ہے
جو قریب 600 سال پرانی کتاب ہے جن کے مصنف سید معین الحق جھونسوی نور اللہ مرقدہ ہیں جس میں حضرت آدم علی نبینا علیہ السلام سے لے کر حضور جان جاناں صلی اللہ علیہ وسلم تک کے اخلاف کا ذکر ہے اور مولائے کائنات شیر خدا سے لے کر غوث پاک سے ہوتے ہوئے حضور مخدوم شعبان ملت تک کے مفصل حالات کو بیان کیا گیا ہے ایسی قدیم اور قیمتی مخطوطہ گراں قدر وہ عظیم الشان کتاب کو زبان اردو میں منظر عام پر لانے کی نیک بختی علامہ ساحل سہسرامی کو عطا ہوئی جو کہ دراصل بزبان فارسی تھی جب یہ کتاب منبع الانساب ترجمہ کے لیے علامہ ساحل سہسرامی صاحب کو دی گئی تو جمیل احمد نوری اسی کتاب میں دعائیہ کلمات لکھتے ہوئے یہ بھی رقم طراز ہیں کہ جب سید جمال احمد صاحب نے منبع الانساب ترجمہ کے لیے مفتی صاحب کو دی تو میں نے اسی وقت کہا تھا کہ (حق بحقدار رسید )
حضرت نے کتاب میں مخدوم شیخ محمد بن عیسی جن کا( شمار جونپور کے اولیائے کبار میں ہوتا ہے) کے واقعے پر حاشیہ چڑھاتے ہوئے ان ہی کے متعلق صفحہ نمبر 246 پر ایک قابل ذکر بات بیان فرماتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیاء یاد الہی میں کس قدر محو و مستغرق رہتے ہیں کہ ظاہر کی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شیخ محمد بن عیسی کے حجرے کے باہر ایک درخت اُگا اور خوب بڑا ہو گیا لیکن ایک مدت تک اس کی آپ کو خبر نہیں یہاں تک کہ اس درخت کے پتے جب آپ کی نشست گاہ میں گرے آپ نے فرمایا کہ یہ کہاں سے ائے لوگوں نے بتایا کہ حضور حجرہ کے دروازے پر ایک پیڑ اگ گیا ہے غرض کے شیخ محمد بن عیسی ہمیشہ مراقبے میں رہتے یہاں تک کہ جسم کی تمام ہڈیاں اور اس کے ساتھ گردن کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں اور سینہ بھی اندر کی طرف دھنس گیا تھا (ماخوذ از منبع الانساب)
علامہ ساحل سہسرامی صاحب نے اس کتاب کا ترجمہ آسان لب و لہجے میں کیا ہے جو کہ ایک قیمتی معلومات پر مشتمل ہے کسی بھی زبان کی کتاب کو دوسری زبان میں ڈھالنا کتنا مشکل امر ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جنہوں نے ترجمہ نگاری کی دنیا میں قدم رکھا ہو آپ کی کتاب کو پڑھنے والا بخوبی یہ جان جائے گا کہ آپ کس قدر لائق و فائق اور بہترین نثر نگار تھے اور سلاست سے اس قدر لبریز کہ محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کتاب اردو ہی میں لکھی گئی ہے
بعد از ایں ۔

فروغ رضویات میں آپ کا کار نامہ ۔

فروغ رضویات میں آپ کے گراں قدر کاوش کو دنیائے سنیت کبھی فراموش نہیں کر سکتی جب بھی کوئی فروغ رضویات پر قلم اٹھائے گا یقینا آپ کا حوالہ دیۓ بغیر نہیں رہ سکتا اور یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ فروغ رضویات میں اپ کے انقلاب افریں کارنامے اس پر شاہد ہیں جو یا تو اعلی حضرت یا آپ کے پیر و مرشد و پیر خانہ یا آپ کے تلمیذ و خلیفہ کے کتب و رسائل کی ترتیب پر مبنی ہیں مثلا(۔1) ١.حسام الحرمین اور بہار کے علماء و مشائخ .٢. رضا شناسی کے تقاضے اور خانوادۂ رضویات کی خصوصیات .٣.مخدوم جہاں اور امام احمد رضا .٤. امام احمد رضا اور سہسرام
(2) .١.فتاوی ملک العلماء کو ترتیب دی..٢. اسلام کا نظریہ موت ترتیب و تقدیم کے ساتھ شائع کیا
(3)..١. خاندان برکات کی علمی خدمات .٢.تبرکات خاندان برکات .٣.تصانیف خاندان برکات .٤.صاحب عرس قاسمی
(4)..١.صدر الشریعہ(5) .١.مفتی اعظم ہند(6) .١.شدی تحریک اور صدر الافاضل(7) .١.ملک العلماء
اور ان سیمیناروں میں قلمی یا عملی طور پر آپ کی شرکت رہی
(۱) امام احمد رضا سیمینارو کانفرنس، موضوع : فکر رضا کے تعارف کے عصری تقاضے ، (۲) امام احمد رضا سیمینار و کانفرنس، موضوع: ، امام احمد رضا سے خانقاہوں کے روابط ، (۳) تاج الشریعہ سیمینار، موضوع: حضرت تاج الشریعہ ایک مرشد کامل (۴) تاج الشریعہ سیمینار و امام احمد رضا سیمینار و کانفرنس، موضوع: امام احمد رضا کی مقبولیت اور حاسدین کی ریشہ دوانیہ، (۵) صدر الشریعہ سیمینار ، موضوع: صدر الشریعہ کی اردو نثر نگاری۔
:اور تقریبا ایک ہزار فتاوی جو فقیہ اعظم ہند علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کی تصدیقات سے مزین ہیں۔
( ماخوذ از فروغ رضویات میں فرزندان اشرفیہ کی خدمات)
گویا کہ حضرت ہر انداز میں منفرد تھے مسلک حق مسلک اعلی حضرت کے علمبردار تھے ان کی علمی جلالت کو سلام ان کی خاموش مزاجی کو سلام ان کی استقامت شریعت اور فکری استحکام کو سلام ان کی تمام تر کاوشوں کو سلام
چمن میں پھول کا کھلنا تو کوئی بات نہیں
زہے وہ پھول جو گلشن بنائے صحرا کو
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
وما علینا الا البلاغ المبین
از۔قلم
محمد ذیشان رضا مرکزی
اودے پور راجستھان
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Md Zishan Raza Markazi

Student - Sabea | Jamiatur Raza
102
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 2
Kalam 1
Md Zishan Raza Markazi
زمرہ جات

مسئلہ علم غیب پر ایک اعتراض کا الزامی جواب

مفتی شہزاد عالم مصباحی کے خلاف عمیر قاسمی دیوبندی کی بکواس کا جواب

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢