صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
عرس کی آڑ میں شکم پروری
احوال قوم وملت

عرس کی آڑ میں شکم پروری

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

عرس کی آڑ میں شکم پروری
ہے ریا کاروں کا چرچا، ہے ریا کاروں کی دھوم
بوریائے فقر بھی اب بے ریا ملتا نہیں
اللہ جل و علا کا یہ احسان عظیم ہے کہ امت محمدیہ کے سر پر خیر امۃ کا تاج زریں رکھا اور اس تاج کو تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر سے مزین و منقش فرمایا جو اس بات کی طرف مشیر ہے کہ ہر مسلمان کو مبلغ ہونا چاہئیے
اور تؤمنون باللہ سے اسے عزت و شوکت عظمت و رفعت عطا فرمائی تاکہ صاحب تاج کا پائے ثبات امر بالمعروف و النھی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کے بجائے دنیا کے مال و منال دولت و زر کی وجہ سے قعر مذلت میں جا نہ گرے،
کیوں کہ جو صاحب تاج ہوتا ہے وہ قوم کا بادشاہ ہوتا ہے اور بادشاہ کبھی رعایا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا ہے کیونکہ یہ خلاف شان ہے۔۔۔۔۔۔ رعایا پر اس کا رعب و دبدبہ ہوتا ہے جو وہ حکم دیتا ہے رعایا اس پر عمل کرتی ہے
یہی شان مسلمانوں کی ہے خصوصاً علماء کرام کی کہ انھیں اللہ جل و علا نے منصبِ اولی الامر سے سرفراز فرمایا ہے اور ایمان والوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے
اور ان کی رفعت و عظمت کو اوتوا العلم درجٰت سے آشکار فرمایا یعنی اللہ جل و علا علماء کرام کو قوم کا حاکم بنایا اور قوم کو ان کی اطاعت کا حکم دیا،
لیکن افسوس صد افسوس آج قوم خود کو حاکم سمجھ رہی ہے اور وہ بعض حضرات جو خود کو عالم دین بلکہ علامہ کہلاتے نہیں تھکتے وہ عوام کلأنعام کی پیروی کرتے ہیں ،
حال ہی میں کتنے اعراس ہوئے جن کا پس منظر اور پیش منظر دیکھنے کے بعد آنکھیں حیران و ششدر رہ جاتی ہیں
میں اس وقت خاص طور پر فرزندان پورنیہ سے مخاطب ہو کر اُن باتوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کی وجہ سے دل میں طوفان سا اٹھتا ہے اور کبھی طوفان کے ساتھ ساتھ بارش بھی برستی ہے جس کا اثر آنسوؤں کی شکل میں آنکھوں سے جاری ہوتا ہے اور اپنے اسلاف کی مزارات کی عزت و حرمت پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر دل سے آواز آتی ہے
واعظ قوم کی پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
خصوصاً باز بیریا (صاحب مزار حضور سید شاہ عظمت اللہ علیہ الرحمہ) اور سنگھیا (صاحب مزار امام علم و فن خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ) کے عرس کے احوال کسی کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں جیسے سورج کی روشنی کسی کی آنکھ پوشیدہ نہیں،
فی الحال 28 نومبر 2022ء کو عرس امام علم و فن کا انعقاد ہوا بہت اچھی بات ہے کہ بزرگان دین سے فیضیاب ہونے کے لیے ان کے نام پر عرس اور محفل نور سجانی چاہئیے ،
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ادھر جلسے میں خطبا پر زوش ولولہ انگیز تقریر کرتے ہیں اور دوسری طرف رقص و سرور گانے بجانے کا بازار گرم رہتا ہے
ایک طرف شعرا بلبل کی طرح چہک چہک کر نعت و منقبت گنگناتے ہیں تو دوسری طرف نو جوان طبقہ اسی میدان میں اسی رات میں آلاتِ رقص و سرور میں ناچتے گاتے اور کار فحش میں ملوث نظر آتے ہیں
اب سوال یہ اٹھتا ہے کیا نو جوان طبقہ ان شیطانی آلاتِ رقص و سرور کو دیکھ کر جلسہ گاہ میں بیٹھیں گے ؟
اس پہ بھی یہ شکوہ ہے سامعین جلسہ گاہ میں نظر نہیں آتے ہیں صرف گھومتے رہتے ہیں آخر گھومنے کا سامان انھیں کس نے مہیا کیا؟
اس طرح کی شیطانی آلات کو دیکھ کر کیا نوجوان طبقہ خواہشات نفس کی تکمیل کے لیے ان کی طرف نہیں بڑھیں گے؟
کیا کوئی دانشمند کہہ سکتا ہے کہ اس جلسے کا مقصد اصلاح معاشرہ ہے؟
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس برائی کو فروغ کون دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کمیٹی والے اس کار فحش کو انجام دے رہے ہیں یا اس میں کسی اور کا ہاتھ ہے؟........
اگر بالفرض مان بھی لیا جائے اس سے کمیٹی والوں کا کوئی تعلق نہیں ہے تو انھوں نے اس بلائے عظیم کو روکا کیوں نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔ناچنے گانے بجانے کی کھلی چھوٹ کیوں دی؟
اب قارئین سوچتے ہوں گے گانے بجتے ہیں یہ بات تو واقع کے مطابق ہے لیکن ناچتا کون ہے ؟
تو میں اس کے جواب میں کہنا چاہوں گا کہ بریک ڈانس کسے کہتے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔اس کا نام بریک ڈانس کیوں رکھا؟۔۔۔۔۔۔۔کیا ڈانس کا معنی ناچ نہیں ہے؟۔۔۔۔۔۔بالکل ہے!۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا نام بریک ڈانس (آلۂ رقص) رکھا ہی اس لیے کہ اس میں آدمی کو بٹھا کر نچایا جاتا ہے،
اب قارئین بتائیں کہ اس بریک ڈانس میں کتنوں کی بہنوں کو بٹھا کر نچائی جاتی ہے؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتنے بوڑھے ماں باپ کی عزتیں نچائی جاتی ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں ناچتی ہے اسی عرس کے نام پر آکر ناچتی ہے نا؟
کیا کمیٹی والے اپنی بہنوں کو (آلۂ رقص) بریک ڈانس میں نچاتے ہیں اگر نہیں تو پھر دوسروں کی بیٹیوں اور بہنوں کو نچانے کے لیے عرس کے نام پر میدان لہو و لعب کیوں سجاتے ہیں؟؟؟؟.....اگر ضمیر بیدار ہے تو ہزار بار سوچیے اور خود کو جھنجھوڑیے،
اور اگر خود کمیٹی والے عرس کی آڑ میں اس طرح کے میلے لگواتے ہیں تو کیوں لگواتے ہیں نیکی کمانے کے لیے یا شکم پروری کے لیے؟
رہی بات میلے لگوانے اور گانے بجوانے کی اس سے تو نیکیاں ہر گز نہیں مل سکتی ہے ہاں ایسے افعال قبیحہ شنیعہ کو انجام دینے والوں کے لیے آخرت میں دہکتی ہوئی آگ ہے جس کے لیے تیار رہیں،
جب یہ معلوم ہو گیا کہ یہ افعال قبیحہ نیکیاں کمانے کے لیے نہیں ہو سکتے ہیں تو دوسری بات ماننے پڑے گی کہ یہ شکم پروری کے لیے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اب پوچھنا چاہوں گا کیا اس کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں ہے جس سے شکم پروری ہو سکے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے اسلاف کو اذیت دے کر ہی کمانا ضروری تھا؟
لیکن کیا کیا جائے یہ حضرات بھی مجبور ہیں کیونکہ انھیں حرمت مزارات کو پامال کر کے پیٹ بھرنے کی عادت پڑ گئی ہے اور خود کو خادم مزار کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔۔انھیں خادم تو کجا آدمی کہتے ہوئے بھی آدمی شرما جائے۔۔۔۔
کیا حضور خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ نے یہی درس دیا تھا حاشا للہ۔۔۔۔۔حاشا للہ۔۔۔۔۔۔ہر گز نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔حضور امام علم و فن نے تو دولت و ثروت مال و منال کو ٹھوکر مار دیا اور اپنی زندگی دین اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ،
خود فرماتے ہیں
چنانچہ جس وقت میں بریلی شریف میں تدریسی خدمات پر مامور تھا اس وقت میری تنخواہ میری خرچ سے بہت کم تھی اس لیے میری اہلیہ پورنیہ سے روپے وغیرہ بھیج کر میری مدد کرتی تھی (تحقیقات امام علم و فن ص 13)
ایسے عالم میں بھی جب آپ کو بدایوں شریف میں آپ کے وزن کے مطابق چاندی دینے کی پیشکش کی گئی تو آپ نے منع فرما دیا
آپ خود فرماتے ہیں
کہ وہاں (مدرسہ قادریہ بدایوں شریف میں) ایک ماروتی کار کے علاوہ میرے وزن بھر چاندی دینے کی پیشکش کی گئی تھی جسے میں یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا تھا کہ اتنی دولت اور کار لے کر میں کیا کروں گا؟ یہ پیشکش حضرت تاج الفحول کے صد سالہ جشن کے موقع پر 1998ء میں کی گئی تھی (تحقیقات امام علم و فن ص 11)
قارئین کرام چشم انصاف سے مذکورہ بالا دونوں اقتباس بغور مطالعہ کریں اور حضور امام علم و فن کی عاجزی و انکساری حلم و بردباری پر صدقے جائیں۔۔۔۔۔۔اور بتائیں کیا ایسی نفیس الطبع منکسر المزاج جبل العلم شخصیت کے عرس کی آڑ میں تماشے لگوانے والوں پر اللہ کی رحمتیں برسیں گی؟
علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ شرح الصدور بشرح احوال الموتی و القبور میں ایک حدیث شریف نقل فرماتے ہیں،
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان المیت یؤذیہ فی قبرہ ما یؤذیہ فی بیتہ؛ یعنی جو چیز میت کو گھر میں تکلیف دیتی ہے وہ اسے قبر میں بھی تکلیف دیتی ہے (شرح الصدور بشرح احوال الموتی و القبور ص 505 بحوالہ فردوس الاخبار 120/1 حدیث: 749)
قارئین کرام فیصلہ کریں کیا حضور امام علم و فن جب بقید حیات تھے تو ان افعال قبیحہ سے ان کو اذیت نہیں پہنچتی تھی؟۔۔۔۔۔۔پہچتی تھی۔۔۔۔بالکل پہنچتی تھی۔۔۔۔۔اس کی نظیر ٹی وی کی تحقیق پڑھ لیجیے جب ٹی وی کے عدم جواز پر آپ اس طرح متصلب فی الدین رہے تو ان آلات رقص و سرور کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہوتا؟ سوچیے اور خوب سوچیے
اگر حضور امام علم و فن دور حاضر کا یہ ناچ گانے بجانے والا منظر دیکھ لیتے تو وصیت فرماتے مجھے یہاں دفن مت کرنا ورنہ مجھے اذیت پہنچے گی اور خدام نما لٹیرے شکم پروری میں لگے رہیں گے
آج بھی وقت ہے توبہ کر کے راہ راست پر آجائیں،
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
کل مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
یہ باتیں تو عوام اور کمیٹی والوں سے متعلق تھیں لیکن اس برائی میں وہ حضرات بھی برابر کے شریک ہیں جو اسی رات اسی میدان میں ممبر رسول پر بیٹھ کر تقریر تو کرتے ہیں لیکن ان آلاتِ رقص و سرور اور شکم پروری پر کچھ نہیں بولتے ہیں کیا یہ حضرات اس شعر کے مصداق نہیں ہیں،؟
در پیش ہیں دونوں کو سوال اپنے شکم کا
ایک اپنی خودی ایک خدا بیچ رہا ہے
کئی سالوں سے ان آلاتِ و رقص و سرور کا میلا لگتا ہے لیکن کس نے ابھی تک اس کے خلاف تقریر کی؟
کیا امر بالمعروف و النھی عن المنکر یہی ہے جو برائی سامنے ہے ( برائی بھی ایسی جس کا ارتکاب کرنا حرام ہے ) اس کو چھوڑ کر مستحبات پر تقریر کرتے رہیں کبھی بیگ سے پلیٹ نکال کر دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں پلیٹ چاٹ کر کھانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔کیا خطیب صاحب کی نظر میلے میں لگے ہوئے آسمان کو چھوتے ہوئے الو چرخا پر نہیں پڑی؟.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گانے بجانے کی آواز سماعتوں کی دہلیز سے نہیں ٹکرائی؟.........۔ بریک ڈانس کے تماشے نظر نہیں آئے؟۔۔۔۔۔۔خطیب صاحب اس پر کیوں نہیں بولے؟..... خاموش کیوں رہ گئے؟.........جب کہ یہ سب حرام ہے لیکن خطیب صاحب کو تو سوال اپنے شکم کا ہے پلیٹ چاٹنے کے آداب و فوائد بتا رہے ہیں اچھی بات ہے یہ باتیں بھی بتائیں لیکن آلات رقص و سرور پر بھی تو کچھ کلام کیجیے
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
میں ان بعض خطبا سے کہنا چاہوں گا جو ایسی روش کے مرتکب ہیں خدا را دامن حق تھام لیں اور حق بات کہیں خود دار بنیں اسی میں عزت و عافیت ہے رزق اللہ جل و علا دیتا ہے جتنا مقدر میں ہے وہ مل کر ہی رہے گا اب یہ آپ پر منحصر ہے آپ اس کو کس طرح حاصل کریں گے کسی کی چپقلشیں کر کے یا خلوص و للہیت کے ساتھ حق بات کہہ کر !
تقدیر میں جتنا اتنا ہی ملے گا نا
کیوں اتنا پریشاں ہے اے ساقی میخانہ
اگر سب مل کر چاہیں تو برائی کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک سکتے ہیں کوئی نہ کوئی لائحۂ عمل تیار کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔اگر یہی روش رہی اور گانے باجے کھیل تماشے آلات رقص و سرور کو دور نہ کیا گیا اور ممبر رسول سے اس کا رد نہ کیا گیا تو ہر گز ہر گز یہ امید نہ رکھیں کہ ہم پر حضور امام علم و فن کا فیضان برسے گا اور رحمتیں برکتیں نازل ہوں گی یہ تو نہیں ہو گا لیکن ہاں لعنتیں ضرور برسیں گی،
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بیٹھا تھا لکھنے آج میں کچھ درد دل کی بات
پر آنسوؤں سے آنکھ میں پردہ سا چھا گیا
محسوس ہو رہا ہے ہر اک لفظ سے جسیم
خون جگر سے لکھی ہوئی داستان ہے
اللہ جل و علا ہمیں ان خرافات سے محفوظ و مامون رکھے اور صاحب تحریر کی ذات کو داغدار کرنے کے بجائے اپنے افعال قبیحہ شنیعہ کو ترک کرنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

عرس کی آڑ میں شکم پروری

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

عرس کی آڑ میں شکم پروری
ہے ریا کاروں کا چرچا، ہے ریا کاروں کی دھوم
بوریائے فقر بھی اب بے ریا ملتا نہیں
اللہ جل و علا کا یہ احسان عظیم ہے کہ امت محمدیہ کے سر پر خیر امۃ کا تاج زریں رکھا اور اس تاج کو تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر سے مزین و منقش فرمایا جو اس بات کی طرف مشیر ہے کہ ہر مسلمان کو مبلغ ہونا چاہئیے
اور تؤمنون باللہ سے اسے عزت و شوکت عظمت و رفعت عطا فرمائی تاکہ صاحب تاج کا پائے ثبات امر بالمعروف و النھی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کے بجائے دنیا کے مال و منال دولت و زر کی وجہ سے قعر مذلت میں جا نہ گرے،
کیوں کہ جو صاحب تاج ہوتا ہے وہ قوم کا بادشاہ ہوتا ہے اور بادشاہ کبھی رعایا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا ہے کیونکہ یہ خلاف شان ہے۔۔۔۔۔۔ رعایا پر اس کا رعب و دبدبہ ہوتا ہے جو وہ حکم دیتا ہے رعایا اس پر عمل کرتی ہے
یہی شان مسلمانوں کی ہے خصوصاً علماء کرام کی کہ انھیں اللہ جل و علا نے منصبِ اولی الامر سے سرفراز فرمایا ہے اور ایمان والوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے
اور ان کی رفعت و عظمت کو اوتوا العلم درجٰت سے آشکار فرمایا یعنی اللہ جل و علا علماء کرام کو قوم کا حاکم بنایا اور قوم کو ان کی اطاعت کا حکم دیا،
لیکن افسوس صد افسوس آج قوم خود کو حاکم سمجھ رہی ہے اور وہ بعض حضرات جو خود کو عالم دین بلکہ علامہ کہلاتے نہیں تھکتے وہ عوام کلأنعام کی پیروی کرتے ہیں ،
حال ہی میں کتنے اعراس ہوئے جن کا پس منظر اور پیش منظر دیکھنے کے بعد آنکھیں حیران و ششدر رہ جاتی ہیں
میں اس وقت خاص طور پر فرزندان پورنیہ سے مخاطب ہو کر اُن باتوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کی وجہ سے دل میں طوفان سا اٹھتا ہے اور کبھی طوفان کے ساتھ ساتھ بارش بھی برستی ہے جس کا اثر آنسوؤں کی شکل میں آنکھوں سے جاری ہوتا ہے اور اپنے اسلاف کی مزارات کی عزت و حرمت پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر دل سے آواز آتی ہے
واعظ قوم کی پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
خصوصاً باز بیریا (صاحب مزار حضور سید شاہ عظمت اللہ علیہ الرحمہ) اور سنگھیا (صاحب مزار امام علم و فن خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ) کے عرس کے احوال کسی کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں جیسے سورج کی روشنی کسی کی آنکھ پوشیدہ نہیں،
فی الحال 28 نومبر 2022ء کو عرس امام علم و فن کا انعقاد ہوا بہت اچھی بات ہے کہ بزرگان دین سے فیضیاب ہونے کے لیے ان کے نام پر عرس اور محفل نور سجانی چاہئیے ،
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ادھر جلسے میں خطبا پر زوش ولولہ انگیز تقریر کرتے ہیں اور دوسری طرف رقص و سرور گانے بجانے کا بازار گرم رہتا ہے
ایک طرف شعرا بلبل کی طرح چہک چہک کر نعت و منقبت گنگناتے ہیں تو دوسری طرف نو جوان طبقہ اسی میدان میں اسی رات میں آلاتِ رقص و سرور میں ناچتے گاتے اور کار فحش میں ملوث نظر آتے ہیں
اب سوال یہ اٹھتا ہے کیا نو جوان طبقہ ان شیطانی آلاتِ رقص و سرور کو دیکھ کر جلسہ گاہ میں بیٹھیں گے ؟
اس پہ بھی یہ شکوہ ہے سامعین جلسہ گاہ میں نظر نہیں آتے ہیں صرف گھومتے رہتے ہیں آخر گھومنے کا سامان انھیں کس نے مہیا کیا؟
اس طرح کی شیطانی آلات کو دیکھ کر کیا نوجوان طبقہ خواہشات نفس کی تکمیل کے لیے ان کی طرف نہیں بڑھیں گے؟
کیا کوئی دانشمند کہہ سکتا ہے کہ اس جلسے کا مقصد اصلاح معاشرہ ہے؟
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس برائی کو فروغ کون دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کمیٹی والے اس کار فحش کو انجام دے رہے ہیں یا اس میں کسی اور کا ہاتھ ہے؟........
اگر بالفرض مان بھی لیا جائے اس سے کمیٹی والوں کا کوئی تعلق نہیں ہے تو انھوں نے اس بلائے عظیم کو روکا کیوں نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔ناچنے گانے بجانے کی کھلی چھوٹ کیوں دی؟
اب قارئین سوچتے ہوں گے گانے بجتے ہیں یہ بات تو واقع کے مطابق ہے لیکن ناچتا کون ہے ؟
تو میں اس کے جواب میں کہنا چاہوں گا کہ بریک ڈانس کسے کہتے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔اس کا نام بریک ڈانس کیوں رکھا؟۔۔۔۔۔۔۔کیا ڈانس کا معنی ناچ نہیں ہے؟۔۔۔۔۔۔بالکل ہے!۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا نام بریک ڈانس (آلۂ رقص) رکھا ہی اس لیے کہ اس میں آدمی کو بٹھا کر نچایا جاتا ہے،
اب قارئین بتائیں کہ اس بریک ڈانس میں کتنوں کی بہنوں کو بٹھا کر نچائی جاتی ہے؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتنے بوڑھے ماں باپ کی عزتیں نچائی جاتی ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں ناچتی ہے اسی عرس کے نام پر آکر ناچتی ہے نا؟
کیا کمیٹی والے اپنی بہنوں کو (آلۂ رقص) بریک ڈانس میں نچاتے ہیں اگر نہیں تو پھر دوسروں کی بیٹیوں اور بہنوں کو نچانے کے لیے عرس کے نام پر میدان لہو و لعب کیوں سجاتے ہیں؟؟؟؟.....اگر ضمیر بیدار ہے تو ہزار بار سوچیے اور خود کو جھنجھوڑیے،
اور اگر خود کمیٹی والے عرس کی آڑ میں اس طرح کے میلے لگواتے ہیں تو کیوں لگواتے ہیں نیکی کمانے کے لیے یا شکم پروری کے لیے؟
رہی بات میلے لگوانے اور گانے بجوانے کی اس سے تو نیکیاں ہر گز نہیں مل سکتی ہے ہاں ایسے افعال قبیحہ شنیعہ کو انجام دینے والوں کے لیے آخرت میں دہکتی ہوئی آگ ہے جس کے لیے تیار رہیں،
جب یہ معلوم ہو گیا کہ یہ افعال قبیحہ نیکیاں کمانے کے لیے نہیں ہو سکتے ہیں تو دوسری بات ماننے پڑے گی کہ یہ شکم پروری کے لیے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اب پوچھنا چاہوں گا کیا اس کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں ہے جس سے شکم پروری ہو سکے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے اسلاف کو اذیت دے کر ہی کمانا ضروری تھا؟
لیکن کیا کیا جائے یہ حضرات بھی مجبور ہیں کیونکہ انھیں حرمت مزارات کو پامال کر کے پیٹ بھرنے کی عادت پڑ گئی ہے اور خود کو خادم مزار کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔۔انھیں خادم تو کجا آدمی کہتے ہوئے بھی آدمی شرما جائے۔۔۔۔
کیا حضور خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ نے یہی درس دیا تھا حاشا للہ۔۔۔۔۔حاشا للہ۔۔۔۔۔۔ہر گز نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔حضور امام علم و فن نے تو دولت و ثروت مال و منال کو ٹھوکر مار دیا اور اپنی زندگی دین اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ،
خود فرماتے ہیں
چنانچہ جس وقت میں بریلی شریف میں تدریسی خدمات پر مامور تھا اس وقت میری تنخواہ میری خرچ سے بہت کم تھی اس لیے میری اہلیہ پورنیہ سے روپے وغیرہ بھیج کر میری مدد کرتی تھی (تحقیقات امام علم و فن ص 13)
ایسے عالم میں بھی جب آپ کو بدایوں شریف میں آپ کے وزن کے مطابق چاندی دینے کی پیشکش کی گئی تو آپ نے منع فرما دیا
آپ خود فرماتے ہیں
کہ وہاں (مدرسہ قادریہ بدایوں شریف میں) ایک ماروتی کار کے علاوہ میرے وزن بھر چاندی دینے کی پیشکش کی گئی تھی جسے میں یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا تھا کہ اتنی دولت اور کار لے کر میں کیا کروں گا؟ یہ پیشکش حضرت تاج الفحول کے صد سالہ جشن کے موقع پر 1998ء میں کی گئی تھی (تحقیقات امام علم و فن ص 11)
قارئین کرام چشم انصاف سے مذکورہ بالا دونوں اقتباس بغور مطالعہ کریں اور حضور امام علم و فن کی عاجزی و انکساری حلم و بردباری پر صدقے جائیں۔۔۔۔۔۔اور بتائیں کیا ایسی نفیس الطبع منکسر المزاج جبل العلم شخصیت کے عرس کی آڑ میں تماشے لگوانے والوں پر اللہ کی رحمتیں برسیں گی؟
علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ شرح الصدور بشرح احوال الموتی و القبور میں ایک حدیث شریف نقل فرماتے ہیں،
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان المیت یؤذیہ فی قبرہ ما یؤذیہ فی بیتہ؛ یعنی جو چیز میت کو گھر میں تکلیف دیتی ہے وہ اسے قبر میں بھی تکلیف دیتی ہے (شرح الصدور بشرح احوال الموتی و القبور ص 505 بحوالہ فردوس الاخبار 120/1 حدیث: 749)
قارئین کرام فیصلہ کریں کیا حضور امام علم و فن جب بقید حیات تھے تو ان افعال قبیحہ سے ان کو اذیت نہیں پہنچتی تھی؟۔۔۔۔۔۔پہچتی تھی۔۔۔۔بالکل پہنچتی تھی۔۔۔۔۔اس کی نظیر ٹی وی کی تحقیق پڑھ لیجیے جب ٹی وی کے عدم جواز پر آپ اس طرح متصلب فی الدین رہے تو ان آلات رقص و سرور کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہوتا؟ سوچیے اور خوب سوچیے
اگر حضور امام علم و فن دور حاضر کا یہ ناچ گانے بجانے والا منظر دیکھ لیتے تو وصیت فرماتے مجھے یہاں دفن مت کرنا ورنہ مجھے اذیت پہنچے گی اور خدام نما لٹیرے شکم پروری میں لگے رہیں گے
آج بھی وقت ہے توبہ کر کے راہ راست پر آجائیں،
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
کل مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
یہ باتیں تو عوام اور کمیٹی والوں سے متعلق تھیں لیکن اس برائی میں وہ حضرات بھی برابر کے شریک ہیں جو اسی رات اسی میدان میں ممبر رسول پر بیٹھ کر تقریر تو کرتے ہیں لیکن ان آلاتِ رقص و سرور اور شکم پروری پر کچھ نہیں بولتے ہیں کیا یہ حضرات اس شعر کے مصداق نہیں ہیں،؟
در پیش ہیں دونوں کو سوال اپنے شکم کا
ایک اپنی خودی ایک خدا بیچ رہا ہے
کئی سالوں سے ان آلاتِ و رقص و سرور کا میلا لگتا ہے لیکن کس نے ابھی تک اس کے خلاف تقریر کی؟
کیا امر بالمعروف و النھی عن المنکر یہی ہے جو برائی سامنے ہے ( برائی بھی ایسی جس کا ارتکاب کرنا حرام ہے ) اس کو چھوڑ کر مستحبات پر تقریر کرتے رہیں کبھی بیگ سے پلیٹ نکال کر دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں پلیٹ چاٹ کر کھانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔کیا خطیب صاحب کی نظر میلے میں لگے ہوئے آسمان کو چھوتے ہوئے الو چرخا پر نہیں پڑی؟.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گانے بجانے کی آواز سماعتوں کی دہلیز سے نہیں ٹکرائی؟.........۔ بریک ڈانس کے تماشے نظر نہیں آئے؟۔۔۔۔۔۔خطیب صاحب اس پر کیوں نہیں بولے؟..... خاموش کیوں رہ گئے؟.........جب کہ یہ سب حرام ہے لیکن خطیب صاحب کو تو سوال اپنے شکم کا ہے پلیٹ چاٹنے کے آداب و فوائد بتا رہے ہیں اچھی بات ہے یہ باتیں بھی بتائیں لیکن آلات رقص و سرور پر بھی تو کچھ کلام کیجیے
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
میں ان بعض خطبا سے کہنا چاہوں گا جو ایسی روش کے مرتکب ہیں خدا را دامن حق تھام لیں اور حق بات کہیں خود دار بنیں اسی میں عزت و عافیت ہے رزق اللہ جل و علا دیتا ہے جتنا مقدر میں ہے وہ مل کر ہی رہے گا اب یہ آپ پر منحصر ہے آپ اس کو کس طرح حاصل کریں گے کسی کی چپقلشیں کر کے یا خلوص و للہیت کے ساتھ حق بات کہہ کر !
تقدیر میں جتنا اتنا ہی ملے گا نا
کیوں اتنا پریشاں ہے اے ساقی میخانہ
اگر سب مل کر چاہیں تو برائی کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک سکتے ہیں کوئی نہ کوئی لائحۂ عمل تیار کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔اگر یہی روش رہی اور گانے باجے کھیل تماشے آلات رقص و سرور کو دور نہ کیا گیا اور ممبر رسول سے اس کا رد نہ کیا گیا تو ہر گز ہر گز یہ امید نہ رکھیں کہ ہم پر حضور امام علم و فن کا فیضان برسے گا اور رحمتیں برکتیں نازل ہوں گی یہ تو نہیں ہو گا لیکن ہاں لعنتیں ضرور برسیں گی،
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
بیٹھا تھا لکھنے آج میں کچھ درد دل کی بات
پر آنسوؤں سے آنکھ میں پردہ سا چھا گیا
محسوس ہو رہا ہے ہر اک لفظ سے جسیم
خون جگر سے لکھی ہوئی داستان ہے
اللہ جل و علا ہمیں ان خرافات سے محفوظ و مامون رکھے اور صاحب تحریر کی ذات کو داغدار کرنے کے بجائے اپنے افعال قبیحہ شنیعہ کو ترک کرنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
49
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

لنگر اور کتاب

کیا قوم مَلِک سید ہے؟

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢