صلی اللہ علی محمد
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط دوم)
تحقیق و تعاقب

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط دوم)

✍️ Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط دوم)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

آرٹیفیشل جیولری کسے کہتے ہیں؟ اور کیا صرف عام ہونا عمومِ بلویٰ ہے؟

گزشتہ قسط میں عمومِ بلویٰ کی حقیقت، اس کی شرائط اور حدود پر گفتگو کی گئی تھی۔ اس قسط میں سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آرٹیفیشل جیولری سے مراد کیا ہے؟ کیونکہ عام لوگوں میں اس بارے میں بھی کافی ابہام پایا جاتا ہے۔

آرٹیفیشل جیولری کہتے کسے ہیں؟

عام عرف میں Artificial Jewellery یا مصنوعی زیورات سے مراد ایسے زیورات ہیں جو خالص سونے یا چاندی کے بجائے دوسری دھاتوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔اس میں بالخصوص: لوہا ،تانبا ،پیتل زنک اور دیگر غیر قیمتی دھاتیں سے بنے ہوئے کڑے، چوڑیاں، ہار، بالیاں، جھمکے، پازیب، انگوٹھیاں، چین اور دیگر زیورات شامل ہوتے ہیں۔
البتہ پلاسٹک، کانچ، کپڑے یا لکڑی سے بنی ہوئی اشیاء کو اسی حکم میں داخل کرنا درست نہیں، کیونکہ ان کا حکم الگ ہے اور فقہائے کرام نے ان میں سے بعض کے استعمال کی صراحتاً اجازت فرمائی ہے۔
چنانچہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : سونے چاندی کے علاوہ کانچ (یعنی شیشہ ) اور پلاسٹک کا زیور بھی عورتوں کو پہنا جائز ہے اور دوسری تمام دھاتوں کا زیور پہنا جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی عند ربه القوی سے سوال کیا گیا کہ عورتوں کو کانچ کی چوڑیاں پہننا جائز ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں آپ تحریر فرماتے ہیں جائز ہیں: لعدم المنع الشرعي بلکہ عورت کیلئے سنگار کی نیت سے مستحب و انما الاعمال بالنيات . ( بخاری شریف جلد اول صفحہ ۲) بلکہ شوہر یا ماں باپ کا حکم ہو تو واجب۔ فحرمة العقوق و لوجوب طاعة الزوج فيما يرجع الى الزوجية . اهـ ( فتاوی رضویہ جلد نہم نصف اول صفحه ۲۳۵) اور دھاتوں کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: چاندی سونے کے سوالو ہے، پیتل ، تانبے رنگ کا زیور عورتوں کو بھی مباح نہیں اور تلیھا (فتاوی رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ ۱۴) اور تحریر فرماتے ہیں : ” تانبا ، پیتل کا نس لوہا تو عورتوں کو بھی پہننا منوع ہے اور اس سے نماز ان کی بھی مکروہ ہے ۔ اھ (فتاوی رضویہ جلد ۹ نصف آخر صفحہ ۲۷۹) اور خاتم محققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی قدس سره السلامی تحریر فرماتے ہیں: التختم بالحديد و الصفر و النحاس والرصاص مكروه للرجال و النساء اه ." ( در مختار جلد پرچم صفحه ۲۵۳)
لہذا کانچ (یعنی شیشہ ) اور پلاسٹک کی چوڑیاں پہنا اور پہن کر نماز پڑھنا صحیح و درست ہے۔ اور سونے چاندی کے علاوہ دوسری تمام دھاتوں کی چوڑیاں پہنانا جائز اور پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے (فتاویٰ فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 177)
لہٰذا موجودہ بحث میں اصل محلِ نزاع دوسری دھاتوں سے بنے ہوئے مصنوعی زیورات ہیں، نہ کہ ہر وہ چیز جسے بازار میں عرفاً آرٹیفیشل کہہ دیا جاتا ہے۔

سونے یا چاندی کی تہہ چڑھانے کی صورت

یہاں ایک اور اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر لوہے، پیتل، تانبے وغیرہ کے زیور پر سونے یا چاندی کی ایسی مکمل تہہ یا خول چڑھا دیا جائے کہ اصل دھات چھپ جائے، تو فقہی کتب میں اس کی الگ صورت بیان ہوئی ہے۔
فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے: لا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوى عليه أو ألبس بفضة حتى لا يرى. یعنی لوہے کی انگوٹھی پر اس طرح چاندی چڑھانے میں حرج نہیں کہ لوہا نظر نہ آئے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، جلد 8، صفحہ 127)
لیکن محض سونے یا چاندی کا پانی، معمولی ملمع یا باریک قلعی چڑھا دینے سے اصل دھات کا حکم ختم نہیں ہوتا۔
تبیین الحقائق میں ہے:
أما التمويه الذي لا يخلص فلا بأس به بالإجماع، لأنه مستهلك فلا عبرة ببقائه لوناً.اور فتاویٰ رضویہ میں سونے کے پانی سے متعلق فرمایا گیا:* سونے یا چاندی کا پانی وجہ ممانعت نہیں، ہاں اگر وہ شیء فی نفسہٖ ممنوع ہو تو دوسری بات ہے، جیسے سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھی۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 134)
لہٰذا محض یہ کہنا کہ زیور پر سونے یا چاندی کی رنگت موجود ہے، کافی نہیں؛ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس پر صرف پانی/ملمع ہے یا واقعی ایسی تہہ اور خول ہے جس سے اصل دھات چھپ گئی ہے۔

آرٹیفیشل جیولری کے بارے میں شرعی کونسل آف انڈیا کا فیصلہ

یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہندوستان ہی میں، مرکزِ عقیدت بریلی شریف میں شرعی کونسل آف انڈیا کے دسویں فقہی سیمینار میں آرٹیفیشل یعنی مصنوعی زیورات کے متعلق باقاعدہ شرعی فیصلہ پیش کیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے میں سونے اور چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا وغیرہ کے استعمال کو ناجائز و مکروہ تحریمی قرار دیا گیا ہے۔
اسی فیصلے میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ان زیورات پر سونے یا چاندی کا صرف پانی یا ملمع کیا گیا ہو تو محض اس سے اصل حکم تبدیل نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ ایسے زیورات کی خرید و فروخت، بنانا اور بنوانا بھی الگ فقہی احکام کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ شرعی کونسل آف انڈیا، بریلی شریف کے دسویں فقہی سیمینار، 2013ء میں پیش کیا گیا۔
یہ حوالہ اس بحث میں اس لیے اہم ہے کہ ہمارا موضوع محض کسی ایک ملک کا عرف نہیں، بلکہ ہندوستان کے اندر ہی بریلی شریف میں منعقد ہونے والے فقہی سیمینار میں اس مسئلہ پر پیش کیا گیا شرعی موقف بھی سامنے رکھنا ہے۔صرف عام ہونا عمومِ بلویٰ نہیں
اب اصل مسئلہ کی طرف آئیے۔ آج بعض حضرات آرٹیفیشل جیولری کے جواز کے لیے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ:
آج کل عورتوں میں آرٹیفیشل جیولری بہت عام ہے، لہٰذا اس میں عمومِ بلویٰ پایا جاتا ہے۔لیکن اصولی اعتبار سے یہ استدلال مکمل نہیں کیونکہ کسی چیز کا عام ہوجانا اور عمومِ بلویٰ کا متحقق ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔
عمومِ بلویٰ کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ: کتنی عورتیں اسے استعمال کرتی ہیں؟بازار میں کتنی عام ہے؟کتنی دکانوں پر ملتی ہے؟کتنے عرصے سے رائج ہے؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ:کیا عوام و خواص دونوں اس میں اس طرح مبتلا ہیں کہ اس سے بچنا واقعی معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو؟
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے اس پوری بحث میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

عوام و خواص دونوں کا ابتلاء

فتاویٰ حافظ ملت میں عمومِ بلویٰ کے متعلق صراحت ہے:اس کے پیش نظر اس میں ابتلائے عوام تو ہے لیکن عمومِ بلویٰ یا ابتلائے عام نہیں۔ عمومِ بلویٰ وہاں صادق آتا ہے جہاں عوام و خواص دونوں مبتلا ہوں اور گناہ سے بچنا دشوار ہو، اسی کو ابتلائے عام بھی کہا جاتا ہے۔(فتاویٰ حافظ ملت، جلد 2، صفحہ 75)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ محض عوام میں کسی چیز کا عام ہونا کافی نہیں۔
بلکہ دیکھا جائے گا کہ:
عوام بھی مبتلا ہوں، خواص بھی مبتلا ہوں، اور اس سے بچنا بھی حقیقی طور پر دشوار ہو۔ لہٰذا اگر کوئی چیز معاشرے میں بہت عام ہو، لیکن اس سے اجتناب کرنے میں کوئی قابلِ ذکر حرج نہ ہو، تو صرف اس کثرتِ استعمال کی بنیاد پر اسے عمومِ بلویٰ قرار دینا محلِ نظر ہوگا۔
عمومِ بلویٰ اور حرج کا باہمی تعلق
عمومِ بلویٰ کے مفہوم میں ہی یہ بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ کسی ممنوع یا محلِ ابتلاء چیز سے بچنا مکلف کے لیے دشوار ہوجائے۔
لہٰذا یہ کہنا کافی نہیں کہ:
فلاں زیور ہر جگہ ملتا ہے اور بہت سی خواتین پہنتی ہیں۔بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ: اگر خواتین اس زیور کو چھوڑ دیں تو ان پر ایسا معتد بہ حرج، مشقت یا غیر معمولی دشواری لازم آئے گی جسے شرعاً نظر انداز نہ کیا جاسکے۔
اگر محض زینت، فیشن، لباس کی مناسبت یا کم قیمت ہونے کی وجہ سے لوگ اسے استعمال کرتے ہوں، تو یہ سوال اپنی جگہ باقی رہے گا کہ اس سے بچنا شرعی اعتبار سے واقعی دشوار ہے یا صرف پسندیدہ اور رائج چیز چھوڑنا دشوار محسوس ہوتا ہے؟یہ دونوں چیزیں ایک نہیں ہیں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کا اصول

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولسنا نعني بهذا أن عامة المسلمين إذا ابتلوا بحرام حل، بل الأمر أن عموم البلوى من موجبات التخفيف شرعاً...
ترجمہ: ہماری مراد یہ نہیں کہ اگر عام مسلمان کسی حرام کام میں مبتلا ہوجائیں تو وہ حلال ہوجائے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمومِ بلویٰ شرعاً تخفیف کا سبب ہے۔ پھر فرماتے ہیں: فإذا وقع ذلك في مسألة مختلف فيها ترجح جانب اليسر صوناً للمسلمين عن العسر.
ترجمہ: جب کسی مختلف فیہ مسئلہ میں عمومِ بلویٰ پیدا ہوجائے تو مسلمانوں کو مشقت سے بچانے کے لیے آسانی والے قول کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔
اور مزید فرماتے ہیں: ولا يخفى على خادم الفقه أن هذا كما هو جار في باب الطهارة والنجاسة كذلك في باب الإباحة والحرمة.
ترجمہ: فقہ کے ادنیٰ طالب علم پر بھی مخفی نہیں کہ یہ اصول جس طرح طہارت و نجاست کے باب میں جاری ہے، اسی طرح اباحت و حرمت کے باب میں بھی جاری ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 25، صفحات 89 تا 91)
یہ عبارت اس بحث میں انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ خود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واضح فرمایا کہ عمومِ بلویٰ بذاتِ خود حرام کو حلال نہیں کرتا، بلکہ جب مسئلہ مختلف فیہ ہو اور واقعی عمومِ بلویٰ و مشقت موجود ہو تو تخفیف اور آسانی والے قول کی طرف رجوع کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔

آرٹیفیشل جیولری کے بارے میں معاصر فتاویٰ

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں معاصر اہلِ علم کے فتاویٰ یکساں نہیں ہیں۔حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان محدث بریلوی نور اللہ مرقدہ کی ایک کلپ بھی گردش میں آئی، جس میں آپ سے سوال کیا گیا:کیا عورتوں کو دورِ حاضر میں آرٹیفیشل جیولری پہننا جائز ہے؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ آرٹیفیشل جیولری پہننا جائز نہیں، اور اسے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہے۔
اسی طرح سراج الفقہاء مفتی نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ سے بھی ایک سوال و جواب کے سیشن میں آرٹیفیشل جیولری کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ نے بھی اس کے پہننے کو ناجائز اور پہن کر نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ قرار دیا۔
یہ اقوال اس لیے ذکر کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ واضح رہے کہ معاصر اہلِ علم میں اس مسئلہ کے متعلق ایک ہی موقف نہیں ہے، بلکہ عدمِ جواز کا موقف بھی موجود ہے اور جواز کا موقف بھی بعض اہلِ علم کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔
اصل تحقیقی سوال کیا ہے؟ لہٰذا اب اصل بحث یہ نہیں کہ: کیا آج کل آرٹیفیشل جیولری عام ہے؟بلکہ اصل سوال یہ ہے: کیا اس کا عام ہونا شرعی اصطلاح میں عمومِ بلویٰ کے درجے تک پہنچا ہے؟
اور اس کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:
1. عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہوں۔
2. ابتلاء واقعی عمومی ہو۔
3. اس سے بچنا معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو۔
4. محض کثرتِ استعمال کو عمومِ بلویٰ نہ سمجھا جائے۔
5. مسئلہ فی نفسہٖ ایسا مختلف فیہ ہو جس میں شرعی اصولوں کے مطابق تخفیف کی گنجائش ہو۔
6. جس علاقے میں جواز کا فتویٰ دیا جا رہا ہے، وہاں واقعی یہی حالات اور یہی علت موجود ہو۔
محض یہ کہنا کہ آج کل بہت عام ہے، عمومِ بلویٰ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

حاصلِ کلام

آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں سب سے پہلے محلِ نزاع کی تعیین ضروری ہے۔پلاسٹک اور کانچ کی چوڑیاں ایک الگ مسئلہ ہیں، جبکہ لوہا، پیتل، تانبا اور دیگر دھاتوں سے بنے ہوئے مصنوعی زیورات الگ مسئلہ ہیں۔اسی طرح سونے یا چاندی کی مکمل تہہ/خول اور محض سونے یا چاندی کا پانی یا ملمع بھی ایک حکم نہیں رکھتا۔
اس کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا ان دھاتی مصنوعی زیورات کے استعمال کی کثرت واقعی شرعی عمومِ بلویٰ ہے، یا صرف عرفی کثرت اور رواج ہے؟ کیونکہ عمومِ بلویٰ کا مدار صرف عام ہونے پر نہیں بلکہ عمومی ابتلاء، عوام و خواص کی گرفت اور اس سے بچنے میں معتد بہ حرج و مشقت پر ہے۔ لہٰذا کسی دوسرے ملک یا علاقے میں محض عام استعمال کو دیکھ کر ہندوستان یا نیپال میں بھی عمومِ بلویٰ ثابت کردینا مزید تحقیق کا محتاج ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ان شاء اللہ الرحمن قسط سوم میں اسی اہم سوال پر گفتگو ہوگی کہ ایک ملک یا علاقے کا عرف، تعامل اور عمومِ بلویٰ کیا دوسرے ملک یا علاقے پر خود بخود منطبق کیا جا سکتا ہے؟ اور اس کے ساتھ ہندوستان کے اندر موجود فقہی نظائر، عرف، شعار اور مقامی حالات کی روشنی میں اس مسئلہ کو مزید واضح کیا جائے گا۔
رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
28 صفر المظفر 1448ھ 11 اگست 2026ء بانی و صدر: محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار{ خطیب و امام سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا ضلع بالاگھاٹ ایم پی }

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط دوم)

مضمون نگار: Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط دوم)
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد!

آرٹیفیشل جیولری کسے کہتے ہیں؟ اور کیا صرف عام ہونا عمومِ بلویٰ ہے؟

گزشتہ قسط میں عمومِ بلویٰ کی حقیقت، اس کی شرائط اور حدود پر گفتگو کی گئی تھی۔ اس قسط میں سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آرٹیفیشل جیولری سے مراد کیا ہے؟ کیونکہ عام لوگوں میں اس بارے میں بھی کافی ابہام پایا جاتا ہے۔

آرٹیفیشل جیولری کہتے کسے ہیں؟

عام عرف میں Artificial Jewellery یا مصنوعی زیورات سے مراد ایسے زیورات ہیں جو خالص سونے یا چاندی کے بجائے دوسری دھاتوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔اس میں بالخصوص: لوہا ،تانبا ،پیتل زنک اور دیگر غیر قیمتی دھاتیں سے بنے ہوئے کڑے، چوڑیاں، ہار، بالیاں، جھمکے، پازیب، انگوٹھیاں، چین اور دیگر زیورات شامل ہوتے ہیں۔
البتہ پلاسٹک، کانچ، کپڑے یا لکڑی سے بنی ہوئی اشیاء کو اسی حکم میں داخل کرنا درست نہیں، کیونکہ ان کا حکم الگ ہے اور فقہائے کرام نے ان میں سے بعض کے استعمال کی صراحتاً اجازت فرمائی ہے۔
چنانچہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : سونے چاندی کے علاوہ کانچ (یعنی شیشہ ) اور پلاسٹک کا زیور بھی عورتوں کو پہنا جائز ہے اور دوسری تمام دھاتوں کا زیور پہنا جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی عند ربه القوی سے سوال کیا گیا کہ عورتوں کو کانچ کی چوڑیاں پہننا جائز ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں آپ تحریر فرماتے ہیں جائز ہیں: لعدم المنع الشرعي بلکہ عورت کیلئے سنگار کی نیت سے مستحب و انما الاعمال بالنيات . ( بخاری شریف جلد اول صفحہ ۲) بلکہ شوہر یا ماں باپ کا حکم ہو تو واجب۔ فحرمة العقوق و لوجوب طاعة الزوج فيما يرجع الى الزوجية . اهـ ( فتاوی رضویہ جلد نہم نصف اول صفحه ۲۳۵) اور دھاتوں کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: چاندی سونے کے سوالو ہے، پیتل ، تانبے رنگ کا زیور عورتوں کو بھی مباح نہیں اور تلیھا (فتاوی رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ ۱۴) اور تحریر فرماتے ہیں : ” تانبا ، پیتل کا نس لوہا تو عورتوں کو بھی پہننا منوع ہے اور اس سے نماز ان کی بھی مکروہ ہے ۔ اھ (فتاوی رضویہ جلد ۹ نصف آخر صفحہ ۲۷۹) اور خاتم محققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی قدس سره السلامی تحریر فرماتے ہیں: التختم بالحديد و الصفر و النحاس والرصاص مكروه للرجال و النساء اه ." ( در مختار جلد پرچم صفحه ۲۵۳)
لہذا کانچ (یعنی شیشہ ) اور پلاسٹک کی چوڑیاں پہنا اور پہن کر نماز پڑھنا صحیح و درست ہے۔ اور سونے چاندی کے علاوہ دوسری تمام دھاتوں کی چوڑیاں پہنانا جائز اور پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے (فتاویٰ فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 177)
لہٰذا موجودہ بحث میں اصل محلِ نزاع دوسری دھاتوں سے بنے ہوئے مصنوعی زیورات ہیں، نہ کہ ہر وہ چیز جسے بازار میں عرفاً آرٹیفیشل کہہ دیا جاتا ہے۔

سونے یا چاندی کی تہہ چڑھانے کی صورت

یہاں ایک اور اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر لوہے، پیتل، تانبے وغیرہ کے زیور پر سونے یا چاندی کی ایسی مکمل تہہ یا خول چڑھا دیا جائے کہ اصل دھات چھپ جائے، تو فقہی کتب میں اس کی الگ صورت بیان ہوئی ہے۔
فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے: لا بأس بأن يتخذ خاتم حديد قد لوى عليه أو ألبس بفضة حتى لا يرى. یعنی لوہے کی انگوٹھی پر اس طرح چاندی چڑھانے میں حرج نہیں کہ لوہا نظر نہ آئے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، جلد 8، صفحہ 127)
لیکن محض سونے یا چاندی کا پانی، معمولی ملمع یا باریک قلعی چڑھا دینے سے اصل دھات کا حکم ختم نہیں ہوتا۔
تبیین الحقائق میں ہے:
أما التمويه الذي لا يخلص فلا بأس به بالإجماع، لأنه مستهلك فلا عبرة ببقائه لوناً.اور فتاویٰ رضویہ میں سونے کے پانی سے متعلق فرمایا گیا:* سونے یا چاندی کا پانی وجہ ممانعت نہیں، ہاں اگر وہ شیء فی نفسہٖ ممنوع ہو تو دوسری بات ہے، جیسے سونے کا ملمع کی ہوئی تانبے کی انگوٹھی۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 134)
لہٰذا محض یہ کہنا کہ زیور پر سونے یا چاندی کی رنگت موجود ہے، کافی نہیں؛ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس پر صرف پانی/ملمع ہے یا واقعی ایسی تہہ اور خول ہے جس سے اصل دھات چھپ گئی ہے۔

آرٹیفیشل جیولری کے بارے میں شرعی کونسل آف انڈیا کا فیصلہ

یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہندوستان ہی میں، مرکزِ عقیدت بریلی شریف میں شرعی کونسل آف انڈیا کے دسویں فقہی سیمینار میں آرٹیفیشل یعنی مصنوعی زیورات کے متعلق باقاعدہ شرعی فیصلہ پیش کیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے میں سونے اور چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا وغیرہ کے استعمال کو ناجائز و مکروہ تحریمی قرار دیا گیا ہے۔
اسی فیصلے میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ان زیورات پر سونے یا چاندی کا صرف پانی یا ملمع کیا گیا ہو تو محض اس سے اصل حکم تبدیل نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ ایسے زیورات کی خرید و فروخت، بنانا اور بنوانا بھی الگ فقہی احکام کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ شرعی کونسل آف انڈیا، بریلی شریف کے دسویں فقہی سیمینار، 2013ء میں پیش کیا گیا۔
یہ حوالہ اس بحث میں اس لیے اہم ہے کہ ہمارا موضوع محض کسی ایک ملک کا عرف نہیں، بلکہ ہندوستان کے اندر ہی بریلی شریف میں منعقد ہونے والے فقہی سیمینار میں اس مسئلہ پر پیش کیا گیا شرعی موقف بھی سامنے رکھنا ہے۔صرف عام ہونا عمومِ بلویٰ نہیں
اب اصل مسئلہ کی طرف آئیے۔ آج بعض حضرات آرٹیفیشل جیولری کے جواز کے لیے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ:
آج کل عورتوں میں آرٹیفیشل جیولری بہت عام ہے، لہٰذا اس میں عمومِ بلویٰ پایا جاتا ہے۔لیکن اصولی اعتبار سے یہ استدلال مکمل نہیں کیونکہ کسی چیز کا عام ہوجانا اور عمومِ بلویٰ کا متحقق ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔
عمومِ بلویٰ کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ: کتنی عورتیں اسے استعمال کرتی ہیں؟بازار میں کتنی عام ہے؟کتنی دکانوں پر ملتی ہے؟کتنے عرصے سے رائج ہے؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ:کیا عوام و خواص دونوں اس میں اس طرح مبتلا ہیں کہ اس سے بچنا واقعی معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو؟
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے اس پوری بحث میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

عوام و خواص دونوں کا ابتلاء

فتاویٰ حافظ ملت میں عمومِ بلویٰ کے متعلق صراحت ہے:اس کے پیش نظر اس میں ابتلائے عوام تو ہے لیکن عمومِ بلویٰ یا ابتلائے عام نہیں۔ عمومِ بلویٰ وہاں صادق آتا ہے جہاں عوام و خواص دونوں مبتلا ہوں اور گناہ سے بچنا دشوار ہو، اسی کو ابتلائے عام بھی کہا جاتا ہے۔(فتاویٰ حافظ ملت، جلد 2، صفحہ 75)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ محض عوام میں کسی چیز کا عام ہونا کافی نہیں۔
بلکہ دیکھا جائے گا کہ:
عوام بھی مبتلا ہوں، خواص بھی مبتلا ہوں، اور اس سے بچنا بھی حقیقی طور پر دشوار ہو۔ لہٰذا اگر کوئی چیز معاشرے میں بہت عام ہو، لیکن اس سے اجتناب کرنے میں کوئی قابلِ ذکر حرج نہ ہو، تو صرف اس کثرتِ استعمال کی بنیاد پر اسے عمومِ بلویٰ قرار دینا محلِ نظر ہوگا۔
عمومِ بلویٰ اور حرج کا باہمی تعلق
عمومِ بلویٰ کے مفہوم میں ہی یہ بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ کسی ممنوع یا محلِ ابتلاء چیز سے بچنا مکلف کے لیے دشوار ہوجائے۔
لہٰذا یہ کہنا کافی نہیں کہ:
فلاں زیور ہر جگہ ملتا ہے اور بہت سی خواتین پہنتی ہیں۔بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ: اگر خواتین اس زیور کو چھوڑ دیں تو ان پر ایسا معتد بہ حرج، مشقت یا غیر معمولی دشواری لازم آئے گی جسے شرعاً نظر انداز نہ کیا جاسکے۔
اگر محض زینت، فیشن، لباس کی مناسبت یا کم قیمت ہونے کی وجہ سے لوگ اسے استعمال کرتے ہوں، تو یہ سوال اپنی جگہ باقی رہے گا کہ اس سے بچنا شرعی اعتبار سے واقعی دشوار ہے یا صرف پسندیدہ اور رائج چیز چھوڑنا دشوار محسوس ہوتا ہے؟یہ دونوں چیزیں ایک نہیں ہیں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کا اصول

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولسنا نعني بهذا أن عامة المسلمين إذا ابتلوا بحرام حل، بل الأمر أن عموم البلوى من موجبات التخفيف شرعاً...
ترجمہ: ہماری مراد یہ نہیں کہ اگر عام مسلمان کسی حرام کام میں مبتلا ہوجائیں تو وہ حلال ہوجائے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمومِ بلویٰ شرعاً تخفیف کا سبب ہے۔ پھر فرماتے ہیں: فإذا وقع ذلك في مسألة مختلف فيها ترجح جانب اليسر صوناً للمسلمين عن العسر.
ترجمہ: جب کسی مختلف فیہ مسئلہ میں عمومِ بلویٰ پیدا ہوجائے تو مسلمانوں کو مشقت سے بچانے کے لیے آسانی والے قول کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔
اور مزید فرماتے ہیں: ولا يخفى على خادم الفقه أن هذا كما هو جار في باب الطهارة والنجاسة كذلك في باب الإباحة والحرمة.
ترجمہ: فقہ کے ادنیٰ طالب علم پر بھی مخفی نہیں کہ یہ اصول جس طرح طہارت و نجاست کے باب میں جاری ہے، اسی طرح اباحت و حرمت کے باب میں بھی جاری ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 25، صفحات 89 تا 91)
یہ عبارت اس بحث میں انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ خود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واضح فرمایا کہ عمومِ بلویٰ بذاتِ خود حرام کو حلال نہیں کرتا، بلکہ جب مسئلہ مختلف فیہ ہو اور واقعی عمومِ بلویٰ و مشقت موجود ہو تو تخفیف اور آسانی والے قول کی طرف رجوع کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔

آرٹیفیشل جیولری کے بارے میں معاصر فتاویٰ

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں معاصر اہلِ علم کے فتاویٰ یکساں نہیں ہیں۔حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان محدث بریلوی نور اللہ مرقدہ کی ایک کلپ بھی گردش میں آئی، جس میں آپ سے سوال کیا گیا:کیا عورتوں کو دورِ حاضر میں آرٹیفیشل جیولری پہننا جائز ہے؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ آرٹیفیشل جیولری پہننا جائز نہیں، اور اسے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ ہے۔
اسی طرح سراج الفقہاء مفتی نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ سے بھی ایک سوال و جواب کے سیشن میں آرٹیفیشل جیولری کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ نے بھی اس کے پہننے کو ناجائز اور پہن کر نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی، واجب الاعادہ قرار دیا۔
یہ اقوال اس لیے ذکر کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ واضح رہے کہ معاصر اہلِ علم میں اس مسئلہ کے متعلق ایک ہی موقف نہیں ہے، بلکہ عدمِ جواز کا موقف بھی موجود ہے اور جواز کا موقف بھی بعض اہلِ علم کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔
اصل تحقیقی سوال کیا ہے؟ لہٰذا اب اصل بحث یہ نہیں کہ: کیا آج کل آرٹیفیشل جیولری عام ہے؟بلکہ اصل سوال یہ ہے: کیا اس کا عام ہونا شرعی اصطلاح میں عمومِ بلویٰ کے درجے تک پہنچا ہے؟
اور اس کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:
1. عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہوں۔
2. ابتلاء واقعی عمومی ہو۔
3. اس سے بچنا معتد بہ حرج و مشقت کا باعث ہو۔
4. محض کثرتِ استعمال کو عمومِ بلویٰ نہ سمجھا جائے۔
5. مسئلہ فی نفسہٖ ایسا مختلف فیہ ہو جس میں شرعی اصولوں کے مطابق تخفیف کی گنجائش ہو۔
6. جس علاقے میں جواز کا فتویٰ دیا جا رہا ہے، وہاں واقعی یہی حالات اور یہی علت موجود ہو۔
محض یہ کہنا کہ آج کل بہت عام ہے، عمومِ بلویٰ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

حاصلِ کلام

آرٹیفیشل جیولری کے مسئلہ میں سب سے پہلے محلِ نزاع کی تعیین ضروری ہے۔پلاسٹک اور کانچ کی چوڑیاں ایک الگ مسئلہ ہیں، جبکہ لوہا، پیتل، تانبا اور دیگر دھاتوں سے بنے ہوئے مصنوعی زیورات الگ مسئلہ ہیں۔اسی طرح سونے یا چاندی کی مکمل تہہ/خول اور محض سونے یا چاندی کا پانی یا ملمع بھی ایک حکم نہیں رکھتا۔
اس کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا ان دھاتی مصنوعی زیورات کے استعمال کی کثرت واقعی شرعی عمومِ بلویٰ ہے، یا صرف عرفی کثرت اور رواج ہے؟ کیونکہ عمومِ بلویٰ کا مدار صرف عام ہونے پر نہیں بلکہ عمومی ابتلاء، عوام و خواص کی گرفت اور اس سے بچنے میں معتد بہ حرج و مشقت پر ہے۔ لہٰذا کسی دوسرے ملک یا علاقے میں محض عام استعمال کو دیکھ کر ہندوستان یا نیپال میں بھی عمومِ بلویٰ ثابت کردینا مزید تحقیق کا محتاج ہے۔
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
ان شاء اللہ الرحمن قسط سوم میں اسی اہم سوال پر گفتگو ہوگی کہ ایک ملک یا علاقے کا عرف، تعامل اور عمومِ بلویٰ کیا دوسرے ملک یا علاقے پر خود بخود منطبق کیا جا سکتا ہے؟ اور اس کے ساتھ ہندوستان کے اندر موجود فقہی نظائر، عرف، شعار اور مقامی حالات کی روشنی میں اس مسئلہ کو مزید واضح کیا جائے گا۔
رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
28 صفر المظفر 1448ھ 11 اگست 2026ء بانی و صدر: محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار{ خطیب و امام سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا ضلع بالاگھاٹ ایم پی }
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi

جان ہے عشقِ مصطفٰی روز فزوں کرے خدا جس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں
62
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 5
Kalam 0
Mufti Sarfraz Ahmad Qadri Amjadi
زمرہ جات

آرٹیفیشل جیولری اور عمومِ بلویٰ: ایک تحقیقی جائزہ (قسط سوم)

آرٹیفیشل جیولری اور عموم بلوی: ایک تحقیقی جائزہ (قسط اول)

حالیہ مضامین

حالیہ 100 مضامین

مضمون نگاران 37

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 97 | Poetry: 9
icon

Muhammad Anas Raza Haami

2 | Articles: 79 | Poetry: 16
icon

محمد شعیب خان نجمیؔ مرکزی

3 | Articles: 49 | Poetry: 41
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 34 | Poetry: 12
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

6 | Articles: 12 | Poetry: 14
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

7 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi

8 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Mufti Ashfaq Aalam Amjadi Alimi

9 | Articles: 7 | Poetry: 0
icon

Md Asjad Husain Subhani

10 | Articles: 5 | Poetry: 0
Authors
37
زمرجات
ادبیات 74
شخصیات اسلاف واخلاف 49
اصلاح معاشرہ 43
تحقیق و تعاقب 29
عقائد و نظریات 26
احوال قوم وملت 23
فقہ وفتاویٰ 21
تاثرات 19
احوال وطن 14
سیرت النبی ﷺ 12
متفرقات 11
ناویل 11
نمایاں مضامین 11
اسلامیات 11
رد دیوبندیت ووہابیت 10
دفاع اہل سنت 10
رد بدمذہباں 6
خیر وخبر 6
رضویات 5
عبادات 5
حکایات 4
تاریخی حقائق 4
مبارک شب وروز 4
ترغیبات 4
فقہ، اصول فقہ 4
حدیث واہمیت حدیث 3
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
معاملات 1
وفیات و تعزیہ جات 1
ماہ و سال 1
روداد مناظرہ 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

اس ٹیگ میں کوئی پوسٹ نہیں ملی۔

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢