صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]
عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]

محل نظر فتوی

بعض مفتیان کرام سے مبحوث عنہ مصرع کے متعلق سائل نے استفتا کیا جو من و عن درج ذیل ہے:
"کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت و مفتیان شریعت درج ذیل شعر کے بارے میں .....
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
بھری بزم میں علماء صلحاء مشایخ اہل سنت کی موجودگی میں حضرت سیدنا مخدوم اشرف علیہ الرحمہ سید التارکین کو اپنا رب اعلان کرنا عند الشرع کیسا ہے ؟ شعر خواں اور اس کو تحسین و آفرین سے داد دینے والوں پر شریعت رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ و بارک وسلم کا کیا حکم نافذ ہوتا ہے ، دلائل شرعیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ، ممنون احسان ہونگا۔"
قارئین اس استفتا کو بغور ملاحظہ فرمائیں اس میں سائل نے یہ دریافت کیا ہے کہ مبحوث عنہ شعر کا پڑھنا اور جو لوگ اس شعر کو سن کر داد و تحسین سے نوازیں، جیسے کہ کھڑے ہو کر نذرانے پیش کریں ان پر شریعت کا کیا حکم نافذ ہوتا ہے ؟
مطلب کفر فقہی، کفر کلامی، حرام، ممنوع، مباح، مستحسن کونسا حکم لگے گا؟
اس پر مفتی صاحب جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
الجواب علمائے ربانیین و ائمہ دین کا یہ اصول ہے کہ اگر کسی شخص کے قول میں ۹۹ احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا ہو تو فرمایا کہ اسلام کی طرف اس قول کا پھیرنا واجب ہے۔ اس کے بعد عبارت بالا کی تائید میں منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر اور فتاوی ہندیہ پھر فتاوی رضویہ شریف سے جزئیات نقل فرماتے ہیں اس کے بعد لکھتے ہیں:
اور مسئولہ شعر کا دوسرا مصرع صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا بظاہر کفر ہے۔ شعر سن کر سب کے سمجھنے میں یہی آتا ہے کہ ہمارا رب یعنی اللہ عز وجل اشرف کی صورت میں ہمیں مل گیا، اور اس کے کفر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اس بنا پر اگر کسی نے شاعر کو کافر کہ دیا تو وہ ماخوذ نہیں۔ جمہور فقہا کا یہی مسلک ہے کہ اگر کسی کلام کا ظاہر معنی کفر ہو تو وہ تکفیر کرتے ہیں۔
نناوے احتمال والی عبارتوں سے تو یہاں بحث ہی نہیں ہے کیونکہ اس مصرع کو کسی نے کفر کلامی پر محمول ہی نہیں کیا کہ اس کی ضرورت پڑے جس سے یہ ثابت کیا جائے کہ مبحوث عنہ مصرع کفر کلامی نہیں ہے کیونکہ اس میں احتمال ہے اسی لیے مفتی صاحب نے ان عبارات کو تحریر کرنے کے بعد فورا اصل مسئلہ یعنی دوسرے مصرع پر کلام فرمایا جس سے پانچ باتیں معلوم ہوتی ہیں:
١: مبحوث عنہ مصرع صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا بظاہر کفر ہے،
٢: شعر سن کر سب کو یعنی عوام خواص سب کو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کی صورت میں رب مل گیا،
٣: اور جب ایسا سمجھ میں آئے تو کفر میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا
٤: اس بنا پر کسی نے شاعر کو کافر کہا تو ماخوذ نہیں
٥: ظاہری معنی کفر ہو تو جمہور فقہا تکفیر کرتے ہیں
قارئین یہ پانچ باتیں اپنے ذہن میں رکھیں اور آگے مطالعہ فرمائیں مفتی صاحب آگے لکھتے ہیں:
مگر اس کلام کی تاویل ممکن ہے اس لیے شاعر ، نعت خواں، سامعین اور داد و تحسین سے نوازنے والوں پر حکم کفر نہیں
اس حکم سے مفتی صاحب کا مزاج شریف بدلا ہوا معلوم ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ مفتی صاحب کے ذہن شریف میں پہلے سے کوئی دوسرا سوال موجود ہو جس پر حکم مرتب فرما رہے ہیں کیونکہ سائل نے یہ سوال ہی کہاں کیا ہے کہ مبحوث عنہ مصرع کفر کلامی ہے یا نہیں ؟
کہ جواب میں یہ کہہ دیا جائے کہ اس میں احتمال ہے تو کفر کلامی نہیں ہوا ، بلکہ
سائل نے تو یہ پوچھا ہے کہ اس پر شریعت کا کیا حکم ہے یعنی شاعر، نعت خواں، سامعین داد و تحسین سے نوازنے والے پر کفر فقہی کا حکم یا حرام کا حکم لگے گا یا نہیں ان پر توبہ تجدید نکاح لازم ہے یا نہیں ؟
لیکن مفتی صاحب نے ان چیزوں کو یکسر چھوڑ دیا اور فرمایا کفر کلامی نہیں ہوا، اور توبہ، رجوع، کفر فقہی، حرام، سامعین، شاعر، داد دینے والے کے حکم کے متعلق خاموش ہو گئے آخر ایسا کیوں؟
اسی لیے مفتی صاحب سے سوال ہے:
ٹھیک ہے کفر کلامی نہیں ہوا تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ کفر فقہی یا حرام کا بھی ارتکاب نہیں ہوا کہ اس کے بعد یہ کہا جائے کہ اس معنی کر اگر مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کو رب کہا جائے تو درست ہوگا -معاذ اللہ-

لغت سے استدلال کا تعاقب

مفتی صاحب بتاویل، شعر کی درستگی پر یوں رقم طراز ہیں: کیوں کہ لغت میں رب کے کئی معانی شمار کرائے ہیں، مثلاً: پروردگار، پرورش کننده، مالک، بادشاه، سید ، سردار ، صاحب، درست کرنے والا۔ اس لیے شعر میں موجود لفظ رب سے مراد سید و سردار ہے ، اس معنی کر حضرت سیدنا مخدوم اشرف علیہ الرحمہ سید التارکین کے لیے لفظ رب کا استعمال کرنا درست ہے۔
-معاذ اللہ رب العالمین-
اقول: قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح لغت سے معانی نکال کر کفریہ شعر کو درست قرار دیا گیا مفتی صاحب کی تاویل صاف لفظوں میں یہی ہے کہ لغت میں رب کا معنی سردار ہے مخدوم اشرف سمنانی رضی اللہ عنہ کو رب کہا تو یہ کہنا درست ہے کیونکہ رب سے مراد باعتبار لغت سردار ہے ۔
مفتی صاحب کی اس تاویل سے تو کفر کا دروازہ اور کھل گیا کہ اب کوئی بھی کسی کو بھی کہے گا تو خدا تو خدا اور جب اس سے پوچھا جائے گا کہ تم ایسا کیوں بول رہے ہو؟‌یہ تو کفر ہے کہ تم فلاں کو خدا کہہ رہے ہو -معاذ اللہ-
تو اب قائل کہے گا معترض سے کہ تم سے سمجھنے میں خطا ہو رہی ہے لگتا ہے تم نہیں جانتے ہو کہ خدا کا مطلب کیا ہوتا ہے خدا کا مطلب ہوتا ہے خود آ جیسا کہ تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا ہے: اور وہ (یعنی خدا) اصل میں خود آ ہے
[فتاوی مصطفویہ ص ٣١] تو میں کسی کو خدا تھوڑی کہہ رہا ہوں میں تو اسے کہہ رہا ہوں جو مجھے بلا رہے ہیں تو خدا یعنی تو خود ہی آجا میں نہیں جاؤں گا ۔
دیکھیے مفتی صاحب کیسی تاویل رہی قائل کی، کیا اب آپ کے اصول کے مطابق قائل کے قول کو درست نہیں کہا جائے گا؟
اور تو خدا کا قائل کفر کی زنجیر سے نکل نہیں جائے گا؟
دوسری مثال: ایسے ہی ایک شخص کہتا ہے انا رسول انا رسول اس سے بکر نے کہا اے بد بخت تو یہ کیا کہتا ہے کیا تو رسول ہے جو ایسا بولتا ہے کیا تجھے نہیں پتہ کہ ختم دور رسالت ہو چکا ہے تو وہ شخص کہتا ہے آپ نہیں سمجھے میرا مطلب ہے میں قاصد ہوں، لگتا ہے آپ لغت نہیں پڑھتے ہیں دیکھیے المعاني میں لکھا ہے: رسول کا معنی قاصد، فرستادہ، پیغمبر
تو بتائیے مفتی صاحب قبلہ یہ تاویل سنی جائے گی اور یہ کہا جائے گا کہ اس معنی کر لفظ رسول بولنا درست ہے؟
تیسری مثال: ایسے ہی کوئی کہے مفتی صاحب عز و جل اور جب اس سے کہا جائے یہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے تو وہ کہے نہیں نہیں میں نے لغوی معنی مراد لیا ہے یعنی عزت و بزرگی تو بتائیے مفتی صاحب آپ کہیں گے کہ پھر تو اس معنی کر درست ہے؟ یا آپ یہ کہیں گے کہ عز و جل یہ اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے اور دوسرے کے لیے بولنا نا جائز و حرام کفر ہے جیسا کہ فتاوی شارح بخاری میں ہے:
بکر اور خالد دونوں پر توبہ اور تجدید ایمان و نکاح واجب ہے۔ جل جلالہ و عم نوالہ کا صیغہ اللہ عز وجل کے ساتھ خاص ہے۔ اس سے ذہن الله عز وجل کی طرف جاتا ہے اور ایسے صیغے جو اللہ عز وجل کے ساتھ خاص ہیں کسی مخلوق کے لیے کہنا کفر ہے۔ مجمع الانہر میں ہے:
اذا اطلق على المخلوق من الاسماء المختصة بالخالق نحو القدوس والقيوم والرحمن وغيرها يكفر
جل جلالہ و عم نوالہ کا صیغہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ یہ اصلی بدیہیات سے ہے۔ اسی لیے خالد نے یہ جملہ سن کر کہا کہ آپ نے مجھے خدا بنا دیا، اس کی نظیر عز وجل ہے ۔ علما نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ شامی میں ہے: ان قولنا عز و جل مخصوص بالله تعالى فلا يقال محمد عز و جل ، و إن كان عزيزاً جليلا، [جلد ١ ص ١٧٩ ]
اب بتائیے مفتی صاحب قبلہ آپ خود لکھ چکے ہیں شعر سن کر سب کے سمجھنے میں یہی آتا ہے کہ ہمارا رب یعنی اللہ عز وجل اشرف کی صورت میں ہمیں مل گیا
اور شارح بخاری علیہ الرحمہ نے بھی اسی مفہوم کا لکھا کہ
اس سے ذہن الله عز وجل کی طرف جاتا ہے
اور حکم کفر توبہ تجدید ایمان کا لگایا لیکن آپ بظاہر کفر تسلیم کرنے کے باوجود صرف لکھتے ہیں کہ کفر کلامی نہ ہوا توبہ تجدید ایمان کسی کا حکم نہیں لگایا بلکہ لغوی معنی لے کر آپ نے فرمایا کہ اس معنی کر درست ہے؟ کیا یہی طرز افتا درست ہے؟
اسی فتوی میں حضور شارح بخاری تحریر فرماتے ہیں:
خالد نے یہ کلمہ کفر سنا، نہ بکر کو ٹوکا نہ ڈانٹا بلکہ اس پر قہقہ لگایا ، یہ دلیل رضا ہے اور رضا بالکفر ، کفر ہے۔ اس لیے خالد پر بھی تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم ہے۔ ارشاد ہے: انكم اذا مثلهم. والله تعالى اعلم. [حوالہ سابق]
اب سوال یہ ہے مفتی صاحب قبلہ! کہ علامہ شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے کس بنا پر توبہ تجدید ایمان کا حکم دیا ؟
یہی نا کہ وہ سنا، سن کر قہقہہ لگایا، ڈانٹا بھی نہیں، یہ دلیل رضا ہےمطلب سننا اور قہقہے لگانا اور نہ ڈانٹنا کفر پر راضی ہونے کی دلیل ہوئی۔
دوسری بات علامہ شارح بخاری علیہ الرحمہ کا حکم بظاہر کفریہ ہونے پر ہے اور آپ نے بھی شعر مبحوث عنہ کو بظاہر کفریہ مانا ہے ۔
تو کیا مفتی صاحب یہاں پر کفریہ شعر کے سننے والے داد دینے والے کھڑے ہو کر نذرانے پیش کرنے والے ہاتھ اٹھا کر شاباشی کا مظاہرہ کرنے والے کے افعال دلیل رضا پر دال نہیں ہیں؟
اگر نہیں تو کیوں ؟
وہ کونسی شئی ہے جو دلیل بننے سے مانع ہے ؟
اگر ہاں تو فتوی میں حکم صرف اتنا ہی کیوں کفر کلامی نہ ہوا ؟
حالانکہ آپ سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ کیا نہیں ہوا ؟
آپ سے یہ پوچھا گیا ہے کہ شریعت کا حکم کیا ہے؟ یعنی کفر کلامی یا کفر فقہی یا حرام
اگر آپ یہ کہیں کہ کفر کلامی نہیں ہوا تو اب بہت وسعت باقی ہے ہو سکتا ہے کفر کلامی نہیں ہوا اور کفر فقہی بھی نہیں ہوا ہو، بلکہ حرام بھی نہیں ہوا ہو، بس ممنوع ہو۔
اب کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ مفتی صاحب قبلہ نے فقط تاویلی معنی پیش کر کے فرمایا ہے کہ اس طرح معنی درست ہو سکتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مفتی صاحب نے شعر کو ہی درست قرار دے دیا ہے وہ تو جانتے ہیں کہ لفظ رب سے اللہ ہی سب کے سمجھ میں آتا ہے جب پہلے وہ اقرار کر چکے ہیں تو بعد میں کیوں رب بولنے کی اجازت دیں گے اور شعر کو درست قرار دیں گے؟
اقول: ہاں مفتی صاحب نے لکھا ضرور ہے کہ رب سے اللہ ہی سمجھ میں آتا ہے لیکن بعد کی تحریر سے حکم تخفیف کا اثر ظاہر معلوم ہوتا ہے کیونکہ بتاویل لغت اس معنی کر درست ہے کے بعد جو دلائل پیش کیے ہیں اس کے حساب سے کسی کو رب بولنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسی سے متصل لکھے ہیں :
اور جو اشعار مباح ہو ان کے سننے یا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں
اس کے بعد اس پر حدیث اور فقہی جزئیات پیش کرتے ہیں اس کے بعد تنبیہ کر دیتے ہیں کہ آئندہ شاعر ہر گز ایسا شعر نہ پڑھے جو کفر و حرام کا احتمال رکھتا ہو
مفتی صاحب کو شعر بظاہر کفر تسلیم ہے لیکن جو سوال ہوا کہ سامعین داد دینے والے پڑھنے والے ان پر کیا حکم نافذ ہوگا یہ کہیں نہیں بیان کیا
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
استفتا کا مطلب ہی ہوتا ہے جو پوچھا جائے اس کا جواب دیا جائے لیکن آپ ہی بتائیں کیا استفتا کا جواب ہو گیا؟
اس کا جواب کیسا ہونا چاہئیے اس کی مثال مفتی صاحب کے ایک تصدیق شدہ فتوی سے لگا سکتے ہیں:
کتاب فتاوی مرکز تربیت افتا میں ایک استفتا ہے جس میں سائل نے پوچھا ہے کہ مندرجہ ذیل اشعار کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
پہلا شعر: رب نے مجھ پر ستم کیا کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
اس کے بعد اور بھی پانچ اشعار ہیں جن کے بارے میں حکم شرع پوچھا گیا ہےمفتی صاحب کی آغوش میں تربیت پانے والے نے اس کا جواب یوں ارقام کیا:
الجواب: جتنے اشعار سوال میں درج ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ضرور ہے جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہو کر کافر و مرتد ہو گئے۔ ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہو گئے۔ ان سب پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر توبہ کریں اور کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں اور جو بیوی رکھتے ہوں وہ تجدید نکاح بھی کریں۔ ایسی کیسیٹیں جن میں ایسے کفریہ اشعار ہیں ان کو بجانا اور ان کو سننا سخت حرام ہے، بلکہ ایسی کیسیٹوں کو اچھی سمجھ کر لگایا یا کسی نے ان اشعار کو سن کر پسند کر لیا تو وہ بھی کافر ہو جائے گا اس لئے کہ رضا بالکفر بھی کفر ہے۔
اب ان اشعار کا کفر ملاحظہ کریں۔ یہ کہنا کہ رب نے مجھ پر ستم کیا اللہ عز و جل کو ظالم بتانا ہے جو صریح کفر ہے۔ [فتاوی مرکز تربیت افتا جلد دوم ص ١٠٨/١٠٧]
مفتی صاحب کے تصدیق شدہ فتوی میں شعر مذکور کو پڑھیے اور مبحوث عنہ شعر کو اس سے ملائیے،
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف ہم کو رب ہمارا مل گیا

رب نے مجھ پر ستم کیا کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
دونوں شعر میں لفظ رب موجود اور مبحوث عنہ شعر کے متعلق بھی مفتی صاحب قائل کہ رب سے مراد بظاہر ذات باری تعالٰی ہے پھر اس کے بعد جو مفتی صاحب نے شعر کی تاویل کی ہے تو وجہ تاویل، لفظ رب کے لغت میں دیگر معانی کا ہونا بتایا ہے جیسے سردار وغیرہ اسی لیے فرمایا کہ اس معنی کر مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کو رب کہنا درست ہے ، نیز حکم میں بھی تخفیف فرمائی صرف آئندہ خیال رکھنے حکم دیا ایسے اشعار نہ پڑھیں ۔
تو اب مفتی صاحب سے کہنا یہ ہے کہ مرکز تربیت و افتا میں جس شعر کے متعلق سوال ہوا ہے اس کی بھی تو تاویل ہو سکتی ہے کہ شاعر کا یہ کہنا
رب نے مجھ پر ستم کیا کیا ہے
یہ لغت کے اعتبار سے معنی درست ہوگا کیونکہ رب کا معنی سردار بھی ہے پالنے والا بھی تو یہاں پالنے والا مراد ہے تو اب شعر کا مطلب ہوا پالنے والے نے یعنی ماں یا باپ یا چچا یا بھائی نے ستم کیا کیا ہے کہ سارے جہان کا غم مجھ پر ڈھال دیا ہے ۔
اور ہمارے سماج میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ کبھی کبھار کسی ایک شخص پر پورے گھر کا بوجھ پڑ جاتا ہے یہاں شاعر نے پورے گھر کو سارے جہان سے تعبیر کی ہے یعنی سارا گھر جیسے کوئی اپنے محبوب سے کہتا ہے تو میرے لیے ساری کائنات ہے اور جب یہ تاویل ہو جاتی تو شعر کفر تو کجا ممنوع بھی نہیں رہتا۔
تو اب بتائیے مفتی صاحب یہاں پہ یہ تاویل کیوں نہیں کی گئی ؟
اس کا جواب کیا وہی ہے مفتی صاحب جو آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ سب کا ذہن اسی طرف جاتا ہے کہ رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہے؟
تو جیسے یہاں حکم صادر ہوا کہ
جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہو کر کافر و مرتد ہو گئے۔ ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہو گئے۔ ان سب پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر توبہ کریں اور کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں اور جو بیوی رکھتے ہوں وہ تجدید نکاح بھی کریں۔ ویسے یہاں حکم صادر ہونے سے کونسی چیز مانع ہے؟ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟
نیز اسی فتوے میں آگے لکھا ہے :
‌ یوں ہی جو لوگ ان کفریہ اشعار کو گاتے اور سنتے ہیں لیکن ان کے معنی و مفہوم کو نہیں سمجھتے وہ بھی اسلام سے خارج ہو گئے اس لئے کہ کلمہ کفر کا تعلق ضروریات دین سے ہو تو جہل و لاعلمی کا عذر مسموع نہیں۔

شرح فقہ اکبر میں ہے:

اما اذا تكلم بكلمة الكفر ولم يدر انها كلمة كفر، ففي فتاوى قاضي خان حكاية خلاف من غير ترجيح حيث قال : قيل لا يكفر لعذره بالجهل وقيل يكفر ولا يعذر بالجهل اقول و الاظهر اول الا اذا كان من قبيل ما يعلم من الدين بالضرورة فانه حينئذ فيكفر و لا يعذر بالجهل - ملخصاً ( ص ۲۰۲)
"غمز العيون والبصائر شرح الاشباه و النظائر كتاب السير باب الردة میں ہے:‌ والجهل بالضروريات في باب المكفرات لا يكون عذرا بخلاف غيرها فأنه يكون عذرا على المفتى به اهـ ( ج ۲، ص ٢٠٧) [فتاوی مرکز تربیت افتا جلد دوم ص ١٠٩]
اگر لفظ رب کی وجہ سے تاویل ہو رہی ہے تو اس شعر میں تاویل کیوں نہیں کی گئی؟ رب سے مراد پالنے والے گھر کے افراد میں سے کوئی فرد بھی ہو سکتا ہے لیکن مفتی صاحب آپ نے اس فتویٰ میں ایسا کچھ نہیں فرمایا بلکہ دستخط فرما دیا حالانکہ مذکورہ بالا عبارت میں صاف تصریح ہے کہ عذر بھی مسموع نہیں ہے کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے ہے اسی وجہ سے جن لوگوں نے ان کفریہ اشعار کو گایا سنا خوش ہوکر، سب پر کفر و ارتداد کا فتویٰ لگا وہ بھی کفر کلامی تو اب سوال یہ ہے کہ یہاں تمام شعروں پر کفر کلامی کا فتویٰ کیسے لگا؟
حالانکہ پہلا شعر کا پہلا مصرع ہے
رب نے مجھ پر ستم کیا کیا ہے لفظ رب کی جب تاویل ممکن ہے تو ظاہر ہے کہ یہ کفر کلامی نہیں ہوا جیسا کہ آپ نے صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا والے فتویٰ میں لفظ رب کی تاویل کو ممکن بتایا تو پھر کفر کلامی کا فتویٰ کیوں دیا؟
دونوں فتوی آپ کی نظروں سے شرف یاب ہیں، فرق اتنا ہے کہ آپ ایک خود لکھے اور دوسرے کی تصدیق کیے ہیں تو ظاہر ہے تصدیق کرنے سے پہلے ساری باتوں پر غور بھی کیے ہوں گے پھر وہاں کفر کلامی مان کر تصدیق کیے ہوں گے؟ ورنہ یہ ہوگا کہ سائل نے آ کر خود کہا ہوگا کہ ہاں میں نے اس سے مراد ذات الہی ہی لیا ہے لیکن فتوی میں ایسا کہیں ذکر نہیں کہ سائل مظہر نے کچھ بتایا جس پر حکم کفر کلامی صادر فرمایا ۔
تو مفتی صاحب اب آپ کی جگہ لفظ رب پر تاویل اور دوسری جگہ تاویل نہ کرنے کی وجہ سے آپ کی کی بات میں تضاد لازم آ رہا ہے؟
بتائیے مفتی صاحب کیا ایسا نہیں ہے ؟
اگر آپ کا یہ فتویٰ یعنی صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا والا فتوی صحیح ہے تو وہ فتوی غلط ہوگا کیونکہ آپ نے کفر فقہی کو کفر کلامی بنا دیا اور اگر وہ فتوی صحیح ہے تو اس فتوے میں لفظ رب کی تاویل کرنا صریح غلطی ہوگی؟
یہ معمہ آپ ہی حل فرمائیں کہ کونسا فتویٰ صحیح ہے اور کونسا غلط؟
ہمارا مقصود آپ کے تصدیق شدہ فتوی سے قارئین کو حکم دکھانا اور رب کی تاویل کا نہ ہونا دکھانا تھا اور قارئین دیکھ چکے یہ الگ بات ہے کہ اس پر کچھ ضمنی باتیں تذکرے میں آ گئیں لیکن ہیں قابل غور۔
لفظ رب اردو میں خاص ہے خدا کے لیےــــــــــــــــ
پھر لغت سے معانی نکال کر تاویل کرنے کے بعد مفتی صاحب اب حدیث و قرآن سے ذوی العقول غیر اللہ پر رب کے اطلاق کے جواز پر دلیل پیش کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں! لکھتے ہیں:
جیسا کہ اس کی تائید قرآن کریم اور حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے۔
بخاری شریف میں ہے:
قال أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم: من أشراط الساعة أن تلد الأمة ربها (ج:٣، : ١٤٦ ، كتاب العتق ، باب أم الولد، ط: دار طوق النجاة بيروت)"
اقول: اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اپنی تائید میں لغت اور پھر حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا فتوی پیش کیا ہے تو میں بہتر سمجھتا ہوں کہ اس حدیث کا جواب بھی حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کی ہی کتاب سے پیش کر دوں تا کہ محل کے زیادہ مطابق ہو حضور شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ نزہۃ القاری میں ارقام فرماتے ہیں:
علامات قیامت کثیر ہیں۔ مگر اس حدیث میں صرف تین بیان فرمائیں۔ اول لونڈی اپنے آقا کو جنے گی۔ اس حدیث میں ربتھا کا لفظ آیا ہے ۔ یہ رب کی تانیث ہے۔ رب کے معنی پالنے والے کے ہیں۔ اضافت کے ساتھ اس کا اطلاق ہر پالنے والے پر آتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کو فرمایا۔ إِنَّهُ ربي أَحْسَنَ مَثْوَايَ .
یہ تو میری پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھ کو اچھی طرح رکھا۔
عرف میں اس کے معنی آقا اور مالک کے بھی آتے ہیں بیع سلم میں رب المال کا لفظ عام ہے۔ اس حدیث میں آقاہی کے معنی میں ہے ۔ بلا اضافت رب کا اطلاق اللہ عزو جل کے علاوہ دوسرے پر جائز نہیں۔ بلکہ کفر ہے ۔ غیر خدا پر اضافت کے ساتھ اس کا اطلاق یہ عربی کے ساتھ خاص ہے۔ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔ [نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد اول ٣٤٨/٣٤٧]
دیکھیے مفتی صاحب آپ جس حدیث شریف کو اپنی دلیل میں پیش کر رہے ہیں اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ نے کہ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں فرمایا۔
اضافت کے ساتھ جائز ہونا یا مجازی طور پر جائز ہونا یہ سب عربی کے ساتھ خاص ہے اردو میں اس کی گنجائش نہیں ہوگی کیونکہ اردو میں خواہ لکھنؤ ہو یا دہلی، بریلی شریف ہو یا کچھوچھہ شریف کلیر شریف یا مسولی شریف پنڈوا شریف یا پٹنہ شریف اجمیر شریف یا ممبئی، کشمیر یا کنیا کماری ہر چہار جانب لفظ رب بولتے ہی عوام و خواص سب اللہ جل جلالہ کا ہی تصور کرتے ہیں اس میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے اور جب عرف ایسا ہو کہ معنی غیر کی طرف بالکل ذہن نہ جائے اور معنی غیر کو ترک کر دیا ہو تو حکم اسی پر لگے گا جو عرف ہے اسی لیے فقہا فرماتے ہیں ومن لم یعرف اھل زمانه فھو جاہل اسی لیے فتوی زمانے کے تقاضے کے مطابق دیا جائے گا زمانے کا عرف کیا ہے اس کا لحاظ بہر حال رکھا جائے گا،
یہیں سے ان معترضین کا بھی جواب ہو گیا جو یہ کہہ رہے ہیں کہ صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا میں ہمارا رب مضاف الیہ مضاف ہے اور عربی میں رب کی اضافت کی گئی ہے ضمائر و جاندار کی طرف، اس لیے یہاں بھی جائز لیکن حضور شارح بخاری علیہ الرحمہ نے ان کے اس قیاس کو باطل قرار دیا اور فرمایا کہ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں،
اور اسی بات کی تائید کرتی ہوئی ایک عبارت تفسیر نعیمی کے حوالے سے ماقبل میں گزری جس میں مفتی احمد یار نعیمی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا گیا تھا کہ ہمارے علاقے میں اصطلاحا صرف خدا تعالیٰ کو رب کہا جاتا ہے[ تفسیر نعیمی جلد ١٢ ص ٥٠٢]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دیکھیے لفظ خدا لغات کشوری میں اس کا معنی ہے : مالک، صاحب، خود آنے والا فرہنگ عامرہ میں اس کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ، مالک ، خود آنے والا جیسے رب کے معنی ہیں ، سردار ، پالنے والا، تربیت کرنے والا، ایسے خدا کے بھی معنی ہے، مالک ، آقا، خود آنے والا لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ غیر خدا کو خدا کہہ سکتے ہیں اگر کوئی کسی کو خدا کہے گا تو اس پر حکم کفر ضرور لگے گا ۔
لیکن سوال یہاں یہ ہے کہ لفظ خدا اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے اس پر کونسی دلیل ہے قرآن سے ہے ؟ جواب ہوگا نہیں
تو پھر حدیث سے ہے ؟ جواب ہوگا نہیں ہے
علما کے اقوال سے ہے؟ تو جواب ہوگا ہاں تو پھر اس پر سوال یہ ہوگا کہ علما نے کہاں سے تمسک کیا؟ تو جواب ہوگا عرف سے کیونکہ لفظ خدا کو اللہ تعالیٰ کے لیے اہل فارس نے استعمال کیا پھر یہ ایسا رائج ہوا اور اس پر ایسا عرف پڑ گیا کہ اللہ کی ذات کے علاوہ دوسری طرف ذہن ہی نہیں جانے لگا تو عرف کی وجہ سے علما نے اسے اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ بھی ایسا کہ اگر کوئی غیر اللہ کو خدا بول کر تاویل بھی کرے تو اس کی تاویل نہیں سنی جائے گی حکم کفر ضرور لگے گا جیسا کہ کتب فقہ میں مصرح ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔ شعر و شرع [قسط ہفتم]

محل نظر فتوی

بعض مفتیان کرام سے مبحوث عنہ مصرع کے متعلق سائل نے استفتا کیا جو من و عن درج ذیل ہے:
"کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت و مفتیان شریعت درج ذیل شعر کے بارے میں .....
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
بھری بزم میں علماء صلحاء مشایخ اہل سنت کی موجودگی میں حضرت سیدنا مخدوم اشرف علیہ الرحمہ سید التارکین کو اپنا رب اعلان کرنا عند الشرع کیسا ہے ؟ شعر خواں اور اس کو تحسین و آفرین سے داد دینے والوں پر شریعت رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ و بارک وسلم کا کیا حکم نافذ ہوتا ہے ، دلائل شرعیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ، ممنون احسان ہونگا۔"
قارئین اس استفتا کو بغور ملاحظہ فرمائیں اس میں سائل نے یہ دریافت کیا ہے کہ مبحوث عنہ شعر کا پڑھنا اور جو لوگ اس شعر کو سن کر داد و تحسین سے نوازیں، جیسے کہ کھڑے ہو کر نذرانے پیش کریں ان پر شریعت کا کیا حکم نافذ ہوتا ہے ؟
مطلب کفر فقہی، کفر کلامی، حرام، ممنوع، مباح، مستحسن کونسا حکم لگے گا؟
اس پر مفتی صاحب جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
الجواب علمائے ربانیین و ائمہ دین کا یہ اصول ہے کہ اگر کسی شخص کے قول میں ۹۹ احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا ہو تو فرمایا کہ اسلام کی طرف اس قول کا پھیرنا واجب ہے۔ اس کے بعد عبارت بالا کی تائید میں منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر اور فتاوی ہندیہ پھر فتاوی رضویہ شریف سے جزئیات نقل فرماتے ہیں اس کے بعد لکھتے ہیں:
اور مسئولہ شعر کا دوسرا مصرع صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا بظاہر کفر ہے۔ شعر سن کر سب کے سمجھنے میں یہی آتا ہے کہ ہمارا رب یعنی اللہ عز وجل اشرف کی صورت میں ہمیں مل گیا، اور اس کے کفر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اس بنا پر اگر کسی نے شاعر کو کافر کہ دیا تو وہ ماخوذ نہیں۔ جمہور فقہا کا یہی مسلک ہے کہ اگر کسی کلام کا ظاہر معنی کفر ہو تو وہ تکفیر کرتے ہیں۔
نناوے احتمال والی عبارتوں سے تو یہاں بحث ہی نہیں ہے کیونکہ اس مصرع کو کسی نے کفر کلامی پر محمول ہی نہیں کیا کہ اس کی ضرورت پڑے جس سے یہ ثابت کیا جائے کہ مبحوث عنہ مصرع کفر کلامی نہیں ہے کیونکہ اس میں احتمال ہے اسی لیے مفتی صاحب نے ان عبارات کو تحریر کرنے کے بعد فورا اصل مسئلہ یعنی دوسرے مصرع پر کلام فرمایا جس سے پانچ باتیں معلوم ہوتی ہیں:
١: مبحوث عنہ مصرع صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا بظاہر کفر ہے،
٢: شعر سن کر سب کو یعنی عوام خواص سب کو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کی صورت میں رب مل گیا،
٣: اور جب ایسا سمجھ میں آئے تو کفر میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا
٤: اس بنا پر کسی نے شاعر کو کافر کہا تو ماخوذ نہیں
٥: ظاہری معنی کفر ہو تو جمہور فقہا تکفیر کرتے ہیں
قارئین یہ پانچ باتیں اپنے ذہن میں رکھیں اور آگے مطالعہ فرمائیں مفتی صاحب آگے لکھتے ہیں:
مگر اس کلام کی تاویل ممکن ہے اس لیے شاعر ، نعت خواں، سامعین اور داد و تحسین سے نوازنے والوں پر حکم کفر نہیں
اس حکم سے مفتی صاحب کا مزاج شریف بدلا ہوا معلوم ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ مفتی صاحب کے ذہن شریف میں پہلے سے کوئی دوسرا سوال موجود ہو جس پر حکم مرتب فرما رہے ہیں کیونکہ سائل نے یہ سوال ہی کہاں کیا ہے کہ مبحوث عنہ مصرع کفر کلامی ہے یا نہیں ؟
کہ جواب میں یہ کہہ دیا جائے کہ اس میں احتمال ہے تو کفر کلامی نہیں ہوا ، بلکہ
سائل نے تو یہ پوچھا ہے کہ اس پر شریعت کا کیا حکم ہے یعنی شاعر، نعت خواں، سامعین داد و تحسین سے نوازنے والے پر کفر فقہی کا حکم یا حرام کا حکم لگے گا یا نہیں ان پر توبہ تجدید نکاح لازم ہے یا نہیں ؟
لیکن مفتی صاحب نے ان چیزوں کو یکسر چھوڑ دیا اور فرمایا کفر کلامی نہیں ہوا، اور توبہ، رجوع، کفر فقہی، حرام، سامعین، شاعر، داد دینے والے کے حکم کے متعلق خاموش ہو گئے آخر ایسا کیوں؟
اسی لیے مفتی صاحب سے سوال ہے:
ٹھیک ہے کفر کلامی نہیں ہوا تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ کفر فقہی یا حرام کا بھی ارتکاب نہیں ہوا کہ اس کے بعد یہ کہا جائے کہ اس معنی کر اگر مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کو رب کہا جائے تو درست ہوگا -معاذ اللہ-

لغت سے استدلال کا تعاقب

مفتی صاحب بتاویل، شعر کی درستگی پر یوں رقم طراز ہیں: کیوں کہ لغت میں رب کے کئی معانی شمار کرائے ہیں، مثلاً: پروردگار، پرورش کننده، مالک، بادشاه، سید ، سردار ، صاحب، درست کرنے والا۔ اس لیے شعر میں موجود لفظ رب سے مراد سید و سردار ہے ، اس معنی کر حضرت سیدنا مخدوم اشرف علیہ الرحمہ سید التارکین کے لیے لفظ رب کا استعمال کرنا درست ہے۔
-معاذ اللہ رب العالمین-
اقول: قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح لغت سے معانی نکال کر کفریہ شعر کو درست قرار دیا گیا مفتی صاحب کی تاویل صاف لفظوں میں یہی ہے کہ لغت میں رب کا معنی سردار ہے مخدوم اشرف سمنانی رضی اللہ عنہ کو رب کہا تو یہ کہنا درست ہے کیونکہ رب سے مراد باعتبار لغت سردار ہے ۔
مفتی صاحب کی اس تاویل سے تو کفر کا دروازہ اور کھل گیا کہ اب کوئی بھی کسی کو بھی کہے گا تو خدا تو خدا اور جب اس سے پوچھا جائے گا کہ تم ایسا کیوں بول رہے ہو؟‌یہ تو کفر ہے کہ تم فلاں کو خدا کہہ رہے ہو -معاذ اللہ-
تو اب قائل کہے گا معترض سے کہ تم سے سمجھنے میں خطا ہو رہی ہے لگتا ہے تم نہیں جانتے ہو کہ خدا کا مطلب کیا ہوتا ہے خدا کا مطلب ہوتا ہے خود آ جیسا کہ تاجدار اہل سنت حضور مفتی اعظم رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا ہے: اور وہ (یعنی خدا) اصل میں خود آ ہے
[فتاوی مصطفویہ ص ٣١] تو میں کسی کو خدا تھوڑی کہہ رہا ہوں میں تو اسے کہہ رہا ہوں جو مجھے بلا رہے ہیں تو خدا یعنی تو خود ہی آجا میں نہیں جاؤں گا ۔
دیکھیے مفتی صاحب کیسی تاویل رہی قائل کی، کیا اب آپ کے اصول کے مطابق قائل کے قول کو درست نہیں کہا جائے گا؟
اور تو خدا کا قائل کفر کی زنجیر سے نکل نہیں جائے گا؟
دوسری مثال: ایسے ہی ایک شخص کہتا ہے انا رسول انا رسول اس سے بکر نے کہا اے بد بخت تو یہ کیا کہتا ہے کیا تو رسول ہے جو ایسا بولتا ہے کیا تجھے نہیں پتہ کہ ختم دور رسالت ہو چکا ہے تو وہ شخص کہتا ہے آپ نہیں سمجھے میرا مطلب ہے میں قاصد ہوں، لگتا ہے آپ لغت نہیں پڑھتے ہیں دیکھیے المعاني میں لکھا ہے: رسول کا معنی قاصد، فرستادہ، پیغمبر
تو بتائیے مفتی صاحب قبلہ یہ تاویل سنی جائے گی اور یہ کہا جائے گا کہ اس معنی کر لفظ رسول بولنا درست ہے؟
تیسری مثال: ایسے ہی کوئی کہے مفتی صاحب عز و جل اور جب اس سے کہا جائے یہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے تو وہ کہے نہیں نہیں میں نے لغوی معنی مراد لیا ہے یعنی عزت و بزرگی تو بتائیے مفتی صاحب آپ کہیں گے کہ پھر تو اس معنی کر درست ہے؟ یا آپ یہ کہیں گے کہ عز و جل یہ اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے اور دوسرے کے لیے بولنا نا جائز و حرام کفر ہے جیسا کہ فتاوی شارح بخاری میں ہے:
بکر اور خالد دونوں پر توبہ اور تجدید ایمان و نکاح واجب ہے۔ جل جلالہ و عم نوالہ کا صیغہ اللہ عز وجل کے ساتھ خاص ہے۔ اس سے ذہن الله عز وجل کی طرف جاتا ہے اور ایسے صیغے جو اللہ عز وجل کے ساتھ خاص ہیں کسی مخلوق کے لیے کہنا کفر ہے۔ مجمع الانہر میں ہے:
اذا اطلق على المخلوق من الاسماء المختصة بالخالق نحو القدوس والقيوم والرحمن وغيرها يكفر
جل جلالہ و عم نوالہ کا صیغہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ یہ اصلی بدیہیات سے ہے۔ اسی لیے خالد نے یہ جملہ سن کر کہا کہ آپ نے مجھے خدا بنا دیا، اس کی نظیر عز وجل ہے ۔ علما نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ شامی میں ہے: ان قولنا عز و جل مخصوص بالله تعالى فلا يقال محمد عز و جل ، و إن كان عزيزاً جليلا، [جلد ١ ص ١٧٩ ]
اب بتائیے مفتی صاحب قبلہ آپ خود لکھ چکے ہیں شعر سن کر سب کے سمجھنے میں یہی آتا ہے کہ ہمارا رب یعنی اللہ عز وجل اشرف کی صورت میں ہمیں مل گیا
اور شارح بخاری علیہ الرحمہ نے بھی اسی مفہوم کا لکھا کہ
اس سے ذہن الله عز وجل کی طرف جاتا ہے
اور حکم کفر توبہ تجدید ایمان کا لگایا لیکن آپ بظاہر کفر تسلیم کرنے کے باوجود صرف لکھتے ہیں کہ کفر کلامی نہ ہوا توبہ تجدید ایمان کسی کا حکم نہیں لگایا بلکہ لغوی معنی لے کر آپ نے فرمایا کہ اس معنی کر درست ہے؟ کیا یہی طرز افتا درست ہے؟
اسی فتوی میں حضور شارح بخاری تحریر فرماتے ہیں:
خالد نے یہ کلمہ کفر سنا، نہ بکر کو ٹوکا نہ ڈانٹا بلکہ اس پر قہقہ لگایا ، یہ دلیل رضا ہے اور رضا بالکفر ، کفر ہے۔ اس لیے خالد پر بھی تو بہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کا حکم ہے۔ ارشاد ہے: انكم اذا مثلهم. والله تعالى اعلم. [حوالہ سابق]
اب سوال یہ ہے مفتی صاحب قبلہ! کہ علامہ شارح بخاری رضی اللہ عنہ نے کس بنا پر توبہ تجدید ایمان کا حکم دیا ؟
یہی نا کہ وہ سنا، سن کر قہقہہ لگایا، ڈانٹا بھی نہیں، یہ دلیل رضا ہےمطلب سننا اور قہقہے لگانا اور نہ ڈانٹنا کفر پر راضی ہونے کی دلیل ہوئی۔
دوسری بات علامہ شارح بخاری علیہ الرحمہ کا حکم بظاہر کفریہ ہونے پر ہے اور آپ نے بھی شعر مبحوث عنہ کو بظاہر کفریہ مانا ہے ۔
تو کیا مفتی صاحب یہاں پر کفریہ شعر کے سننے والے داد دینے والے کھڑے ہو کر نذرانے پیش کرنے والے ہاتھ اٹھا کر شاباشی کا مظاہرہ کرنے والے کے افعال دلیل رضا پر دال نہیں ہیں؟
اگر نہیں تو کیوں ؟
وہ کونسی شئی ہے جو دلیل بننے سے مانع ہے ؟
اگر ہاں تو فتوی میں حکم صرف اتنا ہی کیوں کفر کلامی نہ ہوا ؟
حالانکہ آپ سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ کیا نہیں ہوا ؟
آپ سے یہ پوچھا گیا ہے کہ شریعت کا حکم کیا ہے؟ یعنی کفر کلامی یا کفر فقہی یا حرام
اگر آپ یہ کہیں کہ کفر کلامی نہیں ہوا تو اب بہت وسعت باقی ہے ہو سکتا ہے کفر کلامی نہیں ہوا اور کفر فقہی بھی نہیں ہوا ہو، بلکہ حرام بھی نہیں ہوا ہو، بس ممنوع ہو۔
اب کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ مفتی صاحب قبلہ نے فقط تاویلی معنی پیش کر کے فرمایا ہے کہ اس طرح معنی درست ہو سکتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مفتی صاحب نے شعر کو ہی درست قرار دے دیا ہے وہ تو جانتے ہیں کہ لفظ رب سے اللہ ہی سب کے سمجھ میں آتا ہے جب پہلے وہ اقرار کر چکے ہیں تو بعد میں کیوں رب بولنے کی اجازت دیں گے اور شعر کو درست قرار دیں گے؟
اقول: ہاں مفتی صاحب نے لکھا ضرور ہے کہ رب سے اللہ ہی سمجھ میں آتا ہے لیکن بعد کی تحریر سے حکم تخفیف کا اثر ظاہر معلوم ہوتا ہے کیونکہ بتاویل لغت اس معنی کر درست ہے کے بعد جو دلائل پیش کیے ہیں اس کے حساب سے کسی کو رب بولنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسی سے متصل لکھے ہیں :
اور جو اشعار مباح ہو ان کے سننے یا پڑھنے میں کوئی حرج نہیں
اس کے بعد اس پر حدیث اور فقہی جزئیات پیش کرتے ہیں اس کے بعد تنبیہ کر دیتے ہیں کہ آئندہ شاعر ہر گز ایسا شعر نہ پڑھے جو کفر و حرام کا احتمال رکھتا ہو
مفتی صاحب کو شعر بظاہر کفر تسلیم ہے لیکن جو سوال ہوا کہ سامعین داد دینے والے پڑھنے والے ان پر کیا حکم نافذ ہوگا یہ کہیں نہیں بیان کیا
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
استفتا کا مطلب ہی ہوتا ہے جو پوچھا جائے اس کا جواب دیا جائے لیکن آپ ہی بتائیں کیا استفتا کا جواب ہو گیا؟
اس کا جواب کیسا ہونا چاہئیے اس کی مثال مفتی صاحب کے ایک تصدیق شدہ فتوی سے لگا سکتے ہیں:
کتاب فتاوی مرکز تربیت افتا میں ایک استفتا ہے جس میں سائل نے پوچھا ہے کہ مندرجہ ذیل اشعار کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
پہلا شعر: رب نے مجھ پر ستم کیا کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
اس کے بعد اور بھی پانچ اشعار ہیں جن کے بارے میں حکم شرع پوچھا گیا ہےمفتی صاحب کی آغوش میں تربیت پانے والے نے اس کا جواب یوں ارقام کیا:
الجواب: جتنے اشعار سوال میں درج ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ضرور ہے جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہو کر کافر و مرتد ہو گئے۔ ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہو گئے۔ ان سب پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر توبہ کریں اور کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں اور جو بیوی رکھتے ہوں وہ تجدید نکاح بھی کریں۔ ایسی کیسیٹیں جن میں ایسے کفریہ اشعار ہیں ان کو بجانا اور ان کو سننا سخت حرام ہے، بلکہ ایسی کیسیٹوں کو اچھی سمجھ کر لگایا یا کسی نے ان اشعار کو سن کر پسند کر لیا تو وہ بھی کافر ہو جائے گا اس لئے کہ رضا بالکفر بھی کفر ہے۔
اب ان اشعار کا کفر ملاحظہ کریں۔ یہ کہنا کہ رب نے مجھ پر ستم کیا اللہ عز و جل کو ظالم بتانا ہے جو صریح کفر ہے۔ [فتاوی مرکز تربیت افتا جلد دوم ص ١٠٨/١٠٧]
مفتی صاحب کے تصدیق شدہ فتوی میں شعر مذکور کو پڑھیے اور مبحوث عنہ شعر کو اس سے ملائیے،
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف ہم کو رب ہمارا مل گیا

رب نے مجھ پر ستم کیا کیا ہے
سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے
دونوں شعر میں لفظ رب موجود اور مبحوث عنہ شعر کے متعلق بھی مفتی صاحب قائل کہ رب سے مراد بظاہر ذات باری تعالٰی ہے پھر اس کے بعد جو مفتی صاحب نے شعر کی تاویل کی ہے تو وجہ تاویل، لفظ رب کے لغت میں دیگر معانی کا ہونا بتایا ہے جیسے سردار وغیرہ اسی لیے فرمایا کہ اس معنی کر مخدوم اشرف رضی اللہ عنہ کو رب کہنا درست ہے ، نیز حکم میں بھی تخفیف فرمائی صرف آئندہ خیال رکھنے حکم دیا ایسے اشعار نہ پڑھیں ۔
تو اب مفتی صاحب سے کہنا یہ ہے کہ مرکز تربیت و افتا میں جس شعر کے متعلق سوال ہوا ہے اس کی بھی تو تاویل ہو سکتی ہے کہ شاعر کا یہ کہنا
رب نے مجھ پر ستم کیا کیا ہے
یہ لغت کے اعتبار سے معنی درست ہوگا کیونکہ رب کا معنی سردار بھی ہے پالنے والا بھی تو یہاں پالنے والا مراد ہے تو اب شعر کا مطلب ہوا پالنے والے نے یعنی ماں یا باپ یا چچا یا بھائی نے ستم کیا کیا ہے کہ سارے جہان کا غم مجھ پر ڈھال دیا ہے ۔
اور ہمارے سماج میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ کبھی کبھار کسی ایک شخص پر پورے گھر کا بوجھ پڑ جاتا ہے یہاں شاعر نے پورے گھر کو سارے جہان سے تعبیر کی ہے یعنی سارا گھر جیسے کوئی اپنے محبوب سے کہتا ہے تو میرے لیے ساری کائنات ہے اور جب یہ تاویل ہو جاتی تو شعر کفر تو کجا ممنوع بھی نہیں رہتا۔
تو اب بتائیے مفتی صاحب یہاں پہ یہ تاویل کیوں نہیں کی گئی ؟
اس کا جواب کیا وہی ہے مفتی صاحب جو آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ سب کا ذہن اسی طرف جاتا ہے کہ رب سے مراد اللہ جل جلالہ کی ذات ہے؟
تو جیسے یہاں حکم صادر ہوا کہ
جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہو کر کافر و مرتد ہو گئے۔ ان کے تمام نیک اعمال اکارت ہو گئے۔ ان سب پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر توبہ کریں اور کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں اور جو بیوی رکھتے ہوں وہ تجدید نکاح بھی کریں۔ ویسے یہاں حکم صادر ہونے سے کونسی چیز مانع ہے؟ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟
نیز اسی فتوے میں آگے لکھا ہے :
‌ یوں ہی جو لوگ ان کفریہ اشعار کو گاتے اور سنتے ہیں لیکن ان کے معنی و مفہوم کو نہیں سمجھتے وہ بھی اسلام سے خارج ہو گئے اس لئے کہ کلمہ کفر کا تعلق ضروریات دین سے ہو تو جہل و لاعلمی کا عذر مسموع نہیں۔

شرح فقہ اکبر میں ہے:

اما اذا تكلم بكلمة الكفر ولم يدر انها كلمة كفر، ففي فتاوى قاضي خان حكاية خلاف من غير ترجيح حيث قال : قيل لا يكفر لعذره بالجهل وقيل يكفر ولا يعذر بالجهل اقول و الاظهر اول الا اذا كان من قبيل ما يعلم من الدين بالضرورة فانه حينئذ فيكفر و لا يعذر بالجهل - ملخصاً ( ص ۲۰۲)
"غمز العيون والبصائر شرح الاشباه و النظائر كتاب السير باب الردة میں ہے:‌ والجهل بالضروريات في باب المكفرات لا يكون عذرا بخلاف غيرها فأنه يكون عذرا على المفتى به اهـ ( ج ۲، ص ٢٠٧) [فتاوی مرکز تربیت افتا جلد دوم ص ١٠٩]
اگر لفظ رب کی وجہ سے تاویل ہو رہی ہے تو اس شعر میں تاویل کیوں نہیں کی گئی؟ رب سے مراد پالنے والے گھر کے افراد میں سے کوئی فرد بھی ہو سکتا ہے لیکن مفتی صاحب آپ نے اس فتویٰ میں ایسا کچھ نہیں فرمایا بلکہ دستخط فرما دیا حالانکہ مذکورہ بالا عبارت میں صاف تصریح ہے کہ عذر بھی مسموع نہیں ہے کیونکہ یہ ضروریات دین میں سے ہے اسی وجہ سے جن لوگوں نے ان کفریہ اشعار کو گایا سنا خوش ہوکر، سب پر کفر و ارتداد کا فتویٰ لگا وہ بھی کفر کلامی تو اب سوال یہ ہے کہ یہاں تمام شعروں پر کفر کلامی کا فتویٰ کیسے لگا؟
حالانکہ پہلا شعر کا پہلا مصرع ہے
رب نے مجھ پر ستم کیا کیا ہے لفظ رب کی جب تاویل ممکن ہے تو ظاہر ہے کہ یہ کفر کلامی نہیں ہوا جیسا کہ آپ نے صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا والے فتویٰ میں لفظ رب کی تاویل کو ممکن بتایا تو پھر کفر کلامی کا فتویٰ کیوں دیا؟
دونوں فتوی آپ کی نظروں سے شرف یاب ہیں، فرق اتنا ہے کہ آپ ایک خود لکھے اور دوسرے کی تصدیق کیے ہیں تو ظاہر ہے تصدیق کرنے سے پہلے ساری باتوں پر غور بھی کیے ہوں گے پھر وہاں کفر کلامی مان کر تصدیق کیے ہوں گے؟ ورنہ یہ ہوگا کہ سائل نے آ کر خود کہا ہوگا کہ ہاں میں نے اس سے مراد ذات الہی ہی لیا ہے لیکن فتوی میں ایسا کہیں ذکر نہیں کہ سائل مظہر نے کچھ بتایا جس پر حکم کفر کلامی صادر فرمایا ۔
تو مفتی صاحب اب آپ کی جگہ لفظ رب پر تاویل اور دوسری جگہ تاویل نہ کرنے کی وجہ سے آپ کی کی بات میں تضاد لازم آ رہا ہے؟
بتائیے مفتی صاحب کیا ایسا نہیں ہے ؟
اگر آپ کا یہ فتویٰ یعنی صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا والا فتوی صحیح ہے تو وہ فتوی غلط ہوگا کیونکہ آپ نے کفر فقہی کو کفر کلامی بنا دیا اور اگر وہ فتوی صحیح ہے تو اس فتوے میں لفظ رب کی تاویل کرنا صریح غلطی ہوگی؟
یہ معمہ آپ ہی حل فرمائیں کہ کونسا فتویٰ صحیح ہے اور کونسا غلط؟
ہمارا مقصود آپ کے تصدیق شدہ فتوی سے قارئین کو حکم دکھانا اور رب کی تاویل کا نہ ہونا دکھانا تھا اور قارئین دیکھ چکے یہ الگ بات ہے کہ اس پر کچھ ضمنی باتیں تذکرے میں آ گئیں لیکن ہیں قابل غور۔
لفظ رب اردو میں خاص ہے خدا کے لیےــــــــــــــــ
پھر لغت سے معانی نکال کر تاویل کرنے کے بعد مفتی صاحب اب حدیث و قرآن سے ذوی العقول غیر اللہ پر رب کے اطلاق کے جواز پر دلیل پیش کر رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں! لکھتے ہیں:
جیسا کہ اس کی تائید قرآن کریم اور حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے۔
بخاری شریف میں ہے:
قال أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم: من أشراط الساعة أن تلد الأمة ربها (ج:٣، : ١٤٦ ، كتاب العتق ، باب أم الولد، ط: دار طوق النجاة بيروت)"
اقول: اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اپنی تائید میں لغت اور پھر حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کا فتوی پیش کیا ہے تو میں بہتر سمجھتا ہوں کہ اس حدیث کا جواب بھی حضور شارح بخاری رضی اللہ عنہ کی ہی کتاب سے پیش کر دوں تا کہ محل کے زیادہ مطابق ہو حضور شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ نزہۃ القاری میں ارقام فرماتے ہیں:
علامات قیامت کثیر ہیں۔ مگر اس حدیث میں صرف تین بیان فرمائیں۔ اول لونڈی اپنے آقا کو جنے گی۔ اس حدیث میں ربتھا کا لفظ آیا ہے ۔ یہ رب کی تانیث ہے۔ رب کے معنی پالنے والے کے ہیں۔ اضافت کے ساتھ اس کا اطلاق ہر پالنے والے پر آتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے عزیز مصر کو فرمایا۔ إِنَّهُ ربي أَحْسَنَ مَثْوَايَ .
یہ تو میری پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھ کو اچھی طرح رکھا۔
عرف میں اس کے معنی آقا اور مالک کے بھی آتے ہیں بیع سلم میں رب المال کا لفظ عام ہے۔ اس حدیث میں آقاہی کے معنی میں ہے ۔ بلا اضافت رب کا اطلاق اللہ عزو جل کے علاوہ دوسرے پر جائز نہیں۔ بلکہ کفر ہے ۔ غیر خدا پر اضافت کے ساتھ اس کا اطلاق یہ عربی کے ساتھ خاص ہے۔ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔ [نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد اول ٣٤٨/٣٤٧]
دیکھیے مفتی صاحب آپ جس حدیث شریف کو اپنی دلیل میں پیش کر رہے ہیں اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے علامہ شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ نے کہ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں فرمایا۔
اضافت کے ساتھ جائز ہونا یا مجازی طور پر جائز ہونا یہ سب عربی کے ساتھ خاص ہے اردو میں اس کی گنجائش نہیں ہوگی کیونکہ اردو میں خواہ لکھنؤ ہو یا دہلی، بریلی شریف ہو یا کچھوچھہ شریف کلیر شریف یا مسولی شریف پنڈوا شریف یا پٹنہ شریف اجمیر شریف یا ممبئی، کشمیر یا کنیا کماری ہر چہار جانب لفظ رب بولتے ہی عوام و خواص سب اللہ جل جلالہ کا ہی تصور کرتے ہیں اس میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے اور جب عرف ایسا ہو کہ معنی غیر کی طرف بالکل ذہن نہ جائے اور معنی غیر کو ترک کر دیا ہو تو حکم اسی پر لگے گا جو عرف ہے اسی لیے فقہا فرماتے ہیں ومن لم یعرف اھل زمانه فھو جاہل اسی لیے فتوی زمانے کے تقاضے کے مطابق دیا جائے گا زمانے کا عرف کیا ہے اس کا لحاظ بہر حال رکھا جائے گا،
یہیں سے ان معترضین کا بھی جواب ہو گیا جو یہ کہہ رہے ہیں کہ صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا میں ہمارا رب مضاف الیہ مضاف ہے اور عربی میں رب کی اضافت کی گئی ہے ضمائر و جاندار کی طرف، اس لیے یہاں بھی جائز لیکن حضور شارح بخاری علیہ الرحمہ نے ان کے اس قیاس کو باطل قرار دیا اور فرمایا کہ ہمارے عرف میں اضافت کے ساتھ بھی غیر خدا پر اس کا اطلاق جائز نہیں،
اور اسی بات کی تائید کرتی ہوئی ایک عبارت تفسیر نعیمی کے حوالے سے ماقبل میں گزری جس میں مفتی احمد یار نعیمی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا گیا تھا کہ ہمارے علاقے میں اصطلاحا صرف خدا تعالیٰ کو رب کہا جاتا ہے[ تفسیر نعیمی جلد ١٢ ص ٥٠٢]
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com
دیکھیے لفظ خدا لغات کشوری میں اس کا معنی ہے : مالک، صاحب، خود آنے والا فرہنگ عامرہ میں اس کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ، مالک ، خود آنے والا جیسے رب کے معنی ہیں ، سردار ، پالنے والا، تربیت کرنے والا، ایسے خدا کے بھی معنی ہے، مالک ، آقا، خود آنے والا لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ غیر خدا کو خدا کہہ سکتے ہیں اگر کوئی کسی کو خدا کہے گا تو اس پر حکم کفر ضرور لگے گا ۔
لیکن سوال یہاں یہ ہے کہ لفظ خدا اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص ہے اس پر کونسی دلیل ہے قرآن سے ہے ؟ جواب ہوگا نہیں
تو پھر حدیث سے ہے ؟ جواب ہوگا نہیں ہے
علما کے اقوال سے ہے؟ تو جواب ہوگا ہاں تو پھر اس پر سوال یہ ہوگا کہ علما نے کہاں سے تمسک کیا؟ تو جواب ہوگا عرف سے کیونکہ لفظ خدا کو اللہ تعالیٰ کے لیے اہل فارس نے استعمال کیا پھر یہ ایسا رائج ہوا اور اس پر ایسا عرف پڑ گیا کہ اللہ کی ذات کے علاوہ دوسری طرف ذہن ہی نہیں جانے لگا تو عرف کی وجہ سے علما نے اسے اللہ جل جلالہ کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ بھی ایسا کہ اگر کوئی غیر اللہ کو خدا بول کر تاویل بھی کرے تو اس کی تاویل نہیں سنی جائے گی حکم کفر ضرور لگے گا جیسا کہ کتب فقہ میں مصرح ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
31
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط ششم]

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 35 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 28 | Poetry: 10
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 23
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
سیرت النبی ﷺ 9
احوال وطن 9
نمایاں مضامین 9
تاثرات 8
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
تحقیق و تعاقب 5
رد دیوبندیت ووہابیت 5
خیر وخبر 4
فقہ، اصول فقہ 4
متفرقات 4
دفاع اہل سنت 4
ترغیبات 4
عبادات 4
مبارک شب وروز 4
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
رضویات 3
اوراد و وظائف 2
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
معاملات 1
روداد مناظرہ 1
وفیات و تعزیہ جات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢