صَلُّوا عَلَى الْحَبِيبِ
صلى الله على محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Tasbeeh Count 0
اپنے پسندیدہ مضامین اور مضمون نگار تلاش کریں
یہ مضمون بک مارک ہو چکا ہے!
عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات
شخصیات اسلاف واخلاف

عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات

✍️ Mufti Jasim Akram Markazi

عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات
از: محمد جسیم اکرم مرکزی فاضل بریلی تخصص فی الفقہ جامعۃالرضا بریلی شریف 9523788434
ہر سال کی طرح امسال بھی 17 جمادی الاولی 1446ھ بمطابق 20 نومبر 2024ء بروز بدھ شہزاداۂ اعلی حضرت حجۃ الاولیا حجۃ الاسلام حامد ملت حضور علامہ مفتی محمد حامد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کا عرس مبارک بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا
راقم الحروف حاضری بارگاہ حامد ملت کے لیے بعد نماز مغرب مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا سے روانہ ہوا کچھ ہی دیر میں گلستان اعلی حضرت منظر اسلام پہنچا دستار فضیلت کے پر بہار موقع پر عزیز القدر محب گرامی وقار مولانا حماد رضا خان منظری حفظہ اللہ القوی کو مبارکبادی پیش کر نے کے لیے نوری گیسٹ ہاؤس گیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والد گرامی وقار سعادت لوح و قلم ماہر رضویات چیف ایڈیٹر رضا بک ریویو حضرت علامہ مولانا مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد دام ظلہ العالی مجھ ناچیز کو بعد نماز عصر یاد فرما رہے تھے مجھے تو ملنے کا شوق پہلے ہی سے تھا لیکن یہ سن کر مزید اشتیاقی بڑھ گئی میں نے ان سے پوچھا کہ حضرت کہاں تشریف فرما ہیں انھوں نے بتایا نیچے کی منزل میں ہیں

علامہ ڈاکٹر امجد رضا امجد سے ملاقات________

میں نیچے اترا ایک روم کے اندر نظر پڑی جس میں بعض علماء کرام محو گفتگو تھے میں سمجھا یہی روم ہے اندر گیا تو دیکھا فقیہ و ادیب حضرت علامہ مفتی محمد مبشر ازہر مصباحی دام ظلہ العالی مفتی محمد نفیس صاحب قبلہ دام ظلہ العالی اور ایک بزرگ عالم دین ذی وجاہت غالبا ان کا نام مولانا احمد رضا صاحب ہیں اور ایک عالم دین جنھیں یہ حضرات خواجہ صاحب کہہ کر پکارتے تھے میں ان کے نام سے ہنوز واقف نہیں ہوں ان سے سلام و مصافحہ کیا انھیں کے درمیان ایک بزرگ عالم دین سرخ ریش سرخ بال دراز قد ملبوس بہ جبہ تشریف فرما تھے جیسے کہ پروانوں کے بیچ شمع ہو ستاروں کے بیچ چاند ہو لیکن وہ مفتی مبشر ازہر مصباحی صاحب سے محو گفتگو تھے تو میں نے انھیں ادبا سلام و مصافحہ کر کے گفتگو میں خلل نہ دینا چاہا اور ان سے ملے بغیر روم سے نکلنے لگا اتنے میں مفتی نفیس صاحب نے فرمایا آپ کہاں جا رہے ہیں میں نے کہا ڈاکٹر صاحب کو ڈھونڈ رہا ہوں ان سے ملنا ہے انھیں کے پاس جا رہا ہوں پھر انھوں کہا کون ڈاکٹر صاحب؟ میں نے کہا ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب! مفتی نفیس صاحب نے مسکرا کر کہا یہ جو ہمارے بیچ تشریف فرما ہیں یہی تو ڈاکٹر صاحب ہیں پھر میں پلٹا اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی ڈاکٹر صاحب میری طرف دیکھا تو میں نے کہا حضرت میں جسیم اکرم ہوں ڈاکٹر صاحب خوش ہوئے اور مجھے بیٹھنے کا حکم دیا میں وہیں بیٹھ گیا

سیمینار کے متعلق گفتگو_____________

ان کے درمیان ایک سیمینار کے متعلق گفتگو چل رہی تھی یہ سیمنار با حیات بزرگان دین کی حیات و خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے اور ان سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لیے ہونا طے پایا تھا اس میں میرے لیے ایک خوشی کی بات یہ تھی کہ دوران گفتگو جب مفتی نفیس صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے حاضرین علما سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان سے ان بزرگوں کی شان میں چند کلام لکھوا لیجیے گا بہت اچھا لکھتے ہیں تو ادھر سے خواجہ صاحب فرمانے لگے میں جانتا ہوں اور ان کے کلام گاہے بگاہے پڑھتا رہتا ہوں اور خاص بات یہ کہ ہم نے متذکرہ سیمنار کرنے کا فیصلہ انھیں کی ایک تحریر پڑھ کر لیا ہے جس کا نام ہے۔۔۔۔ زندوں کی قدر۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے مفتی مبشر ازہر مصباحی صاحب سے کہا کہ کیوں نہ اس پر مستقل کام کیا جائے بعد مشورہ اب یہ سیمینار ہونے والا ہے
ان باتوں کو سن کر مجھ فقیر کو بہت خوشی ہوئی کہ راقم الحروف کی ایک روٹی پھوٹی بے ربط چھوٹی سی تحریر کی وجہ سے ان شاءاللہ تعالیٰ متذکرہ سیمنار کے توسط تقریبا دو سو صفحات پر مشتمل کتاب منظر پر آئے گی اللہ جل جلالہ سیمینار کو بحسن و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور اسباب خیر مہیا فرمائے آمین ثم آمین

ڈاکٹر صاحب کی دلچسپ باتیں_____________

بعدہ میں ڈاکٹر صاحب سے اجازت لے کر کچھ دیر کے لیے باہر گیا جب واپس ہوا تو میرے ساتھ میرے احباب میں سے مولانا صاحب مرکزی مولانا امانت مرکزی مولانا ذیشان مرکزی بھی تھے ہم حضرت کے پاس آکر بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد رفیق گرامی وقار مولانا آصف نوری منظری [ایم اے] بھی تشریف لائے جب ہم ڈاکٹر صاحب کے حجرے میں پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ آپ مطالعہ فرما رہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس منزل تک پہنچنے میں ڈاکٹر صاحب نے کتنی محنتیں کی ہیں کتنی کتابوں کی ورق گردانی کی ہے کہ تھوڑا سا بھی وقت ملتا ہے تو ضائع نہیں ہونے دیتے ہیں بلکہ کسی نہ کسی امر دینی میں صرف کر دیتے ہیں اور یہ طلبا کے لیے بھی نمونۂ عمل ہے کتابوں سے دوستی عروج و ارتقا کی آسان راہ ہے شاید اسی لیے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ہر ایک کی دنیا ہے اور میری دنیا کتاب کاغذ قلم ہے بعدہ ڈاکٹر صاحب نے سب سے خندہ پیشانی سے ملاقات کی نام، جماعت، داخل نصاب کتابوں کے بارے میں پوچھا پھر سب کو اہم مشوروں سے نوازا ان مشوروں میں آپ نے لکھنے کی طرف خاصی توجہ دلائی کہ بیٹا لکھو جیسے بھی ہو مگر لکھو کچھ نہیں لکھنے آتا ہے تو تم نے پورے دن میں کیا؟ کیا؟ کیا ہے وہ لکھو تم نے فون کتنا چلایا ہے کتابیں کب تک پڑھیں ہیں رات کو سوتے وقت فون چلا کے سویا یا کتابیں پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھوں میں پہلے فون اٹھایا یا کتابیں سب لکھو اور اگر شرم آتی ہے کہ لکھیں گے تو کوئی پڑھ لے گا تو چھپا کر لکھو کسی کو مت دکھاؤ خود لکھو خود پڑھو اس سے یہ ہوگا جہاں تم کو لکھنا آجائے گا وہیں اس بات کا بھی احساس ہوگا کہ تمہاری زندگی کس کام میں گزر رہی اسے بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا پڑے گا ؟
مولانا آصف نوری صاحب سے آپ نے پوچھا کہ تم کیا کر رہے انھوں نے کہا میں فی الحال بی ایڈ کر رہا ہوں ایم اے کر چکا ہوں اور اب پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ ہے تو آپ نے فرمایا کس موضوع پر پی ایچ ڈی کروگے وہ بولے ابھی کسی موضوع کا انتخاب نہیں کیا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ کسی بھی موضوع پر پی ایچ ڈی کرو لیکن اس میں اعلی حضرت آنا چاہیے تو مولانا آصف صاحب نے کہا حضرت آج کل اس طرح کے مذہبی موضوعات پر پی ایچ ڈی کرنا امر مشکل ہے کیونکہ یونیورسٹیز والے کرنے نہیں دیتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ اعلی حضرت کا نام سرخی میں مت رکھیے موضوع کوئی بھی ہو اس کے مواد میں اعلی حضرت کی تحقیقات ضرور آئیں گی اعلی حضرت کا نام ضرور آئے گا آپ مجھے کوئی بھی موضوع بتائیے میں اس میں اعلی حضرت کو لے آتا ہوں کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر اعلی حضرت نے قلم نہ اٹھایا ہو مثلا اگر موضوع ہو قدیم ہندوستان کا مذہبی مطالعہ تو اس میں اعلی حضرت کو کیسے لائیں گے؟ تو سنو کہ قدیم ہندوستان کونسا ہے پہلے اس کا دائرہ متعین کریں گے پھر اس وقت جو مذہبی رسم و رواج تھے ان کا ذکر کریں گے اس کے بعد ان کے صحیح یا غلط ہونے پر دلیلیں فتاوی رضویہ وغیرہ سے دیں گے اور اس میں دکھائیں گے کہ قدیم ہندوستان کے اعتقادات رسم و رواج تو یہ ہیں لیکن ان کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کی دلیلیں فتاوی رضویہ میں اس طرح سے ہیں آ گئے اعلی حضرت
پھر فرماتے جب میں نے پی ایچ ڈی کیا تو میرا موضوع تھا فقہی تنقید نگاری اس مقالے میں میں نے قادیانی، دیوبندی، وہابی، سب کی تکفیر کی تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، اشرف علی تھانوی، خلیل احمد انبیٹھوی، سب کے سب کافر ہیں میرا مقالہ پڑھنے کے بعد یونیورسٹی کے پروفیسر حضرات نے کہا یہ آپ نے کیا کیا ہے سب کی تکفیر کر دی ہے آپ نے ان حضرات کی تکفیر کیوں کی آپ نے جوابا فرمایا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو کیا وہ کافر ہے تو کہا ہاں ہے لیکن آپ جواب دینے کے بجائے ہمیں سے سوال کیوں کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا میں آپ حضرات کو جواب ہی دے رہا ہوں جب آپ حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی نبوت کا دعوی کرے تو وہ کافر ہو جائے گا اور جو نبوت کا دروازہ ہی کھول دے کیا وہ کافر نہیں ہوگا تو ان حضرات نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے ان میں کس نے دروازہ کھولا ہے ؟ آپ نے کتاب اٹھائی اور نکال کر وہ جگہ دکھائی جہاں قاسم نانوتوی نے لکھا ہے بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے [تحذیر الناس ص 14]
پھر ان حضرات نے پوچھا کہ آپ یہ بتائیں کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ ایمان کسے کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا یہ کوئی سوال ہے جس کو سب ایمان کہتے ہیں اسی کو امام احمد رضا خان بھی ایمان کہتے ہیں اگر آپ کہیں تو میں اس کا جواب شعر میں دے دوں انھوں نے کہا اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے تو آپ نے اعلی حضرت کا یہ شعر پڑھا
اللہ کی سر تا بہ قدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ

مولانا کیف مولانا فرحان سے ملاقات____________

اس کے بعد میں مولانا کیف منظری پورنوی کے پاس گیا اور ان کو دستار بندی کی مبارکبادی پیش کی بعدہ نبیرۂ فخر بہار حضرت مولانا محمد فرحان قادری منظری کے پاس گیا اور ان کو دستار بندی کی مبارکبادی پیش کی مولانا فرحان صاحب نے اپنی ایک نو تصنیف پیش کی جس کا نام ہے 12 ربیع الاول حضور کی پیدائش کا دن یا وفات کا؟ جو 152 صفحات پر مشتمل دلائل و براہین سے مزین ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی کئی تصانیف صراط پبلیکیشنز سے مطبوعہ ہیں مسائل روزہ اور ان کا حل شان تاج الشریعہ علم دین کی اہمیت و فضیلت تجلیات اعلی حضرت عید میلاد سبب وجود کل کائنات کے نام سے موسوم ہیں اللہ جل جلالہ فاضل اجل مولانا فرحان صاحب کو دین و ملت کی خدمات کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

ڈاکٹر صاحب کی فکر انگیز تقریر _____________

بعدہ جلسہ گاہ میں گیا تو دیکھا سعادت لوح و قلم علامہ مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کی تقریر ہو رہی ہے میں بیٹھ گیا اور بغور سننے لگا آپ نے علم دین کی اہمیت، تصنیف و تالیف خدمات دینیہ کی فضیلت پر بہت ہی بہترین بیان دیا جس سے حاضرین بہت متأثر ہوئے خاص کر ایک واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا آپ نے بیان فرمایا : کہ ہمارے بہت سارے علما نے جیل میں رہ کر بھی دین کی خدمات انجام دیں مشکلات کو خاطر میں نہ لایا جب کہ ان کے پاس اسباب بھی مہیا نہیں تھے علم الصیغہ تورایخ حبیب الہ جیسی مایۂ ناز کتاب مفتی عنایت احمد کاکوروی رضی اللہ عنہ نے حالت اسیری میں تحریر فرمائی شمس الائمہ علامہ شمس الدین امام سرخسی رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا جیل خانہ میں کنویں کے اندر آپ کو رکھا گیا اس کے با وجود آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ منقطع نہیں فرمایا اور طلبہ بھی اپنے استاذ کو نہ بھلایا بلکہ جیل کے اندر طلب علم کے لیے پہنچے اور کنویں سے باہر رہ کر طلبا پڑھتے اور امام سرخسی پڑھاتے تھے فقط یہ کام پڑھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ کنویں کے اندر رہ کر آپ اپنے شاگر کو کتاب املا کراتے شاگرد باہر رہتا آپ اندر فرماتے یہ لکھو یہ لکھو اس طرح ایک صفحہ دو صفحہ ایک جلد دو جلد نہیں بلکہ 31 جلد پر مشتمل المبسوط املا کروائی جو آپ کی مایۂ ناز تصنیف ہے اگر موجودہ دور میں نئے سرے سے اک کتاب کو کمپیوٹرائزڈ کے مراحل سے گزارا جائے تو 40 جلد سے زائد ہو جائے گی اتنا بڑا کام وہ بھی قید خانے میں کنویں کے اندر رہ کر انجام دینا کسی عجوبے سے کم نہیں ہے اس سے آپ کی وسعت ذہنی قوت حافظہ کی مضبوطی استحضار ذہنی کا پتہ چلتا ہے

حضور حامد ملت کی کرامت__________

ان کے بعد مولانا سخاوت صاحب نے تقریر کی جس میں انھوں حضور حامد ملت کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ آپ بہت حسین و جمیل تھے ایک جگہ آپ تشریف لے گئے تو ایک ہندو آپ کو بار بار دیکھنے جاتا تھا تو کسی نے اس سے کہا کہ آپ بار بار وہاں کیوں جاتے ہیں تو اس ہندو نے کہا میں ان کی خوبصورتی دیکھنے جاتا ہوں میں نے ایسا انسان اس سے پہلے نہیں دیکھا
ایک ہندو حضور حامد ملت کے قدموں میں جا گرا حضور حامد ملت نے اسے اٹھایا اور فرمایا بتاؤ کیا کام ہے اس نے کہا میری اولاد نہیں ہے مجھے اولاد دے دیجیے آپ نے فرمایا اگر اولاد ہو جائے گی تو تم کیا کروگے اس ہندو نے کہا کلمہ پڑھ لوں گا آپ نے فرمایا ٹھیک ہے اولاد ہو جائے گی دو سال کے بعد پھر حضور حامد ملت وہیں تشریف لے گئے تو وہ ہندو ملاقات کو آیا آپ نے دیکھتے ہی پہچان لیا اور فرمایا تم وہی ہو نا کہا ہاں حضور میں وہی ہوں کہا اولاد ہوئی کہاں ہاں ایک ساتھ دو لڑکا ہوا اور میں اسی دن کلمہ پڑھ کر دامن اسلام سے وابستہ ہو گیا سبحان اللہ

علامہ عاقل صاحب کی نصیحت آموز تقریر______

بعدہ شارح بخاری علامہ مفتی محمد عاقل صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے نصیحت آموز پر اثر تقریر فرمائی جس سے راقم الحروف بہت متأثر ہوا اور آپ کے اخلاق کریمانہ کو دیکھ کر میں متحیر رہ گیا آپ کا ایک شاگرد جو سابق فارغین میں سے ہے وہ آیا اور آکر نیچے عوام کی صف میں بیٹھ گیا علامہ عاقل صاحب نے تقریر روک کر اپنے شاگرد سے فرمایا مفتی نسیم منظری صاحب آپ اوپر تشریف لائیے اور اس کی تعریف بھی کی اس بھرے مجمع اپنے شاگرد کی اس طرح حوصلہ افزائی واقعی قابل تحسین لائق تقلید ہے جب اساتذہ تلامذہ کو عزت دیں گے تو تلامذہ خود بخود اپنے اساتذہ کی عزت کریں گے

خصوصی فضیلت کی وجہ____________

دوران تقریر علامہ عاقل صاحب نے فرمایا کہ حضور ریحان ملت رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ کوئی کہیں بھی تعلیم حاصل کرے لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ برکتا مرکز اہل سنت بریلی شریف منظر اسلام میں آکر دستار بندی لے تب سے خصوصی فضیلت کا اہتمام کیا گیا
خصوصی فضیلت کے لیے پہلے داخلہ امتحان ہوتا ہے پھر ششماہی کے موقع پر فائنل امتحان ہوتا ہے اس میں کامیاب ہونے والے طلبا کو سند و دستار بندی دی جاتی ہے اس بار خصوصی فضیلت والے 21 طلبا تھے لیکن راقم الحروف سمجھتا ہے کہ یہ تعداد بہت کم ہے جب اتنا اچھا موقع طلبا کو مرکز اہل سنت فراہم کر رہا ہے تو طلبا کو چاہیے کثیر تعداد میں یہاں سے سند فراغت حاصل کریں اور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے فیض سے فیضیاب ہوں خلافت کی سند سے فیضیاب ہونا تو بہت آسان ہے اس میں علمی لیاقت بھی نہیں دیکھی جاتی ہے لیکن فضیلت کی سند سے فیضیابی علمی لیاقت کی خبر دیتی ہے اس لیے طلباء دینہ کو چاہیے اس طرف ضرور توجہ فرمائیں
علامہ عاقل صاحب نے بر سر منبر تمام اساتذہ کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ان کا تعارف کرایا جو راقم الحروف کو بہت پسند آیا نیز جن آٹھ طلبا نے کتاب تصنیف کی ان کی فراخدلی سے حوصلہ افزائی کی ان کی تعریفیں کیں ان کو جی بھر کر سراہا اور ایسا ہونا بھی چاہیے تاکہ طلبا مزید دینی خدمات کی طرف راغب ہوں راقم الحروف علامہ عاقل کے ساتھ ساتھ تمام فارغین کو مبارکباد پیش کرتا ہے خصوصاً ان آٹھ طلبا کو جنھوں نے کتابیں لکھ کر عوام و خواص کو علمی سرمایہ فراہم کیا
میں دوسرے ادارے کے اساتذہ سے کہنا چاہوں گا آپ بھی اسی طرح فراخدلی دکھائیں آپ کے مدرسے کے جو طلبا کتابیں لکھ کر آپ کو پیش کرتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی فرمائیں رسم اجرا کرانے کے لیے مدد کریں اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کا خاص خیال رکھیں کیونکہ آپ کا ایک جملہ ان کی زندگی سنوار سکتا ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com

اختتامیہ مع راقم الحروف کی دستار بندی ______

اس کے بعد حضرت مولانا سلیم صاحب قبلہ تشریف لائے اور انھوں نے بچوں کی دستار بندی کا اعلان کیا بڑے ہی خندہ پیشانی سے طلبا سے پیش آتے اور طلبا کی تعریف بھی کرتے جاتے ایک کتاب اجرا کے لیے رہ گئی تھی اس کا اجرا بھی کیا پہلے مفتیان کرام کی دستار بندی ہوئی پھر فضلاء کرام کی اور فضلا میں ان کو مقدم رکھا گیا جنھوں نے مسلسل منظر اسلام میں رہ کر تعلیم حاصل کی اس کے بعد خصوصی فضیلت والوں کی دستار بندی ہوئی اسی صف میں راقم الحروف کو بھی جگہ ملی اور مجھ حقیر فقیر محمد جسیم اکرم مرکزی منظری غفر لہ المولی القدیر کی دستار بندی شارح بخاری علامہ عاقل صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کے ہاتھوں ہوئی بعدہ بارگاہ مرشدنا سیدنا حضور تاج الشریعہ و حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی و حضور مفتی اعظم ہند و حضور حامد ملت رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حاضری کا شرف حاصل ہوا سلام پڑھا اور علم و فضل اور عمر میں برکت کی دعائیں کیں دل بہت مطمئن ہوا ایسا لگا کہ آج فیوض اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے خالی دامن کو بھر لیا ہوں آنکھوں سے خوشی کے دو تین قطرے ٹپکے اور پھر مادر علمی مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا کی طرف رواں دواں ہو گیا

عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات

مضمون نگار: Mufti Jasim Akram Markazi

عرس حامدی 2024ء کے یادگار لمحات
از: محمد جسیم اکرم مرکزی فاضل بریلی تخصص فی الفقہ جامعۃالرضا بریلی شریف 9523788434
ہر سال کی طرح امسال بھی 17 جمادی الاولی 1446ھ بمطابق 20 نومبر 2024ء بروز بدھ شہزاداۂ اعلی حضرت حجۃ الاولیا حجۃ الاسلام حامد ملت حضور علامہ مفتی محمد حامد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کا عرس مبارک بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا
راقم الحروف حاضری بارگاہ حامد ملت کے لیے بعد نماز مغرب مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا سے روانہ ہوا کچھ ہی دیر میں گلستان اعلی حضرت منظر اسلام پہنچا دستار فضیلت کے پر بہار موقع پر عزیز القدر محب گرامی وقار مولانا حماد رضا خان منظری حفظہ اللہ القوی کو مبارکبادی پیش کر نے کے لیے نوری گیسٹ ہاؤس گیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والد گرامی وقار سعادت لوح و قلم ماہر رضویات چیف ایڈیٹر رضا بک ریویو حضرت علامہ مولانا مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد دام ظلہ العالی مجھ ناچیز کو بعد نماز عصر یاد فرما رہے تھے مجھے تو ملنے کا شوق پہلے ہی سے تھا لیکن یہ سن کر مزید اشتیاقی بڑھ گئی میں نے ان سے پوچھا کہ حضرت کہاں تشریف فرما ہیں انھوں نے بتایا نیچے کی منزل میں ہیں

علامہ ڈاکٹر امجد رضا امجد سے ملاقات________

میں نیچے اترا ایک روم کے اندر نظر پڑی جس میں بعض علماء کرام محو گفتگو تھے میں سمجھا یہی روم ہے اندر گیا تو دیکھا فقیہ و ادیب حضرت علامہ مفتی محمد مبشر ازہر مصباحی دام ظلہ العالی مفتی محمد نفیس صاحب قبلہ دام ظلہ العالی اور ایک بزرگ عالم دین ذی وجاہت غالبا ان کا نام مولانا احمد رضا صاحب ہیں اور ایک عالم دین جنھیں یہ حضرات خواجہ صاحب کہہ کر پکارتے تھے میں ان کے نام سے ہنوز واقف نہیں ہوں ان سے سلام و مصافحہ کیا انھیں کے درمیان ایک بزرگ عالم دین سرخ ریش سرخ بال دراز قد ملبوس بہ جبہ تشریف فرما تھے جیسے کہ پروانوں کے بیچ شمع ہو ستاروں کے بیچ چاند ہو لیکن وہ مفتی مبشر ازہر مصباحی صاحب سے محو گفتگو تھے تو میں نے انھیں ادبا سلام و مصافحہ کر کے گفتگو میں خلل نہ دینا چاہا اور ان سے ملے بغیر روم سے نکلنے لگا اتنے میں مفتی نفیس صاحب نے فرمایا آپ کہاں جا رہے ہیں میں نے کہا ڈاکٹر صاحب کو ڈھونڈ رہا ہوں ان سے ملنا ہے انھیں کے پاس جا رہا ہوں پھر انھوں کہا کون ڈاکٹر صاحب؟ میں نے کہا ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب! مفتی نفیس صاحب نے مسکرا کر کہا یہ جو ہمارے بیچ تشریف فرما ہیں یہی تو ڈاکٹر صاحب ہیں پھر میں پلٹا اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی ڈاکٹر صاحب میری طرف دیکھا تو میں نے کہا حضرت میں جسیم اکرم ہوں ڈاکٹر صاحب خوش ہوئے اور مجھے بیٹھنے کا حکم دیا میں وہیں بیٹھ گیا

سیمینار کے متعلق گفتگو_____________

ان کے درمیان ایک سیمینار کے متعلق گفتگو چل رہی تھی یہ سیمنار با حیات بزرگان دین کی حیات و خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے اور ان سے لوگوں کو روشناس کرانے کے لیے ہونا طے پایا تھا اس میں میرے لیے ایک خوشی کی بات یہ تھی کہ دوران گفتگو جب مفتی نفیس صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے حاضرین علما سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان سے ان بزرگوں کی شان میں چند کلام لکھوا لیجیے گا بہت اچھا لکھتے ہیں تو ادھر سے خواجہ صاحب فرمانے لگے میں جانتا ہوں اور ان کے کلام گاہے بگاہے پڑھتا رہتا ہوں اور خاص بات یہ کہ ہم نے متذکرہ سیمنار کرنے کا فیصلہ انھیں کی ایک تحریر پڑھ کر لیا ہے جس کا نام ہے۔۔۔۔ زندوں کی قدر۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے مفتی مبشر ازہر مصباحی صاحب سے کہا کہ کیوں نہ اس پر مستقل کام کیا جائے بعد مشورہ اب یہ سیمینار ہونے والا ہے
ان باتوں کو سن کر مجھ فقیر کو بہت خوشی ہوئی کہ راقم الحروف کی ایک روٹی پھوٹی بے ربط چھوٹی سی تحریر کی وجہ سے ان شاءاللہ تعالیٰ متذکرہ سیمنار کے توسط تقریبا دو سو صفحات پر مشتمل کتاب منظر پر آئے گی اللہ جل جلالہ سیمینار کو بحسن و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور اسباب خیر مہیا فرمائے آمین ثم آمین

ڈاکٹر صاحب کی دلچسپ باتیں_____________

بعدہ میں ڈاکٹر صاحب سے اجازت لے کر کچھ دیر کے لیے باہر گیا جب واپس ہوا تو میرے ساتھ میرے احباب میں سے مولانا صاحب مرکزی مولانا امانت مرکزی مولانا ذیشان مرکزی بھی تھے ہم حضرت کے پاس آکر بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد رفیق گرامی وقار مولانا آصف نوری منظری [ایم اے] بھی تشریف لائے جب ہم ڈاکٹر صاحب کے حجرے میں پہنچے تو دیکھتے ہیں کہ آپ مطالعہ فرما رہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس منزل تک پہنچنے میں ڈاکٹر صاحب نے کتنی محنتیں کی ہیں کتنی کتابوں کی ورق گردانی کی ہے کہ تھوڑا سا بھی وقت ملتا ہے تو ضائع نہیں ہونے دیتے ہیں بلکہ کسی نہ کسی امر دینی میں صرف کر دیتے ہیں اور یہ طلبا کے لیے بھی نمونۂ عمل ہے کتابوں سے دوستی عروج و ارتقا کی آسان راہ ہے شاید اسی لیے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ہر ایک کی دنیا ہے اور میری دنیا کتاب کاغذ قلم ہے بعدہ ڈاکٹر صاحب نے سب سے خندہ پیشانی سے ملاقات کی نام، جماعت، داخل نصاب کتابوں کے بارے میں پوچھا پھر سب کو اہم مشوروں سے نوازا ان مشوروں میں آپ نے لکھنے کی طرف خاصی توجہ دلائی کہ بیٹا لکھو جیسے بھی ہو مگر لکھو کچھ نہیں لکھنے آتا ہے تو تم نے پورے دن میں کیا؟ کیا؟ کیا ہے وہ لکھو تم نے فون کتنا چلایا ہے کتابیں کب تک پڑھیں ہیں رات کو سوتے وقت فون چلا کے سویا یا کتابیں پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھوں میں پہلے فون اٹھایا یا کتابیں سب لکھو اور اگر شرم آتی ہے کہ لکھیں گے تو کوئی پڑھ لے گا تو چھپا کر لکھو کسی کو مت دکھاؤ خود لکھو خود پڑھو اس سے یہ ہوگا جہاں تم کو لکھنا آجائے گا وہیں اس بات کا بھی احساس ہوگا کہ تمہاری زندگی کس کام میں گزر رہی اسے بہتر بنانے کے لیے کیا کرنا پڑے گا ؟
مولانا آصف نوری صاحب سے آپ نے پوچھا کہ تم کیا کر رہے انھوں نے کہا میں فی الحال بی ایڈ کر رہا ہوں ایم اے کر چکا ہوں اور اب پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ ہے تو آپ نے فرمایا کس موضوع پر پی ایچ ڈی کروگے وہ بولے ابھی کسی موضوع کا انتخاب نہیں کیا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ کسی بھی موضوع پر پی ایچ ڈی کرو لیکن اس میں اعلی حضرت آنا چاہیے تو مولانا آصف صاحب نے کہا حضرت آج کل اس طرح کے مذہبی موضوعات پر پی ایچ ڈی کرنا امر مشکل ہے کیونکہ یونیورسٹیز والے کرنے نہیں دیتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ اعلی حضرت کا نام سرخی میں مت رکھیے موضوع کوئی بھی ہو اس کے مواد میں اعلی حضرت کی تحقیقات ضرور آئیں گی اعلی حضرت کا نام ضرور آئے گا آپ مجھے کوئی بھی موضوع بتائیے میں اس میں اعلی حضرت کو لے آتا ہوں کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر اعلی حضرت نے قلم نہ اٹھایا ہو مثلا اگر موضوع ہو قدیم ہندوستان کا مذہبی مطالعہ تو اس میں اعلی حضرت کو کیسے لائیں گے؟ تو سنو کہ قدیم ہندوستان کونسا ہے پہلے اس کا دائرہ متعین کریں گے پھر اس وقت جو مذہبی رسم و رواج تھے ان کا ذکر کریں گے اس کے بعد ان کے صحیح یا غلط ہونے پر دلیلیں فتاوی رضویہ وغیرہ سے دیں گے اور اس میں دکھائیں گے کہ قدیم ہندوستان کے اعتقادات رسم و رواج تو یہ ہیں لیکن ان کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کی دلیلیں فتاوی رضویہ میں اس طرح سے ہیں آ گئے اعلی حضرت
پھر فرماتے جب میں نے پی ایچ ڈی کیا تو میرا موضوع تھا فقہی تنقید نگاری اس مقالے میں میں نے قادیانی، دیوبندی، وہابی، سب کی تکفیر کی تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی، قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی، اشرف علی تھانوی، خلیل احمد انبیٹھوی، سب کے سب کافر ہیں میرا مقالہ پڑھنے کے بعد یونیورسٹی کے پروفیسر حضرات نے کہا یہ آپ نے کیا کیا ہے سب کی تکفیر کر دی ہے آپ نے ان حضرات کی تکفیر کیوں کی آپ نے جوابا فرمایا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو کیا وہ کافر ہے تو کہا ہاں ہے لیکن آپ جواب دینے کے بجائے ہمیں سے سوال کیوں کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا میں آپ حضرات کو جواب ہی دے رہا ہوں جب آپ حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی نبوت کا دعوی کرے تو وہ کافر ہو جائے گا اور جو نبوت کا دروازہ ہی کھول دے کیا وہ کافر نہیں ہوگا تو ان حضرات نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے ان میں کس نے دروازہ کھولا ہے ؟ آپ نے کتاب اٹھائی اور نکال کر وہ جگہ دکھائی جہاں قاسم نانوتوی نے لکھا ہے بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے [تحذیر الناس ص 14]
پھر ان حضرات نے پوچھا کہ آپ یہ بتائیں کہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ ایمان کسے کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا یہ کوئی سوال ہے جس کو سب ایمان کہتے ہیں اسی کو امام احمد رضا خان بھی ایمان کہتے ہیں اگر آپ کہیں تو میں اس کا جواب شعر میں دے دوں انھوں نے کہا اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے تو آپ نے اعلی حضرت کا یہ شعر پڑھا
اللہ کی سر تا بہ قدم شان ہیں یہ
ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں
ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ

مولانا کیف مولانا فرحان سے ملاقات____________

اس کے بعد میں مولانا کیف منظری پورنوی کے پاس گیا اور ان کو دستار بندی کی مبارکبادی پیش کی بعدہ نبیرۂ فخر بہار حضرت مولانا محمد فرحان قادری منظری کے پاس گیا اور ان کو دستار بندی کی مبارکبادی پیش کی مولانا فرحان صاحب نے اپنی ایک نو تصنیف پیش کی جس کا نام ہے 12 ربیع الاول حضور کی پیدائش کا دن یا وفات کا؟ جو 152 صفحات پر مشتمل دلائل و براہین سے مزین ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی کئی تصانیف صراط پبلیکیشنز سے مطبوعہ ہیں مسائل روزہ اور ان کا حل شان تاج الشریعہ علم دین کی اہمیت و فضیلت تجلیات اعلی حضرت عید میلاد سبب وجود کل کائنات کے نام سے موسوم ہیں اللہ جل جلالہ فاضل اجل مولانا فرحان صاحب کو دین و ملت کی خدمات کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

ڈاکٹر صاحب کی فکر انگیز تقریر _____________

بعدہ جلسہ گاہ میں گیا تو دیکھا سعادت لوح و قلم علامہ مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کی تقریر ہو رہی ہے میں بیٹھ گیا اور بغور سننے لگا آپ نے علم دین کی اہمیت، تصنیف و تالیف خدمات دینیہ کی فضیلت پر بہت ہی بہترین بیان دیا جس سے حاضرین بہت متأثر ہوئے خاص کر ایک واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا آپ نے بیان فرمایا : کہ ہمارے بہت سارے علما نے جیل میں رہ کر بھی دین کی خدمات انجام دیں مشکلات کو خاطر میں نہ لایا جب کہ ان کے پاس اسباب بھی مہیا نہیں تھے علم الصیغہ تورایخ حبیب الہ جیسی مایۂ ناز کتاب مفتی عنایت احمد کاکوروی رضی اللہ عنہ نے حالت اسیری میں تحریر فرمائی شمس الائمہ علامہ شمس الدین امام سرخسی رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا جیل خانہ میں کنویں کے اندر آپ کو رکھا گیا اس کے با وجود آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ منقطع نہیں فرمایا اور طلبہ بھی اپنے استاذ کو نہ بھلایا بلکہ جیل کے اندر طلب علم کے لیے پہنچے اور کنویں سے باہر رہ کر طلبا پڑھتے اور امام سرخسی پڑھاتے تھے فقط یہ کام پڑھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ کنویں کے اندر رہ کر آپ اپنے شاگر کو کتاب املا کراتے شاگرد باہر رہتا آپ اندر فرماتے یہ لکھو یہ لکھو اس طرح ایک صفحہ دو صفحہ ایک جلد دو جلد نہیں بلکہ 31 جلد پر مشتمل المبسوط املا کروائی جو آپ کی مایۂ ناز تصنیف ہے اگر موجودہ دور میں نئے سرے سے اک کتاب کو کمپیوٹرائزڈ کے مراحل سے گزارا جائے تو 40 جلد سے زائد ہو جائے گی اتنا بڑا کام وہ بھی قید خانے میں کنویں کے اندر رہ کر انجام دینا کسی عجوبے سے کم نہیں ہے اس سے آپ کی وسعت ذہنی قوت حافظہ کی مضبوطی استحضار ذہنی کا پتہ چلتا ہے

حضور حامد ملت کی کرامت__________

ان کے بعد مولانا سخاوت صاحب نے تقریر کی جس میں انھوں حضور حامد ملت کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ آپ بہت حسین و جمیل تھے ایک جگہ آپ تشریف لے گئے تو ایک ہندو آپ کو بار بار دیکھنے جاتا تھا تو کسی نے اس سے کہا کہ آپ بار بار وہاں کیوں جاتے ہیں تو اس ہندو نے کہا میں ان کی خوبصورتی دیکھنے جاتا ہوں میں نے ایسا انسان اس سے پہلے نہیں دیکھا
ایک ہندو حضور حامد ملت کے قدموں میں جا گرا حضور حامد ملت نے اسے اٹھایا اور فرمایا بتاؤ کیا کام ہے اس نے کہا میری اولاد نہیں ہے مجھے اولاد دے دیجیے آپ نے فرمایا اگر اولاد ہو جائے گی تو تم کیا کروگے اس ہندو نے کہا کلمہ پڑھ لوں گا آپ نے فرمایا ٹھیک ہے اولاد ہو جائے گی دو سال کے بعد پھر حضور حامد ملت وہیں تشریف لے گئے تو وہ ہندو ملاقات کو آیا آپ نے دیکھتے ہی پہچان لیا اور فرمایا تم وہی ہو نا کہا ہاں حضور میں وہی ہوں کہا اولاد ہوئی کہاں ہاں ایک ساتھ دو لڑکا ہوا اور میں اسی دن کلمہ پڑھ کر دامن اسلام سے وابستہ ہو گیا سبحان اللہ

علامہ عاقل صاحب کی نصیحت آموز تقریر______

بعدہ شارح بخاری علامہ مفتی محمد عاقل صاحب قبلہ دام ظلہ العالی نے نصیحت آموز پر اثر تقریر فرمائی جس سے راقم الحروف بہت متأثر ہوا اور آپ کے اخلاق کریمانہ کو دیکھ کر میں متحیر رہ گیا آپ کا ایک شاگرد جو سابق فارغین میں سے ہے وہ آیا اور آکر نیچے عوام کی صف میں بیٹھ گیا علامہ عاقل صاحب نے تقریر روک کر اپنے شاگرد سے فرمایا مفتی نسیم منظری صاحب آپ اوپر تشریف لائیے اور اس کی تعریف بھی کی اس بھرے مجمع اپنے شاگرد کی اس طرح حوصلہ افزائی واقعی قابل تحسین لائق تقلید ہے جب اساتذہ تلامذہ کو عزت دیں گے تو تلامذہ خود بخود اپنے اساتذہ کی عزت کریں گے

خصوصی فضیلت کی وجہ____________

دوران تقریر علامہ عاقل صاحب نے فرمایا کہ حضور ریحان ملت رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ کوئی کہیں بھی تعلیم حاصل کرے لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ برکتا مرکز اہل سنت بریلی شریف منظر اسلام میں آکر دستار بندی لے تب سے خصوصی فضیلت کا اہتمام کیا گیا
خصوصی فضیلت کے لیے پہلے داخلہ امتحان ہوتا ہے پھر ششماہی کے موقع پر فائنل امتحان ہوتا ہے اس میں کامیاب ہونے والے طلبا کو سند و دستار بندی دی جاتی ہے اس بار خصوصی فضیلت والے 21 طلبا تھے لیکن راقم الحروف سمجھتا ہے کہ یہ تعداد بہت کم ہے جب اتنا اچھا موقع طلبا کو مرکز اہل سنت فراہم کر رہا ہے تو طلبا کو چاہیے کثیر تعداد میں یہاں سے سند فراغت حاصل کریں اور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے فیض سے فیضیاب ہوں خلافت کی سند سے فیضیاب ہونا تو بہت آسان ہے اس میں علمی لیاقت بھی نہیں دیکھی جاتی ہے لیکن فضیلت کی سند سے فیضیابی علمی لیاقت کی خبر دیتی ہے اس لیے طلباء دینہ کو چاہیے اس طرف ضرور توجہ فرمائیں
علامہ عاقل صاحب نے بر سر منبر تمام اساتذہ کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ان کا تعارف کرایا جو راقم الحروف کو بہت پسند آیا نیز جن آٹھ طلبا نے کتاب تصنیف کی ان کی فراخدلی سے حوصلہ افزائی کی ان کی تعریفیں کیں ان کو جی بھر کر سراہا اور ایسا ہونا بھی چاہیے تاکہ طلبا مزید دینی خدمات کی طرف راغب ہوں راقم الحروف علامہ عاقل کے ساتھ ساتھ تمام فارغین کو مبارکباد پیش کرتا ہے خصوصاً ان آٹھ طلبا کو جنھوں نے کتابیں لکھ کر عوام و خواص کو علمی سرمایہ فراہم کیا
میں دوسرے ادارے کے اساتذہ سے کہنا چاہوں گا آپ بھی اسی طرح فراخدلی دکھائیں آپ کے مدرسے کے جو طلبا کتابیں لکھ کر آپ کو پیش کرتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی فرمائیں رسم اجرا کرانے کے لیے مدد کریں اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کا خاص خیال رکھیں کیونکہ آپ کا ایک جملہ ان کی زندگی سنوار سکتا ہے
ہماری ویب سائٹ کو شیئر کریں اور مزید مضامین پڑھنے کے لیے ہوم پیج پر جائیں:
jamiaturrazastudents.com

اختتامیہ مع راقم الحروف کی دستار بندی ______

اس کے بعد حضرت مولانا سلیم صاحب قبلہ تشریف لائے اور انھوں نے بچوں کی دستار بندی کا اعلان کیا بڑے ہی خندہ پیشانی سے طلبا سے پیش آتے اور طلبا کی تعریف بھی کرتے جاتے ایک کتاب اجرا کے لیے رہ گئی تھی اس کا اجرا بھی کیا پہلے مفتیان کرام کی دستار بندی ہوئی پھر فضلاء کرام کی اور فضلا میں ان کو مقدم رکھا گیا جنھوں نے مسلسل منظر اسلام میں رہ کر تعلیم حاصل کی اس کے بعد خصوصی فضیلت والوں کی دستار بندی ہوئی اسی صف میں راقم الحروف کو بھی جگہ ملی اور مجھ حقیر فقیر محمد جسیم اکرم مرکزی منظری غفر لہ المولی القدیر کی دستار بندی شارح بخاری علامہ عاقل صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کے ہاتھوں ہوئی بعدہ بارگاہ مرشدنا سیدنا حضور تاج الشریعہ و حضور اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی و حضور مفتی اعظم ہند و حضور حامد ملت رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حاضری کا شرف حاصل ہوا سلام پڑھا اور علم و فضل اور عمر میں برکت کی دعائیں کیں دل بہت مطمئن ہوا ایسا لگا کہ آج فیوض اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے خالی دامن کو بھر لیا ہوں آنکھوں سے خوشی کے دو تین قطرے ٹپکے اور پھر مادر علمی مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا کی طرف رواں دواں ہو گیا
دیگر تحریریں یا کلام پڑھنے کے لئے کارڈ پر کلک کریں
Author/Poet Icon

Mufti Jasim Akram Markazi

Graduate - 2026 | Jamiatur Raza
36
Profile
ٱلْحَمْدُ لِلَّٰهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ
Articles 74
Kalam 0
Mufti Jasim Akram Markazi
زمرہ جات

بے شعور کا غرور تذکیر و تانیث کے دائرے میں

ساجد خان دیوبندی کے اعتراضات کا مسکت اور دندان شکن جواب ،اور رشید گنگوہی کے وقوع کذب والے فتویٰ کا ثبوت شرعی

حالیہ مضامین

مضمون نگاران 28

icon

Mufti Jasim Akram Markazi

1 | Articles: 74 | Poetry: 0
icon

Muhammad Shuaib Khan Najmi Markazi

2 | Articles: 36 | Poetry: 39
icon

Muhammad Anas Raza Haami

3 | Articles: 32 | Poetry: 11
icon

Amir Fuzail Markazi

4 | Articles: 22 | Poetry: 1
icon

Mufti Hishamuddin Quadri Markazi

5 | Articles: 13 | Poetry: 0
icon

Mufti Md Raza Qadri Rifaee Markazi

6 | Articles: 9 | Poetry: 0
icon

Mohd Qasim ul Qadri Markazi

7 | Articles: 8 | Poetry: 0
icon

Md Shahnawaz Raza Nawazi Markazi

8 | Articles: 6 | Poetry: 0
icon

Md Maruf Raza Markazi

9 | Articles: 4 | Poetry: 0
icon

Md Zishan Raza Markazi

10 | Articles: 2 | Poetry: 1
Authors
28
زمرجات
شخصیات اسلاف واخلاف 44
ادبیات 24
احوال قوم وملت 22
اصلاح معاشرہ 19
فقہ وفتاویٰ 14
تاثرات 12
ناویل 11
عقائد و نظریات 10
نمایاں مضامین 9
احوال وطن 9
سیرت النبی ﷺ 9
اسلامیات 7
رد بدمذہباں 6
رد دیوبندیت ووہابیت 5
تحقیق و تعاقب 5
مبارک شب وروز 4
متفرقات 4
خیر وخبر 4
عبادات 4
دفاع اہل سنت 4
فقہ، اصول فقہ 4
ترغیبات 4
رضویات 3
تاریخی حقائق 3
حکایات 3
دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ 2
تصوف 2
اوراد و وظائف 2
روداد مناظرہ 1
معاملات 1
حدیث واہمیت حدیث 1
وفیات و تعزیہ جات 1
منظومات: حمد ، نعت،منقبت ،غزل 1

منتخب مضامین

Placeholder عقائد و نظریات

صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا [قسط اول]

@صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا شعر و شرع [قسط اول] صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا" شعر کا شرعی و فقہی جائزہ، لفظ "رب" کے استعمال، قرآنی دلائل، فقہی اصول اور اہلِ سنت کے موقف کی تحقیقی وضاحت۔ از: محمد جسیم اکرم م...
jamiaturrazastudents.com شخصیات اسلاف واخلاف

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون

کون تاج الشریعہ؟ ہاں! ہاں! کون وہ ہستی جس کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو خدا کی یاد تازہ ہو جائے، اور جن پر غیر مسلموں کی نظر پڑے تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھنے لگیں۔ _جن کی چال میں وقارِ سنیت، جن کی زبان ترجمانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، جن کا جلوہ عک...
Placeholder اصلاح معاشرہ

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ

@"وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ" اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔ گزشتہ شب تراویح کی نماز میں ایک عجیب روحانی کیفیت نصیب ہوئی۔ امام صاحب نے ستائیسواں پارہ شروع کیا۔ تلاوت نہایت وقار، سکون اور لطافت کے ساتھ جاری تھی۔ قرآنِ کریم ک...
Placeholder احوال قوم وملت

اطلبوا العلم و لو بالصين

*"اطلبوا العلم و لو بالصين"* اہل علم پر روشن ہے کہ کبھی کبھی کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوتی ہیں آئمہ کرام کو جیسی سندیں پہنچتی ہیں ان کے مطابق حدیت پر حکم ضعف و وضع لگاتے ہیں۔ مذکورہ حدیث کو دیکھا جائے تو اس کی متعدد سندوں کا ذکر کتب احادیث میں م...
Placeholder احوال قوم وملت

دین کے لیے زہرِ قاتل؟

*دین کے لیے زہرِ قاتل ؟* مذہب اسلام آفاقی مذہب ہے جہاں کہیں بھی ہو اپنے حسن و صداقت کی عطر بیزیاں کرتا نظر آتا ہے۔ نظام اسلام ایسا لچیلا قانون ہے جس کے لیے کوئی خطہ، قریہ، علاقہ، ملک یا بر اعظم مخصوص نہیں بلکہ دنیا کے جس کونے میں ہو وہاں کی آب و ہ...
Placeholder اسلامیات

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ:

کرامات صحابہ کم ہونے کی وجہ: امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ صحابہ کرام سے کرامات کا صدور کم کیوں ہوا ؟ جواب: ارشاد فرمایا کہ صحابہ کرام کے ایمان قوی تھے۔ انہیں اس کی اختیاج نہ تھی کہ انہیں کرامات سے تقویت دی جاتی۔ بعد کے لوگ...
[custom_image_stats]

مرکزی لائبریری کی نئی کتابیں

Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover
Cover

مرکزی مصنفین کی نمایاں کتب

Who We Are

Learn about our mission, vision, and commitment to Islamic education.

Welcome to Jamiatur Raza Students Portal

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology.

A very warm welcome to all truth-seekers, passionate readers, and dedicated writers. The Jamiatur Raza Students Portal is not just a website; it is a thriving digital community built on the strong foundations of the Ahle Sunnat Wal Jamaat ideology. Our goal is to create an educational hub where authentic Islamic literature is easily accessible to everyone.

Whether you are a student looking for a secure platform to publish your research or a knowledge enthusiast searching for reliable Islamic content, you have arrived at the perfect place. We invite you to explore, learn, and be a part of our noble journey towards academic and spiritual excellence.

جامعہ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل میں آپ کا استقبال ہے

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔

حق کے تمام متلاشیوں، پرجوش قارئین اور سرگرم قلمکاروں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید۔ Jamiatur Raza Students Portal صرف ایک عام ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے مضبوط اصولوں اور نظریات پر مبنی ایک پھلتی پھولتی ڈیجیٹل علمی برادری ہے۔ ہمارا اصل ہدف ایک ایسا تعلیمی مرکز قائم کرنا ہے جہاں مستند اور صحیح اسلامی لٹریچر ہر انسان کے لیے آسانی سے دستیاب ہو۔

چاہے آپ ایک طالب علم ہوں جو اپنی تحقیقی تحریر کو شائع اور محفوظ کرنے کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے متلاشی ہیں، یا علم دین کے پیاسے جو انٹرنیٹ پر قابل اعتماد اسلامی مواد تلاش کر رہے ہیں، آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ ہم آپ کو علمی اور روحانی فضیلت کی طرف ہمارے اس عظیم سفر کو دیکھنے، سیکھنے اور اس کا ایک اہم حصہ بننے کی مخلصانہ دعوت دیتے ہیں۔

The Spark of Inspiration

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge.

The vision for Jamiatur Raza Students Portal first took shape during the blessed month of Ramadan. Witnessing the vast digital landscape and the growing spread of misinformation, a humble effort was made by Md Abul Kalam Azad Markazi to establish a platform dedicated to authentic Islamic knowledge. The intention was never personal recognition, but rather to create a safe digital space where the valuable writings and research of the students of Ahle Sunnat Wal Jamaat could reach people across the world. With the grace of Almighty Allah and the prayers of our teachers and elders, this platform strives to preserve and share beneficial knowledge, helping sincere seekers distinguish truth from falsehood. It is our humble hope that the scholarly efforts of our students may serve as a means of guidance, inspire future generations, and contribute—however modestly—to the service of Islam.

جذبہ اور سوچ کی شروعات

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک

جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس پورٹل کا تصور سب سے پہلے ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ذہن میں آیا۔ ڈیجیٹل دنیا کے وسیع دائرے اور اس میں پھیلنے والی گمراہی و غلط معلومات کو دیکھتے ہوئے، راقم محمد ابوالکلام آزاد مرکزی نے نہایت عاجزانہ طور پر یہ کوشش کی کہ ایک ایسا محفوظ اور معیاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ سنت و جماعت کے طلبہ کی علمی، تحقیقی اور فکری کاوشیں دنیا بھر تک پہنچ سکیں۔ اس کوشش کا مقصد ہرگز ذاتی شہرت یا نام و نمود نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی خدمت اور صحیح اسلامی تعلیمات کی اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اساتذۂ کرام اور اکابرین کی دعاؤں کے سائے میں یہ پلیٹ فارم مفید علمی سرمایہ محفوظ کرنے اور اسے عام کرنے کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔ ہماری دعا اور امید ہے کہ طلبہ کی یہ علمی خدمات حق کے متلاشی افراد کے لیے ذریعۂ ہدایت بنیں، آئندہ نسلوں کے لیے علمی سرمایہ ثابت ہوں، اور دینِ اسلام کی خدمت میں، خواہ معمولی ہی سہی، اپنا حصہ ادا کر سکیں۔

A Legacy of Knowledge and Research

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature.

Rooted in a deep tradition of scholarly research, our platform acts as a digital extension of the esteemed Center of Islamic Studies Jamiatur Raza. Over the years, the students and scholars associated with this great university have produced masterpieces of Islamic literature. By providing a dedicated space at jamiaturrazastudents.com, we are ensuring that the hard work and academic brilliance of our madrasa students are recognized globally. This initiative not only bridges the gap between traditional learning and modern technology but also sets a high standard for Islamic content creation on the internet.

علم اور تحقیق کا ایک عظیم سرمایہ

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔

علمی تحقیق اور مستند روایات کی گہری بنیادوں پر قائم ہمارا یہ پلیٹ فارم دراصل معزز اور نامور یونیورسٹی Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کی ایک ڈیجیٹل توسیع کے طور پر کام کرتا ہے۔ سالہا سال سے، اس عظیم درسگاہ سے وابستہ طلبہ اور مایہ ناز علماء کرام نے اسلامی ادب کے لازوال شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ jamiaturrazastudents.com پر یہ مخصوص جگہ فراہم کر کے، ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے مدارس کے بچوں کی انتھک محنت اور علمی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پہچانا اور سراہا جائے۔ یہ جدید اقدام نہ صرف روایتی دینی تعلیم اور جدید ترین ویب ٹیکنالوجی کے مابین فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ انٹرنیٹ پر معیاری اسلامی مواد کی تخلیق کے لیے ایک نیا سنگ میل بھی قائم کرتا ہے۔

Preserving Knowledge Securely

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created.

Often, students pour their hearts into writing on paper, only to lose their notebooks along with their precious thoughts. Others type in mobile apps, but face data loss due to broken devices or forgotten passwords. To solve this, the Jamiatur Raza Students platform was created. It serves as a highly secure, private digital library. Here, writers can permanently safeguard their articles, read them anytime, and preserve their intellectual heritage without the fear of losing it. Their dedicated accounts ensure complete privacy and global accessibility at the same time.

تحریروں کو مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ کرنا

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اور طلبہ اپنے مضامین اپنی کاپیوں میں بڑی محنت سے لکھتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ کاپی گم ہو جاتی ہے اور وہ مضمون ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے موبائل کے نوٹس میں لکھتے ہیں، لیکن موبائل چوری ہونے، ٹوٹنے یا گوگل پاسورڈ بھول جانے کی وجہ سے وہ اپنی تحریرات تک رسائی کھو دیتے ہیں۔ اس پریشانی کا پائیدار حل نکالنے کے لیے Jamiatur Raza Students پلیٹ فارم کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ہر مضمون نگار کے لیے ایک انتہائی محفوظ اور نجی ڈیجیٹل لائبریری ہے۔ یہاں ہر لکھاری کی تحریر مکمل پرائیویسی کے ساتھ محفوظ رہے گی تاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے مضامین کو دیکھ سکے، پڑھ سکے اور اپنے علمی سرمائے کو ہمیشہ کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم میں محفوظ رکھ سکے۔

Bridging Tradition and Modern Technology

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website.

In an era where digital presence defines global reach, we have integrated the profound teachings of our scholars with advanced web technology. Anyone searching for authentic guidance can visit our official website or simply look up the Center of Islamic Studies Jamiatur Raza at https://www.cisjamiaturraza.ac.in/. By linking our student portal with the broader vision of the university, we are creating an unbreakable network of knowledge. This synergy guarantees that the pristine teachings of Ahle Sunnat Wal Jamaat remain uncorrupted and easily reachable for generations to come.

روایت اور جدید ویب ٹیکنالوجی کا ملاپ

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے۔

ایک ایسے دور میں جہاں ڈیجیٹل موجودگی عالمی رسائی کی ضمانت ہے، ہم نے اپنے اسکالرز کی گہری تعلیمات کو جدید ویب ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ مستند اور تحقیقی اسلامی رہنمائی کا متلاشی کوئی بھی شخص ہماری ویب سائٹ پر آ سکتا ہے یا براہِ راست یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ Center of Islamic Studies Jamiatur Raza کو https://www.cisjamiaturraza.ac.in/ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اپنے اسٹوڈنٹ پورٹل کو یونیورسٹی کے وسیع تر وژن سے منسلک کر کے، ہم علم کا ایک ایسا اٹوٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو یہ یقینی بناتا ہے کہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں کی گئی تحقیقات آنے والی نسلوں تک بغیر کسی تبدیلی کے انتہائی آسان انداز میں پہنچتی رہیں۔

Igniting the Passion for Writing

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence.

When students see their research published and read globally, it incredibly fuels their passion. Our initiative aims to cultivate this enthusiasm among madrasa students, elevating them to the highest ranks of literary and scholarly excellence. Our writers can proudly and easily share their published web links with anyone. This global recognition not only boosts their confidence but also creates a vibrant community of passionate Islamic scholars and writers who are ready to defend and spread the true teachings of Islam.

طلبہ کے دلوں میں لکھنے کا شوق اور جذبہ ابھارنا

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔

جب مدارس کے بچوں اور طلبہ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی تحقیقی تحریریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور پوری دنیا کے لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں، تو اس سے ان کے دلوں میں مضمون نگاری کا شوق اور جذبہ بے پناہ بڑھتا ہے۔ ہمارا اصل مشن یہی ہے کہ طلبہ کے اندر لکھنے کا ذوق پیدا کیا جائے تاکہ مسلکِ اہل سنت والجماعت کے طلبہ تحریری میدان میں ایک اعلیٰ مرتبہ و مقام پر پہنچ جائیں۔ اس پورٹل کی مدد سے مضمون نگار اپنی تحریروں کے لنکس کسی کو بھی باآسانی بھیج سکتے ہیں، اور عوام میں سے اگر کوئی کسی موضوع پر تحقیقی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ یہاں سرچ کر کے اپنے علم کی تشنگی کو بجھا سکتا ہے۔

Future Horizons: Expanding to Fatawa

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts.

While our current priority is to build a rich database of scholarly articles, our vision does not stop here. We strongly believe that the digital world urgently requires authentic rulings and verdicts. Therefore, Insha'Allah, in the coming months, we will launch a dedicated section for Fatawa. This future expansion will ensure that the authentic Fatawa of Ahle Sunnat Wal Jamaat are easily accessible to everyone, further strengthening our commitment to spreading righteous and practical Islamic guidance around the globe.

مستقبل کے عزائم: فتاویٰ سیکشن کا آغاز

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔

اگرچہ اس وقت ہماری اولین ترجیح علمی مضامین اور مقالات کا یہ کام مکمل کرنا ہے، لیکن ہمارا ارادہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ویب سائٹ کی دنیا میں مضامین کے ساتھ ساتھ اہل سنت والجماعت کے مستند فتاویٰ کا ہونا بھی بیحد ضروری ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر، انشاء اللہ عزوجل، اگلے چند مہینوں میں ہم فتاویٰ کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص سیکشن پر کام شروع کریں گے۔ یہ مستقبل کی توسیع اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عوام الناس کو روزمرہ کے مسائل کے شرعی حل اور فتاویٰ ایک کلک پر دستیاب ہوں، اور ہمارا یہ پورٹل اشاعتِ دین کا ایک مکمل ذریعہ بن سکے۔

×

Subscribe / Join Us

ہماری کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے فارم پُر کریں

Please enter your name in English only.
برائے مہربانی اپنا نام صرف انگلش میں لکھیں۔
Jamia Logo

ABOUT OUR JAMIA

Center of Islamic Studies Jamiatur Raza
مركز الدراسات الاسلامية جامعة الرضا

Welcome to The Center of Islamic Studies, Jamiatur Raza. Discover our history, our mission to blend traditional Islamic values with modern education, and our vision for the future. Read the inspiring messages from our founders and directors below.
Founder

Founder's Message

Huzoor Tajushsharia Damat Barkatuhum Aalia
Managing Director

Managing Director's Message

Visit About Page ⭢